Skip to playerSkip to main content
Farhat Ishtiaq is a renowned Pakistani writer, author, and screenwriter known for her captivating storytelling and thought-provoking themes. Her writing style is characterized by:

1. Emotional Depth: She skillfully explores complex emotions, creating relatable characters that resonate with readers.
2. Social Commentary: Her stories often address societal issues, sparking meaningful conversations.
3. Strong Female Protagonists: Empowered women are central to her narratives, challenging traditional gender roles.
4. Intricate Plotting: Engaging storylines with unexpected twists keep audiences engaged.
5. Realistic Dialogue: Authentic conversations add authenticity to her stories.
6. Cultural Sensitivity: Her work reflects Pakistan's cultural nuances, making her stories uniquely local and globally relevant.

Farhat Ishtiaq's writing has captivated audiences in novels, TV dramas, and audio series like "Jo Bache Hain Sang Samait Lo." What's your favorite work by Farhat Ishtiaq?

Awaz Kahani Series:
Drama: Meem Se Mohabbat
Episode: 6

Follow the Farhat Ishtiaq Official channel on WhatsApp:
https://whatsapp.com/channel/0029VayFx2IKQuJC097AOE2k

#audiobook #youtubetips #farhatishtiaq #yemeradil #pakistaninovels #growonyoutube #youtubegrowth #audiolibrary #youtubehindi #boostviews

#farhatishtiaqnovels #farhatishtiaq #urduadab #stories #urdunovels #romanticstory
#pakistanidrama #romanticnovel #audiorecording #episode
#youtube #upcomingdramas #urdu_story #romanticnovel
#urdu_kahani #friendsship #urduaudiorecordingnovels
#novels #UrduNovels #Friendsship #Romanticnovels
#farhatishtiaqnovels #Bestnovelstories #urdu #Romantic
#pakistanidrama #kahaniyah #bestnovelsCollection
#humtv #romance #love #urdubooks #Novelsandstories
#upcomingdramas #UrduAudioBooks #romantic #dramareviews
#upcomingdramas #RomanticAudioStories #MysteryAudioBooks #ThrillerNovels #FantasyAudioSeries
#ClassicLiterature #HistoricalFiction #ScienceFictionBooks #HorrorStories
#DramaNarratives #AdventureTales #ForBookLovers #RelaxAndListen #StudyCompanion #CalmingVoices #NightTimeStories #AudiobookFans #ReadersChoice #StayInspired #UrduNovels #EnglishFiction #HindiAudioBooks #ArabicNarratives #SpanishNovels #FrenchAudioStories #FullAudioBook #ChapterWiseAudio
#ListenAndLearn #ImmersiveStories #TrendingStories #BingeWorthy
#NewReleases #youtubeaudiobooks #YouTubeStorySeries #ExclusiveContent #meemsemohabbat

Jo Bache hain Sang Samait Lo Novel | Season 1
https://www.youtube.com/watch?v=iw40fDKfe0k&list=PLgHL2TVjeOoRsTq2YWk0nC9bjq8zMXIqQ

Taqreeb Kuch to Behr e Mulaqat Chahiye
https://www.youtube.com/watch?v=asWeD04Jgwg&list=PLgHL2TVjeOoTkr1gp84e3DuRIsqZ5ngsW

Mosam-E-Gul | Audio Series
https://www.youtube.com/watch?v=1N5qs0lGQ9E&list=PLgHL2TVjeOoTmezNfehJJewZZXWLCttb8


Don’t forget to subscribe @FarhatIshtiaqOfficial

Category

🎈
Fun
Transcript
00:00।
00:05।
00:06।
00:07।
00:10।
00:14।
00:19।
00:24Ashti نے موڑی ہوئی تھی
00:25جبکہ mahi بھی اب کپڑے بدل چکی تھی
00:27وہ اب اپنے گھر کے کیجوال ہلیے میں تھی
00:30آؤ mahi
00:31چائے پیو
00:32عمر mahi کو دیکھتے ہی بولا
00:34میں پی چکی ہوں
00:35یعنی اب تم میرے ساتھ چائے بھی نہیں پیوگی
00:38اتنا برا لگنے لگا ہوں میں تمہیں
00:40عمر جتاتے ہوئے انداز میں بولا
00:43mahi وہی گارڈن میں
00:44اس کے سامنے کرسی پر بیٹھ گئی
00:46ابھی وہ کوئی جواب بھی نہیں دے پائی تھی
00:48کہ روحیل کی باتوں سے سڑی ہوئی
00:50روشی اندر آئی
00:51اس نے اپنا بیگ کرسی پر زور سے پٹھا
00:54عمر اور mahi نے چونک کے
00:56روشی کو دیکھا
00:57کیسا رہا پہلا دن روشی
00:59ماhi نے مسکرا کے پوچھا
01:01تم میرے دن کی چھوڑو
01:02ابھی مجھے لش پش کرتے
01:04چم چماتے کپ میں چھکاس سی چائے پلا دو
01:07وہ روحیل والی لینگویج میں بول رہی تھی
