Skip to playerSkip to main content
  • 5 hours ago
Transcript
00:00Allahatah kalamu padha ya Rasul ne
00:04Asham beba'r safha ko likha ya Rasul ne
00:09Nakhmaduhu wa nustalli ala Rasulihil karim
00:12Amma abad, bismillahirrahmanirrahim
00:14Allahumma salli ala Muhammadin wa ala ala Muhammadin wa barik wa sallim
00:18Rabbish rahali sadri wa yassir li amri
00:21Wakhlul qudata min lisani yafqahu qawli
00:23Waj'ali waziram min ahli
00:25Amin ya Rabbil alameen
00:26ناظر کرام السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکات
00:30امید آپ خیر آفیت سے ہوں گے
00:31اور ہماری دعا ہے آپ جہاں کہیں بھی ہیں
00:33اللہ تعالی آپ سب کو اور ہم سب کو اپنے زمان میں رکھیں
00:35آفیت اور سلامتی سے نوازیں
00:37اللہ تعالی کی توفیز سے خلاصہ مزامین قرآن حکیم کا سسلہ جاری ہے
00:41اور آج انشاءاللہ قرآن حکیم کے سولوے پارے کے مزامین کا خلاصہ آپ کے سامنے رکھیں گے
00:47قرآن حکیم کے سولوے پارے میں سور کحف کی تکمیل ہوتی ہے
00:50اس کے بعد سور مریم مکمل شامل ہے
00:53اور پھر سور تاہا کی آیت نمبر ایک سے آیت نمبر ایک سو پہتیس تک کی آیات شامل ہیں
00:59یوں سولوہ پارہ سور کحف کے آیت نمبر اٹھہتر سے شروع ہو کر
01:03سور تاہا کی آیت نمبر ایک سو پہتیس پر مکمل ہوتا ہے
01:07سور کحف کا مطالعہ جاری ہے
01:09تو پہلے سورة قحف کے تعریف کے حوالے سے چند باتوں کی یاد دھیانی کر لیتے ہیں
01:14سورة قحف کے حوالے سے پہلی بات جو اس وقت آپ کے سامنے تعریف میں رکھ رہے ہیں
01:18سورة القحف دجالی فتنے یعنی دنیا کا دھوکہ دنیا پرستی کا توڑ اور اس سے حفاظت کا ذریعہ ہے
01:25دجالی فتنے کا رد ہوتا ہے توڑ ہوتا ہے جب سورة قحف کے ہم تلاوت کرتے ہیں
01:29لیکن سمجھ کر کرتے ہوئے تلاوت کرنا اور توجہ کے ساتھ کرنا مفہوم کو سامنے رکھ کر کرنا
01:34تو یہ دجل ظاہر کا جو پردہ ہے یہ چاک ہوتا اور حقائق ہمارے سامنے کھلتے ہیں
01:39حدیث مبارک ہے جو شخص جمعہ کے دن پوری سورة القحف یا اس کی ابتدائی تین آیات
01:45یا دس آیات یا آخری دس آیات تلاوت کرے گا وہ دجالی فتنے سے معفوظ رہے گا
01:51تو جمعہ کے دن سورة قحف کی تلاوت کا معمول اللہ تعالی مجھے اور آپ کو اختیار کیے رکھنے کی
01:56توفیق عطا فرمائیں
01:58اس صورت میں یہ قصے بیان ہوئے ہیں
02:00اصحاب قحف کا قصہ نمبر دو باغ والے کا قصہ نمبر تین حضرت آدم علیہ السلام اور عبریس کا قصہ
02:06نمبر چار حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا قصہ
02:10نمبر پانچ بادشاہ ذلقرنین کا قصہ
02:13بارہ ان قصوں کی تفصیلات بیان کرنے کا موقع تو نہیں ہے لیکن بڑے اہم نکات اور علم و حکمت
02:19کی باتیں ان قصوں میں ہمارے سامنے آتی ہیں
02:21جو آیات ہم نے منتخب کی ہیں ان میں سے ایک مقام ہے جو جناب موسیٰ علیہ السلام اور جناب
02:27خضر کے قصے سے متعلق ہے
02:29ہمیں اندازہ ہوگا کس قدر حکمت بھرے یہ پہلو ہیں جو ان واقعات میں ہمارے سامنے آتے ہیں
02:34سورہ کحف کا یہ مختصر تعریف رکھنے کے بعد چلتے ہیں چند منتخب آیات کے مطالعے کی طرف
02:39سب سے پہلے جن آیات کا ہم نے انتخاب کیا وہ سورہ کحف کی آیات 89 سے 82
02:48لکھا ہے ظاہر کے پردے کے پیچھے چھپے حقائق
02:52واقعہ تو مشہور ہے جناب موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات ہوئی جناب خضر سے علیہ السلام
02:57اور ساتھ ان کا سفر چلتا رہا ایک جگہ کشتی توڑ دی تھی
03:01ایک جگہ بچے کو قتل کر دیا تھا اور ایک جگہ بغیر اجرت دیوار کو درست کر دیا تھا
03:06جناب خضر نے علیہ السلام اور ہر بات پر کشتی کا حصہ توڑ دیا
03:12بچے کو قتل کر دیا بغیر اجرت کے فری میں دیوار درست کر دی
03:16بار بار سوال کیا تھا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے
03:19اور اس کے بعد پھر اب جدائی کا وقت آ گیا کیونکہ تیعی ہوا تھا کہ سوال نہیں کرنا
03:23موسیٰ علیہ السلام نے جب جدائی کا وقت آیا تو جناب خضر بتا رہے ہیں
03:27کہ یہ سب کچھ میں نے اپنی مرضی سے نہیں کیا
03:30یہ اللہ کے حکم کے مطابق تھا
03:32اور اب کچھ پردے ہٹتے ہیں
03:34اس ایک قصے میں
03:35تین واقعات کشتی کا ٹوٹنا
03:37بچے کا قتل ہونا اور دیوار
03:40کا بغیر اجرہ درست کر دیا جانا
03:41اب یہ ظاہر میں ہے کشتی ٹوٹی ہے
03:43بچہ قتل ہوا ہے بغیر اجرہ
03:46دیوار درست ہوئی ہے حقیقت کیا ہے
03:48یہ پردے یہاں پر ہٹتے ہیں
03:49ہمارے سامنے آئیے متعلق کرتے ہیں
03:51سورہ کحف آیات اناسی تا
03:53بیاسی سیمنٹی نائن سے ایٹی ٹو
03:56اشاد ہوا
03:57اما السفینت رہی وہ کشتی
03:59فکانت لی مساکین یعملون
04:02فی البحری وہ کچھ مسکین لوگوں
04:04کی تھی جو دریا میں
04:05مزدوری کرتے تھے
04:07فارت انعیبہ جناب خضر
04:09نے فرمایا کہ میں نے چاہا
04:11اس میں عیب پیدا کر دوں
04:13وکان وراء ملکن
04:15اور آگے ایک بادشاہ تھا جو کہ ظالم تھا
04:17یا خذ کل سفینت غصبہ
04:19وہ ہر کشتی کو
04:21جو ہے وہ
04:23غصب کر لیا کرتا تھا قبضہ کر لیا
04:25کرتا تھا تو صحیح سالم کشتی
04:27ہوگی تو وہ غصب کر لے گا
04:29قبضہ کر لے گا عیب ہوگا
04:31تو کشتی بچ جائے گی تھوڑا سا عیب
04:33ہے کشتی بچ گئی یہ مسکین
04:35لوگ ہیں محنت مزدوری کرتے ہیں پھر آگے
04:37تختہ لگا لیں گے اور ان کی مزدوری
04:39کا معاملہ چلتا رہے گا
04:40ظاہر میں عیب ہے
04:43ظاہر میں نقصان ہے
04:45ظاہر میں عجیب بات ہے کہ
04:47مزدوروں کی اور
04:49مسکینوں کی کشتی تم نے توڑ دی حقیقت
04:51میں کیا ہے یہی فائدے کی بات تھی
04:53یہی اچھی بات تھی یہی بہتر
04:55بات تھی کہ کشتی بچ گئی
04:57پردہ ہڑ گیا حقیقت سامنے
04:59آگئی ظاہر میں نقصان حقیقت
05:01میں فائدہ نمبر دو آگے
05:03وَأَمَّلْ غُلَامُ رَحَا
05:05وہ لڑکا جو قتل ہو گیا تھا
05:06فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ
05:08تو اس کے ماباپ نیک
05:10تھے فَخَشِنَا
05:12پس ہمیں اندیشہ ہوا
05:14اَيُّرْحِقَهُمَا تُغْيَانًا وَكُفْرًا
05:16کہ یہ لڑکا بڑا ہو کر ان کو
05:18سرکشی کفر میں مبتلا نہ کر دیں
05:20فَأَرَدْنَا پس ہم نے ارادہ کیا
05:23اَيُّبْ دِلَهُمَا رَبُّهُمَا
05:25خَيْرًا مِّنْهُ زَكَاطًا
05:27وَأَقْرَبَ رُحْمًا
05:28کہ رب ان دونوں کو
05:30اس سے بہتر عطا فرمائے
05:31اولاد جو کہ پاکیزہ بھی ہو
05:34اور رحمت اور شفقت کے اعتبار سے
05:36اور زیادہ بہتر ہو
05:37اور رحمت اور شفقت کے معاملات میں
05:39آگے بڑھ کر ہو
05:40اللہ اکبر کبیرہ
05:42لڑکا قتل ہو گیا
05:43تو چھوٹے بچے کا قتل کس قدر
05:45بھاری معاملہ بڑا سخ معاملہ
05:47بھاری قسم کا معاملہ ہو گیا
05:49لیکن لڑکے کے ماباب نیک تھے
05:52اللہ سبحان و تعالی کے حکم سے
05:55سب کچھ ہوا ہے
05:56ابھی آگے مزید آیت ایک آئے گی
05:57اور اللہ تعالی نے کیا چاہا
06:00کہ اس چھوٹے بچے کا انتقال
06:01چھوٹی عمر میں ہو جائے
06:02جب بچہ چھوٹی عمر میں انتقال کر جائے گا
06:05تو نابالغ ہوگا
06:06نابالغ ہوگا
06:07نابالغ سے حساب کتاب نہیں ہوگا
06:08اگر بڑا ہوتا
06:09یہ والا لڑکا
06:11ماباب کو مسیمت میں ڈالتا
06:12سرکشی کفر میں مبتلا کرتا
06:14ماباب کا بھی نقصان ہوتا
06:15تو بچے کا بھی نقصان
06:16اس معنی میں نہیں
06:17کہ نابالغ عمر میں جا رہا ہے
06:19تو کل اس سے حساب کتاب نہیں
06:21اور ماباب کا بھی فائدہ ہو گیا
06:23کہ یہ سرکشی کفر سے بچا لیے گئے
06:25آئندہ کیلئے کیا ہے
06:26مزید پاکیزہ اولاد
06:28اور رحمت و شفقت والی اولاد
06:30اللہ تعالی عطا فرما دے گا
06:31ظاہر میں کیا تھا
