- 5 hours ago
- #shaneramzan
- #ramzan2026
- #aryqtv
Khulasa e Mazameen e Quran | Rehmat e Sehr
Watch Shan e Ramzan 2026 ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw
Speaker: Shujauddin Shaikh
#ShaneRamzan #ramzan2026 #aryqtv
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Watch Shan e Ramzan 2026 ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw
Speaker: Shujauddin Shaikh
#ShaneRamzan #ramzan2026 #aryqtv
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00Allahatah kalamu padha ya Rasul ne
00:04Asham be bar safa ko likha ya Rasul ne
00:09Nakhmaduhu wa nusalli ala Rasulhi al-karim
00:12Amma ba'at bismillahirrahmanirrahim
00:14Allahumma salli ala Muhammadin wa ala ala Muhammadin wa barik wa sallim
00:18Rabbish rahli sadri wa yasir li amri wa ahlul qudata min lisani yafqahu qawli
00:23Maj'ali waziram min ahli
00:25Amin ya Rabbil alameen
00:26Nazir kalam sallamu alaikum warahmatullahi wabarakatuh
00:29Umidhah khiraf jahe se hongi
00:30Allah subhanahu wa ta'ala seh dhua hai
00:32Que aap jahhan kahi bhi hou
00:33Allah subhanahu wa ta'ala aap sabukur
00:34Hema sabukur hama sabukur hama sabukur hama sabukur hama
00:35Apenhe hafizu aman me rakhye
00:36Qur'an hakim seh mazid mahabbat aata firmay
00:39Or isse sikhte hoye s'mjhte hoye
00:41Hidaayit lene o ar amal kerne ki tawfeeq aata firmay
00:44Khulasahe mzameen qur'an hakim ka sislah jari hai
00:46Aaj inshallah wa ta'ala qur'an hakim ke
00:49Áٹھوے paharay ke mzameen ka
00:50Hاصil a khulasah
00:52Aap ke sámeni rakhna chayengue
00:53Qur'an hakim ke aattwee paharay me
00:55Surahtul An'am ki takmiel hoti hai
00:57Aurahtul An'am ki aayat 111 se lekar
01:00Surahtul An'am ki aayat
01:02Aayat numbers 87 tuk ki aayat
01:04Ismei shamil hai
01:05Surahtul An'am ki takmiel
01:06Aurahtul An'am ka aagaz
01:08Aightwee paharay me hota hai
01:09Aurahtul An'am ki aayat numbers 87
01:11Tuk Qur'an hakim ka aattwa paharaya
01:14Wohu مشتمil hai
01:15Bata agi paharay te hai
01:16Aurahtul An'am jis kam aagaz paharay kar chukhe hai
01:18Uske taaruf ke huwalhe se
01:20Çin nukhto ki yaad dhihani
01:21Pahli baat
01:22Aqidah tauhied ke bárhe me
01:24Tafsiri gufetuko ki gai hai
01:25Tazkir bi ala illa
01:26Allah ki n'aymaton
01:28Or qudreton ka zikr kerke
01:29Allah ta'ala ka taaruf
01:31Ata'ala ka taaruf
01:31Ata'ala ka n'aymaton
01:32Ata'ala ka n'aymaton
01:34Ata'ala ka n'aymaton
01:35Ata'ala ka jami biyan hai
01:36Aagla nukta
01:37Risalat
01:38Ata'ala ka n'aymaton
02:08اس پر عمل کرو اس کے تقادوں پر عمل کرو گے تو تم انجات ملے گی
02:11اور آخری بات مشرقین کے اعتراضات کے جوابات دیتے ہوئے ان سے دو ٹو گفتگو کی گئی ہیں
02:16حتمی بات رکھی گئی ہیں اور ان کے اعتراضات کے جوابات دیئے گئے ان کے شرقی نفی کی گئی ہیں
02:21اور حتمی طور پر دعوت ایمان دعوت توحید قبول کرنے کا ان سے مطالبہ کیا گیا
02:27یہ چند نقطے ہیں سورہ انعام کے مدامین کے حوالے سے
02:31اب آئیے آگے چلتے ہیں ترتیب کے مطابق چند منتخب آیات کا ذکر آپ کے سامنے رکھتے ہیں مختصر تشریح
02:37کے ساتھ
02:37سب سے پہلے جس آیت کا ہم نے انتخاب کی ہے سورہ الانعام میں سے وہ سورہ الانعام کی آیت
02:42عمبر 116 اور 117 ہیں
02:44جمہوریت کی نفی کی جاری ہے
02:46اچھا پہلے سمجھ دیجئے کون سی جمہوریت کی نفی کی جاری ہے
02:49جمہوریت جو آج کل کی لبرل ڈیموکورسی ہے
02:53کہ اکثریت جو چاہے فیصلہ کر لے
02:55یہ تصور اسلام کا نہیں ہے
02:57ہاں کبھی کبھی ہم سنتے ہیں کہ علماء کی آرہ کا ذکر ہوتا ہے
03:01کہ جمہور علماء کی رائے یہ ہے
03:03فقہی مسائل کے بیان میں یہ جملہ استعمال ہوتا ہے
03:06تو بالکل ٹھیک
03:06فلا معاملے میں اکثر علماء کی رائے یہ ہے
03:09مگر جب علماء دین کلام کر رہے ہوں گے
03:11تو کتاب و سنت کے دلائل کے مطابق کلام کر رہے ہوں گے
03:13تو وہاں اکثریت کی رائے پر عمل کر رہے میں کوئی حرج کی بات نہیں
03:17معروف جو لبرل ڈیموکریسی ہے
03:19جہاں اکثریت جو چاہے قانون پاس کر دے
03:23چاہے وہ اللہ تعالیٰ اور پیغمبروں کی تعلیم کے خلاف ہی کیوں نہ ہو
03:28اس لبرل ڈیموکریسی کی نفی کی جا رہی ہے
03:31اور اکثریت کا معاملہ کیا ہوتا ہے
03:33آئیے ہم ابھی قرآن حکیم کی سائیت کو سمجھتے ہیں
03:35اور پھر تھوڑی سی گفتوں کو آپ کے سامنے رکھیں گے
03:38سورہ نعام کی آیات 116 اور 117
03:41اشعاد ہو رہا ہے اس مقام پر
03:42وَإِن تُتِعْ أَكثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُذِلُوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
03:46اور اگر اے سننے والے تم اکثر لوگوں کی بات جو زمین میں بستے ہیں مانو گے
03:50تو وہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی راہ سے ہٹا دیں گے
03:53گمراہ کر ڈالیں گے
03:54ہر مخاطب جو کہ قرآن پاک کو سن رہا ہے
03:56اس سے مخاطبت ہو رہی ہے
03:57اموم کا کلام ہے
03:58اے مخاطب اے سننے والے
04:00اگر تم زمین میں بسنے والے اکثر لوگوں کی رائے کو مانو گے
04:04تو وہ تمہیں اللہ کی راہ سے ہٹا دیں گے
04:06گمراہ کر ڈالیں گے
04:07اِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّن
04:08یہ اکثر کا معاملہ کیا ہے
04:10یہ تو صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں
04:12حقیقی علم ان کے پاس نہیں
04:14گمان کی پیروی کرتے ہیں
04:15وَإِنْهُمْ إِلَّا يَخْرُسُونَ
04:17اور اسے قیاس آرائیہ کرتے ہیں
04:19اردو میں کہیں تکے لگانا
04:20حقیقی علم توہینی قیاس آرائیہ کرتے ہیں
04:22اِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ مَنْ يَضِلُّ عَنَ السَّبِيرِ
04:26بے شک تمہارا رب خوب جانتا ہے
04:28اس کو جو اس کی راہ سے بھٹک چکا ہے
04:30وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُحْتَدِين
04:32اور واللہ خوب جانتا ہے
04:34ان لوگوں کو جو ہدایت یافتہ ہیں
04:36اللہ تعالیٰ گمراہی کی ہر شکل سے ہمیں بچائے
04:38اور اپنے ہدایت یافتہ بندوں میں شامل فرمائیں
04:42اکثر کی بات مانو گے
04:43وہ تمہیں اللہ کی راہ سے روک دیں گے
04:45اور سچی بات یہ ہے
04:46اکثریت کا معاملہ ایسا ہی ہوا کرتا ہے
04:49قرآن حکیم میں خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
04:52وَقَلِيلُ مِنْ عِبَادِ
04:53یہ شکور میرے بندوں میں تھوڑے ہی ہیں
04:55جو شکر گدار ہے
04:57سبحان اللہ
04:57حق کا ساتھ دینے والے اکثر
05:00تعداد میں کم ہی ہوا کرتے ہیں
05:02اور اہلِ باطل کی کسرت اکثر رہی ہیں
05:05تو اکثریت میار نہیں ہے
05:07اکثریت مل کر قانون سازی کرے
05:09اچھا بھئے اکثر لوگ کہتے
05:11شراب کو پرمیسبل منا دو حلال کر دو
05:13ہمجنس پرستی کو حلال کر دو
05:15جیسے کہ دنیا کے بہت سے ممالک میں
05:17قانون کے ذریعے شراب کو
05:19ہمجنس پرستی کو
05:20ہوموسیکشوالیٹی کو
05:21قانون کا سہارہ دے کر حلال کر دیا گیا
05:23یہ تو حرام ہے نا
05:24یہ شدید کی تعلق بھی خلاف ہے
05:25سو فیصد بھی اگر رائے آ جائے
05:28کہ شراب حلال کر دی جائے
05:29تو نہیں ہو سکتی
05:30کیونکہ کسرت رائے سے
05:32اللہ اور اس کے رسول علیہ السلام کے
05:34حکم کی خلاف ورزی
05:35یہ جائز نہیں ہے
05:36ایمان والوں کو قرآن کیا فرماتا ہے
05:38سورہ حجرات کے پہلی آیت ہے
05:40لا تقدم بین یدی اللہ ورسول
05:42اپنے معاملات کو
05:43اللہ تعالی اور اس کے رسول سے
05:45آگے نہ بڑھاؤ
05:45ہاں دین نے ایک دائرہ کھیچ دیا
05:48اس دائرے میں رہ کر
05:49جو پرمسیبل بات ہے
05:50ان کے معاملے کے اندر
05:51جو چاہو رائے اختیار کر لو
05:52اور بھئی فرائیڈے کی چھٹی ہونی چاہیے
05:54سیٹڈے کی چھٹی ہونی چاہیے
05:55سنڈے کی چھٹی ہونی چاہیے
05:57رائے اختیار کر لو
05:58مان لو
05:58گھر میں مہمان آ رہے ہیں
06:00بھئی پانچ افراد گھر میں رہتے ہیں
06:01ان کو جناب چائے پلائے جائے
06:03کافی پلائے جائے
06:04شروت پلائے جائے
06:05لسی پلائے جائے
06:06three here four here
06:07which fourfold
06:07but five or five
06:09that is probably
06:10that God will give us
06:11your gifts
06:12and this is not
06:13because this is what
06:14Allah and Daddy
06:15are the one
06:17or the one
06:17which is the one
06:17which belongs to be
06:18so,
06:19this is the democracy
06:20liberal democracy
06:22which is the one
06:23which which is Allah
06:24or Allah
06:24and the one
06:25which has been
06:25in theWWW
06:26which is null
06:26and void
06:27because it is no
06:28that is not
06:29and it can be
06:30nothing
06:31that is not
06:31that follows
06:32and that is the actual
06:34This is what I'm using and how to do this.
