Skip to playerSkip to main content
  • 5 hours ago
Host:
- Jugnu Mohsin

Topic:
- Documentary on Noor Jahan

Category

🗞
News
Transcript
00:00Thank you very much.
04:06their friendlyrew family
04:09stars
04:11in peace
04:17star is bornสần
04:26بิ
04:27بی جی اللہ وسائل انہوں
04:30نے کہا
04:30Today, this one of the best, we gave birth to aaronola.
04:37The entire life of Allah was the king of anyone who saw it,
04:44and the other people who saw it,
04:45and the other people who saw it,
04:48which the other people who saw it,
04:50that was a model.
04:54This is a model for a son.
04:54The one who saw it,
04:57the one who saw it on the second turn.
05:05। । । । ।
05:30। । । ।
06:01। । । । । ।
06:25। । ।
06:42
06:43
06:43
06:43
06:53
07:001942, noori jahhan نے اپنا پہلا بالغ role عدا کیا
07:04Film تھی خاندان, hero تھی پران اور اس میں noori jahhan heroine nike
07:10I hope I can listen too
07:13You have such a fever
07:21Film was a huge success and a big hit
07:26This moment, this film gave me the pm
07:29He took a determination on S.C.
07:31He had meant to be there for each person.
07:34Most of the times they removed day downtown contra Vinay and apart from 1943.
07:41Chelsea hit me with film.
07:46Monty doesn't need to be another watch.chn
07:53단 start via Al stole and went by temporarily.
07:56and you don't have to be a girl
07:59and you can't be a girl
08:02and you can't be a girl
08:03and you don't have to be a girl
08:05and you're not a girl
08:06and now he's a girl
08:07and she's a boy
08:08and she's a girl
08:18that they're in this situation
08:24They have made a decision to make Pakistan.
08:33The film, the film, is the film,
08:37My name is my friend.
08:38The film was seen in Pakistan.
08:40It was also seen in Pakistan.
08:49But Pakistan was not released at the time. When it came to Pakistan, it was decided that it would be
08:57possible to Pakistan.
08:59It would be a very good job. It would be a lot of money.
09:43ڈیوٹ کی جنبیاں پتھا گئے
09:46لیکن اس فلم کی مقبولیت کا راز نور جہان کے گانے تھے
09:50خاص طور پہ
10:08اور یاد رہے کہ یہ فلم شاکت حسین گزوی اور میڈم نور جہان نے کو ڈریکٹ دی تھی
10:15یعنی کہ پاکستان کی پہلی فلمی ہدایتکارہ نور جہان تھے
10:26اب 1952 ہے اور نور جہان کی ایک اور فلم آتی ہے دپٹا جو کہ چنوے سے بھی زیادہ مقبول
10:33ہوتی ہے
10:34اور سارا پاکستان فریفتہ ہے اس نور جہان کا
10:38دوسرے کس فلم کا دیا فیروز نظامی نے
10:40اور ایک ایسا گانا جو آج بھی کانوں میں گونچتا ہے
