00:02إن الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا
00:22من يهده الله فلا مضل له ومن يغلله فلا هادي له
00:32وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمد عبده ورسوله
00:46أما بعد فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم
00:52بسم الله الرحمن الرحيم
00:57لقد كان لكم في رسول الله أصوة حسنة
01:03وقال النبي صلى الله عليه وسلم
01:09كل أمتي يدخلون الجنة إلا من أبا
01:15قيل يا رسول الله ومن أبا
01:19قال من أطاعني دخل الجنة ومن عصاني فقد أبا
01:28تُو سمجھتا ہے حوادث ہے ستانے کے لیے
01:33یہ هوا کرتا ہے ظاہر عزمانے کے لیے
01:40تُن دِ بَادِ مُخَالِف سے نَگَبْرَاءِ عُقَاب
01:44یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
01:52چین سے رہنے نہ دے ان کو نہ خود آرام کر
01:57جو مستعد ہے اشاعت کو مٹانے کے لیے
02:02دس اوپا رکھتے ہیں اور بیکار کیوں بیٹے رہے
02:08ہم تو اٹھیں گے جماعت کو چمکانے کے لیے
02:13انشاءاللہ
02:17محترم حاضرین اکرام
02:21جماعت اشاعت التوحید و سنت کے
02:24غیور نوجوان
02:27ساتھیوں اور دور دراز سے تشریف لانے والے
02:31مہمانانی گرامی
02:34آج جو خوبصورت گلدستہ سجایا گیا ہے
02:40اجتماعی پنجپیر کے نام سے
02:44اس پر حضرت شیخ صاحب اور ان کے
02:47جتنے معاوینین ہیں خصوصاً
02:52مولنا شبس الحادی صاحب اور
02:55مولنا مومن گل صاحب اور دیگر احباب
02:58سب کو مبارک بات دیتا ہوں
03:02کہ اللہ تبارک و تعالی ان کے
03:04مسائع جمیلہ میں
03:06مزید
03:07مزید ترقی عطا فرمائے
03:13ہماری جماعت کا نام
03:15جماعت اشاعت التوحید و سنت ہے
03:17جس طرح
03:18اللہ تبارک و تعالی کے
03:20توحید کے حوالے سے
03:22تفصیلی گفتگو
03:25ہمارے اکابرین نے آپ حضرات کے سامنے
03:28بیانات کے شکل میں
03:31اور بڑے خوبصورت
03:33مزامین کے شکل میں آپ کے سامنے
03:37ذکر کیے
03:40تو سنت کا اتباع اور نبی علیہ السلام کی
03:44تعبیداری یہ بھی
03:45ہماری جماعت کا
03:47ایک خاص
03:51اور خاص الخاص
03:54ہماری جماعت کا دستور ہے
03:56اور نمونہ ہے
03:59میں نے جو آیت قرآن مجید کی
04:01اللہ تبارک و تعالی کے کتاب کے
04:03آپ حضرات کے سامنے تلاوت کی ہیں
04:05اس میں اللہ تبارک و تعالی نے
04:09تمام مسلمانوں سے
04:11اعلان کر کے
04:12خطاب فرمایا لَقَدْ کَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ
04:16اُسْوَةٌ حَسَنَا
04:19پیغمبر کی زندگی میں
04:20تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے
04:23نمونہ اس کو کہتے ہیں
04:25کہ ایک بندہ
04:26مثال کے طور پر کسی درزی سے
04:28کپڑے بنواتا ہے
04:30تو اپنا ایک جوڑا ان کے پاس لے کر جاتا ہے