07:04وَشَعَلْنَا لَهُ نُورًا
07:06اور ہم نے اس کے لئے نور بنا دیا
07:09يَمْشِي بِهِ فِي النَّاس
07:10وہ اس کے ساتھ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے
07:13کَمَمْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُمَات
07:15کیا اس کی مثال و شخص کی طرح ہو سکتی ہے
07:17جو گمراہی کے اندھیروں میں پھر رہا ہو
07:20لَيْسَ بِي خَوَارِجِ مِنْحَا
07:22ان سے نکلنے والا نہ ہو
07:23كَذَالِقَ زُّيِّنَ لِلْكَافِرِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
07:27اسی طرح اللہ سبحانہ تعالی فرما رہا ہے
07:29اسی طرح کافروں کے لئے جو وہ عامال کرتے ہیں
07:32یعنی برے عامال وہ مزین کر دیئے گئے
07:34گندے کام کرنے والوں کو گندگی میں لطفاتا ہے
07:37معاد اللہ اور ایمان والوں کو تو گناہ سے نفرد ہو جائے کرتی ہے
07:41بارحال فرمایا جارہا ہے
07:42ایک شخص مردہ تھا
07:43اس کو ہم نے زندگی عطا فرمائی
07:46اس کے لئے میں نور بنا دیا
07:47اس نور کے ساتھ وہ محول میں چلتا پھرتا ہے
07:51کیا یہ اس کی طرح ہو سکتا ہے
07:53جو گمراہی کے اندھیروں میں بھٹک رہا ہو
07:55کیا جواب ہوگا بلکل نہیں
07:57اللہ تعالی نے کس کو مردہ قرار دیا
07:59جس کے پاس نور ایمان نہ ہو
08:00نور ہدایت نہ ہو
08:01جس کی روح مردہ ہو چکی ہو
08:03اس کو مردہ قرار دیا
08:05ممکن ہے وہ چلتا پھرتا ہے
08:06شخص نظر آرہا ہے
08:07کھاتا پیتا سنتا دیکھتا نظر آرہا ہے
08:09حقیقت وہ مردہ ہے
08:11اللہ نے روح اس کی قوی کر دی
08:13اللہ نے اس کو نور ایمان عطا کر دیا
08:15اس کو نور ہدایت عطا کر دیا
08:16اب اس نور قرآن اور نور ہدایت کی روشنی کے ساتھ وہ کھڑا ہے
08:21قرآن کی دعوت لے کر کھڑا ہو
08:22معاشرے میں چلتا پھرتا ہو
08:24تو معاشرے کے اندر جو تاریخی ہیں
08:26وہ ان کو دور کرنے کا بعیث بنے گا
08:28اللہ تعالی مجھے اور آپ کو توفید ہیں
08:30مسلمان الحمدللہ قرآن پاک کے ماننے والے ہیں
08:33اللہ سمجھنے کی توفیق دے
08:34نور ہدایت عطا فرما دے
08:36نور ایمان عطا فرما دے
08:37اور اس قرآن کی نور کو عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے
08:40تاکہ موحول میں جو اندھیریں وہ دور ہو جائیں
08:43اور نور ہی نور اور روشنی ہی روشنی ہو جائیں
08:45یہ اللہ فرما رہا ہے
08:47مردہ اور زندہ برابر نہیں
08:49ایک کی روح مردہ
08:50ایک کی روح زندہ برابر نہیں
08:52ایک کو نور خوران نور ہدایت ملا
08:54اور دوسرا اندھیروں میں پڑھائے برابر نہیں ہو سکتے
08:58اس کے بعد اگلی عید اسکام نے انتخاب کی ہے
09:00صورت الانعام کی آیت نمبر 145
09:04بتایا جارے کہ حرام چیزیں کیا ہیں
09:06ایک مشیقین مکہ تھے
09:07مشیقین عرب تھے
09:08کچھ باتوں کو از خود انہوں نے حرام کر لیا
09:11فلا جانور پر سواری نہیں کریں گے
09:12فلا مردار کو انہوں نے حلال کر لیا
09:15اللہ تعالی کے ڈومین میں داخل ہو کر
09:18اللہ تعالی کے اختیارات معاد اللہ
09:20اختیار تو اللہ کا ہے نا
09:21جس چیز کو چاہے حلال قرار دے
09:22جس چیز کو چاہے حرام قرار دے
09:25اختیار اللہ کا ہے
09:26جس چیز کو چاہے حلال قرار دے
09:28جس چیز کو چاہے حرام قرار دے
09:29اور ہاں
09:30اللہ کے اذن سے یہ رسول اللہ کا اختیار ہے
09:32صلی اللہ علیہ وسلم
09:33یہ بات سورہ آراف آیت 157 میں
09:36ہم پڑھیں گے بعد میں
09:37انشاءاللہ تعالی
09:38لیکن مشیقین مکہ نے
09:39از خود فیصلے کرنا شروع کر دیئے
09:41تو بتایا جا رہا ہے کہ تم یہ فیصلے کرنے کا حق نہیں رکھتے
09:44یہ حق اللہ کا ہے
09:45کس چیز کو حلال قرار دے کس چیز کو حرام قرار دے
09:48اب آئیے اللہ تعالی نے کن باتوں کو حرام قرار دیا
09:51اب ذکر رسول عنام کی آیت میں
09:54ارشاد ہوا
10:00اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
10:02ارشاد فرما دیجئے
10:03کہ میں وہی جو اللہ سبحان و تعالی کی طرف سے کی جاتی ہے
10:07میری طرف اس میں کوئی شہ حرام نہیں پاتا
10:09کسی کھانے والے کے لئے جبکہ وہ کھاتا ہے
10:12الا سوائے اس کے کہ
10:14اَنْ يَكُنَ مَيْتَةً
10:15وہ شہ مردار ہو
10:17اَوْ دَمَ مَسْوحًا
10:18یا بہتا ہوا خون ہو
10:20اَوْ لَحْمَ خِنْ زِیرٍ
10:22یا سُور کا گوشت ہو
10:23فَإِنَّهُ رِجِسُن
10:25بے شک وہ تو ہے ہی پورے کا پورا ناپاک
10:27اَوْ فِسْقًا اُحِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ
10:30یا فِسْق و فُجُور کا وہ زبیحہ
10:32کہ جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا جائے
10:35فَمَنِ تُرَّ غَيْرَ بَاغِن
10:37پس وہ کہ جو مجبور ہو جائے
10:39اور حد سے بڑھنے والا نہ ہو
10:41وَلَا عَادٍ
10:42اور نہ سرکشی کرنے والا ہو
10:43فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُور وَحِين
10:46تو بے شک آپ کا رب
10:47یقیناً بہت بخشنینے والا
10:48نہائیت رحم فرمانے والا ہے
10:50یہ جو مشیقین مکہ نے
10:52از خود فیصلے کرنا شروع کر دیئے
10:54اس کی تو نگیشن ہو گئی
10:55اس کی تو نفی ہو گئی
10:56اب اللہ تعالی چار باتوں کی حرمت
10:58کو بیان فرما رہا ہے
10:59ان چار باتوں کی حرمت کو
11:02قرآن کریم میں چار ہی مرتبہ
11:04بیان کیا گیا ہے
11:05سورة البقرہ میں
11:06سورة المائدہ میں
11:08اور اب یہ سورة انعام میں
11:09اور بعد میں سورة نحل میں
11:10اس کا ذکر آتا ہے
11:11وہ چار باتیں جو
11:12اللہ نے حرام قرار دی
11:13کیا ہے
11:14مردار
11:14ایک جانور ویسے
11:16اس کا گوشت حلال ہے
11:17بکرہ بکری
11:17مگر وہ مر گیا
11:19چوٹ لگی
11:19گر گیا
11:20مر گیا
11:20زبا نہ ہو سکا
11:22تو یہ مردار
11:22تو مردار کھانا حرام
11:24نمبر دو
11:24دمہ مسوحہ
11:25بہتا ہوا خون
11:26یعنی جانور حلال ہے
11:28زبا بھی کیا جا رہا ہے
11:30مگر زبا کرتے وقت
11:31جو خون بہتا ہے
11:33اس میں بڑے نقصانات بھی ہیں
11:35یہ جو بہتا ہوا خون ہے
11:36یہ بھی حرام ہے
11:38دو باتیں ہو گئی
11:39نمبر تین
11:39سور کا گوشت حرام ہے
11:41آگے یہاں
11:42اس مقام پر فرمایا
11:43فَإِنَّهُ رِي
11:44جس پہ شک وہ تو ناپاک ہے
11:46تو سور کی ہر شہی حرام ہے
11:48بارہ سور کا گوشت
11:49یہ بھی حرام قرار دیا گیا
11:50اَوْ فِسْقَنْ اَوْحِلَ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ
11:53اور وہ فِسْقُ فُجُور کا ذبی ہے
11:54جس پر اللہ کے سوا
11:55کسی اور کا نام لیا جائے
11:57جانور حلال ہے
11:58مگر اللہ کے بجائے
11:59کسی بت کے لیے
12:00غیر اللہ کے لیے
12:01کسی اور مخلوق کے لیے
12:03اس کو پانے کے لیے
12:05اس کو خوش کرنے کے لیے
12:06ذبیحہ کیا جائے
12:07اس کا نام لیا جا رہا ہے
12:08یہ بھی حرام ہے
12:09یہ چار باتوں کی حرمت کا ذکر آیا
12:11البتہ نوٹ کیجئے
12:12بعض لوگوں کو غلط فیمی ہو گئی
12:14کہ یہ چار باتیں ہمارے دین میں
12:16حرام ایسا نہیں ہیں
12:17ان چار باتوں
12:18کسرت عرب کے معاشرے میں بھی تھی
12:20آج بھی ان میں سے آپ دیکھیں
12:21سور کا گوش اور اس طرح کی چیزیں
12:23مردار اس طرح کی چیزیں
12:24دنیا میں کئی مقامات پر استعمال ہوتی ہیں
12:26تو یہ چار باتوں کی کسرت تھی
12:28اس محول میں جہاں قرآن پاک نازل ہو رہا تھا
12:30تو ان چار کا ذکر ہے
12:32ورنہ یہ بات نہیں
12:33کہ اور کوئی حرام شہ نہیں ہے
12:34قرآن کریم میں بھی
12:35اور پھر آحادیث مبارکہ میں بھی
12:37بعض چیزوں کو حرام قرار دیا گیا ہے
12:39ایک اور اہم بات
12:40یہاں بتایا جا رہا ہے
12:41جو مجبور ہو جائیں
12:42اور وہ سرکشی نہ کرے
12:44اور حس سے آگے نہ بڑھے
12:46تو اللہ غفور ہے
12:47اللہ رحیم ہے
12:47کیا بتایا جا رہا ہے
12:48اللہ کا دین بہت پیار ہے
12:50بڑا پریکٹیکل دین ہے
12:51حالات کے بدل جانے سے
12:53کیفیات کے بدل جانے سے
12:54حکم میں فرق واقع ہو جاتا ہے
12:57کسی کی جان جا رہی ہے
12:58جان جا رہی ہو
12:59اور جان بچانا تو ضروری ہے
