Skip to playerSkip to main content
Is the taweez really a cure… or the most profitable scam in Pakistan?

In this investigative video, we uncover the dark reality behind amulets, fake babas, and the billion-rupee fear industry operating across Pakistan. From a desperate mother in Lahore running to a baba instead of a hospital… to shocking real incidents near graveyards… to the historical roots of amulets from Ancient Egypt, Rome, Greece, and Asia this video exposes how an ancient superstition turned into a modern business.

You will learn:

What actually goes inside a taweez

The 3 types of amulets people wear

What Islam and Hadith say about taweez and shirk

How cultural practices entered Muslim societies

The placebo effect behind amulets

Real cases of taweez mafia, blackmail, and exploitation

The $200 million amulet industry in Pakistan

Why people trust a thread more than Allah

This is not just a story. This is a reality happening in streets, graveyards, shrines, and WhatsApp numbers around you.

Watch till the end to understand why faith is being replaced by fear… and how deception becomes expensive when belief becomes weak.

#taweez #Scam #pakistan #shirk #islam #blackmagic #ruqyah #evileye #amulet #islamicreminder #imtinanahmad #pakistan #newvideo #india #bangladesh

Category

🗞
News
Transcript
00:00لاہور شہر کا ایک بھیڑ سے بھرپور بازار تھا
00:07گرمیوں کا مہینہ تھا دوپہر کی دھوپ انتہائی تیز تھی
00:11بازار میں ہر طرف شور ہو رہا تھا
00:14ہر طرف لوگ اپنی گہما گہمی میں مصروف تھے
00:17اور اچانک ایک عورت نظر آتی ہے
00:19اپنے چھ سال کے بیٹے کے ساتھ
00:22وہ اس بازار میں اپنے بیٹے کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر جا رہی ہوتی ہے
00:27وہ عورت بھاگنا شروع کرتی ہے
00:30وہ بھاگ رہی ہوتی ہے تیز تیز بھاگتی ہے
00:33لوگ رستہ چھوڑ دیتے
00:34اس کے رستے سے ہٹ جاتے
00:36کوئی رکھ کر پوچھتا ہے کہ کیا ہوا
00:39تو وہ عورت چلا کر کہتی ہے
00:41میرا بیٹا بیمار ہے
00:42وہ عورت رکھتی نہیں ہے
00:44اس کی آواز میں شدت تھی
00:46یقین تھا بھروسہ تھا
00:49وہ عورت کسی ہسپتال نہیں جاتی
00:52وہ کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتی
00:54وہ کسی دوہ خانے میں نہیں جاتی
00:57بلکہ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ
00:59جاتی ہے ایک تنگ تاریک گلی میں
01:01جہاں بیٹھا ہے
