Skip to playerSkip to main content
Farhat Ishtiaq is a renowned Pakistani writer, author, and screenwriter known for her captivating storytelling and thought-provoking themes. Her writing style is characterized by:

1. Emotional Depth: She skillfully explores complex emotions, creating relatable characters that resonate with readers.
2. Social Commentary: Her stories often address societal issues, sparking meaningful conversations.
3. Strong Female Protagonists: Empowered women are central to her narratives, challenging traditional gender roles.
4. Intricate Plotting: Engaging storylines with unexpected twists keep audiences engaged.
5. Realistic Dialogue: Authentic conversations add authenticity to her stories.
6. Cultural Sensitivity: Her work reflects Pakistan's cultural nuances, making her stories uniquely local and globally relevant.

Farhat Ishtiaq's writing has captivated audiences in novels, TV dramas, and audio series like "Jo Bache Hain Sang Samait Lo." What's your favorite work by Farhat Ishtiaq?

Awaz Kahani Series:
Novel: Ye Dil Mera
Episode: 28

Follow the Farhat Ishtiaq Official channel on WhatsApp:
https://whatsapp.com/channel/0029VayFx2IKQuJC097AOE2k

#audiobook #youtubetips #farhatishtiaq #yemeradil #pakistaninovels #growonyoutube #youtubegrowth #audiolibrary #youtubehindi #boostviews

#romantic #urduadab #stories #urdunovels #romanticstory
#pakistanidrama #romanticnovel #audiorecording #episode
#youtube #upcomingdramas #urdu_story #romanticnovel
#urdu_kahani #friendsship #urduaudiorecordingnovels
#novels #UrduNovels #Friendsship #Romanticnovels
#farhatishtiaqnovels #Bestnovelstories #urdu #Romantic
#pakistanidrama #kahaniyah #bestnovelsCollection
#humtv #romance #love #urdubooks #Novelsandstories
#upcomingdramas #UrduAudioBooks #romantic #dramareviews
#upcomingdramas #RomanticAudioStories #MysteryAudioBooks #ThrillerNovels #FantasyAudioSeries
#ClassicLiterature #HistoricalFiction #ScienceFictionBooks #HorrorStories
#DramaNarratives #AdventureTales #ForBookLovers #RelaxAndListen #StudyCompanion #CalmingVoices #NightTimeStories #AudiobookFans #ReadersChoice #StayInspired #UrduNovels #EnglishFiction #HindiAudioBooks #ArabicNarratives #SpanishNovels #FrenchAudioStories #FullAudioBook #ChapterWiseAudio
#ListenAndLearn #ImmersiveStories #TrendingStories #BingeWorthy
#NewReleases #youtubeaudiobooks #YouTubeStorySeries #ExclusiveContent

Jo Bache hain Sang Samait Lo Novel | Season 1
https://www.youtube.com/watch?v=iw40fDKfe0k&list=PLgHL2TVjeOoRsTq2YWk0nC9bjq8zMXIqQ

Taqreeb Kuch to Behr e Mulaqat Chahiye
https://www.youtube.com/watch?v=asWeD04Jgwg&list=PLgHL2TVjeOoTkr1gp84e3DuRIsqZ5ngsW

Meem Se Mohabbat | Audio Series
https://www.youtube.com/watch?v=hlUJkhO99HI&list=PLgHL2TVjeOoTOjiMucd5Kwfpnc8n4d8Hq&pp=gAQB


Don’t forget to subscribe @FarhatIshtiaqOfficial

Category

😹
Fun
Transcript
00:00ڈیڈل میرا تحریر فرط اشتیاق رس نمبر 28
00:09میر فاروق نورو لین اور فرحانہ تینوں ناشتے کی میز پر ساتھ بیٹھے تھے
00:14آج تمہیں سرویسز کے لئے سلون جانا ہے نا اے نا
00:17فرحانہ ٹوز پر جیم لگاتے ہوئے نورو لین سے بولی
00:20جی فرحانہ قالا نورو لین جوس پیتے ہوئے بولی
00:24میر فاروق بظاہر سنجید کی اور خاموشی سے ناشتہ کرتے
00:27قالا اور بھانجی کی یہ گفتگو سن رہے تھے
00:30لیکن ان کی آنکھوں میں فرحانہ کے لئے وہ گرم جوشی موجود نہیں تھی جو پہلے ہوا کرتی تھی
00:35تم وہاں سے آجاؤ پھر میں سوچ رہی ہوں آج اسے گھر پر دھولک رکھوا لیتے ہیں
00:40پرسو مائیوں ہیں جمعے کو نکاح اس کے اگلے دن مہندی
00:44بس اتنے سے تو دن رہ گئے ہیں شادی میں
00:46اتنے دن پہلے تو گھر پر ہلا گھلا ہونا چاہیے بھائی
00:50فرحانہ مسکرا کے پرجوش سے انداز میں بولی
00:52جی وہ جواباں مسکرائی
00:55تو اپنی سب فرنڈز کو فون کر دو
00:57ٹھیک ہے میں ابھی فون کر دیتی ہوں سب کو
00:59فاروق ویہ آپ بہت چپ ہیں