10:43چاند نیراتیں
11:00اور جیسے ہی نور جہان اپنی فن کی بلندیوں کی طرف گامزن تھی
11:05اسی طرح ان کی ذاتی زندگی میں مسائل پیدا ہونے شروع ہو گئے
11:10شوکت حسین رزوی اور نور جہان کی بن نہیں پا رہی تھی
11:14یہاں سے شروع ہوتا ہے ان کی زندگی کا افسردہ باب
11:18اس طرح سے میں گانے کو اپنا شوہر سمجھ بیٹھی ہوں
11:21یہ وہ ہے کہ شوہر پالتے ہیں سبھالتے ہیں
11:27ایکنومکلی بھی یعنی پیسہ بھی وہی دیتے ہیں
11:29مگر ہمیں نہیں کسی نے دیا
11:31شوکت حسین رزوی اور نور جہان کی الہدگی ہو گئی
11:35یہ نور جہان کے لیے بہت مشکل وقت تھا
11:38اور اس لیے نہیں کہ ان کے بیٹے
11:40اکبر اور اسغر رزوی اس وقت
11:42صادق پبلک سکول بہاولپور میں بورڈرز تھے
11:45پر اس لیے کہ نور جہان کی ایک ننی سی بیٹی بھی تھی
11:49زلے ہماں اور وہ کسی صورت اپنی بچی سے جدانہ ہونا چاہتی تھی
11:54شوکت حسین رزوی صاحب نے ٹھان لی
11:56کہ نور جہان اس کے لیے اچھی ماں نہیں
11:58وہ کوٹ گئے اور کوٹ میں جا کے انہوں نے
12:01ایک کسٹڈی بیٹل لڑنی شروع کر دی
12:03انہوں نے کہا کہ زلے ہماں میرے پاس ہونی چاہیے
12:07ماں کے پاس نہیں
12:09بلاخر نور جہان نے ان کی وہ شرط مان لی
12:12جس سے نور جہان کو اپنی بچی کی کسٹڈی مل گئی
12:15نور جہان نے شاہ نور سٹوڈیوز کی
12:18تمام جائدات کے کاغذات سائن کر کے
12:20شوکت حسین رزوی کے حوالے کر دیئے
12:23یہ وہ جائدات تھی جو نور جہان کے کام پہ بنی تھی
12:27ماں کا پیار یہ ہوتا ہے
12:29it won over every other consideration
12:50یہ جو نور جہان نے دکھ دیکھے
12:53ان کی وجہ سے ان کی طبیعت میں ایک تلخی اور سختی سی آنے لگی
12:57جب موسیقار میاں شہریار نے نسیم بیگم کو انٹرڈیوز کیا
13:03تو نور جہان نے ڈٹ کے نسیم بیگم کی مخالفت کی
13:07اور پتہ نہیں اللہ کا کرنا تھا
13:09نسیم بیگم چل بسی نور جہان کے لیے میدان خالی تھا
13:13لیکن ایک تلخی طبیعت میں آ چکی تھی
13:17اور وہ بہت کامبیٹیو ہو چکی تھی
13:19نور جہان فلمیں بناتی رہی
13:21پاتے خان فلم بنائی
13:23لختے جگر فلم بنائی
13:48لیکن جب یہ فلاپ ہوئیں
13:50تو نور جہان نے سوچا کہ شاید ان کو فلمنگ چھوڑ دینی جائیے
13:54یعنی کہ اداکاری چھوڑ دینی چاہیے
13:57اور میوزک کی اوپر کانسنٹریٹ کرنا چاہیے
14:09کہتے ہیں نیت کو بھاگ لگتا ہے
14:11جیسے ہی نور جہان نے میوزک پہ فوکس کیا
14:15اور ایکٹنگ چھوڑی
14:16اسی طرح میوزک کے افق پہ ایک نیا ستارہ نمودار ہوا
14:21یہ تھے خاجہ خوشید انور
14:23خاجہ خوشید انور نے
14:25کیا کیا میوزک تشکیل دیا
14:27فلم انتظار میں
14:37لیکن میری نگاہ میں
14:39جو انتظار کا سب سے بہترین گانا ہے
14:42خاجہ خوشید انور کا تشکیل دیا ہوا
14:44نور جہان کا گایا ہوا
14:46وہ ہے آبی جا آبی جا
15:07نور جہان اب مکمل طور پر خودمختار بن چکی تھی
15:13اور اب فلم انارکلی آئی
