Skip to playerSkip to main content
دسمبر 1872 میں بحر اوقیانوس کے کھلے پانیوں میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے دنیا بھر کے محققین کو حیران کر دیا۔ برطانوی بحری جہاز دی گراشیا کے عملے کو میری سیلسٹ نامی ایک امریکی تجارتی جہاز بغیر کسی انسان کے تیرتا ہوا ملا۔ جب عملہ جہاز پر چڑھا تو انہوں نے دیکھا کہ جہاز پر موجود تمام سامان اور تجارتی الکحل بالکل محفوظ تھی۔

حیران کن بات یہ تھی کہ عملے کا کوئی بھی فرد وہاں موجود نہیں تھا، مگر ان کا تمام ذاتی سامان اپنی جگہ پر موجود تھا۔ جہاز کا لائف بوٹ غائب تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ لوگ جلدی میں جہاز چھوڑ کر گئے تھے۔ جہاز پر کسی تشدد، لڑائی یا لوٹ مار کے کوئی آثار نہیں ملے تھے، اور جہاز پر چھ ماہ کا کھانا پینا موجود تھا۔

کپتان بینجمن برگز، ان کی بیوی، بیٹی اور سات رکنی عملہ پراسرار طور پر ہمیشہ کے لیے غائب ہو گئے۔ تاریخ دان آج تک بحری قزاقوں، خوفناک طوفان یا صنعتی گیس کے دھماکے کے خطرے پر بحث کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ میری سیلسٹ کا سچ آج ڈیڑھ سو سال بعد بھی ایک راز ہے۔

#MaryCeleste #HistoryMysteries #GhostShip #UrduStories #MysteryShip #OceanMysteries #تاریخی_حقائق

اعلان: یہ ویڈیو معلوماتی اور تفریحی مقاصد کے لیے بنائی گئی ہے، کہانی عوامی ذرائع پر مبنی ہے اور تصاویر صرف خیال کو واضح کرنے کے لیے ہیں۔

Category

📚
Learning
Transcript
00:00In the sea, there was no one without any person.
00:03The captain Benjamin Burggs and his entire war was still there.
00:06There was only 6 months in the sea.
00:08There was only a small lifeboat in the sea.
00:11People had to kill or kill or kill.
00:14Where did you think of them?

Recommended