01:01کیا ابھی سے اینہ کی رخصتی کا سوچ کے اداس ہو رہے ہیں
01:04فرحانہ میر فاروق کی خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے بولی
01:08ہاں اداسی تو فطری ہے
01:10بیٹی کو رخصت کرنا مشکل کام ہے
01:12میر فاروق نے بردباری سے کہتے ہوئے چائے کا گھونٹ لیا
01:16پھر بظاہر سرسری سے انداز میں فرحانہ سے پوچھا
01:19تمہارا واپسی کا کیا پروگرام ہے فرحانہ
01:21پھر سمل کے وضاحت کی
01:23تاکہ فرحانہ برا نہ مان جائے
01:25میرا مطلب ہے نور کے ولیمے کے بعد
01:27چاہد اگلے ہی دن مجھے کانفرنس کے سلسلے میں پیرس جانا ہے
01:30اینہ اپنے گھر جا چکی ہوگی
01:32میں یہاں ہوں گا نہیں
01:33پھر تو تم گھر پر بلکل اکیلی رہ جاؤگی
01:36وہ نورولین کی شادی ہوتے ہی
01:38فرحانہ کی امریکہ واپسی
01:40چاہتے تھے
01:41یہ تو آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں فاروق بھائی
01:43مجھے آپ کے کانفرنس میں جانے کا نہیں پتا تھا
01:45آپ بھی نہیں ہوں گے پھر تو میں گھر پر
01:47اکیلے بور ہو جاؤں گی
01:49فرحانہ سادگی سے بولی
01:50اگر چاہو تو اپنی واپسی کی سیٹ کرا لو
01:53کہو گی تو میں کرا دوں گا
01:55میر فاروق نے بظاہر پر قلوس سے
01:57انداز میں پوچھا
01:58فرحانہ نے گردن ہلائی
02:01یہ کیا بات ہوئی
02:02فرحانہ قالا میں آپ کو اتنی جلدی ہرگز نہیں جانے دوں گی
02:04میں یہاں نہیں ہوں گی تو کیا ہوا
02:06کراچی میں تو ہوں گی نا
02:08نورولین فوراں خف گی اور اپنائیت سے بولی
02:10مگر فرحانہ کے کچھ بولنے سے پہلے
02:13میر فاروق بول پڑے
02:14بیٹا ہو سکتا ہے شادی کے بعد
02:16امان نے تم دونوں کا کہیں گھومنے جانے کا پروگرام بنا رکھا ہو
02:19تم دونوں وہاں چلے جاؤ گے
02:21میں پیریس
02:22تب تو خالہ یہاں اکیلی رہ جائیں گی نا
02:24فاروق بھائی آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں
02:26فرحانہ مسکرائیں
02:27ویسے میرا ارادہ ولیمے کے ایک ہفتے بعد جانے کا تھا
02:31لیکن شادی کے بعد جب نہ اینہ یہاں ہوگی
02:33نہ آپ تو میں یہاں رکھ کے کیا کروں گی
02:35میں اینہ کے ولیمے کے بعد
02:37کی اپنی سیٹ کروا لیتی ہوں
02:38انہیں ولیمے کے فوراں بعد واپسی پر
02:41آمادہ دیکھ کے میر فاروق قدر مطمئن ہوئے
02:44نورولین اور فرحانہ کو
02:46سمجھ نہیں آ رہا تھا
02:47مگر بوہ جی کو سمجھ میں آ رہا تھا
02:49کہ وہ فرحانہ کو جلد از جلد
02:51اپنے گھر سے چلتا کرنا چاہتے تھے
02:53فرحانہ کے نیلو فرس کے مطالف
02:55سوالات کے بعد سے اب فرحانہ کو
02:57ہر حال میں نورولین سے دور رکھنا چاہتے تھے
03:01آج نورولین اور امان کا نکہ تھا
03:03نکہ گھر پر ہی ہو رہا تھا
03:05صرف خاص خاص اور قریبی لوگ
03:06نکہ پر مدود تھے
03:08نورولین خوبصورت سے
03:09وائٹ ڈریس میں ملبوس
03:10صوفے پر بیٹھی تھی
03:11اس نے نظر جکھا رکھی تھی
03:13مگر وہ کش نظر آ رہی تھی
03:15اس کے ساتھ صوفے پہ امان
03:18کرتہ شلوار میں ملبوس
03:19سنجیتہ سا بیٹھا تھا
03:21نورولین کے برابر میں
03:22میر فاروق اور فرحانہ بیٹھے تھے
03:24خاضی صاحب امان کے برابر میں بیٹھے تھے
03:26انہوں نے نکہ پر ہانا شروع کیا
03:28تو میر فاروق فرحانہ اور بوہ جی کی آنکھوں میں
03:31نمی سی اتڑنے لگی
03:32نورولین اور امان سے
03:34نکہ نامے پر سائن کروائے جا رہے تھے
03:36آسیہ اور مہتاب کی آنکھوں میں
03:38جیلسی بھری تھی
03:39جبکہ باقی سب لوگ خوش نظر آ رہے تھے
03:41نکہ کے بعد خاضی صاحب نے دعا کرائی
03:44اس کے بعد خاضی صاحب نے امان اور میر فاروق سے ہاتھ ملایا
03:47میر فاروق صوفیف سے اٹھ کر امان کے ساتھ
03:50پاس آئے
03:51تو وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا
03:52میر فاروق بیٹی کے نکہ پر
03:54خوش بھی تھے اور جذباتی بھی
03:56انہوں نے پیار سے امان کو گلے سے لگایا
03:58بس یہ مسکراہت آخری بار ہے
04:01ہی تمہارے چہرے پر آ رہی ہے میر فاروق
04:03آج سے تمہاری اور تمہاری اس پیاری بیٹی کی زندگی کی تباہی کا آغاز ہو گیا ہے
04:08آگ لگا دوں گا تمہاری زندگی میں
04:10اب تمہیں بتاؤں گا بدلہ کیا ہوتا ہے
04:12اور انتقام کیسے لیا جاتا ہے
04:14وہ میر فاروق کے گلے لگا نفرس سے سوچ رہا تھا
04:18اس کی آنکھوں میں موجود انتقامی کیفیت
04:20اتنی شدید تھی کہ اس کی آنکھیں سرک ہو گئی تھی
04:23میر فاروق کے گھر پر شادی کی رونقیں
04:26چہل پہل جاری تھی
04:27آج شام نورولین اور امان کی مہندی تھی
04:30نورولین نے پیلا غرارہ پہن رکھا تھا
