00:13It is a good thing to do because it is a good thing.
00:18It is a good thing to do because people were afraid of TV patients.
00:20ڈرتے تھے لوگ اسے اب جو انہوں نے جو سماج میں ان کا بھی ایک رو رہا ہے جو ہمارے
00:27ڈاکٹر صاحبان ہے اور یہ دیش سے اس کو پوری طور سے اس کا خاتمہ ہو جائے اس کی طرف
00:32گامزن ہے دیش اس کے دیش کے ساتھ ساتھ ہمارا زلہ بھی میں بہت خوش ہوا جب میں نے سنا
00:37کہ یہ شاید جمع کشمیل میں دوسرا زلہ ہے جلا پرواما جہاں سے ٹی بی کا پوری طرح سے پھر
00:45ہوا ہے اور خاتمی کی طرف پوری طرح سے خاتمی طرف گامزن اس کے لئے
00:49سی امس صاحبہ ہماری ٹی بو یہاں میں بی امو جتنے بھی بی امو چار بی امو ہے ہمارے یہاں
00:54کے ڈسٹرک آف سٹیرمین کا بڑا مشکور ہے انہوں نے لوگوں کو جان کری دی ہے کوئی سٹیگنا ہمارے جوان
01:01والنٹیرز ہیں اپنے جوش ٹیم ہیں جو جیسے ہمارے نیشنل ان سی سی کے کیاڈیٹس سارا ان جو محلو ترینڈ
01:09ملکلسن ڈپارٹمنٹ کے سارے ملازمان رات دن کوشش کر رہے تاکہ یہ یہاں سے انسانیت سے یہ دور ہو
01:16جائے اور ہمارے لئے اور کیا چاہیے شفا ہونی چاہے لوگ اسے موقت رہے ہیں اور لوگ اسے میری گزارش
01:21رہے ہیں یہ کوئی ایسی بیماری نہیں جس کا علاج نہیں ہے ہم آپ دیکھتے ہیں قرآن میں بھی لکھا
01:27ہے کوئی بھی بیماری جب ہوترتی اللہ اس کا علاج ضرور نیچے اس کے ساتھ ہی بیجھتے ہیں یہ قدرت
01:32کا قانون ہے اور اس کا بھی آپ علاج ہے اس کا محفت بھی اور انہوں نے ایک ہزار روپیا
01:37بھی ان کو دے رہے ہیں دورمنٹ اپنی طرح سے پوری کشش کرے لوگوں سے بھی گزارش ہے
01:41اگر کسی جگہ کسی محلے میں ہے کسی گاؤ میں ہو لوگوں کا آگیا آنا چاہے آپ اس میں درنے
01:46کی بات رہی ہے اب اس کا علاج ہے اور ہماری جو میڈیکل ہیلس میڈیکل ٹیم رہتی ہے یہ کوشن
01:52رہتی ہے اور ان کے دروازے پہ یہ جائے گی آپ نئے سینسی طریقے سے جسے ہی اس کا علاج
01:57آسان بھی اور ان کے لیے ہو
01:59اسی بات سے جب سے دیش آزاد ہویا ہے بڑی کوشش رہی ہے گورنمنٹ آف ہیلیا میں جتنے بھی گورنمنٹیں
02:05آج تک آئی ہیں بڑی کوشش رہی ہے اور یہ جو پیزنٹ جو سسٹم چاہ رہا ہے میں یقین کرتا
02:11ہوں دوہزار تیس سے نہیں اسے پہلے اس کا کھائج پہنچ رہے گی