00:00ڈیزا کی نینی نے ان دونوں کا کھانا انہیں کمرے ہی میں دے دیا تھا اور کچھ تو نہیں چاہیے بیٹا
00:24انہوں نے لیزا سے پوچھا تھا جو اس کے بیٹ کے پاس کرسی رکھ کر بیٹھی تھی کھانے کی ٹری بیٹ پر رکھی تھی
00:31نہیں نینی بس اب آپ آرام کیجئے کھانے کے بعد اگر ہمارا کافی کا موٹ بنا تو وہ میں خود بنا لوں گی
00:37لیزا ان سے مسکرا کر بولی تھی نینی کمرے سے چلی گئی تھی لیزا اس کے لیے پلیٹ میں کھانا ڈال رہی تھی
00:44نینی نے پاکستانی کھانے بنائے ہیں تمہارے لیے وہ اس کے لیے پلیٹ میں یخنی پلاو ڈالتے ہوئے بولی تھی
00:50وہ جواباً بالکل چپ رہا تھا اس کی سوچوں پر ابھی بھی ایک وحشت ستاری تھی
00:55اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا لیزا کا اپنی پرواہ کرنا خیال رکھنے والا انداز بھی اسے اس وقت اچھا نہیں لگ رہا تھا
01:03بس اور مت ڈالو
01:04سنجیدگی سے بولتے ہوئے اس نے اسے اپنی پلیٹ میں مزید کوئی بھی چیز ڈالنے سے روک دیا تھا
01:10وہ خاموشی سے پلاو کھانے لگا تھا
01:12کسی بھی طرح کا ذائقہ اور خوشبو محسوس کیے بغیر
01:15اس نے تین چار منٹ میں اپنی پلیٹ ختم کر دی تھی
01:18وہ خالی پلیٹ واپس ٹرے میں رکھ رہا تھا جبکہ لیزا نے تو ابھی کھانا شروع ہی کیا تھا
01:23کیا ہوا؟
01:25بس میں کھا چکا
01:26اور جو یہ اتنی ساری پاکستانی ڈشز نینی نے بنائی ہیں
01:29یہ کون کھائے گا؟
01:31وہ کچھ خفگی اور کچھ اسرار سے بولی تھی
01:33تھوڑا سا تو اور لو نا
01:35اس نے بغور لیزا کی طرف دیکھا
01:37تم اپنے سب جاننے والوں کی بہت پرواہ کرتی ہو
01:40ان کا بہت خیال رکھتی ہو
01:42ان کے ساتھ بڑی نیکیاں کرتی ہو
01:44یہ تم پہلے ہی مجھ پر ثابت کر چکی ہو لیزا
01:47مزید کچھ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے
01:49وہ بری طرح چڑ کر بولا تھا
01:51لیزا کے ساتھ کبھی تلخ نہیں ہوگا
01:54کبھی کوئی دل دکھانے والی بات نہیں کرے گا
01:56وہ لمحہ بھر میں خود سے کیے سارے اہدوں پیمان بھول گیا تھا
02:00وہ ہر ایک کے ساتھ نیکیاں کرتی ہے تو کرے
02:02مگر اس پر بلا وجہ کیوں اپنے احسان رکھ رہی ہے؟
02:05تم کیا کہنا چاہتے ہو سکندر؟
02:08تم روبرٹو کی بیوی کا اس کی غیر موجودگی میں دھیان رکھتی ہو
02:11اپنی بچپن کی آیا کو عزت اور احترام سے
02:13اپنے گھر کی بزرگ کا درجہ دے کر رکھتی ہو
02:16بہت اچھی بات ہے لیزا
02:17کہ تم ہر ایک کے لئے محبت اور خلوص دل میں رکھتی ہو
02:20تمہارے دل میں سب کے لئے ہمدردی ہے
02:23ترس ہے
02:24مگر مجھے تمہاری ہمدردی اور تمہارے ترس کی ضرورت نہیں ہے