04:33گھر کے گارڈن ہی میں اس کے بیٹھنے کی فرشی نشست
04:35پیلے پھولوں سے سجائی گئی تھی
04:37وہ پھولوں کے جرمت میں
04:39کالین پر گاؤ تکیوں سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی
04:41اس کے لبوں پر مدھم اور خوشی بھری
04:43مسکراہت سجی تھی
04:44اس کے ایک طرف پاس ہی پیلے ہی لباس میں
04:47فرہانہ بیٹھی تھی اور دوسری طرف
04:49مہندی لگانے والی لڑکی مہندی لگا رہی تھی
04:51سنبل، ہرا اور
04:53اس کی کچھ اور دوستے اور کزنس وغیرہ
04:55اس کے اٹھ گٹھ گھیرہ ڈال کے بیٹھی ہوئی تھی
04:57بواجی بھی اپنی عمر کے
04:59مناسبت رکھتے پیلے رنگ کے شلوار
05:01قمیز میں ملبوس تھی
05:02وہ خوش ہو ہو کر وہاں آتے جاتے
05:05نورولین کو بھی دیکھتی اور ساتھ ساتھ
05:06نوکروں سے مختلف کام کرواتی
05:08دولن کے بیٹھنے والی جگہ کے این
05:11سامنے گھاس پر لڑکے لڑکیاں
05:12ڈانس کی پریکٹس کر رہے تھے
05:14اس لیے میوزک کا خوب شور تھا
05:16ڈانس کرتے ان لڑکے لڑکیوں میں
05:18سب سے نمائیہ یاسر اور سان تھے
05:21وہی دونوں اس گروپ کو لیٹ کر کے
05:22باقی سب کو ڈانس کے سٹیپ سکھا رہے تھے
05:25تم دونوں وہاں کیا گھسی بیٹھی ہو
05:27ڈانس کی پریکٹس نہیں کرنی کیا
05:28شام کو مہندی میں بیکار خسم کا
05:30ڈانس کرنے کا ارادہ ہے کیا
05:32یاسر نے زور سے آواز لگا کر
05:34ہرہ اور سنبل کو بلایا
05:35اچھا نہ آتے ہیں
05:36ہرہ وہیں بیٹھے بیٹھے چلا کے بولی
05:39مجھے لگتا ہے ہرہ اور سنبل
05:40نورولین کی جگہ پر بیٹھنے کے انتظار میں
05:42وہاں بیٹھی ہیں
05:43وہی کہا جاتا ہے نا مائیوں کی دلہن
05:45جس جگہ بیٹھتی ہے
05:46اگر اس کے اٹھنے کے بعد
05:47وہاں بیٹھا جائے تو
05:48شادی فوراں ہو جاتی ہے
05:49یاسر اور حسان کے ساتھ
05:51ڈانس کی پریکٹس کرتی
05:52ان کی کوئی شرارتی سی دونس
05:54ہس کے مزے سے بولی
05:55اس کی بات پر نورولین
05:57اور فرحانہ سمی سب ہی ہس پڑے
05:59بکھو مت
06:00ہرہ ذرک حسیانی سی ہوئی
06:01فضول بات یہ سب ایموی بنائی ہوئی باتیں ہیں
06:04اور ہم اس لیے بیٹھے ہوئے بھی نہیں ہیں
06:06آپ کی اطلاع کے لئے عرض کر دوں
06:07سنبل مسنوئے قفگی چہرے پر لاتے ہوئے بولی
06:10ایسی بات نہیں ہے تو جلدی یہاں ہوں
06:12شام میں مہندی ہے
06:13کیا مہندی پر ہم لوگ بغیر دھنکے پریکٹس کیے
06:16ڈانس کرنے کھڑے ہو جائیں گے
06:17حسان کے زور دینے پر
06:19ہرہ اور سنبل کو بھی پریکٹس کے لئے اٹھنا پڑا
06:22وہ ہمیں اندھی لگواتے ہوئے
06:23مسکراتے ہیں سب کا ڈانس دیکھ رہی تھی
06:25فرحانت نے پیار سے نورولین کا ڈپٹہ ٹھیک کیا
06:28مہندی کے فنکشن کی سب تیاریاں پوری ہیں علی بخش
06:31میر فاروق گارڈن کے پاس سے علی بخش سے بات کرتے گزرے
06:35جی صاحب سب تیاریاں مکمل ہیں
06:37آج شام مہندی کی تقریب کی خوب رونقے لگیں گی زمان ہاؤس میں
06:42میر فاروق نے بے توجہ سا ہو کر علی بخش کا جواب سنا
06:46کیونکہ انہیں دور ماہیوں کی دلہن بنی بیٹھی
06:48اپنی بیٹی نظر آ گئی
06:50وہ چلتے چلتے رک گئے
06:52ڈانس اور گہما گہمی میں مگن وہاں نورولین سمیت
06:55کسی بھی فرد نے انہیں نہیں دیکھا تھا
06:57مگر ان کی نظریں ماہیوں کی دلہن بنی اپنی بیٹی پر جمی تھی
07:00انہیں بیٹی کے چہرے پر پھیلی
07:02سچی خوشی اور مسکراہت بھی نظر آ رہی تھی
07:05وہ وہاں سے آگے بڑھنا بھول گئے
07:08علی بخش نے ایک نظر ان کی طرف دیکھا
07:09وہ ان کی دلی کیفیت
07:11خوشی اداسی سب کچھ سمجھ رہا تھا
07:14تمہیں نور کی پیدائش یاد ہے علی بخش
07:17میر فاروق علی بخش سے مدھم آواز میں بولے
07:19جی صاحب چھوٹی سی گڑیا سی پیدا ہوئی تھی اپنی بیبی
07:22ان کی پیدائش کی خوشی میں آپ نے کئی من مٹھائی بانٹی تھی
07:26اور گھر پر پورا مہینہ صدقہ اور لنگر کروایا تھا
07:30ایک مہینہ تک روز گھر پر صدقے کے بکرے زبا کرائے تھے آپ نے
07:33بیبی کے نام پر کوف صدقہ خیرات اور لنگر کروایا تھا آپ نے
07:36علی بخش نے سر ہاں میں ہلایا
07:38وہ محبت برے لائجے میں جواباً بولا
07:41اور آج وہی ننی سے نور الہین اتنی بڑی ہو گئی علی بخش
07:44کہ بیا کے اپنے گھر جانے کی تیاری کر رہی ہے
07:47میر فاروق جذباتی انداز میں بولے
07:50آج مہندی کل شادی
07:52کل نور اس گھر سے چلی جائے گی علی بخش
07:55آج نور کا اس گھر میں یہ آخری دن ہے
07:57ان کی آنکھوں میں اداسی تھی
07:59آپ تو باپ ہیں صاحب
08:00آپ جتنی محبت تو بیبی سے کوئی نہیں کر سکتا
08:03پر میرا دل بھی ایسا اداس ہو رہا ہے
08:05سوچ سوچ کر کہ ہماری بیبی
