سورۃ طٰہٰ کی آیات 90 تا 104 (رکوع نمبر 5) میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے بچھڑے کی پوجا کے واقعے اور حضرت ہارون علیہ السلام کی نصیحتوں کا ذکر ہے۔ یہ آیات بنی اسرائیل کی آزمائش، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی واپسی پر ان کی ناراضگی، اور سامری کے فتنے کی تفصیلات بیان کرتی ہیں۔
---
📖 آیات کا خلاصہ اور تفسیر:
آیت 90: حضرت ہارون علیہ السلام نے قوم سے فرمایا کہ تم اس بچھڑے کے ذریعے آزمائش میں ڈالے گئے ہو، اور تمہارا رب رحمٰن ہے، لہٰذا میری پیروی کرو اور میرے حکم کی اطاعت کرو۔
آیت 91: قوم نے جواب دیا کہ ہم اس کی عبادت سے باز نہیں آئیں گے جب تک موسیٰ واپس نہ آئیں۔
آیات 92-94: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے واپسی پر حضرت ہارون علیہ السلام سے پوچھا کہ جب تم نے قوم کو گمراہ ہوتے دیکھا تو انہیں روکا کیوں نہیں؟ حضرت ہارون نے جواب دیا کہ میں نے ڈر کے مارے مداخلت نہیں کی کہ کہیں تفرقہ نہ پڑ جائے۔
آیات 95-97: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سامری سے پوچھا کہ اس نے یہ کیا کیا؟ سامری نے جواب دیا کہ اس نے ایک مٹھی مٹی فرشتے کے قدموں سے لی اور اسے بچھڑے میں ڈال دیا۔ حضرت موسیٰ نے اسے سزا دی اور بچھڑے کو جلا کر راکھ کر دیا۔
آیات 98-104: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف وہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ قیامت کے دن لوگ کہیں گے کہ ہم دنیا میں صرف ایک دن یا اس سے بھی کم وقت رہے۔
---
🎥 ویڈیوز برائے تلاوت، ترجمہ اور تفسیر:
1. ڈاکٹر اسرار احمد کی تفسیر (آیت 90): ویڈیو دیکھیں
2. ڈاکٹر اسرار احمد کی تفسیر (آیت 104): ویڈیو دیکھیں
3. اردو ترجمہ اور مختصر تفسیر از مولانا علی احمد: ویڈیو دیکھیں
Be the first to comment