- 10 months ago
- #fsmous
#islamic#motivational#allah#inspiration#trending #fsmous
Category
📚
LearningTranscript
00:00इसलियों फिर्माया
00:01सब गुनाओं को चाहूंगा तुम्हें वख्ष दूँगा
00:05लेकिन अगर तो एँ मेरी मुहब्बत में किसी को श्रीक बनाओगे
00:09तुम्हारे इस गुनाओ को में कभी मापने।
00:11इन्नलाह ला यगफिरू अन्युचर कभी॥
00:16وَيَا غَفِرُ مَعْدُونَ ذَلِكَ الْمَنِيَّ شَا
00:19حسن بسیر رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں
00:21کہ میں اپنے گھر کی چھت پر عبادت کر رہا تھا
00:24ہمسائے میں دھو بھی رہتا تھا
00:26تو میں نے دیکھا سنا
00:28کہ میاں بیوی کے درمیان کچھ آرگومنٹ چل رہے ہیں
00:31آواز ہونچی ہو رہی ہے
00:32تو میں نے سنا بھئی خیریت تو ہے
00:35تو مجھے پتہ چلا
00:37کہ بیوی اپنے میاں سے جگڑ رہی تھی
00:42بیوی اپنے میاں سے جگڑا کر رہی تھی
00:50اور یہ کہہ رہی تھی کہ دیکھو
00:52میں نے تمہارے گھر میں تنگی کو برداشت کیا
00:55فقر و فاقہ کو برداشت کیا
00:58جو تم نے کھلایا میں نے کھا لیا
01:01جو پہنایا میں نے پہن لیا
01:04میں نے کبھی شکوہ نہیں کیا
01:07اور میں تمہاری خاطر اور بھی قربانیاں دے سکتی ہوں
01:11لیکن مجھے لگ رہا ہے
01:14کہ تم کہیں اور انٹرسٹڈ ہو رہے ہو
01:17اور کسی اور سے نکاح کرنا چاہتے ہو
01:20اگر تم کرو گے
01:21میں تمہارا گھر چھوڑ کے چلی جاؤں گی
01:24فرماتے ہیں میں نے قرآن مجید پہ نظر ڈالی
01:27تو اس آیت پہ آکے نظر ٹک گئی
01:29یہ اللہ فرماتے ہیں
01:30جو بنا کر کے آوگے
01:33میں پرودگار چاہوں گا
01:35تو معاف کر دوں گا
01:36لیکن محبت میں کسی کو شریک بناوگے
01:40میں تمہارے اس گناہ کو کبھی معاف نہیں کروں
01:43چنانچہ انسان کے دل میں
01:46اللہ رب العزت کی محبت بھر جائے
01:49یہ مومن کا شوق ہونا چاہیے
01:53ہم ایسے آمال کریں
01:54ایسی مجالس میں بیٹھیں
01:56کہ اللہ رب العزت کی محبت دل میں سمع جائے
02:00اللہ کی محبت دل میں چھا جائے
02:04کیفیت انسان کی ایسی ہو
02:06جب کسی کے دل میں اللہ رب العزت کی محبت آ جاتی ہے
02:10تو پھر اللہ رب العزت کی اس بندے سے محبت فرماتے ہیں
02:13چنانچہ حدیث پاک میں ہے
02:15جب اللہ تعالیٰ کی اس بندے سے محبت فرماتے ہیں
02:22تو جبرہیل کو بلاتے ہیں
02:24فقال انی احب فلانن
02:28میں فلان بندے سے محبت کرتا ہوں فا احبہو
02:32فیحبہو جبرہیل
02:34اللہ بھی محبت کرتے ہیں
02:37اور جبریل ایسلام بھی اس بندے سے محبت کرتے ہیں
