Skip to playerSkip to main content
  • 1 year ago
#islamic#islamic story#motivational #inspiration#allah

Category

🎈
Fun
Transcript
00:00I will give you an example of a person who has a message.
00:06One of the people who have been hearing this,
00:09he is an Imam Bquddin Ibn Makhlad.
00:15He is a member of the Prophet and the Prophet.
00:20This is an Imam Zahbiy R.A.
00:22He was a member of the Prophet.
00:25He is a member of the Prophet.
00:27He was a member of the Prophet.
00:29But it was 20 years old to America
00:32Now I would like to think that 20 years old
00:35This is an youth's age
00:36That in the world of men
00:39The estate of men, women, women
00:42These are so many
00:44That the teaching of my life
00:47That the teaching of men
00:49And this teaching of men
00:52That they all are
00:53For each special
00:55We had a big day on our way, I had a long time, I had a long time with a long time, I had a long time coming out.
01:05God's mercy, our money was in the end. High tide was in the middle of that.
01:12If we had high tide in the middle of that, it would be a little to us.
01:18We have all the people who have infected with, what did we have to say?
01:24طبیعت خراب
01:26کچھ کھانے کو دل نہیں چاہتا
01:28پھر ہمارے پاس پینے کو پانی بھی نہ رہا
01:31تو ہم سمندر کا نمکین پانی پیتے تھے
01:34پھر ایک وقت آیا کھانے کو بھی کچھ نہ رہا
01:38ہمیں ڈیڑھ دو مہینے
01:41وہاں طوفان نے گھیرے رکھا
01:44ہم سفر نہیں کر سکے
01:45اب کپڑے بھی میلے
01:47نان نفقہ بھی ختم
01:49اور سمندر کے اندر ہم اپنی موت کے انتظار میں
01:53مگر اللہ کی شان
01:55کہ اللہ رب العزت نے حفاظت کرنی تھی
01:58طوفان ختم ہوا اور ہمارا سفر شروع ہوا
02:01اور ایک وقت آیا
02:03کہ ہماری کشتی کی نارے لگی
02:05میں نیچے اترا
02:07اپنی گھٹری میں نے اپنے کندے پر اٹھائی
02:10سر پر اٹھائی
02:11اور میں نے سفر شروع کیا
02:14اس لیے کہ مجھے کئی سو میل کا سفر
02:17پیدل کرنا تھا
02:19جانا کہاں تھا
02:21بغداد جانا تھا
02:23امام احمد بن حمد
02:25احمد اللہ علیہ سے حدیث پڑھنے کے لیے
02:27یہ ان کے دل کی تمنہ تھی
02:30کہتے ہیں کہ میں
02:31دن رات پیدل چلتا رہا
02:33سفر کرتا رہا
02:35حتیٰ کہ جب میں نے بغداد شہر کو دیکھا
02:37نا آنکھوں کے سامنے
02:39تو میرے جسم
02:40نے جواب دے دیا
02:42اتنی تھکن تھی
02:43میں ایک درخز کے نیچے گھٹری کو رکھ کر
02:46لیٹ گیا اور
02:47بہت گہری نیند سو گیا
02:49جب سو کے اٹھا
02:51تو میں نے کہا کہ چلو میں شہر جاتا ہوں
02:54تو میں نے راستے میں
