00:00ایک دن ایسا ہوا کہ بچوں کو نہ والدہ نے منع کیا
00:03وہ رکنی رہے تھے تو سار بچوں کو ایک ہی گھر میں کٹھا کر لیا
00:07اور وہاں پہ ان کو کمرے میں بند کر دیا
00:09کہنا بھائی نکلو گے تو نہ جاؤ گے
00:11حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کو اللہ کی طرف سے عطا کردہ علم تھا
00:17تو چلتے چلاتے وہاں پہ پہنچے اور ان کو پوچھا کہ بچے کدھر ہیں
00:21تو اس روایت کے مطابق یہ ہے کہ گھر والوں نے کہا جی بچے تو نہیں ہیں
00:25تو آپ نے فرمایا یہ جو اندر سے آوازیں آ رہی ہیں وہ کہنے لگے کہ یہ خنزیر ہیں
00:30وہ جس کہہ دیا یہ جو شور شرابہ تھوڑا حلقہ آ رہا ہے
00:34تو یہ تو بچے نہیں ہیں یہ تو خنزیر ہیں اندر بندے ہوئے
00:36تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اچھا خنزیر ہیں تو پھر خنزیر ہی صحیح
00:41تو اس روایت میں تفسیر اکبیر کی یہ روایت ہے
00:45اس میں یہ ہے کہ جب انہوں نے دروازہ کھولا تو اس سارے کے سارے خنزیر بن چکے تھے
00:49اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام
00:50اللہ اکبر
00:53اب دوسرا کول اس کے بارے میں یہ ہے کہ غیب کی خبریں دینے کا جو واقعہ ہے
00:58حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وہ اس وقت ظاہر ہوا
01:01جب آسمان سے ان کے لئے دسترخان نازل ہوا
01:04تو جو ہم نے پہلے پڑھا تھا
01:06دو ویکس بیک
01:08تو آپ نے جب ان کو وہ مائدہ نازل ہوا
01:12تو ان کو دیا
01:14اور ہم نے ایک روایت میں یہ بھی پڑھا تھا
01:16کہ غریبوں کے لئے تھا
01:17تو ڈیفرنٹ روایات ہم نے پڑھی تھی
01:19تو ان میں ایک یہ بھی تھا
01:22کہ ان کو یہ تو الاؤڈ ہوتا تھا
01:24کہ آپ کھانا کھالیں جتنا چاہے
01:26لیکن آپ اس کو جمع نہیں کر سکتے
01:28گروں میں لے جا کے
01:29تو اب کیا ہوا کہ لوگوں نے کھاتے بھی تھے
01:32اور کوشی کرتے تھے لے جا کے
01:33وہاں پہ جمع کر دیتے گروں میں
01:35چھپا لیتے
01:35تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کو بتاتے تھے
01:39کہ تم کتنا کھا کے آ رہے ہیں
01:40اور کتنا چھپا کے آ رہے ہیں
01:41تو یہ ایک روایت کے مطابق یہ ہے
01:44اس کے بعد پھر
01:47اس سے آگے اگر ہم چلتے ہیں
01:50تو ہم نے یہ بھی پڑھا
01:51اللہ تعالیٰ نے فرمایا
01:52کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا
01:54کہ
01:54کہ میں تمہارے لئے بعض وہ چیزیں بھی
01:59حلال کرتا ہوں
02:00یا کروں گا جو تم پر پہلے سے حرام تھی
02:03تو ابن جریج بیان فرماتے ہیں
02:07کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے
02:12ان کے لئے اونٹ کا گوشت اور چربی کو حلال کیا تھا
02:15اور کئی قسم کی مچھلیاں تھیں
02:18جو ان کے لئے حلال کر دیتے
02:19اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے آگے رشاہد فرمایا
02:23فلما احس عیسیٰ منہم الكفر
02:30قال من انصاری الاللہ
02:32قال الحواریون نحن انصار اللہ
02:37آمنا باللہ
02:39واشہد بئنا مسلمون