01:09یہ تم آفیس سے آ رہی ہوئے
01:11یا کسی ڈھابے سے
01:12عمر اور mahi نے
01:14روشی کے مو سے
01:15ان الفاظ کو بڑی حیرت سے سنا تھا
01:17ڈھابے سے اٹھ کے تو
01:19ہمارا پڑوسی آیا ہے
01:20خسم سے ممی نے
01:22اس رشتے سے انکار کر کے
01:23زندگی میں پہلا اچھا کام کیا ہے
01:25کل تک تو وہ
01:26تمہارے خوابوں کا شہزادہ تھا
01:28ڈال ہینسوم انڈ ڈارک
01:30تمہارا میاؤں بننے والا تھا
01:32ماhi کا انداز چھیڑنے والا تھا
01:35عمر بھی ماhi کی باتوں پر حس پڑا تھا
01:38غلطی انسان سے ہی ہوتی ہے
01:39شکر ہے صحیح وقت پر
01:41میری آنکھیں کھل گئیں
01:42ورنہ اس کے ساتھ
01:43تو زندگی اس کی
01:44زیرو میٹر گاڑی کی طرح
01:45زیرو پر ہی آکے کھڑی رہو جاتی
01:47روشی تنزیہ انداز میں
01:49زیرو بولی تھی
01:50یار تم آفیس سے آتے ہی
01:52اس عجوبے کی اتنی تعریفیں
01:53کیوں کر رہی ہو
01:54عمر بولا
01:55ابھی باہر گیٹ پہ مل گیا تھا
01:57جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں
01:59اس سے ملے ہوئے
02:00اور وہ بقول
02:00اس کے میرا قریبی دوست بن گیا ہے
02:02منحوس اپنی پروموشن
02:04خود ہی کروا رہا ہے
02:05ماہی اور عمر
02:06قہقہ لگا کے ہس پڑے تھے
02:08پوری فیملی فائیو جی
02:10کی سپیٹ سے چل رہی ہے
02:11ابھی فرینڈشپ ہوئی نہیں
02:13اور وہ کلوز فرینڈ بھی بن گیا
02:14چمن بوہ بتا رہی تھی
02:16آج اس کی امہ بھی
02:17سلیقہ پپو کے سامنے
02:18کافی پھلچڑیاں چھوڑ کے گئی تھی
02:20سلیقہ پپو آئی ہے
02:22میں ان سے مل کے آتی ہوں
02:23وہ یہ کہتی اٹھ گئی تھی
02:25سلیقہ کے نام پر
02:26روشی خوشگوار انداز میں
02:27مسکرائی تھی
02:28دادی بیٹ پر
02:30ٹانگیں پھیلائے بیٹھی تھی
02:32سر پر نماز کے انداز میں
02:33ڈپٹا لے رکھا تھا
02:35ہاتھ میں تذبی بھی تھی
02:36سلیقہ بیٹ پر
02:37ماں کے قریب نیم دراست تھی
02:39صدف سامنے صوفے پر بیٹھی تھی
02:42دادی کو تذبی کے دانے
02:44گراتے گراتے اچانک
02:45قیال آیا
02:46تو انہوں نے سلیقہ سے پوچھا
02:47سلیقہ تم نے جلال کو
02:49فون کر دیا تھا
02:50رات کا کھانا ہمارے ساتھ کھائے
02:52کہہ تو دیا ہے امی
02:54مگر دیکھ لیں آپ کے گھر میں
02:55دامات کی کوئی خاص
02:56آو بھگت نہیں ہوتی
02:57پچھلی بار بھی انہیں کھانے پر
02:58بلا کر
02:59آپ نے صرف حلیم کھلائی تھی
03:00دوسرے دن آفیس بھی نہیں جا سکے
03:02سلیقہ مو بنا کے بولی
03:04وہ بھابی اور ماں
03:06دونوں کو جتا رہی تھی
03:07حلیم کا آفیس سے کیا تعلق
03:09صدف ان کی بات پر
03:11انہیں حیران ہو کے دیکھ رہی تھی
03:12اور بے ساکتہ پوچھ رہی تھی
03:13گیس ہو گئی تھی
03:14ساری رات جاگے جو تھے
03:16سلیقہ ناراض کی
03:17بھرے لہجے میں بولی تھی
03:19سلیقہ کا انداز ایسا تھا
03:22کہ میاں کو میکے میں
03:23پورا پورا پروٹوکول ملے
03:24آج کیا بنوا رہی ہیں
03:26دادی کو بیٹی کے نقرے
03:28خوب معلوم تھے
03:29انہوں نے مینیوں بتایا
03:30مٹن قورمہ اور یقنی پلاؤ
03:32بس
03:33اس گھر میں تو داماد کو
03:34داماد ہی نہیں سمجھا جاتا
03:36بھلا دعوت کیا میتھے کے بغیر ہوتی ہے
03:38وہ بھی داماد کی
03:39اور اوپر سے نہ کوئی فرائیڈ آئٹم
03:41نہ کوئی خاص طرح کے سیلڈ
03:43آپ کے اکلوتے داماد ہیں کشمش
03:45ہمیں کچھ تو خیال کر لیا کریں
03:47میری بھی کوئی عزت ہے
03:49سلیقہ کو یہ مینیوں
03:50بلکل پسند نہیں آیا
03:52سلیقہ نے ایک ہی جملے میں
03:59اور صدف دونوں چھر رہی تھی
04:00بس کر دو سلیقہ داماد داماد کی گردان
04:03ہمیں بھی پتا ہے وہ داماد ہے
04:05اور اس بچارے کے ساتھ گھر پر
04:07جو تم نوکروں والا سلوک کرتی ہو
04:08وہ بھی سب کا آنکھوں دیکھا ہے
04:10ہاں تو میرے میاں مجھے چاہتے ہیں
04:13لادلی ہوں میں ان کی
04:14جلنے والے جلتے ہیں تو جلا کریں
04:16سلیقہ نے ماں سے زیادہ صدف کو جتایا تھا
04:20پھپو
04:21صدف اور دادی نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا
04:24کہ اس کا کچھ نہیں ہو سکتا
04:25اسی وقت کمرے کا دور کھول کے
04:27روشی اندر آئی تھی
04:28اور وہ والہانہ انداز میں
04:30فپی سے آکے لپڑ گئی تھی
04:31فپو کی جان
04:32ابھی میں تم کو یہ یاد کر رہی تھی روشی
04:34طلحہ موہد کے ساتھ
04:37سوفے پر بیٹھا تھا
04:38وہ دونوں ٹی وی پر
04:39بچوں کی کوئی اینیمیٹڈ مووی دیکھ رہے تھے
04:42آبیس صاحب نماز پڑھ کر
04:43اپنے کمرے سے نکلے تھے
04:45انہوں نے طلحہ کو وہاں بیٹھا دیکھ کر