02:55ایک بندے کو آتے ہوئے دیکھا
02:57میں نے اس بندے کو سلام کر کے پوچھا
03:00کہ سناؤ امام احمد بن حمد کا کیا حال ہے
03:03اس نے کہا کیوں پوچھ رہے ہو
03:05میں نے کہا میں اتنا دور سے
03:09سفر کر کے
03:11ان سے علم حاصل کرنے کے لیے آیا ہوں
03:13اس بندے نے تھنڈی سانس لی
03:16اے نوجوان تمہاری یہ خواہش پوری نہیں ہو سکے گی
03:20کیوں
03:21اس نے کہا کہ حاکم وقت
03:24امام احمد بن حمد سے کسی وجہ سے نراض ہو گیا ہے
03:28اس نے ان کو گھر میں نظر بند کر دیا ہے
03:31نہ کوئی بندہ ان سے مل سکتا ہے
03:33نہ وہ کسی بندے سے مل سکتے ہیں
03:36تم تو علم حاصل نہیں کر سکو گے
03:39کہتے ہیں کہ یہ خبر بجلی بن کے گری میرے دل پر
03:42مگر میں چلتا رہا
03:45حتیٰ کہ شہر پہنچ کے ایک سرائے کے اندر
03:48میں نے کمرہ
03:49کرائے پر لے لیا
03:50اور میں وہاں رات کو لٹ گیا
03:53اگلے دن اٹھا تو میں نے سوچا
03:56اتنا بڑا شہر ہے
03:57آخر کہیں تو حدیث کا درس ہوتا ہوگا
04:00تو مجھے پتہ چلا
04:02کہ اثر کی نماز کے بعد
04:03ایک محدث تھے
04:05جو استاذ المحدثین تھے
04:07یحیع ابن معین رحمت اللہ
04:09جو جرحہ اور تعدیل کے امام کہے جاتے ہیں
04:14وہ حدیث کا درس دیتے تھے
04:17میں اثر کے بعد وہاں پہنچ گیا
04:19انہوں نے ایک حدیث مبارکہ پڑھائی
04:21پھر بتایا
04:23پھر اس کے بعد
04:24question answer کی نشست شروعی
04:26تو لوگوں نے ان سے روات کے بارے میں
04:29سوال پوچھنے شروع کر دیئے
04:31فلان راوی کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں
04:33فلان راوی کے بارے میں
04:34تو کہنے لگے کہ
04:36یحیع بن معین رحمت اللہ
04:38وہ جواب دینے لگے
04:40تو میں اٹھا
04:42اور میں نے اٹھ کر کہا
04:44کہ جی آپ حشام بن عمار کے بارے میں
04:47کیا کہتے ہیں
04:47ان کا وہ چادر والے
04:50میں نے کہا ہاں
04:52کہنے لگے اگر ان کی چادر کے نیچے
04:55تکبر بھی آ جائے
04:57تو بھی ان کی سکاحت میں
04:59کوئی فرق نہیں پڑتا
05:00یعنی وہ اتنے سکا ہیں
05:02پکے بندے
05:03پھر میں نے دوسرا
05:06قیسٹن پوچھنا شروع کیا
05:07تو جو قریب والے تھے
05:09انہوں نے میرا کرتہ فکڑ کے کھینچا
05:10ان کا طالب علم
05:12تو اجنبی نظر آتا ہے
05:13یہاں کی مجلس کا یہ دستور ہے
05:16کہ ہر بندہ
05:17ایک مجلس میں
05:18ایک قیسٹن پوچھ سکتا ہے
05:20سارے قیسٹن ایک ہی پوچھے گا
05:22تو باقیوں کی باری کیسے آئے گی
05:24بیٹ جاؤ
05:25کہنے کے جب انہوں نے کہا
05:27بیٹ جاؤ
05:28تو میں نے
05:29مسکین چہرہ تو تھا ہی سہی
05:31ان کی منت سماجت شروع کر دی
05:33میں نوارد ہوں
05:34مجھے پتہ نہیں تھا
05:36میں نے اصل قیسٹن تو اب پوچھنا تھا
05:39میں یہ قیسٹن پہلے پوچھتا
05:41لوگوں نے میری فریاد کو دیکھا
05:43تو ان کو ترس آ گیا
05:45وہ کہنے لگے