01:03بابا دندل شاہ
01:04ایک ایسا بزرگ آدمی
01:06جس کی داڑی سفید ہے
01:08اور سبز امامہ اس کے سر پر بندھا ہے
01:11اور سامنے دھونی دی جا رہی ہے
01:13لوبان کی خوشبو
01:14اور دیوار پر واتس ایپ کا نمبر لکھا ہے
01:18اور اس کے ساتھ لکھا ہے
01:19کہ ہر قسم کی پریشانی کا حل
01:21نظر بد
01:22جادو
01:23محبت کا مسئلہ
01:25ہر مسئلے کے لیے
01:26بابا دندل شاہ سے
01:28رابطہ کریں
01:30وہ عورت جا کر کہتی ہے
01:31بابا جی
01:32میرے بیٹے کو سخت بخار ہے
01:34تین دن سے بخار نہیں اترا
01:36کچھ کھا نہیں رہا
01:37رات کو بخار تیز ہو جاتا ہے
01:40مجھے یقین ہے
01:41کہ اسے نظر رگی ہے
01:42اللہ کے واسطے
01:44اسے کوئی تعویز دے دیں
01:46بابا دندل شاہ
01:48اس بچے کی طرف دیکھتا ہے
01:50اس کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے
01:52بچے کے سر پر ہاتھ پھیرتا ہے
01:54اور کچھ بڑھ بڑھاتا ہے
01:56اور پھر اپنے سندوق سے
01:57ایک سیاہ دھاگا نکالتا ہے
01:59اور کاغذ پر کچھ لکھتا ہے
02:01اور لکھنے کے بعد
02:03دھاگے میں لپیٹ دیتا ہے
02:04گراہ لگاتا ہے
02:06اور بچے کے گلے میں باند دیتا ہے
02:08اور سنجیدگی بھری آواز کے ساتھ کہتا ہے
02:11کہ بس
02:12اس تعویز کو ہمیشہ
02:14اپنے پاس رکھنا
02:16تین دن میں سب ٹھیک ہو جائے گا
02:18وہ عورت
02:19بابا دندل شاہ سے پوچھتی ہے
02:21کہ کتنے پیسے ہوئے
02:23بابا کہتا ہے
02:24کہ پانچ ہزار روپے
02:27آپ نے بالکل ٹھیک سنائے
02:29پانچ ہزار روپے
02:30ایک دھاگے کے
02:32ایک کاغذ کے ٹکڑے کے پیسے
02:34پر سوال یہ نہیں ہے
02:36کہ اس بابا نے
02:37کتنے پیسے اس عورت سے مانگے
02:39سوال یہ ہے
02:40کہ اس تعویز میں کیا تھا
02:43اور کیا یہ واقعی
02:44بچے کو ٹھیک کر دے گا
02:46اور اگر نہیں
02:47تو پھر کیوں پاکستان میں ہر سال
02:49تقریبا پانچ ہزار کروڑ روپے
02:52صرف تعویز پر خرچ کیے جاتے ہیں
02:54یہ کہانی ہے
02:56تعویز کی
02:57اور یہ کہانی شروع ہوتی ہے
02:58آج سے پانچ ہزار سال پہلے
03:01کہانی کیا ہے
03:03آئیے سمجھتے ہیں
03:13سب سے پہلے بات کرتے ہیں
03:15کہ تعویز ہوتا کیا ہے
03:17تعویز ایک ایسا لفظ
03:19جو پرانی عربی سے آتا ہے
03:20اور پرانی عربی میں
03:22جس کا مطلب تھا
03:23مضبوط کرنا
03:24حفاظت کرنا
03:25یہ ایک ایسا آبجکٹ ہے
03:27جو لوگ اپنے جسم پر پہنتے ہیں
03:29یا پھر اپنے گھر میں رکھتے ہیں
03:31تاکہ وہ نقصان سے بت سکیں
03:33بری نظر سے محفوظ رہ سکیں
03:35بیماری ان کے قریب نہ آئے
03:37کوئی مسئیبت ان کے قریب نہ آئے
03:40اور تعویز کی عام طور پر
03:42تین قسمیں موجود ہیں
03:44پہلی قسم
03:45قرآنی آیات
03:47اللہ کے نام
