Skip to playerSkip to main content
#bordertalks #iftikharfirdous #slamicBankingSystem #TraditionalBankingSystem #Scholars #pakistan #Challenges #Expectations

Follow the ARY News channel on WhatsApp: https://bit.ly/46e5HzY

Subscribe to our channel and press the bell icon for latest news updates: http://bit.ly/3e0SwKP

ARY News is a leading Pakistani news channel that promises to bring you factual and timely international stories and stories about Pakistan, sports, entertainment, and business, amid others.

Category

🗞
News
Transcript
00:00. . . . . . .
00:30. . . . .
01:00. . . . .
01:29. . . . . . . .
01:59. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
02:29ان کے اس بہران سے جو اسلامی بینکنگ ہے وہ تقریباً 95 فیصد
02:34بچ گئے تھے صرف 5-6 فیصد اس سے متاثر ہوئے جبکہ جو سعودی
02:40بینک تھے اس سے 100 فیصد متاثر ہوئے تو اگر ایک بینک ہے اور
02:44دوسرا بھی ایک بینک ہے اگر یہ دونوں بلکل ایک جیسے ہے اور
02:47اس دونوں میں کوئی نیفرنس نہیں ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ ایک
02:51بہت زیادہ متاثر ہوتا ہے دوسرا بلکل بھی نہیں ہوتا تو یہ
02:552008 کا بہران ہمارے سامنے
02:57ایک مشاہداتی دلیل ہے
02:59جس کو ہم آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں
03:02کہ ان دونوں میں فرق ہے
03:03باقی جہاں تک نظریاتی بات ہے
03:05تو زیادہ تفصیل میں تمہیں نہیں جا سکتا
03:07مختصرا میں بتاؤ کہ بینکیں
03:09دو سائٹز ہوتے ہیں
03:10ایک لائیبیلیٹی سائٹ اور ایک
03:13ایسٹ سائٹ
03:15تو جو لائیبیلیٹی سائٹ ہے
03:17اس میں بینک معاشرے کی منتشر بچتیں
03:19جمع کر کے اپنے پاس جمع کرتا ہے
03:22اور پھر آگے ان بچتوں کو
03:24ڈپلائی کرتا ہے ایسٹ سائٹ پر
03:26تو لائیبیلیٹی سائٹ پر
03:28فرق یہ ہے اسلامی بینک میں
03:30اور کنونشنل بینک میں
03:31کنونشنل بینک میں تو ایک باٹا سائز
03:34کا کنٹریکٹ ہے ہر قسم کے معاملات
03:36کے لئے آپ نے اگر بینک میں
03:38پیسے انویسٹ کرنا ہے تو بھی
03:39اگر آپ نے بینک فائنانس لینی ہے تو بھی
03:41سب کیلئے ایک سودی لون کا فرمولہ ہے
03:44کہ آپ کو فیکس ریٹ پر
03:46سودی قرضہ دیا جاتا ہے
03:47تو آپ اگر بینک میں پیسے جمع کرے
03:50تو ایک فیکس ریٹ پر آپ کو سود دیا جاتا ہے
03:52آگے اگر آپ بینک سے فائنانس لیں گے
03:54تو بھی یہی معاملہ ہے کہ فیکس ریٹ
03:56پر ایک سود ہوتا ہے اور دونوں طرف
03:58قرض ہی کا معاملہ ہوتا ہے
03:59اسلامی بینکنگ میں دونوں سائٹ پر
