Skip to playerSkip to main content
  • 7 months ago
✨ دین اسلام ✨
فضائلِ درود پاک اور برکتوں سے بھرپور اسلامی ویڈیوز دیکھنے کے لیے ہمارا چینل فالو کریں۔
📌 روزانہ نئی ویڈیوز
📌 ایمان افروز دینی مواد

درود پاک پڑھیں، سکون پائیں اور برکتیں حاصل کریں۔
👉 ابھی چینل کو Follow کریں!

Category

🤖
Tech
Transcript
00:00حضور کی قربت کا ذریعہ بھی درود ہے
00:02کونسا مومن ہوگا جس کو حضور کے دیدار کا شوق نہیں ہے
00:07کسرت درود کی برکت یہ ہے کہ حضور کا دیدار نصیب ہوتا ہے
00:12حضور کا دیدار نصیب ہو جائے تو بتاؤ اور کیا چاہیے
00:17اللہ اکبر
00:18فرمایا جو میرے اوپر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے
00:24اللہ اس پر دس رحمتوں کا نزول فرما
00:27اور ایک حدیث میں آیا جو ایک مرتبہ میرے اوپر درود بھیجتا ہے
00:32اللہ اس کے دس گناہ ماف کرتا ہے
00:35دس درجے بلند کرتا ہے اور دس رحمتوں کا نزول فرما
00:40درود پڑا حضور پہ کام اپنا بن رہا ہے
00:44تو درود پڑنے سے انسان کا باطن سبرتا ہے
00:49اندر پاکیزگی نصیب ہوتی ہے
00:52گناہ دھلتے ہیں عیب دھلتے ہیں
00:55پریشانیاں ختم ہوتی ہیں
00:57مصیبتیں آلام
00:58مسائب دکھ
01:00ٹینشن پریشانی جو کچھ بھی ہے یہ ختم ہوتا ہے
01:03اور درود پر سکون بنا دیتا ہے انسان
01:06راحت بخش ہے وظیفہ
01:08سرور انگیز ہے یہ وظیفہ
01:11نور بیز ہے یہ وظیفہ
01:13محول میں شگفتگی پیدا کر دیتا ہے
01:16اگر درود شریف پڑھو گے تو تمہاری بہت ساری پریشانیاں ختم ہو جائیں گے
01:21تمہارے دکھوں کا مداوہ ہوگا
01:24تم ریلیکس ہو جاؤ گے درود پڑھنے یہ درود شریف کی براقات ہے
01:28ایک مرتبہ درود پڑھنے سے دس رحمتیں نازل ہوتی ہیں
01:33اور جو بار بار حضور پہ درود پڑھتا ہے تو بتاؤ کہ
01:36کتنا بڑا زخیرہ رحمتوں کا
01:39اس کی اطراف میں پھیل گیا
01:41تو کس لیے کسرت کے ساتھ
01:44درود پڑھنا چاہیے
01:45حضور علیہ السلام نے یہ بھی رشاد فرمایا
01:47کہ جو میرے اوپر درود پڑھتا ہے
01:49میرے اوپر لازم ہے کہ میں اس کی شفاعت کروں گا
01:52شفاعتِ رسول کے حصول کا ذریعہ درود بنتا ہے
01:57چونکہ ہمارا آسرہ ہی حضور کی شفاعت ہے
02:01وہ دامن شفاعت کھولیں گے
02:03تو ہم گناہگاروں کا کام بنے گا
02:05اور وہ نصیب کیسے ہوگی
02:07حضور علیہ السلام کی شفاعت
02:08کسرتِ درود سے
02:10یہ بھی رشاد فرمایا آقا کریم نے
02:12قیامت کے دن
02:13میرے سب سے زیادہ قریب وہ ہوگا
02:17جو کسرت کے ساتھ میرے اوپر درود پڑھنے والا
02:19اللہ کا فرشتوں کی مجلس میں
02:23حضور کی سنا کرنا یہ درود ہے
02:25حضور کی مدہ فرمانا
02:29محبوب کی شانوں کو بیان فرمانا
02:32یہ صحیح بخاری میں
02:33صلات کا ترجمہ حضرتِ عبوالعالیہ
02:36رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا گیا ہے
02:39تو پھر درود کا مفہوم بہت وسیح ہے
02:42حضور کی مدہ توصیف
02:44حضور کے حسن کا بیان
02:47حضور کے خسائل کا عنوان
02:49آقا کریم کے شمائل کا تذکرہ
02:52حضور علیہ السلام کے فضائل کی باتیں
02:54حضور کی عظمتوں کا عنوان
02:56یہ سب کچھ درود کے زمرے میں آتا ہے
02:58اور پھر ساتھ سیغہ بھی درود کا ہو
03:02اور اس میں شانیں بھی حضور کی ہوں
03:03جس طرح درودِ تاج میں ہے
03:06تو اس میں حضور پر درود بھی بھیجا گیا ہے
03:09اور ساتھ حضور کی عظمتوں کو بھی بیان کیا گیا ہے
03:12تو یہ ایک خوبصورت گلدستہ بن گیا
03:15درود شریف کے جو مفاہیم بیان کیے گئے ہیں
03:20ان سب مفاہیم کو
03:22یہ اپنے جلو میں لیے ہوئے ہیں
03:24یہ درود
03:25تو کسرت کے ساتھ حضور علیہ السلام پر
03:28درود پڑھنے کی تلقین فرمائی گئی
03:30حضرت عبی بن قابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
03:33فرماتے ہیں
03:34کہ آقا کریم نے ترغیب دی
03:37درود شریف پڑھنے کی
03:40باقی امور اور عبادت
03:42ذکر فکر
03:42تو میں نے ارز کی
03:43ارشاد فرمائے
03:45کہ میں آپ پر
03:45کس مقدار میں درود پڑھوں
03:48کتنا وقت
03:48کتنا درود پڑھوں
03:50تو آقا کریم نے فرمایا
03:51معاشر تا
03:52جتنا تم چاہو
03:53فرماتے ہیں میں نے کہا
03:54میں چوتھا حصہ درود پڑھوں گا
03:57باقی تین حصے
03:58دیگر عبادات اور دیگر
04:01وظائف اذکار
04:03بجا لاؤں گا
04:04فرمایا
04:05جس طرح تم چاہو
04:06جو تمہاری مرضی
04:07لیکن اگر درود کی مقدار کو
04:09بڑھا دو
04:10تو تمہارے لئے بہتر ہوگا
04:11تو میں نے کہا
04:13ان نصفہ
04:14میں آدھا وقت درود پڑھا کروں گا
04:16اور باقی
04:17چیزیں
04:19باقی آدھے وقت میں کروں گا
04:21فرمایا
04:21جس طرح تم چاہو
04:23لیکن اگر درود کی مقدار کو
04:25بڑھا دو
04:25تو تمہارے لئے بہتر ہوگا
04:27میں نے کہا
04:27کہ حضور میں
04:28دو حصے درود پڑھوں گا
04:31اور ایک حصہ
04:32باقی
04:33وظائف
04:33اور آدھا
04:34بجا لاؤں گا
04:35فرمایا
04:36جیسے تمہارا دل چاہے
04:37لیکن اگر تم درود کی مقدار کو
04:40بڑھا دو
04:40تو تمہارے لئے بہتر ہوگا
04:41فرماتے ہیں
04:42میں نے کہا
04:43حضور میں پڑھوں گا
04:44یہ درود
04:44سارا وقت میں آپ پہ درود ہی پڑھتا رہوں گا
04:48فرمایا
04:48پھر تمہارے سارے دکھ
04:50تکلیف
04:51عذیتیں
04:51پریشانیاں
04:52اس کے لئے یہ درود
04:53کفائت کرے گا
04:55اور تمہارے گناہوں کی
04:57مغفرت فرما دی جائے گی
04:59تمہاری پریشانیاں
05:02تمہاری عذیتیں
05:03تمہارے دکھ
05:04دور مجود میں لفظ بولا جاتا ہے
05:06ٹینشن
05:06تمہاری ساری ٹینشن
05:09تمہارے سارے
05:10معاملات حیات کی
05:12بے ترتیبیاں
05:13پریشانیاں
05:14دکھ
05:15زیتیں
05:15سب کچھ ختم ہو جائے گا
05:17درود
05:18سب دردوں کا مداوہ ہو جائے گا
05:20سب دکھوں کا علاج ہو جائے گا
05:22سب پریشانیوں کا حل ہو گا
05:24سب مصیبتوں کا مداوہ بن جائے گا
05:27اور ساتھ ساتھ
05:27تمہارے گناہ بھی بخش دیے جائیں گے
05:29تو درود
05:31جتنی کسرت کے ساتھ پڑھا جائے
05:33اللہ کی اتنی ہی رحمتیں نازل ہوتی ہیں
05:36جب ہم اللہ کی بارگاہ میں ارز کرتے ہیں
05:38اللہمہ صلی علیہ سیدنا محمد
05:41تو اس کا مفہوم کیا
05:43اس کا معنی کیا بنتا ہے
05:45تو فرماتے ہیں
05:45فَمَانَا ہو
05:46اس کا معنی یہ ہے
05:48عزم ہو فِي الدنیا
05:50اے اللہ
05:51دنیا کے اندر محبوب کی عظمت کو اور بلند کر دیں
05:55کیسے بلند کر دیں
05:57بے ایلائے ذکرے ہی
06:00کہ محبوب کے ذکر کو
06:01الوف اور مرتبت اور شان و شوقت اتا کر دیں
06:05وَإِذَهَارِ دَعْوَتِهِ
06:07اور حضور کی دعوت کو پھیلا دیں
06:09اور پوری دنیا پہ غالب کر دیں
06:11وَإِبْقَاعِ شَرِیَتِهِ
06:14اور حضور کی شریعت کو دوام بخش دیں
06:17وَفِي الْآخِرَتِ بِتَشْفِيَهِ فِي أُمَّتِهِ
06:21اور آخرت کے اندر اس کا وہی مفہوم
06:23جو علامہ علوسی بغدادی نے کیا
06:25کہ حضور علیہ السلام کو جو حق شفاعت دیا جائے گا
06:30اس کے لیے اللہ سے دعا مانگنا
06:32اور حضور نے خود ارشاد فرمایا