03:48یا مسنون دعاوں سے بننے والے تعویز
03:51بہت سے لوگ انہیں جائز سمجھتے ہیں
03:54دوسری قسم
03:55جس میں شامل ہے
03:56نقش
03:57تکے
03:58جنوں کے نام
03:59فرشتوں کے نام
04:00غائب العباری الفاظ
04:02جو سمجھ میں نہ آئے
04:03یا کچھ خاص پیٹرنز میں
04:05نمبرز
04:06یہ خطرناک ہیں
04:07اور انسان کو شرک کی طرف لے جاتے ہیں
04:10اور پھر آتی ہے تیسری قسم
04:11یعنی علم نجوم سے بننے والے
04:14نیومیریکل تعویز
04:15جن پر کچھ ایسے نمبرز اور کوڈز شامل ہوتے ہیں
04:19جن کی کیلکولیشن ٹوٹل کریں
04:21تو عجیب و غریب نمبرز آتے ہیں
04:24جیسے سہری کیلکولیشنز اور ان کا استعمال
04:27گمبیر نقصان پہنچا سکتا ہے
04:30پر سوال یہ ہے
04:31کہ یہ کانسپٹ ہمارے ہاں آیا کہاں سے
04:35تاریخ تعویز کے بارے میں کیا کہتی ہے
04:38اس بات کو جاننے کے لیے
04:39ہمیں جانا پڑے گا ایجپٹ میں
04:42قدیم مصری تہذیب میں
04:44جہاں ریگستان میں انسان نے وہ عبارتیں تعمیر کی
04:48جنہوں نے آسمان چھونے شروع کر دیئے
04:51جہاں انسان نے پتھر کو توڑنا سیکھا
04:54فیرون کا دور وہ باچہ
04:56جو خود کو خدا سمجھتا تھا
04:58جس کے آگے لاکھوں سر جھکتے تھے
05:01جب احرام بنائے گئے
05:03اور وہ قبریں جو آج بھی راز چھپائے بیتھی ہیں
05:06اور آج بھی جب کفن میں لپٹی ہوئی
05:09مامیز ڈسکاور ہوتی ہیں
05:11تو ان کے پاس سے ملتا ہے
05:13ایک تاویز
05:14اس دور میں ایک چیز بہت عام تھی
05:17میکٹ
05:18یہ تھے چھوٹے چھوٹے تاویز
05:21پتھر کے سونے کے ہڈیوں کے
05:23جو لوگ اپنے گلے میں پہنتے تھے
05:26کیوں؟
05:27کیونکہ ان کا یقین تھا
05:28یہ انہیں بری روحوں سے بچائے گا
05:31موت کے بعد بھی
05:33نظرِ بد سے بچنے کے لیے
05:34آئی آف ہورس
05:36نئی زندگی کی امید
05:37سکارب بیٹل
05:39اور زندگی کی علامت
05:40یعنی آنکھ
05:42پھر آتے ہیں قدیم گریس اور رومنز کی طرف
05:45یہاں بھی یہی سلسلہ تھا
05:47یونانیوں نے چلسوڈونی پتھر پہننا شروع کیے
05:51کیونکہ انہیں یقین تھا
05:52کہ اس میں جوپیٹر کی طاقت ہے
05:54رومیوں میں رواج تھا
05:56کہ وہ اپنے بچوں کو بلہ پہناتے تھے
05:59سونے کا چھوٹا سا دبا
06:01جس میں حفاظتی مقصد کے لیے
06:04سلفر یا دوسرے سبسٹنسز
06:06رکھ دیے جاتے تھے
06:08اور اس کا مقصد صرف ایک تھا
06:10پروٹیکشن اور سیفٹی
06:12اور پھر چلتے ہیں
06:14ایشیا کی طرف
06:15جہاں چائنہ میں
06:16تاؤیس فلو
06:18نقش والے تعویز ہوا کرتے تھے
06:21جاپان میں افودہ
06:22شنطوں مندروں کے پیپرز
06:24اور کوڑیا میں بوجیوک
06:26لیکن یہ سب ایک ہی چیز تھی
06:29شرک
06:30یہ لوگ اللہ کو نہیں جانتے تھے
06:33یہ لوگ حفاظت کے لیے
06:35اللہ پر نہیں