04:02ڈیفرنس ہے لائیبیلیٹی سائٹ
04:04پر جہاں ڈیپازیٹر اپنا ڈیپازیٹ
04:06جمع کرتا ہے تو اس میں فرق یہ ہے
04:08کہ وہ ایک شریع آقد
04:09جس کو مزاربہ کہا جاتا ہے
04:11اور بعض اوقات وقالہ کا آقد استعمال
04:14ہوتا ہے جس میں اصل رقم آپ کی
04:15سیکورڈ اور گارنٹیڈ نہیں ہوتی
04:17بلکہ اس میں رسک کا
04:20پہلو شامل کیا جاتا ہے اگرمنٹ میں
04:22اور جو حقیقی نفع حاصل
04:24ہوتا ہے اس نفع میں سے آپ کا
04:25ریشو تے ہوتا ہے اور بینک کا بھی حصہ
04:28اسی میں سے تے ہوتا ہے
04:29تو یہ تو اس سائٹ پر فرق ہوا
04:31جہاں تک ایسٹ سائٹ پر فرق ہے
04:33تو سعودی بینک میں تو آپ جس بھی مقصد
04:36کے لئے جائے آپ کو پیسے ایک
04:37مخصوص شرط پر اور قرض پر
04:40اور طریقے پر ملتا ہے
04:41یہاں آپ کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا اگر آپ کو
04:43گاڑی چاہیے تو آپ کے ساتھ ایک
04:45الگ معاملہ ہوتا ہے اگر آپ کو اگریکلچر
04:48کے لئے فائنانس چاہیے تو آپ کے ساتھ
04:49ایک دوسرا شریع معاملہ ہوتا ہے اگر آپ
04:51منفیکچرر ہے اور آپ کو اپنی چیزیں
04:53بنانے کے لئے پیسے چاہیے
04:55تو آپ کو ایک تیسرے طریقے سے پیسہ ملتا ہے
04:58اس تفصیل میں میں نہیں جا سکتا کہ کیا کیا
05:00طریقے ہیں لیکن ہر ہر
05:01فائنانس کیلئے ایک موڈہ فائنانس
05:03ہے جو بلکل شریع
05:05یعنی اگر میں آپ کی بات پورے طریقے سے جو ہے وہ
05:07سمجھ سکو تو آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں
05:09کہ جو اسلامیک
05:11بینکنگ سسٹم ہے اس کے اندر
05:13بینک جو ہے وہ آپ کے ساتھ
05:15شراکتدار ہے جو نفع نقصان ہوگا
05:17جی آپ کے ساتھ شراکتدار
05:22ہے اور آپ آگے جب اس سے
05:23فائنانس لیتے ہیں تو وہ آپ کے ساتھ
05:26کسی شریع معاملے کے اتحاد
05:27کبھی بے اور سیل پرچیس کا
05:29معاملہ ہوتا ہے کبھی لیز کا
05:31معاملہ ہوتا ہے کبھی استثناء
05:34اور منفیکچرنگ کا معاملہ ہوتا ہے
05:35تو مختلف معاملات ہیں
05:37پندرہ سولہ اس طریقے سے آپ کو
05:39رقم بینک دیتا ہے اور پھر اس شریع طریقے
05:42سے آپ رقم بینک سے آتا ہے
05:43تو اس میں ہرچ کیا ہے
05:44ریزیسٹنس اس میں تریڈیشنل بینکنگ کے
05:46ساتھ ہرچ کیا ہے ریزیسٹنس کیوں
05:48آتی ہے
05:48جی اصل بات یہ ہے کہ ریزیسٹنس جو ہے وہ تو
05:53ظاہری سیملیریٹی کو دیکھ کر آتی ہے
05:55کہ جب نتائج دونوں طرف تقریبا سیملر ہے
05:59تو لوگ سمجھتے ہیں کہ حقیقت بھی ایک جیسی ہے
06:01جبکہ یہ بات ہی بنیادی طور پر غلط ہے
06:04کہ جو دو چیزوں کا نتیجہ اگر ایک ہے
06:06تو اس کا طریقے کار بھی ایک ہی ہوگا
06:08طریقے کار مختلف بھی ہو سکتا ہے