04:33اور ان سے کہتا ہے کہ اس طرح جوڑا
04:35میرے لئے بنا دے
04:37اگر وہ درزی
04:40اس کپڑوں کے اندر
04:41کسی بھی اعتبار سے
04:43کوتا ہی کرے گا
04:45کپڑے کو لمبا بنائے گا
04:47یا مختصر بنائے گا
04:49تو وہ فوراً انکار کرے گا
04:52ان کے لینے سے
04:53بلکہ اگر کوئی ان کو کہہ دے
04:56کہ انہوں نے تو آپ کے لئے
04:58اور خوبصورت جوڑا بنایا ہے
05:00آپ کیوں لینے سے انکار کر رہے ہوں
05:02وہ کہے کہ میں نے ان کو نمونہ دیا ہے
05:05اس نے نمونے کے مطابق کیوں نہیں بنایا ہے
05:08نبی علیہ السلام کو اللہ تبارک و تعالی نے
05:12ایک نمونہ بنایا اور انسانوں کی طرف
05:15اللہ تبارک و تعالی نے بھیجا
05:17اور اس کی ایک مثال بیان کر دی
05:20نبی علیہ السلام ایک دفعہ
05:23ارام فرماتے فرشتے آئے
05:25ایک فرشتے نے پوچھا کہ آپ اس کی
05:29نبی علیہ السلام کی مثال بیان فرما لیجیے
05:33تو فرشتے نے کہا کہ اس کی مثال ایسی ہے
05:36کہ جس طرح ایک سید گھر بناتا ہے
05:40اور اس میں دسترخان بچھاتا ہے
05:43اور ایک دعائی کو بیجتا ہے
05:44کہ جاؤ لوگوں کو بلا کر لے آؤ
05:46کھانے کے لیے
05:50تو جو بندہ جائے گا
05:53اس دعائی کی بات قبول کرے گا
05:55وہ جا کے دسترخان میں سکھائے گا بھی
05:58اور گھر میں داخل بھی ہوگا
05:59اور سید ان سے خوش بھی ہو جائے گا
06:02اور جس آدمی نے
06:05اس دعائی کی بات قبول نہیں کی
06:07تو وہ نہ گھر کے اندر داخل ہوگا
06:10نہ اس دسترخان سے کھانے کھائے گا
06:13پھر فرشتے نے کہا
06:15کہ آپ اس کی ابھی تعویل کر لے
06:18تدبیق کر لے
06:20تو اس فرشتے نے کہا
06:21کہ اس کی تدبیق یہ ہے
06:23کہ اللہ سید ہے
06:24اس نے جنت ایک بہترین محل بنایا ہے
06:27اس میں اللہ نے نعمتوں کے شکل میں
06:30ایک دسترخان بچھایا ہے
06:31اور نبی علیہ السلام کو
06:33اللہ تبارک و تعالی نے دعائی بنا کے بھیجا ہے
06:36اب جو آدمی
06:38اس دعائی کی بات
06:39وہ اس پر عمل کرے گا
06:42اس کو مانے گا
06:43تو جنت کے اندر داخل بھی ہوگا
06:45اور یہاں کی نعمتوں کو بھی استعمال کرے گا
06:48اور اللہ بھی ان سے راضی ہو جائے گا
06:50اور جو
06:51اس دعائی کی بات قبول نہیں کرے گا
06:54نہ وہ جنت کے اندر داخل ہوگا
06:56نہ ان کے نعمتوں کو استعمال کر سکے گا
07:00حدیث میں جو میں نے ذکر کی تھی
07:02اس میں بھی نبی علیہ السلام نے فرمایا
07:06کہ
07:10میرا ہر امتی جنت کے اندر داخل ہو جائے گا
07:13سوائی اس آدمی کے جو انکار کرے
07:17نبی علیہ السلام کو بتا دیا گیا
07:19کہ کون ہے انکار کرنے والا
07:21نبی علیہ السلام نے فرمایا
07:23من اطاعنی دخل الجنہ
07:26جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت کے اندر جائے گا