02:41سُمَّ يُنَادِ فِي السَّمَا
02:43پھر جبریل ایسلام آسمان پہ آواز لگاتے ہیں
02:48اللہ رب العزت نے مختلف فرشتوں کے ذمہ مختلف کام لگائے ہیں
02:53یا ایسے جبریل علیہ السلام
02:55ان کے ذمہ ایک کام تو یہ ہے
02:58کہ یہ انبیاء کرام کی طرف وحی لے کر آتے تھے
03:02اور دوسرا یہ فرشتوں کے معزن بھی
03:05کہ جب کسی اعلان کی ضرورت پڑتی ہے
03:08تو جبریل ایسلام کو حکم ہوتا ہے
03:10اناؤسمنٹ کر دو
03:12تو آسمانوں پہ بھی اناؤسمنٹ یہی کرتے ہیں
03:15زمین پر بھی یہی کرتے ہیں
03:17اور اللہ کی شان کے قیامت کے دن
03:19صاحبِ میزان بھی یہی بنیں گے
03:22نیکیاں بدیاں بھی یہی تلوائیں گے اپنے سامنے
03:26تو جب جبریل علیہ السلام
03:29یہ اعلان کرتے ہیں
03:31اِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ
03:34اے لوگو
03:36اللہ تعالی فلا مندے سے محبت کرتے ہیں
03:38تم اس سے محبت کرو
03:40فَيُحِبُّهُ أَحْلُ السَّمَا
03:44آسمان والے اس کے لئے محبت کرتے ہیں
03:46ثُمَّ يُودَعْلَهُ الْقَبُولُ فِي الْعَرْبِ
03:49پھر اللہ تعالی اس بندے کے لئے زمین میں قبولیت رکھ دیتے ہیں
03:53ہر بندہ اس سے محبت کر رہا ہوتا ہے
03:56یہ اللہ والوں کے پاس عجیب کوئی چیز ہوتی ہے
04:01کہ ایک نظر کوئی دیکھتا ہے وہی دیوانہ
04:03جہاں جاؤ وہی چاہنے والے
04:05وہی محبت کرنے والے
04:07حقیقی رشتوں سے یہ محبت انسان کے دل میں بڑھ جاتی ہے
04:13ایسی محبت ہوتی ہے
04:15اصل میں اللہ رب العزت ان لوگوں کے دلوں میں یہ محبت ڈال دیتے ہیں
04:21اسی لئے جتنا اللہ رب العزت کی صفات میں احسانات میں غور کیا جائے
04:27یہ محبت بڑھتی ہے
04:29اللہ تعالی کتنے ہم پر کریم ہیں
04:31ہمارے کتنے بڑے محسن ہیں
04:34جتنا ہم اس پر غور کرتے جائیں گے
04:37تو محبت بڑھتی جائے گی
04:38الانسان عبدالحسان
04:40انسان احسان کا بندہ ہوتا ہے
04:43ہم نے تو دیکھا
04:45کہ وحشی جانوروں کو جو لوگ پالتے کھلاتے ہیں
04:48وہ جانور ان سے بھی معنوس ہو جاتے ہیں
04:51شیر جیسا درندہ
04:53اور اس کا پالنے والا اس کے موں میں ہاتھ ڈال دیتا ہے
04:57شیر کچھ نہیں کہتا
04:59اگر وحشی جانور بھی اپنے محسن کے ساتھ
05:03اتنا تعلق بنا لیتے ہیں
05:05تو انسان تو بل اخر انسان
05:07ہم اللہ تعالی کے احسانات پر غور کریں گے
05:09تو دل خود بخود اللہ رب العزت سے محبت کرے گا
05:13چنانچہ ہمارے مشایخ نے فرمایا
05:16کہ محبت
05:18اللہ تعالی کے احسانات کا مطالعہ کرنے سے