06:10اور طریقے کار کا مختلف ہونا
06:12یہ بہت اہم ہے بہت کروشل ہے
06:14ایک حدیث میں ہے
06:16کہ ایک صحابی حضور کے پاس آئے
06:18اور اس نے کجور پیش کی جو بہت عمدہ نویت کی کجور تھی
06:21تو حضور نے ان سے پوچھا
06:22کہ یہ کجور اپنے کہاں سے لی ہے
06:24تو انہوں نے کہا کہ میرے پاس جو
06:26کم کوالٹی کی کجوریں تھی
06:28وہ میں نے دو کلو دے کر اس کجور کا
06:30جو عالی کوالٹی کا اس کا ایک کلو میں نے حاصل کیا
06:33تو حضور نے فرمایا کہ یہ تو آپ نے سود کا معاملہ کیا ہے
06:36اس طرح آپ کو نہیں کرنا چاہیے
06:38اور پھر فرمایا کہ آپ کو اس طرح کرنا چاہیے
06:41کہ وہ ایک کلو جو عمدہ کجور ہے
06:42وہ بیچتے اور اس سے جو پیسے حاصل ہو
06:45تو اس سے دو کلو لے لے
06:46اب یہاں دیکھیں نتیجہ دونوں کا ایک ہی ہے
06:49کہ ایک کلو کے بدلے دو کلو
06:51نتیجے میں آ رہا ہے
06:52لیکن طریقے کار بیچ میں بدل گیا
06:55تو ایک جائز ہے ایک ناجائز ہے
06:57تو یہی طریقے کار کی تبدیلی ہے
06:59جو اسلامی بینک میں آتا ہے دونوں سائٹس پر
07:02اور اسی سے حقیقت بھی اس کے بدل جاتی ہے
07:05تو اس وجہ سے ایک جائز ہوتا ہے ایک ناجائز ہوتا ہے
07:07اچھا آپ نے جو ہے ایک مثال کے ساتھ
07:10جو ہے یہ بات جو ہے وہ
07:11جو ہے وہ پیش کی
07:13لیکن میرا سوال اس حوالے سے یہ ہے
07:15کہ مختلف مکاتبہ فکر کے لوگ
07:18اس سارے کانسلٹیشن کے اندر جو ہے وہ موجود ہیں
07:21پھر بھی اختلاف رائے جو ہے وہ اس حوالے سے موجود ہیں
07:26میں چاہتا ہوں کہ آپ اس پر روشنی جو ہے وہ
07:28تھوڑی ڈالیں گے کیوں اس میں اختلاف رائے ہیں
07:30جی اختلاف رائے ہیں
07:34اس حوالے سے پہلی بات تو میں یہ عرض کروں گا
07:36کہ جب علماء کے اختلاف رائے ہو
07:38تو اس کو ایک پازیٹیو
07:40ویو میں اور مصبت انداز میں
07:42دیکھنا چاہیے
07:43اور یہ سمجھنا چاہیے کہ جن علماء
07:46کرام نے اگر اسلامی بینکنگ کے خلاف
07:48بھی رائے قائم کی ہے تو انہوں نے اپنی
07:50دیانت امانت تقوہ اور فتوہ
07:52کی رعایت کر کے انہوں نے رائے قائم کی ہے
07:54اور دین کی اپنے
07:56ذہن کے حساب سے ترجمانی کرتے ہوئے
07:58انہوں نے رائے قائم کی ہے
07:59تو رائے کا عدب اور احترام بارحال
08:02ہونا چاہیے جہاں تک یہ بات ہے
08:04کہ ان علماء کرام کے مختلف رائے کیوں ہیں
08:06تو یہ بھی بہت تفصیلی بات ہے میں اگر خلاصہ
08:08کروں تو دو چیزیں ہم کہہ سکتے
08:10کہ اس کے پیچھے ہیں
08:11ایک تو یہ ہے کہ کچھ گراؤن ریالیٹیز
08:14ایسی ہے چونکہ اس طرح کے جو علماء کرام
08:16وہ بینکوں سے ڈاریک عاملاً
08:18وابستہ نہیں ہے
