Skip to playerSkip to main content
  • 5 hours ago
Transcript
00:00Allah hata kalamu pardha ya Rasul ne
00:04Asham beba'r safha ko likha ya Rasul ne
00:09Nحمduhu wa nusalli ala Rasulihil karim amma ba'd
00:13Bismillahirrahmanirrahim
00:15Allahumma salli ala Muhammadin wa ala ala Muhammadin wa barik wa sallim
00:19Rabbish rah li sodri wa yassir li amri
00:22Wachlu lukudata min lisani yafqahu qawli
00:24Wajعل li wazira min ahli
00:26Amin ya rabbal alameen
00:28ناظر کرام السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
00:31امید آپ خیر آفیت سے ہوں گے
00:33اور ہماری دعا ہے کہ آپ جہاں کہیں بھی ہوں
00:35اللہ تعالیٰ آپ سب کو اور ہم سب کو اپنے ہزمان میں رکھیں
00:38آفیت اور سلامتی سے نوازیں
00:40خلاصہ مضامین قرآن حکیم کا بیان جاری ہے
00:43اور آج انشاءاللہ ہم قرآن حکیم کے پارہ نمبر نو
00:46کے مضامین کا مطالعہ آپ کے سامنے رکھیں گے
00:49اور چند منتخب آیات کا
00:50مطالعہ آپ کے سامنے رکھیں گے
00:51ہمیشہ کی طرح انشاءاللہ ہم
00:53قرآن حکیم کا نوہ پارہ
00:55سورة العراف کی آیت نمبر
00:57اٹھاسی سے لے کر
00:58سورة الانفال کی آیت نمبر چالیس
01:01تک کی آیات پر مشتمل ہے
01:02کوئی سورة الانفال کی تکمین
01:04اور سورة انفال کا آغاز ہوتا ہے
01:06پارہ نمبر نو میں
01:08سورة الانفال کا مطالعہ آپ نے پچھلی نشیس میں شروع کیا تھا
01:11آئی اس کے مدامین کو مختصر انداز میں
01:13چند نکتوں کی صورت میں دہراتے ہیں
01:15چند نکتہ آپ کے سامنے رکھیں گے
01:16تعریف کے ذہن میں سورة العراف کے تعلق سے
01:19انسانی تاریخ کے درمیانی حصے کو
01:21چھے انبیاء کرام علیہ السلام کے قصوں کی صورت میں ذکر کیا گیا ہے
01:26سورة عراف کا خوبصورت پہلو کیا ہے
01:28ازل کے واقعات بھی ہیں
01:30عبد کے واقعات بھی ہیں
01:32اور درمیانی حصہ تاریخ انسانی کا
01:34اس کا تذکرہ بھی
01:35اور چھے رسولوں کے واقعات
01:37ہماری سبق آموزی کے لیے بیان کیے گئے
01:39اگلی بات
01:40اس بات کا بھی ذکر ہے
01:42کہ از خود
01:43اللہ تعالیٰ کی حلال کرنا پاکی
01:45چیزوں کو حرام کرنے کا اختیار کسی کو نہیں
01:47حلال حرام کا اختیار اللہ تعالیٰ کا ہے
01:50مشکین کا بھی رد ہے
01:51اور وہ لوگ ادارے
01:52یا افراد
01:53یا حکومتیں
01:54یا نظام چلانے والے
01:55جو من چاہے فیصلے کرتے ہیں
01:57ان کا بھی رد ہے
01:57یہ من چاہے فیصلے کرنا
01:59درست نہیں ہے
02:00حلال اور حرام
02:02قرار دینے کا اختیار
02:04اللہ تعالیٰ اور اس کے
02:05ازن سے اس کے رسول کا ہے
02:06صلی اللہ علیہ وسلم
02:08ہاں
02:09جو چیزیں حرام ہیں
02:10مثلا فہاشی
02:11برائی
02:12ہر قسم کا گناہ
02:13ظلم
02:14شرک وغیرہ
02:14انہیں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے خود بیان فرما دیا ہے
02:17تم فیصلے نہیں کروگے
02:19اللہ نے خود بتا دیا
02:20کیا کچھ حرام کیا گیا ہے
02:23سورہ عراف کے زیل میں
02:25یہ چند تعریف کے حوالے سے باتیں ہمارے سامنے آگئیں
02:27اب چلتے ہیں
02:28ترتیب کے مطابق
02:29چند منتخب آیات کے متعلق کے طرف
02:31سب سے پہلے
02:31سورت اور عراف کی جس آیت کے انتخاب ہم نے کیا ہے
02:34وہ سورہ عراف کی آیت نمبر ہے
02:36چورانوے نائنٹی فور
02:37قوموں کے حوالے سے ایک نکتہ آ رہا ہے
02:39قوموں کے زمن میں بتایا جا رہا ہے
02:43آزمائشوں کے مقاصد کے حوالے سے
02:45آزمائشیں کیوں آتی ہیں
02:46اقوام پر آزمائشیں کیوں آتی ہیں
02:47لوگوں پر آزمائشیں کیوں آتی ہیں
02:49اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے
02:50سورہ عراف آیت نمبر نائنٹی فور میں
03:00اللہ فرما رہا ہے
03:02جس کسی بستی میں ہم نے کبھی کسی نبی کو بھیجا
03:05تو ہم نے وہاں کے رہنے والوں کو
03:07سختیوں میں اور تکالیف میں مبتلا کیا
03:10لعلہم یالضرعون تاکہ وہ گڑ گڑائیں
03:13بہت اہم نقطہ
03:15جب بھی انبیاء کو بھیجا گیا قوموں کے طرف
03:17تو اللہ نے قوموں پر کچھ آزمائشیں ڈالیں
03:20سختیاں آئیں
03:21تکالیف آئیں
03:22بڑا مقصد کیا تھا
03:23تاکہ لوگوں کے دلوں میں اللہ کا خوف پیدا ہو
03:26اور لوگوں کے دل نرم ہو جائیں
03:28لعلہم یالضرعون
03:30تاکہ وہ گڑ گڑائیں اللہ کے حضور
03:31اچھا دل نرم ہوتا ہے نا
03:34تو حق بات قبول کرنا آسان ہوتا ہے
03:36دل سخت ہو جائیں
03:37تو پھر حق بات قبول کرنا آسان نہیں ہوتا
03:40تو اللہ تعالیٰ کی یہ سنت یہ قانون رہا
03:43کہ اللہ تعالیٰ نے اقوام کو آزمائشوں میں مبتلا کیا
03:46بڑی حکمت کیا دل نرم ہو جائیں
03:47دل نرم ہوں گے لوگ اللہ کی طرف رجوع کریں گے
03:50حق کو قبول کریں گے
03:51پیغمبر کی بات کو تصریم کریں گے
03:53اپنی اصلاح کر لیں گے
03:54ہمیں بھی سمجھنا چاہیے
03:55انفرادی سطح پر بھی کبھی کبھی آزمائشیں آ جایا کرتی ہیں
03:59ہاں کبھی کبھی گناہوں کی وجہ سے بھی
04:01مشکل حالات آتے ہیں
04:02اور کبھی اللہ تعالیٰ امتحان میں ڈالتا ہے
04:05اور امتحان کا ایک بڑا مقصد یہ بھی ہوتا ہے
04:07کہ لوگوں کے دل نرم ہو
04:08وہ حق قبول کرنے والے بنیں
04:10اللہ کی طرف رجوع کرنے والے بنیں
04:12اللہ کے حضور گڑ گڑانے والے بنیں
04:14اپنے اعمال کی اصلاح کرنے والے بنیں
04:16یہ بھی آزمائشوں کا ایک اہم مقصد بیان کیا گیا
04:19اب بعض بلو گے جو اڑتے رہے
04:21اور اڑے ہی رہے
04:22اور حق قبول نہیں کیا
04:23پھر اللہ کا عذاب عام بھی ہوتا ہے قوموں پر
04:25جیسے کہ پشلی قوموں کے حالات
04:27سور عراف میں بکسرت بیان کیے گئے
04:29اس کا ذکر پہلے آ چکا ہے
04:30آگے چلتے ہیں
04:32اگلی آیت جس کا انتخاب کیا گیا
04:33وہ سور عراف کی آیت نمر 157 ہے
04:36سور عراف آیت 157
04:38بہت طویل اور جامع آیت ہے
04:42جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
04:44اور امت کی ذمہ داریاں بیان کی جاری
04:46جی رسول اللہ علیہ السلام کی ذمہ داریاں بھی
04:49اور امت مسلمہ کے ذمہ داریاں بھی بیان کی جاری
04:51اور بھی کئی نکتے ہیں
04:52آئیے اس آیت کو تھوڑا وضاحت کے ساتھ سمجھتے ہیں
04:55سور عراف آیت 157
04:57ارشاد ہوا
04:58اللہذین اتبعون رسول نبی الامی
05:01وہ لوگ جو اتباع کریں گے
05:03رسول نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی
05:07اللہذی یجیدونہ مکتوبن عندہ
05:09فی التورات والانجیل
05:11جنہیں یہ لوگ لکھا ہوا پاتے ہیں
05:12اپنے ہاں تورات میں اور انجیل میں
05:15دو باتیں
05:15اللہ کے نیک بندوں کا ذکر ہے
05:17اللہ کے رحمت خاص کا ذکر
05:19سور عراف کی پچھلی آیت میں ہے
05:21موسیٰ علیہ السلام کے قصے کا بیان میں
05:23رحمت خاص کی انہوں نے التجا کی
05:25اب اس آیت میں
05:26عراف کی آیت 157 میں
05:28اللہ تعالیٰ بتا رہا ہے
05:29وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت خاص
05:31کن کے لیے ہے
05:31جو رسول نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی
05:34اتباع کریں گے
05:36نبی امی ہم کہتے ہیں
05:37اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے
05:39اچھا امی کے لفظے کچھ تصور
05:41ذہن میں آتا ہے
05:41تو ذہن میں رکھئے
05:43اللہ کے نبی علیہ السلام نے
05:44معروف معنی میں
05:45کسی مکتب سے
05:46مدرسے سے
05:47درسگاہ سے
05:48تعلیم حاصل نہیں کی
05:49نوٹ کیجئے گا
05:50ایک بندہ