05:46اچھا ایک قیسٹن اور پوچھ سکتے ہو
05:48کہتے ہیں
05:51کہ میں نے
05:52یحیب بن مہین رحمت اللہ علیہ سے
05:54ایک قیسٹن اور پوچھتا
05:55اور وہ قیسٹن کیا تھا
05:58میں نے پوچھا
06:00کہ مجھے
06:01امام احمد بن حنبل
06:03کے بارے میں آپ بتائیے
06:04کہ آپ کیا کہتے ہیں
06:05میرے سوال کو سن کر
06:09یحیب بن مہین رحمت اللہ علیہ نے
06:11سر کو جھکا لیا
06:12مجمع پہ سناٹا چھا گیا
06:15پنڈ راپ سائلنس
06:16لوگ حیران تھے
06:19کہ اس بندے نے
06:21ایسا قیسٹن پوچھ لیا
06:24اس کو نہیں پتا
06:25کہ حاکم وقت کے عطاب میں ہیں وہ
06:27تھوڑی دیر خاموشی رہی
06:29بالاخر یحیب بن مہین رحمت اللہ علیہ نے سر اٹھایا
06:33تھنڈی سانس لی اور کہا
06:36کہ امام احمد بن حنبل امام المسلمین ہے
06:40جب انہوں نے یہ الفاظ کہے کہ احمد بن حنبل امام المسلمین ہے تو میں نے دل میں اور پکہ ارادہ کر لیا کہ میں نے ان سے حدیث پڑھنی ہے
06:54جب درس ختم ہوا تو میں نے قریب کے ایک آدمی کو کہا کہ مجھے امام احمد بن حنبل کا گھر دکھا دیجئے اس نے کہا بھئی نہیں پولیس کو پتا چل گیا تو میں بھی سزا ملے گی مجھے بھی ملے گی
07:07پھر میں نے اس کو کہا کہ بھئی ایسے کرو کہ مجھے ساتھ لے چلو اور امام احمد بن حنبل رحمت اللہ علیہ کے دروازے سے گزرتے ہوئے تم آنکھ کے اشارے سے بتا دینا کہ یہ گھر ہے
07:20پھر میں جانوں میرا کام جانے اس نے کہا چلو اتنا میں کر دیتا ہوں
07:25تو اس نے مجھے امام احمد بن حنبل کے گھر کا دروازہ دکھا دیا
07:30میں نے راستہ چی طرح یاد کر لیا اور میں لوٹ کے اپنے ہوتل کے کمرے میں آ گیا
07:36اب میں رات پر سوچتا رہا کہ امام احمد بن حنبل سے میں علم حاصل کیسے کر سکتا ہوں
07:43مجھے چین نہیں آتا تھا
07:46میرا دل سکون میں نہیں تھا
07:49میں کیسے ان سے علم حاصل نہ کروں
07:52مجھے ہر قیمت پر علم حاصل کرنا ہے
07:55کہنے لگے جب صبح اٹھا تو میرے ذہن میں خیال آیا
07:58میں نے کیا کیا
08:00اپنے ایک گھٹنے کو کپڑے سے باندھ لیا
08:03یعنی جیسے کوئی وونڈ ہوتا ہے
08:06تو میں نے اس کے اوپر کپڑا باندھ دیا
08:11اور ایک لاتھی پکڑ لی
08:13اور ایک کشکول بھی آت میں لے لیا
08:16اور باہر نکل کے
08:18میں نے بھیک مانگنی شروع کر دی
08:21اس زمانے میں جو سائل بھیک مانگتا تھا
08:25وہ چیزیں نہیں مانگتا تھا
08:28صرف ہاتھ پھیلا کر اتنا کہتا تھا
08:30عجرکم علاللہ
08:32اور عجرکم علاللہ کہنے پر لوگ سمجھاتے تھے
08:37کہ اس کو ضرورت ہے
08:41کچھ دے دیتے تھے کچھ نہیں دیتے تھے
08:45کہنے لگے کہ میں شہر کی گلیوں میں بھیک مانگتا رہا
08:49کچھ لوگ مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھتے
08:52کہ چہرے سے تو یہ نوجوان نظر آتا ہے
08:55کیوں بھیک مانگ رہا ہے
08:56اور کچھ طرح کھا کے کچھ دے دیتے
08:59میرے لیے بھی یہ ایک عجیب
