Skip to playerSkip to main content
پاپوا نیو گنی کے گھنے جنگلات میں ایک ایسا پرندہ پایا جاتا ہے جو قدرتی طور پر زہریلا ہے۔ اس پرندے کا نام ہوڈڈ پٹوہوئی ہے۔ سن انیس سو نانوے میں سائنسدانوں نے پہلی بار یہ دریافت کیا کہ اس پرندے کو چھونے سے جلد پر جلن اور سن ہونے کا احساس ہوتا ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس پرندے کی جلد اور پروں میں باتراکوٹوکسن نامی خطرناک زہر موجود ہوتا ہے۔ یہ وہی زہر ہے جو کولمبیا کے زہریلے مینڈکوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ زہر اعصابی نظام پر حملہ کرتا ہے اور زیادہ مقدار میں ہو تو دل کی دھڑکن روک سکتا ہے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پٹوہوئی پرندہ یہ زہر خود پیدا نہیں کرتا۔ یہ پرندہ جنگل میں موجود چوریسائن نامی زہریلے بیٹل کھاتا ہے۔ ان کیڑوں کا زہر پرندے کے جسم اور پروں میں جمع ہو جاتا ہے بغیر اسے نقصان پہنچائے۔

مقامی لوگ اس پرندے کو کڑوا پرندہ بھی کہتے ہیں اور اس کا شکار کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ قدرت کا یہ نظام پرندے کو شکاریوں اور پرجیوی کیڑوں سے محفوظ رکھتا ہے۔

#Pitohui #AmazingAnimals #UrduFacts #NatureMysteries #WildLifeUrdu #PoisonousBirds #PakistanFacts #ScienceInUrdu

تنبیہ: یہ ویڈیو صرف معلومات اور تفریح کے لیے بنائی گئی ہے۔ تمام معلومات عام ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں اور تصاویر اصل واقعے کی وضاحت کے لیے استعمال کی گئی ہیں۔

Category

🐳
Animals

Recommended