07:31اور جو میرا نافرمانی کرے گا میری بات نہیں مانے گا
07:36اس نے جنت میں داخل ہونے سے انکار کر لیا
07:39نبی علیہ السلام ہمارے لئے نمونہ ہے
07:42ہم اپنے زندگی کے ہر شعبے میں
07:44نبی علیہ السلام کا اتباع کریں گے
07:47اپنے زندگی کے ہر معاملے میں
07:49ہم دیکھیں گے کہ اس میں پیغمبر کی سنت کیا ہے
07:53اگر ہم ایک خوبصورت عمل بنا دے
07:55اور بہت خوبصورت عمل ہو
07:57لیکن اس میں پیغمبر کا اتباع نہ ہو
08:00تو عمل اللہ کے دربار میں مقبول نہیں ہے
08:03مثال کے طور پر آزان ہم دیتے ہیں
08:05تو آزان سے پہلے اگر ایک ادمی
08:08اسی الفاظ کے ساتھ
08:10اسی لہجے کے ساتھ
08:12اسی جہر کے ساتھ
08:13بسم اللہ الرحمن الرحیم
08:15ابتدا میں پڑے گا
08:16اور یہ کہے گا کہ یہ تو ایک نیک عمل ہے
08:19اور میں بسم اللہ پڑھ رہا ہوں
08:21اگر وہ اس طرح کرے گے
08:23تو سب ادمی کہیں گے
08:24تمام لوگ ان کو کہیں گے
08:25کہ یہ آپ نے نجائز عمل کر لیا
08:27اس لئے کہ
08:28اس پر نبی علیہ السلام کی زندگی میں
08:31نمونہ ہمارے لے نہیں ہے
08:33ہر عمل میں نمونے کا ہونا ضروری ہے
08:36اگر ہمارے پیغمبر کے ساتھ
08:40یہ تعلق نمونے والا تعلق ہوگا
08:42بہت سارے لوگ
08:43نبی علیہ السلام کے ساتھ
08:46سب محبت والے تعلق رکھتے ہیں
08:48ہی کہ نبی علیہ السلام کے ساتھ
08:50محبت رکھنا یہ لازمی اور ضروری ہے
08:52لیکن مقصود محبت نہیں ہے
08:56محبت جو ہے
08:57یہ اطاعت کے لئے ایک سبب ہے
08:59سبب کے درجے میں ہے
09:01پیغمبر سے ہم محبت کریں گے
09:03اس کی اطاعت کریں گے
09:05تو ہمارے لئے اخلاصی ہوگی
09:06ورنہ ابو طالب نے نبی علیہ السلام کے ساتھ
09:09ایک تہیل زندگی تک محبت رکھا
09:11نبی علیہ السلام کے پیدائش سے پہلے
09:14اس کے والد محترم وفات پا گئے
09:17جب نبی علیہ السلام کی عمر چھے سال تھی
09:19تو نبی علیہ السلام کی والدہ محترمہ بھی انتقال کر گئی
09:23نو سال کے عمر میں نبی علیہ السلام کے دادا
09:25عبد المطلب انتقال کر گئے
09:32ابو طالب نے نبی علیہ السلام کے ساتھ بہت محبت کی
09:35ہر جگہ میں ان کے ساتھ کھڑے رہے
09:38ان کے ساتھ محبتوں کے اعلان کیے
09:41ہر مشکل میں اپنے سینہ یہ دشمن کے سامنے رکھا
09:45اور نبی علیہ السلام کے اپنے پیچھے رکھا
09:47لیکن اس کے باوجود
09:49اس کو جب اطاعت نہیں تھی ان کی زندگی میں
09:52ایمان قبول نہیں کی
09:54نبی علیہ السلام کے اطاعت پہ نہیں آئے
09:56وہ اس کے لئے نجات کا سبب نہیں بنا
09:58اس وئے سے نبی علیہ السلام
10:00اپنی چہتی بیٹی حد فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
10:04سے فرماتے ہیں
10:13اے فاطمہ آپ نے دنیا کی چیزوں میں سے