09:03ایمبیرسمنٹ والی کنڈیشن تھی
09:05کہ میں بھیک مانگ رہا تھا لوگوں سے
09:08اور ان کی طرح طرح کی نظرے میں برداشت کر رہا تھا
09:12مگر میں ایسے وقت میں
09:14امام احمد بن حمرہ ہنٹلہ کے دروازے پر گیا
09:16کہ جب لوگوں کی چلت فرد درہ کم تھی
09:19جیسے دوپہر کے بعد
09:20کیلولہ کا وقت ہوتا ہے
09:22لوگ سو جاتے ہیں
09:22اس وقت پہنچ کر
09:25میں نے بڑے درد سے یہی آواز لگائی
09:29اجرکم الاللہ
09:31اجرکم الاللہ
09:33میری آواز سن کر
09:35امام حمرہ رحمت اللہ علیہ نے بھی سوچا
09:37کوئی بڑائی محتاج ہے
09:40جو میرے دروازے پر آیا ہے
09:41امام صاحب نے دروازہ کھولا
09:43ان کے ہاتھ میں ایک سکہ تھا
09:45جو وہ مجھے دینا چاہتے تھے
09:47جب وہ سکہ مجھے دینے لگے
09:49اس وقت میں نے کہا
09:51حضرت
09:52میں مال کا فقیر نہیں
09:55میں علم کا طلبگار ہوں
09:57میں سنتوں کو جمع کرنے والا ہوں
10:00اتنا لمبا سفر کر کے
10:02میں یہاں پہنچا ہوں
10:03مجھے آپ سے علم حاصل کرنا ہے
10:05امام صاحب نے کہا
10:07میں پڑھا نہیں سکتا
10:08تم میرے گھر آنے ہی سکتے
10:10میں نے کہا حضرت
10:11میں سارا دن بھیک مانگتا رہوں گا
10:14کہ لوگ مجھے بکاری سمجھیں
10:16مگر اس وقت میں آپ کے دروازے پر آ کر
10:20صدا لگاؤں گا
10:21آپ یہی سکہ لے کر دروازہ کھول دینا
10:24اگر کوئی بندہ موجود ہو
10:27تو سکہ دے کے چلے جانا
10:29اور اگر بندہ موجود نہ ہو
10:31تو کچھ احادیث مجھے صلاح دینا
10:33امام صاحب اس پر تیار ہو گئے
10:37کہتے ہیں پورا سال
10:39میں بغداد میں
10:40بھیک مانگتا تھا
10:43اور پھر ایک وقت میں
10:44استاد کے پاس پہنچ کے
10:46وہ کبھی چند حدیثیں سنا دیتے
10:48اور میں ان کو سنتے ہی یاد کر لیتا تھا
10:50اس طرح میں نے ایک سال
10:52امام احمد
10:54احمد بن حمد رحمت اللہ رہے سے
10:56علم حاصل کیا
10:57اللہ کی شان کے ایک سال کے بعد
11:01جو وقت کا حاکم تھا وہ فوت ہو گیا
11:03جو نیا حاکم بنا
11:05اس کو امام احمد بن حمد رحمت اللہ علیہ سے
11:08عقیدت تھی
11:09اس نے نظر بندی بھی ختم کر دی
11:11اور مسجد میں دوبارہ درس بھی شروع کروا دیا
11:14جب پہلا دن امام صاحب نے درس دینا تھا
11:17تو جامعہ مسجد لوگوں سے کچھا کچھ بھری ہوئی تھی
11:21میں بھی وہاں پہنچا
11:23مگر آگے جانے کی جگہ نہیں ملتی تھی
11:26بڑی محنت کوشش کے بعد
11:28میں ذرا آگے گیا
11:29امام صاحب نے دور سے مجھے دیکھا
11:32تو امام صاحب نے فرمایا
11:34لوگوں ذرا راستہ دے دو
11:37علم کا صحیح طلبگار
11:39تو یہ نوجوان ہے
11:40علم کی تاریخ میں
11:43ایسے بھی حضرات گزرے
11:46کہ جو بھیک مانگنے کے بہانے
11:49اپنے استاد سے علم پاتے تھے
11:51سعی پھنے ciہ?
11:56بھیک مانگنے کی
12:02قید مانگنے کے بہو
12:03سی Airl aspiration
Comments

Recommended