15:16جس کا گانا
15:17کہاں تک سنوگے
15:19کہاں تک سناؤں
15:20اتنا مقبول ہوا
15:22کہ سوپر ہٹ ہو گیا
15:40انیس سو اٹھاون ہے
15:42نائنٹین ففٹی ایٹ
15:44فیل ماشل
15:45عیوب خان کا
15:46کو ہوتا ہے
15:47پاکستان کی پہلی
15:48آمری حکومت
15:50قائم ہوتی ہے
15:51نور جہان شوکت حسین رزوی کو
15:53جا کے کہتی ہیں
15:55کہ بھئی علیدگی تو اتنے سالوں سے ہو چکی ہے
15:57اب طلاق بھی ہو جائے
15:59تو فائنلی
16:00شوکت حسین رزوی اور نور جہان کی طلاق ہو جاتی ہے
16:06کہنے والوں کا کہنا ہے
16:07کہ اس وقت نور جہان اجاز دورانی کو مل چکی تھی
16:12انیس سو انسٹھ میں
16:14نور جہان نے اجاز دورانی کے ساتھ شادی کر لی
16:17اجاز نور جہان سے نو سال چھوٹے تھے
16:20لیکن یہ شادی نور جہان کیلئے خوش آئین ثابت ہوئی
16:23اس کے فوراں بعد سوپر ہٹ فلم کوئل آئی
16:27اور کوئل میں خاجہ خوشید انور نے جادو جگایا
16:41مارک کیجئے لے آزی صاحب
16:42ٹھیٹر میں چھوڑ چکی ہی
16:44میری آواز اور میری مسیقی
16:47میرے ابیو کی امانت ہے
16:49ہم نگینہ کے پاس نہیں
16:51درینہ کے پاس آئے ہیں بیٹی
16:53پاکستان کی کوئل کے پار
16:55مہکی فضائیں
16:57گاتی ہوائیں
16:58بہکے نظارے
17:00سارے کے سارے
17:01تیرے لیے ہیں
17:03تیرے لیے ہیں
17:04اس نمبر پہ میڈم نے ڈانس بھی کیا
17:07اس نمبر کو گایا بھی
17:09یہ ان کا ویسے آخری ڈانس نمبر تھا
17:12مجھے وہ گانا بہت پسند ہے
17:14مجھے دراصل اس گانے نے بھی مجبور کیا
17:16کہ میں مان جاؤں
17:18مجھے اتنا بہت زیادہ وہ نہیں آتا
17:21مگر جو میں نے رقص کیا ہے
17:23میں اس سے خوش ہو مطمئن ہوں
17:25مہکی فضائیں
17:30گاتی ہوائیں
17:34بہن کے نظارے
17:37سارے کے سارے
17:40تیرے لیے ہیں
17:44تیرے لیے ہیں
17:48نور جہاں کہتی تھی
17:50کہ جتنی عزت وہ خوشہ خوشید انور کی کرتی تھی
17:53ایزے موصلکار
17:54شاید ہی کسی کی انہوں نے کی
17:56بچپن سے گا رہی ہیں
17:57میں نے وہ دھونے نہ کہیں سنی ہے
17:59نہ پاکستان میں نہ وہاں
18:03یہی ان کی عزت تھی
18:04کہ انہوں نے جو بنائی ہیں
18:06وہ وہی بنا گئے
18:08اور کوئی نہیں بنا سکا
18:141962 میں
18:16فلم موسیقار میں
18:17نور جہان نے اپنا
18:19ام مورٹل سانگ دیا
18:20یعنی کہ وہ گانا
18:21جو کبھی نہیں بھولایا جا سکتا
18:23گائے گی دنیا گیت میرے
18:26آج بھی جب بھی ان کا ذکر ہوتا ہے
18:29تو یہی گانا ہمارے کانوں میں گونجتا ہے
18:48پھر قیدی فلم آئی
18:50قیدی فلم میں قیدی کی شاعری
18:53قیدی فیض احمد فیض اور نظم
18:57مجھ سے پہلی سی محبت
18:59میرے محبوب نہ مانگ
19:01نور جہان نے یہ گایا
19:03اس فلم کے لیے
19:04اور بہت مقبول ہوئی
19:14پھر اس کے بعد ایک ایونٹ ہوا
19:15وہاں پر سارے ملک کی اشرافیہ
19:18اور بڑے بڑے افسران
19:19اور نور جہان کو کہا گیا
19:21کہ یہ فیض احمد فیض کی غزل
19:23آپ نے نہیں گانی
19:24تو نور جہان نے کہا
