Skip to playerSkip to main content
  • 7 minutes ago
شیخ القرآن مولانا محمد طیب طاھری سلمہ اللہ
سلمہ اللہ اجتماع پنج پیر 2026 سے بیان

Category

🎈
Fun
Transcript
00:00الحمد لله
00:06الحمد لله نحمده ونستعينه
00:17ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا
00:29ومن سيئات أعمالنا
00:36من يهده الله فلا مضلله
00:45ومن يضلله فلا هاديله
00:53ونشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك لا
01:05ونشهد أن سييدنا ومولانا
01:11محمدًا عبده ورسوله
01:19صلى الله تعالى عليه وعلى آله وأصحابه وسلم
01:31أما بعد فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم
01:42بسم الله الرحمن الرحيم
01:54كذب أصحاب الأيقد المرسلين
02:03إذ قال لهم شعيب ألا تدغون
02:13إني لكم رسول أمين
02:23فاتقوا الله وأطيعون
02:31وما أسألكم عليهم من أجر
02:36إن أجري إلا على رب العالمين
02:52محترمو حاضرينو
02:58بده اجتماعك
03:04فختانهم دي
03:05پنجاب والهم دي
03:10سوك با پختو بانده نپوئيگي
03:13سوك با اردو بانده نپوئيگي
03:18زبدا کوشش کوم
03:23چسا خبر پختو کے أوسا اردو کے مقم
03:30دا اردو آلاو دا پارا چغئی
03:33پا پختو بانده نپوئيگي
03:38پختو کے با ام خبركوم
03:40دا اغشاد پارا چغئی
03:42اردو بانده نپوئيگي
03:47اللہ تعالیٰ کے دربار میں دعا گوهو
03:53کہ مجھے توفیق اناد فرمائے
04:00تاکہ پتان بائی اور پنجابی دوست
04:06سرے سارے میرے بات کو سمجھ سکیے
04:12میری بھی کوشش ہوگی
04:43کہ کچھ بات ہے پشتو
04:46توحید کا مسئلہ سنت کا مسئلہ
04:51شرکیات اور بدعات کی تردید
04:57رسومِ باطلہ کی تردید میں ان کے ذمہ چھوڑتا ہوں
05:04چونکہ میری ذمہ داری ایک جماعت کی
05:10خدمت اور میرا مثال ایک چروائی کا ہے
05:17جو اپنے
05:20مال کو حفاظت
05:23اور اپنے مال کو بچانی کیلئے تغدہ کر رہا ہے
05:30میں اپنی ذمہ داری کو نبانی کیلئے
05:36چند گزارشات عرض کرنا چاہتا ہوں
05:45چل دیتی
05:49چونکہ پہلے دن سے
05:53میں نے کچھ قواعد اور اصول بیان کی تھی
06:00کہ ہمارا یہ اجتماع اور ہماری سٹیج
06:06اسے اگر ایک مقرع اور خطیب
06:11اظہاری خیال کر رہا ہو اور بیان کر رہا ہو
06:17تو اس کی ذمہ داریاں کیا ہوگی
06:20اور ان پر کیا ذمہ داریاں آئید ہوتی ہے
06:26پہلے دن میں نے یہ بتایا تھا
06:31کہ کسی خاص شخصیت کا نام لے کے ان پر رت کرنا
06:38یہ اسٹیج سے نہیں ہوگا بلکہ
06:41ہم اس صفت مضمومہ اور اس غلط عقیدی کی تردید کریں گے
06:51جو غلط ہو
06:54خواہو کسی میں ہو
06:57مولوی میں ہو پیر میں ہو امی میں ہو بادشاہ اور وزیر میں ہو
07:05نام لینا یہ ہمارا کام نہیں
07:10کیونکہ یہ اتنا عظیم سٹیج ہے
07:14کہ اسی کسی کا لا نام لینا بھی
07:19یہ ان کو تعظیم اور ان کی عزت
07:22کے مترادف ہے
07:26اسی طرح میں نے کچھ اور اصول بھی ذکر کی تھی
07:32اور شاید میرے سارے احباب اور سارے ساتھیوں اور عراقین کو یاد ہوگا
07:40کل رات
07:43میں نے پھر ایک تاریخ کا تذکرہ کیا
07:50تاریخی کتابوں میں اور تاریخی احوال بیان کی
07:56کہ آپ دیکھیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد
08:03حضرت ابو بغری صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور سے لے کر
08:11آج تک اور صحابہ کرام کے اولاد تک
08:16کدنے افتلافات پیدا ہوئی اور کیوں پیدا ہوئی اور کس نے پیدا کی
08:21میں نے اس کا تذکرہ کیا
08:28شاید اس کیلئے مصداقات
08:33کسی کے ذہن میں ایک مولوی ہو
08:35کسی کے ذہن میں دوسرا ہو
08:40کسی کا خیال یہ ہوگا کہ میں نے فلان پہ رد کیا
08:45کسی کا خیال یہ ہوگا کہ میں نے فلان پہ رد کیا
08:49میں نے کسی پہ رد نہیں کیا
08:53میں صرف یہ بتانا چاہتا تھا
08:58کہ ہمیشہ جماعت میں نقصان
09:03مسلمانوں میں تفرقہ اور اختلافات
09:08اندرونی لوگوں نے پیدا کی
09:12اور ان کی پیچی کسی اور کا ہاتھ تھا
09:17جو یا یہودیت کے رنگ پہ رنگا ہوا تھا
09:21یا سبائیت کے رنگ پہ رنگا ہوا تھا
09:26یا کسی اور رنگ نے ان پہ پر وان چھڑائی تھی
09:31تو میں نے اس کا تذکرہ اسی لیے کیا
09:36تاکہ آپ لوگ ذہنی طور پر بیدار ہو
09:41کہ ہمیشہ جماعت میں کچھ لوگ ایسی پیدا ہوتی ہیں
09:47جن کے وجہ سے جماعت میں نقصان
09:52جماعت میں تفرقہ اور جماعت میں اختلافات پیدا ہو جاتی ہیں
09:58اور پھر میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی
10:04لشکر کے کچھ لوگوں کا تذکرہ کیا