05:25غور کرنے سے
05:27یہ محبت
05:29انسان کے دل میں اگتی ہے
05:31آتی ہے
05:33وَتَثْبُتُو بِعِتْبَاعِ السُنَّتِ
05:37اور جتنا سنت کی اتباہ کریں
05:40اتنا پھر یہ بڑھتی پھیلتی پھولتی ہے
05:44اس کا دانہ کیسے لگا
05:46اللہ کے احسانات پر غور کرنے سے
05:50تَمْبُتُو مِمْ مُطَالِعَةِ الْمِنَّتِ
05:53وَتَثْبُتُو بِعِتْبَاعِ السُنَّتِ
05:57وَتَنْمُوْ عَلَلْعِجَابَتِ بِالْفَاقَتِ
06:02اور یہ محبت پھر اپنی تکمیل کو پہنچتی ہے
06:06جب انسان پاکہ ورداشت کرتا ہے
06:09بھوکا رہتا ہے
06:10کیونکہ بھوکا رہنا ملائکہ کی صفت ہے
06:12جتنا کھائیں گے اتنا غفلت ہوگی
06:15اور جتنا بھوکا رہیں گے
06:17روزے سے رہیں گے
06:18اتنا ملکوتی صفات آئیں گی
06:20اس لیے
06:22اللہ رب العزت کی محبت کو بڑھانے کے لیے
06:25اب تین باتیں سامنے آئیں
06:27کہ ایک تو انسان اللہ تعالی کے احسانات پر غور کرے
06:30پرودگار نے بن مانگے
06:32مجھے کیا کیا نعمتیں عطا فرمائیں
06:35غور کیجئے
06:36اللہ تعالی بینائی نہ دیتے
06:39ہم اندھے ہوتے
06:40گویائی نہ دیتے ہم گنگے ہوتے
06:43سماعت نہ دیتے
06:45ہم بہرے ہوتے
06:46اللہ تعالی
06:47اگر ہمیں کھانے کو نہ دیتے تو ہم بھوکے ہوتے
06:50پینے کو نہ دیتے تو ہم پیاسے ہوتے
06:54علم نہ دیتے تو ہم جاہل ہوتے
06:57مال نہ دیتے ہم فقیر ہوتے
07:00صحت نہ دیتے ہم بیمار ہوتے
07:03اولاد نہ دیتے لاولد ہوتے
07:05اگر اللہ تعالی ہمیں عقل نہ دیتے ہم پاگل ہوتے
07:10اللہ تعالی اگر عزت نہ دیتے ہم زلیل ہوتے
07:14آج عزتوں پر ہی زندگی جو گزارتے پھر رہے ہیں
07:18یہ سب مولا کا کرم اور احسانی طرح ہے
07:21ہم تو اللہ پہ قربان جائیں جس نے ہمیں
07:24اتنی نعمتوں سے نوازا
07:26بن مانگے نوازا
07:28تو احسانات پہ غور کرنے سے محبت بڑھتی ہے
07:33یہ اللہ تعالی سے جو افیر ہے
07:36محبت کا یہ شروع ہو جاتا ہے
07:38پھر انسان فقط
07:40مزدوری والی نمازیں نہیں پڑھتا
07:43پھر فرہاد والی نمازیں پڑھتا ہے
07:45ایک ہے کہ آپ گھر میں کسی مزدور کو لائیں
07:48کہ یہ فرش توڑنا ہے اس کو ذرا توڑو
07:51اور وہ ہتھاڑے سے توڑے
07:53اس کو ہتھاڑے مورنے سے کیا غرض ہے
07:55وہ انتہائی بے دلی کے ساتھ مارے گا
07:57کہ چلو ٹوٹ جائے میری جان ٹھوٹ جائے
08:00ایک تھا فرہاد
08:01اس کو کہا گیا تھا کہ اگر تم اس پہاڑ کو توڑے توڑو گے
08:05تو تمہارا شیرین کے ساتھ نکاح کر دیا جائے گا
08:09اب وہ بھی پہاڑ کی چنانے توڑتا تھا
