00:00आज के इस तफसीली खुलासे में हम बात करने वाले हैं पाकिस्तान क्रिकिट टीम के उस पेचीदा और घंबीर बहुरान
00:06की जो अब सिर्फ मेदान में खराब कारकर्दिगी की हद तक महदूद नहीं रहा
00:10ये मसला असल में बहुत सी बुनियादी खामियों का मजमूआ है
00:13और आज हम इनी वजवात की तह तक जाएंगे
00:16ताके समझ सकें कि आखिर ये डाउन फॉल शुरू कहां से हुआ
00:20आईए देखते हैं
00:21इस हकीकत को अगर थोस आदादो शुमार में देखा जाए
00:40लेकिन यहां जो सबसे हैरानकुन बात है
00:42वो ये के इन में से छे मुसलसल अवे टेस्ट शिकस्ते हैं
00:46जरा सोचिए अवे टेस्ट मैचेज में आखरी फता पूरे तीन साल पहले शिरी लंका के खिलाफ आई थी
00:52उसके बाद से जीत का एक लंबा खला है
00:55ये सफैद हाथी की तरह एक एसी सचाई है जिसे नजर अन्दाज नहीं किया जा सकता
00:59इस सारी सूरत हलगा निचोड इस एक कोट में छपा है
01:03मसला यह नहीं है कि टीम गंदी हो गई है
01:05So, this is the way that we have to do the right direction.
01:10We have to do the right direction.
01:14So, this is the way our approach and direction direction is wrong.
01:18So, let's talk about the leadership intentions versus results.
01:24So, this is the way that we have to do the right direction.
01:27Here are two different ideas.
01:57Transcription by CastingWords
01:59Transcription by CastingWords
02:35Transcription by CastingWords
02:592021 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف شاہین کو ٹیسٹ کرکٹ میں آخری بار من آف دا میچ کا آوارڈ ملا
03:04تھا
03:04پھر دو ہزار بائیس دو ہزار تیس اور اب دو ہزار چوبیس بھی گزر گیا لیکن انتظار ختم نہیں ہوا
03:10جو بولر لگتار کئی سالوں سے ٹیسٹ میچ ناجتوا سکا ہو
03:14اس پر پورے پیس اٹیک کا انحصار کرنا ایک نہایت اہم سوال کھڑا کرتا ہے
03:19ایک اور مثال کھلاڑیوں کی ترجیحات کی ہے
03:23ہارس راؤف کو ہی لے لیجئے
03:24جب پاکستان کو ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی
03:28تب انہوں نے کھیلنے سے انکار کر دیا
03:30لیکن ٹھیک اسی وقت وہ آسٹریلیا میں بگ بیش لیگ کھیلنے کے لیے دستیاب تھے
03:35یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے
03:36کہ قومی فرض سے زیادہ فرانچائز کرکٹ اور آسان پیسے کو ترجیح دی جا رہی ہے
03:42تو اس پوری صورتحال کو دیکھتے ہوئے دماغ میں ایک ہی سوال آتا ہے
03:46کیا اس موجودہ فٹنس لیول کے ساتھ
03:48ہمارا کوئی فاسٹ بولر ایک ٹیسٹ میچ میں دس فکٹیں لینے کی طاقت رکھتا ہے
03:52خاص کر جب ہم اپنے ہمسائیوں
03:55جیسے بنگلہ دیش کے نوجوان ناہی درانا کی سپیڈ اور فٹنس دیکھتے ہیں
03:59تو ہماری یہ کرنٹ ریالیٹی کافی مایوس کن لگتی ہے
04:02اب تیسرے اہم پہلو کی طرف آتے ہیں
04:04ادارہ جاتی ناکامی
04:06یعنی اس پورے بہران میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا اپنا کردار کیا ہے
04:10اصل میں سسٹم کے اندر کچھ بنیادی خرابیاں ہیں
04:13شیڈول کو ہی دیکھ لیجئے
04:14ٹیسٹ سیریز کے درمیان تین سے چار مہینے کا لمبا گیپ ہوتا ہے
04:17سال کے درمیان اور آخر میں کوئی انٹرنیشنل کرکٹ نہیں ہوتی
04:21اور جب ہوتی ہے
04:22تو پریکٹس کے لیے زمبابی جیسی کمزور ٹیموں کو ترجیح دی جاتی ہے
04:26انگلینڈ یا انڈیا جیسا کنٹینیوس اور کمپیٹیٹیو ریدم