19:26پھر میں کچھ بھی نہیں گاؤں گی
19:27زد کر لی
19:29ان کو پتا تھا
19:30کہ ان کا متبادل کوئی ہے ہی نہیں
19:31اور کہنے لگی
19:33کچھ بھی نہیں گاؤں گی
19:34اور فیض گاؤں گی
19:35فیض گایا
19:36مجھ سے پہلی سی محبت
19:38میرے محبوب نہ مانگ
19:40بہت دل سے گایا وہاں نے
19:42میں نے سمجھا تھا
19:45کہ تو ہے تو در اچھا ہے حیات
19:52تیرا غم ہے تو
19:55غم دہر کا جھگڑا کیا ہے
20:17نور جہان کا فیض احمد فیض کے ساتھ
20:20ایک دوستانہ تھا
20:21اور محبت کا رشتہ تھا
20:23فیض کی بہت عزت کرتی تھی
20:25ایک دن ان کی بیٹی نے مجھے یہ بتایا
20:28گھر میں بیٹھی تھی
20:30تو چوکیدار نے آ کے کہا
20:32میڈم جی کوئی فیض آیا ہے
20:34وہ نئے نئے جیل سے نکلے تھے
20:36تو کہنے لگی
20:37کیڑا فیض
20:38کہنے لگی پتہ نہیں کیڑا میں فیض آن
20:41تو کہنے لگی میں کسے فیض نو نہیں جان دی
20:43ان کا خیال ہی نہیں تھا کہ وہ جیل سے نکل آئے ہیں
20:46تھوڑی دیر کے بعد چوکیدار واپس آیا
20:48آ کے کہتا ہے
20:50اوہ کیڑنے میں شائر آن
20:52کیڑنے ہائے میں مار گئی
20:54اسی طرح جوتی پہنے بغیر
20:55اٹھیں اور باہر بھاگ گئیں
20:57اور گیٹ پہ جا کے
20:58فیض سے لپڑتے
20:59اور فیض نے
21:01کئی مرتبہ یہ کہا
21:03کہ مجھ سے پہلی سی محبت
21:05میرے محبوب نہ بانگ
21:06میری غزل نہیں
21:08یہ تو اب نور جہاں کی ہو چکی ہے
21:10تو جو مل جائے تو تقدیر نہیں گو ہو جائے
21:18کیوں نہ تھا میں نے فقط
21:23چاہا تھا یوں ہو جائے
21:28ہم سے پہلی سی محبت
21:33میرے محبوب نہ مانگ
21:38میں سمجھتی ہوں کہ
21:39کیونکہ نور جہاں خود باغی تھی
21:41ان کو باغی لوگ بہت پسند تھے
21:43جس طرح فیض احمد فیض
21:45جس طرح حبیب جالب
21:46میڈم کہہ دے لگیں ایک دن جالب کو
21:48کہ مجھے تم جیسے پاگل لوگ بہت پسند ہیں
21:51کہ تم باغی ہو
21:53اور تم جو اشرافیہ ہے
21:55اس کو کہتے ہو
21:56جاؤ کر لو جو کرنا ہے
21:57جیل چلے جاتے ہو
21:58پولیس والوں سے پٹ جاتے ہو
22:00پھر واپس آتے ہو
22:02پھر کوئی بہترین نظم لکھتے ہو
22:04پھر جیل چلے جاتے ہو
22:05تو مجھے ایسے لوگ بڑے پسند ہیں
22:07جاؤ لگ سے کہتا ہوں
22:08کہ ایک نظر اپنی زندگی پر ڈال
22:11ایک نظر اپنے اردلی پر ڈال
22:15فاصلہ خود ہی کر ذرا محسوس
22:18یونہ اسلام کا نکال جلو
22:23ایک دفعہ دھاکہ گئی
22:25دھاکہ جب پہنچی
22:27تو کھانا ہوتل کا بہت پسند آیا
22:29اور اس کے بعد کوک کو اور جو ریسپشنس تھے
22:32ان کو بلا کے شکریہ ادا کیا
22:34اور پوچھنے لگی
22:35میں آپ کے لیے کیا کر سکتی ہوں
22:37تو انہوں نے سب نے مل کے کہا
22:39مدام ہم جیسے لوگ
22:41آپ کو کہاں سن پاتے ہیں
22:43آپ کی مہربانی ہوگی
22:44اگر ہمیں چند گانے سنا دیں
22:46ہماری مرضی کے
22:47تو کہہ لگی ہاں ٹھیک ہے
22:49میں کل فنکشن سے جلدی فارغ ہو کے آؤں گی
22:51اور آپ سب کو گانے سناوں گی
22:53اچھا انتظامیہ کو پتا چلا