06:33بہت بھاری معاملہ
06:34بچہ قتل کر دیا
06:35بغیر کسی وجہ کے
06:36اور حقیقت میں کیا تھا
06:37بچہ بھی بچ گیا
06:38آخرت کے اعتبار سے
06:39ماباب کا بھی بھلا ہو گیا
06:41اور آئندہ بہتر
06:42نعم البدل سسٹیٹوٹ
06:43ان کو اللہ کی طرف سے
06:44عطا ہو جائے گا
06:45اگلی آیت
06:47سورہ کحفی کی
06:48آیت نمبر بیاسی میں دیکھئے
06:50فرمایا
06:50وَأَمَّلْ جِدَارُ فَقَانِ لِغُلَامِينِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ
06:54اور رہی وہ دیوار
06:55جس کو بغیر عجرت
06:57درست کر دیا تھا
06:58جناب خزر نے
06:59اچھا وہاں علاقے والوں نے
07:01ان کی میزبانی بھی نہیں
07:02کی کھانا نہیں کھلایا
07:03تو موسیٰ علیہ السلام فرمایا
07:04کہ ایک تو کھانا نہیں کھلایا
07:05اوپر صاحب نے
07:06بغیر عجرت
07:07کہ ان کو دیوار دلست کر کے دے دی
07:09کچھ عجرت دے رہے تھے
07:09کھانے کے انتظام ہو جاتا
07:10فرمایا جا رہا ہے
07:12جناب خزر بتا رہے ہیں
07:13وَأَمَّلْ جِدَارُ فَقَانِ لِغُلَامِينِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ
07:17رہی وہ دیوار
07:18تو جو وہ تھی
07:19وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی
07:20جو شہر میں رہتے تھے
07:21وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزُ لَهُمَا
07:24اور اس دیوار کے نیچے
07:25ان دونوں کا خزانت دفن تھا
07:27وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحَا
07:30اور ان دونوں کا باپ نیک آدمی تھا
07:32ہم مستمیت جتنے والدین
07:34یہ باتیں سننے ہیں
07:35ان الفاظ پر غور کریں
07:36وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحَا
07:39اور دونوں کا باپ جو تھا وہ نیک آدمی تھا
07:41فَأَرَادَ رَبُّكَا
07:44بس آپ کے رب نے چاہا
07:46کہ یہ دونوں اپنی پختہ عمر کو
07:48ابھی بچے ہیں یتیم نابارک بچے ہیں
07:50یتیم ہیں
07:50اور یہ پختہ عمر کو پہنچے
07:53وَيَسْتَخْرِجَا
07:53كَنْزَهُمَا
07:54رَحْمَةً مِرْرَبِّ
07:56اور آپ کے رب کی رحمت سے بڑے ہو کر
07:58اپنے خزانے کو دیوار کے نیچے سے نکال لیں
08:01سبحان اللہ
08:02اگر ابھی دیوار درست نہ کی جاتی
08:04تو خزانہ ظاہر ہو جاتا
08:06یہ یتیم بچے ان کا نقصان ہو جاتا
08:08اللہ تعالیٰ کے حکم سے جناب خزر نے اس کو درست کر دیا
08:11تو دیوار سلامت رہی
08:13خزانہ معفوظ رہا
08:14بڑے ہوں گے
08:15تو دفن شدہ خزانے کو نکال لیں گے
08:17اور قرآن پاک نے کیا کہا
08:19وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحَا
08:21اور دونوں کا باپ نیک آدمی تھا
08:23باپ اگر نیکی پر ہو
08:26سبحان اللہ
08:27تو کبھی باپ کے ان بچوں کے لیے
08:29اللہ حفاظت کا اعتمام ایسے بھی فرماتا ہے
08:32کہ جناب خزر کو بھیج دیتا ہے
08:34اللہ اکبر کبیرہ
08:35اسی لئے مفسرین نے لکھا
08:37کہ مال دولت اسباب ریسورسز سے بڑھ کر
08:40اس کے مقابلے میں
08:41اللہ سبحانہ تعالیٰ کی بندگی میں
08:43ماباپ کو آگے بڑھنا چاہیے
08:45یہ ماباپ بندگی میں آگے بڑھیں گے
08:47نیکی میں آگے بڑھیں گے
08:49تو اللہ اس کے توفیل اپنے فضل و کرم سے
08:51دنیا میں بھی ان ماباپ کی
08:53اولاد کی حفاظت
08:55ان کے مال اور اسباب کی حفاظت فرمائے گا
08:57سبحان اللہ
08:58ظاہر میں کیا تھا
08:59بغیر عجرت دیوار ٹھیک ہو گئی
09:01اور حقیقت میں کیا تھا
09:02باپ کی نیکی بچوں کو بھی کام آئی
09:04اور ان کا خزانہ محفوظ رہ گیا
09:06اس سارے کاموں کے بعد جناب خزر نے کیا فرمایا
09:09وَمَا فَعَلْتُوا عَنْ اَمْرِی
09:11یہ سب کچھ میں نے اپنی مرضی سے نہیں کیا
09:13میں کس کے حکم کا پابند
09:15جناب خزر بھی اللہ کے حکم کے پابند
09:17ذَلِكَ تَعْوِيلُ مَا لَمْ تَسْتِعْ عَلَيْهِ سَبْرَا
09:21یہ ہے اس سارے واقعے کی
09:23اصل تاویل
09:25اصل ماجرہ
09:26جس کے معاملے پر آپ صبر نہ کر سکے
09:29اے موسیٰ
09:29جناب خزر نے یہ حقیقتیں
09:31جناب موسیٰ علیہ السلام کے سامنے رکھ دیں
09:33اور اس واقعے کو قیامت تک کے لئے
09:35قرآن پاک میں اللہ نے بیان کر کے
09:37یہ سمجھا دیا
09:38ظاہر میں تم کچھ دیکھتے ہو
09:40اور حقیقت میں کچھ اور ہوا کرتا ہے
09:42ہمیں اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنا چاہیے
09:45ظاہر کے پردے کو چاک کب کریں گے
09:48جب قرآن پاک کو سمجھ کر
09:50یقین کے ساتھ پڑھیں گے
09:51سورہ کحاف کی تلاوت جمعے کے دن کریں گے
09:54تو بدلتے حالات میں اونچ نیچ میں
09:56پریشان نہیں ہوں گے
09:57فرسٹریشن کا
09:57ڈپریشن کا
09:58ہائپرٹینشن کا
09:59برین ہیمرج کا
10:00اور اس طرح کی چیزوں کا انشاءاللہ
10:02شکار نہیں ہوں گے
10:04یہ چند آیات ہم نے سورہ کحاف کی آپ کے سامنے رکھی
10:07اب مزید آپ کے سامنے
10:08تین اور آیات رکھنا چاہیں گے
10:10جو سورہ کحاف کے بالکل آخر میں آتی ہیں
10:11سورہ کحاف کی آیات ہیں
10:13ایک سو تین
10:13ایک سو چار
10:14اور ایک سو پانچ
10:15بتایا جا رہا ہے
10:16بدترین خسارے میں کون ہے
10:18خسارہ دو چار لاکھ کا
10:19دو چار کروڑ کا
10:20دو چار عرب کا
10:20دو چار کھرب کا بھی ہو سکتا ہے
10:22یہاں بتایا جا رہا ہے
10:23بدترین خسارے والے کون ہیں
10:25اشارت ہو رہا ہے
10:26سورہ کحاف کی آیت
10:27امریک سو تین میں
10:28قل
10:28حل نبیعکم بالاخسرین اعمال
10:32اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
10:33فرما دیجئے
10:34کیا
10:35ہم تمہیں بتائیں
10:36اے لوگو
10:36اعمال کے اعتبار سے
10:38سب سے بڑھ کر
10:39خسارے میں کون لوگ ہیں
10:40سب سے بڑھ کر
10:41اٹ لاس کون ہیں
10:45وہ لوگ جن کی
10:47ساری کی ساری
10:48محنت اور کوشش لگ گئی
10:50دنیا ہی کی زندگی میں
10:52صرف دنیا
10:52صرف دنیا
10:53صرف دنیا
10:54اور کچھ نہیں
10:55وہم یحسبون
10:56انہم یحسنون
10:57سنعا
10:58وہ یہ گمان کرتے ہیں
10:59کہ بڑے چھے کام کر رہے ہیں
11:00بڑا مال جمع کیا
11:02بڑی جائدادیں بنائیں
11:03بڑا نام کمائیں
11:04بڑی فیم
11:05بڑے ویوز
11:05بڑے لائکس
11:06بڑا یہ بڑا سب کچ
11:07لیکن
11:08صرف دنیا ہی دنیا
11:09فقط دنیا ہی دنیا
11:11موت کی فکر نہیں
11:12موت کی یاد نہیں
11:13اس کی تیاری نہیں
11:14اور آخرت کا
11:15یقین نہیں
11:16آخرت کی تیاری نہیں
11:17اس فکر میں نہیں
11:18لاتے اس کو سوچ
11:19صرف دنیا ہی دنیا مقصود
11:21یہ سب سے بڑے در خسارے میں
11:22فرمایا
11:23اولائیک اللہذین کفروا بی آیات ربیہم
11:26ونقائی
11:27یہ وہ لوگیں
11:28جنہوں نے اپنے رب کی آیات سے انکار کیا
11:30اور
11:31اس کی ملاقات کا انکار کیا
11:33فحبتت اعمالوہم
11:38نقیمو لہم یوم القیامت وزنا
11:40پس قیامت کے دن
11:42ہم ان کے لئے کوئی اعمال کے
11:44تولنے کا وزن ہی قائم نہیں کریں گے
11:46بھائی وزن اس شئے کا ہوگا
11:48جس میں وزن ہو
11:50کوئی شئے وے ایبل ہو تو
11:52اس کا ویٹ ہوگا نا
11:53وے ایبل ہو تو ویٹ ہوگا
11:56وزن کے لائی کوئی شئے ہو تو
11:57وزن کیا جائے گا
11:59ان کا تو آخرت کا عقیدہ ہی نہیں
12:00آخرت کو مانتے نہیں
12:02آخرت کو بھلائے بیٹھے
12:03آخرت کو فراموش کیے بیٹھے
12:04تو کس بات کا ان کا وزن کیا جائے گا
12:06کوئی وزن نہیں کیا جائے گا
12:08ان کے اعمال کا
12:08اللہ تعالیٰ اس برے انجام سے بچائیں
12:10دنیا ضرورت ہے
12:12آخرت مطلوب اور مقصود اور اصل منزل ہے
12:14آخرت کو سامنے رکھ کر
12:16دنیا کی زندگی گدارنے کی
12:18اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے
12:20مرنہ اس سے بڑا خسارہ کوئی نہیں ہے
12:22کہ بس دنیا مطلوب اور مقصود بن جائے