10:16جو کچھ مجھ سے مانگنا ہو آپ مانگ لو
10:18لیکن اخروی اعتبار سے
10:20آپ کو میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا ہوں
10:24جب تک تم خود اپنی ایمان عمل اور اطاعت پر نہیں آوگے
10:29تو یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگی میں اطاعت پیدا کریں
10:33صرف محبت نہیں بہت سارے لوگ صرف محبت کے دعوے کرتے
10:36لیکن ان کی زندگی میں اطاعت نہیں ہوتی ہے
10:39بنیادی بات یہ ہے کہ ہمارے زندگی میں اطاعت ہو
10:42اللہ ہمیں اطاعت نصیب فرمائے
10:45ہم کراچی سے آئے ہیں
10:46اور مجھ سے پہلے ہمارے ناظرم علیہ صاحب
10:50اور ہمارے ایک شیخ صاحب نے بیانات کیے ہیں
10:53ہمارے امیر محترم حضرت حاجی حکم شمس اللہ صاحب
10:57حافظ اللہ ورآہ موجود ہے
11:00الحمدللہ ہم کراچی کے میں
11:02اللہ کے مدد و نصرت سے
11:04بہت بہترین کام کر رہے ہیں
11:06ابھی بھی ہمارے یہاں چار گاڑیوں میں ساتھی آئے ہیں
11:10اور یہاں پر کچھ جو ہے ادھر ایک پینڈال لگایا ہے
11:15اور ایک سامنے مسجد حمزہ کے اندر کچھ ساتھی رہتے ہیں
11:19الحمدللہ بہت سارے ساتھی یہ رابطہ کرتے ہیں
11:22کہ کراچی میں مشکلات ہے یا کام نہیں ہے
11:26الحمدللہ کراچی میں بہت سارے مدارس ہے
11:29کام ہو رہا ہے
11:30میرا آپ لوگوں سے درخواست ہے
11:32ایک دو تین باتیں
11:34جو ہے آپ حضرت سے یہ کرتا ہوں
11:37کہ ہمارا جو آئندہ نسل ہے اس حوالے سے
11:39حضرت کی اجازت سے یہ بات کر رہا ہوں
11:42کہ ہمارے جو معاشرہ اس میں تین قسم کے افراد ہیں ہمارے پاس
11:47ایک ہمارے اپنے بچے ہیں
11:49ہمارے بہت سارے حضرات
11:51اپنے بچوں کو دوسرے مدارس لے کر جاتے ہیں
11:54پھر ان کے نظریات اور افکار خراب ہو جاتے ہیں
11:58ہمارے لئے ضروری ہے
11:59کہ ہم اپنے اکابرین کے تذکرے
12:02اپنے بچوں کو بٹھائے
12:03اس کے سامنے تذکرے کر لیا کریں
12:05میرے خود بچے ہیں
12:06میں اپنے بچوں کو بٹھا کے اپنے شیوخ اور اپنے کابرین کے تذکرے کرتا ہوں
12:11ابھی چند دن پہلے میرے ایک چھوڑا بچہ ہے
12:13آٹھ دس سال کا
12:14وہ مجھ سے پوچھ رہا تھا
12:16ایک کسی کے بارے میں کہ فلا بند جو یہ
12:19دیوبندی ہے یا پنجپیری ہے
12:20میں نے کہا یہ تو پنجپیری ہے
12:23تو پھر میں نے ان سے پوچھا
12:25کہ بیٹا حفظ کر رہا ہے
12:26آپ کیا ہو
12:27کہہ رہے میں تو کٹر پنجپیری ہوں
12:30دس سال کا بچہ ہے
12:31تو اپنے بچوں کے سامنے اس طرح تذکرے کر لیا کرے
12:34اس طرح محافل میں اس کو شریک کر لیا کرے
12:37اپنے جہاں پر ہمارا اجتماعات
12:39اس میں شریک کر لیا کرے
12:40دوسرے ہمارے مدارس کے اندر دیگر
12:43حضرات کے بچے آتے ہیں
12:45ان کی تربیت کرنا اس کی ذہنساجی کرنا
