- 17 hours ago
- #shaneramzan
- #ramzan2026
- #aryqtv
Bazm e Ulama | Naimat e Iftar - Topic: Hazrat Dawud A.S
Watch Shan e Ramzan 2026 ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw
Host: Syed Salman Gul Noorani
Guest: Mufti Muhammad Sohail Raza Amjadi, Mulana Imran Bashir, Mufti Ahsan Naveed Niazi, Hafiz Ahmed Yousuf
#ShaneRamzan #ramzan2026 #aryqtv
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Watch Shan e Ramzan 2026 ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw
Host: Syed Salman Gul Noorani
Guest: Mufti Muhammad Sohail Raza Amjadi, Mulana Imran Bashir, Mufti Ahsan Naveed Niazi, Hafiz Ahmed Yousuf
#ShaneRamzan #ramzan2026 #aryqtv
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00Muminوں کے دل کا اجالہ شانِ رمضان
00:08ہے سارے مہینوں سے
00:12شانِ رمضان
00:15ہے سارے مہینوں سے
00:17نرالہ شانِ رمضان
00:20ہے مومینوں کے دل کا
00:22اجالہ شانِ رمضان
00:27شانِ رمضان
00:32ناظرین خیر مقدم ہے آپ کا ایک مردہ پھر بزمِ علماء میں
00:35اور ہمارے ساتھ رفیق زفر ہے آپ کے ہمارے ہر دل عزیز
00:37پاکستان کے مستند اور عالمی شہرتی آفتہ
00:39علماء اسلام
00:41مفتی محمد سعیل رضا مجلی صاحب
00:43مفتی احسن نبید نیازی صاحب
00:44حضرت علامہ مولانا عمران بشیر صاحب
00:46حضرت علامہ مولانا حافظ احمد یوسف
00:49میں چاروں کو ویلکم کرتا ہوں
00:50اور ساتھ ہی سوالات ہم حضرت سلیمان علیہ السلام سے
00:54آپ نے ذکر بھی سن لیا
00:55ڈاکیومنٹری بھی سن لیا
00:56آغاز کرتے ہیں
00:57مفتی صاحب قبلہ سے
00:58مفتی صاحب
00:59حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر
01:00قرآن مجید میں جو جس انداز سے آیا ہے
01:03ذرا بنیاد فرام کریں موضوع کو
01:07بسم اللہ الرحمن الرحیم
01:10جی اس سلمان بھائی
01:12اگر آپ کے نام میں بھی
01:15میم کی بات یا آجائے تو سلمان ہو سکتا ہے
01:18اکثر لوگ نام یہی لیتے ہیں
01:20سلیمان
01:21سلیمان علیہ السلام بھی کہتے ہیں
01:23سلیمان بھی کہتے ہیں
01:24مختلف اندازے بولنے کے
01:26یہ وہ
01:27اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں
01:29کہ جو خود بھی نبی ہیں
01:32اور ابن نبی بھی ہیں
01:34یعنی آپ کے
01:36والد صاحب بھی
01:37حضرت دعود علیہ السلام
01:38جن کا ذکر کل ہوا ہے
01:40تو وہ بھی اللہ کے نبی
01:43اور وہ بھی بادشاہ
01:43تو گویا کہ
01:45دعود علیہ السلام کا جب وصال ہوا
01:48تو اس کے بعد
01:50جو ہے وہ
01:51بادشاہت ان کو عطا ہوئی
01:53سبحانہ
01:53اور
01:53اس کے ساتھ ساتھ
01:55اللہ حب العالمین نے نبوت بھی عطا فرمائی
01:57وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُدَا وَسُلِمَانَ عِلْمًا
02:01یہاں فرمائے کہ
02:02ہم نے دعود کو اور سلمان کو
02:04علم عطا فرمایا
02:05اب علم سے مراد
02:07حکمت بھی ہے
02:08علم سے مراد
02:09جو ہے وہ
02:10بہت سی
02:11بہت سی فضیلتیں ہیں
02:12جو ان کو عطا فرمائیں
02:14پھر قرآن کریم نے ایک جگہ اشارہ کی
02:16کہ
02:16وَوَرِسَا سُلَيْمَانُ دَاوُدَا
02:18اور سلمان علیہ السلام
02:21دعود کے وارث ہوئے
02:23علیہ السلام
02:23اچھا یہاں
02:25وراثت سے مراد
02:26مال کی
02:27منصف کی وراثت نہیں ہے
02:29یہاں پر وراثت سے مراد
02:31یا تو
02:32علم حکمت ہے
02:33یا علم
02:34جو ہے وہ مراد ہے
02:35کہ جس کے وارث
02:37سلمان علیہ السلام ہوئے
02:39کہ ان کے والد کی
02:40وراثت میں جو علم تھا
02:42جو حکمت تھی
02:43اللہ تبارک و تعالی نے
02:44وہ عطا فرمائی
02:45باقی رہا نبوت
02:47تو ظاہر ہے کہ
02:47نبوت وراثت میں نہیں ہوتی ہے
02:49نبوت اللہ رب العالمین
02:50اس کا منتخف فرماتا ہے
02:52اور اسے ہی عطا فرماتا ہے
02:54اب سلمان علیہ السلام
02:56وہ اللہ کے نبی ہیں
02:57کہ
02:59دنیا میں
03:00چار حکمران
03:01ایسے ہوئے
03:02کہ
03:03جنہوں نے
03:03پوری دنیا پر حکومت کی
03:05جس میں سے
03:07دو کافر ہیں
03:08جسے بخت نصر ہے
03:09اور نمرود ہے
03:10اور
03:10دو مسلمان ہیں
03:12ایک تو
03:13اللہ کے نبی
03:13سلمان علیہ السلام ہے
03:15اور ایک
03:15امام مہدی
03:16رضی اللہ تعالی نے
03:17آئیں گے
03:17جن کی دنیا پر
03:18حکومت ہوگی
03:19لیکن جتنے
03:20شاندار انداز میں
03:22سلمان علیہ السلام
03:23کی حکومت رہی ہے
03:25آپ اس سے
03:26اندازہ لگائیں
03:27کہ
03:27نمبر ایک
03:28اللہ رب العالمین
03:29نے کیا فرمایا
03:30کہ
03:30سلمان علیہ السلام
03:32نے ان کی بارگاہ میں
03:33دعا کی
03:38اے میرے رب
03:40تو میری مغفرت فرما
03:41اور
03:42مجھے
03:42ایسا کچھ
03:43عطا فرما
03:44ایسا کچھ
03:45عطا فرما
03:46ایسی بادشاعت
03:47عطا فرما
03:48جو میرے بات بھی
03:49کسی کے لیے
03:50نہ ہو
03:51اچھا
03:51اب یاد رہے
03:52کہ حضور نبی
03:53کریم علیہ السلام
03:54نے ایک مرتبہ
03:55صحابہ اکرام
03:56سے فرمایا
03:56فرمایا
03:57کہ ایک جن
03:57مجھے تنگ کر رہا تھا
03:59اور قریب تھا
04:00کہ میں
04:00اسے
04:01مسجد نبی
04:02کے ستون پر باند دیتا
04:03اور دنیا والے
04:05یعنی
04:05تم لوگ
04:06صبح
04:06اسے دیکھتے
04:07اپنی آنکھوں سے
04:07لیکن