06:34کہ میرے لیے وسیلے کی دعا مانگو
06:37یہ جو ہم ازان کے بعد دعا مانگتے ہیں
06:40کہ اللہ ہمارے آقا و مولا کو مقام وسیلہ عطا فرما
06:43اور حضور علیہ السلام کے لیے دعا مانگنا ہے
06:46اور حضور مقام محمود پہ جلوہ فروض ہوں گے
06:50اور وہاں حضور کو خاص کلمات دیے جائیں گے
06:55جو اس سے قبل نہ کسی نے بولے ہیں
06:58نہ اس کے بعد کوئی استعمال کرے گا
07:00وہ حضور کو الکا کیے جائیں گے
07:02اور ان خاص لفظوں سے حضور اللہ کی تعریف فرمائیں گے
07:05اللہ کی حمد بولیں گے
07:08اور اس حمد کے سلے میں
07:09اللہ تعالی محبوب سے فرمائے گا
07:12محبوب مانگتا ہے جو میں تجھے عطا کرتا ہوں
07:15تو حضور کیا مانگیں گے
07:17خود فرمایا
07:18کہ ہر نبی کو اللہ نے دعا کا کوٹا دیا ہے
07:22اس نے وہ دعا دنیا پر ہی مانگ لی
07:25لیکن میں نے اپنی دعا کو آخرت کے لیے بچا کے رکھا ہے
07:30اور وہ کیا ہے کہ میں گناہگاروں کی شفاعت کے لیے
07:34اللہ کے حضور عرض کروں گا
07:35یہاں امام اہل محبت
07:38امام احمد رزاق خان فاضل بریلوی کا
07:40انداز دیکھئے
07:42پیش حق
07:43مجدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
07:46آپ روتے جائیں گے
07:48ہم کو ہساتے جائیں گے
07:50وسعتیں دی ہیں خدا نے دامن محبوب کو
07:54جرم کھلتے جائیں گے
07:55اور وہ چھپاتے جائیں گے
07:57جب دامن شفاعت کھولیں گے
08:00تو بڑے بڑے گناہگار
08:02اس شفاعت کی پناہ میں آ جائیں گے
08:04بلکہ شفاعت کا جب دامن کھلے گا
08:08تو نیکوکار بھی گناہگاروں کی صفوں میں شامل ہونے کی کوشش کریں گے
08:11کہ ہم حضور کی شفاعت کے حق دار بن جائیں
08:14وہ کسی نے کسی موقع پہ اپنے ذوق میں اور اپنی لیہ میں پڑا
08:20کہ وہ اپنا مقدمہ کیسے ہار سکتا ہے
08:23جس کے حضور وکیل ہوں
08:26تو لوگوں نے داد دی میں بھی اس مجمع میں بیٹھا تھا
08:29بہت پرانی بات ہے
08:30تو میں نے
08:31اس زمانے میں اس کو ٹوک دیا روک دیا
08:34میں نے کہا نہ یوں نہ کہو
08:36حضور ہمارے وکیل ہیں
08:38لیکن وکیل نگے بھان کے معنی میں
08:42لیکن تم بات مقدمے کی کر رہے ہو
08:44مقدمے والے وکیل
08:45ایڈوکیٹ کے معنی میں نہیں ہے
08:47چونکہ جو وکیل ہوتا ہے
08:49وہ جج کو کہتا ہے
08:51صاحب میرے موکل نے یہ جرم نہیں کیا
08:54لہٰذا چھوڑ دیں
08:55اگر جرم ثابت ہو جائے
08:57تو پھر سزا پکی ہوتی ہے
08:59تو جو وکیل ہوتا ہے
09:01وہ یہ ثابت کرتا ہے
09:03کہ میرے موکل نے جرم نہیں کیا
09:05لہٰذا چھوڑا جائے
09:06حضور ہمارے وکیل نہیں ہیں
09:08ہمارے شفی ہیں
09:09وکیل کہتا ہے جرم نہیں کیا چھوڑ دیں
09:11اور شفی کہتا ہے
09:13سب کچھ کیا ہے میرا آنا دیکھ لیں
09:15حضور وقالت نہیں فرمائیں گے
09:17حضور شفاعت فرمائیں گے
09:19اور حضور کی شفاعت سے
09:20بڑے بڑے گناہگاروں کو نجات ملے گی
09:22شفاعتی لِ اہلِ القبائرِ من امتی
09:27حضور فرماتے ہیں
09:28کہ میں امت کے بڑے بڑے گناہگاروں کی سفارش کروں گا
09:31تو یہ حضور علیہ السلام کو
09:34حق دیا جائے گا
09:35آخرت کے میدان میں
09:37اور آقا کریم علیہ السلام سجدے میں سر رکھیں گے
09:40بخاری شریف میں حدیث شفاعت اٹھائیں
09:43ایک بار نہیں چار بار سر رکھیں گے
09:45اور ہر بار رب کہے گا
09:48کہ مالک سرِ انور تو اٹھاؤ
09:49جو کہو وہ مان لیں گے
09:52جس کی سفارش کرو گے
09:53وہ قبول کر لیں گے
09:55اور پھر حضور سفارش کرتے چلے جائیں گے
09:57اور امت کو بخشواتے چلے جائیں گے
09:59فرمائے اُوتی تُش شفاعت
10:01مجھے شفاعت دی گئی
10:03اور ہر نبی کو ایک دعوائے مستجابہ
10:06قبول ہونے والی دعا
10:08زندگی میں عطا کی گئی
10:09دعا کا خصوصی کوٹا دیا گیا
10:11ہر نبی نے وہ دعا کا حق
10:13دنیا پہ استعمال کر لیا
10:15لیکن فرمایا کہ
10:16غلاموں میں نے وہ دعا تمہارے لئے بچا کے رکھی ہوئی
10:19یہاں فاکے کٹ لے
10:21تکلیفیں کٹ لی
10:22دکھ برداشت کر لیے
10:24عذیتیں تکلیفیں کیا کچھ نہیں تھا
10:27جو حضور علیہ السلام نے برداشت نہیں کیا
10:30لیکن وہ شفاعت کے لیے
10:31حضور قیامت کے دن بازو رحمت کھولیں گے
10:34تو پھر گناہگاروں کی نجات کی زمانت ہو
10:37تو حضرت علامہ ابن منظور افریقی علیہ رحمہ
10:40فرماتے ہیں
10:41کہ یہ مفہوم ہے
10:43سلاعت کا
10:44جب درود کی نصمت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو
10:47تو اس کا مفہوم ہوتا ہے
10:49نزول رحمت
10:50اللہ تعالیٰ جللہ شانہو
10:52اپنے محبوب پر مزید رحمتوں کا نزول فرماتا ہے
10:56جس سے حضور کے درجے بلند ہوتے ہیں
10:57اور حضور کی عظمت میں اور اضافے ہوتے ہیں
11:00اور جب فرشتوں کی طرف نسبت کی جائے
11:03تو فرشتوں کی طرف نسبت بھی دعا کے معنی میں ہے
11:07اور جب ہم
11:09اللہ کی بارگاہ میں یہ دعا مانگتے ہیں
11:11کہ اے اللہ اس پیار محبوب علیہ السلام پر رحمت نازل فرما
11:15تو یہ اللہ کی بارگاہ میں گزارش ہوتی ہے
11:18اسی لئے علامہ نے کہا
11:21کہ درود ایک ایسا وظیفہ ہے
11:24جو کسی صورت میں رد نہیں ہوتا
11:26چونکہ ہم یہ کہتے ہیں
11:29اے اللہ
11:30اپنے پیارے نبی پر رحمت نازل فرما
11:33وہ تو پہلے ہی فرما رہا ہے
11:34تو ہم کہیں
11:36یا اللہ
11:36اپنے نبی پر رحمت نازل فرما
11:39تو کیا اللہ فرمائے گا
11:40کہ میں نہیں فرماتا
11:41اس لئے یہ ہو ہی نہیں سکتا
11:43علماء کہتے ہیں
11:44کہ جو درود ہے
11:46وہ بہار صورت قبول ہوتا ہے
11:48اس لئے
11:49حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ نے فرماتے ہیں
11:52کہ دعا کو درود کے ساتھ جوڑ لو
11:55درود تو قبول ہونا ہی ہونا ہے
11:58تمہاری دعا بھی قبول ہو جائیں
12:00چونکہ اللہ تعالیٰ جللہ شان ہو کی
12:03یہ شان نہیں ہے
12:04کہ بعض کو قبول کر لے
12:05اور بعض کو ترک کر دے
12:06ہماری فقہ کا بھی مسئلہ ہے
12:08اگر آپ نے کسی سے سعودہ لیا ہے
12:11اس میں کوئی ردی چیز آگئی ہے
12:13اور کچھ صحیح آگئی ہے
12:14اب یہ نہیں آپ کر سکتے
12:16کہ جو صحیح صحیح ہے
12:17وہ رکھ لیں
12:17اور ردی واپس کر دیں
12:19یا تو وہ صحیح کے ساتھ
12:21ردی بھی قبول کرنا پڑے گی
12:23اور یا پھر
12:24جو ہے وہ صحیح بھی واپس کرنا پڑے گی
12:27یہ نہیں ہوگا
12:27کہ مرضی کے رکھ لی
12:28اور مرضی کے واپس کر لی
12:29یا سارا صدہ قبول کرنا پڑے گا
12:32یا سارا صدہ واپس کرنا پڑے گا
12:34تو اللہ تعالیٰ جللہ شان ہو کے
12:36حضور جب درود کے ساتھ دعا مانگی جائے
12:40تو پھر
12:40اللہ تعالیٰ جللہ شان ہو
12:42اس دعا کو
12:43چھانٹ کے الگ نہیں کرتا
12:44کہ میں نے یہ نہیں قبول کرنی
12:46درود کے ساتھ جو مانگی ہوئی دعا ہے
12:48اللہ وہ بھی مستجاب فرما لیتا ہے
12:50وہ بھی قبول فرما لیتا ہے
12:53درودِ پاک
12:54وہ
12:56بابرکت عمل ہے
12:59کہ جو اہلِ ایمان
13:01کو تعلیم دیا گیا ہے
13:02علماء نے لکھا
13:03کہ زندگی میں ایک مرتبہ
13:06درودشی پڑھنا
13:07فرض ہے
13:08اور جب حضور علیہ السلام کا نام لیا جائے
13:12اس وقت درود پڑھنا