04:47بڑی حیرت سے پوچھا تھا
04:48تم گئے نہیں
04:49تمہیں تو دورانی صاحب کے ہاں
04:51ڈینر پر جانا تھا
04:52جانا تو تھا بابا
04:54مگر پھر موہد کا مووی دیکھنے
04:55اور پیزا کھانے کا موڈ ہو گیا
04:57لہٰذا جانے کا پروگرام کینسل کر دیا
04:59طلحہ ٹی وی سکرین سے نظرے ہٹا کر
05:02جواباً مسکرا کے بولا تھا
05:04لیکن بزنس کے حوالے سے
05:06یہ ڈینر اہم تھا طلحہ
05:07تمہیں جانا چاہیے تھا
05:09عابض صاحب نے سنجید کی سے ٹوکا تھا
05:12بابا چھوڑے بھی
05:13کسی بھی بزنس ڈینر اور میٹنگ سے
05:15زیادہ اہم میرے لئے موہد ہے
05:17طلحہ نے بفکرے انداز میں
05:19مسکرا کے موہد کے کندے کے گرد
05:21اپنا ہاتھ پھیلایا تھا
05:23عابض صاحب جیسے اس ٹاپک پر
05:25مزید کچھ کہنا چاہتے تھے
05:26وہ طلحہ کو ٹوکنا چاہتے تھے
05:28مگر پھر ہونٹ بھیج کر خاموش ہو گئے
05:30اسی وقت ان کے گھر کی بیل بجی تھی
05:33موہد ایکسائٹیڈ ہو کر
05:34طلحہ سے بولا تھا
05:36پا پیزا
05:37وہ پیزا کا لفظ بھی
05:39اٹک اٹک کے مشکل سے بولا تھا
05:41موہد لگتا ہے تمہارا پیزا آ گیا
05:43طلحہ مسکرا کے اس سے بولا
05:46ساتھی سلطان کو آواز لگائی
05:48سلطان جلدی سے کچن سے آیا
05:50جی طلحہ بھائی
05:51طلحہ نے جیب سے اپنا والٹ نکالا
05:54اس میں سے پیسے نکال کے سلطان کو پکڑائے
05:56اور شوخ و شریر سے لہجے میں بولا
05:58سلطان ہمارا پیزا آ گیا ہے
06:00ذرا جلدی سے لے کر آو
06:01بڑی بھوک لگی ہے
06:02موہد ایکسائٹیڈ ہو بہت کچھ تھا
06:05سلطان نے طلحہ کے ہاتھ سے نوٹ پکڑ لیا
06:07اور پیزا لینے باہر گیٹ پر چلا گیا
06:09عابض صاحب سنجیدہ فکرمند اور خاموش کھڑے تھے
06:13انہیں موہد سے بھی زیادہ طلحہ کے لئے فکرے تھی
06:16طلحہ نے موہد کے پیچھے
06:17اپنی زندگی کی تمام مصروفیات
06:19اور کشیاں چھوڑ رکھی تھی
06:21وہ اس سے بہت ڈسٹرب نظر آ رہے تھے
06:24روشی آفیس کے مین ڈور سے
06:26بھاگتی دوڑتی اندر داخل ہوئی تھی
06:28ایک کندے پر اس کا بیک تھا
06:30دوسرے ہاتھ میں کافی کا
06:32بڑے سائز کا پیپر کپ
06:33وہ آج پھر لیٹ ہو جانے کی وجہ سے
06:35بھاگتی دوڑتی آفیس پہنچی تھی
06:37گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی
06:39اس کی نظر لفٹ کے سامنے کھڑے
06:41دیگر آفیس کے ملازمین پر پڑی تھی
06:43لفٹ کا دروازہ کھل چکا تھا
06:45اور لفٹ کے انتظار میں کھڑے لوگ
06:46اندر داخل ہو رہے تھے
06:48روشی زور سے چلائی تھی
06:49پلیز لفٹ روکے رکھیں میں بھی آ رہی ہوں
06:52سیکیورٹی گارڈ
06:53دیگر ملازمین نے رکھ کر
06:55اسے بغاڑ دیکھا تھا
06:56روشی کے کہنے پر اس کے لئے
06:57لفٹ روک دی گئی تھی
06:59روشی اندھا دھن بھاگتی
07:01لفٹ میں داخل ہوئی تھی
07:02مگر قسمت کی خرابی
07:03لفٹ میں تلہا پہلے سے موجود تھا
07:05یہ اور بات کے اپنی بھاگم دوڑی میں
07:07روشی میڈم نے تلہا کو دیکھا ہی نہیں تھا
07:10ایسی ہی تو لا اوبالی لا پروا تھی وہ
07:12بھاگتے دوڑتے آنے کی وجہ سے
07:15روشی کی سانس پھولی ہوئی تھی
07:16وہ جس طرح آنڈی توفان کی طرح
07:18بھاگتی ہوئی لفٹ میں آئی تھی
07:19اس پر اسے دگر آفیسز کے پانچھے امپلوئیس
07:22کچھ تاجب سے اور کچھ مسکرا کے دیکھ رہے تھے
07:25ابھی تک روشی نے تلہا کو نہیں دیکھا تھا
07:27جبکہ تلہا اسے گھور کے دیکھ رہا تھا
07:30اپنا بیگ اور کافی کا کپ سمالتے ہوئے
07:32لفٹ میں موجود لوگوں سے بولی تھی
07:34تھانکس گوڈ
07:35لفٹ مس نہیں ہوئی
07:36ورنہ ارتگل غازی کا نویان میری گردن اڑا دیتا
07:39بولتے بولتے اس کی نظر تلہا پر پڑی تھی
07:42اس نے زبان داتوں تلے دبائی
07:44وہ بری طرح کھسی آ گئی تھی
07:46اسلام علیکم سر
07:47وعلیکم السلام
07:49تلہا نے بے حس سنجیدگی سے اسے جواب دیا تھا
07:52وہ اپنے موبائل پر کوئی چیز چیک کر رہا تھا
07:54اس نے اپنے لئے نویان کا لفظ بولے جانے پر
07:57اپنے چہرے کو بے تاثر رکھا تھا
07:59تلہا اور روشی لفٹ سے اتر کے
08:01اپنے آفیس کی جانب بڑھے تھے
08:03باہر بیٹے گارڈ نے تلہا کے لئے
08:05معددب انداز میں دروازہ کھولا تھا
08:07روشی خسیانی سی تلہا سے پہلے
08:09آفیس میں داقل ہو جانا چاہتی تھی
08:11تاکہ جلدی سے جلدی اس کی نظروں سے دور ہو سکے
08:14اور خود کو مزید شرمندگی سے بچا سکے
08:16مگر تلہا احمد ایسے ہی تو نویان نہیں تھے
08:19ابھی تو انہوں نے اسے شرمندہ کرنا تھا
08:21روشی نے اپنے پیچھے سے اس کی پکار سنی
08:24مس آیت
08:25ناچار اسے رکھنا پڑا