13:01جان بچانے کے لئے
13:03کچھ دسیاب نہیں
13:04حلال میں سے
13:05تو اتنا استفادہ کرنا
13:07اتنا فائدہ اٹھانا
13:08کسی حرام شہ سے
13:09کہ جس سے جان بچ جائے
13:11اس کی اجازت ہے
13:12دوبارہ
13:15فمنترہ
13:15مجبور ہو گیا
13:16جان جانے کا اندیشہ ہے
13:18تو جان بچانے کے لئے
13:20حرام سے بقدر ضرورت
13:22فائدہ اٹھانے کی اجازت ہے
13:24نہ حس سے زیادہ
13:25بہت زیادہ نہ کھائیں
13:26اتنا جس سے جان بچ جائیں
13:27اور سرکشی کے رہادہ نہ
13:29ہو کہ نہ فرمانی کرنے لگ جائے
13:30نہ نہ
13:30جان بچانے کا معاملہ پیش آ گیا
13:32ایسی ادھتراری حالت ہے
13:34ان یجول قسم کا معاملہ ہے
13:36فائن رب کا غفور وحیم
13:38فرمایا کہ
13:38بے شک آپ کا رب بہت بخشنے والا
13:40نہائیت رحم فرمانے والا
13:42اس سے معلوم ہوا
13:43اللہ کی رحمتی رحمت ہے
13:44جس سے دین کو ہمارے لئے
13:46رحمت بنایا
13:46نعمت بنایا
13:47زحمت نہیں بنایا
13:49اور مشکل حالات کے اندر
13:50پریشان گن حالات میں
13:51بدلتے حالات میں
13:52جہاں مسائل پیش آ جاتے ہیں
13:54دین نے آسانی بھی عطا فرمائی ہے
13:56اور آخری بات یہ ہے
13:57آسانی وہ آسانی
13:59جو دین نے عطا فرمائی ہے
14:01خود دین کے ساتھ
14:02کھلوار باز لوگ نے کرنا شروع کر دی ہے
14:04جو چاہا حرام کوئی ہے
14:05وہ حلال کر لی ہے
14:06وہ نہیں
14:06وہ آسانی جو اللہ
14:07اور اس کے رسول علیہ السلام
14:09نے عطا فرمائی
14:09آگے چلتے ہیں
14:10اگلی آیت سورہ انعام
14:12آیت نمبر ایک سو ایک آون
14:14بڑا پیارا مقام ہے
14:15یہ آیت اور اگلی آیت
14:17اور بڑی اہم معاشرتی ہدایات
14:18عطا کی جاری ہیں
14:19جن ہدایات کے یہاں پر ذکر ہے
14:22یہ بنی اسرائیل کے لیے بھی تھی
14:23یہ ہمارے لیے بھی رہتی دنیا تک کے لیے ہیں
14:25اور تورات میں جو بڑے بڑے احکامات
14:27ٹین کمانمنٹس آف تورات
14:29تورات کی دس بڑے بڑے احکامات عطا ہوئے
14:31معاشرتی زندگی کے لیے عطا ہوئے
14:33ان کا بیانہ جو قرآن کریم میں
14:35اس مقام پر بھی آیا ہے
14:36یہ سورہ انعام کی آیت نمبر
14:38ایک سو اکاون ون ففٹی ون
14:39ارشاد ہو رہا ہے
14:40قل تعالو
14:42اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما دی
14:44جا آؤ میں تمہیں بتاؤں
14:45اتلو ما حرما ربکم
14:47تلاوت کر کے بتاؤں
14:48کیا اتلو ما حرما ربکم علیکم
14:51کہ تمہارے رب نے تم پر کیا حرام کیا
14:53ایک در تم نے خود سے کچھ چیزوں کو حرام کیا
14:55وہ باتیں نہیں
14:56رب نے کیا حرام کیا
14:57آؤ میں تمہیں بتاؤں
14:58اللہ تشرکو بھی شیعہ
15:00کہ تم اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا
15:03عقیدے میں سب سے بڑا جرم کیا ہے
15:05وہ شرک ہے
15:06اور مشرق کے لئے بخشش نہیں
15:07سوائے اس کے کوئی سچی توبہ کر کے
15:09توہید کے دعوت قبول کر لے
15:11تو اللہ تشرکو بھی شیعہ
15:13کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا
15:16وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانَ
15:17اور والدین کے ساتھ حسنِ سروق کرنا
15:19اچھا یہاں پر حرام بات کیا ہوگی
15:21ماں باپ کا دل دکھانا
15:22ماں باپ کے ساتھ زیادتی کرنا
15:24ماں باپ کی نافرمانی کرنا
15:25ماں باپ کو ناراض کرنا
15:26یہ ہوگا حرام پہلو
15:28تو بتایا جارہا ہے کیا حرام کیا رب نے
15:30شرک نہ کرنا
15:31اور نمبر دو
15:32والدین کے ساتھ احسان کرنا
15:34حسنِ سروق کرنا
15:35حدیث مبارک میں آتا ہے
15:37تمہارے ماں باپ تمہاری جنت بھی ہیں
15:39اور تمہاری جہنم بھی
15:40ابن ماجہ شریف کی روایت
15:41ان کی خدمت تمہیں جنت نہیں جا سکتی ہے
15:43اور ان کی نافرمانی
15:45تمہیں جہنم کے عذاب کا مستحق بنا سکتی ہے
15:47اللہ وقت پر
15:48آگے فرمایا
15:49وَلَا تَقْتُلُ أَوْلَادَكُمْ مِنْ اِمْلَاقُ
15:52اور اپنی اولاد کو مفلسی کے در سے قتل نہ کرو
15:55یہ زمانے جہلیت میں بھی ہوتا تھا
15:57اور آج بھی کہا جاتا ہے
15:58بچے دھوئی اچھے
15:59بھائی پالیں گے کیسے پالنے والے تھا
16:01ہم اور تم تھوڑے گئے بھائی
16:02خالق اللہ ہے رازق اللہ ہے
16:03تم مفلسی کے در سے قتل نہ کرو
16:05آگے اللہ فرما رہا ہے
16:07نَحُنَّ رُزُّقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ
16:09ہم تمہیں بھی رزق و عطا کرتے
16:10اور ان کو بھی رزق و عطا کرتے
16:12تمہیں بھی اللہ نے پیدا کیا
16:13تمہارے ماباپ کو تمہارے پرورش کے وسائل
16:15اللہ نے دیئے
16:16یہ کائنات اللہ نے بنا کر
16:17تمہارے لئے سجائی ہے
16:18تمہاری اولاد کا بھی خالق اللہ ہے
16:20اس کو کھلانے پلانے رزق دینے والا بھی
16:23اللہ سبحانہ وتعالی ہے
16:24وَلَا تَقْرَبُ الْفَوَاحِشَ مَا غَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ
16:28اور فہوش باتوں کے قریب بھی نہ جاؤ
16:30خواہ وہ کھلی فہوش باتیں ہوں
16:32یا چھپی پوشیدہ فہوش باتیں ہوں
16:34پہلی بات تو ہے زنا سے روکا جا رہا ہے
16:37زنا کے دھندے پبلکلی ہوں
16:39یا پرابیٹلی ہوں
16:40حرام اور منع
16:41فہوش انتہائی بےہودہ بات ہے
16:43جس سے زنا کا دروازہ کھلتا ہے
16:45حیاء کا جنازہ نکلتا ہے
16:47نکاح کی نفی ہوتی ہے
16:49خاندانی نظام تباہ برباد ہوتا ہے
16:51معاشرہ گندگی کا ڈھیر بنتا ہے
16:54ظاہری طور پر بےہیائی کی باتیں
16:55فلمیں ڈرامیں ناج گانیں
16:57اور اس طرح کی بےہودہ باتیں
16:59تنہائی کا معاملہ ہو
17:00تنہائی میں دو نامحرم جمعو
17:02تو تیسرا شیطان ہوگا حدیث مبارک میں آیا
17:04اور آن لائن بیٹھ کر اور چیٹنگ کر کے
17:06نجانے کر کے کیا کچھ نامحرم کے ساتھ
17:08تعلقات وغیرہ وغیرہ
17:09ظاہری باتی ہر طرح کی بےہیائی کی بات
17:11اس کے قریب بھی نہ جاؤ
17:13فرمایا
17:13وَلَا تَقْتُلُ النَّفْسَ اللَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ
17:16إِلَّا بِالْحَقُ
17:17اور اس جان کو جس سے اللہ نے محترم
17:19ٹھہرایا مت قتل کرو سوائے حق کے ساتھ
17:22انسانی جان محترم ہے
17:23حق کے ساتھ قتل کیا جانا
17:25کیا مطلب قاتل کے لئے سزا کیا ہے
17:27قتل کیا جائے گا قصاص میں
17:29شادی شدہ مرد یہ عورت زنا کرے
17:31تو رجم کی سزا احادیث مبارکہ میں واضح ہیں
17:34تو جس جان کو اللہ نے محترم ٹھہرا ہے
17:36اسے قتل نہ کرنا
17:37سوائے حق کے ساتھ
17:38یعنی شریعت کا جہاں حکم ہے
17:39تو کسی کی جان لی جائے گی
17:41ذَلِكُمَ السَّاقُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
17:44یہ وسیعت اللہ جو تمہیں فرماتا ہے
17:45تاکہ تم سمجھو
17:46یہ اللہ کی وسیعتیں ہیں
17:48اللہ تعالیٰ کی رہنمائی ہیں
17:49معاشرتی زندگی کے بارے میں
17:51اس کے بعد اگلی آیت ہے
17:53سورہ انعام کی آیت نمبر
17:54ایک سو باون ون ففٹی ٹو
17:56مزید معاشرتِ ہدایات
17:58عطا ہو رہی
17:58اس مقام پر بھی
17:59اشاد ہوا
18:00وَلَا تَقْرَبُوا مَالِ الْيَتِيمِ
18:02إِلَّا بِالَّتِهِ
18:03اَحْسَنُ
18:03اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جانا
18:05مگر اس طریقے میں
18:06جو سب سے بہترین ہو
18:08حتیٰ یبلغ اشدہ
18:09یہاں تک کہ وہ
18:10اپنی پختہ عمر کو پہنچ جائے
18:12شعور کو پہنچ جائے
18:13تفسیر ہے اس میں
18:14البتہ یتیموں کے ساتھ
18:16اس سے سلوک کا حکم
18:17سورہ نساء کے آیت نمبر دس میں
18:18ہم پڑھتے ہیں
18:19جو یتیموں کا مال ہڑپ کر رہے ہیں
18:21وہ اپنے پیٹ میں جہنم کے انگارے بھر رہے ہیں
18:23نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
18:25سنن ابن ماجہ کی روایت ہے
18:27مسلمانوں کے گھروں میں سے
18:28بہترین گھر وہ
18:29جہاں کسی یتیم کے ساتھ
18:30بھلا سلوک ہو
18:31اور مسلمانوں کے گھروں میں سے
18:32بہترین گھر وہ
18:33جہاں کسی یتیم کے ساتھ
18:34برا سلوک ہو
18:35ہاں بلوغت کو پہنچ جائیں
18:37ایک یتیم تمہاری کفادت میں آ گیا
18:39اب اس کا مال
18:40اس کے حوالے کرنے کا