04:08مجھے اپنے بھائی
04:09کی دعا کا خیال آ گیا
04:10یعنی
04:11مجھے اپنے بھائی
04:12سلیمان علیہ السلام
04:13کی دعا کا خیال آ گیا
04:14کہ
04:15وَحَبْلِ مُلْكَ
04:16اللَّهِ
04:16يَمْبَغِي لِ
04:17اَحَدِ مِنْ بَعْدِ
04:18یعنی
04:18حضور نبی
04:19کریم علیہ السلام
04:20اس جن کو
04:21قید کر سکتے تھے
04:22لیکن
04:23سلیمان علیہ السلام
04:24کی دعا کا خیال آیا
04:25فرمایا
04:26کہ انہوں نے
04:27یہ دعا کی تھی
04:27کہ میرے بعد
04:28کسی کے لیے نہ ہو
04:29تو آپ نے
04:30اس چیز کو
04:30آپ علیہ السلام
04:31نے ترق فرمایا
04:32اور سلیمان علیہ السلام
04:34کی اس دعا کا
04:34خیال فرمایا
04:36اس سے
04:36اب اللہ رب العالمین
04:37نے کیا کیا چیزیں
04:38عطا فرمائیں
04:39ایک تو یہ ہے
04:40کہ
04:44اللہ اکبر
04:45ہوا
04:46آپ کے حکم
04:47کی تابیں
04:48جہاں پر
04:49آپ چاہتے ہیں
04:50ہوا
04:50وہاں پر لے کر جاتی ہے
04:51کیا بات
04:52جی
04:52اچھا آپ یہ دیکھیں
04:54لوگوں کو
04:54سواریاں لے کر جاتی ہیں
04:56سلیمان علیہ السلام
04:57کو ہوایں
04:58لے کر جارہی ہیں
04:59کیسے لے کر جارہی ہیں
05:00وَلِ سُلِيْمَان دَرْ رِيْحَ
05:02غُدُوْوَهَا شَهْرُون
05:03وَرَوَا خُوَا شَهْرُ
05:04صبحوں نکل رہے ہیں
05:06صبح نکل رہے ہیں
05:07تخت ہے
05:08ہزار ہاں کی تعداد میں
05:09انسان بھی ہیں
05:10ہزار ہاں کی تعداد میں
05:12جو ہے وہ جنات بھی ہیں
05:13ہزار ہاں کی تعداد میں
05:15جو ہے وہ
05:15چرین پرین
05:16جانور درندے
05:17ہر کوئی اس تخت پر
05:18سوارے
05:19کرسیاں بچھی بھی ہیں
05:20آپ کا تخت بچھ ہوا ہے
05:21تو فرمائے کہ
05:22صبح کے وقت
05:24وہ ہوا نکلتی ہے
05:24آپ کو لے کر
05:25تو ایک مہینے کی
05:27مسافت تے کر لیتی تھی
05:28اللہ اکبر
05:29اور شام کے وقت بھی
05:30آپ ایک مہینے کی
05:31مسافت تے کر جاتے تھے
05:32اللہ اکبر
05:32یہ شان تھی
05:33اللہ اکبر
05:34اور آپ کے قافلہ
05:35جو آپ کے ساتھ
05:36لشکر چلتا تھا
05:37اس کا حال یہ تھا
05:38کہ میں نے ایک روایت میں پڑھا
05:39کہ روزانہ پانچ ہزار گائیں
05:42ان کے لیے زبا ہوتی تھی
05:43اللہ اکبر
05:43اب اندازہ لگائیں
05:44کہ کتنے لوگ ہوں گے وہ
05:45اللہ اکبر
05:46جی جی
05:46اس کے علاوہ بھی
05:47کئی چیزیں بھی
05:48کئی اور چیزیں بھی
05:49زبا ہوتی تھی
05:50جو ان کے لیے
05:51کافلے والوں کے لیے
05:52لشکر کے لیے
05:53رکھی جاتی تھی
05:54پھر تیسرا یہ
05:55ایک چیز اور
05:56وَشْشَيَاطِينَ كُلَّ بَنَّائِ وَحَوَّاسِ
05:59اللہ تبارک و تعالی نے
06:00یہاں شیعتین سے مراد
06:02بڑے بڑے جنات ہیں
06:03جن کو آپ کے لیے
06:05مسخر فرمایا
06:06اور جو آپ چاہتے تھے
06:08اللہ تعالیٰ کے حکم سے
06:09وہ جنات وہی بناتے تھے
06:11وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ يَعْمَلُ بِإِذْنِ رَبِّ
06:15وَمَنْ يَزِخْ مِنْهُمْ عَنْ عَمْرِنَا
06:17نُذِخْ مِنْ عَذَابِ السَّعِيدِ
06:19اور فرمایا
06:20کہ جو آپ حکم دیتے تھے
06:21وہ پورا کرتے تھے
06:22اور جو جن
06:23آپ کا حکم پورا نہ کرتا
06:25اللہ تعالیٰ کی طرف سے
06:27اس پر سخت عذاب نازل ہوتا
06:29یعنی یہ آپ کی شانتی
06:30سب کے باوجود
06:31حدیث پاک میں ہے
06:33کہ سب کچھ سلمان علیہ السلام
06:35کو عطا ہوا
06:36لیکن آپ کا معاملہ یہ تھا
06:38اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے
06:39فرماتے ہیں
06:40کہ آپ ان خوف کی وجہ سے
06:43شرم کی وجہ سے
06:44اپنی نگاہوں کو
06:45آسمان کی طرح بلند نہیں کرتے تھے
06:47اتنا خوف تھا
06:48سب کچھ ہونے کے باوجود
06:50اللہ تعالیٰ کا خوف رہا
06:52سب کچھ ہونے کے باوجود
06:53آجزی انکساری رہی
06:55میں سمجھتا ہوں
06:56کہ یہ ایک نبی کی شانی ہو سکتی ہے
06:59مفتی حسن عبید نیازی صاحب قبلہ
07:01کہ انبیاء کرام علیہ السلام کو
07:04ہم نے
07:05فاقر میں بھی دیکھا
07:06فاقہ میں بھی دیکھا
07:07قربانیوں میں بھی دیکھا
07:09سیکریفائزز اللہ کے لئے کرتے رہے
07:11اور
07:11تبسم رہا چہرے پر
07:13وہ راضی ہو جائے بس
07:14مجھے پروہ ہی کسی کی نہیں
07:15تو ایک طرف تو
07:17پیغمبروں کو
07:17اللہ ایسی گھاٹیوں سے گزارتا ہے
07:19کبھی مچھلی کے پیٹ میں اتارتا ہے
07:22کبھی کونے میں اتارتا ہے
07:23اور ایک طرف
07:24اللہ پیغمبر کو
07:25ایسا پروٹوکول دیتا ہے
07:27ایسی طاقت
07:28پاور
07:28اتھارٹی
07:29اختیار
07:30ایسا ایکسس
07:31جو
07:31کائنات میں نہ پہلے کسی کو ملا
07:33نہ بعد میں کسی کو ملا
07:34بظاہر
07:35بظاہر
07:36کیونکہ
07:37باطن تو ہمارا ایمان ہے
07:38ہمارے پیارے آقا کریم کو
07:39زیادہ اختیار ہے
07:40سلمان علیہ السلام
07:41لیکن عرض یہ ہے
07:42کہ اتنا پروٹوکول
07:44اتنی طاقت
07:45اتنی پاور
07:45اتنی اتھارٹی
07:46کیا حکمت ہو سکتی اللہ کی
07:47بسم اللہ الرحمن الرحیم
07:49صل اللہ علیہ حبیبہ
07:50محمد وعالی
07:51وصحبہ
07:52وبارک و سلام
07:53دیکھیں سب سے پہلی بات
07:55تو یہ سب سے پہلی
07:56ویسے تو
07:56عربی کا مقولہ ہے
07:58فیل الحکیم
07:59لا یخلو ان الحکمہ
08:00حکیم کا
08:01کوئی کام
08:02حکمت سے خالی نہیں ہوتا
08:03اللہ رب العالمین
08:05تو سب سے بڑا حکیم ہے
08:06حکمت والا ہے