02:27اپنے ساتھ کی جانے والی تمہاری نیکیاں مجھے احسان لگ رہی ہیں
02:31مجھے تمہاری نیکیوں اور اچھائیوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے لیزا
02:34اس پار وہ چڑ کر تو نہیں بولا تھا
02:37مگر سرد اور سپاٹ بے مروت سے انداز میں ضرور بولا تھا
02:41لیزا چند لمحے غور سے اسے دیکھتی رہی تھی
02:44تم اور کچھ بھی نہیں لینا چاہتے
02:46سویٹ ڈش بھی نہیں
02:48ایک پل کے بعد اس نے سنجیدگی سے پوچھی تھی
02:51تو یہ بات پوچھی تھی
02:52وہ اپنی دل دکھانے والی بات کے جواب میں
02:54اس کا کوئی سخت ردعمل دیکھنا چاہتا تھا
02:57اسے اتنے سکون سے بات بدلتے دیکھ کر
02:59اس کا موٹ شدید خراب ہوا تھا
03:01میں اب سونا چاہتا ہوں
03:04لیزا نے کھانے کے چند ہی لک میں لیے تھے
03:06اس نے اپنا کھانا اسی طرح
03:08ادھورا چھوڑ کر کھانے کی ٹری ہاتھوں میں اٹھا لی تھی
03:11ٹھیک ہے تم سو جاؤ
03:13کسی چیز کی ضرورت ہو
03:14تو مجھے کال یا میسج کر کے بلا لینا
03:16میں جاگی ہوئی ہوں
03:18وہ سنجیدگی سے بولتی
03:19کمرے کی لائٹ آف کرتی ہوئی باہر چلی گئی تھی
03:22وہ چپ چاپ اپنی جگہ بیٹھا رہ گیا تھا
03:25لیزا کے ساتھ اس انداز میں
03:27اتنی بدتمیزی سے بات کرنے کے بعد
03:29وہ مزید بے سکون ہوا تھا
03:31اس کے زندگی میں جہاں کہیں پر بھی
03:33جو کچھ تھا جو کچھ ہو چکا تھا
03:35اس میں لیزا کا کیا قصور تھا
03:37جو وہ اس کے ساتھ اس لہجے میں بات کر گیا تھا
03:39وہ اس کا احسان نہیں لینا چاہتا
03:42تو ٹھیک ہے نہ لے
03:43مگر اس کے لیے بدتمیزی اور بے رخی کی
03:45تو کوئی ضرورت نہیں
03:46وہ چپ چاپ گم سمسا بیٹ پر
03:48اسی طرح بیٹھا تھا
03:49اس نے لیٹنے کی کوشش نہیں کی تھی
03:52اسے خود پر بہت غصہ آ رہا تھا
03:54لیزا جاتے ہوئے کمرے کا دروازہ بند کر گئی تھی
03:57وہ اس کمرے کے درو دیوار کو دیکھ رہا تھا
04:00ڈریسنگ ٹیبل پر لیزا کا میک اپ کا سامان
04:02ہیر برش پرفیومز وغیرہ رکھے تھے
04:04خوبصورت وارڈروب میں
04:06یقیناً اس کے کپڑے ٹنگے ہوئے ہوں گے
04:08وہ اسی کے گھر میں
04:09اسی کے کمرے میں بیٹھا تھا
04:11اسے اپنی بدتمیزی پر کچھ اور بھی شرمندگی
04:13محسوس ہوئی تھی
04:14وہ کل صبح ہی یہاں سے چلا جائے گا
04:17کمرے کا دروازہ بجا تھا
04:19قدر حیران سا ہوتے
04:20اس نے جی آ جائیں بولا تھا
04:23اس کا خیال تھا یہ لیزا کی نینی ہوں گی
04:25اس کی بدتمیزی کے بعد
04:27اتنی جلدی لیزا کے دوبارہ آنے کا
04:29تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا
04:31مگر اس کا خیال غلط ثابت ہوا تھا
