00:00حضرت رکانہ رضی اللہ عنہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کشتی کا واقعہ
00:05مکہ کے قریب ایک وادی میں رکانہ بن عبدیزید نامی ایک نہایت طاقتور اور مشہور پہلوان رہتا تھا
00:12وہ اپنی قوت اور پہلوانی میں پورے عرب میں معروف تھا اور آج تک اسے کوئی بھی کشتی میں ہرا
00:18نہیں سکا تھا
00:19ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وادی کے ایک کونے سے گزر رہے تھے
00:23کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات رکانہ سے ہوئی
00:27دین کی دعوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی شفقت اور نرمی سے رکانہ کو مخاطب کرتے ہوئے
00:35فرمایا
00:35اے رکانہ کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے اور اس سچے دین کو قبول نہیں کرتے جس کی طرف میں
00:41تمہیں بلا رہا ہوں
00:42کشتی کی شرط رکانہ نے غرور سے کہا
00:45اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر مجھے یہ علم ہو جائے کہ آپ جو کہتے ہیں وہ سچ ہے
00:51تو میں آپ کی پیروی کروں گا کیا آپ مجھ سے کشتی لڑ سکتے ہیں
00:55اگر آپ نے مجھے کشتی میں ہرا دیا تو میں مان لوں گا
00:58مقابلہ
00:59اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا چیلنج قبول فرمایا
01:04جب کشتی شروع ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
01:08رکانہ کو انتہائی سادگی اور آسانی سے پکڑ کر زمین پر پچھار دیا
01:12حیرت اور دوبارہ چیلنج
01:14رکانہ سخت حیران ہوا کیونکہ اسے زندگی میں کسی نے کشتی میں نہیں گرایا تھا
01:20اس نے سوچا شاید یہ کوئی اتفاق ہے اس لیے اس نے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
01:26ایک بار پھر کشتی کرتے ہیں
01:28نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ اس سے کشتی کی
01:32اور دوسری بار بھی اسے آسانی سے زمین پر گرا دیا
01:35رکانہ نے تیسری بار کی خواہش کی
01:37اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ بھی اسے کشتی میں ہرا دیا
01:42موجزہ اور اثر
01:44اس شکست کے بعد رکانہ سمجھ گیا
01:46کہ یہ محض جسمانی طاقت نہیں
01:48بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ غیبی قوت اور نبوت کی سچائی ہے
01:53اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
01:56اسے اللہ کی قدرت کے دیگر موجزات بھی دکھائے
01:59اس واقعے سے متاثر ہو کر
02:01رکانہ نے بعد میں صدق دل سے اسلام قبول کر لیا
02:04اور صحابہ کرام میں شامل ہو گئے
02:06یہ واقعہ حدیث کی ان کتب میں درج ہے
02:19اب آپ اپنی اگلی کہانی بتائیے
02:22ہم اس پر بات کرتے ہیں