سورۃ المؤمنون (آیات 33 تا 50، رکوع نمبر 3) کی مختصر تفسیر ---
📖 مختصر تفسیر: سورۃ المؤمنون (آیات 33-50، رکوع 3)
آیات 33-34:
مخالفین کہتے ہیں کہ یہ شخص (نبی) تمہاری طرح کا انسان ہے، کیسے اللہ کی طرف سے پیغام لے سکتا ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر تم اس کی اطاعت کرو گے تو نقصان اٹھاؤ گے۔
آیات 35-38:
کفار قیامت اور دوبارہ زندہ ہونے کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ ان کا عقیدہ تھا کہ مرنے کے بعد انسان مٹی ہو جاتا ہے اور دوبارہ زندگی ممکن نہیں۔
آیات 39-41:
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو صبر کرنے کا حکم دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ عنقریب یہ لوگ پچھتائیں گے۔ آخر کار اللہ کی پکڑ آئی اور وہ لوگ تباہ کر دیے گئے۔
آیات 42-44:
اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے بہت سی قوموں کو ہلاک کیا اور ہر قوم کی طرف رسول بھیجے، مگر وہ انکار کرتے رہے اور ان کی جگہ دوسرے لوگوں کو آباد کر دیا گیا۔
آیات 45-48:
اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اللہ کا پیغام لے کر گئے مگر انہوں نے بھی تکبر کیا اور جھٹلایا۔
آیات 49-50:
اللہ نے حضرت موسیٰ کو کتاب (تورات) دی اور ان کی قوم کو نجات دی۔ پھر اللہ نے حضرت مریم اور ان کے بیٹے (عیسیٰ علیہ السلام) کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ان کی ماں کو ہم نے پاکیزہ بنایا اور ان کو ایک محفوظ جگہ میں رکھا۔
Be the first to comment