08:26There's this marvelous concept called
08:29discipline and punctuality
08:31مس آیت اگر آپ انہیں اپنا لیں
08:33تو آپ کی ان grand dramatic entries سے
08:36ہم سب محفوظ رہیں گے
08:37یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا تھا
08:39تلہا کے اس چھپتے ہوئے جملے سے
08:41روشی شرمندہ ہو گئی تھی
08:42ناہید روحیل کی گاڑی میں بیٹھی ہوئی تھی
08:46روحیل کی گاڑیوں کی سیٹوں پر پلاسٹک جون کا تون چڑھا ہوا تھا
08:49اما دکان پر جا رہا تھا میں
08:51دیر کروا دوگی مجھے
08:53روحیل گاڑی چلاتا ہوا بولا تھا
08:55ارے بزار تک چھوڑتے چلے جاؤ مجھے
08:57اتنے پڑھے لکھے خاندان کی لڑکی پسند کی ہے
09:00تو ان کے حساب سے ہمیں ابھی اپنا گھر سجانا ہوگا
09:04کتابیں قریدوں گی
09:05کتابوں کی تکان پر لے جاؤ مجھے
09:07دیکھا ہے نا
09:08ڈاکٹر صاحب کے گھر کے ہر کمرے میں
09:09کتنی کتابیں سجی ہوتی ہیں
09:11ناہید متاثر ہونے والے لہچے میں بولی تھی
09:14ہاں اما یہ تو ٹھیک کہہ رہی ہو
09:16اپنے رشتے کی بات پر روحیل کی آنکھوں میں
09:18چمک آ گئی تھی
09:19ہمارے ڈرائنگ روم کے پردے اور قالین سے
09:22میچ کرتی کتابیں قریدوں گی
09:23کمرہ زیادہ سجا ہوا لگے گا
09:26انہوں نے پرس میں سے نکال کر
09:27اپنے پردوں اور قالین کے ٹکڑے روحیل کو دکھائے
09:30مگر اما کل روشی مجھے ملی تھی
09:32عجیب اکھڑی اکھڑی سی تھی
09:34روحیل تھوڑا فکر مند ہوا تھا
09:36روحیل یہ سب ان پڑھے لکھے
09:38امیر گھروں کی عورتوں کے فیشن ہوتے ہیں
09:40ناہید مو بنا کے بولی تھی
09:42کل روشی کی پھپی بھی مجھے ملی تھی
09:44بڑی چلاک عورت ہے
09:45مجھے تو ایک آنکھ نہیں بھائی
09:47پاگل عورت
09:48اپنے شوہر کو کشمش کشمش کہہ جا رہی تھی
09:50اما ہمیں پھپی پھپی سے کیا کرنا ہے
09:53میری تو بس تم روشی سے شادی کرا دو
09:55روحیل فوراں ماں کو
09:57اپنے مطلب کی بات پر لائیا تھا
09:59اسے کسی بھی حال میں روشی سے شادی کرنی تھی
10:01روشی کیفیٹیریا میں چلتی
10:03پینٹری میں اندر آئی تھی
10:05وہاں پیون حامد سٹول پر خاموش سا بیٹھا تھا
10:08روشی کو دیکھ کے
10:09الٹ سا ہوتا فوراں کھڑا ہوا
10:10مسایت آپ خود کیوں آ گئی
10:12کچھ چاہیے تھا تو مجھے بلوا لیتی
10:14حامد بھائی چائے پینے کا دل چا رہا تھا
10:17روشی ایک صاف دل لڑکی تھی
10:19جس کے اندر خود کو بڑا
10:21یا اہم ظاہر کرنے کا کوئی شوق نہیں تھا
10:23آپ جائیں میں لے کے آتا ہوں
10:25آپ بیٹھے میں خود بنا لوں گی
10:27ویسے بھی آج مجھے کچھ تھکے تھکے لگ رہے ہیں
10:29وہ اپنی چائے بنانے خود آ گئی تھی
10:31اس کی شان میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا
10:34وہ بہت اپنائیت سے پیون سے بات کر رہی تھی
10:37جی بس تھوڑا سر میں درد ہے
10:39ساری رات لائٹ نہیں آئی اس وجہ سے
10:41پیون کو یہ لڑکی اس لیے اچھی لگی تھی
10:43کہ وہ لڑکی اسے برابر رکھ کے ٹریٹ کر رہی تھی
10:46روشی افسوس سے او کرتی
10:48الیکٹرک کیٹل کی جانب بڑھی
10:50پھر تو آپ واقعی بیٹھ کے ریسٹ کریں
10:52اس نے کیبنٹ سے مگ نکالا
10:54ٹی بیگ اور خوشک دودھ وغیرہ کے
10:56ڈبے نکالے ساتھ ساتھ پیون سے
10:58بول رہی تھی
10:59حامد بھائی ایک بات تو بتائیں
11:01یہ نویان ہر وقت آدمبو آدمبو کیوں کرتے رہتے ہیں
11:04نویان کون
11:05حامد نے حیرت سے پوچھا
11:07ہمارے بوس اور کون
11:09ویسے یہ تو پتہ کریں ان کی بچپن سے ہی ایسے ہیں
11:12یا بعد میں کوئی دماغی چوٹ لگی ہے
11:14روشی بے فکرے سے انداز میں
11:16طلحہ کے متعلق بول رہی تھی
11:18پیون حامد روشی کی باتوں پر
11:20بے اقتیار ہس پڑا تھا
11:22روشی نے الیکٹرک کیٹل آن کی
11:24وہ خود بھی شرارت سے مسکرا رہی تھی
11:26اسی وقت زوردار دھماکہ ہوا تھا
11:28آفیس پینٹری میں دھماکے کی زوردار
11:31آواز سن کے تمہامی کولیکس
11:32افرہ تفری میں بھاگتے ہوئے وہاں آئے تھے
11:34کہ کیا ہو گیا
11:35کیا ہوا ووٹ ہیپن
11:36کولیس آ کے بولنے لگے
11:38روشی اور حامد کیٹل پھٹنے کے دھماکے کے بعد
11:41وہاں بھوت بڑھنے کھڑے تھے
11:42کچن دھویں سے بھرا ہوا تھا
11:45اور اس دھویں سے نے
11:46روشی اور حامد کے چہروں کو سیاہ کر دیا تھا
11:48وہ دونوں بلکل بھوت لگ رہے تھے
11:50افرہ تفری میں
11:51وہاں بھاگ کر آنے والے کولیکس
11:53کو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا
11:54کہ ہوا کیا ہے
11:55میں تو بس چائے بنا رہی تھی
