00:00یہ بات ہے ائر 1812 کی جب ایک سوئس ایڈونچرر تریبین ڈیزرٹ سے بیس بدل کر گزر رہا تھا
00:07یوہن لٹویچ برکھارٹ نامی یہ ایڈونچرر راستہ بھٹک کر چٹانوں کے بیچ ایک پتلے راستے میں پہنچتا ہے
00:15قریب ڈیڑ کلومیٹر تک دونوں چٹانوں کے بیچ جلتے جلتے آخر کار راستہ تھوڑا چوڑا ہوا
00:22اور سامنے اس نے دیکھا لائن سٹون کے پہاڑ میں بنا ہوا ایک آلی شان سٹرکچر
00:28سدرن جارڈن میں واقعی یہ انشینٹ اسٹرکچر اس ویران لیکستانی وادیوں میں کس نے اور کیوں بنایا تھا
00:36127 فیٹ انچات یہ اسٹرکچر بنایا نہیں بلکہ پہاڑ پر تراشا گیا تھا
00:43آج اسے اربک میں خازنے کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے ٹریری یعنی جہاں پر خزانوں رکھا جاتا ہے
00:50شاندار پلرز پہاڑ کے باٹم سے اوپرتے ہیں اور ان کے ٹاپ پر بڑی نزاکت اور خوبصورتی سے تراشے گئے
00:58ڈیزائنز نمائیا ہے ایک بہت بڑی انٹرنس جو ایک کمرے کی اور لے کے جاتی ہے
01:04پر اس کمرے میں کسی قسم کے ڈیزائن نہیں بنائے گئے صرف پتھر کی نیچرل بیوٹی دیکھی جا سکتی ہے
01:11سو اس ایڈونچرر کو یہ منظر کافی ہران کن لگا تو اس نے چٹانوں میں مزید ٹیپ جانے کا فیصلہ کیا
01:19شاید وہ اتحاس کے کسی کھوے ہوئے شہر کو ڈوننے کے کافی قریب تھا
01:25آگے اس نے لگ بک چھ ہزار لوگوں کے بیٹھنے کے لیے ایک ٹیٹر دیکھا اور یہ بھی پتھر پر تراش کر بنایا گیا تھا
01:33ایک پاتھوے جو بہت بڑے مندر جیسے اسٹرکچر تک جا رہا تھا
01:38کچھ کھنڈرات جو اشارہ دے رہے تھے کہ یہاں کبھی کوئی شہر آباد تھا
01:43پہاڑوں کی انچائیوں پر بھی کئی منومنٹس بنے ہوئے دیکھے گئے
01:47بکھاٹ ایک ایسے شہر کے کھنڈرات دھون چکا تھا جس کی اتحاس میں کافی اہمیت تھی
01:54دو ہزار سال پرانا یہ شہر آج پیٹرا کے نام سے جانا جاتا تھا
01:58پر یہاں جو کوئی بھی بستے تھے وہ اس سوکے ریگستان میں بلا پانی کے گزارہ کیسے کرتے تھے
02:05چٹانوں کو تراش کر وہ اسٹرکچرز کیوں بناتے تھے
02:09اس ویران ریگستان میں ان کا کیا کام تھا اور سب سے بڑھ کر آخر ہو یہ سب چھوڑنے پر مجبور ہی ہوئے
02:18ناظرین سوئس ایڈونچرر نے جب یہ سب دیکھا تو اسے ریگستان میں رہنے والے ایک قبیلے کی کہانی یاد آ گئی
02:26اس نے سن رکھا تھا کہ ایریبین ڈیزرٹ میں ایک قبیلہ تھا جو چائنہ انڈیا ایجپٹ اور روم کے بیچ سلک اور مسالوں کی ٹریڈنگ کرتا تھا
02:35اور وہ اپنا خزانہ اونچی چٹانوں میں سراخ کر کے چھپایا کرتے تھے
02:40گریگ اور رومن سورسز میں ان لوگوں کا نام نیبیٹینز بتایا گیا ہے
02:46یہ کھانا بدوش قبیلے کے طور پر دو ہزار سال پہلے مشہور تھے اور یہ لوگ ریگستان میں ٹینٹس لگا کر رہتے تھے
02:54لیکن ٹینٹس میں رہنے والے لوگ پیٹرا جیسا اتنا شاندار شہر بنانے میں کیسے کامیاب ہوئے
03:01برگھارٹ کی اس ڈسکوری کے بعد پیٹرا کو انٹرنیشنل پریزنس ملنا شروع ہو گئی