10:09جنہوں نے بعد میں حضرت علی پہ فتویں لگائی
10:14ومن لم يحکم بیمان ظلاللہل فعولائی کا ہم الكافرون
10:20ومن لم يحکم بیمان ظلاللہ فعولائی کا ہم الفاسخون
10:31ان آیات کو دلیل پکڑدی تھی
10:35ان آیات سے استمباد کردی تھی
10:41ورحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا
10:45اور پھر ان کی تعریفیں بے کر رہی تھی
10:48یا ضربتا من تقیم ما اراد بها
10:51اللہ لابلغائم منزل عرش رضوانا
10:57انی لازکرو یو من فاسبو
11:00اوفالبریت اند اللہ میزانا
11:05حضرت شیخ القرآن نور اللہ مرقدہو نے
11:10اپنی تاریخ اور اپنے خودنوش
11:14اپنے خودنوش تاریخ میں لکھا ہے
11:17اوال رفقاء و تلامزہ کے باب میں
11:22وظلم و ذوی القرباء شد و عزازتا
11:26علالمر من وقل حسام المحندی
11:32ہمیشہ اپنے اندرونی لوگوں سے
11:36جماعت تباہ و برباد ہو جاتی ہے
11:40اور پھر میں نے کل رات اس کا
11:43تفصیل ذکر کیا حالانکہ تاریخ مختصر ذکر کی
11:47ارادہ تو یہ تاکہ میں اس کو تفصیلاً ذکر کروں گا
11:53لیکن وقت کی کمی کے وجہ سے
11:57اور میزبانی کے وجہ سے
11:59تاکہ مہمانوں کو تکلیف نہ پہنچے
12:04میں اپنے ٹائم
12:06مہمانوں کیلئے چھوڑتا ہوں
12:09تاکہ مہمانوں کیلئے آسانی ہو
12:12ہم ان کے تقریر اور ہم ان کے بیانات
12:16سننی کیلئے
12:17یہاں اکٹی ہوئے ہیں
12:19جیسا کہ ابھی مجھ سے پہلے
12:22حضرت شیخ القرآن
12:25مولانا محمد طائر
12:28نور اللہ مرکدہو کے شاگرد
12:30قاری سلیمان صاحب نے تذکرہ کیا
12:35یہ میرام سبق بھی ہے
12:38جب شیخ القرآن لاہور میں درس دیتی تھی
12:42تو میں اور قاری سلیمان کٹی
12:45اس میں طالب علم تھی
12:48میں نے
12:49اس تاریخ کا تذکرہ اسی لئے کیا
12:53کہ میں نے اپنے بیان کو
12:56چار حصوں میں تقسیم کیا ہے
12:59میں ویسی
13:02کچھ باتیں ذہن میں آ کر
13:04یا موں پہ آ کر نہیں بولتا
13:07یہ ایک ذمہ دار سٹیج ہے
13:09اور اس میں میں وہ بات کروں گا
13:12جس کا میں کل جواب دے بھی ہوں گا
13:16میں نے چار حصوں میں
13:18اسی وجہ سے تقسیم کیا
13:21کہ پہلے میں
13:22اوصول اور قواعد بیان کروں گا
13:25جیسا کہ پہلے دن میں نے
13:28اداعات بیان کیے
13:30دوسری دن میں یہ بتانا چاہتا تھا
13:34کہ جماعت میں افتراک اور اختلاف
13:39ہمیشہ بیرونی قوتوں کے وجہ سے نہیں آتا
13:43اندر سے کچھ لوگ پیدا ہوتے ہیں
13:47جو نہ سمجھ ہوتے ہیں
13:49بے وقوف ہوتے ہیں
13:51جماعت کی اصول کو نہیں سمجھتے
13:54اپنے عمراء کی اطاعت نہیں کرتے
13:58وہ اپنے عقل اور اپنے ذہن کی تابع ہوتے ہیں
14:03ان میں تابداری اور اطاعت نہیں ہوتا
14:14حالانکہ اگر احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جان چھے اور پڑے
14:20تو
14:21پیغمبری پاک نے اطاعت کا حکم کیا ہے
14:28اور پیغمبری پاک نے فرمایا
14:31اگر امیر میں کوئی ایسی چیز دیکھے
14:35جو آپ کو برا لکھی
14:38تو پیغمبری پاک نے فرمایا
14:41مرآ من امیری شیعان یکریو فلی اسبر
14:44عمر بعلام لایا
14:47اور پیغمبری پاک نے فرمایا
14:59جو امیر کے اطاعت سے نکلے
15:02جو جماعت سے نکلے
15:04اگر اس کو موت آیا تو جاہلیت کے موت مرے گا
15:09اس کا تذکرہ میں نے کل تفصیل ان کیا ہے
15:14آج تیسرا حصہ
15:16میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں
15:19کہ جماعت میں اتفاق اور اتحاد
15:24جماعت میں یگانگت اور یک جہتی
15:28تب ہوگی جب دس اصول اپنائے جائے
15:33اگر اس دس اصول کو نہ اپنایا جائے
15:37کبھی بھی جماعت میں اتحاد
15:40جماعت میں اتفاق
15:44جماعت میں یگانگت نہیں آسکتا
15:49پہل آئیے
15:52کہ جماعت کا جو اصل مقصد ہے
15:55اس کو پیچانا جائے
15:58کہ اس جماعت کا اصل مقصد کیا ہے
16:02اگر جماعت کا اصل مقصد
16:05کسی کو معلوم نہ ہو
16:07تو کبھی وہ کسی ایک پہ فتوہ لگا دے گا
16:11کبھی دوسرے پہ فتوہ لگا دے گا
16:14اگر کوئی اس کو پتر ماری
16:17تو اس کے ساتھ لڑ پڑی گا
16:20دوسرے طرف سے کوئی پتر ماری
16:22اس کے ساتھ لڑ پڑی گا
16:24اور اپنے مقصد کو چھوڑ دے گا
16:26سب سے پہلی بات
16:29اپنے مقصد کو پہچاننا چاہیے
16:33ہمارا مقصد
16:35اشاد التوحید و سنہ کا مقصد کیا ہے
16:39اشاد التوحید و سنت کا مقصد ہوئے
16:43جو انبیاء علیہ السلام بیان کر رہی تھی
16:48سورہ شعراء میں کئی انبیاء کا تذکرہ ہے
16:53لیکن ہر پیغمبر
16:55جب اپنے قوم کو دعوت دیتا ہے
17:00جب اپنے قوم کو اللہ کی طرف بلاتی ہیں
17:03تو ہر پیغمبر کا ہی ان نعرہ لے