08:07اپنے گھر سے چلی جانے والی ہے
08:08علی بخش بھی جذباتی ہو کر بہت اداسی سے بولا
08:12اپنے مالک اور اس کی بیٹی پر وہ جان چھڑکتا تھا
08:15اب میرے بیبی کہنے پر کون چڑھا کرے گا
08:18اب کون مجھ سے
08:19آپ ہر وقت میرے سر پر کیوں سوار رہتے ہیں
08:21کاکا جان
08:22مجھے میرے دوستوں کے سامنے شرمندہ کروا دیتے ہیں
08:25کسی وقت مجھے اکیلا بھی چھوڑ دیا کریں
08:27کہہ کہہ کر لڑا کون کرے گا
08:29علی بخش جیسے مضبوط
08:31سخت دل اور بے رہم انسان کی آنکھیں
08:33اس وقت نم تھی اور آواز بھرا گئی تھی
08:36بیبی تو ہم سب کو اداس کر کے چلی جائے گی صاحب
08:40وہ جیب سے رومال نکال کے
08:41آنکھوں کے کناروں کو خوش کرنے لگا
08:43بیٹی کا باپ ہونا آسان نہیں
08:45علی بخش
08:45اپنے دل کا ٹکڑا اپنی جان نکال کے
08:48کسی اور کو سوپ دینا
08:49بیٹی کو رقصت کرنے کے لیے پہاڑ جتنا بڑا
08:52اور مصبوط دل چاہیے ہوتا ہے
08:54علی بخش
08:54وہ نورولین کو نظروں میں رکھے ہوئے تھے
08:57پتہ نہیں کل میں اسے رقصت کس طرح کر پاؤں گا
09:00پتہ نہیں میں نور کے بغیر
09:01اس گھر میں تنہا کیسے رہ پاؤں گا
09:03ساجد امان کے گھر آیا ہوا تھا
09:06وہ دونوں گارڈن میں چیئرز پر آمنے سامنے بیٹھے تھے
09:09سامنے میز پر چائے کے کپ اور دیگر لواز مات بھی رکھے ہوئے تھے
09:13اس کا آج بھی وہی شروار قمیز والا ہلیا تھا
09:16اپنی بات چیت چلنے پھرنے
09:18اٹھنے بیٹھنے کھانے پینے
09:20کسی بھی انداز سے وہ امان کا دوست نہیں لگتا تھا
09:23اس کا سارا کا سارا انداز کافی زیادہ دیسی اور پینڈو خسم کا تھا
09:27مگر دل کا وہ بہت کھرا
09:28مکلس اور پیار کرنے والا انسان تھا
09:31ایسے یار تجھے تیرے چاچا کی بیوی کا پیسہ بڑا راس آیا ہے
09:34گھر بھی بڑا شاندار بنایا تُو نے
09:36ساجد چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے
09:38امان کے شاندار گھر کو
09:40تعریفی نظروں سے دیکھتا ہوا بولا
09:42بنایا نہیں بنا بنایا خریدہ ہے
09:44امان سنجیدگی سے بولا
09:46اچھا اب تُو گھر کی باتیں چھوڑو
09:48یہ بتاؤ تمہیں میری بات سمجھ میں آگئی ہے یا نہیں
09:50ہاں یار سمجھ آگئی ہے تیری بات
09:53ہو جائے گا سب کام
09:54میرا نام کہیں نہیں آنا چاہیے ساجد
09:56کارٹیج کی خریدار کے طور پر سامنے صرف تم رہو گے
09:59مجھے کارٹیج ہر قیمت پر خریدنا ہے ساجد
10:02جتنی بڑی سے بڑی قیمت لگاؤ
10:04لگا دو لیکن اسے قرید لو
10:06او یارہ فکر نہ کر
10:08جیسا تُو چاہتا ہے
10:09ویسا ہی ہوگا ساجد نے مسکرا کے
10:12سے یقین دہانی کروائی
10:13بس پھر اب تم اپنی فیملی کے ساتھ مری جانے
10:16کے تیاری کرو وہاں جا کے اپنا نیا
10:18ریسٹ ہاؤس سمالو یار تُو نے
10:20اتنا پیسہ مری میں میرے لئے ریسٹ ہاؤس
10:22قریدنے پر لگا دیا مجھے
10:24اس کام کا کوئی تجربہ بھی نہیں ہے
10:26اگر میں گیسٹ ہاؤس اچھا نہ چلا سکا
10:28تو تیرا سارا پیسہ ڈوب جائے گا
10:30ساجد فکر منسہ ہوا تھا
10:32اس بات کی تم فکر نہ کرو ساجد
10:35پہلی بات مجھے پتا ہے
10:36کہ تم کتنے مہنتی ہو
10:38گیسٹ ہاؤس چلا لوگے
10:39لیکن اگر اچھا نہ بھی چلا تو بھی کوئی ٹینشن نہیں
10:42جواون وہ پر سوچ سے انداز میں
10:45گہرے لہجے میں بولا
10:46میں نے تمہارے ایکاؤنگ میں پیسے بھی ڈلوا دی ہیں ساجد
10:49تمہیں اب کسی طرح کی کوئی
10:50مالی پریشانی نہیں ہوگی
10:52یار تو یہ سب نہ بھی کرتا
10:55میں نے تب بھی تیرے کام آنا تھا
10:57ہم یاروں کے یار ہیں جگر
10:58دوستی نبانے والے لوگ ہیں
11:00تو پرانا یار ہے میرا
11:02ساجد نے بولتے ہوئے اس کے کندے پر ہاتھ رکھا
11:04مجھے پتا ہے ساجد
11:06تب ہی تو تم پر بھروسہ کر کے
11:08اپنا اتنا اہم کام تم سے کروا رہا ہوں
11:10ایک لمحے کے توقف کے بعد
11:12وہ پھر سے ساجد کو سمجھاتے ہوئے بولا
11:14بس تم نے اس بات کا خیال ہمیشہ رکھنا ہے
11:16کہ وہاں کہیں بھی میرا نام نہ آئے
11:18نہ کارٹیج کی خریداری میں
11:19نہ ریسٹ ہاؤس میں
11:21دونوں جگہ مالک تم ہی ہوگے ساجد
11:23ساجد نے سمجھتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا
11:26مری سے تقریباً دھائی گھنٹے کی
11:28ڈرائیف پر ہے دریاباق
11:29جب ہم کارٹیج خرید لیں گے
11:31تو بعد میں اس کی دیکھ بھال کے لیے
11:32وہاں جانا آنا
11:33تمہارے لیے آسان رہا کرے گا
11:35اس لیے تم مجھے مری میں سیٹ کروا رہا ہے نا
11:38تاکہ مجھے دریاباق سے قریب رکھ سکے
11:40ساجد کے سوا پر سے
11:42سنجیدگی سے سر ہاں میں ہلایا