08:11مگر اس کا ذور لگانا ایک الگ چیز تھی
08:14شاعر نے کہا
08:16کہ وہ جو تیشے کی ذرب لگاتا تھا
08:24تو فرہاد کو یوں لگتا تھا
08:26کہ محبوب کے وصل کا میں جام پی رہا
08:29ہر ذرب تیشہ
08:31ساغر کیفے وسال دوست
08:34فرہاد میں جو بات ہے مزدور میں نہیں
08:37تو آج کل ہم مزدور کی نمازیں پڑھتے پھر رہے ہیں
08:41بے گار سمجھ کے
08:43جب محبت ہوگی
08:45تو پھر اس کو وسیلہ لقائے یار سمجھ کے پڑھا کریں
08:49آگے فرمایا کہ
08:52اللہ تعالیٰ جب بندے سے محبت فرماتے ہیں
08:59تو اس کی کیا علامتیں ہیں
09:01کیسے حدیث موارکہ میں فرمایا
09:04اَلْقُبُولُ فِي الْأَرْضِ
09:06ثُمَّ يُودَعُ لَهُ الْقُبُولُ فِي الْأَرْضِ
09:08کہ اللہ پھر زمین میں قبولیت رکھ دیتے ہیں
09:12لوگ نواقف ہوتے ہیں
09:14لیکن قریب آتے ہیں
09:15تو جیسے مقناطی سے لوہے کو کھینچ لیتا ہے
09:18ان اللہ والوں کے دل
09:20اجنبی لوگوں کو بھی یوں اپنی طرف کھینچ لیا کرتے ہیں
09:23اور دوسری بات
09:24کہ پھر اللہ رب العزت اس محبت میں بندے کو عزماتے بھی ہیں
09:29تو حالات بھی آتے ہیں
09:31اس کی کیا وجہ ہے
09:32آپ بازار سے اگر
09:35ایک پیالہ خریدیں چند روپے کا
09:37یا تربوز خریدیں
09:39تو ہمارے ہاں اس کو ٹھونک کے دیکھتے ہیں
09:41کچھا ہے یا پکا
09:43ایک مٹی کا برتن خریدنا ہے
09:45چند ٹکے کا
09:47ہم اس کو بھی چیک کرتے ہیں
09:49کچھا ہے یا پکا
09:51جس نے اللہ رب العزت سے محبت کا قدم اٹھایا
09:55اللہ بھی دیکھتے ہیں کچھا ہے یا پکا
09:59کبھی بیماری بھیج دی
10:03کبھی گھر کی پریشانی بھیج دی
10:05کبھی کوئی اور پریشانی بھیج دی
10:07اِذَا اَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا اِبْدَلَاهُ
10:10پھر اللہ تعالیٰ اس پر آزمائش بھیجتے ضرور ہیں
10:14مگر یہ آزمائش اس کو برباد کرنے کے لیے نہیں ہوتی
10:17یہ اس کو قبول کرنے کے لیے ہوتی ہے
10:20میرے گھر کے راستے میں
10:22کوئی کہکشا نہیں ہے
10:24میرے گھر کے راستے میں
10:26کوئی کہکشا نہیں ہے
10:28انہی پتھروں پہ چل کے اگر آ سکو تو آؤ
10:31اگر دنیا کے محبوب کہتے ہیں
10:33کہ پتھروں پہ چل کے آؤ
10:35تو پھر وہ تو پرودگار ہے سب کا
10:37وہ بھی کہتے ہیں کہ آنا ہے
10:39تو پھر ذرا ثابت کرو
10:41کہ تم واقعی مجھے چاہتے ہو
10:43ورنہ تو سب کے سب دودھ پینے والے مجنو بنے ہوئے ہوتے
10:47کہتے ہیں کہ لیلہ کسی مجنو کو دودھ بھیجا کرتی تھی
10:51اور لے جانے والا کسی اور بندے کو دے آتا تھا
