Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
We are happy to see you here.
Just check our website
saeedahmedashrafi.com

Category

📚
Learning
Transcript
00:00Allah Rab العالمين کا فرمان ہے
00:02کہ شهر رمضان الذي انزل فيه القرآن
00:04کہ ماه رمضان وہ مہینہ ہے
00:06جس میں ہم نے قرآن کو نازل کیا
00:09دوسری جگہ ارشاد ہے
00:11کہ اِنَّا اَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ
00:13کہ ہم نے اس قرآن کو لیلت القدر میں نازل کیا
00:16یہ قرآن کا پہلا نزول ہے
00:18یعنی لیلت القدر میں جس میں ذول کا ذکر ہے
00:21یہ قرآن کا پہلا نزول ہے
00:23کہ جلوہ محفوصے آسمان دنیا پر بیت العزت میں اترا گیا
00:27چنانچہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے
00:31فرمایا کہ قرآن آسمان دنیا کی طرف لیلت القدر میں نازل ہوا
00:35اس کے بعد وہ بیس سالوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا گیا
00:41حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیس سال فرمائے
00:44جبکہ جمہور کا موقف تئیس سال ہے
00:47اور یہی درست ہے
00:48آپ رضی اللہ عنہ کا بیس سال کہنا اس اعتبار سے تھا
00:51کہ ابتدا میں تین سال ایسے بھی گزرے جن میں وحی کا سلسلہ موقف رہا
00:56تو اگر پہلے تین برس جو وقوف وحی کے ہیں
01:00انہیں اگر نکال دیا جائے تو بیس سال ہی بنتے ہیں
01:02یہاں اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے
01:05کہ قرآن پہلے آسمان دنیا پر کیوں اترا گیا
01:08ایک ہی بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیوں نہ اترا گیا
01:12یا ڈائریک لوہ محفوظ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر
01:16بیس یا تئیس سال کے مدت میں کیوں نہ اترا گیا
01:18آسمان دنیا پر نزول کی ضرورت کیا تھی
01:21اس کا جواب بھی ہے کہ چونکہ قرآن
01:23اللہ تعالیٰ کی بہت اہم کتابوں میں سے
01:25سب سے اہم ترین کتاب ہے
01:27اس لیے اللہ تعالیٰ نے چاہا
01:29کہ تمام ملائکہ اور آسمانی مخلوق
01:31اس بات سے آگا ہو جائے
01:33کہ یہ وہ آخری کتاب ہے
01:34جو سب سے زیادہ عظیم تر ہے
01:36اور اسے زمین پر انسان کی ہدایت
01:38کے لیے اتارا گیا ہے
01:41امام ذرکشی علی رحمہ نے یہی حکمت
01:43بیان فرمائی
01:43ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ
01:46رضی اللہ تعالیٰ فرماتی ہیں
01:48کہ سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
01:50پر وحی کا سلسلہ جو شروع ہوا
01:52وہ نیند میں اچھے خواب تھے
01:54تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم
01:56جو خواب دیکھتے وہ طروع فجر کی طرح
01:58پورے ہو جاتے
01:59پھر آپ کو تنہائی پسند کرا دی گئی
02:01آپ صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حرہ میں جا کر
02:04کئی کئی راتیں مسلسل عبادت فرماتے
02:06نہ گھر آتے نہ کھانا کھاتے
02:08پھر جب گھر تشریف لاتے تو
02:10حضرت ختیجہ رضی اللہ تعالیٰ
02:12آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو
02:13مزید کچھ دنوں کا کھانا تیار کر کے دیتی
02:16اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم
02:18واپس غار میں تشریف لے جاتے
02:20یہاں تک کہ آپ پر قرآن
02:21نازل کیا گیا
02:22آپ غارِ حرہی میں تھے
02:24فرشتہ یعنی جبریل علیہ السلام
02:26آپ کے پاس آیا
02:27اور کہنے لگا کہ اقرآ
02:29یعنی پڑھیں
02:30آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارت فرمایا
02:33میں پڑھنے والا نہیں
02:34آپ فرماتے ہیں تو فرشتہ نے مجھے پکڑ کر دبایا
02:38اور سارا زور لگا دیا
02:39پھر مجھے چھوڑا
02:41اور پھر کہا کہ پڑھیں
02:42میں نے کہا میں پڑھنے والا نہیں
02:44اس نے پھر مجھے پکڑا
02:45پھر اپنے سینے سے لگایا
02:47اور زور سے دبایا
02:48پھر چھوڑا پھر کہا