08:07اللہ رب العالمین
08:08کا کوئی فیل
08:09حکمت سے خالی نہیں
08:10یقیناً یہ فیل بھی
08:11اللہ کا حکمت پر مبنی ہے
08:12حقیقی حکمت
08:14جو اللہ تعالی
08:15بہتر جانتا ہے
08:16ظاہری جو حکمتیں
08:17چند ہمیں اس میں
08:18نظر آتی ہیں
08:18ایک حکمت تو یہ نظر آتی ہے
08:20کہ اللہ تعالی
08:21اپنی قدرت
08:22ظاہر فرما رہا ہے
08:23اپنی شان
08:24ظاہر فرما رہا ہے
08:25کہ جس کو
08:26جیسے چاہے
08:27جب چاہے
08:28نواز دے
08:29اور جس چیز سے
08:30چاہے نواز دے
08:31تو یہ اللہ کی
08:32اپنی شان کا ظہور ہے
08:34اللہ کی اپنی
08:34قدرت کا اظہار ہے
08:36ظالی کا
08:36فضل اللہ
08:37یعطی مئیشا
08:38واللہ
08:39ذو الفضل العظیم
08:40یہ اللہ کا فضل ہے
08:42اللہ جسے چاہتا ہے
08:43عطا فرماتا ہے
08:44اور اللہ عظیم
08:45فضل والا ہے
08:45تو بڑی حکمت
08:46ایک تو یہ ہے
08:47دوسری حکمت
08:48اس کے اندر یہ ہے
08:49کہ اللہ تبارک و تعالی
08:51اپنے ایک نبی کی شان
08:52ظاہر فرما رہا ہے
08:53کہ وہ
08:53اللہ کی شان بھی ہے
08:54اور یہ اللہ کے نبی کی شان بھی ہے
08:56کہ دیکھو
08:56تم اللہ کے نبی کی طاقت بھی دیکھ لو
08:59اللہ کے نبی کی قوت بھی دیکھ لو
09:01اللہ کے نبی کی سلطنت
09:02اور حکومت بھی دیکھ لو
09:03کہ جب طاقتیں
09:05لوگوں کو ملتی ہیں
09:05ان کا انداز کیا ہوتا ہے
09:07اور یہ اللہ کے نبی کو
09:08جب طاقت اور حکومت ملتی ہے
09:09تو اس کا انداز کیا ہوتا ہے
09:11کہ وہ ان کی حکومت ہیں
09:13ان کی سلطنت ہیں
09:21سلطنت حکومت عطا فرماتا ہے
09:23تو وہ ظلم کا جور کا
09:25جبر کا بادار گرم کر دیتے ہیں
09:28اور تکبر
09:29عجب
09:30اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے
09:32اللہ کا فضل نہیں سمجھتے
09:33اپنا کمال سمجھتے ہیں
09:35اپنا ہنر سمجھتے ہیں
09:36اپنی طرح منصوب کرتے ہیں
09:37نمروت کو دیکھئے
09:38فیرون کو دیکھئے
09:39کہ یہ بخت نصر کو دیکھئے
09:41یہ وہ لوگ ہیں
09:42جنہیں اللہ نے طاقتیں عطا فرمائیں
09:44حکومتیں عطا فرمائیں
09:45تو ان کا انداز کیا تھا
09:47ظلم و جبر والا
09:48ان کا انداز کیا تھا
09:49تکبر
09:50سرکشی
09:50تغیان والا
09:51دوسری طرف ان کے مقابلے میں
09:53چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا
09:55یہ اسلوب رہا ہے
09:57اس دنیا کے اندر
09:58کہ اللہ تبارک و تعالیٰ
09:59ایک طرف
10:00نشانی ہمیں ظاہر کرتا ہے
10:02شکیوں کی
10:03بدبختوں کی
10:04عشقیہ کی
10:05دوسری طرف اللہ تبارک و تعالیٰ
10:06نشانی ظاہر کرتا ہے
10:07سوعدہ کی
10:08وہ خوشبخت ہیں ان کی
10:10تو اللہ تبارک و تعالیٰ
10:11دونوں تصویریں دکھاتا ہے
10:13کہ دیکھو خیر والے
10:14اس طرح ہوتے ہیں
10:15شر والے اس طرح ہوتے ہیں
10:16اس کو پاور دی
10:17تو یہ پاگل ہو گیا
10:18اس کو پاور دی
10:18تو اس نے پاور کا
10:19کیسا استعمال دیا
10:20پاگل ہو گیا
10:20حالانکہ وہ پاور محدود تھی
10:22وہ پاور
10:23نمرود کو پاور ملی
10:24صرف انسانوں پر
10:25فیراؤن کو پاور ملی
10:26صرف انسانوں پر
10:27بخت نصر کو پاور ملی
10:28صرف انسانوں پر
10:29These are God's ThomTON. Here are God's
10:41نے ان کے لئے مسخر کر دیا ہے
10:42اللہ نے ان کو پرندوں کی بولیاں سکھا دیا
10:45اور اس کے بعد اب ان کا انداز
10:47دیکھئے ان کا انداز کیسا
10:48توازو والا انکسار والا
10:50پھولے نہیں ایک دفعہ بھی
10:52سیدنا سلمان علیہ السلام نے یہ نہیں
10:55فرمایا کہ یہ میرا کمال ہے
10:56یہ میرا ہنر ہے یہ میرا علم
10:59ہے بلکہ ہر دفعہ جب بھی آپ
11:00نے اس کو ذکر کیا ہے تو اللہ
11:02کا فضل قرار دیا ہے اور نسبت
11:04اللہ کی طرف کی ہے قرآن مجید فرقان
11:06نے بیان کیا جہاں آپ نے فرمایا
11:15اے لوگو ہمیں
11:16پرندوں کی بولیاں سکھائی گئیں
11:18اور ہر چیز میں سے ہمیں کچھ عطا
11:20فرمایا گیا ہے اور بے شک یہ
11:22ضرور ظاہر فضل ہے
11:24ظاہری فضل ہے اچھا دیکھئے سلمان علیہ
11:26نے یوں نہیں کہا کہ ہم جانتے ہیں
11:28بلکہ یوں کہا علمنا ہمیں سکھایا
11:30گیا ہے اللہ کی طرف سے اور آگے
11:32بھی یہ نہیں کہا کہ ہر چیز ہمارے
11:34زیر سلطنت ہے ہر چیز
11:36ہمارے تحت تصرف ہے بلکہ کیا
11:38فرمایا اوتینا ہمیں عطا
11:40فرمایا گیا اللہ کی طرف سے
11:42اور پھر کہا یہ بے شک رب کا ضرور
11:44فضل ہے اور ظاہر فضل ہے اور دوسرے مقام
11:46پر وہ جو واقعہ جس واقعہ کے اندر
11:48آگے واقعہ کا ذکر بھی ہوگا ملکہ بلکیس
11:50والا وہاں تخت والی بات پر بھی سکھن سلمان
11:52علیہ السلام نے کیا فرمایا تھا
12:02انہوں نے فرمایا یہ میرے رب
12:04کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے
12:06کہ میں شکر ادا کرتا ہوں
12:08یا ناشکری کرتا ہوں
12:09جو شکر ادا کرتا ہے تو اپنے ہی بھلے کے لئے
12:12کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے
12:14تو جان لو بے شک میرا رب بے نیاز ہے
12:16کرم بالا ہے اور تیسرا
12:18سبب یہ بھی ہے کہ سلمان علیہ السلام نے خود
12:20دعا فرمائی تھی
12:25مجھے ایسا
12:26ملک اطا فرما ایسی سلطنت
12:28اطا فرما جو میرے بعد کسی کے لئے
12:30نہ ہو بے شکر اطا فرمانے والا ہے
12:32بہت زیادہ
12:32تو سیدنا سلمان علیہ السلام کی دعا بھی