18:41معاملہ کیا جائے گا
18:42مزید تفسیرات
18:43تفاصیر میں دیکھی جا سکتی ہیں
18:44وَأَوْفُ الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْتُ
18:47اور ناب اور طول
18:48عدل کے ساتھ
18:49ٹھیک ٹھیک رکھنا
18:50یہ ناب طول کی کمی
18:52آپ کو پتا ہے نا
18:53شعب علیہ السلام کی قوم کا
18:54بہت بڑا جرم تھا
18:55اس جرم کی وجہ سے
18:56شعب علیہ السلام کی قوم پر
18:57زلزلہ بھی آیا
18:58شورے بھی برسائے گئے
18:59اور زوردار چیخ
19:01یعنی آواز کے عذاب سے بھی
19:02ان کو
19:03اللہ تعالیٰ نے
19:04عذاب دے کر برباد کی ہے
19:05اللہ اکبر کبیرہ
19:06اور ناب طول سے
19:07پلڑوں کا معاملہ نہیں
19:08ناب طول کے لیے
19:10آج کل جتنے بھی
19:11صفیسٹیکیٹر ایکیوپمنٹ سے
19:12وہ سب بھی شامل ہو گئے
19:13اسی طرح جو
19:14میں اپنے لیے میار پسند کروں
19:16دوسرے کے لیے میار وہ رکھوں
19:17بہت تفصیل ہے
19:18ناب طول کے معاملات میں
19:19فرمایا جارہے ہیں
19:20کہ ناب طول کا معاملہ
19:21عادل کے ساتھ ٹھیک ٹھیک کرو
19:25اللہ فرما رہے ہیں
19:26ہم کسی پر مکلف
19:28اسے نہیں ٹھہراتے
19:28کسی پر ذمہ داری
19:30نہیں ڈالتے
19:30مگر اس کی وسعت
19:31یعنی capacity کے مطابق
19:33اللہ ہمارا خالق ہے نا
19:34سورة البقرہ کے آخر میں
19:35بھی الفاظ بڑے مشہور ہیں
19:37لا يکلف اللہ نفسا
19:38الا وسعہ
19:40اللہ ہر انسان کو
19:41اتنی مکلف
19:42یعنی ذمہ دار ٹھہراتا ہے
19:43جتنا اللہ نے
19:44اس کو capacity دی ہے
19:45اس ستاعت عطا کی ہے
19:46وَإِذَا قُلْتُم فَعَدِلُو
19:48اور جو تم بات کہو
19:49تو عدل کی بات کہو
19:50سورة نسا میں
19:51سورة مائدہ میں یاد آیا
19:52عدل کی بات کرنا ہے
19:54اور تقویٰ ہے
19:55تقویٰ کا تقاد ہے
19:56کہ عدل کی بات کی جائے
19:57کسی کی محبت
19:58رکاوٹ نہ بنے عدل کرنے میں
20:00کسی کی دشمنی
20:01رکاوٹ نہ بنے عدل کرنے میں
20:02یہاں بھی کہا جا رہا ہے
20:04وَإِذَا قُلْتُم فَعَدِلُو
20:05وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَا
20:07اور جو تم بات کہو
20:08کچھ کہو تو عدل کی بات کہو
20:09چاہے تمہارے قریب رشیدار ہی
20:12کا معاملہ کیوں نہ ہو
20:13وَبِعَهَدِ اللَّهِ اَوْفُ
20:14اور اللہ سے کیے گئے
20:16وعدے کو پورا کرو
20:17ایک وعدہ ہم کلمہ پڑھتے ہیں
20:18اللہ کو معبود مانتے ہیں
20:19ہم کہتے ہیں
20:20سورة البقرہ کے آخر میں
20:21سمیعنا وعطانا
20:22ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی
20:23اور اہدِ الست ایک ہوا تھا
20:25سورة آراف آیت 172 ہے
20:27سورة آراف آیت 172 میں ہے
20:30اللہ نے ہم سب کو پیدا کیا
20:32اور حدیث میں ہے
20:33بخاری شریف کی روایت
20:34سارے انسانوں کی روحوں کو
20:35ایک وقت میں پیدا کیا
20:36اور اپنے رب ہونے کا اقرار کروایا
20:39تو فرمایا جا رہا ہے
20:40وَفَوَبِعَهَدِ اللَّهِ اَوْفُ
20:41اور اللہ سے کی گئے
20:42عہد کو پورا کرو
20:43اس کو تم نے رب مانا
20:45اب اس کی عبادت کرنی ہے
20:46اس کی سننی اور اس کی ماننی ہے
20:48وَذَالِكُمْ وَسَّاكُمْ
20:50یہ جس کی اللہ تمہیں وسیعت فرما دے
20:52تاکہ تم دھیان دو
20:53اور نصیت حاصل کرو
20:55اللہ تعالی ہمیں عمل کرنے کی توفیق
20:57عطا فرمائے
20:58اس کے بعد اگلی
20:59اور سورہ نعام کی جو آیات
21:00ہم نے منتخب کی
21:01اس کے اعتبار سے آخری آیت ہے
21:03اور یہ ہے
21:03الانعام آیت 162
21:06مقصد زندگی کیا ہے
21:08کہاں ہماری ایفرٹس لگنی چاہیے
21:10ویجن کیا ہونا چاہیے زندگی کا
21:12بتایا جا رہا ہے
21:13سورہ نعام آیت 162
21:31یہ ہماری زندگی کا ویجن ہونا چاہیے
21:34جو کرنا ہے
21:34اللہ کو راضی کرنے کے لئے
21:36اور اس کی انتخاب کیا ہے
21:37میری زندگی کا مفسد
21:38تیرے دی کی صرف راضی
21:40میں اسی لئے مسلمان
21:42میں اسی لئے نمازی
21:43یہ ساری زندگی کا رخ کیا ہو
21:45اللہ تعالی راضی ہو جائیں
21:47اللہ تعالی مجھے اور آپ کو
21:48ہم سب کو عمل کی توفی عطا فرمائے
21:50الحمدللہ
21:51سورة الانعام کی منتخب آیات کا
21:53مختصر مطالعہ
21:54ہم نے آپ کے سامنے رکھا
21:55اب اس کے بعد حاصل کلام کے طور پر
21:58چند اہم نکتے آپ کے سامنے رکھنا چاہیں گے
22:00سب سے پہلے
22:01پہلا نکتہ نوٹ کیجئے گا
22:02حاصل کلام کے طور پر
22:04ہمیں اپنے تمام معاملات میں
22:05قرآن و سنت کی ہدایات کو
22:07حتمی میار بنانا چاہیے
22:08نہ کہ کسرت آرہ کو
22:10کسرت رائے نہیں
22:11اللہ اس کے رسول کے حکم کو
22:13حتمی میار بنانا ہے
22:14اگلا نکتہ ہے
22:15نور قرآن سے دل منور ہو جائے
22:17تو بندہ خیر کا داعی بن کر
22:19معاشرے میں پھیلے
22:20گمراہی کے اندھیروں کو
22:22دور کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے
22:24اللہ ہمارے دلوں کو
22:26نور قرآن سے منور فرمائے
22:27اور قرآن پاکی دعوت کو لے کر
22:29اٹھ کھڑا ہونے کی توفیق
22:30عطا فرمائے
22:31تیسا نکتہ
22:32مردار
22:33بہتا ہوا خون
22:34سور کا گوشت
22:35اور جن جانور پر
22:37ذبح کے وقت
22:37غیر اللہ کا نام لیا جائے
22:39وہ سب حرام ہیں
22:40یہ چار باتوں کی حرمت کا ذکر آیا تھا
22:42اگلا نکتہ ہے
22:43اللہ تعالی نے ہمیں شرک سے بچنے
22:45والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے
22:47اور ظاہری اور باطنی
22:49دونوں طرح کے
22:50گناہوں سے بچنے کا حکم دیا ہے
22:52اللہ تمام گناہوں سے بچنے کی
22:54ہمیں توفیق عطا فرمائے
22:56اللہ تعالی نے ہمیں یتیم سے
22:57حسن سلوک
22:58نابطول میں انصاف
23:00عدل کی بات
23:01اور اللہ سبحانہ وتعالی کے عہد
23:03کو پورا کرنے کا حکم فرمایا ہے
23:05اور آخری بات
23:06ہماری نماز و قربانی
23:08اور ہمارا جینا و مرنا
23:09سب اللہ سبحانہ وتعالی کی
23:11رضا کے حصول کے لیے ہونا چاہیے
23:13اللہ اسی پر ہمیں عمل کی توفیق
23:15عطا فرمائے
23:16اور اسی قیفیت پر
23:17اللہ ہمیں موت عطا فرمائے
23:18ناظر کرام سسلہ جاری رہے گا
23:20ایک وقفہ دیتا
23:21اس کے بعد انشاءاللہ تعالی
23:22آپ سے ملاقات ہوتی ہے
23:23السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
23:25السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
23:27ناظر کرام خوش حامدید
23:28کہتے ہیں آپ کو
23:29اللہ تعالی کی توفیق سے
23:31خلاصہ مزامین قرآن حکیم کا
23:33سسلہ جاری ہے
23:34آج قرآن حکیم کے
23:35پارہ نمبر آٹھ کا
23:36ہم مطالعہ کر رہے ہیں
23:37پھر ایک سے پہلے ہم نے
23:38سورہ نعام کی منتخب آیات کا
23:40مطالعہ اور حاصل کلام
23:41آپ کے خدمت پر پیش کی ہے
23:43اب سورة العراف کا
23:44مطالعہ ہم شروع کر رہے ہیں
23:45اب پارہ نمبر آٹھ میں
23:47سورہ عراف کی آیت نمبر ایک
23:49تا آیت نمبر ستاسی تک
23:50کی آیات شامل ہیں
23:52آغاز کرتے ہیں
23:53سورة العراف کا
23:54تو سب سے پہلے
23:55سورة العراف کا تعرف
23:57مختصر نکات کی صورت میں
23:58آپ کے سامنے رکھتے ہیں
24:00سب سے پہلے اہم بات یہ ہے
24:01کہ کلمات کے لحاظ سے
24:03آیات نہیں
24:04کلمات کے لحاظ سے
24:06یہ سب سے بڑی مکی صورت ہے
24:08جو مکی دور کے آخر میں
24:10نازل ہوئی
24:10اپنے سائز اور حجم
24:12کے اعتبار سے
24:13یہ طویل ترین مکی صورت ہے
24:15جو مکی دور کے آخری
24:17حصے میں نازل ہوئی
24:18اب آپ کے ذہن میں سوال آ سکتا ہے
24:20آیات کے اعتبار سے
24:21طویل ترین مکی صورت
24:23کونسی ہے
24:23تو آیات کی تعداد کے اعتبار سے طویل صورت ہے
24:26صورت الشعارہ
24:28آیات کی تعداد زیادہ ہے صورت عارف سے
24:30لیکن کلمات کی لحاظ سے
24:32سائز کے اعتبار سے طویل ترین مکی صورت سورت العارف ہے
24:36مکی دور کے آخر میں نازل ہوئی
24:38تو مکی دور میں جو صورتیں نازل ہوئیں
24:41ان میں عقائد اور ایمانیات کا بیان بھی آتا ہے
24:44سابقہ اقوام کا تذکرہ بھی آتا ہے
24:46اور جنت و جہنم کا بیان بھی آتا ہے