22:55تو انہوں نے دھاکہ کے ساری اشرافیہ بلالی
22:58بڑے بڑے لوگ بلالی
22:59میڈم نے جب دیکھا
23:01کہ یہ تو امیر امیر لوگ بیٹھے ہیں میرے سامنے
23:03تو کہہ لگی میں ان کے لیے تو نہیں گانا
23:06میں تو ان کے لیے بالکل نہیں گاؤں گی
23:08اور کہنے لگی انتظامیہ کو
23:10کہ یا خود ان کو ٹور دو
23:12یا پھر میں ان کو جا کے کہتی ہوں
23:13کہ آپ جائیں میں نے بیرخ انساموں کے لیے گانا گانا ہے
23:16تو پھر دھاکہ کی تمام اشرافیہ کو بھیج کر
23:25ایک ایک فرمائش
23:27ایک ایک رزلے کے گانا گایا
23:29اور اسی طرح صبح ہو گئی
23:31یہ تھا میڈم نور جہان کا فیض
23:34یہ تھی ان کی سوچ
23:36یہ تھا ان کا دل
23:58انیس سو پہسٹھ
23:59ہندوستان اور پاکستان کی جنگ
24:02ملک اور قوم کے لیے بڑا کڑا وقت
24:04اس وقت نور جہان کی آواز گونجی
24:08اور اس نے ہم سب کو جوش اور جذبہ
24:11حمد دی
24:23جنگ کے اختتام پہ ایک شکر گزار قوم نے
24:27نور جہان کو ملکہ ترنم کا لقب دیا
24:39اسی دوران
24:41مادام نور جہان کا نام
24:43جنرل یہیہ خان سے منسلک ہونے لگا
24:46کہا جاتا ہے
24:47کہ نور جہان
24:49ان کی دوست اقلی مختر کو جانتی تھی
24:51انہوں نے اقلی مختر کو کہا
24:53کہ ذرا جنرل نو کوئی کہ میں نو انکم ٹیکس دے مسئلے ہوندے پہنے
24:57اور انکم ٹیکس کا کوئی افسر ان کو تنگ کا رہا تھا
25:01اقلی مختر نے جنرل صاحب سے نور جہان کی ملاقات کروا دی
25:05اور کہنے والوں کا کہنا ہے
25:07کہ چند ہی دنوں میں اقلی مختر کی جگہ نور جہانے لے لی
25:11یہ بات عام ہو گئی
25:13نور جہان کو اس بات کے بارے میں دکھ ہوا
25:16کہ لوگ یہ باتیں میرے بارے میں کیوں کرتے ہیں
25:18انیس سو اکتر کی جنگ کے بعد
25:20انہوں نے ایک ایونٹ پہ کہا
25:23کہ جو میں نہیں جے ہن تو آڑے واسطے گانا
25:27میں نو تسی دکھ ہی کیتا ہے
25:29تسی میرے بارے جیسے ہیں گلہوں ڈائیاں نے
25:31لوگوں نے وہاں پر جو جمع تھے
25:33بڑی معافی مانگے
25:35اور کہا کہ ہم آپ کو ہر حال میں پیار کرتے ہیں
25:38آپ کے ساتھ ہمارا وہ والہانہ پیار ہے
25:41جو کبھی نہیں ختم ہو سکتا
25:43تو پھر مان ہی گئیں
25:45اور اپنا گانا گانے لگیں
25:49سلسلے توڑ گیا
25:51وہ سبی جاتے جاتے
25:57یحیہ خان اکیلے حکمران نہیں تھے
25:59جو کہ میڈم کے فین تھے
26:01اور جن کو میڈم سے ملنے کا ان کی صحبت کا شوق تھا
26:04پھٹو شہید کو بھی میڈم کی صحبت کا شوق تھا
26:07ان کے فین تھے
26:08بی بی شہید بھی ان کو مددو کیا کرتی تھی
26:11اسلام آباد جب وہ پرائم منسٹر تھی
26:121989 میں
26:14جب راجیو گاندی پہلی مرتبہ
26:16پاکستان آئے
26:18تو بی بی نے وہاں پر ایک کلچرل ایونٹ کیا
26:20اور مادام کو بلایا
26:24راجیو گاندی مادام نور جہان
26:26کو بڑی عزت سے ملے
26:27اور اپنے پسندیدہ گانے سنے
26:29میں ترے سنگ پہ سے چلوں سچنا
26:36تو سمندر ہے میں ساہلوں کی ہوا