05:51علم اور عمل میں
05:53کتنا ہی آگے بڑھ جائے
05:54اس کے استاد کا رتبہ
05:56اس سے بڑا ہوتا ہے
05:56ایسے ہی ہے نا
05:57کوئی کتنا بڑا
05:58کالیفائیڈ ہو جائے
05:59ایکسپیرینس ہو جائے
06:00پوزیشن پر چلا جائیں
06:01استاد استاد ہوتا ہے
06:03اسی طرح یاد رکھیے گا
06:04اسی طرح یاد رکھیے گا
06:06کہ اللہ کے نبی علیہ السلام کا
06:08کوئی استاد نہیں ہے
06:09انسانوں میں سے
06:10مخلوق میں سے
06:11کیوں؟
06:11معاذ اللہ
06:12استاد استاد ہوتا ہے
06:13استاد کو تو مقام بڑا ہوتا ہے
06:15نہیں
06:15حضور نبی امی ہے
06:16اس معنی میں
06:17کہ معروف معنی میں
06:18کسی درسگاہ سے
06:19تعلیم نہیں لی
06:20اللہ تعالی نے
06:21براہراس آپ کو سکھایا
06:23اور ایسا سکھایا
06:24یہ ساری کائنات
06:25آپ سے سیکھ رہی ہے
06:26قیامت تک آپ کی
06:27رہنمائی سے
06:27انسانیت اور مخلوقات
06:29فائدہ اٹھاتی رہیں گی
06:30اللہ اکبر کبیرہ
06:31ایک بات ہو گئی
06:32دوسری بات
06:36جنہیں وہ لکھا ہوا پاتے
06:38اپنے ہاں
06:38تورات اور انجیل میں
06:39کیا مطلب
06:40اللہ کے رسول علیہ السلام کے بارے میں
06:42بشارتیں
06:43اللہ کے رسول علیہ السلام کے بارے میں
06:45بشارتیں
06:45اور تفصیلات
06:46تورات میں انجیل میں موجود ہیں
06:48آج بھی
06:49اس دور میں
06:49جس دور میں ہم جی رہے
06:50تورات اور انجیل میں
06:51بہت ساری تبدیلیاں ہو گئیں
06:53اس سب کے باوجود
06:55وہ نشانیاں موجود ہیں
06:56وہ علامات موجود ہیں
06:57وہ بشارتیں موجود ہیں
06:58کہ جن کا مصداق
07:00خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم
07:01کی اپنی ذاتیں بابرکات ہیں
07:04آگے فرمائے اس آیت میں
07:05یعمرہم بالمعاروف
07:07ینہاہم عن المنکر
07:08اللہ کے نبی علیہ السلام
07:09ان کو معروف کا حکم دیتے
07:10اور منکر سے روکتے ہیں
07:11کچھ یاد آیا
07:12یہی امت کی ذمہ داری ہے نا
07:14سورہ عمران کے آیت
07:15امر ایک سو دس میں
07:16ہم نے پڑھا
07:17اور با بار اس کا حوالہ
07:18بھی ہم دے رہے ہیں
07:19کہ
07:19تم بہترین امت ہو
07:25جنہیں انسانوں کے لئے
07:26برپا کیا گیا
07:27تم نیکی کا حکم دو گے
07:28تم بدی سے روکو گے
07:29یہ کام پہلے
07:30حضور کا تر صلی اللہ علیہ وسلم
07:31نیکی کا حکم دینا
07:32بدی سے روکنا
07:33اب آپ کی ختم نبوت کے بعد
07:35یہ ذمہ داری
07:35امت مسلمہ کے کاندوں پر ہے
07:37آگے چلتے ہیں
07:38وَيُحِلُ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ
07:40وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثِ
07:42اور اللہ کے رسول علیہ السلام
07:43ان کے لئے پاکیزہ چیزوں کو
07:45حلال قرار دیتے ہیں
07:46اور ناپاک چیزوں کو
07:47حرام قرار دیتے ہیں
07:48یاد آیا
07:49بار بار پشلی نشیس میں بھی ذکر تھا
07:51حلال اور حرام کا اختیار
07:53اللہ کا ہے
07:54اور اللہ کے حکم سے
07:55رسول اللہ کے علیہ السلام
07:56یہ آیت بتا رہی ہے
07:57کہ حضور پاکیزہ چیزوں کو
07:59حلال قرار دیتے ہیں
08:00اور ناپاک چیزوں کو
08:01حرام قرار دیتے ہیں
08:02اور حضور اللہ کے حکم سے
08:04ارشاد فرماتے ہیں
08:05صلی اللہ علیہ وسلم
08:06چنانچہ
08:07سورہ نجم کی آیت عمد تین اور چار
08:09سورہ نجم کی آیت عمد تین اور چار
08:11میں اللہ فرماتا ہے
08:11کہ
08:12مَا يَنطِقُ عَنِ الْحَوَى
08:15نبی علیہ السلام
08:17اپنے خواہی سے
08:18کچھ ارشاد نہیں فرماتے
08:19جو کچھ ارشاد فرماتے
08:20وہ اللہ تعالیٰ کی
08:21وحی کے مطابق
08:22تو اللہ کے ادن سے
08:24حضور بھی حلال حرام
08:25کے فیصلہ فرماتے
08:26آج امت کیا کرے گی
08:27امت کے پاس تو تعلیم موجود ہے
08:29دین مکمل ہو گیا
08:30اب دین سیکھ کر عمل کرنا
08:31حرام سے اپنے آپ کو بچانا
08:33حلال سے استفادہ کرنا
08:35یہ امت کی ذمہ داری
08:36اور اسی کی تعلیم
08:37انسانیت کو دینی
08:38اور لوگوں کو حرام سے
08:39بچانے کی تعلیم دے کر
08:40حرام سے بچانے کی فکر کرنا
08:42یہ امت کی ذمہ داری
08:43آگے فرمایا
08:44وَيَدَهُ عَنْهُمْ اِسْرَهُمْ الْأَغْلَالَ
08:47الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ
08:48اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم
08:50ان کے سروں پر پڑے ہوئے بوجھ
08:53اور ان کی گردنوں میں پڑے ہوئے
08:54طوقوں سے ان کو نجات دلاتے ہیں
08:57سر کے بوجھ اور گردنوں کے طوق سے
09:07غلام بن جائیں
09:08بندے بندوں پر حاکم بن جائیں
09:10یہ جبر یہ ظلم
09:11اس ظلم اور جبر سے نجات دلائی
09:13نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
09:15آج ظلم کے خاتمے کی کوشش کرنا
09:17عدل کے نفاس کی جد و جہد کرنا
09:19اللہ کی زمین پر
09:21ظلم کے خاتمے کی کوشش
09:23اور یہاں عدل کا نفاس
09:24اور بندوں کی غلامی سے نکال کر
09:28بندوں کے رب کی غلامی میں لانے کی
09:30جد و جہد کرنا
09:31یہ امت مسلمہ کی ذمہ داری
09:33سورة النیساء میں
09:34ہم نے سمجھانا عدل کی گواہی دینا
09:36عدل کیلئے کھڑا ہونا
09:37عدل کو قائم کرنے کی جد و جہد کرنا
09:39یہ امت مسلمہ کی ذمہ داری
09:41اگلے الفاظ میں چار باتیں آ رہی ہیں
09:44کیسے ہمارا تعلق حضور سے مضبوط ہونا چاہیے
09:46صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا جا رہا ہے
09:49فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ
09:50پس ولو جو ایمان لائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر
09:54وَعَزَّرُوهُ
09:55اور جنہوں نے نبی اکرم علیہ وسلم کی تعظیم
09:57اور توقیر کی
09:59وَنَسَرُوهُ
10:00اور جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی
10:03ان کے مشن میں
10:03وَاتَّبَعُ النُورَ الَّذِي أُنزِنَ مَعَهُ
10:06اور اس نور یعنی قرآن کی انہوں نے اتباع کی
10:09جو نبی اکرم علیہ وسلم کے ساتھ نازل کیا گیا
10:12اُلَائِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
10:14یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں
10:17اللہ تعالی ہمیں ان میں شامل فرمائے
10:19چار باتیں آئیں
10:20نبی علیہ السلام پر ایمان
10:22نمبر دو آپ علیہ السلام کی تعظیم
10:24اور توقیر اور احترام
10:25نبی علیہ السلام کی نصرت
10:27یعنی آپ کے مشن میں شریک ہونا
10:29اور قرآن پاک کی اتباع کرنا
10:31ہمارے ساتھ
10:32ڈاکٹر اسرار عیم صاحب رحمت اللہ علیہ کا
10:34بڑا معروف کتابچہ ہے
10:36نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے
10:37ہمارے تعلق کی بنیادیں
10:39اردو میں بھی انگریزی میں بھی
10:40ترجمہ موجود ہے
10:41آیت کی اس حصے پر انہوں نے کلام کی
10:43یہ چار باتیں
10:44اللہ کے رسول علیہ السلام پر ایمان
10:46زبان سے کافی نہیں
10:47دل سے بھی ہونا چاہیے
10:49زبان سے بھی ضروری
10:50اور
10:52وَالتَصْدِقُ بِالْقَلْبِ بھی لازم
10:53جب دل میں ایمان ہوگا
10:54تو حضور سے محبت بھی ہوگی
10:56تو پھر اگلی بات ہے
10:57حضور کا عدب اور احترام
10:58حضور کا عدب اور احترام
11:00سورہ حجرات کی آیت نمبر دو میں آتا ہے
11:02اگر تمہاری آواز
11:03نبی علیہ السلام کی آواز سے
11:04بلند ہو گئی نہ
11:05تو ساری نیکییں برباد ہو جائیں گی
11:07احساس دلائے جا رہا ہے
11:08عدب اور احترام کے حوالے سے
11:10سورہ حجرات کی آیت نمبر دو میں
11:11یہاں اس آئے میں بتایا گیا
11:13نبی کرمہ علیہ السلام کا عدب اور