11:57پتہ نہیں کیٹل کیسے پھٹ گئی
11:58مجھے لگتا ہے
11:59آپ کے آفیس کی کیٹل میں ہی کوئی مسئلہ ہے
12:01روشی معصوم بن کے بولی
12:03اس نے حضب عادت
12:04بلیم دوسروں پر شفٹ کرنے کی کوشش کی
12:06لیکن کیٹل تو بالکل
12:08ٹھیک کام کر رہی تھی
12:10ابھی تو میں نے اس میں چائے بنائی تھی
12:11حامد اپنی صفائی دیتا ہوا
12:13گھبرا کے بولا تھا
12:15روشی کے برابر میں
12:16بیٹھنے والی اس کی کولیک
12:17جو اتنے دنوں میں
12:18اس کی غیر سنجید کی
12:19اور لاوبالی پن سے
12:20کسی حد تک واقف ہو چکی تھی
12:22اس نے بے اتیار روشی سے پوچھا
12:24تم نے کیٹل میں پانی ڈالا تھا
12:27اوہ شٹ
12:28پانی ڈالنا تو میں بھولی گئی تھی
12:30روشی نے سر پر ہاتھ مارا
12:31سب اب ایک دوسرے کی طرف دیکھ کے
12:34بے ساکتہ ہنسے
12:35اب چونکہ امرجنسی کی حالت سے
12:37سب نکل آئے تھے
12:38لہٰذا روشی اور حامد کا
12:39بھوتوں والا حلیہ دیکھ کے
12:40سب ہنس ہس کے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے
12:42اب اس میں اتنا ہسنے کی بھی
12:44کوئی بات نہیں
12:44غلطی انسان سے ہی ہوتی ہے
12:46روشی کھسیانی سی ہوئی تھی
12:48جاکہ واش روم میں
12:49کت کو دیکھو سب کے ہسنے کی
12:51ریزن سمجھ آ جائے گی
12:52جو لڑکی روز روشی کے برابر میں
12:54بیٹھ رہی تھی
12:55ہستے ہوئے بولی تھی
12:56روشی نے بے اپتیار
12:57اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا
12:59اس کی انگلیوں پر کالک لگ گئی تھی
13:01روشی کھسیانی سی ہوتی
13:02فوراں واش روم کی طرف بھاگی
13:04تاکہ موہا دھوکے
13:05اپنا ہلیا ٹھیک کر سکے
13:07تلہ نے روشی اور پیون حامد
13:09دونوں کو اپنے آفس بلایا تھا
13:11وہ دونوں آفس میں
13:12شرمندہ چہروں کے ساتھ
13:13نظریں جھکائے کھڑے تھے
13:14تلہ ان دونوں کے سامنے
13:16غصے سے کھڑا تھا
13:17تلہ شدید غصے سے
13:18روشی کو دیکھ رہا تھا
13:20اس کی آواز بلند نہیں
13:21مگر لہجہ سخت غصے والا تھا
13:24میں سوچ بھی نہیں سکتا
13:25کہ آپ اتنی غیر ذمہ دار ہیں
13:26کہ لوگوں کی جان کی بھی
13:27پروانہ کریں
13:28سر میں تو صرف چائے بنا رہی تھی
13:31روشی تلہ کی طرف دیکھ کے
13:33معصوم بنتی ہوئی بولی تھی
13:34اسے پتا تو ہے
13:36کہ وہ ایک بڑی
13:36گڑھ بڑھ کر چکی تھی
13:38مگر وہ روشی کیا
13:39جو شرمندہ ہو کے
13:40اپنی غلطی مان لے
13:41آپ کو سیچویشن کی
13:46سیریسنس کا کوئی احساس بھی ہے
13:48اس کا غصہ روشی کے جواب سے
13:50مزید بڑھ گیا تھا
13:51تم کہاں پڑھتے
13:52اب تلہ پیون سے بولا تھا
13:54سر میں وہ بوس کا غصہ دیکھ کے
13:57وہ ڈر رہا تھا
13:58حامد سے بات بھی نہیں کی جا رہی تھی
14:00وہ دل ہی دل میں
14:01قوم سے کام پ رہا تھا
14:02سر ان بیچاروں کا کوئی خصور نہیں
14:04ان کے سر میں درد تھا
14:06میں نے کہا کہ
14:07میں چائے خود ہی بنا لوں گی
14:08روشی حامد کو اتنا دردتا ہوا دیکھ کے
14:10فوراں اس کی مدد کرتے ہوئے
14:12صفائی دیتے ہوئے
14:13فوراں بولی تھی
14:14آئندہ آپ کے دل میں
14:15ہمدردی کا جذبہ پیدا ہو
14:17تو اسے اپنے گھر پر ہی چھوڑ کر آئیے گا
14:19آفیس میں میں اس طرح کے
14:21ایڈونچرز
14:21بلکل برداشت نہیں کر سکتا
14:23تلہ تنزیہ ٹون میں بولا تھا
14:26اور حامد
14:26اگلی بار میں اس آیت کو چائے
14:28کافی یا پانی
14:29کچھ بھی چاہیے ہو
14:30آپ ان کی ڈیسک پر لے جا کر انہیں دیں گے
14:32مجھے یہ آفیس پینٹری کے
14:34خریب بھی دوبارہ نظر نہ آئیں
14:35وہ آپ وارننگ دیتے ہوئے
14:37دو ٹوک لہجے میں
14:38حامد سے بولا تھا
14:39تلہ وارننگ حامد کو دے رہا تھا
14:42مگر دو ٹوک انداز میں
14:43روشی کو بھی دیکھ رہا تھا
14:45روشی تلہ سے ڈانٹ کھانے کے بعد
14:47بہت بڑے موٹ کے ساتھ چلتی ہوئی
14:49ریسیپشن تک آئی تھی
14:50ریسیپشنسٹ اپنی ڈیسک پر بیٹھی
14:52کچھ کام کر رہی تھی
14:53روشی اپنے آپ سے کچھ بڑھ بڑھا رہی تھی
14:56ذرا سی ایک کیٹل ہی تو پھٹی ہے
14:58کون سا بھم دھماکہ ہو گیا
14:59لے کے اتنی باتیں سنا دی
15:00وہ اس کی ڈیکس پر اپنی
15:02کونیاں رکھ کے کھڑی ہو گئی تھی
15:04روشی کو فراغت سے وہاں کھڑا دیکھ کے
15:06ریسیپشنسٹ دوستانہ انداز میں پوچھ رہی تھی
15:09آیت اگر فری ہو تو پانچ منٹ
15:11یہاں کھڑی ہو سکتی ہو
15:12میں جلدی سے نماز پڑھ کے آ جاؤں
15:14چھوڑ نو پرابلم تم جاؤ آرام سے
15:16روشی دوستانہ لہجے میں بولی تھی
15:18ریسیپشنسٹ اپنی کرسی سے اٹھ کے