17:07اور ان نعرہ لگاتا ہے
17:09کہ میری قوم
17:12میری تابداری کرو
17:15اللہ سے ڈرو
17:16ہر دنو علیہ السلام کا تذکرہ ہے
17:20اللہ نے فرمایا
17:21کذبت قوم وین المرسلین
17:27اسکال لهم اہو امنون
17:31اللہ تدہون
17:33انی لگم رسلون امینون
17:38فتق اللہ واتیون
17:43فتق اللہ واتیون
17:47اے میری قوم اللہ سے ڈرو
17:51وہ کام نہ کرو
17:54جو اللہ کو نہ پسند دے
17:56اور نہ منظور
17:58اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹہراؤ
18:02اللہ کا کوئی شریک اور کوئی سانجا
18:07اور سادار نہیں
18:08فتق اللہ
18:12اے میری قوم اللہ سے ڈرو
18:16واتیون
18:17اور میری اطاعت کرو
18:21سب سے پہلا مقصد
18:23یہ ہے کہ اللہ سے ڈرو
18:26اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹہراؤ
18:29اور پیغمبر کی اطاعت
18:32اور پیغمبر کی تابداری کرو
18:35اشاعت و توحید و سنت کا اصل مقصد
18:39یہ صرف حضرت نو نے نہیں
18:43حضرت عود علیہ السلام نے انعرہ لگایا
18:46حضرت صالح علیہ السلام نے انعرہ لگایا
18:50حضرت شعب علیہ السلام نے انعرہ لگا
18:54سب نے کہا
18:57فتق اللہ واتیون
19:01اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
19:05اشاعت و توحید و سنت کا اصل مقصد
19:11اہمیت مقصد
19:13اصل مقصد یہ ہے کہ اللہ کی توحید کو بیان کرو
19:18اور دوسرا ہی کہ پیغمبر کی تابداری کرو
19:26دوسری بات ہے
19:28کہ قول اور عمل میں
19:31تضاد نہ ہو
19:32قول اور عمل میں موافقت ہو
19:36اگر کوئی مواحد ہو
19:39توحید تو بیان کرتا ہے
19:41شر کی تردید کرتا ہے
19:44سنت کا بیان کرتا ہے
19:47اور بدات کی تردید کرتا ہے
19:49لیکن اس کے قول اور عمل میں
19:51تضاد ہو
19:52پھر بھی وہ کام نہیں کر سکتا
19:56اور پھر وہ جماعت کو اہمیت نہیں دے سکتا
20:00اس لیے
20:02کہ اس کے قول اور اس کے عمل میں تضاد ہے
20:07اس کے قول اور عمل میں
20:10اتفاق نہیں اتحاد نہیں
20:13جیسا کہ قرآن کریم نے
20:17سورہ صف آیت نمبر دو میں ذکر کیا
20:20اللہ نے فرمایا
20:22لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ
20:29لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ
20:35کیوں کہتے ہو وہ جو خود نہیں کرتی
20:38اور سورہ بقرہ میں اللہ نے فرمایا
20:44جب یہودیوں پہ اللہ نے رد کیا
20:48تو سورہ بقرہ میں
20:50آیت نمبر چھوالیس میں اللہ فرماتے ہیں
20:55کہ اے یہود
20:57تم کیوں کرتے ہو دوسروں کو کہنا
21:01اور خود وہ کام نہیں کرتے
21:05تو اللہ نے فرمایا
21:06اَتَا مُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ
21:11وَتَنْسَوْنَا اَنفُسَكُمْ
21:15وَانْتُمْ تَدْلُونَ الْكِتَابَ فَلَا تَعْلُونَ
21:22اَتَا مُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ
21:27لوگوں کو حکم کرتے ہو نیکی کا
21:31لوگوں کو ترغیب دیتے ہو نیکی کی
21:35وَتَنْسَوْنَا اَنفُسَكُمْ وَرَابْنِ اَعْبِرَا
21:40دوسروں کو تو کہتے ہو لیکن خود اس پر عامل نہیں کرتے
21:45وَانْتُمْ تَدْلُونَ الْكِتَابَ فَلَا تَعْلُونَ
21:52حمزہِ توبیخ کو فی پہ داخل کیا
21:55وہ بے عقل ہو تمہیں عقل نہیں
21:59دوسروں کو کہتے ہو اور خود اس پر عامل نہیں کرتے
22:03تو دوسرائی کے قول اور عمل میں موافقت ہو
22:08تیسرائی کے اخلاصی نیت ہو
22:12اگر کوئی ایک کہتا ہے کہ میں جماعت کا کام کروں گا
22:17میں دین کا کام کر رہا ہوں
22:20لیکن اس میں اخلاصی نیت نہ ہو
22:23صرف نام کا شوقین ہو
22:26وہ بھی کام نہیں کر سکتا اور جماعت کا صحیر کو نہیں بن سکتا
22:32حدیث میں بھی آئے
22:34اِنَّمَا الْآمَالُ بِالنِّيَاتِ
22:39وَإِنَّمَا لِكُ الْإِمْرِ مَانَوَا
22:43یقیناً آمال کا دارمدار نیت پر ہے
22:47اگر کوئی تقریر کرتا ہے خدابت کرتا ہے
22:53درست آئے لیکن اللہ کی رضا کی نیت سے نہ ہو
22:58پیسو کی نیت سے ہو مال دولت کمانی کی ایسیت سے ہو
23:05اپنے مردوہ اور مقام بنانی کی ایسیت سے ہو
23:09پھر بھی کام نہیں ہو سکتا اور اُن جماعت کا صحیر کو نہیں بن سکتا
23:17بلکہ اُن جماعت کے ساتھ غدار ہی کرتا ہے
23:21اور اُن جماعت کا غدار بن جاتا ہے
23:25تیسرا شرط ہے کہ اخلاصی نیت ہو
23:29اگر اخلاصی نیت نہ ہو کام نہیں ہو سکتا
23:34اور جب اخلاصی نیت ہو کبھی کبار غلطی بھی کر جاتا ہے
23:39لیکن اللہ تعالیٰ ان کو بھی عجر دیتا ہے
23:43وہ حدیث میں آتا ہے
23:46تین بندی تھی
23:49اور باری شروع ایک پہاڑی کے غار میں چھپی