10:54تو وہ کچھ بھی بچا کے واپس نہیں بھیجتا تھا
10:57تو لیلہ کو شک پڑ گیا
11:00یہ اصل مجنو نہیں ہے
11:02اگر ہوتا تو کچھ نہ کچھ مجھے بھی بچا کے بھیجتا
11:05اور یہ تو سارے ہی پی جاتا ہے
11:08تو ایک دن اس نے نا جندے کو کہا کہ جاؤ
11:12اور مجنو کو کہو کہ آج اس نے دودھ پینے کو نہیں بھیجا
11:16بلکہ یہ چھوٹا سا برطن بھیجا ہے کچھ خون نکال کے دو
11:20تو جب اس نے خون کا مطالعہ کیا
11:22تو وہ کہنے لگا بھئی میں تو دودھ پینے والا مجنو ہوں
11:25خون دینے والا کوئی اور ہے
11:27تو پہچان ہو جاتی ہے کہ اصل کون ہے نکل کون ہے
11:33اللہ رب العزتی اسی طرح پہچان فرماتے ہیں
11:36کہ یہ میرے دودھ پینے والے مجنو ہیں
11:38یا سارے کے سارے ان میں سے کوئی خون دینے والا مجنو ہی ہے
11:41ہاں ایک تیسری علامت ہے
11:44اور وہ انتہائی پکی علامت ہے
11:46کہ الموت على عمل صالح
11:50ہمیشہ جو اللہ سے محبت کرنے والے ہوتے ہیں
11:55ان کا انجام بخیر ہوتا ہے
11:58اللہ رب العزت
11:59ایسے مہربانی فرما دیتے ہیں
12:02چنانچہ حدیث پاک میں ہے
12:07حسنل احمد کی روایت ہے
12:11جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت فرماتے ہیں
12:17تو اس بندے کو توفیق دے دیتے ہیں
12:20پوچھیں اللہ کے بھی سنن یہ کیا ہے
12:24کہ اللہ تعالیٰ اس کو آمال کی توفیق دے دیتے ہیں
12:39مرنے سے پہلے
12:40اس سے گھر والے پڑوسی
12:43لوگ بھی سارے خوش ہوتے ہیں
12:45پر وردگار بھی بندے سے خوش ہوتا ہے
12:47سب تعریفیں کر رہے ہوتے ہیں
12:50تو یہ اللہ رب العزت کی محبت کی دلیل ہوتی ہے
12:53اب یہ کیسے پتہ چلے
12:55کہ بندہ اللہ سے محبت کرتا ہے
12:57اس کی بھی ہمارے مقابر نے علامات بتائی ہیں
13:02پہلی بات یہ کہ جس سے محبت ہوتی ہے
13:05اس سے ملنے کو جی چاہتا ہے
13:07جس سے بھی محبت ہوتی ہے
13:08ملاقات کو جی چاہتا ہے
13:11تو حب لقاء اللہ
13:13اس لئے نبی علیہ السلام نے اشارت فرمایا
13:16من احب لقاء اللہ احب اللہ لقاءہو
13:20جو اللہ سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے
13:22اللہ اس سے ملنے کو محبوب رکھتے ہیں
13:25اور دوسری بات
13:26کہ محبت انسان کو خلوت پسند بنا دیتی
13:30یہ دستور ہے
13:31جب بھی محبت غالب آئے گی
13:33بندہ تنہائی پسند بنے گا
13:35ویسے آج کل بھی آپ دیکھ سکتے ہیں
13:37مجلس میں نکل نکل کے
13:39ادھر بیٹھے فون کر رہے ہوتے ہیں
13:41ادھر بیٹھے میسج کر رہے ہوتے ہیں