02:42کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے
02:45اپنے لوگوں میں جن کو دعوت و تبلیغ دیے جا رہے تھے مسلسل
02:49ان میں کفر کو محسوس کیا
02:52کہ یہ لوگ تو ماننے والے نہیں ہوئے
02:54تو کفر کر رہے ہیں
02:54تو کفر کو ان میں محسوس کیا
02:56تو آب نے فرقال من انصاری الاللہ
02:59فرمایا کہ
02:59تم میں سے اللہ کے لئے میرا مددگار کون ہے
03:03قال الحواریون
03:06تو حواریوں نے کہا
03:08نحن انصار اللہ
03:11ہم آپ کے اللہ کے لئے مددگار ہیں
03:14آمنا باللہ
03:17ہم اللہ پر ایمان لائے
03:19وشہد
03:21اور آپ گواہ ہو جائیں
03:23بئنا مسلمون
03:25کہ ہم مسلمان ہیں
03:26ہم کفر کرنے والوں میں شامل نہیں ہیں
03:28سو آپ اس بات کے گواہ رہے
03:30کہ ہم مسلمان ہیں
03:32ربنا آمنا بما انزلتہ
03:36اے ہمارے رب
03:38جو کچھ بھی تو نے نازل فرمایا
03:41ہم اس پر ایمان لائے
03:42وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولِ
03:44اور ہم نے رسول کی پیروی کی
03:47فَقْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ
03:50تو اے اللہ ہمیں
03:52گواہوں میں سے لکھلا
03:53شہداء میں سے لکھلا
03:54یعنی جو گواہی دینے والے لوگ ہیں
03:56ان میں شامل فرما
03:58وَمَا كَرُوا
04:00تو پھر ان لوگوں نے
04:02یعنی جو یہود تھے
04:04جو کافر تھے
04:05ان لوگوں نے مکر کیا
04:07وَمَا كَرَ اللَّهُ
04:10اور اللہ تعالیٰ نے
04:12ان کے مقابلے میں
04:14اپنی خفیہ تدبیر فرمائی
04:16وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَا كِرِينَ
04:19اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر
04:21سب سے بہترین ہے
04:23اب یہ جو لفظ ہم نے ابھی پڑھا
04:25وَمَا كَرُوا وَمَا كَرَ اللَّهُ
04:27مَا كَرَ کا لفظ ہے
04:28دونوں طرف اس کی نسبت ہے
04:30تو جیسے ہی ہم پہلے بھی پڑھ چکے ہیں
04:33کہ بہت سی چیزیں ہیں
04:34جن کی نسبت کی وجہ سے
04:36الفاظ چینج ہو جاتے ہیں
04:37تو یہاں پہ بھی اسی طرح ہے
04:40مَا كَرَ کا لفظ ہمارے اردو میں
04:41یہ چکے نیگٹیو
04:43برے معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے
04:45تو جب تو ہم کفار کی طرف
04:47اس کی نسبت کریں گے
04:49تو ہم نارملی مَا كَرَ کا معنی
04:51اردو میں مَكَر ہی کریں گے
04:52تو مَكَرُ کہ انہوں نے مَكَر کیا
04:55وَمَا كَرَ اللَّهُ
04:56اور جب اس کی نسبت اللہ تعالی کی طرف ہوگی
04:59تو پھر ہم کہیں گے
04:59کہ اللہ تعالی نے اپنی تدبیر فرمائی
05:02چونکہ مَكَر کا لفظ
05:04اردو میں اللہ تعالی کے لیے
05:05اس کی شائعہ نشان نہیں ہے
05:07سو اس لفظ کو پھر مناسب نہیں ہے
05:09استعمال کرنا
05:09اب یہ جو چندے کی چیزیں ہیں
05:13اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا
05:15ان لوگوں میں کفر کو محسوس کر کے بعد فرمایا
05:18کہ میرے حل پر جو ہیں
05:20میرے مددگار کون ہے
05:21تم میں اللہ کے لیے
05:22حواریین جو ہیں
05:25لفظ حواری ہم نے ابھی پڑھا
05:26اس کا مصداق