12:34اللہ نے قبول فرمائی مستقی
12:36وہ دعوات ہیں
12:36بعض تفسیروں میں یہ بھی لکھا ہے
12:38کہ آپ کو اختیار دیا گیا تھا
12:40مال
12:41مال
12:42سلطنت
12:43اور علم
12:43ان تین چیزوں میں
12:44کہ ان میں سے کوئی ایک چیز اختیار فرما لے
12:46تو آپ نے علم کو اختیار فرمایا
12:48تو اللہ تعالیٰ نے خوش ہو کر
12:50علم کے ساتھ ساتھ
12:52مال
12:52اور سلطنت بھی آپ کو اطا فرمائے
12:54سبحان اللہ
12:54سبحان اللہ
12:55تو جو آج بھی
12:56علم کو منتخب کرے گا
12:58اللہ اسے مال
12:59سلطنت سب اطا فرمائے گا
13:01اور سچی بات یہ ہے
13:02کہ اگر آج
13:04وہ کہتے ہیں کہ
13:04علم کی بے قدری ایسا نہیں ہے
13:06مجھے تو دنیا میں
13:07ایسا کوئی شخص نہیں ملا
13:09صاحب علم اور
13:09اس کی عزت نہ ہو
13:10اس کی قدر نہ ہو
13:11آپ مجھے ایک شخص ایسا لا دے
13:13جو علم والا ہو
13:14اور اس کی معاشرے میں عزت
13:15بے علموں سے زیادہ نہ ہو
13:17جاہلوں سے زیادہ نہ ہو
13:18میں دس ہزار بار
13:19یہ بات سمجھا سکا ہوں
13:20کہ شہرت الگ چیز ہے
13:21عزت الگ چیز ہے
13:22مشہور ہونا
13:23الگ بات ہے
13:24معزز ہونا الگ بات ہے
13:25تو یہ معاشرے کے
13:26معزز صاحبان علم اندانش ہوتے ہیں
13:29لوگ ان سے جھک کر ملتے ہیں
13:30لوگ ان سے بات کرتے ہیں
13:32اور اس پر
13:32یقین کامل مانتے ہیں
13:34کہ اللہ اس کے رسول نے
13:34یہی کہا ہے جو یہ کہہ رہے ہیں
13:43یہ سچی بات ہے
13:44تو اسی لئے میں اکثر
13:45یہ بات کہتا ہوں
13:46کہ صاحبان علم و فن
13:48خاص طور پر علماء حق
13:49علماء دین کی قدر کیا کریں
13:51کہ یہی ہمیں صحیح راستہ دکھانے میں
13:53ہمارے لئے کار فرمائے
13:55ہمارے پاس ایک بہترین
13:56جو طول ہے
13:57اللہ اس کے رسول تک پہنچنے کا
13:59صحیح انداز سے
14:00میں آپ کو صحیح بتا رہا ہوں
14:01بعض اوقات لوگ آپ کو پہچا رہے ہوتے ہیں
14:03لیکن پہچا نہیں رہے ہوتے
14:04بھٹکا رہے ہوتے ہیں
14:05خود بھی بیرہ رہاوی کا شکار ہوتے ہیں
14:07آپ کو بھی بیرہ رہاوی میں دھکلنا چاہتے ہیں
14:09اگر سیدھا اور سچا اور پکا راستہ چاہیے
14:12اللہ اس کے رسول کی بارگاہ میں
14:13سرخ رو ہونے کا
14:14تو ایسے لوگوں کی باتوں پہ دھیان نہ دیں
14:16دھیان صرف ایسے لوگوں کی باتوں پہ دیں
14:18بریک کے بعد ہوتی ہے ملاقہ
14:45ہے مومینوں کے دل کا
14:47خوش آمدید ناظرین خیر مقدم ہے آپ کا
14:52حضرت سلیمان علیہ السلام سے مطالق ہم آگے ہی آسل کر رہے ہیں
14:56کیا جلیل القدر پیغمبر خدا اللہ اکبر
14:58دیکھنے والوں کو یہ محسوس ہوتا ہوگا سننے والوں کو بھی ہوتا ہوگا
15:03کہ جی یہ تو جادو کے بغیر ممکن نہیں ہے
15:05تخت کا آ جانا اور آپ کا حکم دینا
15:07ہواوں کا چلنا سفر مہینے کا حضرت نے فرمایا
15:10آج صبحوں میں تہہ کرنا
15:11حضرت صاحب نے ارشاد فرمایا مفت صاحب نے
15:13کہ دیکھیں اللہ رب العزت نے یہ یہ یہ اختیارات دیا
15:16فیرون نمرود کے اختیارات کیا ہیں
15:18ان کی کیا آثورٹیز تھی
15:20ایکسز ہی کتنا تھا ان کا
15:21ان کا ایکسز چیک کریں آپ آسمان سے
15:23زمین تک ان کا حکم چل رہا ہے
15:25تو حضرت ظاہر ہے جادو کی باتیں
15:27اس دور میں بھی اور آج بھی
15:29انسان تصور کرتا ہے
15:30تو قرآن نے نفی کی ہے اس کی
15:32قرآن نے کہا نہیں سلیمان کے پاس جادو نہیں تھا
15:35سلیمان علیہ السلام سے مطالق
15:37آپ بھی اپنا ارشاد فرمائیں اور یہ جادو والی بات
15:39جو قرآن منع کر رہا ہے
15:41بسم اللہ الرحمن الرحیم
15:43نحمد و نصلي على رسولِهِ الكریم
15:46قرآن پاک کی جو آیتِ طیبہ ہے
15:48یَا أَيُّهَنَّمْ لُدْخُلُوا مَسَاقِنَكُمْ لَا يَحْتِمَنَّكُمْ
15:52سُلَيْمَانُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
15:55اس کی تفسیر کے اندر عجیب
15:57خوبصورت بات دیکھی ہے سلمان بھئی
16:00جو چونٹی کی آہ کو سن سکتے ہیں
16:03وہ بلا کبھی انسان کو نظر انداز کر سکتے ہیں
16:06آئے آئے آئے آئے
16:08کمران وہ نہیں جو بڑی سفارسیں اور بڑی آوازوں کو سنیں
16:12کمران تو وہ ہے جو کمزور کی فریاد کو سن سکتا ہو
16:18جہاں سلمان علیہ السلام کی عظمت بادشاہت کے اندر
16:23سلطنت کے اندر ہے
16:24وہاں اس سے بڑھ کر ان کے اس دل کی
16:28اللہ پاک نے شان بیان کی ہے
16:30جو ایک کمزور اور حکیر
16:33اور جو چھوٹی چیز نظر بھی نہیں آرہی
16:34چونٹی کے اوپر بھی ترس اور شفقت اور رحم فرما رہے ہیں
16:38اللہ اکبر
16:38میں سب سے بڑا جو سبق سیدہ سلمان علیہ السلام کی
16:42مبارک سیدہ سیدہ طیبہ سے ملتا ہے
16:45کہ سب سے پہلے اللہ سے استغفار کریں
16:49رب بغفر لی وحب لی ملک اللہ ینبغی لی احد من بعد
16:54انکا انت الوہاب
16:56اے لہ میری مغفت فرما
16:57اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما
17:00کہ میرے پہلے تو تھی نہیں ایسی میرے بعد بھی کسی کے پاس نہ ہو
17:04اللہ اکبر
17:05پھر اللہ نے ایسی کہتے ہیں
17:06کہ اللہ سے ہمیشہ
17:07اپنے علم کے مطابق
17:10یا اپنی شان کے مطابق نہ مانگو
17:12اللہ سے ہمیشہ اللہ کی شیان شان مانگو
17:14ہی ہی ہی
17:15کیا بات ہے
17:16سبحانہ
17:16عام طور پر
17:18اپنی حساب سے مانگتے ہیں
17:19باقی رہا معاملہ جادو کا
17:21تو اللہ پاک نے
17:22جادو چونکہ حرام ہے
17:24اور جادو کرنے والا بھی کافر