12:24کل تو ان کے لئے پھر
12:25آمال کے توڑنے کے لئے کوئی وزن قائم بھی
12:27نہیں کیا جائے گا
12:29یہ سورہ کحاف کی چند منتخب آیات کا مطالعہ
12:31ہم نے آپ کے سامنے رکھا آگے بڑھتے ہیں
12:33اور سورہ کحاف کے بعد قرآن حکیم کی
12:35سولوے پارے میں سورہ مریم آتی
12:37مکمل شامل ہے
12:38سورہ مریم کا تعرف پہلے آپ کے سامنے رکھیں گے
12:40اور اس کے بعد چند منتخب آیات کا
12:42مطالعہ آپ کے خدمتیں پیش کریں گے
12:43سورہ مریم ویسے نام سے ظاہر ہے
12:45کہ بیوی مریم سلام علیہ کا تذکرہ
12:48اس صورت میں ہمیں ملتا ہے
12:49سورہ مریم مکی صورت جو
12:51ہجرت حفشہ یعنی پانچ نبوی سے پہلے نازل ہوئی
12:54ہجرت حفشہ
12:57جہاں نجاشی رحمت اللہ لے
12:59نجاشی رحمت اللہ لے ان کو انگلیش میں نیگس
13:01ان کا نام لیا جاتا ہے
13:02اور پانچ نبوی سے مراد آغاز وحی کا پانچمہ برس
13:06اسی دور میں سورہ کحاف کا نزول بھی ہے
13:07اسی دور میں سورہ مریم کا نزول بھی ہے
13:10اس صورت کا موضوع
13:11ایمانیات سلاسہ یعنی توحید رسالت اور آخرت
13:14یہ بنیادی موضوعات ہیں
13:16جو مکی صورتوں میں ہم پڑھتے ہیں
13:18سات انبیاء کرام علیہ السلام کے
13:20واقعات کا تذکرہ ہے
13:21پھر حضرت مریم سلام علیہ کا ذکر
13:24تفسیر سے کیا گیا
13:25بہت سارے کرسنز ہیں جن سے ہمارا تعلق ہوتا ہوگا
13:29کئی نہ کئی دوستی ہوگی
13:30کاروبار میں شریک ہوں گے
13:31کریگز ہوں گے
13:37ان کا نام قرآن پاک میں ذکر ہے
13:40اس کی بہت ساری وجوہات ہیں
13:43اور ان کے نام پر پوری صورت موجود ہے
13:45اور ان کا جو اکرام اور اعزاز
13:48سبحان اللہ اور ان کی جو شان
13:49اللہ تعالیٰ قرآن پاک پر بیان کرتا ہے
13:51بائبل میں اس کا میچ موجود نہیں
13:54حضرت مریم سلام علیہ کا ذکر
13:56تفسیر سے سورہ مریم میں کیا گیا
13:58اور آپ اور ہم جانتے ہیں
14:00کہ نجاشی رحمت اللہ علیہ کے سامنے
14:01حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالی عنہ نے
14:04کہ سورہ مریم کی آیات کی تلاوت کی ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے
14:08نرم دل آدمی تھے
14:09علم رکھتے تھے
14:10اور انہوں نے تنکہ اٹھا کر کہا
14:12کہ جو باتیں
14:13اس سورہ مریم کی تلاوت جب انہوں نے سنی
14:16جو باتیں بریان کی گئی ہیں
14:17حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں
14:19وہ اس سے اس دن کے سے نہ زائد
14:21نہ اس سے کم تھے
14:22ایکزیکلی جیسے تھے عیسیٰ علیہ السلام
14:24ویسا ہی ذکر قرآن پاک میں آ گیا
14:26اور آنسو جاری ہو گئے تھے
14:28سورہ مریم کی آیات کی تلاوت سن کر
14:30کس کی آنکھوں میں
14:31نجاشی رحمت اللہ علیہ کی آنکھوں میں
14:33جن کے سامنے حجرت حبشاہ کے موقع پر
14:36حضرت جعفر تیار رضی اللہ تعالی نے
14:38سورہ مریم کی تلاوت کی تھی آیات
14:40آخری نکتہ ہے
14:41سورہ مریم کے تعریف کے زیل میں
14:43قیامت کے احوال کا
14:44اور متقین اور منکرین کے انجام کا بیان ہے
14:47متقین کا حسین انجام جنت میں
14:49منکرین حق اور سرکشوں کا برا انجام جہنم میں
14:52اللہ تعالی ہمیں جنت الفردوات سطح فرمائیں
14:54اللہ تعالی ہمیں جہنم سے
14:55معفوظ رکھیں
14:57تو یہ قیامت کے احوال
14:58اور متقین اور منکرین کا انجام
15:00بھی سورہ مریم کے آخر میں بیان کیا گیا
15:03یہ سورہ مریم کا تعریف ہوا
15:04اب چلتے ہیں چند منتخب آیات کے متعلق کی طرف
15:07سب سے پہلے ہم نے جس آیت کا انتخاب کیا
15:10یہ سورہ مریم کی آیت نمبر ہے پچپن
15:12سورہ مریم آیت نمبر 55
15:14گھر والوں کو خیر کی تلقین
15:17یہاں اسماعیل علیہ السلام کا تذکرہ ہے
15:19وَكَانَ يَأْمُرُ أَحْلَهُ بِالصَّلَاتِ وَالزَّكَاتِ
15:22اور وہ یعنی اسماعیل علیہ السلام
15:24اپنے گھر والوں کو نماز اور زکاة
15:26کا حکم دیتے تھے
15:27وَكَانَ عِنْدَ رَبِّهِ مَرْدِيَّ
15:30اور وہ اپنے رب کے نزیق بڑے ہی پسندیدہ
15:33کون اسماعیل علیہ السلام
15:34پس منظر یہ بھی ہے
15:36کہ مشیقین مکہ میں بگاڑ پیدا ہو گیا تھا
15:39نماز کے معاملے میں بگاڑ پیدا ہو گیا تھا
15:41سورہ انفال میں ہم پڑھتے ہیں
15:43کہ ان کی نماز کیا رہ گئی تھی
15:44اللہ کے گھر کے پاس بیٹھ کر
15:46حلہ گلہ کرتے تھے
15:47سیٹیاں بجاتے تھے
15:48تالیاں پیٹتے تھے
15:49نماز کی بھی شکل بگاڑ دی تھی
15:51اور زکاة وہ ادا نہیں کرتے تھے
15:53تو ان کو یاد دیہانی کرائے جاری
15:55کہ جناب اسماعیل علیہ السلام کی تعلیم تو کیا تھی
15:57وہ اپنے گھر والوں کو
16:01نماز اور زکاة کا حکم دیتے
16:03اچھا آج ہمیں بھی تو تلقین ہے نا
16:05اکیلے اکیلے نمازی بن جانا کافی تھوڑی
16:08بڑے افسوس کی بات ہوتی ہے
16:09باپ مسجد جا رہا ہے بچے نہیں جا رہے
16:11مسجد کیوں بھائی
16:12باپ جا رہا ہے بیٹا ساتھ نہیں جا رہا
16:13کیوں نہیں جا رہا بھائی
16:14چھوٹے بچے کی بات نہیں کریں
16:15بھالک بچوں کی بات کر رہے ہیں
16:17اکیلے اکیلے کی نماز پسند
16:18اچھا نماز ادا کر دی
16:20زکاة میں لوگ ڈنڈی مارتے ہیں
16:21ٹیکس میں کم مار پاتے نہیں سی
16:23کہ ٹیکس آتھارنڈیس والے پکڑ لیتے ہیں
16:25زکاة میں ڈنڈیاں مارتے ہیں
16:26فصل پر عشر ادا کرنا ہوتا ہے
16:29جو لوگ ذراع سے مابستہ ہیں
16:30وہ ڈنڈیاں مارتے ہیں وہ عشر میں
16:31نہیں بھائی جس اللہ نے نماز کا حکم دیا
16:33اسی نے زکاة کا حکم دیا
16:46اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو
16:47جہنم کی آگ سے بچاؤ
16:49اپنے بھی فکر کرنی اور اپنے گھر والوں کی بھی فکر کرنی
16:52اگلی آیت سورہ مریم ہی کی آیت نمبر
16:5559
16:56نماز کا زیاء اور خواہشات کی پیروی
16:58یہ وہ لوگ ہیں جن کا انجام بہت برا ہونے والا ہے
17:01نماز کو زائے کرنے والے
17:02اور خواہشات کی پیروی کرنے والے
17:04بتایا جا رہا ہے سورہ مریم آیت نمبر 59 میں
17:08فَخَلَفَ مِن بَعْدِمْ خَلْفٌ
17:10پس ان کے بعد نا خلف قسم کے لوگ
17:13نا ہنجار قسم کے لوگ پیچھے آئے
17:15یعنی نیک لوگ گزر گئے
17:17ان کے بعد اگلی نسل میں برے لوگوں کا تذکرہ ہو رہا ہے
17:19کیا کیا انہوں نے
17:20اضاعوا الصلاة
17:21انہوں نے نماز کو زائے کیا
17:23وَتَّبَعُ الشَّهَوَاتِ
17:25اور اپنی خواہشات نفس کی انہوں نے پیروی کی
17:27فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيَّا
17:30پس ان کی گمراہی کی تباہی سامنے آ کر رہے گی انقریب
17:33یہ ہے جو امتوں میں جب بگاڑ پیدا ہوتا ہے
17:37سب سے پہلے نماز آیا ہوتی
17:39نماز میں کتائی شروع ہوتی
17:41اور اپنی خواہشات کی پیروی
17:43رب چاہی زندگی نہیں بسر ہوتی
17:45من چاہی زندگی بسر ہوتی ہے
17:47من یہ کر رہا ہے دل یہ کر رہا ہے
17:49میری مرضی میری مرضی
17:50آج بھی تمہارے چل رہے
17:51نمازوں کو زائے کرنے کا معاملہ بائیں ہاتھ کا کھیل ہو گئے
17:54جمعے کی دو رکعت ادا کر کے
17:56کچھ لوگ مطمئن ہیں وہ بھی بھاگ کر رہے دوڑ کے چلے گئے
17:59بھاگ کر رہے دوڑ کر چلے گئے
18:00کہ ہمارا اسلام تو پکا ہو گیا پورا ہو گیا
18:03اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا لِهِ وَرَاجِهُمْ
18:04پانچ وقت کی نماز اللہ تعالی نے فرض خرار دی
18:07مقرر اوقات میں
18:08قیامت کے دن پہلے سوال کس کے بارے میں ہوگا
18:10نماز کے بارے میں
18:11ایک اسکول میں پوچھا گیا
18:12ٹیشر نے پوچھا بچوں بتاؤ بیٹا
18:15کہ کون لوگ نماز ادا نہیں کرتے
18:16تو ایک بچی نے ہاتھ کھڑا کر کے پھر جواب دیا
18:18کہ سر جو لوگ مر جاتے وہ نماز ادا نہیں کرتے
18:21جو لوگ مر جاتے وہ نماز ادا نہیں کرتے
18:24اور جو کافر ہوتے وہ نماز ادا نہیں کرتے
