00:00اسلام علیکم میں ہوں شہزاد مغل آپ مجھے دیکھ رہے ہیں اس ایم ریالٹی اینڈ مارکٹنگ کے اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر
00:07آج بات کریں گے بیریر ٹاؤن کرائسز کے حوالے سے کہ انویسٹرز کا کیا قصور ہے اور جو اونرز ہیں بیریر ٹاؤن میں جو پروپٹیز رکھتے ہیں ان کا کیا قصور ہے
00:18کہ وہ مفت میں بدنام ہو رہے ہیں ملک ریاض اور حکومت کی اس جڑپوں میں
00:23تو نیب کا ایک بیان سامنے آیا ہے نیب کا کہنا ہے کہ اگر آپ انویسٹرز ہیں کسی بھی بیریر ٹاؤن کی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں کسی بھی شہر میں
00:33تو آپ کی انویسٹمنٹ جو ہے وہ سیف ہے آپ کو گورنمنٹ کے داروں سے کوئی خطرہ نہیں ہے یہی بات انہوں نے جو پروپٹیز اونرز ہیں ان کے لیے بھی کی ہے
00:43کہ اگر آپ پروپٹیز اونرشپ رکھتے ہیں یا آپ بیریر ٹاؤن میں کاروبار کر رہے ہیں تو آپ کو حکومت کی طرف سے کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے
00:50کہ آپ اپنی زندگی کو جاری رکھیں بات تو نیب نے ٹھیک کی کہ اگر آپ انویسٹرز ہیں تو انویسٹمنٹ کرتے رہے ہیں لیکن ان کی ان ایکشنز کی وجہ سے جو بیریر ٹاؤن کے اگینس کر رہے ہیں ملک ریاض کے اگینس کر رہے ہیں
01:04پروپٹی کی پرائسز جو ہیں وہ نیچے آ رہی ہیں اس حوالے سے جو ہے وہ نیب ذمہ وار نہیں ہے وہ تو ایک پروپٹیز کا بزنس کا جو ہے وہ ریال سٹیٹ کا میکانیزم ایس سسٹم ہے وہ ایسے ہی چلتا ہے
01:16تو اٹلیسٹ یہ کلیر ہوگی ہے بات کہ انویسٹرز انویسٹ کر سکتے ہیں جہاں جہاں بیریر کی جو لینڈ ہے وہ کسی لیٹیگیشن میں نہیں آتی اس کے خلاف کوئی لی آؤٹ پلین کی خلاف ورزی نظر نہیں آتی
01:30تو وہاں پر آپ انویسٹمنٹ کریں حکومت کی طرف سے آپ کو کوئی مسئلہ نہیں آئے گا البتہ کوئی ایسی پروپٹیز آپ نے کسی بھی شہر میں خرید لی ہے بیریر ٹاؤن کی جو کے لی آؤٹ پلین کے خلاف ہے
01:42یا بیریر نے وہاں پر کوئی سکول کالیج یونیورسٹی پلے گراؤن پارک مسجد یا کوئی بھی ایسی پبلک سروس کی جو پروپٹی تھی وہ بنانی تھی اگر آپ نے بیریر نے لی آؤٹ پلین میں وہ منشن کی ہوئی ہے اور اگر آپ نے وہ خرید لی ہے
01:58تو چاہے وہ آر ڈی او کے ڈی او سی ڈی او یا پھر ال ڈی اے لاہور والا ہو وہ آپ کی پروپٹی جو ہیں وہ بین کر سکتے ہیں اور آپ کا جو کیپٹل اس میں لگا ہوا ہے
02:09پھر آپ جانے اور بیریر ٹاؤن جانے اس میں جو ہے وہ گورمنٹ کی جو بوڈیز ہیں وہ ریسپونسیبل نہیں ہوں گی
02:16تو اس میں اب ایک بات جو ہے وہ واضح ہوتی ہے کہ سوچ سمجھ کر آپ نے بیریر ٹاؤن میں پروپٹی لینی ہے اور جب بھی آپ کسی ڈیلر کے پاس جائیں پلوٹ خریدنے ہیں تو میک شور کر لیں
02:27اس سے آپ یہ بات پوچھ لیں کہ یہ جو آپ پلوٹ یا کمرشل ہے ریزیڈنچل ہے جو آپ ہمیں بیچ رہے ہیں یہ کیا اکورڈنگ ٹو جو گورمنٹ کی بوڈیز ہیں جو ڈولپرنٹ آتھورٹیز ہیں ان کے لی آؤٹ پلین کی کئی خلاف ورزی تو نہیں ہے
02:41جیسا کہ میں آپ کو ایکزیمپل دے دوں بیریر ٹاؤن فیز ایٹ میں جو دریائے سما کے ساتھ ساتھ کا علاقہ ہے وہ لیٹیگیشن میں آتا ہے
02:48اسی طرح کچھ لینڈز ایسی ہیں جہاں پر بیریر نے اپنے لی آؤٹ پلین میں منشن کیا تھا کہ یہاں پر ہم ایک بہت بڑا پلی گراؤنڈ بنائیں گے پارک بنائیں گے یا سکول بنائیں گے لیکن وہ سکول نہیں بنا پارک نہیں بنا پلی گراؤنڈ نہیں بنا تو وہاں پر کیا کیا بیریر ٹاؤنڈ نے جو ہیں وہ پلوٹس کریٹ کر کے بیچ دیئے
03:06تو ایسی تمام جو پلوٹس کے حوالے سے جو کہ کسی گراؤنڈ کے اس میپ میں آتی ہیں مسجد کی جگہ آتی ہیں سکول کی جگہ آتی ہیں پارک کی جگہ آتی ہیں وہ جو ہے نا وہ لی آؤٹ پلین کی خلاف ورزی ان کو جو ہے وہ سمجھا جاتا ہے
03:21اور اس کے خلاف کوئی بھی جو ڈولپمنٹ آثورٹی ہے نا وہ ایکشن لے سکتی ہے بس آپ نے یہ بچنا ہے اس جگہ سے بچنا ہے ان پلوٹس سے بچنا ہے باقی آپ جہاں جہاں آپ کو لگے کہ یہ لینڈ جو ہے یہ لیگل ہے
03:35اس پر کوئی ایکشن نہیں ہوگا وہاں پر آپ جہاں وہ پلوٹ بھی خرید سکتے ہیں انویسمنٹ بھی کر سکتے ہیں لیکن اب جیسے جیسے حالات بنے ہیں کیونکہ یہ بیری آٹون ابھی سٹل ڈولپنگ جو پروسس ہے اس سے گزر رہی ہے یہ کوئی اتنی ہیوی کنجسٹڈ شیئر اندرون کی طرح تو مارکیٹ ہے نہیں کہ یہ اوپر ہی جاتی رہے گی کیونکہ یہاں پر جو مارکیٹ ایفیکٹ ہوتی ہے نا وہ سیل پرچیس کے والیم کی ہی وجہ سے ہوتی ہے یا پھر ک
04:05اگنسٹ ہو رہا ہے تو پھر بھی پرائسز جو ہیں وہ نیچے آتی ہیں تو اس بیان کے ساتھ کے نیب نے تو کلیر کر دیا ہے کہ عوام کو یا انویسٹرز کو بیری آٹون میں انویسمنٹ کرنے سے یا پروپٹی خریدنے سے ہم کو کوئی مسئلہ نہیں ہے وہ ازاد ہیں خریدیں یا نہ خریدیں لیکن جو ادارے ہیں وہ پبلک کے اگنسٹ بیری آٹون میں جو ہے وہ ایکشن نہیں لیں گے
Comments