04:33وہ لیزا تھی
04:34اس کا چہرہ بے حد سنجیدہ تھا
04:37اس پر وہ مخصوص مسکراہت نہیں تھی
04:39جو ہما وقت اس کے لبوں کا اہا تک یہ رکھتی تھی
04:42سنجیدگی کے ساتھ
04:43ناراضی سے
04:44بغیر مسکراہت کے ساتھ ہی سہی
04:46پر وہ آئی تو تھی اس کے پاس
04:48ابھی جبکہ دو دن گھنٹے قبل ہی
04:50وہ اس کے ساتھ خاصی بدتہزیبی
04:52اور بد اخلاقی کا مظاہرہ کر چکا تھا
04:54تم نے دوا لے لی
04:55اس کے قریب آ کر
04:57اس نے سنجیدگی سے پوچھا تھا
04:58دوا کی طرف اس کا دھیان نہیں گیا تھا
05:01اس نے گمسم سے انداز میں
05:02سر نفی میں ہلا دیا تھا
05:04وہ اس سے ناراض ہے
05:06اس کے چہرے سے ظاہر تھا
05:08مگر ناراضی میں بھی
05:09وہ اس کی فکر کرنا نہیں بھولی تھی
05:11لیزا نے سوچ مورڈ کی طرف جا کر
05:13کمرے کی لائٹ جلائی تھی
05:14جب دوسروں کے احسان لینے کا شوک نہیں ہے
05:17تو خود تو اپنا خیال رکھنا چاہیے نا
05:19ناراضی سے بولتے ہوئے
05:21اس نے گلاس میں پانی ڈالا تھا
05:22اب وہ ٹیبلٹ اور کیپسول نکال رہی تھی
05:25لیزا نے دوا اس کے ہاتھ پر دھری
05:26اس نے بغیر کچھ کہے دوا پانی سے نگل لی
05:29تم نے مرحم لگایا
05:31وہ بغور اس کے بازوں کے زخم دیکھ رہی تھی
05:33آج حضرتال سے ڈسچارج ہونے سے قبل
05:36ڈاکٹر نے اس کے بازوں پر سے بینڈج اتار دی تھی
05:38اسے زخم پر لگانے کے لیے مرحم دیا تھا
05:41اس کے ایک بازو پر
05:42کوہنی سے لے کر کلائی تک
05:44ذرا زیادہ گہرہ زخم تھا
05:46جبکہ دوسرے پر معمولی نویت کی چوٹ تھی
05:48اس نے پھر نفی میں سر ہلا دیا تھا
05:51لیزا بیٹ کے ساتھ رکھی
05:53اس کرسی پر فوراں بیٹھ گئی تھی
05:54جس پر بیٹھ کر کچھ دیر قبل
05:56وہ اس کے ساتھ کھانا کھا رہی تھی
05:57وہ اس کا بازو ہاتھ میں لے کر
05:59اس کے زخم پر بہت آہستگی اور نرمی سے مرحم لگا رہی تھی
06:03وہ خاموش تھی
06:04اس کے چہرے پر سنجیدگی اور ناراضی تھی
06:07وہ بغور اسے دیکھ رہا تھا
06:09تم ابھی تک جاگی ہوئی تھی
06:11لیزا نے صرف سر ہاں میں ہلایا تھا
06:14کچھ پینٹ کر رہی تھی
06:15اس نے پھر سر ہاں میں ہلا دیا تھا
06:18کیا؟
06:19ایک لینڈسکیپ
06:20وہ اس کے سوالوں کے مختصر ترین اور ٹو دی پوائنٹ جواب دے رہی تھی
06:24وہ ایک بازو پر مرحم لگا چکی
06:26تو اس نے خود ہی اپنا دوسرا بازو بھی اس کے آگے کر دیا
06:29تمہارا یہاں کوئی باقاعدہ سٹوڈیو ہے
06:31میں نے سنا ہے
06:32آرٹسٹ لوگ اپنے گھروں میں اپنے ایک پروپر قسم کا سٹوڈیو ضرور رکھتے ہیں
06:36اس کے طویل سوال کے جواب میں
06:38لیزا نے محض سر ہاں میں ہلایا تھا