03:07پوری دنیا سے آرگیولوجسٹ اور ہسٹورینز یہاں کا رخ کرنے لگے تاکہ اس انشینٹ مسٹری کو سلجایا جا سکے
03:15ظاہر ہے ایک سو ستائیس فٹ اونچی کنسٹرکشن اور وہ بھی کوئی معمولی نہیں بلکہ پتھر کو تراش کر بنانا کوئی عام سی بات نہیں ہے
03:24اس کے لیے ورگرز نے ضرور کوئی ٹیمپرلی اسٹرکچر کھڑا کیا ہوگا
03:30جیسے آج کل بھی آپ نے دیکھا ہوگا کنسٹرکشن کے دوران بلڈنگ کے اردھ گرد لکڑیوں کا ایک اسٹرکچر بنایا جاتا ہے
03:37جس پر ورگرز کھڑے ہو کر کام کرتے ہیں
03:40پر نہ صرف ٹریری بلکہ پیٹرا میں دوسرے اسٹرکچر پر بھی ایسے کوئی نشانات واضح نہیں ہے جو اس کی کنسٹرکشن کے بارے میں کوئی اشارہ دے سکے
03:50بہت ساری ریسرچ اور ایکسپریمنٹس کرنے کے بعد ریسرچر کو پیٹرا میں ہی ایک انکمپلیٹ اسٹرکچر بلا اور شاید اسی میں چھپا تھا اس کی کنسٹرکشن کا راز
04:02اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسٹرکچر کا صرف اوپر کا حصہ ہے اور باقی نیچے کا لائم سٹون کاٹا ہی نہیں گیا
04:11اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نیویٹینز کسی بھی اسٹرکچر کو اوپر سے بنانا شروع کرتے تھے
04:17ٹریریری کی کنسٹرکشن میں بھی پہلے وہ ساتھ والی چٹان پر چڑھے اور ایک ہوریزونٹل شافٹ لائم سٹون کے پہاڑ میں کھوٹتی
04:26اس شافٹ کے اندر کھڑے ہو کر وہ پلرز اور مختلف ڈیزائنز دراشتے اور پھر آہستہ آہستہ نیچے بڑھتے جاتے
04:34جب اوپر کا آدھا اسٹرکچر مکمل ہو جاتا تو نیچے پتھر کا ملبہ اتنا زیادہ جمع ہو جاتا
04:41کہ اب اس کی سلوپ پر چڑھ کر باقی آدھا اسٹرکچر آسانی سے کمپلیٹ کر لیتے
04:47دنیا بھر میں انشینٹ سائٹس پر کنسٹرکشن کا یہ طریقہ کہیں اور نہیں دیکھا گیا
04:53اس ٹرک کے بارے میں ریسرچرز کو اشارہ تب ملا جب انہوں نے امریکہ میں پیٹرا جیسا اسٹرکچر ہو بہو تراش کر بنایا
05:01نیویڈینز نے پیٹرا میں بہت کم لکھائی چھوڑی تھی
05:05صرف ایک دو جبہ پر ایرامیک اسکرپٹ میں کچھ لکھا ہوا پایا گیا
05:11یہ لینگویج میڈل ایسٹ میں دیزز کے دور میں استعمال ہوتی تھی
05:15اس اسکرپٹ میں لکھا تھا کہ یہ ٹوم بہت مقدس ہے
05:18اس کے اندر جو کچھ بھی ہے اس کو نہ کبھی بدلا جائے نہ یہاں سے نکالا جائے
05:24لیکن جس چیمبر کے باہر یہ لکھا تھا اس کے اندر صرف چند شیلف کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں تھا
05:32ان شیلف کی سائز دیکھ کر اندازہ لگایا گیا کہ یہ ڈیڈ باڈیز رکھنے کے کام آتے تھے
05:38یہ جبہ اصل میں ان کا بریل چیمبر تھا
05:41پیٹرا کی چٹانوں میں ایسے آٹھ سو سے زیادہ چیمبرز دریافت ہو چکے ہیں
05:46شروعات میں یہ بھی سمجھا جاتا تھا کہ شاید یہ شہر کوئی قبرستان تھا
05:51لیکن بعد میں ریسرچرز کو یہاں کچھ ایسے ثبوت بھی ملے جو یہاں زندہ لوگوں کے ہونے کا اشارہ بھی دیتے ہیں
05:59لیونگ ایریا کی سائز کا اندازہ لگانے پر معلوم پڑا