15:21اندر کومن روم کی طرف چلی گئی تھی
15:23اور روشی اس کی کرسی پہ اتمنان سے بیٹھ گئی تھی
15:25اسی وقت آفیس کا مین ڈور کھلا
15:28آبیس صاحب اندر آئے تھے
15:30وہ جیسے اندر آ کے اپنے آفیس کی طرف
15:32بڑھنا چاہتے تھے مگر روشی جو انہیں پہچانتی نہیں تھی
15:34وہ اپنی کرسی پر اٹھ کے
15:36اوور کانفیڈنٹ ہو کے بولی
15:38اپنی جوب وہ ٹھیک سے کرتی نہیں
15:40مگر ریسیپشنسٹ کی جوب
15:42ضرورت سے زیادہ ٹھیک کرنے کے موڈ میں تھی
15:44اسلام علیکم سر
15:45کس سے ملنا ہے آپ کو
15:46خیر مقدبی تاثرات سجائے
15:49وہ بہت پر اقلاق لہجے میں بولی تھی
15:51دل ہی دل میں وہ انتقامی قیالات
15:54تلہہ کے لئے سوچ رہی تھی
15:55بظاہر وہ بڑی گرم جوشی
15:57مسکراہت کے ساتھ اس نے آفیس میں آنے والے
15:59صاحب کا استقبال کیا تھا
16:01عابض صاحب ایک لمحے کے لئے حیران ہو کے رکے تھے
16:04ان کے اپنے ہی آفیس میں ان سے پوچھا جا رہا تھا
16:06کہ وہ کس سے ملنے آئے ہیں
16:07انہیں دل ہی دل میں ہنسی بھی آئی تھی
16:09اور مزہ بھی آیا تھا
16:11وہ شرارت بھرے موڈ میں تھے
16:13ریسیپشنسٹ کی ڈیسک کے سامنے آکے کھڑے ہو گئے
16:16روشی انہیں کوئی کلائنٹ سمجھ رہی تھی
16:18والیکم السلام
16:19آپ غالباً نئی اپوائنٹ ہوئی ہیں
16:21وہ روشی کے انجان ہونے کا مزہ لینے کے لئے
16:24فوراً یہ نہیں بتا رہے تھے
16:25کہ وہ اس فرم کے مالک ہیں
16:26جی سر
16:27آپ کے باس سے ملنا ہے
16:29عابض صاحب بولے
16:30کوئی پروجیکٹ ڈسکس کرنا ہے سر
16:32روشی خود ہی بات بڑھا رہی تھی
16:34کیونکہ وہ یہ سبج رہی تھی
16:36کہ یہ کوئی کلائنٹ ہے
16:37اور وہ تلہ سے اپنی ڈانٹ کا بدلہ لینا چاہتی تھی
16:39جی مس
16:40عابض جی مس بولتے ہوئے ایک پل کے لئے رکھے تھے
16:44روشی نے بھرپور کانفیڈنس کے ساتھ
16:47اپنا نام بتایا
16:48آیت سلیمان سر
16:49جی مس آیت
16:50آپ کے باس سے ایک پروجیکٹ کے سلسلے میں ملنا ہے
16:52عابض صاحب اس کا نام سنتے ہی فوراً پہچان گئے تھے
16:57کہ ان کے دوست سلیمان کی بیٹی ہے
16:58انہوں نے بظاہر سنجیدہ انداز میں روشی کو جواب دیا تھا
17:02سر ایک بات بولو مائنڈ نہ کیجئے گا
17:05میری تو مجبوری ہے
17:06میں اپنے والدین کی وجہ سے یہاں مجبوراً فسی ہوئی ہوں
17:09مگر میرے یہ بوس
17:10تلہا احمد
17:11ایک دم سڑیل انسان ہیں
17:13ہر وقت تلوار ہاتھ میں لئے نویان کی طرح
17:16اپنے امپلائز کی گردنیں اڑانے کو تلے ہوئے ہوتے ہیں
17:18آپ ان کے ساتھ کوئی پروجیکٹ نہ کریں
17:20روشی ڈیسک پر ذرا سا ان کی جانب
17:23جھکتی رازدارانہ انداز میں
17:25بولتی ان کے پاس آئی تھی
17:27عابض صاحب بھی اس کی آواز سنتے
17:29تھوڑا سا جھکے تھے
17:31روشی کی بات سے سنکے عابض صاحب کی آنکھوں میں
17:33شرارت بھرا تاثر اُبھرا تھا
17:35بظاہر انہوں نے اپنا چہرہ بہت سنجیدہ
17:37بنا رکھا تھا جیسے روشی کے
17:39مشورے سنجیدہ ہو کے سن رہے ہیں
17:41انہیں بیٹے کی برائیاں ان کے موپر
17:43کرتی روشی اچھی لگ رہی تھی
17:45وہ اس کی باتوں کو انجوائے کر رہے تھے
17:47مزہ لے رہے تھے
17:48اچھا اتنے غصے والی ہیں آپ کے بوس
17:50نویان کا تو آپ کو پتا ہے نا
17:53منگول ہسٹری کا کتنا فیمس کریکٹر ہے
17:55اگر میں انہیں ان سے ملا رہی ہوں تو سوچ لیں
17:57وہ کیسے آدمی ہے
17:58روشی بہت سنجیدگی سے پکا مو بنا کے بول رہی تھی
18:01اور خوش بھی ہو رہی تھی
18:02کہ وہ ایک کلائنٹ کو بھگا رہی تھی
18:05یہ تو بڑی بری بات ہے
18:07اپنے امپروائز کے ساتھ اتنی سختی اور غصہ
18:09مجھے ہر وقت صفارشی ہونے کا تانہ دیتے ہیں
18:12جیسے مجھے انٹرنشم پر رکھ کر
18:14میری کئی نسلوں پر احسان کیا ہو
18:16غیر ذمہ دار لا پروا
18:18پتہ نہیں مجھے کیا کیا بولتے ہیں
18:19سج بتا رہی ہوں سر
18:21انہیں انگر منیجمنٹ تھیرپی کی سخت ضرورت ہے
18:24روشی کے انتقامی جذبات کو تسکین مل رہی تھی
18:27اسی وقت اندر سے تلہ کسی کام سے آیا
18:30باپ کو ریسپشن پر کھڑا دیکھ کے حیرت سے بولا
18:32ارے بابا آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں
18:34روشی حیرت سے کبھی تلہا کو کبھی آبیس صاحب کو دیکھ رہی تھی
18:38اسے ایک سیکنڈ میں یہ ریلائز ہو گیا
18:40کہ ابھی جو یہ ساری بکواس کر رہی ہے
18:43وہ تلہا کے والد اور اس کے بابا کے دوست آبید احمد ہیں
18:46ہاں تلہا بس میں تمہارے پاس ہی آ رہا تھا
18:50آبیس صاحب تلہا سے بولے
18:51تلہا روشی کو مکمل اگنور کرتا