23:53اسی میں ایک پتر آیا
23:57رستہ بند ہوا
23:59تینوں نے زور لگا لیکن رستہ نہیں کلتا تھا
24:03پتر کو نہیں ہٹا سکتی تھی
24:06تینوں نے کہا چلے اللہ کو ایک وسیلہ پیش کریں
24:11جس نے کوئی نیک عمل کیا ہو
24:14وہ اس کو وسیلہ بنا کے اللہ کو پیش کر وسیلہ ہم مانتے ہیں
24:19لیکن وسیلہ ہے نیک عمل
24:23اپنے عمل کو وسیلہ بنا ہو
24:25یہ نہیں کہ میرا باب میرا دادا
24:28میرا فلان میرا فلان
24:30اس نے اتنا کام کیا ہے
24:32اتنا کام کیا ہے
24:34اور خود کام نہیں کرتا
24:36آج کل کی کچھ لوگ ایسے ہیں
24:42جو صاحبزادی بنی ہوئے ہیں
24:46جو پیرزادی بنی ہوئے ہیں
24:48میرے باب نے ہی کیا ہے
24:50اور میرے باب نے ہی کیا ہے
24:51تم نے جو کچھ کیا ہے
24:53وہ بتا دو
24:54تم نے کتنا کام کیا
24:57اپنے عمل کو وسیلہ بنا ہو
25:00یہ نہیں کہ میرے باب دادوں نے جو کچھ کیا ہے
25:03بس میں اس کو وسیلہ بناتا رہوں گا
25:06فلان صاحبزاد آئے
25:08اور فلان پیرزاد آئے
25:10صاحبزادی مابزادی دین میں نہیں چلتے
25:14اسی وجہ سے
25:16انہوں نے وسیلہ پیش کیا
25:20ایک نے اپنا وسیلہ پیش کیا
25:22دوسرے نے
25:23تیسرے نے کہا
25:24اللہ
25:26میرے والدین بڑی تھی
25:29میں چرواہ تھا
25:30اور جب میں دودھ
25:33لے کے آتا تھا
25:34تو پہلے اپنے والدوں کو پھلاتا تھا
25:37اس کے بعد اپنے بچوں کو پھلاتا تھا
25:40حتی کہ ایک دن میں آیا
25:43میرے والدین سوئی ہوئی تھی
25:47بچوں نے بہت چیخوں پکار کیا
25:50کہ ہمیں دودھ دے
25:51میں نے کہا نہیں
25:53جب تک والدین نہ پیئے
25:55میں آپ کو نہیں دے سکتا
25:58حتی کہ جب صبح میرے والدین اٹھے
26:02پہلے میں نے ان کو دودھ پھلا
26:04بعد میں اپنے اولاد کو پھلا
26:08اللہ
26:09اگر میں نے والدین کی حدمت
26:11آپ کے رضا کیلئے کی ہے
26:14تو ہمیں اس تکلیر سے نجات دلائے
26:19حتی کہ وہ پتر
26:21ادھر سے نکل گئی
26:22اور ان کو رستہ کل گیا
26:27علامہ رشید احمد گنگوئی لکھتے ہیں
26:30اس کا عامل ٹھیک نہ تھا
26:33بچے
26:34سوئی نہ تھی والدین سوئی تھی
26:37ان کو پھلا تھا
26:38بعد میں
26:38والدین کو پھلا تھا
26:41لیکن اس کا نیت ٹھیک تھا
26:43تو اللہ تعالیٰ نے اس کی نیت کے وجہ سے اس کو اسلحہ دیا
26:48مجھے یاد ہے
26:49حضرت شیخ القرآن بیمار تھی
26:53سردی کا محسم تھا
26:56میں اس کا پاؤں دبا رہا تھا
27:00حضرت شیخ القرآن سو گئے
27:03دعائی بھی اس وقت
27:05لیتی تھی
27:07میں وہ پاؤں دباتا تھا
27:10اور میں نہیں چھوڑا
27:12ایسا نہ ہو کہ میں چھوڑ دوں
27:15حضرت شیخ اٹھے
27:16نیند خراب ہو جائے
27:19حتی کہ اس صبح کی آزان ہوئی
27:22اور حضرت شیخ نے جب اللہ اکبر سنا
27:25اٹھی اور مجھے کہنے لگے
27:27تم ابھی تک چاپ میرے پاؤں دبا رہے ہو
27:30میں نے کہا ہاں حضرت
27:31تاکہ آپ آرام کر لے
27:34اس نے کہا
27:35آپ سوئیں نہیں سارے لات
27:38میں نے کہا نہیں
27:38صبح سو جاؤں گا
27:41حتی کہ ہم نے نماز پڑھ لی
27:44اس کے بعد میں سو گیا
27:46مجھے یاد ہے
27:48میں نے اپنے والدین کی خدمت کیا
27:51اس کا سلح آج مجھے ملتا ہے
27:54میں نے اپنے استادوں کا احترام کیا ہے
27:58کبھی کسی استاد
28:00کو میں نے خواہ نہیں کیا
28:04اور جہاں سے میں استادوں سے رخصت ہوتا تھا
28:08خواہ سرکائی مولانا صاحب تھی
28:12خواہ مولانا غلام عبیب صاحب تھی
28:15خواہ قادی شمس الدین رحمہ اللہ تھی
28:19خواہ مولانا محمد ایار باچا صاحب تھی
28:21جس استاد سے میں اجازت لیتا تھا
28:24وہ روتا تھا
28:27اخلاصی نیت نہ ہو کام نہیں ہو سکتا
28:31جماعت میں بھی اگر کام کرنا ہو
28:33تو اس کیلئے اخلاصی نیت ضروری ہے
28:38اخلاصی نیت نہ ہو کام نہیں ہو سکتا
28:41نمبر چار
28:44ارکان میں محبت ہو
28:47امیر اور معمورین میں آپس میں محبت ہو
28:51اگر جماعت میں یہ نہ ہو
28:54آپس میں لڑ پڑتے ہیں
28:57آپس میں ایک دوسری کے خلاف بولتے ہیں
29:01آپس میں ایک دوسری پہ فتوے لگاتے ہیں
29:04پھر وہ جماعت نہیں چل سکتی
29:07اسی وجہ سے
29:10سورہ فتح آیت نمبر انتیس
29:13اور سورہ حشر آیت نمبر نو میں
29:15اللہ رب العزت نے اس کا تذکرہ کیا
29:19اللہ نے فرمایا
29:21رحماؤں بینہم
29:25تراؤں رکان سجدہ
29:28یبتغونا فضلا من اللہ ورزانہ
29:35رحماؤں بینہم
29:38اشداؤں والا الگفار رحماؤں بینہم
29:44کافروں پہ سخ ہوں گے
29:45اور آپس میں محربان
29:49پیغمبر پاک کو اللہ نے فرمایا
29:52وَالَّذِي أَيَّدَكَ بِنْ اسْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَا
29:57وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ
30:01وَلَوْا أَنفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا
30:05مَا أَلَّفْتَ بِيْنَ قُلُوبِهِمْ
30:08وَلَاكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ
30:12جب آپس میں محبت نہ ہو
30:15آپس میں پیار نہ ہو
30:17ساتھیوں عراقین جماعت کا
30:21آپس میں اتحاد اور اتفاق اور محبت نہ ہو
30:26کبھی بھی جماعت نہیں چل سکتا
30:28نمبر پانچ
30:32عیسار ہو
30:33اے کہ محبت ہو رہے کہ عیسار
30:37محبت دل میں ہوتا ہے
30:39اور عیسار یہ
30:41کہ مجھے کہنا اچھا لگی
30:44میں اپنی بائی اپنی رکن اور اپنی ساتھی کو دینا چاہوں
30:49مجھے پیسی لگی
30:51اچھے تو میں چاہتا ہوں
30:53کہ یہ پیسے مجھے ملنے کے بجائے
30:56میرے ساتھی کو ملے
30:59میں اپنے مدرسے کا سوچتا ہوں
31:01تو اس سے یہ بہتر سمجھو
31:04کہ میں اپنے ساتھی کو یہ دعوت دوں
31:07کہ ان کے ساتھ تعاون کرو عیسار
31:10وَيُوسِرُونَ عَلَىٰ اَنفُسِهِمْ وَلَوْكَانَ بِهِمْ خَسَاسَا
31:19وَيُوسِرُونَ عَلَىٰ اَنفُسِهِمْ
31:22وَلَوْكَانَ بِهِمْ خَسَاسَا
31:27اپنے ساتھیوں کو اپنے ایک فوقیت دیتا ہے
31:33نمبر چھے سطرِ غیوب
31:37جب عراقین میں جماعت کے افراد میں سطرِ غیوب نہ ہوئے ایک دوسری کا
31:43پھر بھی جماعت نہیں چل سکتا
31:46یہ نہیں کہ ایک کے ساتھ بیٹھے
31:50تو دوسری کی غیبت کریں
31:52دوسری کے ساتھ بیٹھے تو تیسری کی غیبت کریں
31:56کچھ لوگوں کی عادت ہوتا ہے
31:59سورہِ حجرات میں آدم مربارہ میں اللہ نے فرمایا
32:06وَلَا تَجَسَسُوا وَلَا يَعْتَبَادُكُمْ بَادَا
32:13وَلَا تَجَسَسُوا ایک دوسری کی جاسوسی نہ کرو
32:17وَلَا يَعْتَبَادُكُمْ بَادَا
32:22اور آپ میں سے بعضِ بعضوں کی غیبت نہ کرو
32:27ابودعود میں ایک روایہ تھی
32:30صحابہِ کرام ایک رست بھی جا رہی تھی
32:33پیغمبرِ پاک کے ساتھ
32:35اسی وقت اسی تونے سے پہلے
32:38ایک صحابی کو رجم کیا گیا تھا
32:43تو ایک نے دوسرے کو کہا رجم رجم القلب
32:47اس کو ایسے پتر لگی جیسے کہ کسی کتے کو مارتا ہے
32:52نبی علیہ السلام نے سنا
32:55ابودعود باب الرجم میں یہ روایت ہے
32:58تو نبی علیہ السلام نے کچھ نہیں کہا
33:01توڑے سے آگی جب گی
33:04تو ادھر ایک گدہ مرا ہوا پڑا تھا
33:10رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانی لگی
33:13قَالَ اِنَا فُلَانُ وَفُلَانُ فُلَانُ وَفُلَانُ فُلَانُ وَفُلَانُ کہا ہے
33:20قَالَ نَحْنُ زَانِي يَا رَسُولَ اللَّهُ
33:25کہنے لگے اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ السلام
33:29ہم موجود ہیں معذر ہیں
33:32فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ السلام نے
33:36انزلا فَقُلَا مِن جِ فَتْحَادَ الْخِمَارُ
33:42اُتر جاؤ اور اس مردِ گدی کی گوشت کہو
33:48صحابہ اکرام سمجھنے لگے
33:50کہنے لگے قَالَ مَحِنَا غُلَانٍ حَادَا
33:55یا رسول اللہ
33:57یا اللہ کے رسول ہی بھی کوئی کہے گا
33:59نبی علیہ السلام نے فرمایا
34:02ابھی تم اپنے بائی کی عزت جب لیتی تھی
34:06اسے بہتر ہے کہ مردِ گدی کا گوشت کہو
34:10اپنے ساتھیوں کی غیبت
34:14اپنے ساتھیوں کی بے عزت ہی
34:18یہ نہیں ہونا چاہیے
34:20بلکہ سطل عیوب ہونا چاہیے
34:23نمبر ساتھ تبین اور تحقیق
34:27کسی نے تمہیں اپنے
34:30ساتھی اور اپنے رکن کی بارے میں کہا
34:33کہ فلانے ہی کہا ہے فلانے ہی کہا ہے
34:35تحقیق کرتے رہو
34:37ایک دفعہ مجھے ایک دو علمائی کرام نے پنجاب کی ساتھی ہیں
34:45مجھے کہا کہ فلان نے فلان فلان کو کہا ہے
34:48کہ آپ امیر صاحب کی خلاف
34:53میڈیا پہ لکھتے رہے
34:55اس کے بارے میں ایک کہتے رہے ہی کہتے رہے
34:59تاکہ امیر صاحب مجبور ہو جائے اور استعفہ دے
35:04یا امیر صاحب فلان کے ساتھ
35:06صلاح کرے
35:08میں نے ان کی بات کو چھپا کے اپنے دل میں رکھا
35:12میں نے دوسرے بائی سے نفرت کی
35:16نہ ان کو بتایا
35:18اگر میں ان کو بتاتا تو ان دونوں کا پس میں اختلاف پڑ جاتا تھا
35:24بلکہ اشارتن اشارتن
35:27جس کے بارے میں مجھے کہا گیا تھا
35:30میں نے اشارتن اشارتن اس کو کہا
35:33کہ کچھ لوگ ایسے ہیں کہ میرے بارے میں ہی کہہ رہے ہیں
35:36مجھے مجبور کر رہے ہیں ان کو یہ پتہ نہیں
35:39کہ میں کسی سے مجبور نہیں ہو سکتا
35:43میں میڈیا سے مجبور نہیں ہو سکتا
35:47میں نے کبھی اپنا حوصلہ نہیں آ رہا ہے