11:15احترام کرنا
11:16ان کی تعظیم کرنا
11:17اور نمبر تین
11:18ان کی نصرت کرنا
11:19نصرت سے مراد
11:20اللہ کے نبی علیہ السلام کے
11:22مشن میں شریک ہونا
11:23اللہ کے رسول علیہ السلام کا مشن
11:25سورہ توبہ کے آیت نمبر تین
11:26تیس تھرڈی تھری میں ہم پڑھیں گے
11:30اللہ کی زمین پر
11:31اللہ کے دین کو غالب کرنے کی
11:32جد و جہد کرنا
11:33یہ ہے اللہ کے رسول کی نصرت
11:35دعوت دین کا کام
11:37نفاظ دین کی جد و جہد کا کام
11:39ختم نبوت کے بعد
11:40یہ کس کی ذمہ داری ہے
11:41یہ میری اور آپ کی ذمہ داری ہے
11:42وقت فرصت ہے کہاں
11:44کام ابھی باقی ہے
11:45نور توحید کا اتمام ابھی باقی ہے
11:48اور یہ ذمہ داری ہماری ہے
11:50اور چوتھی بات
11:51نور قرآن کی پہلوی کرنا
11:53حضور علیہ السلام نے
11:54حجت الویدا کے موقع پر
11:55یہ بھی اشارت فرمایا
11:56میں چلا جاؤں گا
11:57تو قرآن تو میں دیر جاؤں گا
11:59قرآن کریم کو تھامے رہو گے
12:00نہ کبھی حلاق ہو گے
12:01نہ کبھی گمراہ ہو گے
12:02اور قرآن کو تھامنے سے مراد
12:04ہم نے سورہ علی مران
12:05آیت عمر ایک سو تین میں سمجھا تھا
12:07اللہ کی رسی کو تھامنا
12:09قرآن پاک کو تھامنے سے مراد
12:10اس کی حقوق کو ادا کرنا
12:11قرآن کریم پر ایمان بھی
12:13اس کی تلاوت بھی
12:14اس کو سمجھنا بھی
12:15اس پر عمل
12:15اس کے احکام کا نفاظ بھی
12:17اور اس کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانا بھی
12:19تو نبی علیہ السلام
12:20قرآن پاک عطا کر گئے
12:22اس نور قرآن کی جو اتباع کریں گے
12:24اولائکہم المفلحون
12:25یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں
12:27کامیاب ہونا چاہتے ہیں نا
12:28یہ کامیابی کے سلیبس بتایا جا رہا ہے
12:31اللہ کے رسول علیہ السلام کی ختم نبوت کے بعد
12:33اب یہ کام ہم نے کرنے ہیں
12:35نیکی کا حکم دینا
12:36بردی سے روکنا
12:37جی حلال اور حرام کی پابندی رکھنا
12:39تمیز رکھنا
12:40اور حرام سے بچنا
12:41اور دوسروں کو تعلیم دینا
12:42اور حرام سے بچانے کی کوشش کرنا
12:43اور بوجھوں سے
12:45توقعوں سے نجات دلانا
12:46پھر نبی علیہ السلام پر
12:48دل کی گرائیوں سے ایمان
12:49آپ کا عدب اور احترام
12:50اور آپ کی نصرت
12:51آپ کی مشن میں
12:51آپ کا دست و بازو بننا
12:53اور قرآن کریم کی پیروی کرنا
12:55یہ کریں گے
12:56تو اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے
12:58اولائکہم المفلحون
13:00یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں
13:01اللہ تعالیٰ مجھے
13:03آپ کو ہم سب کو
13:04انہی لوگوں میں شامل فرمائے
13:06جو واقعیت نبی اکرم
13:07صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والے ہیں
13:10اگلی آیت سروط العراف کی آیت نمبر 165
13:13عذاف سے کون بچایا جاتا ہے
13:15جو لوگ
13:15نہیں عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے ہیں
13:18وہ لوگ عذاف سے بچایا جاتے ہیں
13:20ویسے سورہ عراف کی جو آیت ہے
13:22آیت 165
13:23یہاں سورہ عراف کا 21 رکوع ہے
13:25اور یہاں اصحاب سبد کا واقعہ آیا ہے
13:28ہفتے والوں کا واقعہ
13:30یہ بنی اسرائیل کا ایک گروہ تھا
13:31اور کسی دریا کے کنارے آباد تھا
13:35اور اللہ تعالیٰ نے ہفتے کا دن
13:36پورا دن ان کے عبادت کے لئے معین کیا
13:38تکام کاج نہیں کرنا تھا
13:40اور مشلیوں کے شکار کرتے تھے
13:42ہفتے کے دن مشلیہ خوب آتی تھی
13:44مگر ان کی رال ٹپکتی تھی
13:45انہوں نے بھیلے بہانے کر کے
13:47مشلیوں کا شکار شروع کر دیا
13:48اب یہاں تین گروہ ہو گئے تھے
13:50ایک نافرمانی سے بچنے والا تھا
13:52ایک نافرمانی کرنے والا تھا
13:55اور ایک نافرمانی سے بچتا بھی تھا
13:57اور نافرمانی کرنے والوں کو روکتا بھی تھا
14:00دوبارہ نوٹ کر لیں
14:01نافرمانی کرنے والا
14:03اور ایک نافرمانی سے بچنے والا فقط
14:05vit और एक नाफर्मानी से बचने वालप दोसरों को रोकने वालप ठीक हूगा �じゃあुझा तो जो लोग सिर्फ नाफर्मानी से
14:11बचते थे रोकते न�리 तो तीस्रे वाले को कहते हैं तुम इनकों क्यों रोकते हो भई तो उलों ने कहा
14:17था कि Allah के सामे माजरत पेश करनी अल्ला
14:22to be able to do that.
14:22That's why he's not making it.
14:23He's got a good idea.
14:24He's got a good idea.
14:25He's got a good idea.
14:26He's got a good idea.
14:28He's got a good idea.
14:29He's got a good idea.
14:31He's got a good idea.
14:34Surah Araf, ayat 165.
14:36165.
14:38فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُ بِهِينَ
14:40पسْ جَبْا नُنْهُنَي بھولا دِي
14:41اس نصیحت کو جو ان کو کی گئی
14:43أَن جَيْنَ الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِسُوا
14:46تو ہم نے ان لوگوں کو نجات عطا فرمائی
14:48جو بدی سے روکنے والے تھے
14:51وَأَخَذَنَا الَّذِينَ غَلَمُ بِعَعْذَابِ بَعِيْسِمْ بِمَا كَانُ يَسْقُونَ
14:56اور ہم نے ظلم کرنے والوں کو عذاب میں پکڑا
15:00اس برائی کی وجہ سے جو وہ فسق و فجور کیا کرتے تھے
15:04بڑے سخت عذاب میں پکڑا
15:05برائیوں کی وجہ سے جو وہ کیا کرتے تھے
15:08کیا تھی برائی کیا تھا ظلم
15:09بدی سے بچ رہے ہیں
15:11بدی کرنے والوں کو روک نہیں رہے ہیں
15:14نہیں عنی المنکر کا فریضہ انجام نہیں دے رہے ہیں
15:18اکیلے اکیلے نیک بننا کافی نہیں ہے
15:21تو قرآن پاک بتا رہا ہے
15:22کن کو بچائے گیا
15:23يَنْهَوْنَ عَنِسُوا
15:25جو بدی سے روکنے والے تھے
15:27آج عمر بالمعروف
15:29اور نہیں عنی المنکر کا فریضہ کس نے انجام دینا ہے
15:31نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت نے
15:34نیکی کا حکم دینا اور بدی سے روکنا
15:37یہ فریضہ کس نے انجام دینا ہے
15:41اور اللہ کے عذاب اس کی پکر سے بچنے کے لئے
15:44فریضہ انجام دینا ضروری ہے
15:45ہم نے سور مائدہ کی آیت عمر ایک سو پانچ کی روشنی میں
15:49ایک حدیث آپ کے سامنے پیش کی تھی
15:51جو حضرت عبو بغد صدیق رضی اللہ تعالی نے منبر پر لوگوں کو سنائی
15:54کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
15:57تم لازمان نیکی کا حکم دوگے
15:59اور تم لازمان بدی سے روکو گے
16:01اگر تم نے فریضہ انجام نہ دیا
16:02تو انجیشہ ہے کہ تم پر اللہ کا عذاب آئے گا
16:05اور تم دعائیں کرو گے
16:06تمہاری دعائیں قبول نہیں ہوں گی
16:08اللہ تعالی ہمیں عذاب سے محفوظ رکھے
16:10نیکی کا حکم دینے اور بدی سے روکنے کی توفیق عطا فرمائے
16:14اس کے بعد اگلی دو آیات کا انتخاب ہم نے کیا ہے
16:17جو کہ سورت العراف کی آیات
16:19ایک سو پچھتر اور ایک سو چھتر ہیں
16:21دنیا پر اس انسان کا کردار بیان ہو رہا ہے
16:24ایسا انسان کے جس کے پاس
16:26اللہ تعالی کی وحی کی تعلیم پہنچی
16:27مگر وہ دنیا کی محبت میں ڈوبا
16:30اور پھر اللہ کی وحی کی تعلیم
16:33اور ہدایت کی تعلیم سے دور ہو گیا
16:35شیطان اس کے پیچھے لگ گیا
16:36اور یہ پستی کا شکار ہو گیا
16:38اور ایسے شخص کے بارے میں آگے
16:40کتے کی مثال بیان ہو رہی
16:42عجیب بات ہے
16:43یہ دو آیات ہیں
16:44اور سور عراف کی آیت نمبر
16:45ایک سو پچھتر اور ایک سو چھتر
16:47اشاد ہو رہا ہے اس مقام پر
16:52اور اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