18:26کافر ہو نماز ادا نہیں کرتا
18:28مر گیا ہو نماز ادا نہیں کرتا
18:31مسلمان ہو اور زندہ ہو
18:32کیسے ممکنے نماز چھوڑ دے
18:35کافر نماز ادا نہیں کرتا
18:36بچہ کہہ رہا ہے
18:37مر جائے ایک شخص وہ نماز ادا نہیں کرتا
18:40تو مسلمان ہو اور زندہ ہو
18:42اور بے نمازی ہو
18:43How is it possible
18:44یہاں بتایا جارہا ہے کہ
18:45نہ خلف نہ ہنجار قسم کے لئے
18:47جو امتیں بگاڑ کی طرف جاتی ہیں
18:49نماز سے پہلے ضائع ہوتی
18:50اور اللہ کی مرضی کے مقابلے میں
18:52اپنی مرضی کو ترجیح دیتے ہیں
18:54اللہ کی چاہت کے مقابلے میں
18:55اپنی چاہت پر عمل
18:56اللہ کے حکم کو توڑتے ہیں
18:57اپنی چاہتوں کو پورا کرنے کے لئے
18:59معاد اللہ فرمایا جارہا ہے
19:00ان کی گمراہی کی تباہی ان قریب
19:02ان کے سامنے آکا رہے گی
19:03اللہ ہمیں تمام نمازوں کی حفاظت کرنے
19:05مقرر وقت پر ادا کرنے کی توفیق عطا کرے
19:08اور اللہ ہمیں نفس کے خواہشات کی پیدوی سے روکے
19:10اور اللہ اپنی اور اپنے رسول علیہ السلام کی
19:13اطاعت کے ہم سب کو توفیق عطا فرمائے
19:15اگلی آئے جس کا ہم نے اندخاب کیا
19:17وہ سور مریم کے آیت نمبر ہے
19:1895 اشاد ہوا
19:21وَكُلُّهُمْ آتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَتِ فَرْدًا
19:24اور ان میں سے ہر ایک
19:25اکیلے اکیلے اللہ کے سامنے پیش ہوگا
19:27روز قیامت
19:28ہر شخص کی تنہا پیشی ہونی
19:31ہر ایک نے خود اپنے
19:32محاسبے کے لیے
19:34اکاؤنٹیبلیٹی کے لیے پریزنٹ ہونا ہے
19:36باپ روٹی کھائے تو بیٹے کا پیٹ نہیں بھرتا
19:39بیٹا کڑوی دوا پی لیں
19:40تو باپ بیمار اس کو شفانی ملتی
19:42ایسے ہی ہے نا
19:43ہر ایک نے اپنا جواب خود دینا ہے
19:45ہم تیار ہیں
19:46ہم مرنے کو تیار ہیں جی
19:49جو بھی آپ کے سامنے گھڑی پر اس وقت ٹائم ہو رہا ہے
19:51میں اور آپ مرنے کو تیار ہیں
19:53کتنی مطلب ہے یہ جملہ
19:54یہ سوال بڑا کڑوہ لگتا ہے نا
19:55آنکھیں نیچے جھگ جاتی
19:57کیوں ہم مرنے کو تیار نہیں
19:58تو ہمارے تیار نہ ہونے کی وجہ سے
20:01کیا موت رک جائے گی
20:02موتو آئے گی
20:03اپنے وقت پر آئے گی
20:16ہم خود کھاتے ہیں تو پیٹ بھرتا ہے
20:17ہم خود جواب دینا پڑے گا قیامت کے دن
20:19ہاں ہمارے گھر والے نیک ہو
20:20ہماری اولاد نیک ہو
20:21تو اس نیکی کا فائدہ ملے گا
20:23انشاءاللہ ہوتا
20:23لیکن جواب ہم نے خود دینا ہے
20:25خود جواب دینا ہے
20:26اپنی زندگی کے بارے میں
20:30اگر اللہ کو فیس کر سکیں گے ہم
20:32اور قیامت کے دن کے سوالات سے
20:34نماز کے سوال نہیں ہونا
20:35زندگی کہاں لگائی
20:36جوانی کہاں کھپائی
20:37مال کہاں سے کمایا
20:38مال کہاں خرچ کیا
20:40جو علم حاصل کیا
20:40اس پر کتنا عمل کی
20:41پانس سوالات ہیں جامعہ تقویزی کی حدیث میں
20:43بندے کے قدم اس کی جگہ سے ہٹ نہیں سکیں گے
20:46حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا
20:48بندے کے قدم اس کی جگہ سے ہٹ نہیں سکیں گے
20:50جب تک کہ وہ پانس سوالات کے جوابات نہ دے دیں
20:52زندگی جوانی
20:54کمائی خرچ
20:55اور جو علم حاصل کیا
20:56اس پر کتنا عمل کیا
20:57اللہ ہم سب کے حساب کو آسان فرمائے
20:59اور آج محلت عمل ہے
21:01موت کی آنے سے پہنے پہلے
21:02اللہ ہمیں کل کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے
21:04آخری ہے جس کا ہم نے انتخاب کیا
21:06سور مریم کے آیت نمت ستانوے
21:08سور مریم آیت نائنٹی سیون
21:09بتایا جا رہا ہے
21:10دعوت کا اہم ترین ذریعہ
21:12قرآن حکیم
21:13اشاد ہوا
21:14سور مریم آیت نائنٹی سیون میں
21:23پس اے نبی علیہ السلام
21:24ہم نے آپ کی زبان پر
21:25اس قرآن پاک کو آسان کیا
21:27قرآن حضور کے قلب اتھر پر نادل ہوا
21:29آپ کی زبان مبارک سے جاری ہوا
21:31اور آپ نے اس کی تشریح بھی
21:33امت کو عطا فرمائی
21:34اور قرآن پاک کی تشریح کے لئے
21:36اولاً قرآن اور اللہ کے رسول کی ذات کی طرف
21:38ہی رجوع کیا جائے گا
21:39تو ہم نے آپ کی زبان پر
21:41اللہ فرما رہا ہے
21:42کہ اس قرآن پاک کو آسان کیا
21:46تاکہ اس قرآن پاک کے ذریعے
21:47آپ متقین کو بشارت دیں
21:51اور جھگڑالو قسم کے لوگوں کو
21:53اس سے آپ خبردار کریں
21:54اس کے ذریعے انذار کریں
21:55بشارت خوشخبری سنانا
21:57اطاعت قبول کرنے والوں کو
21:58انذار ڈرانا وارن کرنا
22:00نافرمانی کرنے والوں کو
22:01یا حق کا انکار کرنے والوں کو
22:03تو یہ بشارت اور انذار
22:05یہ پیغمبروں کی بنیادی ذمہ داری ہیں
22:07اور یہ کام قرآن پاک کے ذریعے ہوگا
22:09بشارت قرآن سے دیجئے
22:11انذار قرآن سے کیجئے
22:12معلوم ہوا دعوت کا
22:13تبلیغ کا
22:14بشارت کا
22:15انذار کا
22:16تذکیر کا
22:17اہم ترین ذریعہ قرآن پاک
22:19جیسے اللہ نے پانچوں نمازوں میں
22:21قرآن فکس کر دیا
22:22لازم کر دیا
22:22اسی طرح جان لیجئے
22:24کہ دین کی دعوت و تبلیغ کا
22:26اولین
22:27اہم ترین ذریعہ
22:28خود قرآن کریم ہے
22:30بشارت بھی قرآن سے
22:31انذار بھی قرآن سے
22:32اس آیت سے ہمیں معلوم ہوا
22:33اب ہم دیکھیں
22:34ہماری دعوت
22:35ہماری تبلیغ
22:36ہماری گفتگو
22:36ہماری خطابت
22:37کوئی بھی ہو
22:38جو بھی کام کر رہا ہے
22:39دین کی دعوت کا
22:40کیا قرآن کو یہ
22:41احمیت ہم دیتے ہیں
22:42یہ ہمیں سوچنا چاہیے
22:43اللہ ہمیں عمل کی توفیق
22:44عطا فرمائے
22:46الحمدللہ
22:46سورہ
22:46کحف کے بعد
22:47سورہ مریم کی چند منتخب
22:49آیات کا مطالعہ
22:49ہم نے آپ کے سامنے رکھا
22:50کچھ حاصل کلام کے
22:52نکات آپ کے سامنے رکھتے ہیں
22:53ٹیک اوئی لیسنس کے طور پر
22:55حاصل کلام کے والے سے
22:56پہلی بات
22:57ظاہر کے پردے کے پیچھے
22:59اصل حقائق چھپے ہوتے ہیں
23:00ممکن ہے
23:01ایک بات ہمیں ناغوار
23:02محسوس ہو
23:03اور اس میں خیر پوشیدہ ہو
23:06کشتی توڑ دی تھی
23:07بچہ قتل کر دیا تھا
23:08بغیر عجرت دیوار درست کر دی تھی
23:09باتیں ہمارے سامنے
23:10کھل کر آگئیں
23:11سب سے بڑھ کر
23:12خسارے والے لوگ وہ ہیں
23:14جو دنیا ہی کی فکر میں
23:15لگے رہیں
23:15اور آخرت کو بھلا بیٹھیں
23:17ہمیں اپنے کھر والوں کو بھی
23:19نماز پڑھنے
23:19اور زکاة عدا کرنے کی
23:20تلقیم کرتے رہنا چاہیے
23:23نماز کو ضائع کرنا
23:24اور نفسانی خواہشات کی پیروی کرنا
23:26جہنم میں لے جانے والے
23:27برے عامالیں
23:28اللہ ہم سب کو جہنم کے عذاب سے
23:29معفوظ رکھے
23:30ہر شخص نے خود
23:32اپنی ذاتی حیثیت میں
23:33اللہ تعالیٰ کے سانے
23:34محاسبے کے لئے پیش ہونا ہے
23:35اپنی تیاری خود کرنی
23:37اللہ تعالیٰ نے
23:38قرآن حکیم کو
23:39نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
23:41کی زبان میں آسان فرما دیا ہے
23:42اس مقصد کے لئے ہمیں
23:44نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
23:46کے فرامین سے
23:47استفادہ کرنا چاہیے
23:48حضور کی آحادیث مبارکہ سے
23:50بھی استفادہ کرنا چاہیے
23:51تاکہ قرآن حکیم کی وزاد
23:53حضور کی زبان مبارک سے
23:54جو جاری ہوئی
23:55وہ بھی ہمارے سامنے آئے
23:57اور ہم اس کے مطابق
23:58عمل کر سکے
23:58اللہ مجھے اور آپ کو
23:59مصد کو عمل کی توفیق عطا فرمائے
24:01نازل کرنا ہم ایک وقفہ لیتے ہیں
24:02اس کے بعد انشاءاللہ تعالی
24:03خلاصہ مزامین قرآن حکیم کا
24:05سسلہ بیان کے اعتبار سے
24:07جاری رہے گا
24:07السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
24:10السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
