Skip to playerSkip to main content
#cricketHub #cricket

Category

🎈
Fun
Transcript
00:00Pakistan cricket is the end of the tactical and tactical missile.
00:05We will try to understand the outcome of this challenge and this event.
00:10We will try to understand what happens in the future.
00:12We will try to understand the challenges of the missile and the tactical missile.
00:16We will try to understand the outcome.
00:19We will talk about the 5 points of the potential.
00:23Incard that phase,
00:24the captain of the government,
00:26the defense,
00:27the coaching,
00:27the coaching,
00:27ڈرچنگ کی خامیہ اور آنے والے ٹورز کا شیڈیو
00:30پہلا حصہ انکار کا خاتمہ یا سیدھے الفاظ میں کہیں تو حقیقت کا سامنا کرنا
00:35کسی بھی پروفیشنل سپورٹ میں بہتری کی طرف پہلا قدم اپنی غلطی ماننا ہوتا ہے
00:40شاداب خان کا یہ بیان اس حوالے سے انتہائی اہم ہے
00:44انہوں نے بڑا واضح طور پر تسلیم کیا ہے کہ بطور ٹیم یا انڈیویجول کارکردگی میاری نہیں ہے
00:50اور جو لوگ تنقید کر رہے ہیں وہ بلکل ٹھیک ہیں
00:53یہ پاکستان کرکٹ میں ایک بڑا نایاب اور مضبط لمحہ ہے
00:57کیونکہ ایک لمبے عرصے بعد کھلاڑی جس میں سلمان علی آغا بھی شامل ہیں
01:01مسائل پر پردہ ڈالنے کے بجائے حقیقت قبول کر رہے ہیں
01:05ایک پوزیٹیف شفٹ نظر آ رہا ہے
01:07اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ حقیقت پسندی صرف کھلاڑیوں تک محدود نہیں رہی
01:12بلکہ اوپر مینجمنٹ تک بھی پہنچ رہی ہے
01:15پی سی بی کے آقیب جاوید کا افیشلی میڈیا کے سامنے یہ ماننا
01:18کہ شاہین افریدی کو ٹیسٹ ٹیم سے باہر کرنے کی بنیادی وجہ
01:22ان کی پیس میں آنے والی کمی تھی ایک بہت بڑی تبدیلی ہے
01:26سچ کو خلے عام قبول کرنا یقیناً بہتری کی طرف ایک لازمی قدم ہوتا ہے
01:31اب بڑھتے ہیں دوسرے حصے کی طرف
01:33کپتانی کا بہران اور پلانز کی کمی
01:36ایک بہترین کپتان اور ایک عام کپتان میں آخر کیا فرق ہوتا ہے
01:45کہ اگر پہلا پلان ناکام ہوتا تو وہ فوری طور پر پلان بی یا سی پر شفٹ ہو جاتے تھے
01:51اس کے بلکل برعکس تجزیہ نشاندہی کرتا ہے
01:54کہ پاکستان کے موجودہ کپتانوں کے پاس
01:57ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹس میں
01:59جب ان کا مین بولر مار کھاتا ہے
02:01یا حالات پریشر میں آتے ہیں
02:03تو گراؤن پر اچانک امپلائی کرنے کے لیے
02:06کوئی سیکنڈری پلان موجود ہی نہیں ہوتا
02:08یہ ایک ایسا ریجڈ اپروچ ہے
02:10جو ٹیم کو بار بار نقصان پہنچا رہا ہے
02:13اور سچ تو یہ ہے کہ گراؤن پر چاہے جو بھی ہو
02:16نتیجے کی آخری ذمہ داری ہر صورت کپتان کی ہی ہوتی ہے
02:20ذرا سوچئے
02:21قذافی سٹیڈیم اور نیشنل سٹیڈیم کی دیواروں پر
02:24کپتانوں کی تصویریں آویزاں ہوتی ہیں
02:26کوچ اس کی نہیں
02:27اگرچہ بولرز کی کارکردگی اوپر نیچے ہو سکتی ہے
02:30لیکن قوم کو جواب دے
02:32کپتان ہوتا ہے
02:33اور کرکٹ کی تاریخ بھی اسی کو یاد رکھتی ہے
02:36تیسرا حصہ
02:37دفاعی سوچ
02:38اور اس کا آغاز کہاں سے ہوا
02:40آخر ٹیم میں یہ درپوک اور محتاط انداز ففر
02:44ایک دن میں تو نہیں آیا ہوگا
02:46یہ دراصل ایک وائرس کی طرح آہستہ آہستہ پھیلا ہے
02:49ایکسپرٹس کے مطابق
02:51اس کا آغاز مکی آرثر کے دور سے ہوا
02:53جہاں سے ایک یس بوس کلچر کی بنیاد پڑی
02:56پھر سفراز ححمد کے آخری دنوں میں یہ مدافعاتی عادت واضح ہوئی
03:01اور وہی محتاط رویہ پابر آزم کے دور میں بھی پروان چڑھا
03:04اور اس فہرست میں حیرت انگیز طور پر
03:07موجودہ سیلیکٹر اور انسی اے کوچ
03:10مزبا الحق کا کردار بھی شامل کیا گیا ہے