06:02کہ اپنے گولڈن پیریڈ کے دوران پیٹرا میں بیس ہزار سے تیس ہزار لوگ رہتے تھے
06:09پر یہ تیس ہزار لوگوں کا شہر اور وہ بھی بنجر رگستان میں
06:13تو یہ لوگ پانی کہاں سے لاتے تھے
06:16اس کا ایک سراغ ملتا ہے پیٹرا میں موجود ایک اسٹرکچر میں جسے گریٹ ٹیمپل کہتے ہیں
06:22یہاں فرش پر کچھ سراغ ملے ہیں
06:25ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ شاید اس کے نیچے سے پانی گزرتا تھا
06:30ایکسپرٹس نے جب اس جگہ پر جی بی آر یعنی گراؤن پینٹریٹنگ ریڈار سے اسکین کیا
06:36تو ایک اہم کلو سامنے آیا
06:38جی بی آر زمین میں ریڈیو سگنلز پینکتا ہے
06:41یہ سگنلز زمین کے اندر مختلف مٹیریلز سے ٹکرا کر
06:45الگ الگ سپیڈ سے واپس آتے ہیں
06:48جیسے مٹی سے ٹکرا کر یہ آہستہ واپس آتے ہیں
06:51اور خالی جگہ میں ان کی سپیڈ ٹیز ہو جاتی ہے
06:55سگنلز کی سپیڈ دیکھ کر اندازہ لگایا جاتا ہے
06:59کہ زمین کے نیچے کہاں پر خالی جگہ موجود ہے
07:02جی بی آر کے ریزرٹس نے دکھایا
07:04کہ مندر کے فرش کے نیچے چینلز کا ایک پورا نیٹ ورک بچھا ہے
07:08جیسے گھر میں فرش کی کنسٹرکشن سے پہلے پلمبنگ کا کام ہوتا ہے
07:13یہ ایویڈنس اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی تھا
07:16کہ پیٹرا میں انڈر گراؤنڈ پانی کا نیٹ ورک تو تھا
07:20پر یہ پانی آخر آتا کہاں سے تھا
07:23کیونکہ یہ جگہ دنیا کی خوشک ترین جگہوں میں سے ایک ہے
07:26پانی کا ایک سخیرہ آج بھی لوکلز استعمال کرتے ہیں
07:31جسے این موسا کہا جاتا ہے
07:34یہ قدرتی چشمہ زمین کے نیچے سے پانی فرہام کرتا ہے
07:37پر مسئلہ یہ ہے کہ یہ پیٹرا کی سائٹ سے قریب آٹھ کلومیٹرز دور ہے
07:43تو اب سوال اٹھتا ہے کہ نیویڈینس این موسا سے پانی کو چٹانوں کے بیچ
07:48آٹھ کلومیٹر نیچے کیسے لاتے تھے
07:51اس کا اشارہ ہمیں ملتا ہے ٹریری کی پتلی انٹرنس میں
07:55یہاں چٹانوں کے بیچ پائپ لائنز کے نشانات دیکھے گئے ہیں
07:59ایسی پائپ لائنز جو چھوٹے چھوٹے سیکشنز میں جوڑی گئی تھی
08:03جب پائپ کے ان چھوٹے چھوٹے سیکشنز میں سے پانی گزرتا ہوگا
08:08تو ضرور لیک بھی کرتا ہوتا
08:10لیکن نیویڈینس کے لیے پانی اگر اتنا امپورٹنٹ تھا
08:14تو وہ پانی کو ضائع کیسے ہونے دیں گے
08:17جب پانی کسی بھی پائپ لائنز سے گزرتا ہے
08:20تو نیچرلی اس کے اندر ائر پاکٹس بنتے ہیں
08:23جو پائپ کے اندر پریشر کریٹ کرتے ہیں
08:25اور پانی کا فلو کم ہو جاتا ہے
08:28یہ پریشر پانی کی دیواروں کو اندر سے پش کرتا ہے
08:32اور اگر لائن میں جوڑ ہوں گے
08:34تو ان میں سے پانی لیک ہوگا
08:36ہائیڈرو انجنئرز نے کئی ایکسپریمنٹس کیے
08:39اور یہ بات سامنے آئی
08:41کہ اگر پائپ کا اینگل فور ڈگریز پہ جھکا ہوگا
08:44تو پائپ میں ائر پاکٹس نہیں بنیں گے
08:47پانی کا فلو بھی اچھا ہوگا
08:49اور لیکیج بھی نہیں ہوگی