24:49یہ صورت جو ہے بڑی منفرد مزاج کی ہے
24:51کہ اس میں تاریخ انسانی کا بیان ہمارے سامنے آتا ہے
24:55تاریخ انسانی کے بیان کے ذیل میں اگلا نکتہ ہے
24:58انسانیت کے ابتداء یعنی
25:00تخلیق آدم علیہ السلام
25:02اور انسانیت کی انتہا
25:04یعنی اہل جنت و اہل جہنم کا بیان ہے
25:07ازل اور عبد کے حالات
25:10یہ تاریخ انسانی کا بیان آگیا
25:11گو کہ آگے فیوچر کی بات ہے
25:13تو ازل سے عبد تک کے حالات
25:15انسانیت کا سسلہ کیسے شروع ہوا
25:17آدم علیہ السلام کے ذریعے
25:18اس وقت کے حالات
25:20اور اختتام کی طرف کیا ہے
25:21آخرت میں کیا ہے
25:22کل انتہا پر کیا ہے
25:24وہ جنت اور جہنم کے معاملات
25:26تو آل جنت اور اہل جہنم
25:27ان کا ذکر بھی صورت العراف میں آیا ہے
25:29اب درمیانی حصہ
25:31ایک ازل کا بیان ہے
25:32ایک عبد کا بیان ہے
25:33تو ایک درمیانی حصہ بھی ہے
25:35آئیو اس کو جانتے ہیں
25:36انسانی تاریخ کے درمیانی حصے کو
25:39چھے انبیاء کرام علیہ السلام کے
25:41قصوں کی صورت میں ذکر کیا گیا ہے
25:43چھے رسولوں کے حالات
25:45اس صورت میں آئے ہیں
25:46اور بار بار دیگر صورتوں میں بھی آتے ہیں
25:48سورہ حود میں بھی آتے ہیں
25:49سورہ شعران میں بھی آتے ہیں
25:51چھے رسولوں میں سے
25:53تین وہ ہیں
25:54جو حضرت عبرائیم علیہ السلام سے پہلے ہیں
25:56حضرت نوح علیہ السلام
25:58حضرت حود علیہ السلام
25:59حضرت صالح علیہ السلام
26:01ان کی قوموں کا ذکر
26:02ابراہیم علیہ السلام سے پہلے کی یہ قوام ہے
26:05تین کا ذکر آتا ہے
26:06پھر ابراہیم علیہ السلام کا دور ہے
26:08اور تین رسول ابراہیم علیہ السلام کے بعد
26:10حضرت لوت علیہ السلام
26:12حضرت شعیب علیہ السلام
26:13اور حضرت موسیٰ علیہ السلام
26:15تو تین رسول ابراہیم علیہ السلام سے پہلے
26:18اور تین رسول ابراہیم علیہ السلام کے بعد
26:20یہ چھے رسولوں کے حالات اور واقعات
26:22سورہ آراف میں ہمارے سامنے آتے ہیں
26:25پیغمبروں کی دعوت کیا تھی
26:26دعوت توحید تھی
26:27لوگوں نے حد دھرمی دکھائی قوموں نے نافرمانی کی
26:30جانتے بوشتے انکار کیا
26:32پھر ان قوموں کو مٹا دیا گیا
26:34یہ ساری داستانیں
26:35دعوت کے اعتبار سے تبلیغ کے اعتبار سے
26:38پیغمبروں کی محنت کے اعتبار سے
26:40سورہ آراف میں ہمارے سامنے آتی ہیں
26:43تو یہ ہے چھے رسولوں کے حالات
26:45اور واقعات سورہ آراف میں بیان ہوئے
26:47اور یہ گویا انسانی تاریخ کا
26:49درمیانی دور اس کا تذکرہ
26:50ہمارے سامنے آتا ہے
26:51اگلا نقطہ ہے
26:52اس بات کا بھی ذکر ہے
26:54کہ از خود اللہ سبحانہ وتعالی کی
26:57حلال کردہ پاکیزہ چیزوں کو
26:58حرام کرنے کا اختیار کسی کو نہیں
27:01یہ اختیار اللہ سبحانہ وتعالی کا ہے
27:03حلال قرار دینا حرام قرار دینا
27:05یہ اللہ کا اختیار اور ہاں
27:07اللہ کے اذن سے یہ اللہ کے رسول
27:09علیہ السلام کا بھی اختیار ہے
27:10لیکن جو لوگ خود سے فیصلے کرتے ہیں
27:12منچاہ فیصلے کرتے ہیں
27:13جیسے کہ مشیقین کا ذکر بھی
27:14سورہ انعام میں آتا ہے
27:15قطعان ان کا یہ تصور
27:17اور یہ رویہ غلط ہے
27:19آگے لکھا ہے
27:20جو چیزیں حرام ہیں
27:22مثلا فہاشی
27:23برائی
27:24ہر قسم کا گناہ
27:25ظلم
27:26شرک وغیرہ
27:27انہیں اللہ سبحانہ وتعالی نے
27:28خود بیان فرما دیا ہے
27:30تم منچاہ فیصل نہ کرو
27:31حلال حرام کے
27:32کیا حرام ہے
27:33یہ خود اللہ نے بیان کیا ہے
27:35سورہ انعام میں بھی باتیں تھیں
27:37سورة العراف میں
27:38اس کا ذکر ہمیں ملتا ہے
27:39یہ چند باتیں تھیں
27:41سورہ عراف کے تعریف کے اعتبار سے
27:42اب چلتے ہیں
27:43ترتیب کے مطابق
27:44چند منتخب آیات کے مطالق کے طرف
27:47سورة العراف میں سے
27:48سب سے بہت دیس آیت کا انتخاب کیا گیا
27:50وہ آیت انبر ہے
27:51چھے
27:51ہر ایک کو جواب دینا ہے
27:53جی ہاں
27:53رسولوں کو بھی جواب دینا ہے
27:55اللہ کے سامنے
27:56اور امتوں نے بھی جواب دینا ہے
27:57یہ ذکر آرہا ہے
27:58سورہ عراف آیت نمبر چھے میں
28:00ارشاد ہوا
28:02فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَئِهِمْ
28:04وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ
28:06پس ہم ضرور پوچھیں گے
28:08ان سے
28:08جن کی طرف رسولوں کو بھیجا گیا
28:10اور ہم ضرور سوال کریں گے
28:13رسولوں سے
28:14رسولوں سے بھی سوال ہوگا
28:16اور امتوں سے بھی سوال ہوگا
28:18رسولوں نے پہنچایا نہیں
28:20پوچھا جائے گا
28:20یہی وجہ ہے
28:21آپ اور ہم جانتے ہیں
28:22کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
28:25حجد الویدہ کے موقع پر
28:27خطاب عطا فرمانے کے بعد
28:29خطبہ حجد الویدہ عطا فرمانے کے بعد
28:31آخر میں پوچھا
28:33اے میرے صحابہ
28:34کیا میں نے تم تک اللہ کے پیغام کو پہنچا دیا
28:36سب نے یک زبان ہو کر
28:38عرض کی حضور علیہ السلام
28:39آپ نے حق نصیحت
28:41حق وسیعت
28:42حق امانت
28:43ادا فرما دیا
28:44پھر اللہ کے نبی مکرم علیہ السلام
28:46نے اپنے مبارک ہاتھ کی
28:47مبارک انگڑی
28:48شہادت والی انگڑی
28:49آسمان کی طرف بلند کی
28:50اور عرض کی
28:51اللہم مشہد
28:52اللہ تو گوا رہے
28:53یہ گواہی دے رہے
28:54میں نے پہنچا دیا
28:54اللہ تو گوا رہے
28:55یہ گواہی دے رہے
28:56میں نے پہنچا دیا
28:57یہ تو ہیں
28:58ہر رسول نے جواب دینا ہے
28:59اور حضور علیہ السلام نے تو پہنچا دیا
29:02ہم سے بھی تو سوال ہوگا
29:03اللہ تعالیٰ اس آیت میں کیا فرما رہا ہے
29:05ان سے بھی پوچھا جائے گا
29:07جن کی طرف رسولوں کو بھیجا گیا
29:08اور رسولوں سے بھی پوچھا جائے گا
29:10تو رسولوں نے تو پہنچا دیا
29:11اب ہم تک پہنچا ہم کیا کر رہے ہیں
29:13قرآن پاک سمجھ کر پڑھنا
29:14دین کا علم حاصل کرنا
29:16دین کا بنیاد علم حاصل کرنا
29:17ہر مسلمان پر فرد ہے
29:18پہ دین پر عمل کرنا
29:20اور بھی ختمی نبوت کے بعد
29:21کار رسالت کا معاملہ
29:22اللہ کے پیغام کو پہنچانے کی
29:24ذمہ داری کا معاملہ
29:25ہمارے کاندوں پر ہے
29:26اب ہم نے پہنچانا ہے انسانیت کو
29:28اللہ کا پیغام
29:29اپنے قول سے
29:30اپنے کردار سے
29:30اجتماعی جد و جہد کے ذریعے
29:32اللہ تعالیٰ کے ہاں
29:33ان سارے امور
29:34اور یہ شہادت کی جو ذمہ داری
29:36ہم نے ادا کرنی ہے
29:38گواہی دینی
29:39اللہ کے دین کی
29:39اس کے بارے میں سوال ہوگا
29:41اللہ تعالیٰ ہمیں تیاری کی توفیق
29:43عطا فرمائے
29:43اگلی آیت سورہ آراف کی آیت
29:46امبر تئیس
29:47آجزانہ دعا
29:47اور مشہور دعا کس کی
29:48ہمارے اول والدین
29:50آدم وحوہ علیہ السلام کی دعا
29:52حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ بھی
29:54سورہ آراف میں ذکر کیا گیا
29:57لغزش کا معاملہ ہو گیا تھا
29:58مشہور واقعہ ہے
29:59اللہ تعالیٰ ہی نے الفاظ سکھا دیئے
30:01سورہ البقرہ میں ذکر آتا ہے
30:03کہ آدم علیہ السلام نے
30:04اللہ سے چند کلمات سیکھ لی
30:05وہ کلمات کیا ہیں
30:06وہ آجزانہ دعا کے الفاظ کیا ہیں
30:08یہ سورہ آراف آیت امبر تئیس میں
30:10قالا ان دونوں نے عرض کی
30:12آدم وحوہ علیہ السلام دونوں نے عرض کی
30:14ربنا ظلمنا انفسنا
30:17اے ہمارے رب
30:18ہم نے اپنی جانوں کا نقصان کر لیا
30:20وَإِلَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا
30:22اور اگر تو نے ہمیں بخش نہ دیا
30:24اور ہم پر رحم نہ فرمایا
30:25لَلَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
30:27تو ہم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے
30:29یہ بڑی عاجزانہ دعا ہے
30:31کہ اے ہمارے رب
30:32ہم نے اپنی جانوں کا نقصان کر لیا
30:34تو نے اگر بخشش نہ فرمائی
30:35تو نے اگر رحم نہ فرمایا
30:37ہم تو خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے
30:39اچھا آپ اور ہم جانتے ہیں
30:41اس قصے کے بارے میں
30:41شیطان اڑ گیا تھا نا