03:12یہاں ایک انتہائی دلچسپ اور حیران کن تضاد سامنے آتا ہے
03:16ایک طرف 2016 میں انگلین کے خلاف
03:19ٹیس سیریز میں مزبا کی وہ عظیم اور یادگار
03:22آرمی ٹریبیوٹ پش اپ سیلیبریشن تھی
03:24جس نے سب کو جوش دلائیا تھا
03:26مگر دوسری طرف انہی کردار پر
03:29اب پاکستان کرکٹ بورڈ اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں
03:32ایک انتہائی سخت ڈیفنسیو اور بیوروکرائٹک سوچ
03:36مسلط کرنے کی کری تنقید کی جا رہی ہے
03:39چوتھا حصہ
03:40کوچنگ کی کامیاں اور بورڈ روم کی مسائل
03:43یہاں جو چیز سب سے زیادہ حیران کن ہے وہ یہ
03:46کہ بورڈ نے ان کوچز پر انحصار کیا ہے
03:49جو اپنے پلینگ ڈیز میں خود
03:51ٹیکنیکل مسائل کا شکار تھے
03:52آقب جعوید پر ڈیفیٹس مائنسیٹ چلانے کا الزام ہے
03:55دوسری جانب
03:56مینز ٹیم کے بیٹنگ کوچ اصد شفیق
03:58اور ویمنز ٹیم کے کوچ امران فرہت کی
04:00اپنی ٹیکنیکل کارکردگی ان کے دور میں
04:02بہران کا شکار رہی
04:03نتیجہ یہ نکلا ہے کہ نیشنل لیول پر
04:06ان کی کوچنگ کی صلاحیت اور بورڈ کے میرٹ پر
04:08بڑے سوالیاں نشان لگ گئے ہیں
04:10ان سوالات کو آقب جعوید کا یہ بیان
04:13مزید تقویت دیتا ہے
04:14کہ اگر ہم انگلنڈ اور ویسٹ انڈیز جا کر
04:17ایک ٹیس میچ بھی جیت جائیں
04:18تو یہ بڑی بات ہے میں خوش ہوں
04:20یہ الفاظ ظاہر کرتے ہیں
04:22کہ جیتنے کے عزم کے بجائے
04:24توقعات کس حد تک نچلی سطح پر آ چکی ہیں
04:27یہ لیک آف ایمبیشن
04:29کسی بھی ٹاپ ٹیر سپورٹس ٹیم کے لیے
04:31بہت مایوس کن بات ہے
04:32ان حالات میں یہ خبر ملنا کوئی حیرت کی بات نہیں
04:35کہ بوٹ کے اندر اختلافات جنم لے رہے ہیں
04:38رپورٹس کے مطابق
04:39خود چیمن پی سی بھی اس بات سے ناخوش
04:42اور غیر متپین ہیں
04:43کہ آقب جعوید پاکستان کرکٹ کے انتظامی امور
04:46کو آخر کس طرح چلا رہے ہیں
04:48پانچمہ حصہ
04:49آنے والے ٹورز اور مستقبل کا راستہ
04:52ان تمام انتظامی مسائل کے ساتھ ساتھ
04:55ٹیم کا آنے والا سفر بھی کسی چیلنج سے کم نہیں ہے
04:58پاکستان سے سیدھا ویسٹ انڈیز جانے کے بجائے
05:01ٹیم پہلے یوکے جا رہی ہے
05:03صرف پانچ سے چھے کھلاڑیوں کے ویزا پروسسنگ کے لیے
05:06پھر وہاں سے ویسٹ انڈیز
05:08اور آخر میں واپس ٹیسٹ سیریز کے لیے انگلینڈ
05:10ایک میچ کھیلنے سے پہلے ہی
05:12یہ راؤٹ کسی کو بھی تھکا دینے کے لیے کافی لگتا ہے
05:15یہ لجسٹکس اپنے آپ میں
05:17ایک الگ ہی انتظامی کہانی بیان کر رہے ہیں
05:19کرکٹ فانز کے لیے
05:20وقت نوٹ کرنا ضروری ہے
05:22ویسٹ انڈیز کے ٹیسٹ پاکستان
05:24سٹانڈرڈ ٹائم کے مطابق شام سات بجے
05:26اور انگلینڈ کے ٹیسٹ دوپہر دو بجے شروع ہوں گے
05:29تاکہ ان سیریز کو
05:30آسانی سے لائف فالو کیا جا سکے
05:32چھٹا اور آخری حصہ
05:38اس پیور منظر نامے میں
05:40سپورٹس میڈیا کا بھی اپنا کردار ہوتا ہے
05:42اس تجزیہ کے سورس نے
05:44اس بات پر سخت پوزیشن لی ہے
05:46کہ وہ صرف ویوز بٹورنے کے لیے
05:48سستی پولٹکس کا حصہ نہیں بنے گا
05:50مثال کے طور پر
05:51شریعہ ایئر کی کپتانی میں
05:53انڈیا کی حالیہ ٹی ٹوینٹی سیریز میں
05:55سو رن پر آل آؤٹ ہونے کی ناکامی
05:57کو اچھالنے سے واضح انکار کیا گیا ہے
06:00آخر کیوں؟
06:01کیونکہ ٹاکسک سوشل میڈیا کلک بیٹ
06:03اور بے میاری خبروں سے بچ کر
06:04اصل تجزیہ پر فوکس رکھنا زیادہ ضروری ہے
06:07اور یہ ساری معلومات
06:09ہمیں ایک انتہائی اہم سوال پر چھوڑ جاتی ہے
06:12دور حاضر کے سپورٹس انیلیسس کو آخر
06:15کیا چیز ڈرائیو کر رہی ہے؟
06:17اصل کرکٹ کی سمجھ اور انٹیگریٹی؟
06:19یا صرف ورصرف ویوز؟
06:21فیصلہ دیکھنے والوں کے ہاتھ میں ہے

Recommended