08:19پریکٹیکلی ان کا کوئی انوالمنٹ نہیں ہے وہاں
08:22تو بہت سارے چیزوں میں
08:24وہ کچھ چیز کو کچھ اور سمجھتے ہیں
08:26جبکہ اس کی حقیقت کچھ اور ہوتی ہے
08:28تو یہ بھی ایک اختلاف کا انصر
08:30بنا ہوا ہے بہت سارے مسائل میں
08:31دوسری اہم بات یہ ہے کہ
08:33پاکستان میں اکثر جو مسلمان ہیں
08:36وہ فقہ انفیقے مکتب پکر کے
08:38پیروکار ہیں اور اس پر
08:40کربن ہے اور ایسا ہی
08:42ہونا چاہیے مسلمان معاشرے میں
08:44جو یہ بالکل آزادی والی بات ہے
08:46کہ جس وقت چاہے جس مذہب کو لے
08:48تو یہ بات صحیح نہیں ہے
08:49اس لئے کہ اس میں یہ فرق پھر ختم ہو جاتا ہے
08:52کہ اب اپنے خواہشات کے اوپر چل رہے ہیں
08:54یا شریعت کے بالکل سیدھے لکیر پر
08:56اب چل رہے ہیں تو ایک مذہب کو
08:57فالو کرنے ایک ضروری چیز ہے لیکن
08:59بہت سارے مسائل میں جہاں اجتماعی
09:01ضرورت اور حاجت کی صورت ہو
09:03جہاں ایک عام ابتلاہ ہو
09:05جہاں پورا معاشرہ ایک حرج میں واقع ہو رہا ہوں
09:08تو ایسے موقع پر خود علماء کرام
09:10ہر مکتب فکر کے علماء کرام
09:13یہ گنجائش دیتے ہیں
09:14کہ اب دوسری مکتب فکر کی رائے لیں
09:16تو بینکنگ کے معاملے میں
09:18ایسے ہی ہوا ہے کہ
09:19کاسموپلٹن فقہ جو ہے وہ تشکیل پائے ہیں
09:22جس میں بعض وقت چاروں مذہب کو لیا گیا ہے
09:24تو یہ حضرات جو
09:26مخالف نکتہ نظر رکھنے والے
09:28یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایسے مسائل
09:30نہیں ہے جس میں ہم مذہب سے خروج کرے
09:32اور ایک مذہب جو پہلے سے ہم اس کو
09:34فالو کر رہے ہیں اس کو ہم چھوڑ لیں
09:36جبکہ دوسری طرف رائے یہ ہے
09:38کہ نہیں یہ ایسی معاشرتی
09:40ضرورتیں ہیں اور حاجتیں ہیں
09:42کہ اس کے بغیر یہ پوری نہیں ہوتی
09:44تو یہ بھی ایک نکتہ نظر
09:46کے اختلاف کی صورت ہے
09:47تو یہ دو بنیادی باتیں ہیں جس کی وجہ سے
09:49اس مسئلے میں اختلاف ہے
09:51توڑا سا لیکن یہ اختلاف ایسا نہیں ہے
09:53کہ ناقابل حال ہو
09:54کیونکہ اصول دونوں طرف کلیر ہے
09:56اگر اس پہ افہام و تفہیم کے ساتھ
09:58بات چیت ہو
09:59تو انشاءاللہ یہ اختلاف ختم بھی ہو سکتا ہے
10:02اچھا چھوٹے سے بریک کا ٹائم ہوا ہے
10:04لیکن واپس آ کر آپ سے پوچھیں گے
10:06کہ جو فیڈرل شریعت کو اٹھے
10:07لنگ کے حوالے سے
10:09کیا اس کو اجمع امت کے حساب سے
10:11جو ہے وہ لیا جا سکتا ہے
10:12اور دوسرا
10:13کیا ہم اس نہج پہ پہنچ چکے ہیں
10:15کہ دوہزار سٹائیس تک
10:16یہ پوسیبلیٹی ہوگی
10:18کہ ساری بینکاری اسلام میں
10:20پاکستان میں جو ہے وہ اسلامیک بینکاری ہوگی
10:23اور اشر کا جو ہے وہ مکمل طور پہ خاتمہ جو ہے وہ ہوگا