24:13نازل کرنا ہم خوش آمدید کہتے ہیں
24:14آپ کو اللہ تعالی کی توفیق سے
24:16خلاصہ مزامین قرآن حکیم کا
24:18سسلہ جاری ہیں
24:19اب ہم قرآن پاک کے
24:20سولوے پارے کی اگلی آیات
24:22جو ہیں وہ آپ کے سامنے رکھیں گے
24:24اور سورہ تاہہ کا اب آغاز ہوتا ہے
24:26قرآن پاک کے سولوے پارے میں
24:28سورہ تاہہ کی آیات
24:29ایک تا ایک سو پینتیس
24:31یہ مکمل سورت
24:32سولوے پارے میں ہمارے سامنے آتی ہیں
24:34اور سب سے پہلے
24:35سورہ تاہہ کے تعارف کے حوالے سے
24:37چند باتیں آپ کے سامنے رکھتے ہیں
24:39اور پھر منتخب آیات کا مطالعہ
24:40کے خدمت میں ہمیشہ کی طرح پیش کریں گے
24:42سورہ تاہہ کے تعارف کے حوالے سے
24:45پہلی بات
24:46سورہ تاہہ ابتدائی مکی دور میں
24:49ہجرت حبشہ سے پہلے نازل ہوئی
24:51حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا قصہ
24:54تین ادوار کی صورت میں بیان کیا گیا ہے
24:57اچھا ایک اہم بات کیا ہے
24:58کہ قرآن کریم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
25:02کے ذکر کے بعد
25:03سب سے تفصیلی تذکرہ موسیٰ علیہ السلام کا
25:05تو اس کی بڑی وجہ کیا ہے
25:07آج ہم یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
25:10کے ماننے والے امت مسلمہ ہیں
25:11ہم سے پہلے بنی اسرائیل امت مسلمہ
25:14اور بنی اسرائیل امت قرار دیئے گئے تھے
25:17جب موسیٰ علیہ السلام کا دور تھا
25:18تو ان کا تذکرہ بڑی کسرت سے
25:21قرآن پاک میں آیا
25:22ہماری سبق آموزی کے لئے
25:24چنانچہ یہاں سورہ طہا میں
25:26ایک تفصیل ہے موسیٰ علیہ السلام کے قصے کی
25:29اور ان کا قصہ تین ادوار کی صورت میں
25:31بیان کیا گیا
25:32وہ تین ادوار کون سے ہیں
25:33پہلا دور
25:34حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائی سے
25:36مدین حجرت فرمانے تک کا دور
25:38مشہور واقع شخص کا قتل ہو گیا
25:40تک مکہ لگ گیا تھا
25:41تو موسیٰ علیہ السلام
25:42مدین حجرت فرما گئے تھے
25:44نمبر دو
25:45مدین سے سہرائے سینہ کی طرف حجرت کا دور
25:48مدین سے سہرائے سینہ کی طرف
25:51ان کا آنا
25:51سہرائے سینہ سے حجرت کے بعد سے
25:54وسال تک کا دور
25:55یعنی
25:55فیرون اور آل فیرون سے نجات مل گئی
25:58تھے پھر حجرت کی تھی
25:59موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے ساتھ
26:01وہاں سے لے کے
26:01وسال تک کا دور
26:03بہرحال
26:03تفصیل کا زیادہ موقع نہیں
26:04یہ تین ادوار کے حوالے سے
26:07تفصیل سے
26:08سورة طاہہ میں
26:09موسیٰ علیہ السلام کا قصہ
26:11ہمارے سامنے آتا ہے
26:12اس کے علاوہ
26:13ایمانیات سلاسہ
26:14یعنی توہین
26:15رسالت اور آخرت کا بیان
26:17جو کہ مستقل موضوعات ہیں
26:18مکی صورتوں کے
26:19البتہ ایک ایک
26:20قیمتی نکتہ
26:21ان موضوعات کے حوالے سے آئیے سمجھتے
26:23سورة طاہہ میں
26:24توہید کے حوالے سے
26:25اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرتوں
26:27اور صفات کا بیان ہے
26:29رسالت کے حوالے سے
26:30حضرت آدم علیہ السلام کے واقعے کو
26:32مختصراً بیان کیا گیا ہے
26:34اور آخرت کے حوالے سے
26:35مجرموں کو
26:36بلے انجام سے
26:37ڈرائیا گیا ہے
26:38تو توہید
26:39رسالت اور آخرت کے حوالے سے
26:41یہ اہم باتیں ہیں
26:42جو سورة طاہہ میں
26:43ہمارے سامنے آتی ہیں
26:44یہ ہوا تعارف کا بیان
26:46مختصر تعارف کا بیان
26:47سورة طاہہ کے تعلق سے
26:49اب آئیے سورة طاہہ کی
26:50چند منتخب آیات کا مطالعہ
26:52آپ کے سامنے رکھتے ہیں
26:54سب سے پہلے
26:54جس آیت کا ہم نے انتخاب کیا
26:56وہ سورة طاہہ کی آیت نمبر ہے چودہ
26:59سورة طاہہ آیت نمبر چودہ میں
27:01نماز و یادِ الہی کا ذکر بھی ہے
27:09ترجمہ کے ساتھ
27:10پھر اس انا پر بھی
27:11تھوڑی سی بات کریں گے
27:12سورة طاہہ کی آیت نمبر چودہ میں
27:14اللہ تعالی نے فرمایا
27:15اِنَّنِي أَنَ اللَّهُ
27:17بے شک میں
27:18میں اللہ ہوں
27:20لا الہ الا انا
27:22میرے سوا کوئی معبود نہیں
27:25فاعبودنی
27:25پس میری عبادت کرو
27:27وَاقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِ
27:29اور نماز قائم کرو
27:31میری یاد کے لئے
27:33آپ نے دیکھا میں نے ہاتھ کا اشارہ کیا
27:34پانچ مرتبہ اللہ نے
27:36اپنی انا میں کا ذکر کیا
27:39دوبارہ شمار کر لیجئے
27:41اِنَّنِي بے شک میں
27:42اَنَ اللَّهُ
27:43میں اللہ ہوں
27:43لا الہ الا انا
27:45میرے سوا کوئی معبود نہیں
27:47فاعبودنی
27:47میری عبادت کرنا
27:49وَاقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِ
27:50اور نماز قائم کرنا میری یاد کے لئے
27:53بقول اقبال
27:54دی بگ آئی ایم آف اللہ
27:57کا یہاں پر ذکر ہے
27:58انسان بھی تو کرتے ہیں
27:59میں میں
27:59اسی میں کا تو مسئلہ ہے
28:01اچھا ویسے جو بکری زیادہ
28:02میں میں کرتے ہیں
28:03اس بکری کو زبا کر دیتے ہیں
28:05اللہ اکبر قبیرہ
28:06تو انسان کی انا ہی
28:08کو تو فنا کرنا ہے
28:09اس نے
28:10قبید و جنت میں لے گی
28:11لیکن یہاں
28:12اللہ کی انا کا ذکر ہے
28:14the big
28:15آئی ایم آف اللہ
28:17پانچ مرتبہ
28:18اس کا ذکر آئے
28:19ایک بات
28:20اور دوسری بات
28:21اَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِ
28:22نماز قائم کرو
28:23میری یاد کے لئے
28:24اللہ تعالی کی یاد کا
28:26ایک اہم ترین
28:28مؤثر ترین
28:29ذریعہ
28:30وہ نماز ہے
28:31ہاں نماز میں
28:32کھڑے ہو کر بھی ذکر ہے
28:33رکو میں بھی ذکر ہے
28:34سجدے میں بھی ذکر ہے
28:35تلاوتِ قرآنِ پاک بھی ہے
28:37ہاں
28:37استغفار کے کلمات بھی ہیں
28:39دعا کے کلمات بھی ہیں
28:40اور اللہ تعالی کی تصمیح بھی ہے
28:42اللہ تعالی کی حمد بھی ہے
28:44اللہ تعالی کی تحمید بھی ہے
28:45اللہ تعالی کی تکمیر بھی ہے
28:47دروش شریف کا اعتمام بھی ہے
28:48کتنے پیرائیوں میں
28:50نماز میں ذکر ہوتا ہے
28:51اس سینے نماز کو
28:53ذکر کا ایک جامع ترین ذریعہ بھی
28:55کہا جاتا ہے البتہ
28:57چند گھنٹوں کے بعد نماز کی
28:59فرضیت ہے ہر چند گھنٹوں کے بعد
29:01بھول جاتا ہے انسان تو نماز
29:03یاد دلا دیتی ہے سرکشی نے
29:05کر دیئے دھندلے نقوش
29:07بندگی سرکشی
29:09نے کر دیئے دھندلے نقوش
29:11بندگی آؤ سجدے میں گریں
29:13لوہے جبی تازہ کریں
29:15تو ہر چند گھنٹوں بعد نماز ہمیں کھیچ
29:17لاتی اللہ کے سامنے کھڑا کر دیتی ہے گویا
29:19اور اللہ کی یاد الحمدللہ
29:22رب العالمین آخرت کی یاد
29:23مالک یوم الدین ایا کن عبدو
29:26فرض یاد آتا ہے و ایا کن
29:27سین محتاجی یاد آتی ہے اید نصرات
29:30المستقیم ہمیں ہماری
29:31حاجت اور ضرورت یاد آتی ہے
29:33یہ ہے نماز اللہ تعالی کی یاد
29:35کا بہت بڑا ذریعہ تو نماز
29:37کے بہت سارے فوائد
29:39اور مقاصد اور حاصل
29:41ہونے والی باتوں میں ایک بڑا
29:43حاصل کیا ہے اللہ تعالی کی یاد
29:45اگلا مقام جس کا ہم نے انتخاب
29:48کیا بہت مشہور دعائیں ہیں
29:49سورہ طاہہ کی آیات پچیستہ
29:51انتیس اور یہ دعائیں ہیں حضرت
29:53موسیٰ علیہ السلام کی بہت امدہ دعائیں
29:55قالا انہوں نے عرض کی موسیٰ علیہ السلام
29:58نے رب شرح لی صدری
30:00اے میرے رب میرے
30:01سینے کو کھول دے مارفت اتا فرما دے
30:04حکمت اتا فرما دے
30:05نور اتا کر دے یہ شرح
30:07اس صدر میں بہت ساری باتیں آتی ہیں
30:09رب شرح لی صدری
30:11اے میرے رب میرے سینے کو میرے لی کھول دے
30:13ویسر لی امری
30:15اور میرے کام میں میرے لی آسانی
30:17پیدا فرما دے
30:18کون سے کام میں
30:19فیرون کے پاس بھیجا جا رہا ہے