13:43مجمع میں نہیں بیٹھتے ہیں
13:45الگ الگ ہو کے
13:46موکے ڈھونتے ہیں
13:47گھر والے سب ایک جگہ ہیں
13:49ایک بچہ کمرے میں گھسا ہوا ہے
13:51کیوں اس کو تنہائی چاہیے
13:52تو محبت انسان کو
13:54تنہائی پسند بنا دیتی ہے
13:56یہی تو وجہ تھی
13:58کہ نبی علیہ السلام کے دل میں
14:00جب اللہ رب العزت کی محبت
14:02تھاٹھیں مارتی تھی
14:03نبوت کے اظہار سے پہلے
14:07تو سم حبب علیہ الخلا
14:09تو نبی علیہ السلام کو
14:12تنہائی میں بیٹھنا
14:13اچھا لگتا تھا
14:14لہذا آپ
14:15کچھ اپنا سامان لے کے
14:17غار حرا کے اندر تشریف لے جائے کرتے تھے
14:19تو یہ محبت کی دلیل ہے
14:21اب جس بندے کو محبت ہو
14:23پوچھا جائے
14:24بھئی آپ ذکر کرتے ہو
14:26تصویحات
14:26مراقباجی فرصت ہی نہیں ملتی
14:28اس کا مطلب یہ کہ
14:30محبت کمزور ہے
14:32مجنوں سے پوچھو بھئی
14:33لیلہ کو یاد کرتے ہو
14:35وہ کہے فرصت بھی نہیں ملتی
14:36تو آپ کیا کہیں گے
14:39کہ یہ مجنوں کیسا ہے
14:40حق تو یہ تھا
14:41کہ جواب دیتا
14:42کہ لیلہ کو یاد کرنے کے سوا
14:44مجھے کام ہی کیا ہے
14:45تو بندے کو بھی یہی کہنا چاہیے تھا
14:48کہ حضرت میں تو بس
14:49اللہ کو ہر وقت ہی یاد کرتا ہوں
14:53اس کو یاد کرنے کے سوا
14:54اور کام ہی کیا ہے
14:55اے اللہ
14:57تیری یادوں کے سوا
14:59دنیا میں رکھا کیا ہے
15:00تو پھر وہ انسان
15:02تنہائی پسند بنتا ہے
15:04اور اللہ رب العزت کا ذکر
15:06وہ کسرت کے ساتھ کرتا ہے
15:08فرمایا
15:08اِنَّمَ الْمُؤْمِنُونَ
15:10اِذَا ذُكِرَ اللَّهَ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ
15:13اور ایک یہ
15:14کہ جب محبت ہوتی ہے
15:16کسی سے ایک
15:16تو اس سے ہم کلامی اچھی لگتی ہے
15:18دنیا میں دیکھا نہیں ہے
15:20تھوڑی تھوڑی دیر بعد
15:21فون ملاتے ہیں
15:21ذرا موقع ملے
15:23بہانہ سے ملے
15:23تو فون ملا دیا
15:24اچھا میں نے اس لیے فون کیا تھا
15:27سلمیں تو
15:27ہم باتشیت کرنی ہوتی ہے نا
15:30تو جب اللہ رب العزت سے
15:33محبت ہوتی ہے
15:34تو وہ بندہ
15:35قرآن مجید کی تلاوت کے ذریعے
15:39اللہ سے ہم کلامی کے مزے لے رہا ہوتا ہے
15:42اس لیے ہمارے عقابر
15:44رات عشاء کے حضو سے
15:46فجر کی نمازیں پھلا گئے
15:48کیونکہ آسان کام نہیں ہے
15:51مسلے پہ بیٹھ کے دکھائیں نا ذرا
15:53پندرہ مند کے بعد
15:54ایسی طبیعت بیزار ہوگی
15:56کہ اٹھ کے بھاگیں گے
15:57مسلے پہ بیٹھنا کوئی آسان کام ہے