30:43اس نے غلط ہی کی مگر اڑ گیا
30:44اور آدم علیہ السلام جھک گئے
30:46اللہ اکبر
30:47اعزاز ورکرام کس کا ہوا
30:49آدم علیہ السلام کا
30:50اللہ نے خلافت کی ذمہ داری
30:53عطا فرما کر
30:54اکرام کے ساتھ زمین پر
30:56ان کو بھیجا ہے
30:56سبحان اللہ
30:57تو آدمیت کا طرز عمل کیا ہے
30:59خطا ہو جائیں
31:00اعتراف کرنا
31:01جھک جانا
31:03دعا کرنا
31:04اور رونا اللہ کے سامنے
31:05اور آدم علیہ السلام کا
31:07مقام اللہ نے بلند فرمایا
31:09شیطنت کیا ہے
31:10اڑ جانا
31:10جی شیطان توڑ گیا
31:12اور اڑنے کے ساتھ
31:13جسٹفیکیشن دیلے لگا
31:15اللہ تیرا فیصلہ ٹھیک نہیں
31:16معاذ اللہ
31:16یہ آدم بنا ہے
31:17مٹی سے
31:18میں بنا ہوں آگ سے
31:19آگ اوپر جاتی
31:20مٹی نیشے جاتی
31:21میں کیوں چھکوں
31:21یہ اڑنا
31:23جسٹفیکیشن دینا
31:24اپنے غلطیوں کے لیے
31:25یہ شیطنت ہے
31:26آدمیت کیا ہے
31:27اعتراف
31:28اور اللہ کے سامنے
31:29آجزی
31:30اور رجوع
31:30اراللہ
31:31اور توبہ کرنا
31:32اللہ ہمیں سچی پکی توبہ کی توفیق
31:34عطا فرمائے
31:35اگلی آیت سورہ
31:36آراف کی آیت
31:37امبر چھبیس
31:38لباس کی اہمیت
31:39کا ذکر آ رہا ہے
31:40جی
31:40لباس اللہ تعالیٰ کی
31:41نعمت بھی ہے
31:42اور اللہ تعالیٰ کی
31:43نشانیوں میں سے
31:44ایک اہم نشانی بھی
31:45لباس کی اہمیت
31:46کا ذکر
31:46سورہ آراف
31:47آیت نمبر چھبیس
31:48میں رشاد ہو رہا ہے
31:49یا بنی آدم
31:51قد الزلنا
31:52علیکم لباسا
31:53اے بنی آدم
31:55ہم نے تمہاری طرف
31:56نازل فرمایا
31:57لباس
31:57یعنی
31:58ہم نے تمہیں لباس
31:59عطا کیا
32:01وہ تمہارے
32:03پوشیدہ مقامات
32:04کو چھپاتا ہے
32:05اور
32:05زینت کا
32:06ذریعہ بھی ہے
32:07و لباس
32:07تقوی
32:08ذالک خیر
32:09اور تقوی
32:10کا لباس
32:10یہ بہتر ہے
32:11ذالک من آیات اللہ
32:13یہ اللہ تعالیٰ کی
32:14نشانیوں میں سے ہے
32:15لعلہم یذکرون
32:16تاکہ وہ
32:17نصیت حاصل کریں
32:18بنی آدم
32:19کو لباس
32:19کا عطا کیا جانا
32:21اللہ کی بہت
32:22بڑی نعمت ہے
32:22اور انزلنا میں
32:24اللہ کی طرف سے
32:25شرف اور
32:25اکرام کیے جانے
32:27کا اظہار ہے
32:27انسانوں اور
32:28جانوروں میں
32:30بہت سارے
32:31فرق ہیں
32:31ایک بڑا فرق کیا ہے
32:33جانور لباس
32:34نہیں پہنتے جی
32:35اللہ اکبر
32:37انسانوں کو
32:37اللہ نے
32:38لباس کی
32:38نعمت
32:39عطا فرمائی ہے
32:40تو بارے پوشیدہ
32:41مقامات کو وہ
32:41پوشیدہ بھی رکھتا ہے
32:43چھپاتا بھی ہے
32:43اور زینت کا
32:44اظہار بھی ہے
32:45جو اس لباس سے
32:46ہو جایا کرتا ہے
32:47بہت سے لوگ
32:48کہتے ہیں یہ کیا
32:48تکلف لباس کا
32:49یہ کیا پردے کے
32:50معاملات
32:50یہ کیا جسم کو
32:51ڈھاپنا
32:52یہ کیا سطر
32:52ہجاب کے حکامات
32:53ارے بھئی تکلف
32:54کاہے کو ہے
32:55دیکھو جی
32:56یہ تکلف کاہے کو ہے
32:57اور ایڈوانسمنٹ
32:58کی اس چیز کا نام ہے
32:59برہنا ہونا
33:00معاذ اللہ
33:01لباس کا کم ہونا
33:02معاذ اللہ
33:02لباس کا ختم ہونا
33:04اس کو ایڈوانسمنٹ
33:05کہا جا رہا ہے
33:06تو جانور زیادہ
33:07ایڈوانسڈ نہ ہوئے
33:09جانور زیادہ
33:10ایڈوانسڈ نہ ہوئے
33:11بلکلی لباس
33:12استعمال نہیں کرتے
33:13کیسی بے وقوفی
33:14کی بات ہے
33:14اللہ فرما رہے
33:15کہ نہیں
33:15ہم نے نازل کیا
33:17تمہارے لباس
33:18یہ شرف اور
33:18اکرام کی طرف
33:19اشارہ
33:20اور یہ نعمت
33:21عطا ہو رہی ہے
33:22تمہارے جسم کو
33:22ڈھاپتا بھی ہے
33:23اور تمہاری زینت
33:24کا اظہار بھی ہے
33:25ہاں
33:25ایک جسم کو
33:26ڈھاپنے کے لئے
33:27ظاہر کا لباس
33:28یہ بھی اہم ہے
33:29شریعت کے احکامات
33:30سیکھنے چاہیے
33:31سطر حجاب
33:31پردے کے بارے میں
33:32اور ان کے پاس
33:33ذاری کرنی چاہیے
33:34کیونکہ یہ دین
33:34کے احکامات ہیں
33:35اللہ ہمیں
33:36عمل کی توفیق
33:37عطا فرمائے
33:37ہماری تہذیب میں
33:39اور ایک بے خدا
33:39تہذیب میں کیا فرق ہے
33:40ہماری تہذیب
33:41کتاب اس ننت کی
33:42تعلیم کی بنیاد پر
33:43کھڑی ہو
33:44اس تہذیب میں
33:45شرف انسان کا
33:46کہ وہ لباس میں
33:47مستور رہے
33:48اور اس کو پوشیدہ
33:49رکھے اپنے جسم کو
33:50اور بے خدا
33:51تہذیب کا
33:52معاملہ کیا ہے
33:53نیوڈیٹی کا
33:53معاملہ ہے
33:54بے لباسی ہونے
33:55کا معاملہ ہے
33:56برہنہ ہونے
33:56کا معاملہ ہے
33:57زمین آسمان
33:58کا فرق ہو گیا
33:58ہاں آگے فرمایا
34:01و لباس و تقوی
34:02ذالی کا خیر
34:03اور تقوی کا
34:03لباس بہتر ہے
34:04کیا مطلب
34:05ایک ہے
34:06ظاہر کا
34:07ہمارا جسم
34:07اس کو یہ لباس
34:08چھپاتا ہے
34:09اچھا یہاں
34:10کٹ لگ جاتا ہے
34:19یہ لباس کا
34:21کپڑا
34:21ڈھاپتا ہے
34:22سبحان اللہ
34:23تقوی ہمارے باطن
34:25کو
34:25عیوب کو
34:26ڈھاپتا
34:26اور ان سے
34:27بچاتا ہے
34:27خوف خدا ہوگا
34:28تو بندہ
34:29گناہ سے بچے گا
34:30گناہ سے
34:31ہماری روح پر
34:32دھبا پڑ جاتا ہے
34:33روح آلودہ
34:34ہو جاتی ہے
34:34یہ تقوی کا
34:35لباس کیا ہے
34:36یہ تقوی کا
34:37لباس بہتر ہے
34:38یہ تقوی کا
34:39لباس ہمارے
34:40باطنی عیوب
34:41کو چھپائے گا
34:42اور باطنی عیوب
34:43سے بچائے گا
34:44تقوی کیا ہے
34:45خوف خدا
34:45خوف خدا
34:46دل میں ہو
34:47بندہ
34:48گناہ سے بچے گا
34:49باطن کی عیوب سے
34:50اور گناہ سے
34:51اس کی
34:51بچت ہو جائے گی
34:53تو ظاہر کا لباس بھی
34:54اور باطن کا لباس بھی
34:56فرمائے
34:56ذالکہ من آیات اللہ
34:57یہ اللہ تعالیٰ کی
34:58نشانیوں میں سے
34:59تمہیں لباس کی
35:00توفیق عطا کرنا
35:01تمہیں بامخص زندگی
35:02گزارنے کا
35:03طریقہ بتانا
35:04تمہارے لئے
35:05ہدایت کا عطا کیا جانا
35:06تمہیں تقوی کی
35:07نعمت کا عطا کیا جانا
35:08یہ سب اللہ کی
35:10نعمتوں میں سے
35:10یہ ظاہر کا لباس
35:11یہ باطن کا لباس
35:12ذالکہ من آیات اللہ
35:14یہ اللہ تعالیٰ کی
35:15آیات و نشانیوں میں سے ہیں
35:16لعلہم یذکرون
35:17تاکہ وہ
35:18نفسیت حاصل کریں
35:19اگلی آیت سورہ
35:21آراف کی آیت
35:22امس ستائیس
35:22ٹوئنڈی سیون
35:23اور بہت ایک اہم مقام
35:25آدم علیہ السلام
35:26کا قصہ آ رہا ہے
35:27اور وہاں
35:28آدم علیہ السلام کے قصے کے
35:30ساتھ ساتھ
35:30ابلیس کا تذکرہ
35:31اس کے حملوں کا تذکرہ
35:33اس کی طرف سے
35:34آنے والے وسوسوں کا تذکرہ
35:35اور اس کے ٹیکٹکس کیا ہیں
35:37اس کے حرکتیں کیا ہیں
35:40حربیں کیا ہیں
35:41حملیں کیا ہیں
35:42جن کے ذریعے وہ
35:43انسانوں کو گمراہ کرنے کی
35:44کوشش کرتا ہے
35:45آئیے سمجھتے ہیں
35:46سورہ آراف آیت
35:47ستائیس رشاد ہوا
35:48یا بنی آدم
35:50لا یفتننکم الشیطان
35:51اے بنی آدم
35:53اے انسانوں دیکھو
35:54تمہیں شیطان کے فتنے میں
35:56مبتلا نہ کر دے
35:59جیسے کہ اسے نکال لیا
36:01تمہارے والدین کو جنت سے
36:03آدم ہوا کا قصہ علیہ السلام
36:05ان سے ان کے لباس
36:11کے کپڑے اتروا دیئے
36:13تاکہ ان کے پوشیدہ
36:14مقامات کو ظاہر کر دے
36:16یہ لباس ہمارے جسم کو
36:18پوشیدہ رکھتا ہے
36:19اچھا آدم علیہ السلام کا قصہ
36:21ہماری سبق آموزی کے لیے ہے
36:23ہماری رحنمائی کے لیے
36:25ہماری نصیحت کے لیے ہے
36:27ذہن میں رہے
36:28ہمیں سمجھانے کے لیے
36:29آگے فرمایا
36:30انہو یراکم ہوا وقبیل
36:32ومن حیث لا ترونہم
36:34بے شک وہ
36:35یعنی شیطان
36:35اور اس کی پوری پارٹی
36:37اس کا قبیلہ
36:37اس کے لوگ تمہیں وہاں سے دیکھتے
36:39جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے
36:41اللہ اکبر کبیرہ
36:42جنات میں سے شیطان
36:43جنات نظر نہیں آتے
36:45یہ تمہیں وہاں سے دیکھتے
36:46جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھتے
36:47دو باتیں
36:48دیکھو چوکن نہ رہنا
36:50یہ شیطان تمہیں