06:36بلکہ لوگوں اور چیزوں پر
06:38یقین رکھتے تھے
06:40پھر اسلام آیا
06:41توحید آئی
06:42لا الہ الا اللہ آیا
06:44یعنی ایک ایسا پیغام
06:46جو سیدھا دل پر وار کرتا ہے
06:48کہ اللہ کے سوا
06:50کوئی عبادت کے لائق نہیں
06:52مدد صرف اللہ سے
06:54بھروسہ
06:55صرف اللہ پر
06:56شرک حرام
06:57وسیلہ منع
06:59لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے
07:01اور وہ سوال یہ ہے
07:02کہ اگر اسلام میں
07:03شرک کی کوئی جگہ نہیں ہے
07:05اگر ہر قسم کا وسیلہ
07:07جو اللہ کے سوا
07:08کسی اور کو بنایا جائے
07:10وہ رد کر دیا گیا ہے
07:12تو پھر تعویز
07:13مسلم سوسائیٹیز میں
07:15کیسے آیا
07:16کیسے وہ چیز
07:17جو پہلے جہالت کے دور میں
07:19بچنے کا ذریعہ تھی
07:21اسلام کے بعد بھی زندہ رہا
07:23کیسے توحید کے بعد بھی
07:25لوگوں نے حفاظت کے لیے
07:27پھر سے چیزوں کو پکڑنا شروع کر دیا
07:30پھر سے تعویز کو
07:31اپنے پاس
07:33رکھنا شروع کر دیا
07:34جبکہ قرآن کو پڑھنے
07:36اور اس پر
07:37عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے
07:40تو یہاں پر
07:41سوال پیدا ہوتا ہے
07:42اور یہاں سے
07:43کہانی
07:44اور گہری
07:45ہو جاتی ہے
07:46سلسلہ یہ ہے
07:47کہ جب اسلام پھیلا
07:48ایفرکا میں گیا
07:49سنٹرل ایزیا میں آیا
07:51ساؤت ایزیا میں آیا
07:53کلچرل پریکٹسز
07:55آلریڈی اسٹیبلش تھی
07:56انہوں نے اسلام کو قبول کر لیا
07:58مسلمان ہو گئے
08:00لیکن جو کلچرل پریکٹسز تھی
08:02وہ بند نہیں ہوئی
08:03جو سلسلہ
08:04فیرون کے دور سے چلتا آ رہا تھا
08:07جو نسل در نسل
08:08سینہ در سینہ چل رہا تھا
08:10وہ کلچرل پریکٹس
08:12اپنی جگہ قائم رہی
08:13جو پرشیا کے اندر
08:14زہراششیانز کے رچول تھے
08:16وہ اپنی جگہ قائم رہے
08:18اور جو اندیا کے اندر
08:19تانترا کے رچولز تھے
08:21انہوں نے اپنی روایت
08:22برقرار رکھی
08:23اس کے اوپر
08:24کتابیں لکھی جا چکی ہیں
08:26ریلیجن ایکسپلین میں
08:27پیسکل بوئر کہتا ہے
08:29کہ جب ایک زمانہ گزر جاتا ہے
08:31تو لوگ یہ فرق بھول جاتے ہیں
08:32کہ کیا کلچر تھا
08:34اور کیا دین تھا
08:35انہیں ایک زمانے کے بعد
08:37سب کچھ انٹر منگل لگتا ہے
08:39اور ان کو ایسا لگتا ہے
08:40کہ جیسے تاویز
08:41اسلام کا حصہ تھے
08:43لیکن وہ اسلام کا حصہ
08:45تو کبھی تھے ہی نہیں
08:46اور دوسرا ایفیکٹ ہے
08:48جس کو کہتے ہیں
08:49پلسیبو ایفیکٹ
08:50اب پلسیبو ایفیکٹ
08:51یہ کہتا ہے
08:52سائیکالوجی کے اندر
08:53کہ جب آپ کسی چیز کا استعمال
08:55شروع کر دیتے ہیں
08:56تو اس کا مطلب یہ نہیں
08:57کہ اس کے اندر اتنی طاقت ہے