15:59بہت مشکل کام
16:01بہت مشکل
16:02ہمارے عقابر مسلے پہ
16:04اس طرح آتے تھے
16:05کہ جیسے
16:06پانی کے اندر
16:07مچھلی آ جائے کر دی
16:09پانی کے اندر
16:10مچھلی
16:11پرسکون ہو جاتے تھے
16:13مسلے پہ آ کے پرسکون
16:14بیٹھے رہتے تھے
16:16اللہ کی یاد ان کو بٹھاتی تھی
16:17اور آج
16:18یہ ہے
16:19بس نماز کا سلام پھیرا
16:22تصوییات بھی نہیں پڑی جاتی
16:25اور عجیب بات
16:26کہ دعا بھی آج کل
16:27منٹوں کی بن گئی ہے
16:28اور سکنٹوں کی بن گئی ہے
16:30آپ غور کریں
16:32اپنے اوپر یہ دوسروں پر
16:34بس ہاتھ اٹھائیں گے
16:36اور آدھے منٹ کے اندر
16:37موہ پہ پھیرا اور چل
16:38ایک نوجوان تو کہنے لگے
16:39حضرت پچھلے آٹھ سال سے
16:41دعا مانگنے کو دلی نہیں کرتا
16:42کیفیت ایسی بن جاتی
16:45مسلے سے محبت کا ہونا
16:47اللہ رب العزت سے
16:49محبت کی دلیل ہوتی ہے
16:51اس لیے پھر رات کے آخری فہر میں
16:53یہ حضرت بستروں سے
16:55اٹھ کے مسلے پہ آ جاتی ہے
16:57تو اللہ رب العزت
17:08بندے سے محبت کرتے ہیں
17:11اور بندہ اللہ سے محبت کرتا ہے
17:13لیکن محبت زیادہ کون کرتا ہے
17:16دنیا کی محبتوں میں تو
17:18کہا گیا
17:19کہ الفت کا جب مزا ہے
17:21کہ وہ بھی بے قرار
17:23دونوں طرف آگ برابر لگی ہوئی
17:27کہ دونوں طرف آگ برابر ہو
17:29تو یہ محبت میں
17:30ایکسٹریم ہے
17:31مگر اللہ تعالیٰ کے
17:33محبت کا معاملہ جدا ہے
17:34جتنا بندہ
17:36اپنے رب سے محبت کرتا ہے
17:38اللہ رب العزت
17:40اس بندے سے
17:41اس سے بڑھ کر محبت فرمائے
17:42جتنا بندہ محبت کرتا ہے
17:45ایک قدم چلتا ہے
17:46اللہ کی طرف
17:47فرمایا
17:49تم ایک بالش چلتے ہو
17:50میری رحمت دو بالش جاتی ہے
17:52وَإِنْ اَتَانِي يَمْشِي
17:53اَتَئِتُهُ هَرْوَلَا
17:55اگر کوئی بندہ
17:57میرے گھر کی طرف
17:58ایک
17:58چل کے آتا ہے
18:00تو میری رحمت
18:01اس کی طرف
18:02دوڑ کے جاتی ہے
18:03محبت کی
18:04ایک علامت ہوتی ہے
18:05کہ انسان
18:07اپنے محبوب
18:08کو جتنا
18:09کچھ دے دے
18:10تھوڑا سمجھتے ہیں
18:12کہتے ہیں
18:12میں نے تھوڑا دیا ہے
18:13زیادہ نہیں دیا
18:14تو آپ دیکھئے
18:16اللہ رب العزت نے
18:17بندے کو دنیا میں
18:22نعمتیں دیں
18:23اور انگنت
18:25نعمتیں دینے کے
18:26بات فرمایا
18:26قُلْ مَتَاُ الدُنْيَا قَلِيل
18:29کہہ دو
18:30کہ دنیا کی
18:30مطا تھوڑی
18:31اتنا دے دے
18:33کہ کہا
18:33تھوڑا سا دیا ہے
18:34اور اس کے جواب میں