05:28حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے
05:30اصحاب جو تھے
05:32ہم اسلام میں ہم کیا لفظ استعمال کرتے ہیں
05:34صحابی
05:34اور پھر مجموعی طور پر جب کہتے ہیں
05:37تو صحابہ اکرام علیہم الردوان ہم کہتے ہیں
05:40تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جو صحابی تھے
05:42یا ان کے ساتھی تھے ان کو حواری کہا جاتا ہے
05:45ٹھیک ہے
05:46اور یہ ایک روایت میں یہ ہے
05:50کہ یہ بارہ شخص تھے
05:51امام ابو جعفر طبری رحمت اللہ تعالی
05:54نے وہ روایت کرتے ہیں
05:56کہ سعید بن جبیر رضی اللہ تعالی
05:58انہوں نے بیان کیا
05:59کہ حور کے معنی سفید ہے
06:01ٹھیک ہے
06:03ان کو حواری اس لیے کہا جاتا ہے
06:05کہ وہ سفید کپڑے پہن کے رکھتے ہیں
06:07تو اس وجہ سے ان کو حواری کہا جاتا ہے
06:10اسی طرح ایک روایت میں یہ ہے
06:13کہ وہ کپڑے دھو کر
06:15سفید اور صاف کر کے رکھتے تھے
06:17ہمیشہ
06:18اپنے کپڑوں کو ہمیشہ صاف سترہ رکھتے تھے
06:20اس وجہ سے ان کو حواری کہا جاتا ہے
06:22حضرت قطادہ نے
06:24نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
06:25کے ایک صحابی سے روایت کی ہے
06:27کہ حواری اس کو کہتے ہیں
06:29جو اپنے نبی کے خلیفہ بننے کی
06:31طاقت اور استطاعت رکھتا ہو
06:33صلاحیت رکھتا ہو
06:34تو اس کو حواری کہتے ہیں
06:40نبی اکرام علیہ السلام کے
06:43اسفیہ
06:44اور ان کے مخلصین کو کہا جاتا ہے
06:47یعنی کہ جو نبیوں کے دوست ہوتے ہیں
06:49ان کے چنیدہ لوگ ہوتے ہیں
06:50زیادہ قریبی لوگ ہوتے ہیں ان کو
06:52اور جو مخلص لوگ ہوتے ہیں ان کو حواری کہا جاتا ہے
06:56سو یہ ساری چیزوں کو
06:57اگر دیکھا جائے تو ان میں سے
06:59صاحب تفسیر جو ہیں وہ فرماتے ہیں
07:01کہ حواری کے ان معانی میں
07:04تحقیق زیادہ قریب
07:05یہ قول ہے
07:06جس میں یہ کہا جی گیا
07:09کہ وہ سفید کپڑے پہن کے رکھتے تھے
07:11اس وجہ سے ان کو حواری کہا جاتا ہے
07:13کیونکہ عرب
07:14بہت سفید چیز کو حور کہتے ہیں
07:17تو اس وجہ سے
07:19مراد یہ بنتی ہے
07:21کہ وہ چونکہ سفید کپڑے پہن کے رکھا کرتے تھے
07:24تو اس وجہ سے ان کو حواری کہا جاتا ہے
07:26امام ابو جعفر محمد بن جریر طوری
07:30رحمت اللہ تعالی لے بیان کرتے ہیں
07:32کہ صدی بیان کرتے ہیں
07:33کہ بنو اسرائیل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام
07:36اور ان کے انیس حواریوں کو
07:39ایک گھر میں بند کر دیا
07:40most of the روایات جو ہم پڑھ رہے ہیں
07:42بارہ حواری ہیں
07:43سو اس روایت میں انیس کا ذکر ہے
07:45سو ان کو بند کر دیا
07:47حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا
07:49کہ تم میں سے کون شخص ہے
07:50جو میری صورت کو قبول کرے گا
07:53سو اس کو قتل کر دیا جائے گا
07:55اور اس کو جنت مل جائے گی
07:57ایک شخص نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صورت کو قبول کر لیا
08:01کہا کہ میں ریڈی ہوں اس کے لئے