08:59یا وہ آپ کی زندگی کے
09:01مسئلے حل کر رہا ہے
09:02وہ جو بھی تاویز آپ نے لے لیا
09:04وہ لینے کے بعد
09:05آپ کے دل کو اتمنان ہو جاتا ہے
09:07کہ میری زندگی بدل رہی ہے
09:09آپ اپنے آپ کو
09:10کنونس کرنا شروع کر دیتے ہیں
09:12جس کی وجہ سے
09:13آج یہ بزنس
09:14ڈر کا بزنس بن چکا ہے
09:16اور یہ ڈر کا بزنس
09:18اتنا بڑا بزنس ہے
09:19کہ ایڈ بیز کنسالتنگ کی
09:21ریپورٹ ہے
09:21دو ہزار چودہ کی
09:23اور وہ ریپورٹ کہتی ہے
09:24کہ پاکستان میں
09:26ہر سال
09:27دو سو ملین ڈالرز
09:29تاویز پر خرج کیے جاتے ہیں
09:31which is around
09:32پانچ ہزار
09:33پانچ سو کروڑ روپے
09:35اور یہ انڈسٹری
09:36صرف پاکستان میں
09:37ایگزیسٹ نہیں کرتی
09:38مسلم ممالک میں
09:40یہ ایگزیسٹ نہیں کرتی
09:41پوری دنیا میں
09:42ایگزیسٹ کرتی ہے
09:43اور یہ اتنی بڑی
09:44انڈسٹری ہے
09:45کہ اس کا
09:45annual turnover
09:4717 billion
09:48ڈالرز سے بھی
09:50کہیں زیادہ ہے
09:51اب پہلے سمجھتے ہیں
09:53دو ایسے cases
09:54جو آپ کے
09:55رونگٹے کھڑے کر دیں گے
09:57سن دوہزار پچھس میں
09:58راولپندی میں
09:59ایک واقعہ پیش آیا
10:00ایک قبرستان کے پاس سے
10:02رات کے دو بجے
10:04آوازیں آنا شروع ہو گئیں
10:06لوگ جو قبرستان کے پاس
10:08رہتے تھے
10:08وہ حیران ہو گئے
10:09انہوں نے ایک دوسرے کو
10:10مدد کے لیے پکارا
10:12اور پھر فائنلی
10:13انہوں نے decide کیا
10:14کہ ہم پولیس کو
10:15کال کرتے ہیں
10:16پولیس موقع پر پہنچی
10:18پولیس تلاش کرتی رہی
10:19کہ یہ آوازیں
10:21کہاں سے آ رہی ہیں
10:22اور جب وہ آہستہ آہستہ
10:23اس قبر کے پاس پہنچے
10:25جہاں سے یہ آوازیں آ رہی ہیں
10:27وہاں پر
10:28خدائی کی آواز آ رہی تھی
10:30وہاں پر
10:31مٹی گرنے کی آواز آ رہی تھی
10:33قبر پر
10:34چڑھنے کی آواز آ رہی تھی
10:35جب وہ قبر کے پاس پہنچے
10:37تو وہ یہ دیکھ کر
10:38حیران رہ گئے
10:39کہ وہاں پر
10:40کوئی کفن چور
10:41موجود نہیں تھا
10:42وہاں پر
10:43ایک دھوگی بابا
10:44موجود تھا
10:45جس کا نام تھا
10:46یاسین بخاری
10:48اور اس کے پاس سے
10:49پولیس برامت کرتی ہے
10:51سات تعویز
10:52سات لوہے کے کیل
10:54تار میں لپٹے ہوئے
10:55اور ایک ڈال
10:56اور ایک انسانی پتلا
10:58یہ وہ دھوگی بابا ہے
10:59جس کا تعلق پیر مافیا سے ہے
11:01اور وہ لڑکیوں کو
11:03لف سپیل میں پھساتا ہے
11:04اور ان کو لوٹنے کی
11:06کوشش کرتا ہے
11:07لیکن یہ اپنی نویت کا
11:09ایک واحب واقعہ نہیں ہے
11:10دوسرا واقعہ
11:11جو آپ کے لئے جاننا ضروری ہے
11:13یہ وہ واقعہ ہے
11:14جو سن 2017 میں پیش آیا
11:16آزاد کشمیر کے علاقے