02:50کہ پڑھئے
02:50میں نے پھر کہا
02:52کہ میں پڑھنے والا نہیں
02:53اس نے پھر تیسری بار پکڑ کر
02:55مجھے زور سے دبایا
02:56اور پھر کہا
02:57اقرآ
03:01اپنے رب کے نام سے پڑھئے
03:02کہ جنس نے انسان کو خون کے لوتھرے سے بنایا
03:05پڑھئے کہ آپ کا رب بہت مہربان ہے
03:08نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
03:10یہ کلام لے کر اپنے گھر تشریف لائے
03:12اور حضرت خدیجہ تلکبرہ
03:13رضی اللہ حترانہ سے فرمایا
03:14زم بی لونی
03:16یعنی مجھے کنبل اڑا دو
03:18مجھے کنبل اڑا دو
03:19جنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو
03:21کنبل اڑا دیا گیا
03:22یہاں تک کہ آپ کا خوف جاتا رہا
03:24پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
03:26حضرت خدیجہ رضی اللہ حترانہ کو
03:28سارا واقعہ سنایا
03:29آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
03:31اے خدیجہ میں اپنی جان کا خطرہ
03:33محسوس کر رہا ہوں
03:34حضرت خدیجہ ارز کرنے لگی
03:36ہرگز نہیں خدا کی قسم
03:38خدا آپ کو ہرگز غمزدہ نہیں کرے گا
03:40آپ صلح رحمی ناداروں کی کفالت
03:43مجبوروں کی اعانت
03:45مہمان نوازی اور مصیبت میں
03:47لوگوں کی مدد فرمانے والے ہیں
03:49شنانچہ سیدہ خدیجہ
03:51رضی اللہ تعانیٰ
03:52آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر
03:53ورقہ بن نفل بن اسد کے پاس گئی
03:56کہ جو حضرت خدیجہ کا چچازاد بھائی تھا
03:58اور دور جاہلیت میں
04:00اس نے عیسائیت اختیار کر لی تھی
04:01وہ عبرانی میں کتاب لکھتا تھا
04:03اور بڑھاپے کی وجہ سے
04:05اس کی بینائی جاتی رہی
04:06اسے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعانیٰ کہنے لگی
04:09اے میرے چچازاد بھائی
04:10اپنے بھتیجے سے ساری بات سنیں
04:12وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
04:14اسے پوچھنے لگا
04:15اے بھتیجے تم نے کیا دیکھا
04:16نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
04:18نے اسے ساری بات سنائی
04:19وہ کہنے لگا
04:20خدا کی قسم یہ تو وہی ہے
04:22جو اللہ تعانیٰ نے حضرت عیسیٰ پر اتاری تھی
04:25اے کاش کہ میں تب تک زندہ رہوں
04:27جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی
04:29آپ نے فرمایا کیا وہ مجھے نکال دے گی
04:31کہنے لگا جب بھی کوئی آدمی ایسی وحی لے کر آیا
04:34جو آپ لائے ہیں
04:35تو اس کی ضرور مخالفت کی گئی
04:37اور اگر میں اس وقت زندہ ہوا
04:38تو میں ضرور آپ کی مدد کروں گا
04:40مگر وہ ورقہ بن نفل جلد ہی فوت ہو گیا
04:43نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا
04:46کہ مجھے اپنی جان کا خطرہ محسوس ہو رہا ہے
04:48یہ کسی خوف کی وجہ سے نہیں تھا
04:50بلکہ یہ پہلی وحی کی حیبت کی وجہ سے تھا
04:53کہ وہ کا نام ہے
04:54کہ جو پہاڑوں پر اترتا
04:55تو پہاڑ رزہ رزہ ہو جاتے
04:57اور ورقہ بن نفل کے پاس
04:58حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود نہیں گئے
05:01نہ آپ کو وحی کے متعلق کوئی شک تھا
05:03یہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ تھی
05:05کہ جو اپنے دل کی تسلی اور دل جمعی کے لیے
05:08آپ کو لے کر گئیں
05:09اور اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکمت پوشیدہ تھی
05:11کہ مکہ میں سب سے بڑے عالم
05:13برقہ بن نفل کے زمانی
05:15آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق ہو جائے
05:18ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو
05:20اپنی نبوت میں کوئی شک نہ تھا
05:22اس لیے ایک حدیث مبارک میں ہے
05:23کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
05:25جب پہلی وحی کے بعد اپنے گھر تشریف لائے
05:27تو راستے میں ہر درق اور ہر پتھر سے
05:30السلام علیہ وسلم کی صدائیں آ رہی دیں

Recommended