08:02تو پھر اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو
08:05روشندان سے آسمانوں کی طرف اٹھا لیا گیا
08:08اور وہ جو شخص تھا
08:10اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شبیح ڈال دی گئی
08:13اور اس کو قتل کر دیا گیا
08:14یہ روایت ہم نے
08:16ڈیٹیل کے ساتھ لاسترس نے بھی پڑھی تھی
08:18ابھی ایک روایت جو لاسترس نے
08:20ہمارے فہد بھائی نے منشن کی تھی
08:22ناکٹر عیسیٰ صاحب کے حوالے سے وہ بھی موجود ہے
08:25سو علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی
08:29قرطبی رحمت اللہ تعالی نے وہ لکھتے ہیں
08:32کہ اللہ تعالی کی خفیہ تدبیر یہ ہے
08:35کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شبہ
08:37کسی اور پر ڈال دی جائے
08:39حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا
08:42اور یہ واقعہ کچھ اس طرح سے ہوا
08:44کہ جب یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام
08:47کو قتل کرنے پر متفق ہو گئے
08:49تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام
08:50ان سے بچنے سے
08:52بچنے اس کے لیے باغ نکلے
08:54اور ایک گھر میں داخل ہو گئے
08:56حضرت جبریل عمین علیہ السلام
08:58نے اس گھر کے روشندان سے ان کو
09:00آسمان کی طرف اٹھا لیا
09:01ان کے بادشاہ نے ایک خبیص
09:05طبیعت کے گندی طبیعت کے شخص
09:07کو بھیجا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام
09:09کو پکڑ کے لے کے آئے
09:10تو وہ جو شخص تھا وہ سب سے پہلے
09:12اس گھر میں داخل ہوا
09:13تو جب وہ شخص وہاں پہ داخل ہوا
09:16حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے نکال لیا
09:18اور اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شمیہ ڈال دی گئے
09:20تو چونکہ وہ سب سے زیادہ
09:22بدتینت تھا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو
09:24قتل کرنا چاہتا تھا
09:25تو اللہ تعالیٰ نے اس پر شمیہ ڈال دی
09:28اور پھر اسی کو اصولی چڑھا دیا گیا
09:30تو اب کیا ہوا
09:32ہوا یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو
09:36تو اٹھا لیا گیا
09:37یہ سب سے پہلے اندر داخل ہوا
09:39اس کی شکل جو ہے وہ چینج ہو گئی
09:41تو اب جیسے ہی دیگر لوگ آئے
09:43تو آ کے کہنے لگے جو ہمارا آدمی تھا
09:45اندر تو وہ تھا
09:46تو یہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام
09:48اگر تو ہم اس کو پکڑ کے لے کے جا رہے ہیں
09:50تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ عیسیٰ علیہ السلام ہے
09:54تو ہمارا آدمی کدھر گیا
09:55اور اگر یہ ہمارا آدمی ہے
09:59تو عیسیٰ علیہ السلام کدھر گئے ہیں
10:00تو اس چیز میں پھر وہ
10:01آپس میں چیمگوئیاں کرنے لگے
10:05تو
10:07اس شخص کو پھانسی دے دی گئی
10:11اور جو اللہ تعالی نے فرمایا
10:12وَمَا كَرُوا وَمَا كَرَ اللَّهُ
10:14انہوں نے مکر کیا
10:15حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شہید کرنا چاہا