16:54ان لوگوں کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنائیے
16:57جسے ہم نے اپنی آیات عطا فرمائی
16:59مراد اللہ تعالی کی وحی اور ہدایت کی تعلیم
17:02اس شخص سے پہنچی تھی
17:04فَنْصَلَخَ مِنْهَا
17:05پس یہ ان آیات سے دور نکل بھاگا
17:08فَأَتْبَعَهُ الشَّيطَان
17:10پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا
17:11فَقَانَ مِنَ الْغَوِينَ
17:13پس وہ گمراہ لوگوں میں سے ہو گیا
17:15کب شیطان پیچھے لگا
17:16جب یہ خود اللہ تعالی کی آیات
17:19اور ہدایت کی تعلیم سے نکل بھاگا
17:21تو شیطان پیچھے لگا
17:22نوٹ کیجئے گا جو رحمان کی یاد
17:25اور ذکر سے ہٹے شیطان اس کے پیچھے لگتا ہے
17:28یہ بات سورہ زخرف کی آیت 36 میں ہے
17:31سورہ زخرف
17:32آیت 36 میں
17:33وَمَنْ يَعَشْ وَعَمْ ذِكْرِ رُحْمَانِ
17:35نُقَيِّدْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَنِينَ
17:38جو رحمان کی یاد سے ہٹتا ہے
17:40اس کے پیچھے شیطان مستلت ہم کر دیتے ہیں
17:42اور شیطان اس کا دوست بن جاتا ہے
17:44اللہ ہمیں معفوظ رکھے
17:45آگے اس شخص کا مزید ذکر ہے
17:47وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا
17:49اور اللہ فرمانے کے ہم چاہتے
17:51تو ان آیاتِ الٰہی کے علم کے ذریعے
17:53اس کو بلندی عطا کرتے
17:55بلند مقام عطا کرتے
17:56وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا
18:08مائل ہو گیا
18:09مفسرین نے لکھا
18:10کہ دنیا کی محبت میں ڈوبا
18:12اور بعض نے یہ بھی لکھا
18:14کسی عورت کی ظلفوں کا
18:15اسیر ہو کر اس کے پیچھے لگا
18:16اور علمِ ہدایت سے دور نکل بھاگا
18:19آگے فرمایا
18:20وَتَّبَعَا حَوَاهُ
18:21اور اس نے اپنی خواہش نفس کی پہروی کی
18:24رب چاہی نہیں
18:25من چاہی زندگی بسر کی
18:27رب کی بات نہ مانی
18:28نفس کی بات مانی
18:29فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْقَلْبِ
18:31پس اس کی مثال تو کتے کی مثال کی طرح ہے
18:34اللہ اکبر
18:35امتح من علیہ الحث
18:37او تترکو یلحث
18:38اگر تم اس پر سختی کرو
18:40یعنی اس کتے پر
18:42تب بھی وہ ہاپتا رہتا ہے
18:43اور اس سے چھوڑو
18:45تب بھی ہاپتا رہتا ہے
18:47مراد کیا ہے
18:48اس پر کوئی سختی کرو
18:49تب بھی زبان لٹکتی ہاپتا رہتا ہے
18:51ویسے چھوڑے رکھو
18:52تب بھی زبان لٹکتی رہتی ہے
18:54ہر حال میں کتے کی زبان لٹکتی رہتی ہے
18:57اور زبان تپکتی رہتی ہے
18:59یہ حرز تمہ اور لالچ کی مثال ہے
19:02اور ایک کتے کی مثال کس کے لئے دی جارہی ہے
19:04ایسے شخص کے لئے
19:06ہدایت کے علم کو اس نے فراموش کیا
19:08اور نفس کے خواہشات کے پیروی میں لگا
19:11دنیا کی محبت میں ڈوبا
19:13تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کے
19:15حوالے کر دیا
19:15گویا شیطان پیشے لگا
19:17یہ گمرا ہوا
19:18اور اس کی مثال کتے کی مثال
19:19آگے سنیئے
19:23یہ مثال ان لوگوں کی
19:25جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا
19:27یہ کتے والی مثال
19:29السخبات ہے
19:30اللہ فرما رہے لیکن قرآن پاک میں
19:31ایک شخص نہیں پوری قوم کی مثال ہے
19:34کون جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا ہو
19:40پس اب یہ قصہ
19:41یہ واقعہ بیان کیجئے
19:42تاکہ یہ غور فکر کرے
19:44اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے
19:45یہ پوری قوم کی بھی مثال ہوتی جو
19:47اللہ کی آیات کو جھٹلا دے
19:49اچھا یاد رکھیے گا
19:50ایک جھٹلانا زبان سے ہوتا ہے
19:52ایک جھٹلانا عمل سے ہوتا ہے
19:54ایک عقیدے کا کفر اور جھٹلانا ہوتا ہے
19:57ایک عمل کا کفر اور جھٹلانا ہوتا ہے
19:59یہ تو ان لوگوں کا ذکر بھی آ گیا
20:01جنہوں نے عقیدے کے طور پر
20:02جھٹلانے کی رویش اختیار کی
20:04لیکن یاد رکھیے گا
20:05قرآن پاک میں گھدے کی مثال بھی آئی ہے
20:07جی ہاں
20:08سورة الجمعہ میں
20:09یہود کے لیے کتاب
20:11یعنی تورات کو فراموش کر دینے پر
20:13گھدے کی مثال بھی اللہ نے دی
20:15اور یہود تورات کو
20:17اللہ کا کلام مانتے تھے
20:18عمل نہیں کرتے تھے
20:20پس پشت ڈالتے تھے
20:21فراموش کرتے تھے
20:22آیات میں تبدیل ہی کرتے تھے
20:24دنیا کی محبت میں ڈوبتے تھے
20:25تو یہی ذکر ہمارے سامنے رہے
20:27آج اللہ کا کلام ہمارے پاس ہے
20:29دنیا کی محبت میں ڈوب کر
20:31دنیا کے چند ٹکوں کے خاطر
20:33اللہ کے کتاب کو فراموش تو نہیں کرتے
20:35دنیا کی محبت میں ڈوب کر
20:37اللہ کے احکامات کو توڑتے تو نہیں ہیں
20:39آج کتنے لوگیں ہم میں سے
20:41جنہوں نے قرآن پاک کا ترجمہ
20:43اپنی زندگی میں ایک مرتبہ بھی
20:45مکمل اپنی زبان میں پڑا ہو
20:47بہت بڑا سوالی نشان غور کرنا چاہیے
20:50اللہ ہماری کوتائیوں کا معاف فرمائے
20:51قرآن پاک کی تلاوت اس کو سمجھنے
20:54اس کے احکام پر عمل کرنے
20:55ان کے نفاظ کی توفیق عطا فرمائے
20:57الحمدللہ سورہ آراف کی بھی
20:59منتخب چند آیات کا مطالعہ
21:01ہم نے آپ کے سامنے رکھا تو حاصل کلام
21:03آپ کے سامنے رکھتے ہیں چند منتخب آیات
21:05جن میں چند اہم نکتے ہمارے سامنے آئے
21:07وہی ایک حاصل کلام
21:09کے طور پر آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں پہلا نکتہ
21:11اس حوالے سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے
21:13لوگوں کو سختی اور آزمائشوں میں
21:15اس لیے بھی مبتلا کیا جاتا ہے
21:17تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں
21:19سختی کی ایک حکمت کیا ہے
21:21نرمی پیدا ہو دل میں بندہ اللہ کی طرف
21:23رجوع کریں
21:25دوسری بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
21:28پر ایمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم
21:30کے عزت و تعظیم
21:31آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے مشن میں
21:34مدد اور قرآن حکیم کی اتباع
21:36وہ بنیادیں ہیں جن پر آپ
21:37صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
21:40ہمارا تعلق قائم ہوتا ہے
21:41سچا تعلق حضور سے کب قائم ہوگا
21:43جب حضور کی ذات پر ایمان دل و جان سے ہو
21:46اور آپ کی تعظیم
21:48اور توقیر اور احترام بھی ہو
21:49اور آپ کے دین کی دعوت کے مشن میں
21:51دین کے نفاظ کے جدو جہد کے مشن میں
21:53آپ کا امساد دیں اور قرآن کریم کی اتباع کریں
21:55تو حضور سے واقعیتا ہمارا تعلق بھی قائم ہوگا
21:58اور ہم کامیاب لوگوں میں شمار ہوں گے
22:00انشاءاللہ
22:01اگلا نکتہ عذاب عام سے بچاؤ کا ایک راستہ
22:04نہیں عن المنکر کے فریضے کو انجام دینا ہے
22:07قوموں کی تباہی کے واقعات قرآن پاک میں آتے ہیں
22:10عذاب عام کا ذکر بھی آتا ہے
22:11کون بچائے جاتے ہیں
22:13جو نہیں عن المنکر بدی سے روکنے کے فریضے کو انجام دینے والے ہوں
22:17آخری نکتہ ہے حاصل کلام کے طور پر
22:19اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والی قوموں کی مثال
22:23اس کتے کیسی ہے جو لالچ کی وجہ سے زبان نکالے ہاں پر رہا ہو
22:29یہ ہاں پنا زبان لٹکانا یہ حرص تمہ لالچ کی مثال ہے نا
22:33لالچ کی علامت کتے کی مثال دے دی گئی
22:35اللہ ہمیں دنیا کی محبت سے تمہ سے لالچ سے حرص سے بچائے
22:39اور اللہ کے کلام کو تھامنے
22:41اس کے تقاضوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