35:51میں نے حضرت شیح سے وعدہ کیا تھا
35:54کہ ہم آپ کی جماعت کو انشاءاللہ وہاں تک پہنچائیں گے
35:59جہاں آپ نے نہیں پہنچایا ہے
36:01اور اپنے اپنے وعدے کو نبایا
36:05میں نے کچھ باتیں ایسے ہوتی ہے
36:09جو سٹیج بھی کوئی نہیں کہہ سکتا
36:12لیکن ایک بات میں آپ کو کہنا چاہتا ہوں
36:17میری جب شادی ہوئی
36:20تو میں نے اپنے آلیہ سے کہا
36:23کہ میرا والد بڑا ہے
36:27ممکن ہے دو تین سال رہی یا نہ رہی
36:30اس کے بعد میری سر پہ میری ذمہ
36:34بہت بڑی سی مداری آئے دھوتی ہے
36:37اس کو نبانا ہوگا
36:40اس کام کام کو آگے لے جانا ہوگا
36:44کبھی کبھار ایسا ہوگا
36:47کہ میں دو تین دن باہر رہوں گا گھر میں نہیں ہوں گا
36:52کبھی کبھار ایسا ہوگا
36:55کہ ایک وقت کی روٹی ملے گی دوسری کی نہیں ملے گی
36:59غربت بھی آئے گا
37:01مجھے یہ پتانا تھا
37:04کہ اللہ تعالیٰ مجھے اتنے نعمتوں سے نوازے گا
37:08تو میں نے اپنے اہلیہ سے کہا
37:11ابھی تک میں نے آپ سے ہاتھ نہیں لگایا ہے
37:15اگر آپ میرے ساتھ
37:18زندگی بسر کرنا چاہتی ہو
37:21تو یہ تیار رہو
37:23کہ کانا ایک وقت ملے گا
37:25دوسرے وقت نہیں ملے گا
37:28میں آفتوں آفتوں
37:30مہینوں مہینوں باہر رہوں گا
37:33کیونکہ میں جماعت کا کام میں مصروف ہوں گا
37:36تو اگر میرے ساتھ زندگی گزار سکتے ہو ٹھیک ہے
37:40نہیں گزار سکتے
37:42تو اپنے گھر آپ کو اجازت نہیں جانی کی
37:45مجھے کہا گیا
37:47میں آپ کے ساتھ
37:50بھوگ اور پیاس گزارنا تو در کنار
37:53میں آپ کا ساتھ نباؤں گا
37:56اور نباؤں دیا
37:58الحمدللہ
38:01میں نے او کام جس کے اپنے سر بھی لیا تھا
38:05ذمہ داری نہیں تھی
38:07میں میڈیا سے کبھی بھی مروم نہیں ہو سکتا
38:10میں کسی کے روب سے مروم نہیں ہو سکتا
38:14میں کسی پروپیگنڈی کا شکار
38:18نہیں ہو سکتا
38:19میں اپنے مقصد
38:21کو اہمیت دیتا ہوں
38:23جماعت کو آگے لے جانی کیلئے
38:26جو کچھ قربان کرنا ہو
38:28خواہ میری جان قربان ہو جائے
38:31انشاءاللہ یہ جماعت چلاتا رہوں گا
38:34اور جماعت انشاءاللہ ترقی کرتا رہے گا
38:38قرآن کریم میں
38:40اللہ نے فرمایا سورہ حجورات
38:42آدھ نمبر چھے میں
38:44وَإِن جَاَقُمْ فَاسِقُمْ مِنَ بَإِنْ فَتَبَيَّنُوا
38:50وَإِن جَا كُمْ فَاسِكُمْ بِنَبَئِن فَتَبَيَّنُوْ
38:57فَاسِكَ مَنَعَي بِأَتِبَارُ
39:00اگر کوئی بے اعتبار تمہارے پاس آئی
39:04تمہارے پاس کسی کی غیبت لائی
39:08فَتَبَيَّنُوْا اس کا تبعیون کرو
39:12مال تحقیق کرو
39:15بغیر تحقیقی کسی سے
39:18خفا ہونا
39:20بغیر تحقیقی کسی پہ اعتراض کرنا
39:23بغیر تحقیقی کسی کے ساتھ دشمن ہی نہیں کرنا چاہیے
39:28تب جماعت چلے گی
39:30نمبر آٹھ
39:33غفا اور درگزر کرنا
39:35یہ نہیں کہ ایک ساتھی نے تمہاری مخالفت کی
39:39بس زد پہ آ گئی
39:42اور وہ میرا دشمن ہے
39:44اس نے یہ کہا تھا
39:45اس نے وہ کہا تھا
39:47میرا ایک شاگرد بھی تھا
39:50ایک موقع پہ پتہ نہیں اس کو کیا
39:54شیطان نے وسوسہ ڈالا تھا
39:56اس نے کچھ گھالیاں دی
39:58کچھ باتیں کی
40:00میرے اہلیہ کے بارے میں بھی اس نے الزامات لگائے
40:04میں نے سوچا کہ اس کو بھی پتا ہے اور مجھے بھی پتا ہے
40:09میں نے بالکل اس کا پرواہ نہیں کیا
40:12اس نے کئی دفعہ بندی بیجی
40:15میں معافی مانگتا ہوں آپ کے پاس آتا ہوں
40:18میں نے کہا ہی سب کچھ برداشت کر سکتا ہوں
40:22لیکن تم نے جو کچھ کہے وہ برداشت نہیں کر سکتا
40:26گھر میں بیٹھا تھا
40:28تو میں نے یہ بات اپنے گھر میں کہی
40:32امی امان نے مجھے کہا
40:34تمہیں گھلیاں دیتی یا مجھے دیتی
40:37میں نے کہا تمہیں
40:38اس نے کہا یہ ہمارے بچے ہیں
40:41میں معاف کرتی ہوں
40:44تمہیں کی آکھیں کہ تم معاف نہیں کرتے
40:46اس نے کہا آپ نے غصہ دلایا تھا
40:50غصے میں تو لوگ سب کچھ کہتے ہیں
40:52ان کو بھی پتا ہے تمہیں بھی پتا ہے
40:55مجھے بھی پتا ہے
40:56معاف کر دو
40:58میں نے سوچا
40:59کہ ایک خاتون کی یہ ذہن ہے
41:02مرد کی تو چھوڑ دے
41:04عفا اور درگزر کرنا
41:07اور اسی وجہ سے پیغمبر پاک کو
41:11اللہ تعالی نے فرمایا
41:15لَقَذَفَا أَنْكُمْ
41:16لَقَذَفَا اللَّهُ أَنْهُمْ
41:19فَا فَا أَنْهُمْ وَاسْفَا
41:21ان کو عفا کر دو
41:23درگزر کر دو
41:25ہاں ادھر ایک بات ہے
41:27کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں
41:30جو ناسمجھی کی وجہ سے غلط کام کرے
41:35ناسمجھی کی وجہ سے گالی گلوچ دے