17:27کروانے والا بھی کافر
17:28دار اسلام سے فارغ ہو جاتا ہے
17:30لیکن چونکہ سیدنا سلیمان علیہ السلام کے پاس
17:34جو علم تھا وہ
17:34اللہ کی طرف سے
17:35وہبی علم تھا
17:36اس کو جادو کے ساتھ ملانا
17:38یہ غلط بات ہے
17:39بلکہ
17:40اللہ نے علمنا من تقتطیر
17:42اللہ نے
17:43عام علم تو چھوڑی
17:45یہ پرندوں کا علم بھی
17:47پرندوں کی بولیاں بھی
17:48ان کو عطا فرما رکھی تھی
17:49اور ایسی طاقت اور قوت
17:51آج ہم جہاز میں بیٹھ کر
17:53ایک ٹکٹ خرید کر
17:55بڑا فخر سے کہتے
17:56کہ میں فلان جہاز میں بیٹھا
18:00جہاز کا مالک بن گیا
18:01یہاں اللہ پاک نے
18:03ان کے لئے ایسا تخت
18:05جس میں ہزاروں لوگ
18:06آج بڑے سے بڑے جہاز میں بھی
18:08ہزاروں لوگ نہیں بیٹھ سکتے
18:10پانچ سو سے زیادہ نہیں بیٹھ سکتے
18:12اور اس وقت
18:14اللہ نے ان کو
18:14ایسا تخت عطا فرمایا
18:16جس میں ہزاروں لوگ بیٹھ سکتے
18:18یہ ہے طاقت اور قوت
18:20لیکن آجزی اور انکساری
18:22جو سب سے بڑا پیغام
18:24حضرت سلیمان علیہ السلام کی
18:26مبارک سیرہ تطیبہ سے ملتا ہے
18:28وہ یہ ہے کہ ان کے اندر
18:30جو آجزی تھی انکساری تھی
18:32کہ اللہ پاک نے
18:33سب کچھ عطا فرمایا ہوا ہے
18:35اس کے باوجود
18:37وہ رب کی بارگاہ میں
18:38ہر وقت
18:40سجدہ
18:41اور ہر وقت عبادت
18:42اور ہر وقت
18:43اسی بات کی طرف
18:44کہ میں رب کی عبادت کر کے
18:46کیسے رب کو راضی کر سکوں
18:47یہ اللہ نے بنیادی صفت
18:49عطا فرمائی تھی
18:50آج بھی جو
18:51اپنے اندر نرمی لے کے آئے گا
18:53آجزی دوسروں کے دکھ درد کو
18:56اپنا دکھ درد بنائے گا
18:58اللہ اس کو
18:59وہ چیزیں
19:01وہ نعمتیں
19:01وہ عزتیں عطا فرمائیں
19:03جو کائنات میں کسی کو نہیں ملی
19:04اسی حدیث پاک میں آتا ہے
19:05من حرم من الرفق
19:06حرم الخیرک اللہ
19:08جو نرمی سے
19:10آجزی سے محروم کر دیا گیا
19:12وہ ساری خیروں سے محروم کر دیا گیا
19:14جس کو آجزی اور نرمی مل گی
19:16اس کو رب کی طرف سے ساری نعمتیں عطا
19:20بلکل
19:20وہ محروم
19:21خود کو آج سے ہی تصور کر لے
19:24کہ جس کے اندر نرمی نہیں
19:25اللہ نے اسے نرمی نہیں دی
19:26اسے عجز نہیں دیا
19:28نیاز مندی نہیں دی
19:29اچھا یہ اچھے جائے
19:30کہ کبر والوں سے کبر سے ملنا چاہیے
19:32ان کا کبر تو ٹوٹے
19:33جس طرح حضرت نے بھی
19:34حسرت و ذرشاد فرمایا تھا
19:36لیکن نیاز مند سے
19:38نیاز مندی کا عالم یہ ہونا چاہیے
19:40سامنے والا جو ہے نا
19:41جب آپ کو دیکھے تو بولے
19:42یہ امتی ایسا ہے
19:44مفتی سویل صاحب
19:45اللہ تعالیٰ کی زندگی مرکے دے
19:47کچھ دن پہلے بڑی خوبصت بات فرمائے
19:49کہ ہمارا غصہ اور ہمارا جو
19:51اندر کا جو جذبہ
19:52وہ بڑا سمجھدار ہے
19:53کہ سامنے والے کو دیکھے
19:55اس کے حساب سے آتا ہے ہمارے پر
19:57اگر وہ سامنے والا
19:59کوئی پروٹوکول والا ہے
20:00تو ہمارا غصہ نیچے آجے گا
20:01صحیح بات ہے
20:02بھائی کبر والے کی بات چل رہی
20:04کبھی آتا ہے تو مشبور ہوتے ہیں
20:08ہم پہ تو ماشاءاللہ
20:10روز ہی آتا ہے
20:11قبلہ روز ہی آتا ہے
20:13اور الحمدللہ مزہ بھی آتا ہے
20:15ایسی بات نہیں ہے علماء کو بالکل آنا چاہیے
20:17اور ہمارے
20:20نہیں
20:20تھوڑا وہ
20:21قدف لعامن تزکہ والی بات چل رہی ہے
20:23میں حافظ
20:25احمد یوسف صاحب تشریف فرمائے
20:27حضرت یہ تخت بالقیس
20:29والا جو ایک واقعہ بھی
20:31ہم نے دیکھا آنن فانن
20:33کچھ اس کی تفصیلات بھی ارشاد فرمائیں
20:35یہ ایک عجیب منظر تھا
20:37کہ جن سے زیادہ طاقتور
20:39وہ کتاب کا علم تھا
20:41اور پلک جب پکتے ہیں
20:41وہ کس آؤٹسورٹ سے اس کو لے کر آ گیا ہے
20:44بسم اللہ الرحمن الرحیم
20:46اللہم صلی وسلم
20:47و بارک علی
20:48یہ اس واقعے کا بہت دلچسپ
20:50اور بڑا منفرد پہلو ہے
20:52اور جس سے اندازہ ہوتا ہے
20:54کہ اللہ تبارک و تعالی نے
20:56انسانوں کو جو علم اتا کیا ہے
20:58اس کی بنیاد پر انسان
20:59کس قدر ترقی کر سکتا ہے
21:01یہ اس میں غور فکر کرنے کی بات ہے
21:03تو افریت جن نے کیا کہا تھا
21:05کہ میں اس مجلس کے برخواست ہونے سے
21:08قبل وہ تخت آپ کی بارگاہ میں پیش کر دوں گا
21:10لیکن
21:16لیکن جس کے پاس
21:18علم تھا کتاب کا
21:19اس نے کیا عرص کی
21:20کہ میں پلک جھپکنے سے قبل
21:22آپ کی بارگاہ میں یہ تخت پیش کر دوں گا
21:25اچھا یہاں پہ
21:26ایک بہت بنیادی بات ہے سمجھنے کی
21:29ہم قرآن پاک کا جب متعلق کرتے ہیں
21:31تو ہمیں اس طرح کے واقعات
21:33کئی بار ہماری نظروں سے گزرتے ہیں
21:35حضرت ابراہیم علیہ السلام کا
21:37آگ میں جانا محفوظ رہنا
21:39موسیٰ علیہ السلام کا
21:40عصا کے ذریعے سمندر میں راستے بنا دینا
21:42عزیر علیہ السلام کا
21:44سون سال تک
21:44سوئے رہنا
21:45اور پھر زندہ ہو جانا
21:46اسی طرح
21:47اصحابِ قحف کا
21:48تین سو سال تک
21:49سوئے رہنا
21:50اور پھر یہاں
21:51آصف بن برخیہ
21:53کیونکہ علمان مفسرین نے یہی لکھا ہے
21:55کہ جو قول لذی اندہو علم من الكتاب
21:58جس شخص کے پاس کتاب کا علم تھا
22:00اس سے مراد آصف بن برخیہ ہے
22:02تو ان کا یہ ذکر
22:03کہ انہوں نے پلک جھپکنے سے قبل
22:05جو ہے وہ تخت حضرت سلیمان علیہ السلام کی بارگاہ میں پیش کر دیا