22:44ناظرین کرام الحمدللہ قرآن حکیم کے نوے پارے کا ہم مطالعہ کر رہے ہیں
22:47اور صورت العراف کی چند منتخب آیات کا مطالعہ آپ کے ہمارے سامنے
22:51ایک وقفہ لیتے ہیں اس کے بعد انشاءالہ سورہ انفال کا مطالعہ شروع کریں گے
22:54ملاقات ہوتی اس وقفے کے بعد
22:55السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
22:58السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
23:00ناظرین کرام خوش آمدید کہتے ہیں آپ کو
23:02اللہ تعالیٰ کی توفیق سے خلاصہیں
23:04مزامین قرآن حکیم کا بیان جاری ہے
23:06آج پارہ نمبر نو کا مطالعہ کر رہے ہیں
23:08اور اب آغاز سورة الانفال کا
23:10اس پارے میں نوے پارے میں سورة الانفال کی چالیس آیات شامل ہیں
23:14آی ایس ایف سے پہلے سورة الانفال کا تعارف آپ کے سامنے رکھتے ہیں
23:18تعارف کے حوالے سے چند مختصر نکتے ہیں
23:20سورة الانفال کے زمن میں
23:22مدنی صورت اس بات کو ذہن میں رکھئے گا
23:24اس سے پہلے سورہ نعام اور سورہ عراف کا
23:26ہم نے مطالعہ کیا وہ دونوں طویل مکی صورتی تھی
23:29اب ایک مدنی صورتاری سورة الانفال
23:32تعارف کے حوالے سے چند باتیں ہیں پہلا نکتہ
23:34جہاد و قتال فی سبیل اللہ کے آداب
23:38ترغیب و فضائل کا بیان
23:39نے اس احکام صلح و قتال کی وضاحت کی گئی ہے
23:42مدنی دور میں قتال کا میدان
23:44قتال کا آغاز ہوا
23:46قتال کا میدان کھولا
23:48تلوار تلوار سے ٹکرائی ہے
23:49بارحال آداب جہاد و فی سبیل اللہ کے
23:53ترغیب و فضائل کا تذکرہ بھی
23:55اور صلح و قتال کے بارے میں
23:57وضاحتیں عطا کی گئی ہیں
23:58اگلا نکتہ
23:59مال غنیمت کی تقسیم اور جہاد کے بارے میں
24:02بہت سارے احکامات بیان ہوئے
24:04بدر کا ذکرہ بھی آ رہا ہے
24:05اگلے نکتے میں
24:06غنیمت کا معاملہ پیش آیا
24:08یعنی مال غنیمت کا معاملہ
24:11اور مسئلہ پیش ہی آیا
24:12پہلی مرتبہ غزوہ بدر کے موقع پر
24:15تو اس کی تقسیم کیسے ہوگی
24:16اور جہاد کے بارے میں
24:17قتال فی سبیل اللہ کے بارے میں
24:19بہت سارے ہدایات عطا کی گئی
24:21غزوہ بدر کے موقع پر
24:23کافروں کی شکست
24:24اور ان کے بقابلے میں
24:25مسلمانوں کی کامیابی کا تذکرہ ہے
24:27اس دن کو یوم الفرقان کہا گیا
24:29اس صورت میں
24:29یعنی حق اور باطل میں
24:31فرق کر دینے والا دن
24:32غزوہ بدر
24:33کفار کی بہترین شکست
24:34اور مسلمانوں کو عظیم الشان
24:36فتح اللہ سبحانہ وتعالی کی طرح سے عطا ہوئی
24:38مسلمانوں کو تقوی
24:40اطاعت حق
24:41ذکرِ الہی
24:43اور اللہ تعالیٰ پر توقل کی تعلیم دی گئی ہے
24:45ہاں ہتیار بھی تیار ہوں گے
24:47گھوڑے بھی تیار رکھے جائیں گے
24:48یہ سارا سازو سمان تو ہے
24:49لیکن تقوی
24:51حق کی اطاعت
24:52ذکرِ الہی
24:53اللہ پر توقل
24:54یہ اہم ترین
24:55سہارا ہیں
24:56ایمان والوں کے لئے
24:58اس کا بھی
24:58زور دیا گیا
25:00عمل کرنے کے اعتبار سے
25:01سچے اہلِ ایمان کی صفات بیان کی گئی
25:04اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے
25:05عنایات کے وعدے کا ذکر ہے
25:07یعنی
25:08سچے ایمان والے بنو
25:09اللہ اور اس کے رسول کی فرما برداری کرنے والے بنو
25:12تو اللہ تعالیٰ کی عنایات کا نزول تم پر ہوگا
25:15میدانِ قتال بھی سجے گا
25:17تو اللہ تعالیٰ کی مدد تمہارے
25:18شاملِ حال ہوگی
25:20چنور نکتے تعریف کے حوالے سے
25:22غزوِ بدر میں
25:23فرشتوں کے نزول کے ذریعے
25:24اللہ تعالیٰ کی غیبی
25:26تائید و نصرت کا تذکرہ کیا گیا ہے
25:28فرشتیں نازل ہوئے
25:30بدر کے موقع پر
25:31اللہ تعالیٰ کی حکم سے
25:32اور یوں اللہ تعالیٰ نے
25:33اہلِ ایمان کی تائید اور
25:35نصرت غیبی طور پر فرمائی
25:37بار بار
25:38اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ
25:40صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
25:42کی اطاعت و فرمائی برداری
25:44کا حکم دیا گیا
25:45بہت اہم بات ہے
25:46غزوِ بدر پر تفسرہ ہے
25:47تفسیلی ہدایات ہیں
25:48جہاد و قتال
25:49فی سبلہ کی حوالے سے
25:50ہدایات ہیں
25:51لیکن بار بار
25:52اللہ اور اللہ کے رسول کی
25:53اطاعت پر زور ہے کیوں
25:55اللہ کا وعدہ
25:56نصرت کا کن کے لیے
25:57فرمائی برداروں کے لیے
25:58باغیوں سرکشوں
25:59نافرمانوں سے
26:00اللہ کا نصرت کا وعدہ نہیں ہے
26:02آخری بات ہے
26:03تعریف کے زیل میں
26:04اہلِ مکہ
26:05اور آلِ فیرون کے
26:07کردار میں
26:07یقصانیت
26:08اور ان کے انجام
26:09سے خبردار کیا گیا ہے
26:10کبھی موسیٰ رہ السلام
26:11کے مقابلے میں
26:12فیرون اور آلِ فیرون
26:13کھڑے ہوئے
26:13کیا انجام ہوا
26:14ہم اور آپ جانتے ہیں
26:15وہ مکی صورتوں میں
26:16بیان ہوتا ہے
26:17اہلِ مکہ کو
26:18بتایا جا رہا ہے
26:18مکی صورتیں
26:19مکہ مکرمہ میں
26:20نازل ہوئیں
26:21فیرون اور آلِ فیرون
26:32میں یقصانیت ہے
26:33ان کا انجام
26:34تمہارے سامنے ہے
26:35تمہارا انجام
26:36بھی ویسے ہی ہوگا
26:37اگر تم نے حق کی
26:38مخالفت
26:39نہ چھوڑی تو
26:40یہ وہ موضوعات ہیں
26:41جو صورہ انفال میں
26:42ہمارے سلام میں
26:43تفصیناً آتے ہیں
26:44اب چلتے ہیں
26:45ترتیب کے مطابق
26:46اور صورہ انفال کی
26:47چند منتخب آیات کا
26:49مطالعہ آپ کے خدمت
26:50پر پیش کرتے ہیں
26:51سب سے پہلے جو آیت
26:51منتخب کی گئی ہے
26:52وہ صورہ انفال کی
26:53آیت انبر دو ہے
26:54بالکل شروع میں
26:55ایمان میں اضافہ
26:56بذریع قرآن
26:57سبحان اللہ
26:58اللہ تعالیٰ اشارت فرما رہا ہے
26:59سورہ انفال کے آیت انبر دو میں
27:01اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ اِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ
27:05بلا شبہ ایمان والی تو وہ ہے
27:07جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے
27:09ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں
27:11وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آَيَاتُهُ زَادَتْهُمْ ایمَانًا
27:15اور جب جب ان کے سامنے
27:16اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے
27:19ان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے
27:21وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
27:23اور وہ اپنے رب
27:24یعنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ پر توقل کرتے ہیں
27:27تو یہ ایمان والوں کی باطنی صفات کا ذکر ہے
27:30اہم بات کیا آئی
27:31اِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آَيَاتُهُ زَادَتْهُمْ ایمَانًا
27:35جب جب ان کے سامنے
27:36اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے
27:37ان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے
27:39قرآن اللہ کی طرف سے آیا ہوا پیغام
27:41یہ دلوں کو ہلاتا بھی ہے
27:43دلوں کو نرم بھی کرتا ہے
27:44دلوں میں ایمان بھی پیدا کرتا ہے
27:46یہاں بتایا جارہا ہے
27:47جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے
27:49ان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے
27:51اللہ تعالیٰ قرآن حکیم سے مزید
27:53تعلق کی مضبوطیتہ فرمائے
27:55اور اس کے ذریعے سے ہمارے ایمان میں
27:57اضافہ فرمائے تلاوت کا بھی معمول
27:59ہو مگر سمجھ کر تلاوت کا معمول
28:01ہو تڑب اور ہدایت کی
28:03طلب کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت کا