41:39ناسمجھی کی وجہ سے تمہاری مخالفت کرے
41:42اس کو عفا اور درگزر کرو
41:45اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو منافق ہوتے ہیں
41:48جن کا عادت ہی ہے
41:51تو اس کی باری میں اللہ نے فرمایا
41:54پیغمبر پاک کو
41:56کہ اگر تمہاری ساتھ نکلتی ہیں
41:59تو ان کو کہ دے
42:07میرے ساتھ نہ نکلو
42:08میرے دشمن سے نہ لڑو
42:11چلو اپنا کام کرو
42:13منافق کو اپنے ساتھ نہ چھوڑ دو
42:15اور جو غلطی کر گئی
42:18اس کو عفا اور درگزر کرو
42:21نمبر نو
42:23توازو اور ان کی ساری ہونا چاہیے
42:26یہ نہیں
42:27کہ میں بہت بڑا عالی بھوں
42:29میں بہت بڑا خطیب ہوں
42:32میں بہت بڑا مقرر ہوں
42:34میرے مناسب کوئی ہے نہیں
42:38یہ میرے شان کے مناسب نہیں
42:40یہ باتیں نہ کرو
42:42میں اولاد فلان ہوں
42:45اور میں اولاد فلان ہوں
42:46میں خاندانی اتنا بڑا ہوں
42:49یہ نہ کہو
42:50ان کے ساری اور عاجزی
42:53اور جس میں ان کے ساری اور عاجزی نہ تھا
42:57اس کو دیکھے عبلیس کا حال
42:59جسے کہا
43:01خلق دنی من ناری
43:03و خلق دو من تین
43:05مجھے آگ سے پیدا کیا
43:09اور اس کو مٹی سے پیدا کیا ہے
43:11میرے اور ان کی درمیان فرق ہے
43:15میں کیوں ان کی سامنے سجدہ کروں
43:18اس میں تکبر آیا
43:20اس میں ان کے ساری نہ تھی
43:23اسی وجہ سے
43:24اُس ظلیل و رسوہ ہو گیا
43:26کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں
43:28ان کے پاس جب
43:30اراکین جماعت جاتے ہیں
43:32تو پہلے تو ہاتھ نہیں ملاتے
43:35اور پھر اگر ہاتھ ملاتے تو
43:38دو انگلیاں ملاتے ہیں
43:39اور اپنے ارکان کو کوئی حیثیت ہی نہیں دیتی
43:44ہاں توڑا بہت تو میں نے اس کو سمجھایا
43:49توڑا بہت ان کا ہوش آگیا ہے
43:52لیکن تکبر نہیں ہونا چاہیے جماعت میں
43:56ہر سادھی کو اپنے اوپر حیثیت دے
44:00اپنے آپ میں آجزی پیدا کرے
44:03سورہ آراف آیت نمبر گیارہ میں
44:06اس کا تذکرہ ہے
44:08میں اختصار اختصار سیجی وجہ سے کہتا ہوں
44:12کہ بہت سارے علماء ہیں
44:15ہم تو ان کے خطابات سننی کیلئے
44:19یا جمعے
44:20میں تو ویسی بھی
44:23اتنا اچھا نہ خطیب ہو اور نہ مقرر ہو
44:26اسی وجہ سے میں اختصار اختصار سے
44:29اپنی بات کو سمیٹھتا ہوں
44:32نمبر دس ہی
44:35کہ آپس میں مشورہ ہو
44:38لیکن مشورہ کیلئے
44:41یہ نہیں
44:42کیا رہے کہ آپ کو مشورہ دیتا رہے گا
44:46نہیں
44:48امیر کو چاہیے
44:50رہبر کو چاہیے
44:52رہنما کو چاہیے
44:55کہ ایک مسئلہ اس کو پیش آئے
44:58تو وہ اصحاب الہلے والاقت سے
45:03خوشیار علماء سے
45:05اصحابی شورہ سے مشورہ لے
45:08یہ نہیں کہ ہر ایک اس کو مشورہ دیتا ہے
45:11آج کل تو فیس بک کا زمانہ ہے
45:14یہ فیس بک نہیں ہے ایس بک ہے
45:17تو اس بھی مشورہ ہے
45:18ہر ایک مشورہ دیتا ہے
45:19امیر کو یہ چاہیے
45:21امیر کو یہ چاہیے
45:22امیر کو یہ ہونا چاہیے
45:24یہ سا کرنا چاہیے
45:25تمہیں کس نے حق دیا ہے
45:27کہ تم امیر کو مشورہ دیتے رہو
45:30امیر کو اللہ نے حکم دیا ہے
45:32اللہ نے فرمائے
45:36وَشَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ
45:40وَشَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ
45:43امیر کو قائم کو مشورہ دے کام میں
45:46انسی مشورہ لے کام میں
45:49تنظیمی امور میں مشورہ لے
45:52تنظیمی امور میں
45:54ان کو مشورہ دے
45:56وَشَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ
45:59اور سورہ شورہ میں
46:01اللہ نے فرمایا
46:02وَأَمْرُهُمْ شُورہ بَيْنَهُمْ
46:05ان کا کام اور ان کا
46:08تنظیمی امور میں مشورہ ہو
46:11مشورہ لے نا یہ
46:12ہر ایک کہا کے
46:14لیکن جب ضرورت پڑے
46:16ہم شورہ کے عراقین سے
46:18مشورہ لیتے ہیں
46:20آج کل تو
46:21ہر ایک ہمیں مشورہ دے تھا
46:23ایسا ہونا چاہیے
46:25ایسا کرنا چاہیے
46:26امیر کو ایسا کرنا چاہیے
46:27تمہیں کس نے یہ حق دیا ہے
46:30امیر کو پتائے
46:31کس نے مشورہ لے نا ہے
46:33اور پھر اللہ نے فرمایا
46:36جب آپ مشورہ لیں
46:39تو پھر عظم اور توقل
46:41یہ امیر کا کام ہے
46:43اللہ نے فرمایا
46:45وَشَاوِرُمْ فِي الْأَمْرِ
46:48فَإِذَا عَظَمْتَا فَتَوَقَّلَ لَلَّا
46:52اللہ نے نہیں فرمایا
46:56فَإِذَا عَظَمْتُمْ فَتَوَقَّلُوا لَلَّا
47:00بلکہ اللہ نے فرمایا
47:32فَإِذَا عَظَمْتَا
47:33پھر آگے کام امیر کائے
47:36فَإِذَا عَظَمْتَا فَتَوَقَّلَ لَلَّا
47:40امیر عظم کرے اور پھر توقل
