00:00حضرت شہباز کلندر ایک پرانے کنوے کے کنارے بیٹھے اللہ کی یاد میں مشغول تھے
00:05کہ اچانک ایک زخمی پرندہ کامتا ہوا ان کے قدموں میں آگرہ
00:10اس کے پر زخمی تھے
00:11سانس بے ترتیب تھی اور آنکھوں میں خوف تھا
00:15فوراں ہی ایک نوجوان شکاری
00:17وہاں پہنچا اور زور سے چلایا
00:19یہ میرا شکار ہے
00:21یہ مجھے واپس دو
00:23اس پر میرا حق ہے
00:24حضرت شہباز کلندر نے خاموشی سے اس نوجوان کو دیکھا
00:28کچھ نہ بولے
00:29بلکہ اپنی چادر کے اندر سے ایک روٹی نکالی
00:32جو وہ افتار کے لیے سنبھال کر بیٹھے تھے
00:34اور وہ روٹی نوجوان کے ہاتھ میں دے دی
00:37پرندے کو انہوں نے نرمی سے اپنے دامن میں چھپا لیا
00:40نوجوان نے حیرانی سے روٹی دیکھی
00:42پھر ان کے چہرے کو دیکھا
00:44اور کہنے لگا
00:45یہ تو میرے لیے زیادہ قیمتی ہے
00:47اگر آپ اتنے سخی ہیں
00:49تو میں آپ کو ہی کیوں نہ لوٹ لوں
00:50حضرت کلندر نے مسکراتے ہوئے فرمایا
00:53بیٹھا
00:54اگر تجھے لوٹنے کا ہی شوق ہے تو لے جا
00:57لیکن یاد رکھ
00:58کسی زخمی کی حفاظت کر لینا
01:00اس دنیا کی سب سے بڑی کمائی ہے
01:02نوجوان کے چہرے سے غرور دھول گیا
01:05اس کی آنکھیں بھر آئیں
01:06اس نے روٹی واپس کی
01:07زمین پر بیٹھا
01:09اور کہا
01:10مجھے بھی سکھا دیجئے
01:11رحم اور عزت کا وہ راستہ جس پر آپ چل رہے ہیں
Comments