22:09اور کہا یہ جاتا ہے
22:10انہوں نے اسم آزم کے ذریعے دعا کی تھی
22:13تو اللہ تبارک و تعالی نے اس دعا کو قبول فرمایا
22:15اور وہ تخت ان کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا
22:17تو میں عرض یہ کر رہا تھا
22:19یہ تمام واقعات
22:20قرآن میں جو پی در پہ بیان ہوئے ہیں
22:23اس میں اللہ تبارک و تعالی جیسے مفتی صاحب نے ذکر کیا
22:26کہ حکیم کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا
22:28تو اس میں آخر کیا حکمت ہے
22:30اس کے پیچھے راز کیا ہے
22:32تو سلمان بھئی سمجھنے کی بات یہ ہے
22:34کہ یہ جو خرق عادت کام ہوتے ہیں
22:36اگر ہم ان کی حکمتوں کے پیچھے جائیں گے
22:39تو ایک طرف تو یہ اللہ تبارک و تعالی کی قدرت کو بیان کرتے ہیں
22:43کہ اللہ تبارک و تعالی کیسا قادر ہے
22:45کہ وہ کس طرح کے کام جو ہے وہ سر انجام دے رہتا ہے
22:48دوسرا یہ جو خرق عادت کام ہوتے ہیں
22:50عموماً یہ انبیاء اپنی نبوت کے دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں
22:55اور تیسرا یہ جو خرق عادت کام ہوتے ہیں
22:58جب ہم ان کی حکمتوں پر غور کرتے ہیں
23:00تو یہ انسان کی مادی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں
23:04حضرت موسیٰ کا عصا کو جب مارنا پتھر پہ تو اس سے چشمیں جاری ہو جانا
23:10اسی طرح حضرت موسیٰ کا عصا مارنا تو سمندر میں راستے بن جانا
23:13حضرت دعوت علی السلام کا اپنے ہاتھوں سے لوہے کو پگلا دینا
23:18تو حضرت سلمان علی السلام کا سفر کرنا ہواوں کے ذریعے
23:22تو یہ تمام کے تمام خرق عادت کام جہاں انبیاء کی شان کو بیان کر رہے ہوتے ہیں
23:27اللہ تبارک و تعالی کی قدرت کو بیان کر رہے ہوتے ہیں
23:29وہاں کہیں نہ کہیں انسان کی مادی ضروریات کو بھی پورا کر رہے ہوتے ہیں
23:34تو اللہ تبارک و تعالی نے قرآن پاک میں ان واقعات کو جا بجا جو بیان یہ کیا ہے
23:39تو علماء بیان کرتے ہیں
23:40اس کے بیچے راز یہ ہے
23:41اس کے بیچے حکمت یہ ہے
23:43کہ انسان غور و تفکر کرے
23:45انسان تدبر کرے
23:46اور وہ انونشنز کرنے کی کوشش کرے
23:50وہ اس کائنات کو تثیر کرنے کی کوشش کرے
23:53کیونکہ جس طرح انبیاء نے خرق عادت کام کے ذریعے
23:56انسانوں کی مادی ضروریات کو پورا کیا
23:58بلکل اسی طرح انسان جب غور و فکر کرے گا
24:01اور انونشنز کرے گا
24:03اس کائنات کو تثیر کرنے کی کوشش کرے گا
24:05تو وہ لوگوں کے لئے آسانیہ پیدا کرے گا
24:07لوگوں کے لئے سہولتیں پیدا ہوں گی
24:09اور اسی فلسفے سے یہ بات بھی کلیر ہو جاتی ہے
24:12کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں
24:14کہ یہ بلکل ایک خلاف اقل بات ہے
24:16ہماری اقل میں نہیں آتی
24:17یہ ہو ہی نہیں سکتا
24:18اور پھر وہ اس کی عجیب و غریب فلسفیانہ توجیحات کرتے ہیں
24:22اور وہ اللہ تبارک و تعالی
24:23جس طرح اس چیز کو بیان کیا ہے
24:25اس طرح نہیں مانتے
24:26تو ان کے بھی شبہات کا اعتراضات کا
24:29جو ہے وہ رد ہو جاتا ہے
24:30کیونکہ آپ دیکھیں
24:31آصف بن برخیہ تخت
24:33وہ کتنی دیر میں لیا ہے
24:35پلک جھپکنے میں لیا ہے
24:36ایسے یہ آپ دیکھیں
24:38حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ
24:41انہوں نے کیا کہا
24:42یا ساریت الجبل
24:43تو مدینے میں وہ موجود تھے
24:47اور میل و دور
24:48جو ہے وہ ان کی آواز وہاں پہنچ گئی
24:50تو حضرت عمر فاروق نے
24:52اس وقت یہ کام کیا
24:53جب آج کی طرح
24:55جو ہے وہ ٹیلی کمیونکیشن کا نظام نہیں تھا
24:57جدید ذرائع جو ہے وہ معاصلات نہیں تھے
24:59اور آصف بن برخیہ نے بھی یہی کام کیا
25:02اور آج سائنس یہ تمام کاموں کو
25:04آسان کر چکی ہے
25:06اور یہ پریکٹیکل کر چکی ہے
25:08تو ہم جب غور و فکر کرتے ہیں
25:10تو ہمارے سامنے یہ بات واضح ہوتی ہے
25:13اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جو ذکر کیے ہیں
25:16یعنی جتنی آج جدید ترقی
25:18آج ہم دنیا میں دیکھ رہے ہیں
25:19اس کے آثار اس کی نشانیاں
25:22ہمیں انبیاء کے معجزات میں نظر آتی ہیں
25:24آج آپ دیکھیں یہ جو
25:26آج بھی یہ کانسیپٹ دیا جاتا ہے
25:27ٹیلی پورشن کا
25:28کہ ابھی تک وہ انسانوں کے لیے
25:31حقیقت نہیں بنا ہے
25:32لیکن پھر بھی یہ کانسیپٹ
25:34وہ کہیں نہ کہیں پیش کیا جا رہا ہے
25:35اچھا پھر اس میں ایک اور آخری بات
25:37کہ یہ جو بات کی جاتی ہے
25:39کہ یہ جو خرق آداد کام ہیں
25:40یہ ہوئی نہیں سکتے
25:42کیوں نہیں ہو سکتے خرق آداد کام
25:43کیونکہ یہ قوانین فطرت کے خلاف ہے
25:45یعنی جس طرح فطرت ورک کرتی ہے
25:47جس طرح کائنات ورک کرتی ہے
25:49جب یہ آپ کام پریزنٹ کرتے ہیں
25:51تو کائنات کا جو نظام ہے
25:53اس میں خلال آتا ہے
25:53تو ان کے لئے ایک بہت سمپل سی بات یہ ہے
25:56کہ سائنس نے ابھی اتنی ترقی نہیں کی
25:58کہ اس نے تمام قوانین فطرت کو جان لیا ہو
26:01تو ممکن ہے کہ یہ جو موجزات
26:03یہ جو خرق آداد کام ہمارے سامنے آ رہے ہو
26:05یہ بھی کسی نہ کسی قانون فطرت کے تحتی
26:08وقو پذیر ہو رہے ہو
26:10بلکل درست کہا آپ نے
26:11بلکل ایسا ہی ہے
26:12اور بہترین مثالوں کے ساتھ
26:14ایویڈنسز کے ساتھ
26:15قرآن کی حکمتوں کے ساتھ