11:18مزفر آباد میں
11:20مزفر آباد کے پاس
11:21ایک آستانہ آلیہ موجود تھا
11:23اور اس آستانے کو
11:24چلانے والے کا نام تھا
11:26میاں محمد تنظیم
11:28بہت سے لوگ کہتے تھے
11:29کہ پیر صاحب ہیں
11:31بزرگ ہیں
11:32تعویز سے مشکلات کا
11:33حل دیتے ہیں
11:34لیکن سج
11:35اس کے برعکس تھا
11:37یہ وہ آدمی تھا
11:38جو عورتوں کو
11:39تعویز کے نام پر
11:40بلیک میل کیا کرتا تھا
11:42انہیں بہکاتا تھا
11:44پھر ان کے ساتھ
11:45زیادتی کرتا تھا
11:46اور اس زیادتی کی
11:47ویڈیو ریکارڈنگ
11:48ہٹن کیامرہ سے کرتا تھا
11:50پھر وہی ویڈیوز دکھا کر
11:52سونا پیسہ
11:53جو لوٹنا ہوتا تھا
11:55ان عورتوں سے
11:56مانگ لیا کرتا تھا
11:58دس سال
11:59لٹرلی دس سال
12:01یہ ایکسپلائٹیشن
12:02کا سلسلہ چلتا رہا
12:03پھر پولیس آئی
12:05ریڈ ماری
12:06لیپ ٹاپ پکڑا
12:07جہاں سے ویڈیو کے
12:08ثبوت ملے
12:09اور سچ دنیا کے سامنے آیا
12:11کہ یہ کوئی پیر بابا نہیں
12:13یہ وہ مافیا ہے
12:15جس کے بارے میں
12:16ہم بات کرتے ہوئے
12:17جھجکتے ہیں
12:18تعویز کی ایک اور قسم بھی
12:20موجود ہے
12:21اور یہ وہ تعویز ہے
12:23جو خون سے بنایا جاتا ہے
12:25انسانی خون سے
12:26بہت پاہفل
12:28جس سے کسی کو بھی
12:29اپنا غلام بنایا جا سکتا ہے
12:31قیمت
12:31ایک لاکھ روپے
12:33اور نشانہ
12:34نشانہ وہی لوگ بنتے
12:36جو ڈیسپریٹ ہیں
12:37ٹوٹ چکے ہیں
12:38پریشان ہیں
12:39جنہیں زندگی میں
12:40صرف اندھیرہ نظر آتا ہے
12:42جو مجبور ہیں
12:43اپنے مسائل سے باہر
12:45نکلنا چاہتے ہیں
12:46ان کے لیے
12:47اردو میں مہاورہ ہے
12:48کہ ڈوبتے کو
12:50تنکے کا سہارا
12:51اور جب یہ سہارا لینے کی
12:53کوشش کرتے ہیں
12:54تو یہ دھندے باز
12:55انہیں اپنے جال میں
12:56پھسا کر
12:57ان کا فائدہ اٹھانے کی
12:59کوشش کرتے ہیں
13:00اب یہاں پر سمجھتے ہیں
13:01کہ یہ سارا نظام ہے کیا
13:04اسلامی روایات
13:05اور علماء کے بیان کے مطابق
13:07شیطان صرف ایک نام نہیں ہے
13:09یہ ایک نظام ہے
13:11اور اس نظام میں
13:12ہر شیطان
13:13اپنا کام کرتا ہے
13:14پہلے آتا ہے
13:15افریت
13:16جسے روایتن
13:18جادو اور شرک کا
13:19ماہر جن
13:20مانا جاتا ہے
13:21اور یہ وہ کانسپٹ ہے
13:23چہاں نقش لکھوائے جاتے ہیں
13:25چہاں غیب سے
13:26مدد مانگی جاتی ہے
13:27چہاں تعویز کو
13:29پاورفل سورس
13:30بنا دیا جاتا ہے
13:31اور پھر دوسرا آتا ہے
13:33قاریم
13:34یہ ہر انسان کے ساتھ
13:35رہنے والا شیطان ہے
13:37یہ تعویز لکھتا نہیں ہے
13:39یہ وسوسہ ڈال دیتا ہے
13:40یہ کہتا ہے
13:41کہ بس ایک دفعہ
13:42ٹرائے کر کے دیکھ لو
13:43اللہ بھی ہے
