00:00رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے
00:04تو پہلے اپنی نانحال اترے جو انصار تھے
00:09اور وہاں آپ نے سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف مو کر کے نماز پڑھی
00:15اور آپ کی خواہش تھی کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ کی طرف ہو
00:20جب بیت اللہ کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ہو گیا
00:24تو سب سے پہلی نماز جو آپ نے بیت اللہ کی طرف پڑھی
00:29عصر کی نماز تھی
00:30وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگوں نے بھی نماز پڑھی
00:35پھر آپ کے ساتھ تماز پڑھنے والوں سے ایک آدمی نکلا
00:39اور اس کا مسجد بنی حارسہ کے طرف گزر ہوا
00:43تو وہ لوگ رکو میں تھے
00:44وہ بولا کہ میں اللہ کی گواہی دیتا ہوں
00:48کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
00:52مکہ کی طرف مو کر کے نماز پڑھی ہے
00:55یہ سن کر وہ لوگ اسی حال میں بیت اللہ کی طرف گھوم گئے
00:59اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
01:03بیت المقدس کی طرف مو کر کے نماز پڑھا کرتے تھے
01:07یہودی اور عیسائی خوش ہوتے تھے
01:09مگر جب آپ نے بیت اللہ کی طرف مو پھیر لیا
01:13تو انہیں یہ آمر ناغوار ہوا
01:15زہر ایک راوی کہتے ہیں
01:18کہ ہم سے ابو اسحاق نے برا سے
01:20یہ حدیث بھی نقل کی ہے
01:22کہ قبلہ کی تبدیلی سے پہلے
01:24کچھ مسلمان انتقال کر چکے تھے
01:27تو ہمیں یہ معلوم نہ ہو سکا
01:29کہ ان کی نمازوں کے بارے میں کیا کہیں
01:32تب اللہ نے یہ آیت نازل کی
01:35فما کان اللہو لیو دیعا ایمانکم
01:38سور بقرہ آیت نمبر 143
01:41صحیح بخاری حدیث نمبر 40