00:00حضور کے پاس ایک چور کو لائے گا جس نے چوری کی اور قرآن کہتا سارق و سارقتو فقتعو ایدیاہما
00:09جزام بما کسبا چور یا چورنی جب وہ چوری کریں ان کے ہاتھ پکاڑ دو یہی ان کی صدا ہے
00:17ٹھیک ہے قرآن کا حکم ہے چور آیا اور اس نے آ کر کہا کہا کہ حضرت سردی کے اکبر
00:24کھڑے ہوئے ہیں نائب رسول
00:25حضور اس نے چوری کی ہے فرما اس کی گردن کٹو گردن کٹو صدیق اکبر کہنا ہے کہ یا رسول
00:35اللہ چور کے ہاتھ کٹتے ہیں فرما ہاتھ کٹ دو
00:39پہلے کیا فرمایا گردن کٹ پھر فرمایا حضور چور کے تو ہاتھ کٹتے ہیں اس نے ایسا تو کوئی جرم
00:46نہیں کیا جس سے گردن کٹیں گردن کٹنے والے جرم تو دوسرے ہیں اس نے تو صرف چوری کی ہے
00:52اور چوری پر تو حضور سزا گردن کٹنے کی نہیں فرما تھی کہ ہاتھ کٹ دو ہاتھ کٹ دیا گیا
00:57اس نے کسی زبانے پھر چوری کی تو دوسرا ہاتھ کٹا
01:02ایک دفعہ پھر چوری کی اس نے تو ٹانگ کٹی حضور نے پردہ فرما لیا دور سردی کے اکبر آیا
01:07پانچ دفعہ چوری کی دونوں پاؤں کٹ گئے دونوں ہاتھ کٹ گئے
01:11اب مو میں سامان چوراتا تھا جب پکڑ کر حضرت ابوبکر کے پاس لایا گیا ہنسو نہیں بات سمجھو ذرا
01:16یہاں
01:17جب لایا گیا تو اپنے چہرہ دے کر سمجھ گیا فرما تو تو وہی ہے جس کے بارے میں حضور
01:22نے فرما تو تیری گردن اتارنی چاہیے
01:23اب یہاں پر دیکھئے یہ حضور کا فتوہ باطن پر تھا
01:27کسی قاضی کو اجازت نہیں کسی مفتی کو اجازت نہیں جب باطن کے اوپر فتوہ دے
01:32کیا پتا کل کیا ہوگا لیکن حضور نے پاتن اور حقیقت اپنے علم غیب سے اس بات کو دیکھا باتائی
01:38الہی کہ یہ بدباش ہے یہ صحیح نہیں ہوگا اور اس کا خاتمہ اس کے جرم کا خاتمہ تلوار ہی
01:44سے ہوگا
01:45لیکن جب صحابہ نے کہا حضور تو ان کے سامنے راز نہیں کھولا
01:48کہا حضور اس نے ایسی تو کوئی حرکت کی نہیں ہے کہ جو سزا قتل کی ہو
01:52تو فرما ہے ٹھیک ہے اگر چوری کی ہے تو چوری کا ہاتھ کرتا ہے تو ہاتھ کار دو
01:56لیکن پہنچا کس انجام پر آلہ حضرت اس روایت کو لے کر پت مذہبوں کو کہتے ہیں
02:01بتاؤ صاحبوں اس عورت والے مسئلے پر تو تم نے اعتراض کیا تھا
02:07اس مسئلے کے بارے میں حدیث پر کب عمل کرو گے
02:10پھر امام سیوتی علامہ ذرقانی بڑے بڑے محدثین کے اقوال نقل کیے
02:14فرمایے یہ ہے وہ جگہ جہاں پر علمِ ظاہر اور باطن ایک جگہ جمع ہوتا ہے
Comments