13:45تعویز بھی ہے
13:46اور اس سے
13:47شرک کا
13:48رستہ کھلتا ہے
13:49شرک کا دروازہ کھلتا ہے
13:51اور پھر وہ شیطان
13:53جو جھوٹی امید دیتا ہے
13:55کہ سب ٹھیک ہو جائے گا
13:56بغیر توبہ کے
14:00سبر کے
14:00سب ٹھیک ہو جائے گا
14:02بغیر اللہ کی طرف پلٹے ہوئے
14:05اس لئے قرآن کہتا ہے
14:07کہ شیطان کے ہر کام میں
14:09گمراہی ہے
14:10وہ امید کا
14:11جھوٹا بیج بھی بوتا ہے
14:13تاکہ انسان شرک کی طرف
14:15مائل ہو جائے
14:16اور جب تعویز لکھوائے جاتے ہیں
14:18خون کے نقش بنائے جاتے ہیں
14:20انسان اللہ سبحانہ و تعالی کی جگہ
14:23چیزوں سے مدد مانگنا شروع ہو جاتا ہے
14:26تو ہر شیطان
14:27اپنا اپنا کام کرتا چلا جاتا ہے
14:30وہ اللہ سبحانہ و تعالی سے
14:32ایمان ہٹا کر
14:33ایک دھاگے کے ساتھ
14:35ایمان کو جوڑ دیتا ہے
14:37اب آتے ہیں
14:38اصل سوال کی جانب
14:40سوال یہ ہے
14:41کیا تعویز پہننے کا فائدہ ہے
14:43یا یہ شرک ہے
14:44پہلے یہ دیکھتے ہیں
14:46کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:48نے کیا فرمایا
14:49مسند احمد
14:51حدیث نمبر
14:51سترہ ہزار چار سو بائیس
14:53آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:55نے فرمایا
14:56جس نے تعویز لٹکایا
14:58اس نے شرک کیا
14:59یہ روایت اقبہ بن عامر
15:02رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے
15:04جہاں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
15:06نے تمیمہ
15:07یعنی تعویز کو کاٹ دیا
15:10اور کہا
15:11کہ یہ شرک ہے
15:12اب سوال یہ ہے
15:13کہ کیا یہ حدیث صحیح ہے
15:15شیخ ناصر الدین البانی نے
15:17اسے سلسلات الاحادیث میں
15:19اور السحیحہ میں
15:20صحیح قرار دیا ہے
15:22اور شیخ شویب نے
15:24مسند احمد کی تحقیق میں
15:26اسے حسن کہا ہے
15:27یہ تعویز لکھنے والوں کے لیے
15:30تعویز لٹکانے والوں کے لیے
15:32بہت بڑی وارننگ ہے
15:34شرک وہ گناہ ہے
15:36جو اللہ سبحانہ وتعالی
15:37توبہ کے بغیر
15:39معاف نہیں کرتا
15:40تعویز میں
15:42قرآنی آیتیں
15:43لکھی جا سکتی ہیں
15:44یہ ایک بہت بڑا سوال ہے
15:46اور اس سوال کو لے کر
15:48علماء کے درمیان
15:49اختلاف پایا جاتا ہے
15:51پہلے اس اختلاف کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں
15:54پہلی رائے یہ ہے
15:55کچھ علماء کہتے ہیں
15:56کہ اگر تعویز میں
15:58قرآنی آیتیں موجود ہوں
16:00اور یقین یہ ہو
16:01کہ شفا اللہ سبحانہ وتعالی کی ذات دے رہی ہے
16:04تو یہ رکیہ کی ایک قسم ہو سکتی ہے
16:07اور دوسری رائے یہ کہتی ہے
16:09جو زیادہ احتیاطی ہے
16:10وہ رائے یہ کہتی ہے
16:12اس کے مطابق