10:26ہمارے ساتھ رہیے گا
10:27واپس آتے ہیں
10:28ویلکم بیک ناظرین
10:35اچھا مفتی صاحب
10:36سوال ہوا ہی ہے
10:37جو بریک پہ جانے سے پہلے تھا
10:39کہ فیڈل شریعت کورٹ کی رولنگ ہے
10:41کہ دوہزار ستائیس تک
10:43جو ہے وہ روایتی بینکاری والا نظام
10:45جو ہے وہ ختم کر دیا جائے
10:47اور اسلامیک بینکاری کی طرف جو ہے وہ جائیں
10:49سوال اس میں یہ بھی ہے
10:51کہ کیا ہم یہ ڈیڈ لائن میٹ کر پائیں گے
10:53اور دوسرا یہ کہ
10:54اسلامیک بینکوں کے جو اساسیں ہیں
10:57کیا وہ اکیس فیصد سے
10:59زائد جو ہے وہ ہو سکتے ہیں
11:00جہاں تک
11:06اسلامیک بینکنگ کے اساسوں کے بعد ہے
11:08تو اس کی تحقیق جو آج کل ہے
11:11وہ یہی ہے کہ
11:12اسلامیک بینک کا ایک بہت بڑا پورشن ہے
11:15اس ملکی بینکاری سسٹم میں
11:17ایس ایٹ سائٹ پر وہ
11:19پچیس فیصد سے کچھ زیادہ ہے
11:21اور موڈیز کی تجزیوں کے مطابق
11:24وہ دوہزار چبیس کے آخر تک
11:25تیس فیصد تک پہنچ جائے گا
11:27جبکہ جو لائیبیلیٹی سائٹ ہے
11:30تو اس پہ جو ہے
11:31جو مارکیٹ شیئر ہے وہ تقریباً
11:33ایک کس فیصد سے کچھ اوپر ہے
11:35تو یہ ایک بہت بڑی جو ہے
11:37پیشرفت ہے جو اسلامیک بینکنگ میں ہوئی ہے
11:40اور یہ ہمیں اس بات کی نشاندی ہی دیتا ہے
11:42کہ اس ملک میں کافی
11:43گنجائش ہے
11:44اس انڈسٹری کے آگے بڑھنے کی
11:47باقی جہاں تک
11:49فیڈرک شیئر کورٹ کی بات ہے
11:50تو انہوں نے جو ڈیڈ لائن دی ہے
11:52تو ظاہر ہے عدالت نے آج تو نہیں
11:55آج سے ڈائی سال پہلے تقریب
11:57انہوں نے ڈیڈ لائن دیتی ہے
11:58اور پانچ سال بند رہے تھے
11:59اگر اس وقت ہم بہت سنجیلگی کے ساتھ
12:01اس پر اور کرتے اقدامات کرتے
12:03تو یہ ڈیڈ لائن ہم میٹ کر سکتے تھے
12:05اور اس میں ہم کنورجن کر سکتے تھے
12:08لیکن بارحال کنورجن
12:09ایک بہت مشکل معاملہ ہے
12:10لیکن ایک دو باتیں میں عرض کروں
12:12ایک تو یہ ہے کہ
12:13اس کے حوالے سے جو ایک نظریاتی پیلو ہے
12:15کہ بینک کیسے کنورٹ ہوگا
12:17اس کی کیا ضروریات اور مجبوریہ ہے
12:19اس کا فقہ ہی اور شرعی حل کیا ہے
12:21تو اس پر علمانے ہمیں بہت تجربے ہوئے ہیں
12:24ہمارے پاکستان میں
12:25ماضی قریب میں ایک تجربہ ہوا
12:27تو وہ تجربات بھی سامنے موجود ہیں
12:30جس سے کافی مشکلات کا حل
12:31جو ہے وہ بہت آسانی سے انہوں نے پیش کیا
12:33اور مستقبل کے لیے بھی وہ
12:35جو حل ہے وہ کارامت ہو سکتے ہیں
12:37تو ان عملی جو
12:39تجربے ہوئے ہیں ان کو پیش نظر رکھ کر
12:41اگر دیانتداری کے ساتھ ہم کوشش کریں
12:44تو
12:45اس میں کئی جو مشکلات ہیں وہ