28:05معمول ہوگا تو ہمارے ایمان میں بھی
28:07اضافہ ہوگا انشاءاللہ جب ہم یہ آیات
28:09سنتے ہیں قرآن کی محفلوں میں بیٹھتے ہیں
28:11تو کچھ فیلنگز ڈیفرنٹ ہوتی ہیں نا یہ نقد
28:13ہے یہ کیش ہے فوراں ملنے والا
28:15مستقل اگر اس کے لئے توجہ ہوگی
28:17تو اللہ تعالیٰ ہمارے ایمان میں اضافہ فرمائے
28:19گا انشاءاللہ تعالیٰ
28:21اگلی آیت کی طرف چلتے ہیں اگلی آیت سورہ انفال کی آیت
28:23نمبر سترہ بہت پیارا ایک اور مقام
28:25قرب الہی کا اعلی مقام
28:27کیا بتایا جا رہا ہے
28:29اللہ تعالیٰ کا قرب کن کے لیے ہے
28:31ذرا اندازہ کیجئے میدانِ بدر سجا
28:33ایمان والے نبی اکرم علیہ السلام
28:35کے سچے پیارے صحابہ
28:37اللہ کی راہ میں کھڑے ہوئے اللہ تعالیٰ کی
28:39بدت ان کے شامل حال ہوئی
28:41آپ سوچئے اللہ تعالیٰ کیا تفسرہ فرمارہے ہیں
28:43سورہ انفال کے آیت نمبر سترہ
28:45فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَاكِنَّ
28:47اللَّهَا قَتَلَهُمْ مُسْلْمَانَ
28:49تم نے ان کافروں کو قتل نہیں کیا
28:51اور اللہ نے انہیں قتل کیا
28:53سبحان اللہ
28:54صحابہ کرام موجود ہیں
28:56تھوڑی تیاری تھی
28:57اب تفصیل کا موقع نہیں ہے
28:59اول تو صحابہ کرام اقتجارتی قافلے کے حوالے سے
29:02اقدام کرنے کو نکلے
29:03حالات ایسے ہو گئے کہ ابو جہل کا ایک ہزار کا نشکر آیا
29:07مقابلہ ہو گیا
29:08تو بھالہ تقریباً تیاری نہ ہونے کے برابر
29:11لیکن صحابہ کرام کھڑے تو ہیں
29:12چند ہی تلواریں کسی کی ہاتھ میں لکڑی وغیرہ بھی تھی
29:15موجود تو ہیں
29:16اللہ فرما رہے کہ نہیں
29:17فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَلَاكِنَّ اللَّهَ قَتَلَهُمْ
29:20مسلمانہ تم نے ان کافروں کو قتل نہیں کیا
29:22بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا
29:24وَمَا رَمَيْتَ اِذَا رَمَيْتَ وَلَاكِنَّ اللَّهَ رَمَا
29:27اور اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
29:29مٹی آپ نے نہیں پھیکی
29:31مٹی اللہ نے پھیکی
29:32ایک وقت آیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
29:35مٹی اپنے مبارک ہاتھ میری پھونک ماری
29:37فرمایا کہ شاہتی الوجو
29:39کے چہروں کو بگاڑ دے
29:41اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں حضور
29:42اے نبی علیہ السلام
29:43مٹی آپ نے نہیں پھیکی
29:45بلکہ اللہ نے پھیکی
29:47ارے عمل صحابہ کر رہے تھے
29:48حضور وہاں میدان قتال
29:50میدان جہاد میں موجود ہیں
29:51اللہ فرما رہے ہیں
29:52مسلمان نے تم قتل نہیں کر رہے
29:54اللہ نے قتل کیا
29:55اے نبی مٹی آپ نے نہیں پھیکی
29:57اللہ نے پھیکی
29:57اندازہ کیجئے
30:00عمل بندے کر رہے ہیں
30:02اور اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے
30:04کہ تم نہیں
30:04میں کر رہا ہوں
30:06اللہ کے قرب کا اس سو پر
30:07کیا مقام ہوگا
30:08بندہ عمل کر رہا ہو
30:10اور اللہ فرما رہے کہ
30:11تم نہیں کر رہے
30:12میں کر رہا ہوں
30:13یہ مقام کا حاملہ
30:14یہ بدر میں ملا
30:15اور بدر کیوں سجا
30:17اللہ کے قلمے کی سر بلندی کے لیے
30:18اللہ کے دین کی جد و جہد کے لیے
30:20رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
30:22کے مشہن کی تکمیل میں
30:23اپنا حصہ ڈالنے کے لیے تو صحابہ
30:25اکرام کو حضور اکرم علیہ السلام کو
30:27اللہ فرما رہا ہے تم یہ عمل نہیں کر رہے
30:29میں یہ عمل کر رہا ہوں
30:30ہم بھی تو چاہتے ہیں کہ اللہ کے قریب ہو جائے
30:33اللہ کا قرب ہمیں مل جائے
30:34تو اللہ کے رسول علیہ السلام کا مشن
30:36اللہ کے دین کی جد و جہد
30:38اللہ کے دین کی نصرت
30:39اللہ کے دین کی دعوت کا کام
30:40اللہ کے دین کی نفاظ کی محنت
30:42یہ آج ہمارے ذمہ داری ہے نا
30:44اس کام میں اپنی جان کو مال کو وقت کو
30:47اوقات کو صلاحیت کو اولاد کو
30:49اور نسلوں کو سب کو لگائیں گے
30:50تو پھر اللہ بھی انشاءاللہ و تعالی
30:52ہمیں کہے کہ تم نہیں میں کر رہا ہوں
30:54اللہ اپنا قرب ہم سب کو عطا فرمائے
30:57آگے فرمایا
30:58وَلْيُبْ لِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَا أَمْنْ حَسَنَا
31:02اور تاکہ اللہ سبحانہ و تعالی
31:04خوب عطا فرمائے
31:05ایمان والوں کو خوب نواز کر
31:08اِنَّ اللَّهَ سَمِيُّونَ عَلِيم
31:10بے شک اللہ سبحانہ و تعالی
31:11خوب سننے والا خوب علم رکھنے والا ہے
31:15اگلی آیت کی طرف چلتے ہیں
31:16اگلی آیت سورہ انفال کی آیت
31:18نمبر ہے چوبیس
31:19ذکر ہے
31:20اللہ سبحانہ و تعالی
31:22اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار کی احمیت
31:25اللہ کا پکارنا
31:26اس کے پیغمبر کا پکارنا
31:27اس پکار بل لبی کہنے کی احمیت کیا ہے
31:30آئیے جانتے ہیں
31:31ارشاد ہو رہا ہے سورہ انفال کی آیت نمبر چوبیس میں
31:48جبکہ وہ تمہیں پکارتے ہیں
31:50اس بات کے لیے جس میں تمہاری دیئے زندگی ہے
31:53اچھا دعاکم
31:55یہ دعا واحد کا سیغہ
31:57یعنی لفظ ہے
31:58پہلے ذکر آیا
31:59اللہ کی پکار اور رسول کی پکار
32:01دو باتیں
32:02اذا دعاکم جبکہ وہ تمہیں پکارتے ہیں
32:05سبحان اللہ واحد کا سیغہ
32:06کیا مطلب
32:07اللہ کی پکار
32:08اللہ کے رسول علیہ السلام کی پکار
32:10شمار میں دو باتیں
32:12اللہ کی پکار
32:13اس کے رسول علیہ السلام کی پکار
32:15شمار میں دو باتیں
32:17حقیقت میں ایک بات
32:18جیسے
32:18اللہ تعالیٰ کی اطاعت
32:20اور رسول اللہ علیہ السلام کی اطاعت
32:21ایک بات
32:22اللہ کا حکم اور اللہ کے رسول کا حکم
32:24ایک بات
32:24اللہ کی پکار
32:26اس کے رسول کی پکار
32:27ایک بات
32:27اچھا فرمایا جا رہا ہے
32:29اللہ رسول علیہ السلام کی پکار پر لبائک کہو
32:32جبکہ وہ تمہیں پکارتے ہیں
32:34تمہیں بلاتے ہیں
32:34کس بات کی طرف
32:35لما یحییکم
32:37وہ بات جو تمہیں زندگی دینے والی ہے
32:39ایک زندگی تو جانوروں میں بھی ہے
32:41نہ نہ اس کی بات نہیں ہو رہی
32:43ایک زندگی کافروں کے جسموں بھی چلتے
32:45پھرتے کھاتے پیتے تو ہے
32:46اس کی بات بھی نہیں ہو رہی
32:47روحانی سطح کی زندگی
32:49ایمان والی زندگی
32:51اتمنان والی زندگی
32:57سکون والی زندگی
32:59اتمنان والی زندگی
33:00مشکل بھی آ جائے
33:01تو بندہ اللہ کے فیصے پر راضی رہ کر
33:03اتمنان پاتا ہے
33:04سبحان اللہ
33:04تو اللہ کی پکار
33:06رسول علیہ السلام کی پکار پر لبائک ہوگے
33:09تو اصل حیات تمہیں میسر آئے گی
33:11ہاں
33:12وَعَلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِ
33:15اور جان لو کہ بے شک
33:17اللہ بندے
33:18اور اس کے دل کے درمیان میں
33:20حائل ہو جاتا ہے
33:22وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
33:24اور بے شک
33:24اس اللہ ہی کے طرف
33:25تمہیں لٹایا جائے گا
33:27اللہ بندے اور دل کے درمیان
33:28حائل ہو جاتا ہے
33:30کئی معانہ
33:31اس کے بیان کیے گئے
33:32ایک مفہوم کیا ہے
33:32اگر اللہ کی پکار
33:34قبول نہ کرو
33:34پیغمبر علیہ السلام کی پکار
33:36قبول نہ کرو
33:37حق عقیس پکار
33:38کو تم رد کر دو
33:39معاد اللہ
33:39اللہ اور اس کے رسول کے تقاعدوں
33:41کو فراموش کر دو
33:42دین کے تقاعدوں
33:52محروم کر دے گا
33:52اللہ اکبر
33:54اللہ اکبر
33:55اور کبھی ختم
33:56اللہ علیہ قلوب