08:51جب ایکسپرٹس نے پیٹرا میں بچھائی گئی
08:54پائپ لائن کے انگل کو دیکھا
08:55تو وہ حیرت انگیز دور پہ
08:58ٹھیک فور ڈگریز پہ ہی جھکائے گئے تھے
09:00یعنی نیبیٹینز
09:02اس سائنٹیفک پرنسپل کے بارے میں
09:04دو ہزار سال پہلے ہی جانتے تھے
09:06جنہیں ہم نے حال ہی میں دریافت کیا ہے
09:09یہ سب دیکھنے کے بعد
09:11ایک بات تو کلیر ہے
09:12کہ نیبیٹینز ہائیڈرو انجنئرنگ کے ماسٹر تھے
09:15پیٹرا میں پانی صرف این موسا سے نہیں
09:19بلکہ پہاڑوں سے آنے والے
09:21فلیش فلڈز سے بھی سپلائے ہوتا تھا
09:23آج بھی جب یہاں فلیش فلڈز آتے ہیں
09:26تو وہ کافی ڈیڈلی ہوتے ہیں
09:28ان سے بچنے کے لیے پیٹرا میں
09:30مختلف لوکیشنز پر انچینٹ ڈیمز بنائے گئے تھے
09:34ریسرچرز یہاں قریب
09:36پانچ انچینٹ ڈیمز
09:38ڈھونڈ چکی ہیں
09:39جن میں سے کچھ کی دیواریں
09:41دو ہزار سالوں سے آج تک پریزرڈ ہیں
09:44یہ ڈیمز
09:45نہ صرف پانی اسٹور کرنے کے کام آتے تھے
09:47بلکہ شہر کو
09:49فلڈز کی تباہی سے بھی بچاتے تھے
09:51پیٹرا کے بارے میں
09:52ابھی تک ہم یہ جان چکے ہیں
09:54کہ یہاں بسنے والے نیبیٹینز
09:56چائنہ، اینڈیا، ایجپٹ اور روم کے بیچ
09:59ٹریڈنگ کرتے تھے
10:00ان کی پتروں کو تراش کر
10:02اسٹرپچرز بنانے کی اسکلز
10:04دنیا میں کہیں اور نہیں دیکھی گئیں
10:07لیگستان میں ان کے انجنئرز نے
10:09پیٹرا کو پانی کیسے فرام کیا
10:12لیکن ایک مین سوال
10:14ابھی تک واہی ہے
10:15کہ آخر یہ شہر ویران کیوں ہوا
10:17یہاں بسنے والے تیس ہزار لوگ
10:20اپنے شہر کو چھوڑنے پر
10:22مجبور کیوں ہوئے
10:23انشن ریکارڈ سے ہمیں یہ پتا چلتا ہے
10:26کہ ایئر تری سکشٹی تھری میں
10:28ایک بہت خطرناک ارتھ کوئک آیا تھا
10:31اور پیٹرا میں ایسے ٹوٹے ہوئے
10:33اسٹرکچرز کا ملبا بھی موجود ہے
10:35جو صرف ارتھ کوئک کا کام ہی لگتا ہے
10:38شاید اس ارتھ کوئک کی گرہ سے
10:40پیٹرا کے کئی اسٹرکچرز گر گئے
10:43اور ڈیمز ٹوٹ گئے
10:44اس کے بعد وہی پانی جو شہر کی جان تھا
10:47ان کی جان لے ڈوبا
10:49فلیش فلڈز پورے شہر کو بہا کر لے گئے
10:53اور بچے کچے انفراسٹرکچر
10:55جو نیبیڈینز نے کئی سو سالوں میں بنائے تھے
10:58خندرات میں بدل گئے
11:00اب نہ تو یہاں پانی بچا تھا
11:02اور نہ ہی کوئی سسٹم
11:03ٹریڈرز نے اپنے راستے بدل لیے
11:06اور شہر کے لوگ آہستہ آہستہ
11:09دوسرے شہروں میں چلے گئے
11:11پیٹرا کو جونیسکو ورل ہریٹیج سائٹ کا درجہ
11:14نائنٹین ایٹی فائف میں ملا
11:16اور اگر آپ نے انڈیانا جونز
11:19اینڈ ڈا لاشٹ کروسیٹ دیکھی ہو
11:20تو اس میں جو ہولی گریل کا ٹیمپل ہے
11:23وہ اصل میں پیٹرا کا الخازنے ہی ہے
11:26امید ہے یہ ویڈیو بھی آپ لوگ دھرپور لائک اور شیئر کریں گے
11:30آپ لوگوں کے پیار بھرے کومنٹس کا بے حد شکریہ
11:34ملتے ہیں اگلی شاندار ویڈیو میں
Comments