26:17آپ نے ماشاءاللہ کلام کیا
26:18میں کچھ ہمارے ساتھ کالرز ہیں
26:20انہیں شامل کرتا ہوں
26:21السلام علیکم ورحمت اللہ
26:24جی السلام علیکم
26:28آواز آرہی ہے جناب
26:29جی کیا سوال ہے آپ کا
26:33پہرا سوال یہ ہے
26:35کہ آج یہ
26:36حضرت سلمان علیہ السلام کا واقعہ ہے
26:38تو ہمیں یہ لوگ بتاتے ہیں
26:42کہ انہوں نے
26:43کوری کینات کی روٹی بگائی تھی
26:45اور ایک مچھی آئی کھا گئی
26:47دوسرا ان کے مندری گم گئی تھی
26:50تخت اٹھ گیا تھا
26:51ایک پٹھیاری کا باتھ جوک دے رہے
26:54یہ جو دوسرے کسی ہیں
26:55جو قرآن میں نہیں ہے
26:56یہ کہاں سے آتے ہیں
26:58چلیں آپ انشاءاللہ آپ کو بتاتے ہیں
27:00اس مطالق اور
27:01بڑے بڑوں سے بھی بڑے واقعات
27:03جو ہے نا
27:03وہ قرآن کا ریفرنس دے کر
27:05ہم نے سنے ہوئے
27:06بعد میں علماء سے پوچھا کہہ رہے ہیں
27:07نہیں نہیں
27:08ایسا نہیں ہے
27:08تو یہ ہوتا ہے
27:10پہرحال چلیں
27:11انشاءاللہ بتائیں گے
27:12آپ کو ایک اور کالر
27:13ہمارے ساتھ ہے
27:13السلام علیکم
27:15محلق مسلم
27:16جی کیا سوال ہے آپ کا
27:17جی دو سوال ہیں
27:18ایک کہ یہ پوچھنا تھا
27:20کہ والد صاحب حیات نہیں ہے
27:22اولاد میں اگر صرف بیٹیاں ہوں
27:23اور دادہ دادی چاچا تایا
27:25سب انتقال کر چکے ہوں
27:27تو اس صورت میں
27:28تایا اور چاچا کے بچوں کا
27:29والد کی وراثت سے
27:30حصہ بنتا ہے یا نہیں
27:31بالکل ٹھیک ہے
27:33دوبارہ کہیں گے
27:35والد صاحب حیات نہیں ہے
27:37جی حیات نہیں ہے
27:39اولاد میں اگر صرف بیٹیاں ہوں
27:40صرف بیٹیاں
27:41اور باقی تایا چاچا
27:43کوئی نہیں ہے نا
27:44دادہ دادی تایا چاچا کوئی نہیں ہے
27:46سب انتقال کر چکے ہیں
27:48تو اس صورت میں
27:49والد کی وراثت سے
27:50ان کے بچوں کا تایا
27:51چاچا کے بچوں کا
27:52حصہ بنتا ہی ہے
27:53تایا چاچا کے بچوں کا
27:55اچھا ٹھیک ہے
27:56اور یہ ایک اور پوچھنا تھا
27:58کہ وراثت کے مال میں
28:00جو ہے وہ
28:00بینک انٹرس وغیرہ
28:01سب مکس ہیں
28:02اور مجھے معلوم بھی نہیں ہے
28:03الگ کرنا مشکل ہے
28:05اچھا ٹھیک ہے
28:06اس کو الگ کرنے کا
28:08شرح حکم کیا
28:09دوسرا ہے کہ
28:10دادہ کی وراثت ہے
28:11نہیں ہے
28:12نہیں یہ
28:13وراثت جو ہے
28:14والد صاحب کی
28:14میرے والد صاحب کی
28:15آپ کے والد کی ہے
28:17جی پہلا سوال جو تھا
28:18وہ اس سوالے پہ جا گا
28:19والد صاحب کی وراثت
28:20والد صاحب کی وراثت ہے
28:21تو
28:22یہ تو
28:23یہ تو
28:23میرے والد صاحب کی
28:25آپ کے والد صاحب کی ہے
28:27جی جی میرے والد
28:28آپ تو کہہ رہے تھے
28:28بیٹیاں ہیں صرف
28:29نہیں نہیں وہ
28:31دوسرے
28:31سوالے سے پوچھنا جا رہا ہوں
28:33یہ
28:35foreign
28:43foreign
28:45foreign
28:45Okay.
28:47What's your name?
28:48Our caller is with our call.
28:49As-salamu alikum.
28:51Aliband line dropped.
28:53Yes, as-salamu alikum.
28:56Yes, as-salamu alikum.
28:58Wa-alikam al-salam.
28:59I have heard of this.
29:01I have heard of this.
29:03Wa-alikam al-salam.
29:04Yes, what's your question?
29:07My question is that, if you don't have time, there is no time.
29:10Yes, if you have a time for a night,
29:13it's a time for 2 hours or a minute or a minute.
29:16It's a time for 2 hours or a minute,
29:20when the time is possible.
29:22Yes, hello.
29:24Hello.
29:26Yes, what's your question?
29:28My question is that the hair is broken.
29:32Can you do it?
29:34Okay, let's tell you.
29:37Okay, let's ask.
29:39What's your question?
29:41Yes, sir.
29:45Yes, sir.
29:48Yes.
29:49Yes.
29:50Yes.
29:53Yes.
29:55Yes.
29:56Yes.
29:56Yes.
30:00Yes.
30:01Yes.
30:03Yes.
30:12Yes.
30:14Yes.
30:26Yes.
30:28Yes.
30:36Yes
30:36Yes.
30:37Yes.
30:45Thank you very much.
31:08��ی صاحب مفتی حسن عوید نیازی صاحب اللامہ مولانا عمران مشیر صاحب
31:11اور جناب اللامہ حافظ احمد یوسف ہمارے صد ایک دو کالرز ہیں انہیں
31:15شامل کرتے ہیں پھر حضرت کا مولانا کا پیغام لے لیتے ہیں جی السلام
31:18علیکم والیکم السلام جی کیا سوال ہے آپ کو سر میرا سوال یہ کہ میری
31:26بیٹی کا نام ہے میرہا ٹھیک ہے میں نے رکھا تھا ٹھیک ہے وہ کوئی کچھ
31:30کہتے علماء کہ میرہا نام نہیں رکھنا چاہیے میرہا نام ٹھیک
31:33I don't know what it means.
31:34We don't know what it means.
31:37Okay, okay, okay.
31:40Okay, okay.
31:42So, let me guide you a little bit.
31:45Okay, let me guide you.
31:47Inshallah, let me do it.
31:48Another caller is with us.
31:50Hello.
31:53Yes, sir.
31:55I have told you,
31:56that Muslim has been reading all the time.
31:59What?
32:00What?
32:01He doesn't do it.
32:04He doesn't do it, he doesn't do it.
32:05He's going to go.
32:06He's a Muslim.
32:09Yes, he's a Muslim.
32:10Okay.
32:12Yes, sir.
32:14Yes, sir.
32:15Yes.
32:19Yes.
32:21Yes.
32:22Yes.
32:30Yes.
32:36Yes.
32:38Yes.
32:45Yes.
32:47Yes.
32:49Yes.
32:50Yes.
32:54He's...
32:55Yes.
33:04Yes.
33:05Yes.