13:14واجب ہے
13:15اس کے علاوہ بھی وجود کے اور بہت سارے
13:18مقامات علماء نے بیان کیے
13:20اور
13:21نمایہ چالیس مقامات علماء نے
13:24بیان کیے جہاں درودشی پڑھنا
13:26مستحب ہے
13:27لیکن بعض مقامات پہ
13:29درودشی پڑھنا مقروبی ہے
13:32جس طرح بات روم اور اس قبیل
13:34کے اور مقامات اور اور جگہ
13:36اور اور جو ہے وہ احوالے سے
13:38جہاں درودشیف نہیں پڑھا جائے گا
13:40باقی درودشیف
13:42وہ برکت وظیفہ ہے
13:44وہ
13:45مقبول بارگاہ عمل ہے
13:48کہ جس کو جتنی بار
13:50مرضی پڑھو
13:51ایک تو طبیعت میں اکتاہت نہیں ہوتی
13:54انسان
13:56تھکتا نہیں
13:56اور دوسرا اس عمل کی برکتیں
14:00اتنی ہیں
14:01اس کا ثواب اتنا ہے کہ حضور نبی رحمت
14:04صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان
14:06حضرت ابو حریرہ
14:07رضی اللہ تعالی عنہ سے سماع
14:10کر لیجئے
14:11کہ حضور علیہ السلام نے اشارت فرمایا
14:13من صلی اللہ علیہ صلی اللہ علیہ وآہدتا
14:16صلی اللہ علیہ عشر
14:18جو میرے اوپر ایک مرتبہ
14:21درود پڑھتا ہے
14:22اللہ تعالی اس پہ دس رحمتوں کا نزول فرماتا ہے
14:26یہ اس بابرکت وظیفے کا نتیجہ ہے
14:30جو بندہ مومن کو نصیب کر دیا جاتا ہے
14:32دوسری روایہ
14:34حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے
14:38انن نبی صلی اللہ علیہ وسلم
14:41قالا
14:41من ذکرتو اندہو فلیسل علیہ
14:45ومن صلی علیہ مرتا
14:47صلی اللہ علیہ بہا اشرا
14:50حضور نے فرمایا
14:51کہ جس شخص کے سامنے میرا ذکر کیا جائے
14:55اس کو میرے پہ درود پڑھنا چاہیے
14:57اس لیے کہ جس نے میرے اوپر
15:00ایک مرتبہ درود پڑھا
15:01اللہ تعالی اس پہ دس رحمتیں نازل فرماتا ہے
15:04علماء نے
15:06ایک بڑی خوبصورت بات لکھی
15:09وہ کہتے ہیں کہ اصل
15:11درود پڑھ کر کے
15:13اپنے لئے رحمتیں طلب کرنا ہوتا ہے
15:15رب سے
15:16چونکہ مصطفیٰ کریم علیہ السلام
15:19ہمارے درود کے محتاج
15:21بندہ کہے میں درود پڑھ رہا ہوں
15:23جب ہم نہیں تھے اس وقت بھی
15:25مصطفیٰ پہ درود پڑھا جا رہا تھا
15:26جب کائنات کو خلط وجود
15:29بھی نہیں دیا گیا تھا
15:30مصطفیٰ پہ درود اس وقت بھی پڑھا جا رہا تھا
15:33تو یہ ہم اپنی
15:35سعادت مندی حاصل کرتے ہیں
15:37اس کی مثال یہ ہے
15:38کہ جو مانگنے والے ہیں وہ دو طرح کے ہوتے ہیں
15:42سورة الفاتحہ کی تفسیر میں
15:43میں نے مختصر بات آپ کے سامنے
15:45سنوان چرک کی تھی
15:46ایک وہ ہے کہ جو ڈریکٹ دروازے کو دستق دے کے
15:49صاحب خانہ سے
15:51مانگتے ہیں
15:52صاحب خانہ اپنی توفیق کے مطابق
15:55اس کو دے نہ دے اس کی مرضی
15:57اور مانگنے والوں کا
15:59ایک اور طریقہ ہوتا ہے
16:00کہ وہ مانگتے نہیں
16:02کسی شخص کے دروازے پہ
16:05کھڑے ہو کے اس کو دعائیں دینے لگتے ہیں
16:07تیرے بچوں کی خیر
16:09تیرے والدین کی خیر
16:10جہاں دادے پر دادے سے شروع ہوتے ہیں
16:13اور نیچے نسل تک آتے ہیں
16:15تو وہ جب دعائیں
16:17مانگ رہے ہوتے ہیں
16:18تیرے خاندان کی تیری جد کی خیر
16:21تو گھر والا سمجھتا ہے جو ہمیں دعائیں
16:23دے رہا ہے اصل خود گھالی جھولی لے کر آیا ہے
16:26یہ کچھ مانگنا چاہتا ہے
16:27تو کوئی شخص
16:28اللہ کی بارگاہ سے مانگنا چاہے
16:31اللہ تو اولاد سے پاک ہے
16:32تو اس کے محبوب کی خیر مانگو
16:34اللہ تعالیٰ ایک بار خیر مانگو
16:37کہ دس رحمتیں جھولی میں ڈال دیں
16:38تو یہ مانگنے کا ایک محذب طریقہ ہے
16:42جو اہل ایمان مانگتے ہیں
16:44اس لیے اگر سارے وظیفیں چھوڑ کے
16:46صرف درود پڑا جائے
16:47تو یہ کیسا عمل ہے
16:49عزت عبی بن قاب رضی اللہ تعالیٰ
16:51ان سے مروی روایت ابھی آ رہی ہے
16:53آپ دیکھیں گے
16:54کہ یہ کتنا بابرکت وظیفہ ہے
16:56جس کی تعلیم حضور ارشاد فرما رہا ہے
16:58حضور علیہ السلام کا ایک اور فرمان سنیے
17:01جس کو امام تبرانی نے
17:04اپنی موجب میں روایت کیا ہے
17:06حضور نے شار فرمایا
17:07من صلی علیہ صلی علیہ وحدتن
17:09صلی علیہ وحدتن
17:11جو میرے اوپر ایک مرتبہ درود پڑتا ہے
17:14رب تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل کرتا ہے
17:18ومن صلی علیہ وحدتن
17:23اور جو میرے اوپر دس مرتبہ درود پڑتا ہے
17:26اللہ تعالیٰ اس پر سو رحمتیں نازل فرماتا ہے
17:29ومن صلی علیہ میتن
17:32قطب اللہ بین اینہ براتم من النفاق
17:36وبراتم من النار
17:38اور جو شخص میرے اوپر سو مرتبہ درود پڑتا ہے
17:42اس کی دو آنکھوں کے درمیان لکھ دیا جاتا ہے
17:46یہ بندہ منافق بھی نہیں ہے دوزخی بھی نہیں ہے
17:49یہ نہ منافق ہے نہ دوزخی ہے
17:53نفاق سے اور دوزخ سے بری لکھ دیا جاتا ہے
17:56وَأَسْكَنَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقَيَامَةُ مَا شُهَدَا
17:59اور اللہ تعالیٰ جللہ شانہو قیامت کے دن
18:02جس مرتبے پر شہدہ کو ٹھہرائے گا
18:05اسی مقام پہ درود پڑنے والوں کو ٹھہرائے گا
18:08یہ ثواب ہے
18:10اس شخص کے لیے جو حضور پر قصرت کے ساتھ درود پڑتا ہے
18:14حضرت عبد الرحمن
18:16بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک روایت سنیے
18:20فرماتے ہیں یہ شرہ مبشرہ سے ہیں
18:24جلیل القدر صحابی ہیں
18:26اور صحابہ میں سب سے زیادہ امیر صحابی بھی یہی ہیں
18:30ایک لاکھ چوالیس ہزار صحابہ میں
18:33سب سے امیر ترین صحابی
18:34حضرت عبد الرحمن ابن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے
18:38آپ فرماتے ہیں
18:40کہ خارج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
18:43فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى دَخَلَ نَخْلًا فَسَجَدَ فَعَتَالَ السُّجُودِ
18:48حَتَّى خِفْتُو اَوْخَشِدُ اَنْ يَكُونَ اللَّهَ كَالْتَوَفَّاهُ اَوْكَابَذَاهُ
18:53کہتے ہیں ایک دن حضور
18:55گھر سے باہر تشریف فرما ہوئے
18:58بستر نبوی سے نکلے
19:00تو میں بھی حضور کے پیچھے پیچھے چل پڑا
19:02حضور علیہ السلام کے تطبع میں
19:05حضور کی اتباع میں
19:06میں بھی حضور کے پیچھے چل پڑا
19:08حتی داخل نقلا
19:10یہاں تک کہ خجوروں کے ایک باغ میں
19:12حضور تشریف فرما ہو گئے
19:14میں بھی اس باغ میں حضور کے پیچھے چلا
19:16میں نے کیا دیکھا
19:17فَسَجَدَا
19:18حضور نے سجدہ فرمایا
19:21فَاتَالَ السُّجُودِ
19:23اور سجدہ اتنا لمبا تھا
19:26حتی خِفْتُ اَوْخَشِیتُ اَنْ يَكُونَ اللَّهَ
19:29مجھے ڈر لگا
19:32کہ حضور علیہ السلام
19:34کا وصال ہو گیا
19:35کہ حضور نے
19:37سرِ انور رکھا سجدے میں
19:39پھر اٹھائی نہیں رہے تھے
19:40تو میں ڈرا اس بات سے
19:43کہ کہیں حضور کا وصال نہ ہو گیا ہو
19:45حضور علیہ السلام
19:46اس دارِ فانی سے کوچنا کر گئے ہوں
19:48تو کہتے ہیں کہ
19:50قَالَ فَجَتُوْ انْظُرُ فَرَافَارَاسَوْ
19:54میں دیکھی رہا تھا
19:55کہ اچانک حضور نے سرِ انور
19:57اٹھا لیا
19:58فَقَالَ مَالَكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَان
20:01تو میرا رنگ اڑا ہوا تھا
20:03میری طبیعت کے اوپر
20:05ایک عجیب کیفیت تھی
20:06حضور نے سر اٹھایا
20:08اور مجھے اس حالت میں دیکھا
20:09کہا کہ
20:11اے عبد الرحمن
20:14تجھے کیا ہو گیا
20:15میں نے کہا
20:17فَذَكَرْتُ زَالِكَ لَهُمْ
20:19جو مجھے ہوا تھا
20:20میں نے وہ بتا دیا
20:21میں تو ڈر گیا تھا
20:24چونکہ سعبا کی زندگی ہی تو
20:25حضور کے نام سے تھی
20:27اور آقا کریم کی زندگی کے ساتھ
20:29اور حضور کی حیات کے ساتھ
20:31ہی تو وہ جیتے تھے
20:31بلکہ اڑتے تھے
20:33اور صحابہ عدوان اللہ علیہ مجمعین کے لیے
20:35سب سے مشکل وقت
20:37حضور علیہ السلام کی وفات کا وقت تھا
20:39ان سے برداشت نہیں ہوتا تھا
20:41آپ نے پڑا ہوگا
20:42سیر میں علماء سے سنا ہوگا
20:44حضرت عمر نے تلوار نکال لی تھی
20:45حضور کے وسال پر
20:47کوئی کہے تو سہی حضور کا وسال ہو گیا ہے
20:49میں گردن کاٹ دوں گا
20:51روتے تھے عجیب کیفیت تھی
20:52حضرت عمر کے صدیق نے ہاتھ آگے کیا
20:54لیکن حضرت عمر جو ہیں
20:55وہ ان کی بات بھی سننے کے لیے تیار نہیں تھے
20:58حضرت بلال چیخیں مارتے تھے
21:00عجیب حالت تھے
21:02حضرت سیدہ فاطمہ کہتی تھی
21:03سبت علیہ مسائبن لونہا
21:06سبت علیہ میں سرنا لیا لیا
21:09لوگوں میرے اوپر جو مسیبتیں ٹوٹ پڑی ہیں
21:12اگر وہ چٹے دنوں پر پڑتی
21:14تو وہ بھی کالی راتیں بن جاتے
21:16اتنی مسیبتیں آگئیں
21:18حضور علیہ السلام کے وشال پر
21:19یہ سے عبا کی کیفیت
21:20حضرت زید بن عبداللہ
21:21اپنے باگ کو پانی دے رہے تھے
21:23حضرت امام ذرکانی نے لکھا ہے
21:25ان کے بیٹے نے جا کے کہا
21:27کہ اببا جی کوئی بات سنی ہے
21:28انہوں نے کہا بتاؤ بیٹے کیا ہوئے
21:29کہا حضور کا وشال ہوگئے
21:32حضرت زید نے یوں ہاتھ اٹھائے
21:34اور سنو انہوں نے کیا کہا
21:35اللہم آزہ بسری
21:37اے اللہ مجھے اندہ کر دے
21:43مجھے نابینا کر دے
21:45آنکھوں کے چراغ روشن
21:46اس لیے تھے
21:47کہ تیرے رسول کو دیکھتا تھا
21:48اب حضور اگر اس دنیا سے چلے گئے ہیں
21:51تو میں نے آنکھوں کی چراغ کیا کرنے ہیں
21:53تو اللہ تعالی نے ان کی دعا قبول فرمالی
21:55اور وہ فوراں نابینا ہو گئے
21:57کسی نے بعد میں ان کے پاس جا کر افسوس کیا
22:00کہ تمہاری آنکھوں کی بینائی جاتی نہیں ہے
22:02بڑا افسوس ہوا ہے
22:03وہ فرمانے لگے
22:04تمہیں ہوا ہوگا مجھے تو کوئی نہیں ہوا
22:06میں تو حضور کے بغیر کسی کو دیکھنا ہی نہیں چاہتا
22:09اور حال حضرت فرماتے ہیں
22:11کون نظروں پہ چڑے دیکھ کے تلوہ تیرا
22:13جس نے آپ کو دیکھا
22:15پھر وہ کسی کو
22:16جو ہے وہ اور کیوں دیکھیں
22:18تو یہ صحابہ کی کیفیت تھی
22:19بلکہ غدابہ نامی اونٹنی
22:21جس میں حضور سواری کیا کرتے تھے
22:23کتب میں آتا ہے
22:24صحیح روایات ہیں
22:25وہ حضرت فاطمہ تزہرہ کی دہزیز پر
22:28سر رکھ کے رویا کرتی تھی
22:30اور وہ یافور نامی دراز گوش
22:33جس پہ حضور سواری کیا کرتے تھے
22:35جس کو ہم اپنی زبان میں گدہ کہہ لیتے ہیں
22:37لیکن نسبت رسول سے ہوگی
22:39تو پھر اس کو دراز گوش کہیں گے
22:41تو وہ
22:42قبیلہ بن سلیم کے کوئے میں
22:44چھلانگ لگا کے مر گیا
22:45کہ جب حضور چلے گئے ہیں
22:47تو ہم نے جی کے کیا لینا
22:49یہ کیفیت جانوروں کی تھی
22:51اللہ اکبر
22:52تو حضور کی جدائی کا صدمہ کون برناجد کرے
22:55آپ نے سنا نہیں کہ اس طرح ہنانہ
22:57حضور کے فراق میں کیسے تڑپ تڑپ کے روتا تھا
23:00صحامے روایت ہے
23:01لگتا تھا جس طرح پھٹ جائے گا
23:03اور آقا کری ممبر سے نیچے اترے
23:05اور آقا نے اس کو دونوں ہاتھوں میں لیا
23:07پھر تسلی دی
23:09اور ایسے لگا جس طرح کہ
23:10بچڑا ہوا بچہ ماں کی گود میں آجائے
23:12تو اس کے گگی بن جاتی ہے
23:14یہ کیفیت ہوئی
23:15پھر حضور ممبر پہ جلوہ فیراز ہوئے
23:17اور صحابہ سے مخاطب ہو کے کہا
23:19اگر میں اپنے آش کے زار کو
23:25ممبر سے اتر کے یوں تسلی نہ دیتا
23:27تو یہ لکڑی کا ستون قیامت تک روتا ہی رہتا
23:30اللہ اکبر
23:32یہ ہے حضور کے پیار کی کیفیت
23:34ان کے لئے مشکل مرحلہ تھا
23:36حضرت عبد الرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ
23:38کہتے ہیں
23:39میں نے جو میرے پہ بیٹی تھی نا
23:41جو میری حالت ہوئی تھی
23:43میں نے صاف صاف عرض کی حضور
23:44میں تو بہت پریشان ہوا تھا
23:46تو حضور نے فرمایا
23:47سنو
23:52کہ جبریل امین میرے پاس آئے
23:54اور انہوں نے مجھے آکے کہا
23:57کہ حضور میں آپ کو بشارت نہ دوں
24:04کہ رب کیا کہتا ہے
24:05وہ یہ کہتا ہے
24:08ذرا دیکھئے لفظ
24:14حضور فرماتے ہیں میں کیوں سجدے میں گیا تھا
24:18سنو اے عبد الرحمان بن عوف واقعہ کیا ہوا
24:20میں اتنا لمبا سجدہ کیوں کیا
24:22کہا میرے پاس جبریل آئے
24:23اور جبریل نے مجھے رب کا سندسہ دیا
24:26پیغام دیا
24:27کہ محبوب آپ کا رب کہتا ہے
24:29کہ آپ کا جو امتی آپ پہ درود پڑے گا
24:32میں رب ہو کے اس پہ درود پڑوں گا
24:34اور جو آپ کا امتی آپ کو سلام کہے گا
24:38میں رب ہو کے اس کو سلام کروں گا
24:40تو حضور فرماتے ہیں
24:42فَسَجَدْتُ لِلَّهِ شُكْرَا
24:44تو پھر میں سجدہ نہ کرتا
24:46پھر میں شکر کا سجدہ نہ کرتا
24:48اور میرا سجدہ لمبا نہ ہوتا
24:50کہ اتنا کرم ہوا
24:51کہ میرا اگر غلام مجھ پہ درود بھیجے
24:54تو رب اس پہ درود بھیجتا ہے
24:56اللہ اکبر
24:57یہ کرم نوازیاں اور شخص پر
24:59کہ جو حضور نبی رحمت
25:01صلی اللہ علیہ وسلم پر
25:02درود بھیجتا ہے
25:04آئیے حضرت عبداللہ ابن مسعود
25:08رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے
25:10ایک روایت سنتے ہیں
25:12کہتے ہیں کہ
25:14اِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاهِينَ يُبَلِّغُونِ آن اُمَّتِ السَّلَامِ
25:19اللہ کے کچھ فرشتے ہیں
25:21جن کی ڈھوٹی یہ ہے
25:23وہ جھرتی پر گھومتے ہیں
25:24پوری دنیا پر چکر لگاتے ہیں
25:26اور کرتے کیا ہیں
25:27جہاں جہاں بھی کوئی شخص
25:29میرے اوپر سلام بھیجے
25:31تو وہ اس امتی کا سلام
25:33میرے تک پہنچاتے ہیں
25:34کہ حضور آپ کے فلا امتی نے
25:37آپ تک جو ہے وہ سلام بھیجا ہے
25:39اور دوسری روایت
25:41حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ
25:42اپنے باپ حضرت علی المرتضی سے
25:45روایت کرتے ہیں
25:46کہ حضور علیہ السلام نے اشارت فرمایا
25:48حیثو ما کنتم فصلو علیہ
25:50فَإِنَّا صَلَاطَكُمْ تَبْلُغُنِ
25:54فرمایا
25:55جہاں بھی رہو میرے اوپر سلام پڑھا کرو
25:58تمہارا سلام مجھے پہنچتا ہے
26:00جہاں بھی رہو میرے اوپر
26:02سلام پڑھنے کو عمل کو نہ چھوڑنا
26:04قیامت کے دن
26:07حضور علیہ السلام کی
26:08سب سے زیادہ قربت
26:10کس شخص کو نصیب ہوگی
26:12تو وہ روایت ہے
26:13حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے
26:16کہ حضور نے فرما
26:18اِنَّا أَوْلَ النَّاسِ بِي يَوْمَ الْقَيَامَةِ