12:47مطلب کافی زیادہ ہے
12:49اس میں قانونی مشکلات بھی ہے
12:51کہ قوانین کی تبدیلی باز اوقات
12:53ہوگی بہت ساری جگہوں پر
12:55پھر پروسیجر اللہ میں تبدیلی ہوگی
12:57پھر جو ہمارے عدالتی سسٹم
12:59ہے اس میں کافی تبدیلی لانی پڑے گی
13:01ساتھ ساتھ یہ ہے کہ
13:03جو سٹیک ہولڈر ہے عوام
13:06ان کی ذہن سازی کرنی پڑے گی
13:07جو بینک سے ریلیٹڈ لوگ ہے
13:09ان کو اس حوالے سے نارج دینی
13:12پڑے گی اور فرق اور سمجھانا
13:14پڑے گا حمیت سمجھانی پڑے گی
13:15اور سب سے بڑی بات ہے کہ
13:17ہیومن ریسورسز کا مسئلہ ہوگا کہ
13:19اتنے بڑے سسٹم کو کنورٹ کرنے
13:21کے لیے اہل افراد تو الحمدللہ
13:23اس حوالے سے بھی دینی دارے کام کر رہے ہیں
13:26ہمارا جامعہ تر رشید بھی اس حوالے سے
13:28پور ایک سپیسیلائزیشن کرا رہا ہے
13:30تین سال کا جس میں ہر سال
13:32ہم پچیس سے تیس اہل علماء کرام
13:34تیار کرتے ہیں جو فقہ کے بھی
13:35ماہر ہوتے ہیں اور جو
13:37کنٹیمپوری ایڈوکیشن ہے اس کے بھی
13:39ایم ایس کے ڈگری کے کم از کم وہ حامل ہوتے ہیں
13:42جی جی وہ تو مجھے سمجھ ہے لیکن
13:43میں ایک ٹیکنکل
13:45سائیڈ پہ جو ہے وہ جانا چاہتا ہوں
13:47آپ نے بتا دیا اس کا بیک گراؤنڈ
13:49ایک پس منظر بھی ہے
13:50لیکن ہمارے ہاں جو
13:52فینانشل سیچوئیشن ہے
13:54وہ سب کے سامنے ہیں فیلال دوم کہہ رہے ہیں
13:57کہ اس میں ایستہ کام ہیں
13:59کیا یہ پورا جو ایک سویفٹ لیر
14:01ہوگی اور اگر یہ
14:02ون گو میں سارا کام جو ہے وہ کرنا پڑے
14:05تو آپ سمجھتے ہیں کہ یہ سسٹینیبل
14:07جو ہے وہ ہوگا
14:09اثر میں سسٹینیبل اس لیے ہوگا کہ
14:13یہ بالکل آپ دوسری پٹلی پر نہیں چڑھ لے
14:15ہے بلکہ اسلامی بینکک کا جو
14:17سسٹم ہے دو ہزار دو سے متوازی
14:20طور پر اس ملک میں چلا آ رہا ہے
14:22اور بینک واقف ہے
14:23کہ میں نے کیا کرنا ہے اور
14:25اسلامی بینک میں اگر میں نے کنورڈ ہونا ہے
14:27تو کیا تبدیلیاں ہیں
14:28بہت بڑی بڑی زیادہ ایسی تبدیلیاں
14:31جس سے پورا نظام تل چٹ اور
14:33تل پٹ ہو ایسی تبدیلی کرنے کی ضرورت
14:35نہیں ہے ایک سموتہ انداز میں
14:37سارے چیزیں ہو سکتی ہے جس میں پورا
14:39ایک سو اسی کے زاویہ پر بھی چیز بدلے
14:41لیکن کوئی اتنے افرات افرے اس سے
14:43نہ مچ ہے
14:43میں آپ کی بات سمجھ گیا
14:47لیکن ایک نیچرل کانسیکونس ہے
14:49پاکستان کے اندر
14:50انٹرنل باروئنگ بھی ہے
14:52ایک دوسرے سے بھی لونز
14:55لیتے ہیں اور کچھ اس میں شرائط
14:57ہیں انٹرنیشنل
14:59جس طرح آئی ایم ایف کے اور باقی شرائط ہیں
15:01تو ان کو بھی سودی کرزیں
15:03وہ واپس کرنے پڑتے ہیں