06:40وہ مسکورا کر دوستانہ انداز میں سوالات کر رہا تھا
06:43وہ سنجیدگی سے سر ہاں نامے ہلا کر
06:46یا پھر یک لفظی جملہ بول کر اسے جواب دے رہی تھی
06:49کہاں ہے تمہارا سٹوڈیو؟
06:52اوپر
06:52مجھے دکھاؤگی؟
06:54دیکھ لینا
06:54کب؟
06:56جب تمہارا دل چاہے؟
06:57وہ ایک کے بعد ایک سوال کر رہا تھا
06:59اور وہ بغیر اس کی طرف دیکھے
07:01سب پارٹ سے انداز میں جواب دیے جا رہی تھی
07:03گویا وہ اس سے بہت سنجیدگی سے ناراض تھی
07:06اور تم مجھے پینٹ کب کرو گی؟
07:10اس لڑکی کے چہرے پر اس کی زندگی سے بھرپور وہ مسکوراہت دیکھنے کی
07:13ایسی شدید خواہش ابری تھی اس کے دل میں
07:16کہ بے اختیار وہ پوچھ بیٹھا تھا
07:18اس کا اندازہ سو فیصد درست تھا
07:20لا تعلقی، بے نیازی اور ناراضی کا تاثر لمحہ بھر میں لیزہ کے چہرے سے غائب ہوا تھا
07:26ایک پل کے لیے تو اس نے اسے حیران ہو کر دیکھا تھا
07:29وہ مسکراتا ہوا اس کی طرف نرمی سے دیکھ رہا تھا
07:32سکندر کیا واقعی؟
07:35کیا تم سچ میں؟
07:36اس کی وہ مخصوص مسکراہت اس کے لبوں پر واپس آ چکی تھی
07:40وہ خوشی اور حیرانی سے تصدیق چاہنے والے انداز میں اسے دیکھ رہی تھی
07:44اس نے مسکرا کر سر اس بات میں ہلایا تھا
07:48کیا میرے احسانوں کا بدلہ چکانے کے لیے تم ایسا کر رہے ہو؟
07:51وہ یک دم ہی دل گرفتہ سی ہوئی تھی
07:53اس نے یہ الفاظ یوں ادا کیے تھے
07:55گویا اسے سکندر کی ان لفظوں سے شدید تکلیف پہنچی تھی
07:59تمہارے خلوص اور تمہاری اپنایت کا بدلہ میں کبھی نہیں چکا سکتا لیزہ
08:03اور چکانا چاہتا بھی نہیں ہوں
08:05وہ بہت سچائی سے بول رہا تھا
08:07وہ اپنے دلی جذبات اور سوچیں
08:09کچھ بھی چھپانے کی کوشش کیے بغیر
08:11اس وقت اسے بات کر رہا تھا
08:13پھر وہ سوالیاں نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی
08:16میری آرٹس دوست لیزہ محمود کی اگر یہ خواہش ہے
08:20کہ وہ میرا چہرہ پینٹ کرے
08:21تو میں چاہتا ہوں
08:22روما سے واپس چانے سے قبل
08:24اس کی یہ خواہش ضرور پوری کر کے جاؤں
08:26وہ مسکرا کر خوشدیلی سے بولا تھا
08:29وہ اس کے دوسرے ہاتھ پر بھی مرحم لگا چکی تھی
08:32وہ بے حد خوش نظر آ رہی تھی
08:34او مائی گاڈ
08:36مجھے بالکل بھی یقین نہیں آ رہا سکندر
08:38تم جیسے سڑیل
08:39مجھے اپنا چہرہ پینٹ کرنے کی اجازت دے رہا ہے
08:42میرے خدایہ کہیں یہ خواب تو نہیں
08:44لیزہ محمود
08:46میرے بارے میں اپنے یہ غیر پارلیمانی الفاظ آپ واپس لیجئے
08:50وہ اس کی سی ٹون میں شگفتگی سے بولا
08:53سڑیل کو سڑیل ہی کہوں گی نا