26:20قیامت کے دن
26:24میرا سب سے زیادہ قریبی شخص وہ ہوگا
26:27جو میرے اوپر کسرت کے ساتھ دھرود پڑھا کرتا ہے
26:30حضرت عبی بن قابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی
26:33وہی روایت جو میں نے
26:35جس کا اشارہ دیا
26:36روایت کرتے ہیں
26:38قانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
26:39اِذَا زَحَبَا رُبُّ اللَّيْلِ
26:42قَاما
26:43فَقَالَ يَا اَيُّهَ النَّاسِ
26:45اُذْكُرُ اللَّهِ
26:46اُذْكُرُ اللَّهِ
26:47جَعَتِ الرَّاجِفَةَ تَطْبَهُ الرَّادِفَةَ
26:50جَعَالْمَوْتُ بِمَعْفِيهِ
26:51جَعَالْمَوْتُ بِمَعْفِيهِ
26:53کہتے ہیں کہ حضور علیہ السلام
26:55جب
26:57رات کا جتھائی حصہ
27:00باقی رہ گیا
27:02تو آقا کریم علیہ السلام نے
27:04لوگوں کو بیدار کیا
27:06لوگوں کو جگایا
27:06کہ اٹھو اللہ کا ذکر کرو
27:09عیامت آنے والی ہے
27:10موت آنے والی ہے
27:11حضور نے صحابہ کو بیدار کیا
27:14قَعَلَى عُبَيْ بِن قَعْبِ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
27:17حضرت عُبَيْ بِن قَعْبِ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
27:19فرماتے ہیں
27:20یہ جلیل القدر سے آپی
27:21اور حضور علیہ السلام
27:23ان سے قرآن سنا کرتے تھے
27:25بلکہ ایک دن حضور گزر رہے تھے
27:27حضرت عُبَيْ بِن قَعْبِ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
27:30تلاوت کر رہے تھے
27:31حضور رکھ کے سننے لگے
27:32اگلے دن ملاقات ہوئی تو فرمائے
27:34عُبَيْ میں گزر رہا تھا
27:36تو دلاوت کر رہا تھا
27:38اور میں سنتا رہا
27:39تو حضرت عُبَيْ نے کہا
27:40حضور اگر مجھے پتا چل جاتا نا
27:42کہ آپ سن رہے ہیں
27:43تو میں اور سوار سوار کے پڑھتا ہوں
27:45محدثین شارعین لکھتے ہیں
27:47کسی کے دکھلاوے کے لیے
27:49قرآن سوار کے پڑھنا ریاکاری ہے
27:51لیکن اگر حضور کے دکھلاوے کے لیے پڑھا جائے
27:54یہ ریاکاری نہیں ہے
27:55یہ این دین ہے
27:56تو حضرت عُبَيْ بن قعب رضی اللہ تعالیٰ عنہو
27:59کہتے ہیں
27:59کہ میں نے حضور کی خدمت میں ارز کی
28:01فَقُلْ تو میں نے ارز کی
28:03یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
28:05میں آپ پر بہت زیادہ دروشری پڑھتا ہوں
28:09فَقَمْ أَجْعَلُ لَكَ مِنْ صَلَاتِ
28:12تو مجھے بتا دیں
28:14کہ میں آپ پہ کتنا وقت دروش پڑھا کروں
28:17کالا ماشیتا
28:20کہا جتنا تو پڑھ سکتا ہے
28:21جتنا ترے پاس وقت ہے
28:23جتنی تری مرضی ہے
28:24میں کوئی مقرر نہیں کرتا
28:26کالا کل تو میں نے کہا
28:28ارز کی ربع
28:29میں چوتھا حصہ دروش پڑھا کروں گا
28:33باقی تین حصے باقی وظیفے کر لیا کروں
28:36کالا ماشیتا
28:38حضور نے فرمایا تیری مرضی
28:39وَإِن زِتَّ فَوَا خَيْرُ اللَّهِ
28:42لیکن اگر دروش زیادہ پڑھے
28:44تو تیرے لئے ہوگا بہتر
28:45بیسے
28:47تو اگر چوتھا حصہ پڑھے
28:48باقی تین حصے باقی وظیفے پڑھ لے
28:50لیکن اگر ایسا کرتا
28:52تو تیرے لئے بہتر ہوگا
28:53زیادہ کر پڑھ لے
28:54کالا کہتے ہیں
28:55فَقُلْ تو میں نے کہا
28:57فَسُلْسَنْ
28:59میں دو تہائی پڑھ لیا کروں گا
29:01کالا ماشیتا فرمایا جس طرح تیری مرضی
29:04فَإِن زِتَّ فَوَا خَيْرُ اللَّهِ
29:06لیکن اگر تو دروش کو زیادہ کر لے
29:08تو یہ تیرے لئے بہتر ہوگا
29:10کل تو ان نصف
29:18کل تو
29:20جب میں نے یہ بات کہی
29:22تو حضور نے فرمایا
29:23ماشیتا جو تیری مرضی
29:25جو تیرے دل میں آئے
29:26وَإِن زِتَّ فَهُوَا خَيْرُ اللَّهِ
29:29لیکن اگر تو درود کو اور زیادہ کر دے
29:32تو تیرے لئے ہے بہتر
29:33کہتے ہیں کہ میں نے عرص کی
29:35آج جالو لکا صلاتی کل لہا
29:38حضور پھر میں سارا وقت درود ہی پڑھ لیا کروں گا
29:41میں سارا وقت درود ہی پڑھ لیا کروں گا
29:45تو آقا کریم نے فرمایا
29:46پھر تجھے دنیا کی تکلیفیں بھی نہیں پہنچیں گی
29:49اور آخرت میں بھی تجھے نجات مل جائے گی
29:51چونکہ انسان وظیفہ دو مقاصد کے لئے کرتا ہے
29:55میرے دنیا کے معاملہ ٹھیک ہو جائیں
29:57کچھ وظائف اس لئے پڑھتا ہے
29:59یا پھر میری آخرت ٹھیک ہو جائے
30:01اس لئے وظائف پڑھتا ہے
30:02دو ایک عرضے ہوتی ہیں وظائف پڑھنے سے
30:03لیکن حضور نے فرمایا
30:05اگر تو سارا وقت درود پڑھتا رہے
30:09تو پھر تیری دنیا بھی ٹھیک ہو جائے گی
30:11تیری آخرت بھی ٹھیک ہو جائے گی
30:13تیرے سارے معاملے ٹھیک ہو جائیں گے
30:15اللہ اکبر
30:17اور حضور علیہ السلام کا یہ ایک اور فرمان سنیے
30:19جس کو حضرتِ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں
30:26حضور علیہ السلام نے اشارت فرمایا
30:28من صل علیہ فی یوم الف مرہ
30:32لم یمت حتی یرا مقعدہو من الجنہ
30:36جو ایک دن میں ہزار مرتبہ میرے اوپر درود پڑے
30:40وہ اتنی دیر تک مرے گا نہیں
30:43جب تک جنت میں اپنا ٹھیکانہ نہیں دیکھ لیتا
30:46یہ اللہ تعالیٰ اس کو خاص نور نصیب فرمائے گا
30:50اور آئیے سنیے
30:51حضور علیہ السلام کیا اشارت فرما رہے ہیں
30:55حضرتِ ابو دردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہو سے روایت ہے
31:00امام ابن ماجہ نے اپنی سنت سے اس کو روایت کیا ہے
31:02قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهِ صَلَّمَ
31:06اَقْسِرُوا عَلَيَّ مِنَ السَّلَاةِ كُلَّ يَوْمِ الْجُمْعَةِ
31:09فَإِنَّهُ مَشْهُودٌ تَشْهَدُهُ الْمَلَائِكَةِ
31:12حضور نے فرمایا
31:14کہ ہر جمعے کے دن
31:17میرے اوپر کسرت کے ساتھ درود پڑھا کرو
31:20چونکہ یہ یوم مشہود ہے
31:23اس دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں
31:25تو جمعے کے دن کسرت کے ساتھ
31:28باقی دنوں کی نسبت میرے اوپر درود پڑھا کرو
31:31تو
31:33وَإِنَّ أَحَدًا لَنْ يُصَلِّيَ عَلَيَّ إِلَّا
31:37اُرِدَتْ عَلَيَّ صَلَّاتُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا
31:41اس لیے کہ تم میں سے جو کوئی میرے اوپر درود پڑھتا ہے
31:44جب تک فارق نہیں ہو جاتا
31:46اس کا درود جو ہے
31:47وہ میرے اوپر پہنچا دیا جاتا ہے
31:49قَالَ
31:50تو حضرتِ ابو دردہ کہتے ہیں
31:53قُل تو میں نے کہا وَبَادَ الْمَوْتِ
31:56حضور جب آپ اس دنیا سے چلے جائیں
31:58تو کیا اس کے بعد بھی
32:00یہ وظیفہ اور یہ عمل جاری رکھیں
32:03حضرتِ ابو دردہ رضی اللہ تعالی عنہ نے
32:06جو ہے یہ وضاحت حضور سے پوچھی
32:09اور یہ بھی بڑے جلیل و قدر صحابی ہیں
32:11بلکہ صحابہ میں سے انتہائی متقی اور پریزگار صحابی ہیں
32:15بلکہ حضرتِ ابو دردہ کے بارے میں آتا ہے
32:17کہ فجر کی نماز پڑھ کے جلدی چلے جاتے تھے
32:20ایک دن حضور نے روک کر کے کہا
32:22ابو دردہ کاہے کی جلدی ہوتی ہے
32:25کہ رکھتے بھی نہیں بہت جلدی چلے جاتے ہو
32:27عرص کی حضور میرے ہمسائیوں کے گھر میں
32:30خجور کا ایک لمبا درخت ہے
32:32اور آج کل مدینے میں
32:34خجوروں کے پکنے کا موسم ہے
32:36اور سہری کے وقت
32:38تھنڈی ہوائیں مدینے کو سلامی دینے آتی ہے