36:51ابلیس تمہیں فتنوں میں
36:52مبتلا نہ کر دے
36:53جیسے آدم حوالی مسلم کے
36:54کپڑے اتروائے
36:55اور ان سے ان کے
36:56پوشیدہ مقامات کو
36:57جو ہے وہ کھلوا ڈالا
36:58اور بہرحال پھر ایک معاملہ ہوا
37:00اور انہوں نے جنت کے
37:02درختوں کے پتوں سے
37:03اپنے جسموں کو ڈھاپا
37:04کس بات کی طرف اشارہ
37:06شیطان کا بڑا حملہ
37:07لباس پر
37:08اور لباس ہماری
37:09حیاء کی حفاظت کا
37:10بہت بڑا دریہ
37:11ہماری حیاء پر
37:12اور حیاء گئی
37:13تو سب کچھ چلا گیا
37:13حدیث ہے جامع ترمیزی میں
37:15نبی علیہ السلام نے فرمایا
37:17حیاء اور ایمان
37:18دونوں کمپینینز
37:19دونوں ساتھی ہیں
37:19اگر ایک چلا جائے
37:20دوسرا بھی چلا جاتا ہے
37:21دو دوست بیٹھے ہو جائے
37:22ایک اٹھتا ہے
37:22دوسرا بھی اٹھ جاتا ہے
37:23حیاء گئی
37:24ایمان چلا جائے گا
37:25تو ہماری حیاء پر اٹھتا ہے
37:26کہ شیطان کو
37:27وہ بے حیاء بنانا چاہتا ہے
37:28اور حیاء کی حفاظت
37:29کا بہت بڑا دریہ
37:31لباس ہے
37:32تو وہ لباس چھیننا چاہتا ہے
37:33اچھا
37:34جیسے ہی لباس اتر گئے
37:35ان کو احساس ہوا
37:36آدم ہوا علیہ السلام کو
37:38وہ فوراں جنر کے
37:39درختوں کے پتوں سے
37:40اپنے جسموں کو
37:41ڈھاپنے لگے
37:42فطرت انسانی میں
37:43حیاء کا تصور
37:45اور یہ پوشیدہ رکھنے کا
37:46تصور موجود ہے
37:47اشارہ ہو گیا
37:48شیطان اور اس کا قبیل
37:49اس کے پارٹی
37:50وہاں سے تمہیں دیکھتے ہیں
37:51جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے
37:52اب کیا کریں جی
37:53اب کیا کریں
37:54اب اللہ تعالیٰ کی حضور دعا مانگیں
37:56اللہ تعالیٰ نے
37:57شیطان کے حملوں سے بچنے کی دعائیں بتائیں ہیں
38:00سورة الفلق میں
38:01باہر کے شروع سے بچنے کے لئے دعا کرتے ہیں
38:03سورة الناس میں
38:04اندر کا شر
38:07ایسا ہی ہے نا
38:08تو یہ سورة الفلق
38:09اور سورة الناس
38:10ہر فرد نماز کے بعد بھی
38:11اور آت کو سوتے وقت بھی
38:12تلاوت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین فرمائی
38:15بندہ لباس چینج کرتا ہے
38:17تو حدیث میں دعا بتائیں گئیں
38:18بسم اللہ
38:19اتارتے وقت بس بسم اللہ
38:21دو الفاظ
38:21بسم اللہ پڑھ لیں
38:22پروٹیکشن ہو جائے گی
38:24بید الخلا میں جاتے ہیں نا
38:25وخشوں میں
38:26بید الخلا میں جانے سے پہلے کی دعا کیا ہے
38:31اہلا میں تیری پناہ میں آنا چاہتا ہوں
38:33ناپاک
38:34مرد اور عورتیں جنات میں سے
38:36میل فی میل
38:36ناپاک جو بھی ہیں
38:37مرد اور عورت جنات میں سے
38:39ان کے حملوں سے تیری پناہ لینا چاہتا ہوں
38:41اے اللہ
38:42یہ بید الخلا میں جانے سے پہلے کی دعا
38:44زوجین کا شہر بیوی کا جب تعلق قائم ہوتا ہے
38:47لوگ سیکھتے نہیں باتوں کو
38:48جب تعلق قائم ہوتا ہے
38:49تو بے لباسے بھی ہوتی ہیں نا
38:51اس موقع کی دعائیں بھی
38:55اللہ ہم دونوں کو بچا لے شیطان کے حملوں سے
39:01اور جو رزق
39:01یعنی اولاد تو ہمیں آئندہ عطا فرمائے
39:03کس قدر دور کی دعا
39:04تو اولاد اہلا جو آئندہ عطا فرمائے
39:07اس کو بھی شیطان کے حملوں سے بچا
39:08اللہ اکبر کبیرہ
39:09اور اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
39:12جب یہ وسوس سے آتے تو پڑھنے کی
39:14قرآن پاک میں تلقین کی گئی
39:16یہ ہے جو پروٹیکشن ہمیں ملے گی
39:18کیونکہ شیطان اور اس کی پارٹی گم دیکھ نہیں سکتے نا
39:20تو اللہ کی طرف سے عطا کرنا دعائیں
39:23یہ استعادہ
39:24یہ اللہ کے حضور دعا کرنا
39:26اتجا کرنا حفاظت کے لیے
39:27یہ ہمیں پروٹیکشن دے گا
39:28انشاءاللہ تعالی
39:29اگلی آیت سور عارف کی آیت نمبر
39:31اکتس تھرٹی ون
39:32زینت اور کھانے پینے کے آداب
39:34گیجئے قرآن پاک کس قدر تفصیل سے
39:37ہمیں رہنمائی اور آداب بھی سکھا رہا ہے
39:39زینت اور کھانے پینے کے بارے میں
39:41کچھ آداب کرسے
39:42کہ سور عارف آیت نمبر
39:43تھرٹی ون
39:44اشاد ہوا
39:45یا بنی آدم خضو زینتکم
39:48عند کل مسجد
39:49اے بنی آدم
39:50ہر مسجد یعنی نماز کے موقع پر
39:52اپنی زینت کو اختیار کر لو
39:54وَقُلُوا وَشْرَبُوا
39:56اور کھاؤو اور پیو
39:57وَلَا تُصْرِفُوا
39:58اور زیادتی نہ کرو
39:59اِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُصْرِفِين
40:01بے شک اللہ
40:02زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں
40:04فرماتا
40:05پہلی بات کیا ہے
40:06ہر نماز کے موقع پر
40:07زینت کا اختیار کرنا
40:08جی اللہ کے سامنے کھڑے ہیں نا
40:11اوہ بھئی کم از کم یہ ہے
40:12کہ ایسا لباس تو پہن لو
40:14جس کو پہن کر
40:15عام طور پر لوگوں کے سامنے جانا
40:17تمہیں گوارہ ہو
40:18یہ کیا کہ
40:20فجر کی نماز میں اٹھے
40:21پتہ نہیں میلہ سا
40:22ایک کرتہ پہن لیا
40:23پتہ نہیں کونسا پرانا سا پجامہ پہن لیا
40:26عجیب حلیہ بنا کر مسجد میں آ رہے
40:27نہ نہ نہ
40:28قیمتی مہنگے لباس کی بات نہیں ہو رہی
40:31ایت اتنا ہو کم اسکم علماء فرماتے
40:33اتنا تو ہو کہ یہ پہن کر
40:35بندہ بندے کے سامنے کھڑا ہو سکے
40:36اور نماز میں رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں
40:39صاف سترہ مناسب لباس ہونا چاہیے
40:42ایک بات تو یہ آگئے
40:43دوسری بات
40:43وَقُلُوا وَشْرَبُوا وَخْحَاورُ پیو
40:45نعمت اللہ نے دی ہیں
40:46ہاں حلال پر ہاں
40:47حرام کے ذریعے نہیں کمانا
40:48حلال کے ذریعے
40:49نعمتوں کو استعمال کرو
40:50وَقُلُوا وَشْرَبُوا وَخْحَاورُ پیو
40:52وَلَا تُصْرِفُوا
40:53اور اسراف نہ کرو
40:54زیادتی نہ کرو
40:55اسراف کیا ہے
40:56ضرورت ہے کھانے کی کھاؤ
40:57ضرورت سے زیادہ مت کھاؤ بھئی
41:00پہننے کی ضرورت ہے پہنو
41:01ضرورت سے زیادہ مہنگا نہ پہنو
41:03اسی طرح برتنے کی چیز ہے
41:05برت لو
41:05ضرورت سے زیادہ خرش نہ کرو
41:07یہ اسراف کہلاتا ہے
41:09اور اللہ کی امانت ہے
41:10حلال کی رقم
41:11حلال کی آمدن
41:12یہ جو حلال سے کمائے
41:13اللہ کی طرف سے امانت ہے
41:15اس کو جائز میں خرش کرنا ہے
41:17ناجائز میں خرش نہیں کرنا
41:18اور جائز میں خرش کرتے وقت بھی
41:20زیادتی نہیں کرنے
41:21ایک جگہ قرآن پاک میں
41:22سور بنی اسرائیل میں ذکر آتا ہے
41:24وہاں پڑھیں گے پندر وے پارے میں
41:25کہ اللہ تعالیٰ
41:27تبذیر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
41:29ان المبدرین کانو اخوان شیعاتین
41:31تبذیر
41:32بیجا اڑانے والے
41:33فضول میں خرش کرنے والے
41:34ناجائز میں خرش کرنے والے
41:36وہ شیعاتین کے بھائی
41:36تو بیجا اور ناجائز خرش کرنا
41:38یہ بھی ناپسند
41:39اور ضرورت پر
41:41ضرورت سے زائد خرش کرنا
41:43یہ بھی اللہ کو ناپسند ہے
41:45انہو لا يحب المصرفین
41:47بے شک اللہ
41:47اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا
41:50قیامت کے دن پانس سوالات ہوں گے
41:52جامع ترمیزی کی روایت
41:53زندگی کہا لگائی
41:54جوانی کہاں کھپائی
41:56مال کہاں سے کمایا
41:57مال کہاں خرش کیا
41:58اور جو علم حاصل کیا
41:59اس پر کتنا عمل کیا
42:00پانچ میں سے دو سوال
42:02کمانے و خرش کرنے کے بارے میں
42:03اور حدیث میں ہے کہ
42:04بندہ جب تک اپنے
42:05یہ پانس سوالات کے جوابات
42:07نہیں دے دے گا
42:08اس کے قطم
42:08اس کی جگہ سے ہٹ نہیں سکیں گے
42:10کمانے پر بھی سوال ہے
42:11اور خرش کرنے پر بھی سوال ہے
42:13ولا تصرفو
42:14اور اسراف نہ کرو
42:15زیادتی نہ کرو
42:16انہو لا يحب المصرفین
42:17بشک اللہ
42:18زیادتی کرنے والوں کو
42:19پسند نہیں فرماتا
42:21اگلا مقام ہے
42:22سورہ آراف کی آیت امبر
42:23تہتاریس فورٹی تھری
42:24اہل جنت کا حمد کا ترانہ
42:26ازل کے واقعہ
42:27جنت والے جنت پہنچیں گے
42:28تو کیا کیفیت ہوگی
42:30فرمایا
42:30وَنَزَعْنَ مَا فِي صُدُورِهِ مِنْ غِلِّن