30:21فیرون کے سامنے دعوت رکھنی ہے
30:22وہ وقعہ باشا بھی تھا
30:24خدای کا دعوت دار بھی تھا
30:25اس کے محلات میں جا کر اس کو دعوت دینی ہے
30:28تو بڑی پیاری دعائیں
30:29ویسر لی امری
30:30اور میرے کام میں میرے لی آسانی فرما دے
30:33وَحْلُ الْعُقْدَتَمْ مِنْ لِسَانِي
30:36اور میری زبان کی گرہ کو کھول دے
30:38بات کرنا آسان ہو جائے
30:39دعوت پریزنٹ کرنا آسان ہو جائے
30:41کوئی مرعوبیت وہاں محلات کو دیکھ کر تاری نہ ہو جائے
30:43اور ڈٹ کر کھل کر جم کر
30:45اے اللہ میں تیری بات کو
30:47تیری حق کی دعوت کو پیش کر دوں
30:48وَحْلُ الْعُقْدَتَمْ مِنْ لِسَانِي
30:51اور میری زبان کی گرہ کو کھول دے
30:53یفقہ ہو قولی
30:54تاکہ وہ میری بات کو سمجھ لیں
30:56حق قبول کر لیں گے
30:57انہی کا فائدہ ہوگا
30:58وَجْعَلْ لِي وَزِيرًا مِنْ اَحْلِي
31:00اور میرے اہل میرے گھر والوں میں سے
31:02میرا وزیرینی معاون مقرر کر دیں
31:05پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے التجاہ پر
31:07حارون علیہ السلام کو
31:09من نبوہ سے سرفراز فرمایا
31:11اور آپ اور ہم جانتے کہ حارون علیہ السلام
31:13بھائی ہیں کس کے
31:14حضرت موسیٰ علیہ السلام کے
31:15پھر دونوں بھائیوں نے مل کر
31:17اللہ کے دین کے خدمت کی اور محنت کی ہے
31:19سبحان اللہ
31:19تو بہت پیاری دعاوں کا ذکر ہے
31:21کہ اے میرے میرے میرے سینے کو کھول دیں
31:23میرے کام میں میرے لہ آسانی فرما دیں
31:25میری زبان کے گرہ کو کھول دیں
31:27تاکہ وہ میری بات کو سمجھ لیں
31:28اور میرے اہل میرے گھر والوں میں سے
31:30میرا معاون مقرر فرما دیں
31:32ہمارے ہاں جو مدارس کے طلبہ ہوتے ہیں
31:35جو حفظ قرآن کر رہے ہیں
31:36ان کو بھی اور جو دیگر تعلیم دین کے حاصل کرتے ہیں
31:39یہ دعائیں سکھائی جاتی ہیں
31:40اسی طرح جو لوگ تدریس کا کام کرتے ہیں
31:42خطابت کا کام کرتے ہیں
31:43دعوت کا کام کرتے ہیں
31:45تبلیغ کا کام کرتے ہیں
31:46ان کے لئے بھی دعائیں بہت زیادہ قیمتی ہیں
31:48بس یاد رہے دعائیں پڑھنی نہیں چاہیے
31:51جی جی دعا پڑھنی نہیں چاہیے
31:53دعا مانگنی چاہیے
31:55مانگیں گے کب
31:55جب یقین کے ساتھ مانگیں گے
31:57نمبر دو پتا ہوگے کیا الفاظ ادا کر رہے ہیں
31:59تو عربی کے الفاظ ہم تلاوت تو کرتے ہیں
32:02یا پڑھ تو لیتے ہیں
32:03لیکن سمجھ نہیں آتی عام طور پر
32:05تو ترجمہ ذہن میں ہوگا
32:06پھر عربی سیکھیں
32:07تو کیا ہی اچھی بات ہو
32:08ترجمہ جب ذہن میں ہوگا
32:10انشاءاللہ تعالی
32:11تو پھر دل سے ہم دعائیں کریں گے
32:13تب ہم دعائیں مانگیں گے
32:15عام طور پر دعائیں پڑھی جا رہی ہوتی ہیں
32:17دعا پڑھنی والی بات نہیں ہے
32:19مانگنے والی بات ہے
32:20اس کے بعد اگلی جن آیات کا ہم نے انتخاب کیا ہے
32:23وہ سورة طاہہ کی آیاتیں
32:25ستر تا تہتر
32:26جیسے کہ شروع میں ذکر ہوا تھا
32:27تعارف کیسے علمے
32:28کہ موسیٰ علیہ السلام کا قصہ تفسیر سے بیان ہوا
32:31اسی قصہ کے دوران میں
32:32جادوگر اسے مقابلہ
32:34جو مشہور واقع ہمارے اور آپ کے علمے ہیں
32:35یقیناً
32:36وہ مقابلہ بھی ہو گیا
32:37اور جادوگر ایمان لے آئے
32:39جادوگر کو پتا تھا
32:40کہ وہ تو جادو پیش کر رہے تھے
32:41موسیٰ علیہ السلام نے جو کچھ پیش کیا
32:43وہ جادو نہیں تھا
32:44وہ تو موزہ تھا
32:45اور حقیقت ان کے سامنے کھل گئی
32:47اور وہ موسیٰ علیہ السلام
32:48اور حرور علیہ السلام کی دعوت قبول کر کے
32:50اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے
32:52جب ایمان کا اعلان انہوں نے کیا
32:54تو فیرون کی تو سٹی گم ہو گئی
32:56فیرون کے دن میں تارے نظر آ گئے
32:57وہ پھر تشدد پر اتر آیا
32:59دھمکیاں دینے لگا
33:00قتل کر دوں گا میں تمہیں
33:02یہی ذاتی وہ جابروں کا رویہ ہوتا ہے
33:03کہ دلیل کی جواب میں دلیل تو ہوتی نہیں
33:05تو وہ ظلم اور زیادتی اور دھونس
33:07دھمکی اور بدماشی پر اتر آتے ہیں
33:09تو یہاں تشدد ورسز ایمان
33:11تشدد کے مقابلے میں ایمان کا معاملہ
33:13اور جادوگر جو ایمان لے
33:15ان کی استقامت کا تذکرہ آ رہا ہے
33:17آئیے سورة طاہہ کی ان آیات کا مطالعہ کرتے ہیں
33:20سورة طاہہ آیت نبس ستر سے
33:23فَأُلْقِيَ السَّاحَرَةُ سُجَّدًا
33:24پس جادوگر سجدے میں چلے گئے
33:27قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ حَارُونَ وَمُوسَى
33:30انہوں نے کہا کہ ہم ایمان لائیں
33:32حارون اور موسیٰ کے رب پر
33:33اب تک تو یہ کس کو مانے بیٹھے تھے
33:35فیرون کو
33:36اس سے توقع بھی رکھتے تھے کہ مال ملے گا
33:38مقابلہ کرنے آیت فیرون کے کہنے پر
33:41حضرت موسیٰ علیہ السلام کا
33:42لیکن جب حقیقت کھل کر سامنے آگئی
33:44انسان کی فطرت میں
33:46اللہ کا تعارف تو موجود ہے
33:48غفلت ہو جاتی
33:49اور حقائق سامنے آگئے
33:52غفلت دور ہوئی
33:53اندر کا دورمنٹ جو ایمان
33:55اللہ کی ذات کا تعروف
33:56ایکٹیویٹ ہو گیا
33:58ایمان لے آئے
33:59اور کھلے الفاظ میں اعلان کر رہے ہیں
34:02یہ توجہ کیجئے گا
34:03کیا استقامت ان کے اندر
34:04کیا جرت ایمان ہی آگئے ان کے اندر
34:05ابھی حقیقت دیکھیں ایمان لے
34:07سبحان اللہ
34:10کہنے لگے ہم ایمان لے
34:12حارون موسیٰ کے رب پر
34:14علیہ السلام
34:18فرعون نے کہا
34:19کہ تم اس پر ایمان لے آئے
34:21اس سے پہلے کہ میں تمہیں اجازت دیتا
34:24باشا تو میں ہوں
34:25تم اپنی مرضی کیسے چلا رہے ہو
34:27یہ خدای کا دعویدار بنا بیٹا تھا
34:28کہنے لگا
34:32بے شک یہ تمہارا بڑا ہے
34:34جس سے تمہیں جادو سکھایا
34:36معاذ اللہ سمہ معاذ اللہ
34:37یہ ہے
34:38چالا قسم کے لوگ ہوتے نا
34:39ایار قسم کے لوگ ہوتے ہیں
34:41پینتیرہ بدلہ فوراں اس نے
34:42اچھا اچھا اچھا
34:43یہ ساری تم لوگوں کی پلاننگ تھی
34:44یہ تم نے ڈراما رچایا
34:46تاکہ تم میری سلطنت کو تباہ کرنا چاہتے ہو
34:48میری ذلت کا باعث بننا چاہتے ہو
34:50مجھے ذریل کرنا چاہتے ہو
34:51اب وہ دھمکی پر اتر آیا
34:52دلیل تو ہے نہیں
34:53حالکہ اس نے جادوگروں کو
34:55خود مقابلے کے لئے پیش کیا
34:56وہ کہتے ہیں جن پر تکیہ کیا
34:58وہ ہوا دینے لگے
34:59سبحان اللہ
35:00اب تو جادوگر نہیں مال لیا
35:01اس کی تو سٹی گھوم ہو گئی
35:02اس کی تو تضلیل کی انتہا ہو گئی
35:04اب وہ تشدد پر اتر آیا
35:05یہ ہے ظالم و جابروں کا طرز عمل
35:07کہ دلیل کے مقابلے میں دلیل نہیں ہوتی
35:10تو وہ ظلم
35:11جبر
35:11دھوز
35:12دھمکی تشدد اور
35:13بدماشی پر اتر آتے ہیں
35:14کہنے لگا
35:15فَلَوْ قَطْتِ عَنَّ عَيْدِيَكُمْ أَرُجُلَكُمْ مِنْ خِلَافٍ
35:18پس میں ضرور تمہارے ہاتھ اور پیر
35:21مخالف سن سے کار دوں گا
35:23وَلَوْ سَلِّبَنْ لَكُمْ فِي جُذُوعِ النَّقْلِ
35:26اور خجور کے تنوبر میں
35:27تمہیں ضرور سودی دے دوں گا
35:29وَلَتَعْلَمُنَ أَيُّنَ أَشْدُ عَذَابٌ وَأَبْقَى
35:32اور تم خوب اچھی طرح جان لوگے
35:34ہمیں سے کون سخت سزا دینے والا
35:36اور ہمیشہ رہنے والا ہے
35:37ہم سزا دینے کا اختیار رکھتے ہیں
35:39اور ہمیشہ کیلئے ہماری بادشاہ چلتی رہے گی
35:41یہ ہے خدائی کا دعویٰ
35:43اس کا معادل اللہ فیرون کا
35:44اور خنلاز جو اس کے دماغ میں تھا
35:46اب ان جادوگروں نے کیا جواب دیا
35:49مزید آیات ہیں
35:50قَالُ لَن نُؤْثِرَكَ عَلَى مَا جَاءَنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ
35:54ان لوگوں نے کہا جادوگروں نے
35:56ہرگز ہم تجھے ترجی نہیں دیں گے
35:59ان واضح نشانیوں پر جو کہ آگئی ہمارے پاس
36:02وَالَّذِي فَطَارَنَا