11:43یار اس جگہ میں ایسا کیا ہے
11:45تجھے اس کارٹیج میں اتنی دلچسپی کیوں ہے
11:48مجھے ابھی بھی یاد ہے
11:49تو مجھے کالج کے دنوں میں بھی
11:50کئی بار ادھر دریاباق لکے گیا تھا
11:52ساجد کے انداز میں حیرانی تھی
11:55امان کی دریاباق کے اس کارٹیج میں
11:57اس قدر دلچسپی
11:58اس کی سمجھ سے باہر تھی
11:59امان جواباں خاموش رہا
12:02پہلی دفعہ تو میں یہ سمجھاتا
12:04تو پہاڑوں پر گھومنے پھرنے آیا ہے
12:05پر تو نے تو ادھر کسی کارٹیج
12:07کسی ہویلی کو اور کسی بڑھے بابا کو
12:09ڈھونڈنا شروع کر دیا
12:11میں کچھ پوچھتا تھا
12:12تو تو بزادہ بتاتا نہیں تھا
12:14پر مجھے لے کے کوئی پانچ چھ بار
12:16تو تو دریاباق ضرور گیا تھا پنڈی سے
12:18ان تین سالوں میں
12:19ساجد یاد کرتے ہوئے بولا
12:21پنڈی سے ویگنوں میں خوار ہوتے
12:23ہم کوئی پانچ چھ گھنٹے میں
12:24دریاباق پہنچتے تھے
12:25پر نوجوانی کے دن تھے یار
12:27اس آوارہ گردی میں بھی بڑا مسا آتا تھا
12:29وہ ہسا
12:30امان کے چیرے پر گہری سنجید کی
12:33اور دکھ بکھر گیا
12:34یاد ہے دس سال پہلے
12:35جب ہم پہلی بار وہاں گئے تھے
12:37مجھے اس کوٹیج سے کیسا ڈر لگا تھا
12:39اور تو
12:39تو تو وہاں جم کے ہی کھڑا ہو گیا تھا
12:41وہاں سے ہلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا
12:44ساجد نے ایک لمحے توقف کیا تھا
12:46ویسے یار
12:47تو اب تو بتا دے
12:48وہاں ایسا کیا ہے
12:49تو وہ کوٹیج کیوں خریدنا چاہتا ہے
12:51عجیبی ویران سا بھود بنگلا ہے
12:53اسے خرید کے تجھے کیا ملے گا
12:55ساجد اس کے سوال کر رہا تھا
12:57مگر اس کا ذہن ماضی میں کھو گیا تھا
13:00یہ دس سال پہلے کی بات تھی
13:01جب وہ ایف ایس سی میں تھا
13:02اور کالج میں ساجد کے ساتھ پڑھتا تھا
13:04راولپنڈی میں اس کے بال
13:06ذرا لمبے چھولڈرز تک تھے
13:08آنکھوں پر بڑے سے فریم والا نظر کا چشمہ
13:11اور بالوں کا کلر بھی اب سے مختلف تھا
13:13تب وہ بلکل دبلہ پتلا سا لڑکا تھا
13:16وہ جینز اور ٹی شرٹ میں تھا
13:17اور ساجد شلوار خمیز میں
13:19وہ ساجد کے ساتھ دریا باغ آیا تھا
13:21اپنے گھر
13:22اپنے کوٹیج
13:23وہ برسوں بعد اپنے گھر کے سامنے کھڑا تھا
13:26اس کا پیارا گھر کھندر سا ہو گیا تھا
13:28قدیم طرز تعمیر والی لکڑی کی بار
13:31جو گھر کی حدود کے تائین کے لیے لگائی گئی تھی
13:33وہ اس سے اندر آ گیا
13:34بار سے اندر گھانس تھی
13:36جو کہ بہت اوپر تک اگ آئی تھی
13:38اور جو بہت بے ترتیب تھی
13:40کبھی اسے ایک لون یا باق کی طرح
13:43سوار کے رکھا گیا تھا
13:44اب کوئی توجہ نہ ملنے کی وجہ سے
13:46وہاں ویرانی تھی
13:47سب طرف سوکھے پتے اور جنگلی پودے
13:50نکلے ہوئے تھے
13:52اس گھانس والے ایریا سے آگے کچھ سیڑھیاں تھی
13:54جنہیں وہ چڑھ کر اوپر آیا
13:56سیڑھیوں کے بعد
13:57اور مین دروازے سے پہلے
14:00درمیان میں ایک پیسج سا تھا
14:02یہ لکڑیوں اور پتھروں سے بنا
14:04دو منزلہ کارٹیج تھا
14:05زیادہ بڑا نہیں تھا
14:06چھوٹا سا تھا
14:08اندر بس تین چار کمرے ہی تھے
14:10کارٹیج کی موجودہ حالت
14:12بہت قستہ تھی
14:13پیسج میں لکڑی کی بینچ سی بنی تھی
14:16اب وہ دھور مٹی سے اٹی ہوئی تھی
14:18اس پر سوکھے پتے
14:19اور جھاڑیاں گری پڑی تھی
14:21لیکن آہستہ آہستہ
14:22ہر چیز سے گرد ہٹنے لگی
14:24قستہ حال کارٹیج کی حالت بدل گئی
14:26وہ بالکل نیا نیا بنا
14:28اور خوبصورت نظر آنے لگا
14:29اسے وہاں اس بینچ پر
14:31عبداللہ اور ہمیرہ ساتھ بیٹھے نظر آئے
14:33وہ دونوں ساتھ بیٹھے چائے پی رہے تھے
14:35ہمیرہ عبداللہ کی کسی بات پر
14:37کھل کھلا کے ہسی
14:38تو منظر ہوا میں تحریل ہو گیا
14:40اور وہ گم سم سا دور کھڑا
14:41اس قستہ حال بینچ کو دیکھنے لگا
14:44ساجد اس کے ساتھ آیا تھا
14:46مگر وہ کارٹیج کے اطراف
14:47گھوم پھر کے آس پاس کی جگہیں دیکھنے میں لگا ہوا تھا
14:50اس کے کانوں میں اپنی
14:53ہمیرہ کی
14:53عبداللہ کی
14:54اور عائشہ کی ہسی کی آوازیں گوچی
14:56تو اس نے پلٹ کے گارڈن کی جانب دیکھا
14:58گارڈن میں وہ عبداللہ کے ساتھ
15:00فوٹبال کھیل رہا تھا
15:02شیرو خوشی سے بھوکتا ان لوگوں کے ساتھ ساتھ دور رہا تھا
15:05اس کی بول گارڈن میں
15:06بہت اونچے لمبے قدیم
15:08برگت کے درخ سے ٹکرائی تھی
15:10پاپا میرا گول ہو گیا میں جیت گیا
15:12وہ فوٹبال کے ٹکراتے ہی
15:14خوشی سے چلایا
15:15مانی یہ بیمانی ہے بھائی
15:17فوٹبال تیزی سے آئے تھی