42:33اور جو ان کے سینوں میں
42:35جو کوئی کینہ ہوگا
42:36اللہ فرماتے ہیں
42:37ہم اسے نکال دیں گے
42:38تجریم تحتیم الانہار
42:40ان محلات بھی ہوں گے
42:41جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی
42:43وَقَالُ الْحَمْدُ لِلَّهِ
42:44الَّذِي هَدَانَ لِهَادَ
42:46اور وہ کہیں گے
42:46تمام شکر تعریف اللہ کے لیے
42:48اس سے یہاں تک کی ہدایت
42:49ہمیں عطا فرما دی
42:50جنت والوں کے دلوں میں
42:52کوئی کینہ کا دورت باقی نہیں بچے گی
42:54جنت سلامتی کا مقام ہاں
42:56ایمان والے بھی انسان ہوتے ہیں
42:58اندر کچھ نہ کچھ کھٹ پٹ ہو جاتی ہے
42:59اللہ صاف کر کے جنت میں داخل کرے گا
43:02جنت والے جنت پہنچیں گے
43:03تو کیا کہہ رہے ہیں
43:04الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَ لِهَادَ وَمَا كُنَّ
43:07لِنَا حَتَدِيَا لَوْ لَا حَدَانَ اللَّهِ
43:09تمام شکر تعریف اللہ سبحانہ وتعالی کے لیے
43:12اس نے یہاں تک کی ہدایت ہمیں عطا فرما دی
43:14اور ہم ہرگز ہدایت پانے والے نہ ہوتے
43:17اگر اللہ تعالی ہی ہمیں ہدایت نہ دیتا
43:19وہاں پہنچ کر بھی کس بات پر شکر ادا ہو رہے ہیں
43:22ہدایت پر پتا چلا
43:23ہدایت کی ضرورت کہاں تک ہے
43:25جنت میں داخلے تک ہدایت کی ضرورت ہے
43:28اہدین السرات المستقیم کی دعا
43:30دل کے گہرائی سے مانگنی چاہیے
43:32جنت میں داخلے تک ہدایت کے موتاج ہیں
43:35اللہ تعالی ہم سب کو جنت الفردوس عطا فرمائے
43:37اگلا مقام ہے
43:38سورہ آراف آیات پچاس اور اکاون
43:41نافرمانوں کا انجام
43:42اہل جنت کا ذکر بھی آگیا
43:44باہل جہنم کا بیان ہے
43:45اور وہاں مقالبے ہوں گے
43:47جنت والے جہنم والوں کے درمیان
43:48ڈائلاغ ہوگا
43:49جنت کی وسطوں کی انتعا ہم سمجھ نہیں سکتے
43:51جہنم کی وسطوں کی انتعا ہم سمجھ نہیں سکتے
43:54مگر اہل جنت
44:02وَنَادَ أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ
44:04اور جہنم کی آگ والے جنت والوں سے کہیں گے
44:07اَنْ أَفِيدُ عَلِيْنَا مِنَ الْمَاءِ
44:10ہم پر پانی میں سے کچھ انڈیل دو
44:12اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهِ
44:14یا کچھ اس میں سے دے دو جو اللہ نے تمہیں رزق میں سے عطا فرمایا
44:17سنیے کیا جواب آئے گا
44:18قَالُو
44:19وہ کہیں گے
44:22بے شک اللہ نے دونوں چیزیں حرام کر دیے کافروں پر
44:25یہ کھانا پینا جنت کے نعمتیں
44:27جنت والوں کے لئے جہنم والوں کے لئے نہیں
44:29دنیا میں کافروں کو ملا خوب ملا خوب
44:31انہوں نے یاشیہ کی
44:33آخرت میں نعمتیں فقط جنت والوں کے لئے
44:35ایمان والوں کے لئے ہیں
44:36جہنم والوں کے لئے تو یہ حرام ہے
44:38یہ ہے ان کی حسرت کا معاملہ
44:40فرمایا کون ہے کافر کون ہے جہنم والے
44:42اللَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَهُمْ وَلَعِبَ
44:45جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا لیا
44:47اللہ کا دین آیا کھیل تماشا بنا لیا انکار کیا
44:50اور ابراہم علیہ السلام کی تعلیمات
44:52مشرقین مکہ کے پاس کھلوار و بگاڑ پیدا کر دیا
44:54من چاہی باتوں کو اختیار کر دیا
44:56اور دین کو فراموش کر دیا
44:58وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاتُ الدُنِيَا
45:00اور دنیا کی زندگی نے دھوکے میں مبتلا کر دیا
45:03فَلْيَوْمَ نَنْسَاهُمْ كَمَا نَسُوا لِقَوْا يَوْمِهِمْ حَذَا
45:06پس آج ہم انہیں فراموش کر دیں گے
45:08جیسے انہوں نے زندگی ملاقات کو بھولا دیا
45:10وَمَا كَانُ بِعَيَاتِنَا يَجْحَدُونَ
45:13اور جیسے کہ یہ ہماری آیات کا انکار کیا کرتے تھے
45:16اللہ اکبر کبیرہ دین کو کھیلوار بنانا
45:18کھیل تماشا بنانا
45:19من چاہی زندگی گزارنا
45:21اور دنیا کی محبت میں ڈوبنا
45:23یہ اہلِ جہنم کے کرتوت اس مقام پر بیان ہوئے
45:27اللہ ہم سب کو جہنم کے عذاب سے محفوظ فرمائے
45:29اس کے بعد اگلی اور اس وقت کی آخری آیات
45:32جو اس آج کی نشست کے لئے ہم نے منتخب کی
45:33سورہ آراف آیات پچپن اور چھپپن
45:37یہاں دعا کے بڑے پیارے سات آداب بیان کیے جا رہے ہیں
45:41دعا کے عذاب سورہ آراف آیت ففٹی فائیف اور ففٹی سیکس
45:44ادعو ربکم تدرع وخفیہ اپنے رب کو پکارو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے تنہائی
45:52انہو لا يحب المعتدین بشک اللہ حد سے گدر جانے والوں کو پسند نہیں کرتا
45:57غلط بات کی دعا نہ کرے فلا کا انتقال ہو جائے فلا کا نقصان ہو جائے
46:01زیادتی کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا
46:03وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْدِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا
46:06اور زمین میں اصلاح ہو جانے کے بعد فساد نہ مچاؤ
46:09گناہوں کے ساتھ دعا قبول نہیں ہوتی
46:11وَدْعُو خَوْفَ وَتَمَاعَا
46:13اور اللہ سبحانہ وتعالی کو خوف اور امید کی کیفیت کے ساتھ پکارو
46:17اللہ کی پکڑ کا خوف بھی ہو اللہ کی رحمت کی امید بھی ہو
46:20اِنَّا رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبُ مِنَ الْمُحْسِنِينَ
46:22بے شک اللہ کی رحمت محسنین کے قریب ہے جو امدگی کے ساتھ اللہ کی بندگی بجا لاتے ہیں
46:28یہ دعا کے بڑے پیارے آداب ہیں
46:30اللہ سے گڑ گڑا کر مانگنا چپکے چپکے مانگنا زیادتی کی دعا نہ کرنا
46:34گناہوں سے اپنے آپ کو بچانا خوف اور امید کی کیفیت کے ساتھ دعا مانگنا
46:38اور امدہ انداز سے اللہ کی بندگی بجا لانا یہ کریں تو دعائیں قبول ہوں گے انشاءاللہ
46:44اللہ ہماری دعاوں میں قبولیت کی تاثیر ہم سب کو عطا فرمائے
46:48ناظر کرام یہ منتخب آیات کا سسلہ اور بیان مکمل ہوا
46:52قرآن حکیم کے آٹھوے پارے کے تعلق سے آخر میں حاصل کلام کے طور پر چند اہم نکال
46:56روز قیامت رسولوں اور امتوں دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حدود سوالات کے جوابات دینے ہیں
47:01اگر کوئی بھول جائے تو مایوس نہیں ہونا چاہیے
47:04بلکہ اپنی غلطی کو تصریم کر کے فوراں اللہ سبحانہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہیے
47:09اڑ گیا تھا شیطان وہ تو گیا رحمت سے دور
47:11جھک گئے تھے آدم علیہ السلام ان کا مقام ہوا بلن سبحان اللہ
47:23شیطان ہمارا سخت دشمن ہے جو ہم پر مختلف انداز سے حملے کرتا رہتا ہے
47:26ہمیں اس سے ہر وقت خبردار رہنا چاہیے اور اللہ سے التجا کرنی چاہیے
47:30کہ وہ ہمیں شیطان کے حملوں سے بچائے رکھے
47:33اگلا نکتہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی نعمتوں کو ضرور استعمال کیا جائے
47:37مگر ان کو ضائع کرنا اور بیجا استعمال کرنا منع ہے
47:41ہدایت اللہ سبحانہ تعالیٰ ہی کی توفیق سے ملتی ہے
47:44ہم جنت میں داخلے تک اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ہدایت کے محتاج ہیں
47:49آخری بات
47:50اہل جہنم کے کرتوتوں میں دنیا کے محبت میں ڈوب جانا اور دین کو حسی مذاق بنا لینا بشامل ہے
47:56اللہ ہمیں جہنم سے محفوظ سکے جنت الفردوس عطا فرمائے
47:59آخر میں ہمیشہ کی طرح ایک حدیث مبارک پیش خدمت ہے
48:02فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
48:05رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
48:07بے شک اللہ تعالیٰ اس قرآن کی بدولت قوموں کو عروج عطا فرمائے گا
48:11اور اسے ترک کر دینے کی وجہ سے رسوا کر دے گا
48:14صحیح مسلم شریف کے روایت ہے
48:15اللہ تعالیٰ سے دعا ہے
48:16اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن پاک کو تھامے رکھنے
48:18اور اس کی حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے
48:20آمین
48:21یا رب العالمین
48:22وآخر دعوانا
48:23ان الحمدللہ رب العالمین
48:24والسلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
48:27اللہ کا کلام پڑھایا رسول نے
48:31اسحام بے باغ صفا کو لکھایا رسول نے
Comments