32:40اور میں اس لیے جلدی جلدی چلا جاتا ہوں
32:44کہ وہ جو خجوریں جھڑ کے
32:46میرے ویڑے میں گر جاتی ہیں
32:48بچوں کے اٹھنے سے قبل قبل ہمسائی کے
32:50گھر میں پھیک لوں کہیں میرا بچہ
32:52کوئی نہ کھا لے
32:53اور ہماری سڑک سے گنے کی ٹرالی گزر کے
32:56تو دیکھیں
32:57یہ دیکھئے حضور علیہ السلام کے صحابی کامل
33:00اور ان کی زندگی کے معمولات
33:01یہ ہے حضرت ابو دردہ رضی اللہ تعالیٰ
33:04کہتے ہیں میں نے حضور سے کہا
33:06حضور جب آپ اس دنیا سے چلے جائیں گے
33:09تو کیا پھر بھی درود آپ کو بھیجیں
33:11اور پھر بھی آپ پر پہنچتا رہے گا
33:13تو سنو حضور نے کیا کہا
33:14حضور نے فرما
33:16اللہ تعالیٰ نے مٹی پر حرام کر دیا ہے
33:26کہ وہ نبیوں کے جسموں کو کھائے
33:29نبی قبروں میں زندہ ہوتے ہیں
33:31اور ان کو رزق بھی دیا جاتا ہے
33:33حضرت ابن ماجہ نے
33:35یہ روایت بے اسنا دن جیئے دن
33:38اچھی سنت کے ساتھ
33:39اس کو روایت کیا ہے
33:41بلکہ حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم
33:44نے اشارت فرمایا
33:45کہ
33:47جب کوئی شخص میرے اوپر درود پڑتا ہے
33:50اللہ تعالیٰ جللہ شانہو
33:52میری روح
33:54میرے بدن میں لٹا دیتا ہے
33:56حتیٰ کہ
33:58میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں
34:01وہ کیا کسی نے کہا
34:03شیر تو سادہ سا ہے
34:04لیکن اس حدیث کا ترجمہ ہے
34:06وہ کسی شاعر نے کہا تھا
34:08کہ درود پڑھنے سے ثواب ملتا ہے
34:10اور سلام پڑھنے سے جواب ملتا ہے
34:14اگر کوئی شخص حضور کی بارگاہ میں سلام پیش کرے
34:17تو اس کا جواب ملتا ہے
34:19اور اہلِ حق
34:20حضور علیہ السلام کی بارگاہ میں
34:22اس سلام کو محسوس کرتے ہیں
34:24حضرت امامِ مالک نے
34:26یہ بات کہی
34:28کہ اگر کوئی شخص حضور کے روزے پہ جائے
34:30باقی آئیمہ کہتے ہیں
34:32کہ وہ کہے کہ میں حضور کے روزے کی زیارت کر کے آیا ہوں
34:34لیکن امامِ مالک کہتے ہیں
34:36کہ یہ نہ کہے میں حضور کے روزے کی زیارت کر کے آیا ہوں
34:39بلکہ یہ کہے میں حضور کی زیارت کر کے آیا ہوں
34:42کیونکہ حضور علیہ السلام کو
34:44جس نے حضور کے روزے کو دیکھا
34:47حضور نے فرمایا وہ ایسی ہے
34:48جس نے میری زندگی میں اس نے مجھے دیکھا
34:50حضرتِ شیخ
34:55سید
34:57احمد کبیر الرفائی
34:59رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
35:02بہت بڑے بزرگ گزرے
35:04ساری زندگی حضور پر
35:07کسرت کے ساتھ درود پڑا
35:08اور حضور علیہ السلام کی طرف سے
35:11جو باطن میں جواب آتا رہا
35:13اس کو موصول کرتے رہے
35:15اللہ تعالیٰ جللہ شہدہوں نے توفیق دی
35:18پھر دیارِ نور میں حاضر ہوئے
35:20پانچ سو پچپن ہجری کا یہ واقعہ ہے
35:24اس کو تمام مقاتبِ فکر کے لوگوں نے
35:27سوائے ایک مکتبہِ فکر کے
35:29اپنی کتابوں میں لکھا ہے
35:31تبلیغی جماعت والوں نے اپنے
35:33شیخ العدیث زکریہ سارنپوری نے
35:36کتاب الحج میں لکھا ہے
35:37باقی لوگوں نے بھی لکھا ہے
35:38درجنوں تذکرہ نگاروں نے
35:41اس واقعہ کو بیان کیا ہے
35:42اور اس کی صحت پر اہلِ علم کو کوئی اختلاف نہیں ہے
35:46پانچ سو پچپن ہجری کی بات ہے
35:49کہ وہ حضور کے روزے پہ بنفس نفیس حاضر
35:52اور حاضر ہو کے انہوں نے جو حضور کی بارگاہ میں عرض کی
35:56کیونکہ سید تھے حضور کی اولاد تھی
35:58کہا کہ حضور ساری زندگی
36:00میری روح سلام لے کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتی تھی
36:04اور آپ کا روحانی جواب وصول کرتی تھی
36:07آج آپ کا بیٹا بنفس نفیس خود حاضر ہو گئے
36:11آج میں روحانی جواب نہیں لوں گا
36:14اور حضور کے روزے کے سامنے کھڑے ہو گئے
36:17اور عدب سے سلام پیش گیا
36:18پھر کیا ہوا
36:20ستر ہزار لو مسجد نبوی میں موجود تھے
36:24جنہوں نے دیکھا
36:25حضور نے دستِ انور
36:27روزہِ انور سے باہر نکال دیا
36:30اور حضرتِ شیخ سید رفائی رحمت اللہ تعالیٰ علیہ نے
36:36حضور کے دستِ کرم کا بوسہ لیا
36:38حضرتِ غوثِ عاظم شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ
36:44فرماتے ہیں اتفاق سے اس دن میں بھی موجود تھا
36:47اور کہتے ہیں کہ حضرتِ
36:50امام رفائی کے صدقے سے
36:52حضور کے دستِ اکدس کی زیارت میں نے بھی کر لی
36:55اللہ اکبر
36:57یہ حضور علیہ السلام کا
36:59شفقت فرمانہ ہے
37:01ان لوگوں پر
37:02جو حضور علیہ السلام پر
37:04کسرت کے ساتھ درود پڑھتے ہیں
37:07جن لوگوں نے حضور علیہ السلام کے
37:09اوپر درود پڑھنا معمول بنایا ہے
37:12یہ موضوع اپنے دامن میں بڑی وسط رکھتا ہے
37:15ان پر بڑے بڑے کرم ہوئے ہیں
37:17آج کا جو عنوان ہے
37:18صلو علیہ وآلہ
37:20یہ شیخ سادی کی مارکت الارا
37:23ایک روبائی کا آخری مصرہ ہے
37:26اور متواتر صدری روایات کے مطابق
37:30حضرت شیخ سادی شہرازی
37:32کیونکہ بہت بڑے شاعر تھے
37:34اور قادر الکلام شاعر تھے
37:35آج صدیاں گزرنے کے بعد بھی
37:38آپ کی گلستہ اور گوستہ اور کریمہ
37:40آج بھی اسی طرح مقبول ہے
37:42جس طرح صدیوں قبل تھی
37:43ورنہ کسی زمانے میں
37:45فردوسی کا شانامہ پڑھا جاتا تھا
37:47لیکن آج دنیا کو اور نئی نسل کو
37:49فردوسی کے شانامے کا پتہ بھی نہیں ہے
37:52لیکن کوئی بھی فارسی مزاک رکھنے والا ہو
37:56وہ شیخ سادی سے نعاشنا نہیں ہو سکتا
37:59ان کو جو مقبولیت تامہ ملی ہے
38:01ایسے قادر الکلام شاعر
38:03کہ جس عنوان پر بھی آتے
38:05حد کرتے چلے جاتے
38:06حضرت شیخ سادی شہرازی
38:08اگر حضور کی مدہ میں کلب اٹھاتے ہیں
38:10تو ان کا افلو بڑا خوبصورت ہے
38:12کریم السجایا جمیل الشیم
38:14نبی البرایا شفیع الامم
38:17زبان تا بود دردہا جائے گیر
38:20سنائے محمد بود دل پذیر
38:22حبیبِ خدا اشرفِ انبیاء
38:24اگر لکھتے ہیں تو حد کرتے چلے جاتے
38:26اب انہوں نے حضور کا قصیدہ لکھنا شروع کیا
38:29اور کیا لکھتے ہیں
38:31بَلَغَ الْعُلَا بِكَمَالِهِ
38:32اس کا منع ہے
38:34کہ آپ اپنے کمال کی وجہ سے بلندیوں تک پہنچیں
38:38کاشا فدو جا بِجَمَالِهِ
38:41اور آپ کے چراغِ حُسْنِ اندھیروں کو دور کر دیا
38:44حَسُنَتْ جَمِعِ وَخِسَالِهِ
38:47اور آپ کی ساری کی ساری خوبیاں باکمال ہیں
38:51ربائی
38:52کو ربائی اس لیے کہتے ہیں
38:54کہ وہ چار اشار پر مشتمل ہوتی ہے
38:56اب تین اشار کے اندر بھی
38:59جو ہے وہ مضمون تھا وہ مکمل ہو گیا
39:01اور انسان جب مضمون کو مکمل کر لے
39:04تو اس وقت پھر نیا جملہ لانا
39:06اس کے لیے مسئلہ بن جاتا
39:07کہ آگے لکھے تو کیا لکھے
39:09مضمون تو مکمل ہو گیا
39:10اب یہاں کیا تھا
39:11حَسُنَتْ جَمِعِو
39:18اگر اس کا مانع ذہن میں ملہوز رکھیں
39:22تو آگے جو چوتھا جملہ ہے
39:24اس پہ آپ کو لطف آئے گا
39:25وہ اپنے کمال سے
39:29اپنی طاقت پرواز سے
39:31اپنی قوتوں سے
39:32اللہ کے دی ہوئی عطا سے
39:34وہاں تک پہنچے جہاں تصور بھی نہیں پہنچ سکتا
39:37ان کے جمل نے کائنات میں اجالے پھیلا دیا