26:41انیس سو ستر کی دہائی زلفکار علی بھٹو کی حکومت اور محول میڈم کے این مطابق باغی اور کھلا ڈولا
26:52اور مادام کی سوپر ہٹ پہ سوپر ہٹ فلم آ رہی ہے اور بڑے مقبول گانے آ رہے ہیں اور
26:59پھر ان کے شہر اجاز دورانی اور ہیروین فدوس کی فلم آتی ہے
27:03ایر رانجا اس میں مادام کے جو گانے ہیں وہ ایک سے ایک بے مثال
27:09او ونجلی والڑیا
27:11پی توتا مولئیو مٹیار
27:14قدی نی جنے سی منی ہار
27:16وی اے گل پلینہ
27:18او ونجلی والڑیا
27:22پی توتا مولئیو مٹیار
27:26قدی نی جنے سی منی ہار
27:39قدی نی جنے سی منی ہار
27:41لیکن ہار مان گئی نور جہانس پہ
27:44ہار مان گئی کیونکہ اجاز دورانی اور فردوس کا آپس میں رشتہ قائم ہو گیا
27:50مادام کو پتا چل گیا
27:52مادام نے کہا اس کے بعد
27:53میں نے فردوس کی کسی فلم کے لیے گانا نہیں گانا
27:57اور فردوس کا کریئر وہیں ختم ہو گیا
28:00لیکن مادام کی اجاز دورانی کے ساتھ شادی بھی ختم ہو گئی
28:04اس دور میں اور بھی بہت سی باغی فلمیں بنی
28:07جن کو نئے لوگوں نے ڈریکٹ کیا
28:10سوشلسٹ فلم ڈریکٹر ریاض شاہد
28:13جو کہ آج کل کی اداکار شان کے والد ہیں
28:16انہوں نے فلم بنائی غرناطا
28:18جس میں شائری کی حبیب جالب نے لرکس لکھے
28:22کس نام سے پکاروں کیا نام ہے تمہارا
28:42ستر کی دہائی کا آخری گانا شاید جسے نور جہان کے گولڈن ایج کا اختتام سمجھا جاتا ہے
28:49ہو تمنا اور کیا جانے تمنا آپ ہیں
29:10کیونکہ اس کے بعد پھر اسی کی دہائی میں
29:14مادام نور جہان نے ایسے ایسے گانے گائے جو لوگ سمجھتے تھے ان کو زیب نہیں دیتے
29:19لیکن اسی کی دہائی میں پاکستان بدل چکا تھا
29:22پاکستان میں ثقافت کا کسی کو شوق نہ تھا
29:26لٹرچر، فلمیں، گانے، فن، سب کیوں پر قدغنے لگ چکی تھی
29:31زیاء الحق کی عامریت کا دور تھا
29:34پاکستان کی زوال پذیر ثقافت دنیا پہ دروازے بند کر کے بیٹھ گئی
29:44انیس سو بیاسی میں نور جہان کو بولی ووڈ کے لیڈرز نے بومبے مددو کیا
29:50بومبے ٹوکیز کی گولڈن جوبلی سیلیبریٹ کرنے کے لیے
29:53اور دونوں ماں بیٹیاں ایک بڑے سے ہوتل میں ٹھہریں
29:56مجھے زلے ہما نے بتایا
29:58کہ ایک دن اسی اپنے کمرے تو تھلے آ رہے سا
30:01تے جس لے لفٹ تے بوے کھلے شت کر کے
30:04تے ماجن بار نکلے تے ٹٹھر لگے
30:08تے من مڑ کے کہنے دن ہائے ہائے ہما
30:10اے تھے گھٹڑی کی پئی ہے
30:12تے میں کیا ماجن ایک گھٹڑی نہیں ہے لٹا ہے
30:15کیونکہ لٹا وہاں فرش پہ بیٹھی تھی
30:18کہ دروازے کھلیں اور میں نور جہاں کے پیروں کو ہاتھ لگاؤں
30:22کیونکہ لٹا کے لیے نور جہاں دیوی تھی
30:25اور وہ کہتی تھی
30:26کہ میں ہندوستان میں بڑی فنکار اس لیے ہوں
30:29کیونکہ دیدی یعنی کہ نور جہاں پاکستان چلی گئے
30:33انیس سو پچاسی میں نور جہاں کے ڈاکٹروں نے ان کو بتایا
30:37کہ وہ دل کے مرض میں مبتلا ہیں
30:39اس کے ساتھ ساتھ گردے بھی کمزور ہیں