08:55سڑیل
08:56بدتمیز
08:56بد اخلاق
08:57بے مروت سکندر شہریار صاحب نے مجھے اپنی پینٹنگ بنانے کی اجازت دے دی ہے
09:01خدایہ اگر یہ خواب ہے
09:03تو میں اس سے جاگوں نا
09:05وہ اپنے لیے اتنے شاندار القاب سن کر
09:07کہہ کا لگا کر ہنس پڑا تھا
09:09لیزہ بھی ہنسی تھی
09:11اس کی ہنسی دیکھ کر اسے سکون کا احساس ہوا تھا
09:14کچھ دیر پہلے جب وہ ناراض تھی
09:16ہنس نہیں رہی تھی
09:17تب بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا
09:19رات کافی ہو رہی تھی
09:21وہ اسے سونے کا کہتی وہاں سے اٹھ کر جانے لگی تھی
09:24اس نے لائٹ دوبارہ اوف کر دی تھی
09:26میں جاگی ہوئی ہوں سکندر
09:28سٹوڈیو میں کام کر رہی ہوں
09:30کسی بھی چیز کی ضرورت ہو
09:31مجھے بلا لینا
09:32وہ وہاں سے جانے کے لیے پلٹی تھی
09:34مگر پلٹے پلٹے
09:36جیسے اسے کچھ یاد آیا تھا
09:38تم مجھے اپنی دوست سمجھتے ہو سکندر
09:40میں اپنے دوست سکندر شہریار کا خیال رکھ رہی ہوں
09:44اس کی پرواہ کر رہی ہوں
09:45خلوص اور اپنایت کے ساتھ
09:48پھر سے احسان اور نیکی کے لفظ
09:49میرے لیے مت بولنا سکندر
09:51دل کو بہت تکلیف ہوتی ہے
09:53وہ بہت سنجیدگی اور آہستگی سے بولی تھی
09:56وہ جوابن چھپ رہا تھا
09:58لیزہ کمرے سے چلی گئی تھی
09:59صبح ہو گئی تھی
10:03اسے دوالے کر بھی رات بھر نین نہیں آئی تھی
10:06وہ ساری رات چاکتا رہا تھا
10:08اسے رات بھر پیر میں کافی تکلیف بھی رہی تھی
10:11وہ درد کو نظر انداز کرتا رہا تھا
10:13ساری رات جاک کر
10:15صبح ہونے کا انتظار کیا تھا
10:17اسے حسبتال میں اسی سکون آور دوا کے ساتھ
10:20رات میں اور پھر دوپہر میں بھی
10:22اتنی گہری نیند کس طرح آ گئی تھی
10:24کل نیند آئی تھی
10:25تو آج بھی آنی چاہیے تھی
10:27وہ بے ساکھی کے سہارے اٹھ کر باتروم گیا تھا
10:30بے ساکھی کے سہارے کھڑے ہونے
10:32اور موہا دھونے میں قدر دکت کا سامنا تھا
10:35مگر اپنی چوٹوں تکلیفوں
10:37اور زخموں کی اس نے پہلے پرواہ کب کی تھی
10:39جو اب کرتا
10:40وہ موہا دھو کر باہر نکلا
10:42تو لیزا کمرے میں کھڑی تھی
10:44گوڈ مارننگ
10:46وہ اسے دیکھ کر مسکرائی تھی
10:47ام سوری میں بغیر اجازت اندر آ گئی
10:51دراصل میں کافی دیر سے دروازہ نوک کر رہی تھی
10:54تم نے کوئی جواب نہیں دیا
10:55تو مجھے فکر ہوئی
10:56تم سوئی نہیں
10:58وہ پیساکھی کے سہارے واپس بیٹ کی طرف جانے لگا
11:01لیزا جلدی سے اسے سہارہ دینے کے لیے آگے بڑھی تھی
11:04وہ کل کے مقابلے میں تیز تیز قدم اٹھا کر