36:04اور نہ اس اللہ پر ہم تجھے ترجی دیں گے
36:07جس نے ہمیں پیدا فرمایا
36:08سبحان اللہ
36:09توحید کا اعلان ہو رہا ہے
36:11اور استقامت کا مظاہرہ ہو رہا ہے
36:13اور فرعون کی دھمکیوں کے سامنے
36:15وہ ڈٹ کر کہہ رہے ہیں
36:17ہم تجھے کوئی ترجی نہیں دیں گے
36:18ان ہدایت کی باتوں کے مقابلے میں
36:20جو ہمارے پاس آگئیں
36:21اور اللہ سبحان و تعالیٰ کے مقابلے میں
36:24فَقُدِ مَا أَمْتَقَوْد
36:26تُو نے جو فیصلہ کرنا ہے
36:27تُو کر لے
36:28کیا ہوگا زیادہ سے زیادہ
36:29اِنَّمَا تَقُدِي هَذِي الْحَيَاةَ الدُّنْيَا
36:33بے شک تُو فقط دنیا ہی کی زندگی میں
36:35کوئی فیصلہ کر سکتا ہے
36:36کر لے جو تُو نے کرنا ہے
36:37اصل تو آخرت کا معاملہ ہے
36:39اِنَّا آمَنَّا بِرَبِّنَا
36:41بے شک ہم اپنے رب پر ایمان لے آئے
36:43لِيَاغْفِرَ لَنَا خَطَایَانَا
36:45کہ وہ ہمیں ہماری خطاؤں کو معاف کر دے
36:48وَمَا أَكْرَحْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ السَّحِرِ
36:50اور جو تُو نے ہم پر زور ڈال کر
36:53ہمیں جادو کرنے پر آمادہ کیا
36:56ہم توقع رکھتے ہیں
36:57کہ اللہ ہمارے ایمان لانے کی بدورت
36:59معاف کر دے گا ہمیں
37:00وَاللَّهُ خَيْرُ وَابَقَا
37:02اور اللہ بہتر ہے
37:03اور ہمیشہ رہنے والا ہے
37:05تو نہیں
37:05اللہ کی ذات ہمیشہ رہنے والی ہے
37:08غور کیجئے نازے کرام
37:10یہ جادو کر
37:11یہ مال بٹورنے کو آئے تھے
37:13فیرون کے کہنے پر
37:14موسیٰ علیہ السلام کو مقابلہ کرنے کو آئے تھے
37:17مگر ان کو پتا تھا کہ
37:23لیمٹیشنز کو جانتا ہے
37:24جو کچھ انہوں نے پیش کیا وہ جادو تھا
37:27جو موسیٰ علیہ السلام نے پیش کیا وہ موجزہ تھا
37:30حقیقت ان کے سامنے آگئے یہ ایمان لے آئے
37:32اور فیرون جیسے
37:33ظالم اور جابر کے دربار میں کھڑے ہو کر
37:36کہا اعلان کر رہے ہیں
37:36تیری کوئی حقات تیری کوئی حسین
37:38جو تُو نے کرنا ہے تُو کر لے
37:39تو دنیا کی زندگی میں کچھ کر سکے گا تو کر سکے گا
37:42ہم تو اللہ پر ایمان لے آئے
37:43اور ہمیں امید ہے کہ اللہ ہمیں بخش دے گا
37:45اور جو تُو نے ہمیں مجبور کیا
37:46اللہ تعالیٰ اس جادو کے معاملے کو بھی ہمیں بخش دے گا
37:49اور تُو نہیں اللہ بہتر ہے
37:51تُو نہیں اللہ ہمیشہ رہنے والا ہے
37:54یہ جادوگروں کے اس ایمان کی روش کو دیکھ کر
37:57تھوڑا ہم بھی اپنا جائزہ لیں
37:59ہم تو قرآن کے ماننے والے
38:01رسول اللہ علیہ السلام کے ماننے والے ہیں
38:04پیدائشی تو آپ نے مسلمان ہے
38:06ہمارے ایمان
38:08ہمارے ایمان میں
38:10مستقامت نظر آتی ہے
38:11اللہ پر تبقل نظر آتا ہے
38:13حق کا ساتھ دینے کے لئے کھڑا ہونا
38:15باطل کے مقابلے میں کھڑا ہونا
38:16یہ ہمیں اپنے بارے میں سوچنا چاہیے
38:18اس کا جواب تلاش کرنا چاہیے
38:20آگے بڑھتے ہیں
38:21اگلی آیات جن کا انتخاب کیا گیا
38:24سورہ پاہا کی آیات پچھتر اور چھے اتر
38:27بڑا پیارا مقام بتایا جارہا ہے
38:29جنت کس کے لئے
38:30اللہ تعالی ہم سب کو جنت الفردوس عطا فرمائے
38:32کن کو ملے گی بتایا جا رہا ہے
38:35وَمَنْ يَأْتِهِ مُؤْمِنًا
38:36اور جو کوئی ایمان کی حالت میں آئے
38:39قَدْ عَمِلَ الصَّالِحَاتِ
38:41پس اس نے نیک عامال بھی کیے ہوں
38:43ایمان کے ساتھ نیک عامال کا تقادہ بھی کیا جا رہا ہے
38:46فَأُولَائِكَ لَهُمُ الدَّرَجَاتُ الْعُلَى
38:48پس یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے بلند درجات ہیں
38:51جنت عدنن
38:53ہمیشہ کے باغات
38:55یعنی ہمیشہ رہنے والے باغات
38:56ریزیڈنشل گارڈنس انہیں کہا جائے گا
38:59تجریم امتحتی الانحاج
39:01جن کے نیچے سے نہرے جاری ہیں
39:02خَالِدِينَ فِيهَا
39:04ان میں ہمیشہ رہیں گے
39:05وَذَلِكَ جَزَاءُ مَا تَزَكَّا
39:09اور یہ ہے بدلہ
39:10اس کا جس نے تذکیہ کر لیا
39:12ایمان کے بغیر نجات نہیں
39:15ایمان کے ساتھ نیک عامال کا تقاضہ
39:17اور نیک عامال میں بڑی بات تذکیہ
39:19تذکیہ کرنے والوں کے لیے
39:21جنت کا وعدہ ہے
39:22تذکیہ کیا ہے
39:23جیسے عربی میں سمجھایا جاتا ہے
39:26پودے کا تذکیہ
39:27پودے کا تذکیہ کیا ہے
39:28پودے کو کھاد چاہیے
39:30مٹی چاہیے
39:30پانی چاہیے
39:31دھوپ چاہیے
39:32سب دو
39:32لیکن پودے کے اندر جو اس کی نشو نمہ ہیں
39:35اس میں کبھی کانٹے نکل آتے ہیں
39:37جھاڑییں نکل آتے ہیں
39:38پیلے پتے
39:39ان کو ہٹانا پڑتا ہے
39:40یہ ہے پودے کا تذکیہ
39:42درخت کا تذکیہ
39:44جو شئے اس کی بڑوتنی اور نشو نمہ کے لیے
39:47ضرور یہ پروائیڈ کرنا
39:48فرام کرنا
39:49اور جو اس کی نشو نمہ میں رکاوٹ
39:51اس کو دور کرنا
39:51ہمارا تذکیہ کیا ہوگا
39:53اللہ کی محبوبیت ملے گی
39:55اللہ کی محبت ملے گی
39:57اللہ کا قرب ملے گا
39:58نیک عمال سے
39:59اور اللہ کی محبت میں کیا شئے رکاوٹ
40:01اللہ کے قرب میں کیا شئے رکاوٹ
40:03گناہ
40:09تو نیک عمل ایمان کے ساتھ
40:11اور تذکیہ ان لوگوں کے لیے جنت ہے
40:13اللہ ہمیں ایمان کی عبیاری
40:15نیک عمال کی توفیق
40:16اور تذکیہ نفس کے عمل کی توفیق
40:18عطا فرمائے
40:19اور ہمیں جنت الفردوس میں جمع فرمائے
40:22اس کے بعد اگلی ایک اور آیت ہے
40:24بڑا پیارا مقام
40:25سورة طاہا کی آیت نمبر 82
40:28توبہ کی قبولیت کی شرائط کا ذکر ہے
40:31توبہ ہم سب کرتے ہیں نا
40:32لیکن ہم کہتے ہیں توبہ توبہ دا
40:35یہ الفاظ بھی ادا کرنے ہیں
40:40مگر توبہ صرف توبہ توبہ
40:42کہنے کا نام نہیں کرنے کا نام ہے
40:44یہاں بتایا جا رہا ہے
40:45کہ اللہ کی بخشش کن کے لیے
40:47اللہ کی مفرد کن کے لیے ہے
40:49سورة طاہا آیت نمبر 82
40:52وَإِنِّي لَغَفَّارٌ
40:53اللہ فرما رہا ہے
40:54بے شک میں بہت بخشنے والا ہوں
40:56کنے لمن تابہ وہ جس نے توبہ کی
40:59وَآمَنَا اور وہ ایمان لائیا
41:01وَعَمِلَ صَالِحًا
41:02اور اس نے عمل کیا نیک
41:04ثُم مَحْتَدَا
41:05پھر وہ ہدایت کی رویش پر
41:06گامزن رہا
41:08چار باتیں
41:09توبہ کریں
41:10ایمان لائے
41:10نیک عمل کریں
41:11ہدایت کی رویش پر گامزن رہیں
41:13کافر ہے تو اسلام قبول کرنا ہے
41:15یہ اس کا ایمان لانا ہوگا
41:16مسلمان نے پہلے سے گناہ کر بیٹھا تھا
41:19تو گناہ چھوڑ کر
41:19رجوع اللہ کی طرف کرنا پڑے گا
41:22تاکہ سچا ایمان ملے
41:23اور سچا ایمان قرآن پاک سے ملتا ہے
41:25سنانفال کے ایمان دو میں بھی ہم نے پڑھا
41:27بارال کافر ہے تو اسلام میں داخل ہو
41:30پہلے مسلمان ہیں
41:31پہلے سے گناہ کر بیٹھا ہے
41:32تو رجوع کرنا پڑے گا
41:33جھکنا پڑے گا اللہ کے سامنے
41:35اور سچے ایمان کی حصول کی کوشش کرنا ہوگی
41:37اچھا کلمہ پڑھنا یہ ایمان کا حصول کافی نہیں
41:40وَعَمِنَا صَالِحَا
41:41اور عمل بھی کرے نیک
41:43بہت اہم بات ہے
41:44فرائض و واجبات پر عمل کرنا
41:47یہ نیک عمل ہے
41:48حرام سے بچنا بھی نیک عمل ہے
41:50جی جی
41:50حرام سے بچنا بھی ثواب کا کام ہے
41:54حدیث مبارک جامع ترمیزی میں
41:56رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارت فرمایا
41:59جو شخص اللہ کی حرام کردہ باتوں سے بچتا ہے
42:02وہ اسی شخص کا مقام حاصل کر پاتا ہے
42:05یا کر لیتا ہے
42:06کہ جو رات کو ہمیشہ نوافل ادا کرتا ہو
42:09دن میں ہمیشہ روزے رکھتا ہو
42:10اب رات کے نوافل تحجد اور دن کا روزہ کس خدر بڑی نیکی ہے
42:15مگر وہ شخص جو اللہ کی حرام کردہ باتوں سے بچتا ہو
42:18وہ اس شخص کا مقام پا لیتا ہے
42:20جو رات کو نوافل ادا کرتا ہے
42:22اور دن میں ہمیشہ روزے رکھتا ہے
42:23تو توبہ کیا ہے
42:25گناہوں کو چھوڑ کر