18:36محبوب اگر
18:37تھوڑا سا دے دے
18:38تو وہ تھوڑا نہیں ہوتا
18:39وہ بڑا نظر آتے
18:41اوہ جی میرے
18:41محبوب نے
18:42مجھے پھیج آئے
18:43لہٰذا
18:44بندے کی عمر محدود
18:47عمل محدود
18:48اس بندے نے
18:51محدود زندگی میں
18:53اللہ کا محدود
18:54ذکر کیا
18:55اللہ فرماتے ہیں
18:57وَالزَّاکِرِينَ
18:58اللَّهَ كَسِيرًا
18:59وَالزَّاکِرَا
19:00تو محدود عمل پہ
19:03کثیر کا لفظ استعمال کیا
19:05اور انگنت نعمتوں پہ
19:07کلیل کا لفظ استعمال کیا
19:09واقعی اللہ کو
19:11اپنے بندوں سے محبت ہے
19:13چنانچہ انسان کو چاہیے
19:17کہ اللہ رب العزت کی
19:19اس محبت کو بڑھانے کے لیے
19:21اور کوشش کرے
19:22جب محبت ہو جاتی ہے
19:24تو پھر محبوب کے سوا
19:26کوئی دھیان نہیں رہتا
19:27محبت کرنے والوں میں سے
19:31کسی سے کسی نے پوچھا
19:32مِنْ اَعِنَا
19:33کہاں سے ہو
19:35قَالَ مِنْ عِنْدَ الْحَبِيبِ
19:37کہنے لگا محبوب کی طرف سے
19:39کہ جانا کہاں ہے
19:45قَالَ إِلَى الْحَبِيبِ
19:48حبیب کی طرف جانا ہے
19:49قَالَ مَا تَشْتَحِي
19:51پوچھا تجھے چاہت کس کی ہے
19:53قَالَ لِقَاءَ الْحَبِيبِ
19:57کہنے لگا کہ محبوب کی
19:58قِيلَ إِلَى مَتَا تَذْكُرُ الْحَبِيبِ
20:02پوچھنے والے نے کہا
20:03تو کب تک محبوب کا تذکرہ کرے گا
20:06قَالَ حَتَّى عَرَى وَجْحَ الْحَبِيبِ
20:09جب تک میں محبوب کے چہرے کو نہیں دیکھ لوں گا
20:12اللہ اکبر قبیرہ
20:16یہ اللہ رب العزت کے محبت عجیب ہوتی ہے
20:20آج ہم مسلمانوں میں
20:22اللہ رب العزت کی محبت ہے تو صحیح
20:26محبت کی شدت نہیں ہے
20:29جس نے کلمہ پڑھا
20:31اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت ہے
20:33یہ دلیل ہے اس بات کی
20:35جس نے بھی کلمہ پڑھا
20:36لیکن محبت میں شدت ایک الگ جیز ہوتی ہے
20:40اس کو یوں سمجھیں
20:41کہ گھر میں
20:42وضو کے لئے بھی گرم پانی ہوتا ہے
20:44اور چائے کے لئے بھی گرم پانی ہوتا ہے
20:46تو گرم کا لفظ تو دونوں کے لئے استعمال کیا
20:49لیکن جو وضو کے لئے گرم ہوتا ہے
20:52وہ تھوڑا معمولی گرم ہوتا ہے
20:54اور جو چائے کے لئے وہ کھولتا ہوا گرم ہوتا ہے
20:57تو عام بندے کے دل میں
20:59محبت کی گرمی
21:01وضو کے پانی جیسی
21:02اور اللہ والوں کے دلوں میں
21:05محبت کی گرمی
21:07کھولتے ہوئے چائے کے پانی جیسی
21:10ان کے دل میں
21:12اللہ کی محبت
21:13امڑ رہی ہوتی ہے
21:15وہ انہیں بے چین
21:16کھولتا ہے
Comments