33:57واللہ دلوں پر مخربی لگا دیتا ہے
33:58پھر نیکی کی توفیق بھی نہیں ملے گی
34:00اللہ اس برے انجام سے
34:01ہمیں محفوظ رکھے
34:03یہ ڈراؤا ہے
34:03ایک اور پہلو بھی
34:04بعض مفسرین نے بیان کیا
34:06اللہ اور اللہ کے رسول کی پکار پر
34:08لبائی کہو
34:08تو اللہ بندے
34:09اس کے دل کے درمیان
34:10حائل ہو جائے گا
34:11اب یہ حائل ہونا کیا ہے
34:13شیطان کے وسوسے
34:14نفس کی شرارتیں
34:15خارج سے اثرات آتے ہیں
34:17بندہ حق سے دور ہوتا ہے
34:18نہیں
34:18اللہ رکاوٹ ڈال دے گا
34:20شیطان کے حملوں میں
34:21نفس کی شرارتوں میں
34:22شیطان کی پارٹی کے لوگوں کی شرارتوں میں
34:24اللہ رکاوٹ ڈال کر
34:25تمہاری حفاظت فرمالے گا
34:26تم تیہ کرو
34:27کہ اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر
34:29تمہیں لبائی کہنا ہے
34:30اور ہاں
34:31سب نے برآخر
34:32اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے
34:34اللہ تعالی ہم سب کے حساب کو آسان فرمائے
34:36اگلی آیات ہیں
34:38سروط الانفال کی آیات
34:39چھبیس ستائیس اور اٹھائیس
34:41بہت اہم تقادے سامنے آرہے ہیں
34:43اہل ایمان سے تقادے ہیں
34:44اشارت ہوا
34:45وَذُكُرُوا اِذْاَنتُمْ قَلِيلُ مُسْتَعَافُونَ فِي الْأَرْضِ
34:48اور یاد کرو جب تم
34:50زمین میں
34:50تعداد میں تھوڑے تھے
34:52اور زمین میں کمزور بنا دیے گئے تھے
35:01پس اللہ تعالی نے تمہیں ٹھکانہ عطا فرمایا
35:04اور اپنی نصرہ سے تمہیں تائید عطا فرمائی
35:08وَرَزَقَكُمْ مِنَطَيِّبَاتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
35:10اور اللہ تعالی نے تمہیں پاکیزہ رزق میں سے عطا فرمایا
35:14تاکہ تم شکر ادا کرو
35:15پس منظر کیا ہے
35:16صحابے کرام رضی اللہ عنہم اجمعین
35:19مکہ مکرمہ سے حجرت فرما کر
35:21مدینہ شریف تشریف لے آئے تھے
35:22مکہ مکرمہ میں کیا تھا تعداد کم تھی
35:25کمزور بنا دیے گئے تھے
35:26ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا تھا
35:29اللہ تعالی نے حجرت کا حکم عطا کر دیا
35:31حجرت مدینہ کا معاملہ پیش آ گیا
35:34مدینہ شریف میں اللہ نے انسار مدینہ جیسے پیار ساتھی عطا فرما دی
35:37ٹھکانہ عطا فرما دی
35:38تائید عطا فرما دی
35:40نصرت عطا فرما دی
35:41پاکیزہ رزق عطا فرما دی
35:43اللہ تعالی نے نعمت عطا فرما دی
35:44فرما جارہے تاکہ تم شکر ادا کرو
35:47یہ صحابہ کرام کا ذکر ہو رہا ہے
35:49ذہن میں رکھیے گئے بات آگے ہم دورائیں گے انشاءاللہ
35:51یا ایوہ الذین آمنو
35:53اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو
35:54لا تخون اللہ وروسول
35:56اللہ تعالی رسول علیہ السلام کی خیانت نہ کرو
35:59وتخون اماناتکم و انتم تعلمون
36:02اور جانتے بوشتے
36:03آپس میں ایک دوسرے کے معاملات میں
36:05خیانت نہ کرو
36:06وعلمو انما اموالکم و اولادکم فتنہ
36:09اور جان لو کہ بے شک تمہارے مال
36:11اور تمہاری اولاد فتنہ انہی آزمائش
36:13کا ذریعہ ہیں
36:14وَأَنَّ اللَّهَ عِمْدَهُ عَجْرٌ عَظِيمٌ
36:16اور بے شک اللہ تعالیٰ کے پاس تو عجر عظیم ہے
36:19تو صحابہ کرام نے تو
36:20اللہ تعالیٰ کے دین کے تقادے
36:22انہی کو ترجیح دی
36:23مال اولاد دنیا کے محبت میں نہیں
36:25دوبے شکر گدار بنی
36:26کچھ ہماری لی ہے اس میں
36:28ہمارے استار ڈاکٹر اسراء صاحب رحمت اللہ
36:30یہ فرماتے تھے
36:31یہ قرآن پاک کو اس نگاہ سے بھی دیکھو
36:33کہ ہمارے لیے رہنمائی ہے نا
36:34سورہ انبیاء آیت امبر دست
36:36فی ذکر اکم
36:37اللہ تعالیٰ نے کلام جو ناصل کے
36:39اس میں تمہارا ذکر موجود ہے
36:40تو سورہ انفال کے آیت امبر 26 میں کیا ہے
36:42صحابہ کا ذکر مکہ مکرمہ کے تعلق سے
36:45پاکستان کے قیام کے موقع کے حالات کو
36:47ذہن میں رکھیں
36:48ہندوستان جب مشترکہ تھا
36:49پاکستان کے قیام کا موقع
36:51مسلمانوں کے تعداد
36:53ہندووں کے مقابلے میں کم تھی
36:54کمزور بنا دیئے گئے تھے
36:56ایک طرف انگریز کی
36:57جو ہے حکمرانی تھی
36:58دوسرے طرف ہندو کی کسرت کا پریشر تھا
37:00اللہ تعالیٰ نے ٹھکانا دیا
37:02اللہ تعالیٰ نے نصرت فرمائی
37:03اللہ تعالیٰ نے نعمت عطا کی
37:05کیا کرنے کے لیے
37:06شکر ادا کرنے کے لیے
37:07پھر کیا کہا گیا
37:08اللہ اور رسول کے ساتھ خیانت نہ کرنا
37:10پاکستان ہم نے اسلام کے نام پڑھ لیا
37:12پاکستان کا مطلب کیا
37:13لا الہ الا اللہ
37:14ہم نے کہہ دیا
37:15اوبجیکٹر ریزولوشن میں
37:16حاکمیت اللہ کی ہوگی
37:17کتاب و سنت کی بالا دستی ہوگی
37:19آج ہم کیا کر رہے ہیں
37:20اللہ کے دین کے ساتھ خیانت
37:21اللہ کی کتاب اور احکامات کے ساتھ
37:23خیانت کا معاملہ
37:24آپس میں خیانت کے معاملات
37:25کر رہے ہیں کی نہیں کر رہے ہیں
37:26بتائے گے دیکھو
37:27تمہارے مال اور اولاد
37:29فتنہ آزمائش کے ذریعہ
37:30کبھی مال کی محبت میں
37:31ڈوب کر
37:32بندہ حلال حرام کی
37:33تمیز کو بھلا دیتا ہے
37:34کبھی اولاد کی
37:35جائز ناجائز پورا کرنے کے
37:36چکر میں اللہ کے احکامات
37:37کو توڑ دیتا
37:38آج ہو رہا ہے کہ نہیں ہو رہا
37:40تو ہمیں بتائے جا رہا ہے
37:41اللہ اور رسول کے ساتھ
37:42خیانت نہ کرنا
37:43آپس میں دوسرے کے معاملات
37:45اور امانتوں میں
37:45خیانت نہ کرنا
37:46اور دیکھو مال اور اولاد
37:47کی محبت میں
37:48ڈوب کر
37:49اللہ کے دین کے تقادوں
37:50کو فراموش نہ کر دینا
37:51اللہ مملکن خدادات
37:53پاکستان کے بھی
37:54حفاظت کریں
37:54اللہ امت مسلمہ کے حال پر
37:56رحم فرمائے
37:56اللہ مسلمانوں کو
37:58اپنی اور اپنے پیارے
37:59رسول علیہ السلام کی
37:59اطاعت کی توفیق دے
38:00خیانت سے بچائے
38:02آخرت کا طلبگار بنائے
38:03اور اللہ کے دین کی دعوت
38:04اور اللہ کے دین کے
38:05نفاعث کی جد و جہود کی
38:07اللہ ہم سب کو
38:07توفیق عطا فرمائے
38:08اس کے بعد اگلی آیت ہے
38:10اور اس وقت کی نشست میں
38:12آخری آیت ہے
38:13جس کا میں انتخاب کیا
38:14سورہ انفال آیت
38:15نمبر 49
38:16مقصد قتال کیا ہے
38:18جنگ کی اجازت
38:19اور جنگ کا حکم
38:20قرآن پاک میں ہے
38:21مقصد کے ساتھ
38:22جنگ محس برائے
38:23جنگ نہیں ہے
38:24آئیے پڑھتے ہیں
38:25سورہ انفال آیت
38:26نمبر 39
38:28وَقَاتِلُونَ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ
38:30اور ان کے خلاف جنگ کرو
38:31یا تک فتنہ باقی نہ رہے
38:33وَيَكُونَ الدِّينُ کُلُّهُ لِلَّهُ
38:36اور دین
38:36نظام زندگی
38:37کل کا کل
38:38اللہ تعالیٰ کے لئے ہو جائے
38:39فَإِنِن تَهَو
38:40پھر اگر یہ باز آ جائیں
38:41فَإِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
38:44تو بے شک جو کچھ یہ کرتے ہیں
38:45اللہ خوب دیکھنے والا ہے
38:47پہلی بات
38:48قتال کا حکم
38:49قرآن پاک میں ہے
38:50ہاں
38:50مگر شرائط کے ساتھ ہے
38:52اللہ نے بہت سارے حکامات
38:54ہم پر لاغو کیے
38:55شرائط پوری ہوتی
38:56حکم لاغو ہوتا ہے
38:57نماز کا حکم ہے
38:58مگر چار سال کے بچے پر فرد نہیں ہے
39:00زکاة کا حکم ہے
39:01مگر ہر نماز کے بعد
39:02زکاة نہیں دیتے
39:03سال میں ایک مطلب
39:04صاحبِ نساب پر زکاة لازم ہے
39:05ایسے ہی ہے نا
39:06مگر نماز فرد ہے
39:07مگر زکاة فرد ہے
39:08مگر شرائط کے ساتھ
39:10قتال بھی فرد ہے
39:11مگر شرائط کے ساتھ
39:12پھر مقاصد کے ساتھ
39:13قتال کے کئی مقاصد