42:26اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف آ جانا
42:29تو عمل اس والے کیا ہے
42:30فرائض و واجبات پر عمل کرنا
42:32حرام سے اپنے آپ کو بچانا
42:33اور آخری بات
42:34ثم مہتدہ
42:35پھر وہ اس ہدایت کے رخ پر گامزن بھی رہے
42:39یہ نہیں کہ ماہ رمضان میں کبھی توبہ کر لی
42:41اور حج کے موقع پر
42:42عمرے کے موقع پر توبہ کر لی
42:43اس کے بعد پھر وہی گناہوں کا سسلہ شروع
42:45پھر وہی نافرمانی کے رویش
42:47پھر وہی زکاة میں ڈنڈی
42:48پھر وہی نمازوں میں ڈنڈی
42:49پھر وہی زبان کی بدکلامی
42:51نہ نہ نہ نہ نہ
42:52سمہ تدہ
42:53ہدایت کے راہ پر وہ گامزن ہوتا چلا جائے
42:56کبھی غلطی ہو جائے
42:57یہ توبہ کر لیں گے
42:58رخ زندگی تو سیدھا ہو جائے
43:00لگے کہ ہاں یہ اللہ کا بندہ ہے
43:01سبحان اللہ
43:02حدیث مبارک میں آتا ہے
43:03جامعہ تلمسی کی روایت
43:04رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
43:07نے اشارت فرمایا
43:07کہ مومن وہ ہے جسے دیکھ کر
43:10اللہ یاد آئے
43:11مومن وہ ہے جسے دیکھ کر
43:13اللہ یاد آئے
43:15اچھا بھئی ہمیں دیکھ کر
43:16لوگوں کو اللہ یاد آتا ہے
43:18ہماری گفتگو کردار
43:20روی معاملات لیندین
43:21شبروس
43:23باقی مجھے میرا پتہ ہے
43:24آپ کو آپ کا پتہ ہے
43:25اور ہم سب کے بارے میں
43:26سب سے زیادہ اللہ کو پتہ ہے
43:28تو اس سے مانگنا چاہیے
43:29کیا
43:30اللہ توبہ کی توفیق دے دے
43:31سچی توبہ کی توفیق دے دے
43:33ایمان کی آبیاری عطا کر دے
43:35نیک عمال میں آگے بڑھا دے
43:36بڑھا دے
43:37ہدایت پر مستقل آگے
43:38اللہ تعالیٰ بڑھنے کی توفیق عطا فرما دے
43:40تو یہ سورہ توہا کی آیت 82 میں
43:42قبولیت توبہ کی شرائط کا ذکر آئے
43:45اس کے بعد
43:46اگلی آیت جن کا منہ انتخاب کیا ہے
43:48یہ سورہ توہا کی آیت ہیں
43:49124 تھا 126
43:51اور یہ آخری آیت ہیں
43:52آج کی اس نشست کی
43:53جن کا منہ انتخاب کیا
43:55قرآن سے اعراض کی سزا
43:57اللہ کے کلام کو
43:58قرآن پاک کو فراموش کرنے والے
44:00کیا ان کا حشر ہوگا
44:01یہ بتایا جارہا ہے
44:02بڑی سخت بات آ رہی ہے
44:03سورہ توہا کی آیت
44:05124-125-126
44:08وَمَنْ أَعْرَدْ عَمْ ذِكْرِينَ
44:09اور جس نے میرے ذکر سے اعراض کیا
44:12اس سے پچھلی آیت میں
44:13اللہ کی وحی کا ذکر
44:14اور وحی کی آخری شکل
44:16قرآن پاک کی صورت میں بھی آتا ہوئی
44:17وہ آپ اور ہم جانتے ہیں
44:19فرمایا کہ
44:20وَمَنْ أَعْرَدْ عَمْ ذِكْرِينَ
44:21اور جس نے میرے ذکر
44:22یعنی قرآن سے اعراض کیا
44:24مو مڑا
44:24فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَتًا بَنْ كَوْ
44:27تو اس کی معیشت تو ہوگی تنگ
44:28آج ہماری معیشت کا جو حال ہے
44:31ہم سب کو پتا ہے
44:31سکون قلب
44:32پیس و مائن نہ ہونا
44:33ملکی سطح پر معاش کا بیڑا غرق ہو جانا
44:36ہم سب کو پتا ہے
44:37اللہ فرما رہے
44:38جو میرے ذکر میرے قرآن سے مو موڑے گا
44:40اس کی معیشت تو ہوگی
44:42دنیا کی زندگی تو ہوگی تنگ
44:43وَنَحْشُرْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اَعْمَا
44:45اور ایسے شخص کو اللہ فرماتا ہے
44:47ہم اندھا بنا کر کھڑا کریں گے
44:49قَالَ رَبِّ لِمَا حَشَرْتَنِيَامَا وَقَدْكُمْ تُو بَصِيرًا
44:52وہ کہے گا
44:53اے میرے رد
44:54تُو نے مجھے اندھا بنا کر کھڑا کیوں کیا
44:56میں تو خوب دیکھتا تھا
44:57بڑی آنکھوں کو میں استعمال کرتا تھا دنیا میں
45:00سب کچھ دیکھتا تھا
45:01کتنا کچھ دیکھا جا رہا ہے آج
45:02کہے گا
45:03اللہ تعالیٰ فرمائے گا
45:10اسی طرح میری آیات تیرے پاس آئیں
45:13فَنَسِتَهَا
45:14تُو نے بھلا دیا ان کو
45:16وَقَذَلِكَ الْيَوْمَ تُنسَا
45:18آج اسی طرح تجھے فراموش کر دیا جائے گا
45:21سبحان اللہ
45:21اللہ اکبر کبیرہ
45:23انگلیش میں کہتا ہے نا
45:24تیٹ فور تیٹ
45:28تمہارے پاس قرآن پاک کے لئے وقت نہیں
45:30میرے پاس رحمت میں سے تمہارے لئے
45:32کوئی حصہ نہیں
45:34یہ قرآن پاک میں لکھا ہے
45:35کھولیں آیات کو خدا رہا
45:36پڑھیں ترجمے کے ساتھ
45:38سورة طاہہ کی آیات 124 تھا
45:41جو قرآن کو فراموش کر رہے
45:42معیشت تنگ ہوگی
45:43اور اندھا بنا کر اللہ کھڑا کرے گا
45:45اور تم نے قرآن کو فراموش کر دیا
45:47تمہارے پاک کے لئے ٹائم نہیں تھا
45:49آج ہماری دہمت میں سے تمہارے لئے کوئی حصہ نہیں
45:52اللہ تعالیٰ اس برے انجام سے معفوظ رکھے
45:55قرآن پاک پر دل سے ایمان عطا کرے
45:56محبت عطا کرے
45:57تلاوت کی توفیق دے
45:58سمجھنے کی توفیق دے
45:59عمل کی توفیق دے
46:00اس کے احکام کے نفاظ کی توفیق دے
46:02آج ہم کیوں مسائب کا شکار ہیں
46:05قرآن کو فراموش کر دینے کی وجہ سے
46:07اللہ کے رسول علیہ السلام کے حدیث پہلے بھی ہم نے پیش کی
46:09اس قرآن کی بدولت اللہ عروج عطا کرے گا
46:12اور اس کو تر کر دینے کی وجہ سے قوموں کو
46:14زلیل اور رسوہ کر دے گا
46:16اللہ ظلت سے ہمیں نکالے
46:17اور قرآن پاک کو تھامنے
46:19اور اس کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے
46:22الحمدللہ سور طوحہ کی منتخب آیات کا مطالعہ
46:25آپ کے سامنے رکھا گیا
46:26اب حاصلِ کلام کے حوالے سے چند آخری نکتے
46:29دیکھ اوئی لیسنس کے طور پر
46:31آپ کے سامنے رکھنا چاہیں گے
46:32پہلی بات حاصلِ کلام کے طور پر
46:34نماز یادِ الہی کا اہم ترین ذریعہ ہے
46:39شرحِ صدر
46:40اور کاموں میں آسانی کے لیے
46:42اللہ تعالیٰ سے دعا کا احتمام کرنا چاہیے
46:44ہمارے دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان میں
46:46حدیث مبارک میں آتا ہے
46:48یہ سینوں کو کھول دینا
46:49دلوں کو اتمنان دینا
46:50اللہ کے لیے بہت آسان
46:52اللہ سے مانگنا چاہیے
46:53دولتِ ایمان اور توقل
46:56وہ صفات ہیں
46:57جو ظالم و جابر کے سامنے
46:59کلمہِ حق کہنے
47:00اور اس پر استقامت کا ذریعہ ہے
47:02جادو کرو کا واقعہ مانے سامنے آگیا تھا
47:04ایمان نیک آمال
47:06اور تذکیر نفس کی محنت
47:08جنت میں داخلے کا باعث ہیں
47:10اللہ تعالیٰ ہم سب کو جنت الفردوس عطا فرمائے
47:13سچا ایمان لاکر نیک آمال پر قائم رہنا
47:17توبہ کی قبولیت کی شرائط ہیں
47:19ایک دفعہ نہیں مستقل سچی پکی توبہ کا تذکر آیا
47:21اور آخری بات حاصل کلام کے طور پر
47:23قرآنِ حکیم سے اعراض کرنے والوں کی دنیاوی معاش تنگ کر دی جائے گی
47:28قیامت کے دن ان کو اندھا کر کے اٹھایا جائے گا
47:31اللہ تعالیٰ اس برے انجام سے ہم سب کو معفوظ رکھے
47:34اور اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک سے تعلق کی مضبوطی ہم سب کو عطا فرمائے
47:37آخر میں نبی مکرم علیہ السلام کی حدیث مبارک پیش خدمت
47:41فرمانِ نبوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
47:45قرآنِ قریمِ تم سے پہلے لوگوں کے حالات اور بات والوں کی خبریں موجود ہیں
47:51جام ترمیزی شریف کی روایت ہے
47:53ہر دور کے لئے رہنمائی اس قرآنِ پاک میں موجود ہیں
47:56اللہ وہ نگاہ وہ طلب اور تڑپ ہمیں عطا کرے
47:58کہ ہم قرآنِ پاک سے اپنے لئے رہنمائی حاصل کر سکیں
48:01آخر میں دعا ہے
48:02اللہ تعالیٰ میری آپ کے ہم سب کے تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے
48:06اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے آزادی عطا فرمائے
48:08اللہ ہمیں جنت الفردوس عطا فرمائے
48:10آمین یا رب العالمین
48:12وآخر دعوانا
48:13علی الحمدللہ رب العالمین
48:15والسلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
Comments

Recommended