30:42اور پھر ان کو کلیولنڈ کلینک یونائٹس سٹیٹس جانا پڑا
30:45اور وہاں ان کا ہارٹ بائی پاس ہوا
30:48گانا پھر بھی گاتی رہی
30:50لیکن نوے کی دہائی شروع ہونے پہ
30:52ڈاکٹروں نے بلکل گانے سے منع کر دیا
30:55گویا کہ پاکستان میں ایک سنناٹا چھا گیا
31:03میڈم نور جہان کو اپنے لاہور کے مین بولیوارٹ گھر میں رہنا ہی پسند تھا
31:07قصور کے قریب لاہور داتا کی نگری لاہور جس کو وہ اتنا پیار کرتی تھی
31:12اور ان کے سارے چاہنے والے ان کے اردگرد
31:15لیکن ان کا یہاں علاج نہ ہو پایا
31:17علاج کے لیے ان کو کراچی جانا پڑا
31:19خاص طور پر ڈائیلیسز کے لیے
31:21کراچی میں لاہور کے لیے بہت اداس ہوتی
31:25اور وقتاً فوقتاً اپنے چاہنے والوں کو
31:28اپنے خدمتگاروں کو لاہور سے بلا لیتی
31:31اور اپنا دل بہلا لیتی
31:33ایک صاحب نے مجھے بتایا
31:35کہ ان کو خاص طور پر بلا کے لاہور کی ایک ایک بات پوچھی
31:40ایک ایک فرد کے حال پوچھے
31:42اور پھر کہنے لگی
31:44کہ میں داتا دی نگری چھ واپس جانا ہے
31:47میں داتا دی نگری واسطے ترس گئیاں
31:50اتھے میں نوں قصور دیاں ہواوا آن دیاں نے
31:58اور پھر وہ ستائیسویں رمضان کی رات آن پڑی
32:01وہ لیلت القدر کی رات
32:03جس رات میڈم ہم سے چلی گئی
32:11سن دو ہزار میں نور جہان کی وفات پہ
32:14ان کی ایک بڑے فین پرویز مشرف نے کہا
32:17کہ نور جہان کی میت لاہور لائی جائے
32:20جنرل صاحب نے کہا
32:22she deserves a state funeral لیکن نور جہان کی بیٹیوں نے فیصلہ کیا
32:27کہ آج ستائیسویں رمضان کی رات ہے ان کو آج رات کو ہی کراچی میں دفن کیا جائے
32:32نور جہان دفن ہو گئی ہم ان کے فن سے محروم ہو گئے
32:41نور جہان lived a unique life
32:43اپنی terms پہ انہوں نے زندگی گزاری
32:46یہ بھی ان کی شہرت کا ایک راز ہے
32:48اور یہ سب چیزیں ان کا فن
32:50ان کی شہرت
32:51ان کی انفرادیت
32:53یہ سب کچھ پھر سے اجاگر ہوگا
32:55دنیا ان کے ہی گیت گائے گی
32:58گائے گی دنیا
33:00گیت انہی کے
33:09گائے کی دنیا
33:11گیت میرے
33:14گائے کی دنیا
33:16گیت میرے
33:19سریدے انگ میں
33:21میرے رانے رنگ میں
33:23مرے ہیں اور آرماؤں میرے
33:29گائے کی دنیا
33:31گیت میرے
33:33سریدے انگ میں
33:36میرے رانے رنگ میں
33:38مرے ہیں اور آرماؤں میرے
33:44گائے کی دنیا
33:46گیت میرے
33:48مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں
33:53اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے
33:53ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور
33:53مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں
33:53اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے
33:53ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور
33:53مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور مرے ہیں اور م
Comments

Recommended