39:15ایک بڑا مقصد کیا ہے
39:16لا تکون فتنہ
39:17فتنہ باقی نہ رہے
39:18ایسے حالات
39:20جہاں اللہ کے حکم کی بالا دستی نہ ہو
39:22انسانوں کا حکم
39:23باغیوں کا حکم
39:25سرکشوں کا قانون
39:26وہ بالا دست ہو
39:27یہ فتنہ ہے
39:27ایسے حالات جہاں
39:29اللہ کی بندگی کامل طور پر خاص طور پر
39:31اجتماعی معاملات
39:32زندگی میں ممکن نہ ہو
39:33یہ فتنہ ہے
39:33اس فتنے کا خاتمہ ضروری ہے
39:36تاکہ اللہ کی بندگی کامل ہو سکے
39:38ایسے فتنے کے خاتمے کے لیے
39:40اگر جنگ بھی کرنا پڑے
39:41تو ہمارے دین میں
39:43جنگ کا حکم دیا گیا ہے
39:44آج دنیا میں جنگیں سجائے جاتی ہیں
39:46کہ نہیں
39:47بلکہ جنگیں مسلط کی جاتی ہیں
39:48کہ نکاحے کے لیے
39:49مادنیات پر قبضہ کرنے کے لیے
39:51اور رچ جو منرلز ہیں
39:54ہاں
39:54ان پر قبضہ کرنے کے لیے
39:56تیل پر قبضہ کرنے کے لیے
39:58اور مادنیات پر قبضہ کرنے کے لیے
39:59اور وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے
40:01جنگیں سجائے جاتی ہیں
40:02ظلم کرنے کے لیے
40:04لوگوں کو غلام بنانے کے لیے
40:05لوگوں کو لوٹنے کے لیے
40:07قطع غارتگری کرنے کے لیے
40:08لوگوں کی ایتھنک کلنزنگ کرنے کے لیے
40:10لوگوں کی نسل کشی کرنے کے لیے
40:12لوگوں کی بربادی کے لیے
40:13اگر ظالم دنیا میں جنگیں سجاتے ہیں
40:16تو اللہ سبحان و تعالیٰ
40:18اس کائنات کا خالق اور مالک اور آپ کا میرا
40:20رب وہ ان
40:22ظالموں کا ہاتھ روکنے کا حکم دیتا ہے
40:24ہاں ظلم کے خاتمے کا حکم دیتا ہے
40:26یہ فتنے کے حالات کو ختم کرنے کا
40:28حکم دیتا ہے اور بندوں کو
40:30بندے غلام بنا کر رکھیں اس کے بجائے
40:32اللہ حکم دیتا ہے کہ اللہ کی غلامی میں
40:34بندوں کو لائے جائیں اس کے لئے قتال
40:36کا حکم بڑے مقصد کے ساتھ ہے
40:38بڑے پروٹوکوز کے ساتھ ہے مگر
40:40ہے اللہ کا حکم اور بڑا مقصد
40:42وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهُ
40:44دین سسٹم آف لائف کل کا کل
40:46اللہ کے لئے ہو جائے زمین بندوں کی تو نہیں
40:48بندے تو بندے ہیں نا
40:50اللہ ای زمین کا خالق اور مالک ہے اس کائنات
40:52کا خالق اور مالک ہے اللہ حاکم ہے
40:54تین مرتبہ قرآن پاک میں ہیں
40:56سوری یوسف کے آیت امبر چاریس میں بھی ہیں
40:58اِنِ الْحُکْمُ إِلَّا لِلَّهُ
41:00حُکم کا اختیار اللہ کے لئے ہیں
41:02سروری زیبا فقطو ذات بے ہمتا کو ہے
41:05حکم راہ ایک وہی باقی بتانے آزری
41:08تو قتال کے بڑا مقصد کیا ہے
41:09فتنے کا خاتمہ ایک بڑا مقصد کیا ہے
41:11وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهُ
41:13اور دین کل کا کل پورے کا پورا
41:15اللہ کے لئے ہو جائے
41:16فَإِنِ انْتَهُو
41:17پھر اگر یہ باز آ جائے
41:18بیس جنگ برائے جنگ نہیں
41:19ہمیشہ جنگ نہیں ہے
41:20مستقل جنگ نہیں ہے
41:21باز آ جائے
41:22اللہ کے حکم کی بازہ جسی ہو جائے
41:24تو پھر فَإِنِ انْتَهُو
41:25باز آ جائیں
41:26فَإِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ
41:27بَسِيطَ وَبِشَكْ جُوْقِشِہِ کرتے ہیں
41:29اللہ تعالیٰ خوب دیکھنے والا ہے
41:31اللہ تعالیٰ ہمیں دین کے احکامات پر
41:33یقین اتا کرے
41:34اور باطل پرستوں کی طرف سے
41:36جو اعتراضات ہیں
41:37ان سے شکوک و شبہات پیدا ہو
41:38تو ان سے اللہ معفوظ رکھے
41:40اور ان کے جوابات دینے
41:41اور حق کا بول بالا کرنے کے لیے
41:43ہمارا تن من دھن لگانے کی
41:46اللہ تعالیٰ مجھے
41:47آپ کو ہم سب کو توفیق عطا فرمائے
41:50الحمدللہ
41:51آج قرآن کریم کے نوے پارے کے حوالے سے
41:53چند منتخب آیات پہلے صورت العراف کی
41:56اور پھر صورت انفال کی
41:57ہم نے آپ کے خدمت پر پیش کی
41:58اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے
42:00پرگرام کے آخر میں
42:01ہمیشہ کی طرح
42:02حاصل کلام آپ کے سامنے رکھیں گے
42:04یہ ایک اختتام ہوتا ہے
42:05چند اہم نکات کے بیان کا
42:07جو باتیں ہم نے تفسیر سے سمجھی ہوتی ہیں
42:09ایک ٹیک اووے لیسن جسے کہا جاتا ہے
42:11اس کے طور پر
42:12حاصل کلام کے حوالے سے پہلی بات
42:14اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنا
42:15تلاوت قرآن حکیم سے ایمان میں اضافہ ہونا
42:19اور اللہ تعالیٰ پر توقل کرنا
42:21سچے مؤمنین کی صفات ہے
42:23اللہ تعالیٰ کی شان کریمی ہے
42:25کہ اس کے دین کے جد و جہود کرنے والوں کی محنت کو
42:28وہ اپنی طرح منصوب فرماتا ہے
42:30سبحان اللہ تم نہیں
42:31میں یہ کام کر رہا ہوں
42:32قرب الہی کی انتہا
42:34اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر حکم کو
42:37اپنے تمام معاملات پر ترجیح دینی چاہیے
42:40اور حکم پر عمل میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے
42:43کہ کہیں تاخیر کی وجہ سے
42:44عمل کی توفیق سے محرومی نہ ہو جائے
42:47ہدایت کی توفیق اور عمل کی توفیق سلب نہ ہو جائے
42:50جو حکم آئے سرانکھوں پر فوراً لبی کہہ کر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے
42:54اگلا نکتہ حاصل کلام کے حوالے سے
42:56مال اور اولاد کی محبت میں حد سے بڑھ جانا فتنے کا باعث ہے
43:01جس کی وجہ سے بندہ
43:03اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی خلاف ورزی پر آمادہ ہو جاتا ہے
43:08لہذا ہمیں اس محبت کو
43:10اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تابع کرنا چاہیے
43:14باقی محبت بجا ٹوپ پر محبت ہوگی اللہ اور اللہ کے رسول کی اور باقی سب اللہ اور اللہ کے
43:20رسول کے حکم کے تابع رہے گا
43:22اللہ ہمیں توفیق دے
43:23آخری بات دین اسلام میں جہاد و قتال کے ایک اہم مقصد فتنے کا خاتمہ اور اللہ تعالیٰ کی زمین
43:29پر اس کے دین کا غلبہ بھی ہے
43:31اللہ تعالیٰ ان مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے دین کے تقاضوں پر عمل کی
43:35مجھے آپ کو ہم سب کو توفیق عطا فرمائے
43:38حسب معمول پروگرام کے آخر میں ایک حدیث مبارک آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں
43:41فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
43:43رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
43:46من قال بھی صادقہ
43:48جس نے قرآن کریم کے مطابق بات کہیں اس نے سچ کہا
43:51یہ جامعی تنمیزی شریف کے روایت ہے
43:53جو اللہ کے کلام کے مطابق گفتوں کو کرے گا وہ سچ کہے گا کیوں
43:57اللہ تعالیٰ دو مرتبہ اپنے بارے میں فرماتا ہے
43:59سورہ نساء میں ہے
44:04اللہ سے بڑھ کر کس کی بات سچی ہوگی
44:07اللہ سے بڑھ کر قول کے تیوارے سے کون سچا ہوگا
44:09تو حضور فرمار علیہ السلام
44:11جس نے قرآن کریم کے مطابق بات کہیں
44:13اس نے سچ کہا
44:14اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے
44:16کہ ہم زیادہ سے زیادہ ہماری گفتگو میں
44:18قرآن پاک کا حوالہ دے
44:20قرآن پاک کا ذکر کرے
44:21تاکہ ہم بھی سچے لوگوں میں شمار ہوں
44:23اسی کے ساتھ اجازت چاہتے ہیں
44:25اس دعا کے ساتھ
44:26کہ اللہ تعالیٰ میلی
44:27آپ کی ہم سب کی
44:27ہمارے کھر والوں کی
44:28تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے
44:30آمین یا رب العالمین
44:32وآخر دعوان
44:33ان الحمدللہ رب العالمین
44:34والسلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
Comments

Recommended