10:18تو اللہ نے ان کے مکر کے جواب میں
10:20اپنی خفیہ تدبیر فرمائی
10:22اور اللہ کی تدبیر سب سے بیسٹ ہے
10:24کہ کیسے
10:26جو چاہتا تھا ان کو ماذا اللہ شہید کرے
10:28اسی کو اللہ تعالی نے سوری پہ لٹکوا دیا
10:30اس کے بعد
10:32اللہ تعالی نے اشارت فرمایا
10:34اِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيْسَا
10:36اے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم
10:39یاد کیجئے
10:40اِذْ قرآن پاک میں لفظ جب بھی آتا ہے
10:43تو یہ ماضی کے لئے
10:44دلالت کرتا ہے
10:45اس سے مرادی ہوتا ہے کہ یاد کیجئے
10:47ہیڈن ایک لفظ ہوتا ہے وہاں میں
10:49اس نے فرمایا کہ اے
10:51محبوب صلی اللہ علیہ وسلم
10:53آپ یاد کیجئے
10:54قَالَ اللَّهُ يَا عِيْسَا
10:55جب اللہ تعالی نے فرمایا
10:57کہ اے عیسَا
10:59اِنِّي مُتَوَفِّكَ
11:01بے شک میں آپ کی عمر کو پورا کروں گا
11:04یہ لفظ کو ذہن میں رکھئے گا
11:06انشاءاللہ ہم واپس آتے ہیں
11:07اِنِّي مُتَوَفِّكَ
11:10میں آپ کی عمر کو پورا کروں گا
11:13وَرَافِعُكَ إِلَيَّ
11:15اور میں آپ کو اپنی طرف بلند کر لوں گا
11:18اٹھا لوں گا
11:19وَمُتَحِّرُكَ
11:21اور میں آپ کو پاک کر دوں گا
11:23صاف کر دوں گا
11:24مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا
11:26ان کافروں کے بہتان سے
11:28یعنی وہ بہتان جو آپ پر باندھ رہے ہیں
11:31ان سے میں آپ کو پاک کر دوں گا
11:33صاف کر دوں گا
11:34وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ
11:39اور آپ کے پیروں کاروں کو میں بنا دوں گا
11:43فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا
11:45الٰ يوم القیامہ
11:46کافروں پر فوقیت رکھنے والا قیامت تک
11:50آپ کے جو پیروکار ہیں وہ کفار پر قیامت تک فوقیت رکھیں گے
11:54تو یہ صورتحال بنے گی
11:56اس میں دلائل کے ذریعے بسیکلی وہ فوقیت رکھیں گے
12:00اور آج کے دور میں دیکھیں تو تعداد کے لحاظ سے بھی وہ فوقیت رکھتے ہیں کفار پر
12:05سو اینیوے لیکن دلائل کے حساب سے وہ فوقیت رکھیں گے
12:10ثُمْ یَ مَرْجِعُكُمْ
12:13پھر اللہ تعالی نے فرمایا کہ پھر میری ہی طرف تمہیں لوٹنا ہے
12:17فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ
12:20پھر میں تمہارے درمیان فیصلہ فرماؤں گا
12:23فِي مَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ
12:26ہر اس چیز میں جس کے بارے میں تم آپس میں اختلاف کرتے تھے
12:30آپس میں اختلاف کرتے تھے
12:32فَأَمَّا الَّذِينَ كَافَرُو
12:34تو فرمایا کہ پھر وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا
12:38فَأُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا
12:41انہیں تو میں شدید عذاب دوں گا
12:44فِي الدُنْيَا وَالْآخِرَةِ
12:46اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی
12:49وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ
12:53اور ان کا کوئی بھی مددگار نہیں ہوگا
12:56وَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا
12:58اور وہ لوگ جو ایمان لائے
13:00وَعَمِلُ الصَّالِحَاتِ
13:03اور جنہوں نے اچھے اعمال کیے
13:05فَيُوَفِّهِمْ عُجُورَهُمْ
13:08تو میں انہیں ان کا پورا پورا
13:10یعنی انہیں ان کا پورا پورا عجر دے گا
13:12اللہ تعالی
13:13وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ
13:16بے شک اللہ تعالی ظالموں سے محبت نہیں فرماتا
13:20ان کو پسند نہیں فرماتا
13:22ذَلِكَ نَتْلُوهُ عَلَيْكَ مِنَ الْآَيَاتِ
13:25اور یہ وہ آیتیں ہیں جن کو ہم آپ پر تلاوت کرتے ہیں
13:30وَالذِّكَرَ
13:31اور نصیحت والی
13:33الحکیم
13:34یعنی حکمت والی اور نصیحت والی آیات ہیں
13:37جن کو ہم آپ پر تلاوت کرتے ہیں
13:39تو اب یہ والی جو آیات مبارکہ ہیں
13:43کہ اللہ تعالی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فرمایا
13:47کہ میں تمہیں تمہاری عمر کو پورا کروں گا
13:51ایک لفظ ہے متوفی کا یہاں پہ جو ہم نے پڑھا
13:53ایک لفظ ہم پڑھتے ہیں متوفہ
13:56وفات
13:57تو بعض علماء
14:00تاریخ میں تو شاید ہمیں نہیں ملتے ہیں
14:03لیکن موجودہ
14:04غالباً ڈاکٹر بھی ہے ساتھ میں
14:07جعوید احمد غامدی صاحب
14:09وہ اس آیت سے
14:11اور اسی طرح کی جو دیگر آیات ہیں
14:13حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی
14:15اس سے وہ کہتے ہیں
14:16کہ اس سے مراد یہ ہے
14:18کہ اللہ تعالی نے فرمایا
14:19کہ میں تمہیں وفات دوں گا
14:21تو وہ کہتے ہیں
14:22کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو
14:23پہلے وفات دی گئی ہے
14:24یعنی ان کو
14:25وفات ہوئی ہے
14:27اور اس کے بعد ان کو
14:27آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا ہے
14:29تو وہ فوت ہوئے ہیں
14:30جبکہ اس کا معنی جو
14:32ہم ابھی
14:33ہم نے پڑھا ہے ترجمہ میں
14:34اور تفسیر میں
14:34کہ اللہ تعالی نے فرمایا
14:35کہ میں تمہاری عمر کو پورا کروں گا
14:38تو اس کے بارے میں
14:38ہم دیکھتے ہیں
14:39کہ اللہ تعالی نے ایک تو
14:40ہمیں ابھی لفظ پڑھا
14:41فیوفیہم اجورہم
14:43تو یہ بھی اسی سے ہے
14:45وفات والجلف ہے
14:46تو وہاں سے بھی وہی ہے
14:47تو اس کا مطلب ہے
14:49کہ پورے کا پورا عجر
14:50وہ اللہ تعالی دے گا
14:51تو اس کا مطلب یہ ہے
14:52کہ پورا کرنا
14:53اسی طرح
14:54اللہ تعالی نے فرمایا
14:55وَوُفِّيَتْ قُلُّ نَفْسٍ مَّا عَعْمِلَتْ
14:59اور ہر شخص کو
15:01اس کے اعمال کے پورا پورا عجر
15:03دیا جائے گا
15:04اسی طرح اللہ تعالی نے فرمایا
15:06وَأَوْفُ
15:06یہ لفظ بھی اسی سے ہے
15:08وَأَوْفُ الْقَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ
15:11اور جب بھی تم وزن کرو
15:13تو اس کو پورا پورا تولہ کرو
15:15وزن میں کمی بیشی نہ کیا کرو
15:16تو اس کا مطلب پورا کرنا ہے
15:18تو عربی زبان ایک ایسی زبان ہے
15:21اس میں ایک ایک لفظ کے بہت زیادہ معنی بھی ہیں
15:23تو یہاں پہ ہم دیکھتے ہیں
15:25کہ پھر دیگر روایات کو بھی لاتے ہیں