33:05Shafqat اور
33:07Karim
33:07का मौामला
33:08क्या अर्षाद फर्माई
33:09वोई बाइन
33:10बाइन बाइन अर्षाद सर्द किया
33:11कि चून्टी की जो आह को सुन लेता है
33:13वो इनसानों की हुकुक को कैसे
33:15नजर अन्दास करता है
33:16Allah हुआ कबर
33:16Allah हुआ कबर
33:32उनके पास भी इक्तादार था
33:33कल कियमत में लए उनको पेश करेंगे
33:35कि मैंने इनको इक्तादार रता फठाव फर्माया था
33:37ये कैसे चले और आप कैसे चले
33:39किया इनकी रवश पे चलने के आपने कोशीश की
33:41कि आपके बास ज्यादां ताकत थीन से
33:43This is why Surah Al-Ma'idah
33:45Ki Ayat No. 44, 45, 46
33:47Tienوں Me Hay
33:47Jho Parlimen Me Bait Kek
33:49وَمَا لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنظَرَ اللَّهِ
33:51فَأُولَئِكَهُمُ الظَّالِمُونَ
33:53فَأُولَئِكَهُمُ الْفَاسِقُونَ
33:55فَأُولَئِكَهُمُ الْكَافِرُونَ
33:57Tien Lفذ Are
33:58وَمَا لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنظَرَ اللَّهِ
34:00Jho Allah Ke Nizam Ke Mطابق
34:02فیصلے نہیں کرتا
34:03پارلمن میں بیٹھ کر
34:05جہاں اللہ نے ان کو اقتدار دی ہے
34:06حکومت دی ہے
34:07ایک جگہ فر میں وہ ظالم ہیں
34:08ایک جگہ فر میں وہ کافر ہیں
34:10ایک جگہ فر میں فاسق ہیں
34:11اللہ کا واسطہ ہے
34:13کہ اللہ نے اگر آج اقتدار دیا ہے
34:15پتہ نہیں کب چھنج ہے
34:17یہ تو قرائے دار ہیں
34:18ذاتی مکان تھوڑی ہے
34:19ہم تو سارے
34:20کہنے والے نے
34:21کیا خوبصورت بات کی
34:22کہنے ہیں
34:22حضرت جی
34:23ہم تو چوکی دار ہیں
34:26چوکی دار کی
34:26جوٹی کبھی بھی بدل سکتی ہے
34:28صحیح بات ہے
34:28ہمارے تو کچھ بھی نہیں
34:29تو تِل ملک من تشا
34:31وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِن مَن تشا
34:33وَتُعِزُّ مَن تشا
34:35وَتُزِلُّ مَن تشا
34:36بِيَدِكَ الْخَيْرِ
34:37اِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٍ
34:40انسان کی تباہی سلمان بھی
34:42تب شروع ہوتی
34:42جب انسان ان چیزوں کو
34:44اپنی ذاتی
34:46ملکیت
34:47یا اپنی ذاتی ملت
34:48جیسے قارون نے سمجھا
34:50جو بھی آج تک تباہ برباد ہوئے ہیں
34:52آپ شیطان سے شروع کریں
34:54قابل سے شروع کریں
34:55اور آج تک
34:55جہاں میں آئی ہے
34:57میں کب ہوتا ہے
34:58وہاں تباہی اور بربادی شروع ہوگی
35:00بلکل ہے صحیح
35:00تو میں اور تباہی کو بیچ میں سے نکال دیں
35:02اہل اقتدار ہے
35:04تو ان کو حکم دیا
35:05کہ کیسے شفقت چلنی ہے
35:06اہل علم
35:07اور اہل حکمت ہیں
35:09تو ان کو حکم دیا
35:10کہ علم جو ہے
35:11وہ آجزی
35:12آپ کے اندر لے کر آ رہا ہے
35:15تو آپ سمجھیں
35:15کہ آپ کے پاس
35:16واقعی اللہ والا علم ہے
35:17اور اگر آپ کے اندر
35:19غرور اور تکبر لے کر آ رہا ہے
35:21کہ میں کچھ ہوں
35:21تو سمجھیں
35:22کہ یہ آپ کا
35:23علم
35:24علم نافع نہیں ہے
35:25یہ غیر نافع
35:26آپ کی پکڑ کا ذریعہ بنے گا
35:28ایسے ہی
35:29اہل عدل اور انصاف کے لیے
35:31وَدَاوُدَ وَسُلِيمَانِ
35:33اِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْفِ
35:34اِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ
35:36وَكُنَّا لِحُکْمِهِمْ شَاهِدِينَ
35:39کہ سلطنت کے اندر
35:41عدل و انصاف کیسے لے کے چلنا ہے
35:43تو سینا سلیمان علیہ السلام کی ہمیں
35:45بارگاہ اقدس کے اندر سے
35:47وہاں ان کی سیرت طیبہ سے بہت کچھ ملتا ہے
35:50کہ کس طریقے سے حکومت چلانی ہے
35:52کس طریقے سے قضا سیاست چلانی ہے
35:54ہر ہر معاشرے کی جو بھی ہماری ضروریات ہیں
35:58ہر اللہ پاک نے اس معاشرے کے اندر سے
36:01ہمیں مثال اور نمونہ دی ہے
36:02لیکن کس سمجھنے والا ہوتا ہے
36:04بلکل درستہ آپ نے فرمایا
36:05بلکل
36:06مفتی محمد صلی اللہ علیہ وسلم جی صاحب قبلہ
36:08کیا پیغام ملتا ہے آج اس تمام تر
36:11صورتحال سے اس موضوع سے
36:13دیکھیں اس میں ایک پیغام تو ہمیں یہ ملتا ہے
36:16کہ قرآن صرف شفا
36:18صرف شفا نہیں ہے
36:20ہمارے لئے
36:22یہ ہمارے قلب اور روح کے لئے شفا بھی ہے
36:26اور ساری برکتوں کا سامان بھی ہے
36:28لیکن اس کے ساتھ ساتھ
36:30یہ ہمیں
36:32زندگی گزارنے کا ڈھنگ بھی سکھاتا ہے
36:34اور صرف زندگی گزارنے کا ڈھنگ نہیں سکھاتا
36:37ہمیں جہاں بانی بھی سکھاتا ہے
36:40دنیا کو چلائے کیسے جائے
36:42ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے
36:44اب اس میں کئی چیزیں ہیں
36:46اس سورہ میں
36:47سورہ نمل میں
36:48جہاں پر ہم دیکھتے ہیں
36:49کہ سلیمان علیہ السلام کا ذکر خاص تو پر اس میں
36:52یہ سورہ نمل
36:53ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے
36:55کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں
36:57توازو کیسے ہوتی ہے
36:59کہ سلیمان علیہ السلام
37:01کہاں کس منصف پر
37:03اور دور سے چونٹی کی آواز سنکر
37:05مسکر آٹھے
37:06اور پھر اس کے بعد
37:07وہاں جا کر
37:08رک گئے
37:09تاکہ چونٹی
37:11اپنے
37:12جو پورا لشکر ہے ان کا
37:13وہ اپنے بلوں میں چلا جائے
37:15سورہوں میں چلا جائے
37:16رک گئے
37:16یہ توازو کا علم ہے
37:18توازو
37:19یعنی غریب توازو کرے نا
37:21تو وہ اتنا نہیں دیکھا جاتا
37:23لیکن جسے اللہ رب العالمین
37:24نے سب کچھ عطا فرمائے
37:26دیکھیں نا فیرون کے پاس
37:27اتنا نہیں تھا
37:28خدای کا دعویٰ کر بیٹھا
37:29مرود کے پاس اتنا نہیں تھا
37:31خدای کا دعویٰ کر بیٹھا
37:33تو اللہ رب العالمین
37:34نے مثال پیش فرمائی
37:35کہ جس بندے کو
37:36ہم نے سب کچھ دیا
37:38لیکن اسے خدای کا دعویٰ نہیں کیا
37:40حدیث پاک میں ہے
37:41کہ یہ ساری سلطنت
37:43یہ سارے اختیارات
37:45الدرب العالمين
37:46جو آپ کو عطا فرما
37:47اس کے ساتھ سب
37:48پرندے آپ پر سایا کرتے تھے
37:50پرندوں کی بولیاں
37:51آپ کو سکھائی گئی
37:53تو فرمایا
37:54کہ یہ ساری چیزوں نے
37:55ان کی خدا خوفی میں
37:57اضافہ کیا ہے
37:58اللہ تعالیٰ کے
38:00خوف کے سوا
38:00کوئی اور چیز زیادہ نہیں ہوئی ہے
38:02تو یہاں میں یہ بھی سکھائی گیا
38:03پھر اس کے ساتھ
38:05ایک جو جاسوسی نظام
38:07ہوتا ہے
38:07ایک ملکی سطح پر
38:08تو سورہ نمل میں
38:10خاص طور پر جہاں پر یہ
38:15कि अच्किया कि अधने फर्माएजा पता कर किया वो सारा पता कर किया आया सारी चीजा आपके सामने फिर इस
38:23तरीके
38:23से जासूसी निजाम मुल्की सता पर बड़ा मश्बूत होना चाहिए फिर यहीं आप देखे जानी जो हमारी
38:32Which changes policy is
38:34That knowledge from the people who are saying
38:37We can give them to what they are
38:39Which ways from the people that you are saying
38:42Which way do you have to be a policy policy
38:43Which is why they are
38:45The Islam before you have had it
38:48And Islam is made out of it
38:50So this is what the meaning of policy is
38:52So this means what?
38:53That only prayer is the only plan for which is not
38:57But the problem is
38:58But the end of life is also the same
39:04Thank you very much.
39:31Thank you very much.
40:02Thank you very much.
40:32Thank you very much.
41:03Thank you very much.
41:30Thank you very much.
42:01Thank you very much.
42:30Thank you very much.
43:05Thank you very much.
Comments