15:18اس کے پیرو سے ٹکرا جانے والی تھی
15:20پاپا یہ برگت کا درخ میرا گول تھا نا
15:23اپنی پرجوش آواز میں
15:24اس کے کانوں میں گونجی
15:26تو اس کی آنکھوں میں آنسو بھرائے
15:27اس نے گارڈن میں نظرے دوڑا کے
15:30وہ برگت کا درخت ڈھوننا چاہا
15:31مگر اب وہاں اس کی جگہ کوئی درخت بھی نہیں تھا
15:34اچانک اس کی نظر
15:36کارٹیج کے بار کے باہر سے
15:37چلوار قمیز میں ملبوس
15:38ایک مقامی شخص پر پڑی
15:40جو وہاں سے گزر رہا تھا
15:42اس نے پہاڑی طرز کی ٹوپی
15:43سر پر پہن رکھی تھی
15:45اور گرم شال اوڑ رکھی تھی
15:46بابا سنیے
15:48چاچا جی
15:48اس نے بے اپتیار آواز دی
15:51وہ تیزی سے چلتا
15:52بار کا دروازہ کھول کے باہر آیا
15:54ہاں بیٹا بولو
15:55اس آدمی نے رکھ کے اس کو دیکھا
15:57اس کا لبو لہجہ پوٹوہاری
15:59بولنے والا جیسا تھا
16:00یہاں اس کا کارٹیج میں
16:02اب کون رہتا ہے
16:03کارٹیج کی طرف
16:04اشارہ کر کے اس نے پوچھا
16:05کوئی شہری لوگ ہیں بیٹا
16:06پہلے لاہور میں رہتے تھے
16:08تو گرمیوں کی چھٹیوں میں
16:09ادھر آ جاتے تھے
16:10اب جب سے امریکہ چلے گئے ہیں
16:11کافی سالوں سے ادھر نہیں آئے
16:13کئی سالوں سے بند ہی پڑا ہے یہ گھر
16:15اس شخص نے لاعلمی ظاہر کرتے
16:17جتنا اسے پتہ تھا
16:18اتنی بات بتا دی
16:19کارٹیج کے خستہ حالت ہی بتا رہی تھی
16:22کہ وہاں سالہ سال سے
16:23کوئی بھی نہیں رہا ہے
16:24یہاں ایک برگت کا درق تھا نا
16:26وہ کہاں گیا
16:27اس نے بار سے اندر
16:28اپر تک اگی گھانس کے ایک کونے کی طرف
16:30اشارہ کر کے پوچھا
16:31مجھے نہیں معلوم بیٹا
16:33کٹوا دیا ہوگا مالکوں نے
16:34مقامی شخص نے شانے اچھکا کر جواب دیا
16:37کافی سال پہلے یہاں ایک
16:39فورسٹ
16:40آفیسر رہا کرتے تھے نا
16:42عبید اللہ خان
16:42وہ کہاں چلے گئے
16:44ان بیچاروں کا تو عرصہ ہوا انتقال ہو گیا بیٹا
16:47وہ مقامی شخص افسور سے گردن ہلا کے بولا
16:49بڑا برا کار حادثہ تھا
16:52سارا خاندان مر گیا تھا
16:53ان کے انتقال کے بعد یہ گھر کافی عرصے خالی ہی پڑا رہا
16:57ان کے مرنے کے بعد اس گھر کے مالک کو بھی
16:59شاید یہاں آکے رہتے کوئی وہم آتا ہوگا
17:02اس لیے پھر اس نے یہ مکان کسی اور کو بیش دیا تھا
17:05اس کی آنکھوں میں غم و غصہ بھرا
17:07اس کے ماں باپ کے قتل کو آج بھی حاصل سمجھا جاتا تھا
17:11غصے سے اس نے اپنی مٹھیاں بھیچ لیں
17:14دیکھا نہیں کیسی ویرانی ہے یہاں پر
17:17علاقے کے لوگ تو ادھر آتے بھی نہیں ہیں
17:19ڈڑتے ہیں
17:19وہ شخص ویران انسان پڑے
17:21خالی قستہ حال کارٹیج کی طرف اشارہ کر کے بولا
17:24پر تم ہو کون بیٹا
17:26یہاں
17:27کہ تو نہیں لگ رہے شہری لگتے ہو
17:29بولتے بولتے اس آدمی کو اچانک خیال آیا
17:31میں میں وہ
17:33وہ میں اس آدمی کو
17:35کہ اس اچانک سوال پر وہ ایک لمحے کے لئے گڑھ بڑھایا
17:38ایک بار بچپن میں یہاں انگھوم نے آیا تھا
17:40اپنے گھر والوں کے ساتھ
17:41تو ان فورسٹ آفیسر اور ان کی فیملی سے ملے تھے ہم
17:44یہاں سے گزر ہوا تو خیال آیا ان لوگوں کا
17:47اس نے جلدی سے بات بنائی
17:48اس شخص نے سمجھ لینے والے انداز میں گردن ہلائی
17:51اس آدمی کو امان کے جھوٹ کا یقین آ گیا
17:54ان کا ایک ملازم بھی تھا نا
17:56عبد الرحمان بابا
17:57وہ اب کہاں ہوتا ہے
17:58اس نے عبد الرحمان بابا کے بارے میں پوچھا
18:02مجھے نہیں پتا بیٹا
18:03وہ ادھر سے کدھر گیا
18:04زندہ بھی ہے کہ مر گیا کچھ نہیں معلوم
18:06اس شخص نے لائمی سے گردن نفی میں ہلائی
18:09بیٹا یہاں زیادہ دیر نہ رکو
18:11علاقے کے سب لوگ کہتے ہیں یہاں سایہ ہے
18:13سارے کہتے ہیں یہاں ابھی بھی سرکاری افسر صاحب
18:16اور ان کی بیوی بچوں کی روحیں بھٹکتی ہیں
18:19تم بھی یہاں سے چلے جاؤ
18:20وہ آدمی خوف سے چھڑ چھڑی سے لیتا ہے
18:22اسے نصیت کرتا وہاں سے چلا گیا
18:24امان نے دکھ پر انداز میں گردن ہلائی
18:27اس کے جانے کے بعد وہ دوبارہ لکڑی کی بار کے اندر آ گیا
18:30اس نے ایک نظر کارٹیج کے خستہ حالت امارت کی طرف دیکھا
18:34وہ سیدھا ہوتے ہوئے درو دیوار
18:36دروازے کھڑکیاں اس کی آنکھوں میں نمی اتری
18:39وہ جھاڑیوں کارٹوں اور گھانس پر راستہ بنا کے چلتا آگے بڑھا
18:43اور وہ کارٹیج کے بیک یارٹ میں آ گیا تھا
18:46ایک طرف لکڑی کی دیوار کے بعض پودے اگے ہوئے تھے
18:49جو زمین سے بڑھتے بڑھتے آدھی دیوار تک آ گئے تھے
18:52یکا یک اس میں سالوں پہلے کا منظر اُبھڑنے لگا