15:27حدیث کو لاتے ہیں
15:28آیات کو لاؤ کے پھر
15:30اس کے ساتھ دیکھتے ہیں
15:36وہ وفات نہیں ملی
15:38بلکہ اللہ تعالی نے اپنی طرف اٹھا لیا تھا
15:40اب اس کے بارے میں جو دیگر
15:43اس کے دلائل ہیں
15:44ابھی ان میں سے ہمیں ایک دو چیزیں
15:45یہاں پہ ڈسکس کرتے ہیں
15:47کہ حضرت ابو حریرہ رضی اللہ تعالی
15:49انہو بیان کرتے ہیں
15:50کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
15:52نے اشارت فرمایا
15:53تمام انبیاء اکرام علیہ السلام
15:56علاتی بائی ہیں
15:57یعنی باپ کی طرف سے وہ آپس میں بائی بائی ہیں
16:00ان کی مائیں مختلف ہیں
16:02اور ان کا دین واحد ہے
16:04اور میں عیسیٰ ابن مریم
16:07علیہ السلام کے زیادہ قریب ہوں
16:10یعنی آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں
16:11کہ میں ان کے زیادہ قریب ہوں
16:13کیونکہ میرے اور ان کے درمیان میں
16:15کوئی بھی اور نبی نہیں آیا
16:17اور وہ میری امت پر میرے خلیفہ ہوں گے
16:22وہ زمین پر نازل ہوں گے
16:24جب تم ان کو دیکھو گے
16:26تو ان کو پہچان لوگے
16:28وہ متوسط الخلق ہیں
16:30ان کا رنگ سرخی مائل
16:32سفید ہے
16:33اور ان کے بال سیدھے ہوں گے
16:36گویا کہ ان کی پیشانی سے
16:38پانی ٹپک رہا ہے
16:40اگرچہ وہ بھیگے ہوئے نہیں ہو گئے
16:42یعنی اتنا ان کا جو
16:44رنگ مبارک ہے وہ سفید
16:46سرخی مائل ہوگا
16:47دیکھنے میں ایسا لگے گا آپ کو جیسے ان کے
16:50جسم سے پانی ٹپک رہا ہے جبکہ وہ گھیلے بھی نہیں ہوں گے
16:53وہ سلیم کو توڑ دیں گے
16:56خنزیر کو قتل کر دیں گے
16:58فیازی سے مال کو تقسیم کریں گے
17:00اسلام کے لئے لوگوں سے جہاد کریں گے
17:03حتیٰ کہ ان کے زمانے میں
17:05تمام باطل دین
17:06جو ہے وہ دنیا سے مٹا دیے جائیں گے
17:09اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں
17:12مسیح الدجال کو بھی قتل فرما دے گا
17:14احلا کر دے گا
17:16اور تمام روح زمین پر امن ہوگا
17:18اونٹ سامپوں کے ساتھ چر رہے ہوں گے
17:21بیل چیتوں کے ساتھ چر رہے ہوں گے
17:24بکریاں بیڑیوں کے ساتھ ہوں گی
17:27بچے سامپوں کے ساتھ کھیل رہے ہوں گے
17:29کوئی کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا
17:32یہ وہ زمانہ ہوگا جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام
17:35واپس اس دنیا میں تشریف فرما ہوگے
17:37فرمایا کہ وہ چالیس سال تک زمین پر رہیں گے
17:41پھر وہ وفات پا جائیں گے
17:42مسلمان ان کی نمازیں جنازہ پڑھ کر ان کو دفن کریں گے
17:46حضرت ابو حریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں
17:49کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارت فرمایا
17:51عیسیٰ ابن مریم ضرور زمین پر نازل ہوں گے
17:54وہ برحق فیصلے کریں گے
17:56وہ نیک امام ہوں گے
17:58صلیب کو توڑ دیں گے
18:00خنزیر کو قتل کریں گے
18:01جزیہ کو موقوف کر دیں گے
18:03وہ بڑی فیاضی سے مال کو تقسیم کریں گے
18:06حتی کہ کوئی
Comments