47:44اللہ اور پھر آپ دیکھیں کہ کام کیسے ہو سکتا ہے
47:47یہ اجتماع جب میں نے عظم کیا
47:52اور میں نے شروع کیا
47:54تو چند بندی تھی
47:56آہستہ آہستہ بڑھتے رہے
47:59مجھے آدھے سردی کا موسم تا
48:02چند ساتھی تھی اور دار القرآن بن رہا تھا
48:08مسجد بن رہی تھی
48:09پہلی تقریر
48:11اللہ محمد جمشید نے ادھر کیا تھا
48:14اور میں نے زبردسی پہ اس کو پشتوں کا کہا تھا
48:18کہ پشتوں میں تقریر کر لو
48:19اس نے کہا میں پشتوں نہیں بول سکتا
48:22تقریر نہیں کر سکتا
48:23میں نے کار کرو گی
48:25اور چند بندی تھی
48:28اور جب رات کو مجھے آدھے
48:30ایک بجا پروگرام ختم ہوا
48:34تقریبا دو
48:35ڈائی بجی تھی
48:37مجھے احساس ہوا
48:39کہ سردیے شاید کسی کے پاس
48:42بسترہ نہ ہو
48:43میں گھر سے نکلایا
48:46مدرسہ سارے سوئی ہوئی تھی
48:48کچھ ایسے ساتھی تھی
48:50جو سوئی تھی
48:52وہ ٹنڈ کی وجہ سے وہ کام پر رہی تھی
48:55میں گھر جاتا تھا
48:58ایک ایک سرحانہ
49:00ایک ایک بستر
49:01ایک ایک کمبل لے آتا تھا
49:04اور ایک ایک پیو پر بچھاتا تھا
49:07جب یہ محبت ہو
49:09وہ جماعت کمی ناکام نہیں ہو سکتا
49:12یہ جماعت کمی کامیابی سے دور نہیں ہو سکتا
49:18وہ جماعت ہمیشہ کامیاب اور کامران رہتا ہے
49:22اور الحمدللہ اس کا یہ اثر ہے
49:25کہ آپ دیکھیں سمندر
49:27انسانوں کے سروں کا سمندر
49:29یہ اس اخلاص کے نتیجے ہیں
49:32میں نے آج آپ کو یہ بتانا تھا
49:35کہ جماعت میں افتراک اور اختلاف
49:40اندرونی لوگوں کی وجہ سے ہوتا ہے
49:43اس کا علاج ہے
49:45کہ ان اصول کو اپنائے جائے
49:48اور علاج ہے
49:51کہ اپنے امیر کے ساتھ چمٹتے رہو
49:54اپنے امیر کے ساتھ متحد اور متفق رہو
49:59اگر کوئی امیر کی مخالفت کرے
50:02جماعت کی اصول کی مخالفت
50:05اس کو اکیلا چھوڑ دو خود بہتی کو جائے گا
50:08یہ نہیں کہ ان کا بھی گروپ بنا دو
50:11ان کا بھی گروپ بنا دو
50:13ان کا بھی بنا دو
50:14یہ بھی اچھا ہے وہ بھی اچھا ہے
50:16پھر جماعت نہیں چل سکتا
50:18آپ سب کا اس پہ اتفاق ہے
50:22کہ ایک امیر کی اطاعت کرو گی
50:25اس پہ آپ کا اتفاق ہے
50:28کہ ایک امیر کی اطاعت ہوگی
50:31آپ کا میرے ساتھ وہ عادہ ہے
50:34حلفیہ بیان ہے
50:36کہ ایک امیر کی اطاعت ہوگی
50:38انشاءاللہ جماعت شلے گی
50:42قائدنا جيد
50:49جرّت و بهادری
50:51قائدنا جيد
50:55قائدنا جيد
50:58فدلو يجتماعكي
51:01مندخ بالقائد محترم سرا
51:04دا تجدید عهد و اوباكو
51:07جرّت و محترم
51:10مندخ بالقائد محترم
51:11مندخ بالقائد
51:11و شاگردانیو
51:14یو بگنا
51:17دول دخبل دا مبایل لیو
51:19تناؤنا گوئی قائد محترم ترا حزیرائی ثبوت وارکی
51:23پرندار کی شادت دیارد
51:26مرگریخ کارینا
51:27دول لیو تناؤنا گوئی
51:29دا دا مندخ بالقائد محترم سرا عهد تا
51:33جرّت و محترم
51:35منگ بستا شاگردانیو
51:39او طلبه اسیگو
51:41منگ با
51:43همیشان میزان تییبو
51:56ترجمة نانسي قنقر
52:15سوچ رقائد محترم تنمیزان دی
52:20انشاءاللہ
52:21خبر تعوان بکوم خود جماعت تعوان بنکوم
52:26زباد جماعت خیر خواهی لٹوم
52:29کہ زماد تعوان بکیوم زباد جماعت خیر خواهی لٹوم
52:34انشاءاللہ
52:37زباد بزر
52:38کل انشاءاللہ میں
52:41وہ چوتھا حصہ اپنی تقریر کا
52:47آرام سے بیٹھیں
52:49بیٹھیں آرام سے
52:53انشاءاللہ
52:56کل میں اپنی تقریر کا چوتھا حصہ
53:01وہ بیان کروں گا
53:04اور وہ یہ
53:06کہ انشاءاللہ میں یہ بتاؤں گا
53:12کہ رائیت کی ذمہ داری کیا ہے
53:17اور رائی کی ذمہ داری
53:21حکومت کی ذمہ داری
53:23عرباب اقتدار کی ذمہ داری
53:26اور عوام کی ذمہ داری کیا ہے
53:30کل انشاءاللہ میں اسی بھی بات کرلو گا
53:35کوئی یہ نہ سمجھے
53:37کہ میں کسی کا چمچہ ہوں
53:40یا مجھے کسی کی
53:43تعاون کی ضرورت ہے
53:45یا میں حکومت سے دبا ہوا ہوں
53:49یا میں کسی خاص پارٹی
53:52کسی خاص وزیر اور کسی بادشاہ کا پابند ہوں
53:57لیکن اپنے جو میری علم میں ہے
54:01جو میری ذمہ داری ہے
54:04انشاءاللہ میں آپ تک پہنچاؤں گا
54:06میں یہ کل بتاؤں گا
54:10کہ حکومت کی ذمہ داری کیا ہے
54:12اور رائیت کی ذمہ داری کیا ہے
54:15خواہ کوئی خوش ہو اور نا خوش ہو
54:17ہم نے ہمیشہ
54:20یہ پرواہ کسی کا نہیں کیا ہے
54:23اپنی بھی ناخوش ہے اور بے گانی بھی ناخوش
54:27نیزاری حلائل کو کبھی کہنے سکا کند
54:30و آخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین

Recommended