18:55دس سال آمان اس کی نظروں کے سامنے
18:58وہاں اسی لکڑی کی دیوار کے پاس
19:00نیچے فرش پر بیٹھا تھا
19:01اس کے پاس ڈروائنگ بنانے کا سامان رکھا تھا
19:05وہ وڈ کارونگ نائف سے
19:07لکڑی کو کھرچ کے اس پر کوئی نقش و نگار بنا رہا تھا
19:11اس کا انداز بڑا مصروف سا پکے آرٹس جیسا تھا
19:14یہی سے کارٹیج کے کچن میں ایک کی کھڑکی بھی کھلتی تھی
19:17اور باہر کی طرف کھلنے والا ایک دروازہ بھی کچن سے نکلتا تھا
19:20اس کو کچن کی کھڑکی سے ہمیرہ نظر آ رہی تھی
19:23وہ ایک بڑے سے باول میں جس میں میدہ شکر پہلے سے ڈلے تھے
19:26اس میں انڈے توڑ توڑ کر ڈال رہی تھی
19:28مانی تم کہا ہو
19:30میں چوکلٹ کیک بنا رہی ہوں
19:31تم جلدی سے نہا کے آ جاؤ
19:32پاپا بھی آتے ہوں گے
19:34انہوں نے انڈے توڑتے ہوئے اس کو آواز لگائی
19:37ماما تھوڑی دیر بعد نہ ہوں گا میں
19:39پلٹے بغیر اس نے جواب دیا
19:41تم کر کیا رہے ہو
19:42ہمیرہ نے کھڑکی سے جھانکا
19:43وہ انہیں دیوار پر کچھ کاروائی کرتا نظر آیا
19:46امان یہ کیا کر رہے ہو
19:47ہمیرہ کچن کا باہر کھلنے والا دروازہ کھول کے
19:50فوراں باہر آئیں
19:51ماما دیکھیں میں نے کیا بنایا ہے
19:53وہ فقریہ انداز میں بولا
19:54اپنے آرٹ کی داد لینا چاہتا تھا وہ
19:57دیوار خراب کر دی ہے یہ کہو
19:59پاپا دیکھیں گے تو کتنا خفا ہوں گے
20:01ہمیرہ نے قفگی سے سے گھورا
20:03آپ دیکھیں تو صحیح ماما
20:05اس نے سرار کیا
20:06ہمیرہ نے آگے بڑھ کے دیکھا
20:07وہاں ان سب کے نام خوبصورتی سے کھودے گئے تھے
20:10درمیان میں مائے فیملی لکھا تھا
20:12اور پھر اس کے اٹھ گٹھ دائرے کی طرح
20:15ماما پاپا مانی آشو اور شیرو کے الفاظ
20:18انگریزی میں لکھے تھے
20:19اس نے سب کے نام بڑے خوبصورتی سے
20:22اور آرٹسٹک انداز میں لکھے تھے
20:24ہر نام کو دوسرے نام کے ساتھ
20:27ہاتھوں سے ہاتھ ملا کے
20:28کھود کے جوڑا تھا
20:30گویا یہ سمبلائز کیا تھا
20:32کہ وہ ساری فیملی ایک دوسرے کے ساتھ
20:34ہاتھ سے ہاتھ ملائے
20:35ساتھ تھے اور ہمیشہ ساتھ رہنے والے تھے
20:37بتائیں کیسا بنایا ہے میں نے
20:39پتا ہے آپ کو وڈ کرونگ کتنا مشکل آرٹ ہے
20:42اس نے ماں سے فقریہ انداز میں پوچھا
20:44مجھے سب پتا ہے
20:45پر اپنا گھر کوئی خود گندہ کرتا ہے کیا
20:48ہمیرہ اس کے آرٹ سے متاثر ہوئی تھی
20:50مگر اپنا روک رکھتی
20:52سنجید کی سے بولی تھی
20:53پر بنایا تو اچھا ہے نا ماما
20:55وہ اتنی معصومیت سے بولا
20:56کہ ہمیرہ اب کی بار بے ساکتا ہنستی
20:58مجھے خاموشی سے اس منظر کو
21:00اپنے سامنے دیکھ رہا تھا
21:02دیواناوار بھاگتا ہے اس دیوار کے پاس آیا
21:04لکڑی کی دیوار اب انتہائی قستہ حال تھی
21:07اور گندی میلی ہو چکی تھی
21:08برسوں سے یہاں سے کسی نے صفائی نہیں کی تھی
21:11دیوار پر اوپر تک جنگلی پودے
21:13جھاڑیاں اگے ہوئے تھے
21:15اس نے دیواراوار جنونی سے انداز میں
21:17دونوں ہاتھوں سے وہ پودے نوچنے
21:19اور ہٹانے شروع کر دیئے
21:20اس کوشش میں اسے کانٹے بھی چوبے
21:23مگر اس نے کسی بھی چیز کی پرواہ نہیں کی
21:25اس نے دیوار پر ہاتھ پھیر پھیر کے
21:27گندھول مٹی جالے سب صاف کیے
21:30آہستہ آہستہ اس کی نظروں کے سامنے
21:32اس کا لکڑی پر کھودا وہ ڈیزائن
21:34اور وہ الفاظ اُبھرنے شروع ہو گئے
21:36وہ خدای اب مدھم پڑ گئی تھی
21:38مگر بحرال نظر آ رہی تھی
21:40مائے فیملی کے الفاظ پڑھتے ہوئے
21:43اس کی آنکھوں میں آنسو اُبھر آئے
21:45وہ پر نم آنکھوں سے
21:46ماما پاپا آشو کے ناموں کو دیکھ رہا تھا
21:49تب ہی اسے ڈھونڈتا
21:51ساجد وہاں آیا
21:51لو تو ادھر بیٹھا ہے میں نے اس بوت منگلے میں
21:54سب جگہ تجھے تلاش کر لیا
21:56ساجد کی آواز سن کر اس نے جلدی سے اپنی آنکھوں کو رگڑا
21:59اور پھر خود کو نارمل کر کے
22:00اس نے گردن گھما کے ساجد کو دیکھا
22:02بس ایسے ہی ادھر آ گیا تھا ساجد
22:05وہ مددہ مواز میں بولتا
22:06ہاتھ چھاڑتا واپس اٹھ کھڑا ہوا
22:08تو یہاں
22:09یہیں اس گھر پر رک گیا ہے یار
22:11عجیب بود منگلہ ہے یہ
22:12چل یہاں سے چل
22:14مجھے اس جگہ سے عجیب سی وحشت ہو رہی ہے
22:17دیکھ لینا اندر کوئی چڑیل
22:18یا پچھل پہلے ضرور رہتی ہوگی
22:20ساجد کو اس گھر کی ویرانی سے ڈر لگ رہا تھا
22:23وہ ایک قوفزدہ نگاہ
22:24کوٹیج کے درو دیوار پر ڈالتا
22:25اس سے بولا
22:26اتنا پیارا پہاڑی علاقہ ہے
22:28چل کہیں اور چل کے گھومتے ہیں
22:30ہوسٹل سے چھٹ کے آئے ہیں