12:47ایسے مجالس میں ان کو لے آنا
12:50یہ ہماری ذمہ داری ہے
12:51اچھا فکر دینا علماء
12:53کی ذمہ داری ہے
12:55کہ اپنے طلابہ کو اپنے شاگردوں کو اچھا فکر دے
12:58ہمارے ایک ساتھی ہے
12:59وہ چند دن پہلے مجھے بتا رہا تھا
13:02کہ میں آپ کے مدرسے کے سامنے گزر رہا تھا
13:04تو
13:06ایک بچہ روٹ پہ کھڑا تھا
13:07گاڑی کے انتظار میں
13:09تو میں نے اپنے پیچھے ان کو بٹھایا موٹر سائیکل پہ
13:11راستے میں میں نے پوچھے
13:12کہاں سبق پڑھ رہے ہو
13:14اس نے کہا میں ادھر جامع عمر میں پڑھ رہا ہوں
13:17تو میں نے ان سے کہا کہ
13:25ابتدائی درجہ کا طالب میں
13:27کہ نے میرے ساتھ الچ گیا
13:29اور پھر اس نے مجھے مبارک بات دی
13:31کہ اس طرح بچوں کی تربیت کر لیا جائے گے
13:33کچھ سے نرڈر ہے
13:35حق بات ہر جگہ پر وہ کرے
13:37کسی سے وہ موٹر سائیکل پر لے گیا
13:39اس کے باوجود بھی
13:40اور تیسرا یہ عام لوگ ہے
13:42ہمارا تعلق ہوتا ہے
13:43ہم مساجد میں اہمہ ہے
13:45یا ہمارا ایسا تعلق ہے
13:47ہم دروس سے قرآن قائم کرے
13:49اس طرح مجالس میں ان کو لے کے آیا کرے
13:51اب آخری ایک بات بتاتا ہوں
13:55گزشتہ ایک دو تین سال پہلے کی بات ہے
13:57یا اجتماع جب ختم ہوا
13:58تو میں اس خوابکورٹ میں
14:00مولنا رشید صاحب ہے
14:01ان کے گھر چلا گیا
14:03تو اس کا ایک مستری تھا
14:05وہ بھی آ گیا
14:05صبح کا ٹائم تب پیر کے دن
14:07تو وہ مولنا رشید صاحب نے
14:10مستری سے پوچھا
14:11کہ آپ کہاں گئے تھے
14:12آپ تین چار دن غائب تھے
14:14تو اس نے کہا
14:15کہ میں تو پھر اجتماع کے لیے گیا ہوا تھا
14:17تو اس نے پوچھا کہ
14:19یہ کیسے گئے ہوئے تھے
14:20آپ کی دو تین دن پہلے
14:22تو آپ کی شادی ہوئی تھی
14:23اس نے کہا
14:24جس خاری صاحب نے میرا نکاح پڑھانا تھا
14:26اس نے پہلے مجھ سے وعدہ لیا تھا
14:28کہ میں آپ کا نکاح
14:29اس شرط پر پڑھاؤں گا
14:30کہ آپ میرے سار اجتماع پر جاؤ گے
14:32پھر اس نے کہا
14:33آپ وہاں پر کیا سنا
14:34اس نے کہا
14:35حضرت ہم تو پہلے مشرک تھے
14:37اللہ کی قسم
14:50تو آپ محنت کریں
14:52اپنے ساتھیوں کو لائے کریں
14:53اس جگہ پر
14:54یہ بہت اہم سٹیج ہے
14:56اس سے بڑے بہترین بیانات ہوتے ہیں
14:58بڑے فکری باتیں ہوتی ہیں
15:00ہمارے قابرین
15:01یہاں پر بہت اچھے انداز میں گفتگو کرتے ہیں
15:04اللہ تبارک و تعالی ہمیں
15:06اس جماعت کے ساتھ
15:07ہمیشہ کے لیے
15:08وحبستگی نصیب فرمائے
15:10ہمیں عقید توحید
15:11اور سنت کی تابیدہ بھی لیے
15:13زندگی نصیب فرمائے
15:14اور اسی پر
15:15اللہ تبارک و تعالی ہمیں
15:16موت نصیب فرمائے
15:17سبحانک اللہم
15:18و بحمد کشد
15:19اللہ علیہ وسلم
Comments