39:42روشنیاں کرتی
39:43اندھیرے چھٹ گئے
39:45پھر آخر میں
39:46حَسُنَتْ جَمِعِو
39:47خِسَالِ
39:47کیا بتائیں
39:48ان کی ہر خوبی
39:50ہر خوب و خزنت یہ اچھی ہے
39:51اب بات تو مکمل ہو گئی
39:53لیکن روبائی چاہتے تھے
39:55شیخ سادھی پریشان ہے
39:57اسی پریشانی میں نیند آگے
39:59سوئے تو حضور کا دیدار ہوا
40:02فرمایا سادھی آگے کہتے
40:05کہ انہی ہو
40:06سلو علیہ وآلہ
40:07سلو علیہ وآلہ
40:10اور بنتا ہی یہ ہے
40:11میں اصل خود بھی شاعری سے تعلق رکھتا ہوں
40:14کسی زمانے میں کچھ لکھا بھی ہے
40:16لیکن یہاں تھوڑا سا میں آپ کو اپنے ساتھ
40:19اس لیے سفر کروا رہا ہوں
40:20کہ آپ اقبال کے دیز کے باسی ہیں
40:22اس لیے آپ سے ایسی باتیں میں کر لیتا ہوں
40:25برنباز کا یہ ایسی باتیں نہیں چھڑتی
40:28یہ مشکل ہوتی ہیں
40:29لیکن آپ لوگوں کے خمیر اور مساج کے اندر
40:31یہ لذت اور یہ چاش نہیں موجود ہے
40:33اب ذرا توجہ کیجئے
40:34بلغل اولاب کمال ہی
40:36وہ بلندیوں پر پہنچ گئے
40:39کشفت دوجاب جمال ہی
40:41اپنے جمال سے اندیریں چھٹا دیئے
40:43دور کر دیئے
40:44حاصلت جمیع و خسال ہی
40:46کیا بتائیں ان کی ہر خوبی ہی باکمال ہے
40:49تو جب ہر خوبی باکمال ہے
40:51تو پھر جینی چاہتا کہ پڑو سلو علیہ وآلہ
40:54یعنی پھر دل اچھلتا ہے
40:57روح پکارتی ہے
40:58جو اتنی خوبیوں کا منبع و مصدر ہے
41:00اتنے کمالات کا جامع ہے
41:02جس کے دم سے اندھیریں چھٹ گئے
41:04جس کے دم سے کائنات میں جالے پھیل گئے
41:07تو پھر کیوں جینی چاہتا کہ اس نبی پر درود پڑا جائے
41:10سلو علیہ وآلہ
41:12آؤ اس نبی پر درود پڑو
41:14اس نبی پر سلام پڑو
41:16اس نبی پر بھی درود پڑو
41:17اس کی آل پر بھی درود پڑو
41:19بلغل اولاب کمال ہی
41:21کشفت دوجاب جمال ہی
41:24حسنت جمی و قصہ لہی
41:26سلو علیہ وآلہ
41:28میں درود شریف کے عنوان سے
41:30اپنی گفتگو کو ختم کروں
41:32اور امام بوسیری کا ذکر نہ کروں
41:35تو یہ ناانصافی ہوگی
41:37حضرت امام بوسیری فالج زدہ ہیں
41:40ساری زندگی بادشاہوں کے قصیدے لکھیں
41:43ساری زندگی بادشاہوں کی
41:45کہانیاں بین کی ہیں
41:46ان سے عزازات پائے ہیں
41:48تکریمات پائی ہیں
41:49لیکن عمر کا آخری حصہ آیا
41:52جسم فالج زدہ ہو گیا
41:55سارے چھوڑ گئے
41:57تنہائی بیماری اور غربت
41:59یہ تین چیزیں اگر اکٹھی ہو جائیں
42:01تو ان کو کاٹنا بڑی قیامت ہوتی ہے
42:03تنہائی غربت اور بیماری
42:07یہ تینوں اکٹھی آگئیں
42:09حضرت امام بوسیری پہ
42:10صحت مند کے سارے گاہک ہوتے ہیں
42:12بیمار پڑ گئے تو کوئی پوچھتا ہی نہیں ہے
42:14ایک دن خیال آیا
42:16ساری زندگی شہنشاہوں کے قصیدے لکھے
42:19آج اس کا قصیدہ نہ لکھوں
42:21جو کائنات کا دولہ ہے
42:24اللہ اکبر
42:25کلم پکڑا پھر حضور کا قصیدہ لکھا
42:28یہ قصیدہ بردہ شریف
42:31مکمل کیا
42:32رات ہوئی
42:35حضرت امام بوسیری سوئے
42:38آقا کریم علیہ السلام تشریف لائے
42:40اور یہ بات ذہن میں رکھیں
42:42حضور نے اشاد فرمایا
42:43من رعانی فی المنام فقد رعانی
42:47فین الشیطان لا يتمثلو بھی
42:49یہ ابن ماجہ میں چھے ترک سے روایت مر بھی ہے
42:53ویسے بخاری دیگر کتابوں میں بھی ہے
42:54لیکن ابن ماجہ حجم کے طبع سے چھوٹی کتاب ہے
42:57اس میں بھی چھے مرتبہ یہ روایت ہے
42:59باقیوں میں تو بہت مرتبہ یہ روایت آئی ہے
43:01ابن ماجہ میں چھے ترک سے یہ روایت ہے
43:04حضور نے فرمایا
43:05جس نے مجھے خواب میں دیکھا
43:06اس نے مجھے ہی دیکھا
43:08شیطان خواب میں آ کر بھی میری مثل ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا
43:14اچھا دوسری بات
43:15جس نے حضور کو دیکھا
43:17اس نے حضور کو دیکھا
43:19اور جس نے حضور کو دیکھا
43:21حضور اس کے خواب میں قصد ارادی اور مرضی سے آئے
43:25میں کسی کے خواب میں جاؤں
43:27آپ کسی کے خواب میں آئیں
43:28نہ آپ کو پتا ہوتا ہے نہ مجھے پتا ہوتا
43:30مجلس سجی ہے
43:31میں گفتگو کر رہا ہوں
43:32اٹھ کے آپ چلے جائیں گے
43:34جا کے سو جائیں
43:35میں خواب میں دوبارہ گفتگو کرتا ہوا پایا جاؤں
43:38مجھے آپ اٹھ کے فون کرے
43:40جناب آج خواب میں آئے تھے
43:41تو مجھے تو نہیں پتا ہوگا
43:42یا آپ کو میں دیکھ لو دوبارہ
43:44تو آپ کو علم نہیں ہوگا
43:46لیکن حضور جس کے خواب میں جائیں
43:48قصد ارادی اور مرضی سے جاتے ہیں
43:50تیسری بات
43:52خواب میں کسی کو کچھ
43:54کوئی دے
43:55تو وہ محض خواب ہوتا ہے
43:57لاتری نکل آئی
43:58کروڑ پتی بن گیا
43:59صبح اٹھیں گے
44:00تو کروڑ پتی ہوں گے
44:01یا کنگال ہوں گے
44:02وہ کیا کسی نے کہا تھا
44:04سو بار
44:04میرے ہاتھوں میں تیرا دامن آیا
44:06جب آنکھ کھلی
44:07تو اپنا ہی گرے بانت
44:09کچھ نہیں ہوتا
44:10خواب خواب ہوتا ہے
44:11لیکن حضور کو
44:13اگر کوئی خواب میں دیکھ
44:14اور حضور کچھ انعائد کریں
44:15تو وہ محض خواب نہیں ہوتا
44:17حضرت شاہ ولی اللہ محدد سے
44:19دیلوی فرماتے ہیں
44:21میرے والد شاہ عبد الرحیم نے
44:22خواب میں
44:23انہوں نے حضور کو دیکھا
44:25تو آقا کریم علیہ السلام نے
44:27اپنے دو موہ مبارک
44:28ان کو عطا دیا
44:29کہتے ہیں جب اٹھے
44:32تو دیکھا کہ
44:33موہ مبارک نہیں تھے
44:35تو پھر
44:36ان کی کیفیت وہی ہو گئی
44:38اور پھر حضور خواب میں ملے
44:40فرمایا کہ
44:41ہم نے تیرے سرانے کے نیچے رکھ دیئے
44:42تو کہتے ہیں کہ
44:44وہ دو بال
44:45حضرت شاہ ولی اللہ محدد سے
44:47دیلوی فرماتے ہیں
44:48ان کی علامت یہ تھی
44:50کہ وہ صندوق میں ہم رکھتے تھے
44:52جب اس کو دھوپ میں لے کر نکل تھے
44:54بدلی سایہ کیا کرتی تھا
44:55اور فرماتے ہیں
44:57کہ جب وراست تقسیم ہوئی
44:58تو ایک بال میرے عزے میں آیا
44:59حضور کا موہ مبارک
45:02تو جس نے حضور کو
45:04خواب میں دیکھا
45:05حضور کو ہی دیکھا
45:06حضور قصد سے آئے
45:08جو دیا حقیقت میں دیا
45:09اور چوتھی بات
45:11وہ بخاری کی روایتہ
45:12رویتہ
45:12جس نے مجھے خواب میں دیکھا
45:18ان قریب جاگتے بھی دیکھ لے گا
45:20شارحین لکھتے ہیں
45:21ساری زندگی نہ دیکھ سکا
45:23جب روح نکل رہی ہوگی
45:25روح محبوب سامنے ہوگا
45:26اور اگر اس وقت
45:28حضور کا دیدار ہو جائے
45:29تو اور چاہیے بھی کیا
45:30سوکھا نکلے سا ظہوری
45:32جو ویخ لما مکتیرہ
45:34اگر اس وقت
45:35حضور کا دیدار ہو جائے
45:36تو اور کیا چاہیے
45:37تو حضرت امام بوسیری
45:39کہتے ہیں کہ
45:39میں سویا مقدر جاگا
45:41حضور تشریف لائے
45:42فرمایا
45:43بوسیری جو کسیدہ لکھا
45:44وہ سناوت ہو سئی
45:45تو انہوں نے
45:46وہ مشہور کسیدہ
45:47مولا صلی اللہ علیہ وسلم
45:49دائمان آبادہ
45:50وہ کسیدہ حضور کی خدمت
45:52میں پیج لیا
45:53تو حقہ کریم علیہ السلام
45:55نے اپنا دست شفا
45:56ان کے بدن پہ پھیرا
45:57اور حضور نے
45:59اپنی چادر پتار کر کے
46:00حضرت امام بوسیری کو دے دی
46:02بھرتہ عربی میں کہتے ہیں