22:31تھوڑی سیار تو کریں
22:32تو تو ادھر ہی اٹک گیا ہے
22:35جا کے ویسے بھی
22:36ہوسٹل میں سزا ملنی ہے
22:37مرغہ بننا ہے
22:38ابھی تو مزا لے لیں
22:39اپنی بات پر ساجد ہنسا
22:41مگر وہ اس کی بات
22:42بے دیہانی سے سنتا
22:43نے اس گھر کو
22:45اس کوٹیج کو
22:46ہسرس سے دیکھ رہا تھا
22:47ساجد زبردستی
22:48اس کا ہاتھ پکڑ کے
22:49سے وہاں سے لے جانے لگا
22:50ایک تو یہ تیری بڑی
22:52عجیب عادت ہے
22:53بیٹھے بیٹھے پتہ نہیں
22:54کہاں خیالوں میں کھو جاتا ہے
22:55ساجد کی آواز
22:56اس کو ماضی سے کھینچ کر
22:58واپس حال میں لائی تھی
22:59ایف ایس سی کے دنوں میں بھی
23:01تو یہی کرتا تھا
23:02بیٹھے بیٹھے پتہ نہیں
23:03کہاں گھم ہو جاتا تھا
23:04ٹھیک کہہ رہے ہو یار
23:05تھوڑا سا اب نارمل ہوں میں
23:07اس نے اداسی بھری
23:08گہری ساس لیا
23:09اور افدردگی سے بولا
23:10پاس سن
23:11تو ابھی بھی سوتے میں
23:12چیخیں مارتا ہے
23:13نہیں
23:13اب بڑا ہو گیا ہونا
23:15وہ بظاہر ہسا
23:16مگر اس کی حسیم اداسی تھی
23:18یاد ہے تب سوتے میں
23:19تو چیخیں مارتا تھا
23:20اور ڈر میں جاتا تھا
23:21پتہ نہیں کیا کیا
23:22بولتا رہتا تھا
23:23سوتے میں چلاتا تھا
23:24میں اسے نہیں چھوڑوں گا
23:25کسی کا نام بھی لیتا تھا
23:26تو
23:26اس نے رکھ کر
23:27نام یاد کرنا چاہا
23:29کوئی میر کر کے
23:30کسی کا نام لیتا تھا
23:32تو
23:32میں اسے نہیں چھوڑوں گا
23:33میں میر پتہ نہیں
23:34کیا نام تھا
23:35اس کا پورا
23:35اسے نہیں چھوڑوں گا
23:36بولتا تھا
23:37ارے ہاں
23:38یاد آ گیا
23:39تو مجھے پنڈی لے کے
23:40پنڈی سے دو بار
23:42کراچی بھی تو لے کے آیا تھا
23:43means to be said to me.
24:13foreign
24:20foreign
24:34foreign
24:38foreign
24:42foreign
25:10foreign
25:12Oh
25:42Benwaya kurta shalwar hi phean ke aunga
25:44Sajid haamosh baita
25:45Iski phone per honne wali gufetguh sun raha tha
25:48Isne nuruland se bata karene ke liye
25:50Sajid ke paas se uchne ki košish nahi ki thi
25:52Westcoat na bool jana
25:54Woh chmak dhmak wali green or golden
25:56Isne beechargi wari shakal banai
25:58Haan wohi
25:59Khaberdar kohi nukra nahi
26:00Tum wohi sab phean kar auge
26:02Jho hemne tumhare liye
26:03Aaj ke din pheanne ke liye fharida tha
26:05Ok
26:06Jaisa aap korder maim
26:08Isne misnui khushi ar mohobat ka hisar kiya
26:11Jaldi ao, nuruland muskura ke boli
26:13Phone man kertte huwe
26:14Iske chahre pere se
26:15Wohh masnui, tari kardha, khushi, muskura hat
26:18Sab rukhsat ho gai thi
26:19Sajid na beghor isko dekha
26:21Lagtta hai honne wali bhabi ka phone tha
26:23Haan wohi thi
26:24Wiesse yaar shadhi kahan kar raha hai tu
26:26Tumne to ye bhi nahi بتa ya
26:28Honne wali bhabi
26:29Tere kishi milne junne wali family ki hai
26:31Kishi ucchi jegah hat maara hai na tu nne
26:33Tubhye aapne khanudani raiis honne ka impression
26:35Bhi wahan jamaar rukha hai
26:36Mujhe lagtta hai bhabi kishi bade admi ki bieťi hai
26:39Sajid na tajasus se poochha
26:41Kyunque usse aman ka
26:43Uski honne wali bievi se bat karne ka
26:45Anandaas kuch ghar maamooli
26:46O purisarar sa laga tha
26:47Amir faru usama ki bieťi hai
26:49Aman sanjid ki se bola
26:51Kya?
26:52Sajid ka haras se moho kula kha kula raha gya
26:54Mein amir faru usama ki ekloti bieťi se shadhe kar raha ho
26:57Yehii بتa ya hai
26:59Menei tumhe
26:59Aman ka anandaas bada pura sukun
27:01O mutmain sa tha
27:02O ucchi tarah jantta tha
27:04Aagis ni kiya or kishe karna tha
27:05O sajid ko hiran paryshan chhoڑ kar
27:08Apeni mehindi pa chala aya
27:09Khob tayar ho kar
27:10Mehindi ka dulhaa ban kar
27:12O dulhaa joh apeni honne wali shadhi ke hawaalese
27:14Beepanah khush tha
27:15O tna khush ke
27:16Meir faruq
27:17Farhana abuha ji
27:18Yaha tuk ke mehmano ko bhi
27:20Noruland ke honne wali
27:21Dulhaa ki
27:21Beekarariya
27:22Or beechainya
27:23Nazir a raha raha thi
27:24Like, comment, share
27:26And share
27:27And subscribe
27:29If you like, comment, share
Comments

Recommended