04:29ہمارے یہاں بالکل مفقود ہے
04:31اس ٹیبل سے پی سی بی کی ترجیحات کا تضاد صاف ظاہر ہے
04:35ایک طرف پاکستان سوپر لیگ ہے
04:38جو پرفیکٹ پلاننگ اور شاندار بروڈکاسٹنگ کے ساتھ منقعت کی جاتی ہے
04:41لیکن دوسری طرف انٹرنیشنل ریڈ بال کرکٹ کا حال دیکھیں
04:45تو ان فریقونسی لمبے گیپس اور کمزور مخالفین کا انتخاب نظر آتا ہے
04:50یہ پرائیوریٹی کا بلکل الٹا ہونا ہے
04:53اور اس سب کا آخری نتیجہ کیا مکلتا ہے
04:55جب یہی پریمیم بولرز کسی ورلڈ کلاس آپوزیشن کے سامنے آتے ہیں
04:59تو پریکٹس کی کمی کی وجہ سے ان کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں
05:02کمزور ٹیموں کے خلاف کھیل کر
05:04آپ کبھی بھی بڑے مقابلوں کی تیاری نہیں کر سکتے
05:07یہ بلکل ویسا ہی ہے جیسے چھوٹی کلاس کا امتحان دے کر
05:10یونیورسٹی ٹاپ کرنے کا خواب دیکھنا
05:12چلیے اب آگے بڑھتے ہیں
05:14ہمارا چوتھا حصہ ہے
05:15سائلنٹ ٹیسٹ
05:16ایک آرزی حل
05:17سلحے ٹیسٹ جہاں بارش کا خطرہ ہے
05:20اس کے حوالے سے کچھ تبدیلیاں سامنے آ رہی ہیں
05:23کہا جا رہا ہے کہ گرین ٹاپ پچ کا جائزہ لیا جائے گا
05:26شاہین افریدی کی جگہ خورم شہزاد کو لائے جائے گا
05:29اور بابر آزم کی واپسی ہوگی
05:30جس کی قیمت شاید عبداللہ شفیق کو باہر بیٹھ کر چکانی پڑے
05:34لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے
05:37کہ کیا صرف ایک یا دو کھلاڑیوں کو ادھر ادھر کرنے سے
05:40ایک پورا ٹوٹاوا سسٹم ٹھیک ہو سکتا ہے
05:43بلکل نہیں
05:44قیادت کی کمزوری
05:46کھلاڑیوں کی خراب فٹنس
05:48اور اداروں کی مسلسل لا پرواہی
05:50یہ وہ سخت حقیقتیں ہیں
05:51جن کا حل ان چھوٹی موٹی تبدیلیوں سے بلکل نہیں نکلنے والا
05:55یہ مسائل صرف بینڈڈ لگانے سے ٹھیک نہیں ہوں گے
05:58آخر میں آتے ہیں اس پوری کہانی کے سب سے متاثر کن پہلو پر
06:02اصل متاثر
06:04یعنی کرکٹ کے شائقین
06:06یہ الفاظ انتہائی تکلیف دے ہیں
06:08ہماری باڈیز یوسٹو ہو گئی ہیں
06:10ہمارے دماغ نے قبول کر لیا ہے
06:12فینز نے اب زمبابوے
06:14یو ایسے اور افغانستان جیسی ٹیموں سے ہارنا جیسے نومالائز کر لیا ہے
06:19وہ جذبہ
06:19وہ پرجوش فائٹنگ سپیٹ
06:21اب ٹوٹلی تھکاوٹ اور مایوسی میں تبدیل ہو چکی ہے
06:25کہا جا رہا ہے کہ لوگوں نے کرکٹ دیکھنا چھوڑ دی ہے
06:28بلکل ویسے ہی جیسے
06:29انیس سو ننیانوے کے وولڈ کپ کے بعد ہوا تھا
06:32یہ ہسٹوریکل پیرلل دکھاتا ہے
06:34کہ عوام ایک بار پھر
06:35بے ہسی کا شکار ہو رہی ہے
06:37جنون کی جگہ لا تعلقی لے رہی ہے
06:40اور یہ کسی بھی کھیل کے لیے
06:41سب سے خطرناک بات ہے
06:43اور ہم سب جانتے ہیں
06:45کہ پاکستان میں کرکٹ صرف ایک کھیل نہیں ہے
06:47یہ وہ واحد چیز ہے
06:49جو پوری قوم کو ایک ساتھ جڑتی ہے
06:51یہ ہمارا پرائمری یونیفائنگ فیسٹیول ہے
06:54اور تفریقہ سب سے بڑا ذریعہ ہے
06:56اس بنیادی نظام کی ناکامی نے
06:58لوگوں سے ان کی آخری بڑی خوشی بھی چھین لی ہے
07:01اس خلاصے کو ہم ایک انتہائی چپتے ہوئے
07:04سوال کے ساتھ ختم کرتے ہیں
07:06اگر شائقین ہی اس کھیل کی پرواہ کرنا چھوڑ دیں
07:08اگر فینز میچ دیکھنا ہی بند کر دیں
07:11تو آخر یہ ٹیم کس کے لیے کھیل رہی ہیں
07:13اس سوال کو سوچئے گا ضرور
07:15کیونکہ یہی اس کرکٹ کرائسز کی
07:17اصل اور سب سے بھاری قیمت ہے
Comments