11:07بیٹ تک اس کی مدد کے بغیر ہی پہنچ گیا تھا
11:10لیزا نے اسے بیٹ پر بیٹھنے میں مدد دی تھی
11:12اسے مدد کی ضرورت نہیں تھی
11:14مگر وہ منع کر کے اس کا دل نہیں توڑنا چاہتا تھا
11:17وہ بیٹ پر ٹانگیں سیدھی پھیلا کر بیٹ گیا تھا
11:20تھوڑی دیر سو گئی تھی
11:22میرا سونا جاگنا تو بس ایسا ہی ہوتا ہے
11:24بعض دفعہ ناشتہ کر کے پھر سے سو جاتی ہوں
11:27کبھی کبھی دن میں لیٹ جاتی ہوں
11:29وہ مسکرا کر بولی تھی
11:30نینی سے میں بول کر آئی ہوں
11:32وہ ناشتہ بنا رہی ہے
11:34وہ کرسی پر بیٹ گئی تھی
11:36اس نے لوز سی ٹی شرٹ جینز کے ساتھ پہن رکھی تھی
11:39بالوں کو کیچر میں لپیٹا ہوا تھا
11:41وہ دھولے ہوئے موں کے ساتھ بھی
11:42اتنی ہی پیاری لگ رہی تھی
11:44جتنی میک اپ کے ساتھ لگا کرتی تھی
11:46رات بھر میں تمہارا ارادہ بدلا تو نہیں نا
11:49وہ کس حوالے سے یہ سوال پوچھ رہی تھی
11:52وہ جانتا تھا
11:54نہیں
11:54وہ جواباً مسکرایا تھا
11:56تم سے پینٹنگ بنوائے بغیر میں رومہ سے واپس نہیں جاؤں گا
12:00بس یہ جو ایکسیڈنٹ کی وجہ سے
12:01تھوڑا میرا آفیس کے کاموں کا حرج ہوا ہے
12:03مجھے وہ کام نمٹا لینے دو
12:05پھر ایک دن پورا تمہارے نام ہوگا
12:07تم تسلی سے اپنی پینٹنگ بنانا
12:09اس نے لیزا کے حسین چہرے کی طرف بغور دیکھا تھا
12:13یہ لڑکی اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتی
12:16اس لئے نہ تو یہ اسے ملامتی نگاہوں سے دیکھتی ہے
12:19نہ دل میں یہ سوچتی ہے
12:20کہ سکندر شہریار بڑا ڈھیٹ اور بے غیر ات آدمی ہے
12:23اسے کوئی حق نہیں ہے زندگی کے ایک بھی لمحے کو انجوائے کرنے کا
12:27مسکرانے کا خوش ہونے کا
12:29یہ زندگی سے بھرپور لڑکی اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتی
12:33اور اسے اس کا اپنے بارے میں کچھ بھی نہ جاننا بڑا اچھا لگ رہا تھا
12:37پر دیسیوں سے ملنے کا یہی تو فائدہ ہوتا ہے
12:40آپ ان سے جو آپ نہیں ہیں وہ بن کر مل سکتے ہیں
12:44جو کچھ آپ اپنے بارے میں چھپا لینا چاہتے ہیں
12:46بہ آسانی چھپا لیتے ہیں
12:48اس نے سوچ لیا تھا
12:50وہ لیزا ہی کے مشورے پر عمل کرتا
12:52روما میں اپنے باقی دنوں کو
12:54رومن ہالیڈیز کی طرح یہ یاد رکھے
12:56بغیر گزارے گا
12:57کہ وہ سکندر شہریار زندگی کو
12:59زندہ لوگوں کی طرح جینے کا کوئی حق نہیں رکھتا
13:02کہ وہ تو کب کا مر چکا ہے
13:04سنگ سار کیا جا چکا ہے
13:06تختہ دار پر چڑھایا جا چکا ہے
13:08مزید ویڈیوز اور اپ ڈیئرز کے لیے
13:12چینل سبسکرائب کرنا نہ بھولیں
13:14اور بیل آئیکن کو بھی ہٹ کریں
Comments