18:54باپ کے ساتھ اندر جا رہا تھا
18:55آبیس صاحب نے جاتے جاتے شرارت بھری نظروں سے روشی کو دیکھا تھا
18:59دونوں کی نظریں ملی
19:00روشی شرمندگی سے پانی پانی ہوئی انہیں دیکھ رہی تھی
19:03آبیس صاحب شوخ و شریر انداز میں سے مسکرا کے دیکھتے وہاں سے جا رہے تھے
19:08روشی پر جیسے گھڑوں پانی پڑ چکا تھا
19:11وہ بوس سے بدلہ لینے کے لیے اس کے کلائنٹ بھگانے کی کوشش کر رہی تھی
19:14مگر اس سے پھر گر بڑ ہو گئی تھی
19:16آبیس صاحب آفیس کے اندر آتے ہی زور زور سے ہسنے لگے
19:20وہ ہستے ہستے روشی کی ساری باتیں تلہا کو بتا رہے تھے
19:23تلہا ان کے ہسنے پر جھنجلاس آ گیا تھا
19:26آپ کو اتنی فضور باتوں پر اتنی ہسی آ رہی ہے
19:29یار کیا مزے مزے کے لقب دے رہی تھی
19:31منگول تک سے تو ملا دیا اس نے تمہیں
19:34نویان کہتی ہے وہ تمہیں
19:35آبیس صاحب ہستے جا رہے تھے
19:38میرے صبر اور ضبط کا کڑا امتحان ہے یہ لڑکی
19:41سچ کہتا ہوں بابا
19:42صرف آپ کی وجہ سے اسے برداشت کر رہا ہوں
19:44ورنہ اس جیسی irresponsible اور non-serious لڑکی کو
19:48میں ایک دن بھی برداشت نہ کرتا
19:50تلہا سنجیتہ چہرہ بنا کے باپ سے بولا تھا
19:53آبیس صاحب ٹیشو باکس پیپر سے ٹیشو نکال رہے تھے
19:57ہسنے کی وجہ سے ان کے آنکھوں میں پانی آنے لگا تھا
20:00بھئی تم کچھ بھی کو
20:01مجھے تو سریمان کی بیٹی بڑی دلچسپ لگی
20:04آج پتہ نہیں کتنے دنوں کے بعد
20:05میں اس طرح کھل کے ہسا ہوں
20:07اور میں آپ کا اتنا
20:08برا سینس آف ہیومر دیکھ کر
20:11افسوس کر رہا ہوں
20:12اس لڑکی کی باتوں کا ہسی نہیں
20:14یا قصہ آتا ہے
20:14بی پی ہائی ہوتا ہے
20:16تلہا چڑھ کے بولا تھا
20:18اسے روشی کی تعریفیں باپ کے مو سے
20:20بلکل اچھی نہیں لگ رہی تھی
20:21مجھے لگتا ہے وہ یقیناً ٹھیک کہہ رہی ہے
20:23تم جیسے ظالم باس کو
20:25اینگر منیجمنٹ تھیرپی کے لئے
20:26چلے جانا چاہیے
20:27آبیس صاحب ہستے ہوئے بیٹے کو چھیر رہے تھے
20:30اگر آپ اس لڑکی کی باتوں کو انجوائے کر چکے
20:33تو اب ہم فاؤنڈیشن ڈیزائن ڈسکس کر لیں
20:35تلہا نے ذرا تنزیہ لہجے میں پوچھا
20:38آبیس صاحب مسکرا کے گردن ہاں میں ہلا رہے تھے
20:41اس نے میز پر رکھی ہوئی ڈروائنگ کھولی تھی
20:43ناہید نے دادی اور صدف کو
20:46اپنے گھر چائے پر بلایا تھا
20:48اس وقت وہ ملازمہ کے ساتھ مل کر
20:50اس کی تیاریاں کروا رہی تھی
20:51اور ساتھ ساتھ کام والی کو سمجھا رہی تھی
20:55بہت اونچا خاندان ہے ان لوگوں کا
20:57اپنے روحیل کی بات ڈالی ہوئی ہے
20:59میں نے وہاں
21:00جیسے جیسے میں کہوں
21:01سب کچھ ویسا کا ویسا ہی کرنا
21:03جیسے ہی وہ آئیں سب سے پہلے شربت لے کے آنا
21:06پھر چائے لانے سے پہلے
21:07مجھ سے آکے پوچھنا
21:08بیگم صاحبہ جاپانی ڈنر سیٹ کے کپ
21:11کہاں پر رکھے ہیں
21:11انہیں بھی تو پتا چلے
21:13میں نے سیونٹی فائف ہزار کا
21:15اتنا مہنگا ڈنر سیٹ خریدا ہے
21:17سبزیوں والی سوئیاں بھی بنانی ہیں
21:19ناہید بڑے فقریہ لہجے میں
21:21ملازمہ سے کہہ رہی تھی
21:22ملازمہ جو دہی پھیٹ رہی تھی
21:24وہ ناہید کی باتیں
21:25حیرس سے سن رہی تھی
21:26باجی سے چاومن کہتے ہیں
21:28ملازمہ بولی
21:29ہاں وہی چیاؤں میاؤں
21:31اور باجی نہیں
21:31ان کے سامنے مجھے بیگم صاحبہ کہنا
21:33ناہید نے ملازمہ کو ٹوکا تھا
21:36اتنی اچھی زائفدار چیزیں دیکھ کر
21:38صدف بیگم دیکھتی کی دیکھتی رہ جائیں گی
21:41ان کے گھر جاؤ تو وہی تاویز کی چاہے اور بسکٹ
21:43تم یہ کباب فرائی پان میں
21:45تلو میں روحیل کو دیکھ کر آتی ہوں
21:47ناہید ڈشز کے ڈھکن اٹھاتے ہوئے بولی تھی
21:50روحیل فلمی گیت گنگوڈاتا
21:52اپنے مختلف شلوار خمیس پیٹ پر پھیلائے
21:55سامنے کھڑا
21:55ڈسائٹ کر رہا تھا
21:57اس نے شام میں مہمانوں کے آنے پر کون سا لباس پہننا ہے
21:59کمرے کا دروازہ کھول کے ناہید اندر آئیں
22:02بیٹے کو اتنا ایکسائسٹیٹ دیکھ کر
22:04وہ ہستی ہوئی اس کے پاس آئیں
22:06کیسا خوش ہو رہا ہے اپنے ہونے والی سسرالیوں کے آنے پر
22:09اممہ گھبراہٹ ہو رہی ہے
22:11روحیل ماں کی بات پر ذرا سا ہنسا تھا
22:14گھبرانے کی کیا بات ہے
22:15دیکھنا صدف باجی اور دادی کیسا خوش ہو کے جائیں گی یہاں سے
22:18اممہ تم نے روشی کو بھی کہا تھا نا آنے کا
22:21ہاں ہاں کہا تھا
22:23سارا انتظام تو ٹھیک ہو گیا نا
22:25کچھ بزار سے لانا ہے تو بتاؤ
22:27آج میں نے چھٹی کر لی ہے
22:28روحیل روشی کی فیملی کی آمد پر