46:05جو ہے وہ چادر کو
46:05اسی لئے اس کسیدے کو
46:07کسیدہ بھرتہ کہتے ہیں
46:08وہ کسیدہ جس کی جزا میں
46:10چادر انائد ہوئی تھی
46:11حضرت امام بوسیری
46:13جب اٹھے تو بلکل ٹھیک تھے
46:15چادر اڑی
46:17اور مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے جا رہے
46:19راستے میں ایک درویش کھڑا تھا
46:22کہا بوسیری رات والا کسیدہ تو سناو
46:25جو تم نے لکھا ہے
46:27حضرت بوسیری کہتے ہیں
46:29میں نے لکھا تھا
46:29اور کسی کو پتا نہیں تھا
46:31میں نے کہا کون سا کسیدہ
46:33کہنے لگے بھولے نہ بنو
46:35جو حضور کو سنایا تھا
46:36کہنے لگے کہ میں نے کہا
46:39کہ تجھے کیسے پتا ہے
46:40کہا بتاؤں یہ چادر کون سی ہے
46:42اللہ اکبر
46:43تو امام بوسیری
46:44رحمت اللہ تعالیٰ علیہ نے
46:47حضور علیہ السلام پر یہ درود لکھا
46:49مولای صلی اللہ علیہ وسلم
46:51دائماً آبادہ
46:52اور یہ جزا پائی
46:53حضرت سید
46:57محمد بن سلیمان
46:59رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
47:02ایک بزرگ گزرے ہیں
47:03یہ
47:05سات سو آٹھ ہجری میں
47:08پیدا ہوئے تھے
47:10کہتے ہیں کہ
47:11میں ایک دن
47:12کسی بستی سے گزر رہا تھا
47:15اور وہاں ایک کونہ تھا
47:17اس کا پانی تھوڑا سا نیچے تھا
47:18اور میرے پاس کوئی چیز نہیں تھی
47:20جس سے میں
47:21ڈول ڈال کر کے وہ پانی نکال سکوں
47:23میں متحیر کھڑا تھا
47:25ساتھ ہی ایک شکستہ سا کچھا سا مکان تھا
47:28اس مکان کے اوپر ایک چھوٹی عمر کی لڑکی گھڑی تھی
47:31مجھے کہنے لگی کہ
47:33آپ پریشان ہیں
47:35میں نے کہا ہاں بیٹے
47:36مجھے پریشانی یہ ہے
47:37کہ میں نے وضو کرنا اور نماز پڑھنی ہے
47:39اور وقت جا رہا ہے
47:40اور یہ پانی بہت نیچے ہے
47:41اگر تم کچھ میری مدد کر سکتی ہو تو ضرور کرو
47:44وہ چھات سے نیچے آئی
47:45اور اس نے آکے اپنا لعاب اس کوئے میں پھینکا
47:49حضرت شیخ سید
47:52محمد بن سلیمان فرماتے ہیں
47:54کہ میں نے دیکھا کہ یکا یک کوئے کا پانی
47:58اچھل کے کناروں تک آ گیا
47:59اور بہنے لگا
48:01میں نے جلدی سے وضو کیا
48:03اور پھر میں نے اس لڑکی کو کہا
48:05میں تجھے اللہ کا واسطہ دیتا ہوں
48:06تو مجھے بتا کہ
48:08تیرے پاس ہے کیا
48:10کہ تیرے لبکے ڈالنے سے یہ پانی اچھل کے اوپر آ گیا
48:13تو اس لڑکی نے مجھے کہا
48:15کہ یہ جو مرتبہ مجھے ملا ہے
48:18بے کسراتی صلاتے
48:20یہ مرتبہ میں
48:27اس پر درود پڑھ کے حاصل کیا ہے
48:29جب وہ جنگل سے گزرتے تھے
48:31تو جو جنور تھے
48:32گدموں سے لپٹ جاتے تھے
48:33میں ان پر درود پڑھنے کی برکت سے
48:35جو ہے
48:35وہ یہ مرتبہ حاصل کیا ہے
48:38حضرت سید محمد بن سلیمان کہتے ہیں
48:41کہ پھر میں نے ارادہ کر لیا
48:43کہ میں ساری زندگی حضور علیہ السلام پر
48:45درود پڑھتے ہوئے
48:46اور درود لکھتے ہوئے گزاروں گا
48:48پھر انہوں نے مشہور زمانہ کتاب
48:51جس کو اہل علم اور اہل تصوف
48:54دلائل الخیرات کے نام سے جانتے ہیں
48:56جس کی متدر شروعات پر لکھی گئیں
48:59وہ کتاب انہوں نے تصنیف کی
49:01اور اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے
49:04کہ جو شخص اس کتاب کو باقائدگی کے ساتھ پڑھے
49:07اس کو حضور کا دیدار نصیب ہوتا ہے
49:10اور اس کتاب کو پڑھنے والے
49:12میں نے ایک روایت میں پڑھا ہے
49:13کہ جو شخص حضور علیہ السلام پر
49:15قصر سے درود پڑھے
49:17اللہ تعالیٰ اس درود کی برکت سے
49:19اسے تو نوازتا ہے
49:20اس کی اولاد کو اور اس کی اولاد کی اولاد کو
49:23یعنی اس کی نصروں کو بھی سوار دیتا ہے
49:25تو حضرت سید محمد بن سلیمان نے
49:30یہ کتاب لکھ کر کے
49:31درود کی زمانے پر احسان کیا
49:34اور آج تک بالخصوص
49:35علماء روم کا عمل
49:37اس کے اوپر جو ہے وہ کسرت کے ساتھ ہے
49:40لیکن یہاں بھی
49:42جو ہے وہ ہمارے بردے صغیر پاک و ہند میں بھی
49:45دلائل الخیرات پر لوگوں کے بہت زیادہ
49:47عمل ہے میرے والدے گرامی
49:49اللہ ان کی قبر پہ
49:51کروڑ و رحمت نازل فرمائے
49:53انہوں نے سنتی سال تک
49:55بلا ناغہ دلائل الخیرات کا وظیفہ کیا ہے
49:57اور یہ جو کچھ بھی ہے
49:59وہ کیا کسی نے کہا تھا
50:01میں جو کچھ بھی ہوں ان کی توجہ کا روپ ہوں
50:03میری زندگی ترے پیار کا انعام ہی تو ہے
50:06تو یہ سارا فیضان
50:08یہ دروس شریف کا فیضان ہے
50:10جو دروس قرآن کی صورت میں
50:12آپ دیکھ رہے ہیں
50:13حضرت سید محمد بن سلیمان
50:17رحمت اللہ تعالیٰ
50:18کا پھر انتقال ہو گیا
50:20اور سوس نامی ایک بستی کے اندر
50:23ان کو دفن کر دیا گیا
50:24پھر اس کے بعد
50:26ستتر سال کے بعد
50:29ان کو وہاں سے مراکش منتقل کیا گیا
50:31اور آپ کو جب دفن کیا گیا
50:34اور یہ بات
50:35اخبار مشہورہ میں سے ہے
50:36کہ آپ کی قبر کی مٹی سے
50:39دروت کی برکت کی وجہ سے
50:40کسطوری جیسی خوشبو آیا کرتی تھی
50:42اور جب اتنے طویل عرصے کے بعد
50:45ان کو قبر سے نکالا گیا
50:47تو جب وہ فوت ہوئے تھے
50:49تو انہوں نے تھوڑی دیر پہلے
50:50ہجامت بنائی تھی
50:51اور جب لہت سے ان کو نکالا گیا
50:54ستتر برس بعد
50:56تو ایسے لگتا تھا
50:57کہ جستہ ابھی خط کروایا ہے
50:59اور لوگوں نے
51:01ان کے جسم کو انگلی لگا کر کے دیکھا
51:04تو جستہ ایک زندہ شخص کے جسم کو انگلی لگائیں
51:06تو خون ہٹ جاتا ہے
51:07اور جگہ زرد ہو جاتی ہے
51:09تو ایسے ہی ان لوگوں نے پایا
51:10کہ جگہ زرد ہو گئی
51:11پھر انگلی اٹھائی
51:12تو جو ہے
51:13وہ پھر وہاں دوبارہ سرخی آنے لگی
51:15تو اس شخص نے بتایا
51:17کہ یہ دیکھو کیا ہے
51:18تو پھر جو بھی زیارت کرنے آتا
51:20وہ انگلی لگا کے دیکھتا
51:21اور اس طرح دباتا آپ کی جلد کو
51:23اور وہ زرد ہو جاتی
51:24اور پھر دوبارہ خون آتا
51:26تو پھر ان کی زیارت بند کر دی گئی
51:28اور وہاں سور سے اٹھا کر کے
51:29ان کو مراکش کے اندر دفن کیا گیا
51:32جو شخص حضور علیہ السلام پہ
51:34درود پڑے
51:35تو اس کو حیات جاویدہ مل جاتی ہے
51:38اور صحبہ درود
51:40نبی کا کمال اور مرتبہ کیا ہوگا
51:42تو فرمائے
51:42آؤ ہم حضور کی بارگاہ میں
51:53پورے عدب سے
51:54حدیہ درود پیش کریں
51:55السلاة والسلام
51:56علیکہ یا رسول اللہ
51:59وعلا آلکہ وعصحابکہ
52:02یا محبوب
52:03اللہ
52:04اللہ
52:05اللہ
52:07اللہ
52:09اللہ
52:11اللہ
52:14اللہ
52:15اللہ
52:17اللہ
52:18اللہ
52:19اللہ
52:20اللہ
52:22اللہ
52:24اللہ
52:25آمین آبی بی کے گلشن میں
52:30آئی ہے تازہ بہا
52:35آمین آبی بی کے گلشن میں
52:40آئی ہے تازہ بہا
52:44پڑھتے ہیں صلی اللہ
52:49اللہ
52:50اللہ
52:51اللہ
52:52اللہ
52:53اللہ
52:54اللہ
52:55اللہ
52:56اللہ
52:57اللہ
52:58اللہ
52:59اللہ
53:00اللہ
53:01اللہ
53:02اللہ
53:03اللہ
53:04اللہ
53:05اللہ
53:06اللہ
53:07اللہ
53:08اللہ
53:09اللہ
53:10اللہ
53:11اللہ
53:12اللہ
53:13اللہ
53:14اللہ
53:15اللہ
53:16اللہ

Recommended