15:05اس کا امپیکٹ اسیسمنٹ
15:07اس سارے زاویہ کے اندر کیا ہے
15:09جی آپ کی یہ بات صحیح ہے
15:12کہ یہ کافی مشکل کام ہے
15:14اور اس کے کئی پہلو ہے جس میں
15:16ایک انٹرنیشنل پہلو بھی اس کا ہے
15:18جو عالمی ادارہ ہے آئی ایم ایف ہے
15:20ورل بینک ہے سوٹس وغیرہ وغیرہ
15:22جو ادارہ ہے تو ان کے ساتھ
15:24جو ہماری ڈیلنگ اب تک ہے وہ سودی
15:26قرضوں کے تحت ہے لیکن یہ بات میں آپ
15:28کو بتاؤ کہ یہ کوئی بڑی رکاوٹ بننے
15:30والی چیز نہیں یہ بشرت ہے کہ ہم
15:32committed ہو اور ہمارا عظم برپور ہو
15:34کہ اسلامی بینکنگ یہ ایک ملک کا
15:36معاملہ نہیں ہے تقریباً پچتر
15:38بڑے بڑے ممالک جس میں مسلم غیر
15:40مسلم سب ملک شامل ہے
15:41تو اس میں یہ بینکنگ سسٹم راج ہے
15:43بہت مستحکم انداز میں راج ہے
15:45اور دو آزار آٹھ کے بہران نے ثابت کر لیا
15:47کہ سب سے مستحکم سسٹم یہی ہے
15:49تو کوئی بھی ہمارے سامنے رکاوٹ
15:52نہیں بنے گا انشاءاللہ اس معاملے میں
15:53اگر ہم خود جو ہے نا وہ سنجیدہ ہو
15:55اور ہم خود committed ہوں
15:57بہت شکریہ مفتی صاحب میں چاہتا تھا
16:00کہ آپ سے کچھ اور سوال بھی کروں
16:01particularly جو ہے وہ illegal transactions
16:04کے حوالے سے اور digital currencies
16:05کے حوالے سے کہ جو
16:08ڈاک economies ہیں
16:09اس کا شریعہ کے اندر جو ہے وہ کیا status
16:12ہے اور جو illegal transactions ہیں
16:13اور خصوصی طور پر جو آج کل
16:15digital currencies جو آئیمی ہیں
16:17ان کا کیا ہے لیکن انشاءاللہ ایک اگلے
16:19پروگرام کے اندر جو ہے وہ یہ بات جو ہے وہ کریں گے
16:21ناظرین کافی مفصل گفتگو جو ہے وہ آپ نے
16:23سنی آبیسلی اس میں سوالات بہت ہیں
16:25لیکن
16:27ایک اس میں جو
16:29main crux جو نظر آتا ہے وہ آبیسلی
16:31اوشر کا ہے کہ جو سودی نظام
16:34ہے اسے جو ہے وہ چھٹکارہ
16:35جو ہے وہ حاصل کر سکے کیونکہ بہت سارے لوگ
16:38کرزوں کے جو ہے وہ ملوے
16:39تلے جو ہے وہ دبے ہوئے ہیں
16:41تو ان کی شاید ایک امید کی کرن
16:43جو ہے وہ اسے نظر آتی ہے لیکن آبیسلی
16:45اس میں systematic lacunas بھی ہیں اور
16:47system کی will بھی ہے لیکن
16:49جو شریعہ کوٹ کی جو ruling ہے
16:51کہ اس کو اگلے دو سال
16:53کے اندر جو ہے وہ
16:54implement کرنا ہے دیکھتے ہیں کہ وہ
16:57timeline جو ہے وہ کیسے جو ہے وہ
16:58اچھید ہوتی ہے پروگرامز کے اندر
17:00اسی طرح گفتگو کا سلسلہ اور
17:02debates جو ہے وہ جادی رہیں گی دیکھتے رہیے گا
17:04border talks
17:05موسیقی
Be the first to comment
Add your comment

Recommended