22:31پور جوش اور گھبرایا ہوا تھا
22:33سب کچھ ان کے شایانے شان ہو
22:35شامی کباب
22:36چیاوں میاؤں بسکوٹ کے ایک دہی بڑے
22:39سب کچھ ریڈی ہے
22:40ناہید بولی تھی یہ سب تو ٹھیک ہے
22:43مگر مجھے اصل گھبراہٹ روشی کی طرف سے ہو رہی ہے
22:45اسے سب اچھا لگنا چاہیے
22:47پچھلی بار ملی تھی تو موٹ ٹھیک نہیں تھا
22:50بس تو اسے اپنی habit ڈال دے
22:52پھر وہ تیرے لاوہ کسی کی نہیں ہوتی
22:54اما خدا کے لیے تم ان کے سامنے
22:56اپنی آلی شان انگریزی نہ بولنا
22:57روحیل نے جلد کر ماں سے کہا
22:59صدف اور دادی دونوں شام میں ناہید کے گھر آ گئی تھی
23:03وہ ڈرائن روم میں بیٹھی ہوئی تھی
23:05ناہید کسی دعوت میں جانے جیسی تیاری کر کے ان لوگوں کے سامنے بیٹھی تھی
23:09خوب بیلو اور کڑھائی سے بھرپور سوٹ اور بے تہاشا جولری
23:13صدف اور دادی کی تیاری ہمیشہ کی طرح باوقار تھی
23:17روحیل کلف لگا کرتا شلوار پہنا سامنے بیٹھا تھا
23:21بال بھی جل لگا کے جمع رکھے تھے
23:23صدف سے ناہید برداشت نہیں ہوتی تھی
23:25مگر وہ ساس کے اسرار پر وہاں مجبورن آئی تھی
23:28ناہید نے امنے ڈرائنگ روم میں ایک شیلف کے اندر
23:31پردو اور قالین سے میچ کرتی
23:33بہت ساری کتابیں باقاعدہ سجا رکھی تھی
23:35مہمانوں کو متاثر کرنے کے لئے
23:37ایک موٹی سی کتاب میز پر نمائی طور پر
23:40الٹی کر کے یوں رکھی تھی
23:41جیسے پڑھتے پڑھتے وہاں الٹی کر کے
23:43رکھ دی گئی ہو
23:44آپ کا سوٹ اچھا لگ رہا ہے
23:46صدف تنزیہ بولی تھی
23:48ہاں میرے وارڈراب میں بیچ کلر کے سات جوڑے
23:51پہلے ہی ٹنگے ہوئے تھے
23:52اب پچیس پچیس ہزار کے یہ دو جوڑے روحیل اور
23:55خرید لائے ہیں کہتا ہے مجھ پر بیچ کلر
23:57جچتا ہے
23:58وہ شو آف کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی تھی
24:01دادی نے صدف کی طرف
24:03سوالیاں نظروں سے دیکھا کہ کس رنگ کی بات ہو رہی ہے
24:06صدف نے زیر لپ
24:07ساس کو بتایا
24:08امی پیچ کلر کہہ رہی ہے
24:10بیٹا آج آپ گھر پر ہی ہیں
24:12دادی نے روحیل سے اقلاقا پوچھا
24:14ہاں اصل میں آپ لوگ آج پہلی مرتبہ
24:17ہمارے گھر آ رہے تھے تو امی نے روک لیا
24:19روحیل روشی کے نا آنے پر مایوس تھا
24:22اسی وقت ملازمہ ٹری میں
24:23شربت کے گلاس رکھ کے گئی
24:25ناہید نے ملازمہ کو ٹوکھا
24:26رضیہ فول گلاس لانے تھے نا
24:28مہمان سمجھیں گے ہم نے شربت کم بنایا ہے
24:31ان کے فول کہنے پر صدف اور دادی
24:33دونوں نے بے ساکتہ مسکراہت کو کنٹرول کیا
24:36اصل میں لوگ کم شربت کو
24:37برف ڈال کے زیادہ کر دیتے ہیں
24:39میں نے تو آپ لوگوں کے لئے
24:40خالص بادام کا شربت بنوایا ہے
24:42ناہید اوچھے پن سے باز نہیں آ رہی تھی
24:45نہیں بیٹا بس اتنا ہی کافی ہے
24:47ملازمہ ٹریک
24:48واپس لے کے جانے لگی
24:50تو دادی نے ملازمہ سے بولا
24:51یہ کتابیں تو یہاں سے ہٹا لیں رضیہ
24:54میں پڑھتے پڑھتے یہی رکھ کے
24:56شاور لینے چلی گئی تھی
24:57ناہید جانبوچ کے مہمانوں کی توجہ
25:00کتاب کی جانب کروانا چاہتی تھی
25:01دادی اور صدف کوئی بات
25:03اچھی طرح سمجھ میں آ رہی تھی
25:05کہ یہ کتاب انہیں متاثر کرنے کے لئے
25:07رکھی گئی تھی
25:08ملازمہ نے وہ کتاب اٹھا کے کونے میں رکھ دی
25:11ناہید دادی سے بولی تھی
25:12روحیل گھر پر نہیں ہوتا
25:14اکیلے بور ہو جاتی ہوں
25:15تو سٹیڈی کر کے اپنا دل بھیلاتی ہوں
25:17آج کل پریم چند کی شاعری پڑھ رہی ہوں
25:20ناہید خود کو پڑھنے کی شوقین
25:23ظاہر کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی
25:25اب دادی نے صدف کو ایسے دیکھا
25:27کہ ان کا کچھ نہیں ہو سکتا
25:28ملازمہ جو کمرے سے جا رہی تھی
25:30ناہید نے سے آواز دے کر کہا
25:32رضیہ چائے لے آؤ
25:33نوری ٹکا والے ٹی سیٹ میں لے کے آنا
25:36صدف اور دادی ان کی باتوں پر
25:39زیرے لب مسکرا رہی تھی
25:40میرے گھر میں تو ساری قیمتی جاپانی کروکری ہے
25:43یہ نوری ٹکا کا ڈینر سیٹ بھی
25:44روحیل کے اب بجان لائے تھے
25:46اچھا آپ
25:48جیپنیز برینڈ نوری ٹاکے کی بات کر رہی ہیں
25:51دادی ناہید کی تصیب
25:53بڑے محضبانہ انداز میں کرنا چاہتی تھی
25:55دادی نے درست تلفز جیسے بتایا
25:57ناہید نے سر ہلا دیا
25:59اور روحیل نے ماں کو گھور کے دیکھا
26:01لائک کومنٹس شیئر کریں
26:03اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لئے سبسکرائب کریں
Comments

Recommended