16:13ہر قسم کا تعویز ممنوع ہے
16:15چاہے اس میں قرآنی آیتیں ہو
16:17یا نہ ہو
16:19اب یہ وجہ کیا ہے
16:20ممنوع ہونے کی
16:21ان وجوہات کو سمجھتے ہیں
16:23پہلی وجہ یہ کہتی ہے
16:25کہ تعویز ہر جگہ ساتھ رہتا ہے
16:27چاہے آپ
16:28ٹائلٹ میں ہو
16:29غلیز جگہ پر ہو
16:30غسل خانے میں ہو
16:31کہیں پر بھی ہو
16:32سوال یہ ہے
16:33کہ قرآن مجید کے آداب ہیں
16:36کیا آپ قرآن پاک کو
16:37نعوذب اللہ ایسی جگہ لے کر جا سکتے ہیں
16:40ہرگز نہیں
16:41تو جب قرآن مجید کو نہیں لے کر جا سکتے
16:43تو تعویز کے ذریعے
16:45گلے میں لٹکا کر
16:47قرآن مجید کی آیات کو
16:49کیسے لے کر جا سکتے ہیں
16:50یہ قرآن مجید کی
16:52نعوذب اللہ
16:53بے حرمتی کے زمرے میں آتا ہے
16:55اور دوسری وجہ یہ ہے
16:56کہ تعویز پہننے کے بعد
16:58دل میں ایک باریک سا شبہ پیدا ہو جاتا ہے
17:01کہ شاید یہ دھاگا
17:03کچھ تو کچھ تو مدد کر رہا ہے
17:06اللہ سبحانہ وتعالی نہیں
17:08اور یہ
17:09بزات خود
17:10ڈریکٹلی
17:11شرک کی طرف لے جاتا ہے
17:13اسی طرح سورہ الہراف
17:15آیت نمبر سولہ میں
17:16اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا
17:17کہ شیطان نے کہا
17:19کہ میں تیری سیدھی راہ پر
17:21ان کے لیے
17:21گھات لگا کر بیٹھوں گا
17:23تو جو تعویز ہے
17:24یہ تعویز کیا ہے
17:26یہ بھی ایک گھات ہے
17:27اسی گھات کی ایک شکل ہے
17:29جس سے شیطان
17:31رستہ بگاڑنے کی کوشش کرتا ہے
17:33سورہ انیسہ
17:34آیت نمبر 119 میں
17:36اللہ سبحانہ وتعالی نے
17:37ارشاد فرمایا
17:38شیطان کہتا ہے
17:39اور میں انہیں جھوٹی امیدیں
17:41دلاؤں گا
17:42اب یہ جھوٹی امیدیں
17:43کیسے پیدا ہوتی ہیں
17:44یہ تعویز کے ذریعے پیدا ہوتی ہیں
17:46جہاں پر یہ یقین ہوتا ہے
17:48کہ کوئی نہ کوئی
17:49تو اس کاغذ کے ذریعے
17:51مدد کر رہا ہے
17:52یا شاید
17:53یہ کاغذ ہی میری مدد کر رہا ہے
17:55تو پھر صحیح طریقہ ہے کیا
17:57صحیح طریقہ وہ ہے
17:59جو نبی پاک
18:00صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:02کا طریقہ ہے
18:03رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:05نے ہمیں
18:06کسی دھاگے کی طرف نہیں بلایا
18:08کسی تعویز کی طرف نہیں بلایا
18:10کسی پیر کی طرف نہیں بلایا
18:12آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
18:15ہمیں اللہ سبحانہ و تعالی کے
18:17کلام کی طرف بلایا
18:19صحیح بخاری
18:20حدیث نمبر پانچ ہزار سترہ
18:22رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:25ہر رات سونے سے پہلے
18:27سورہ الاخلاص
18:28سورہ الفلق
18:29اور سورہ ناس
18:31یہ تینوں صورتیں پڑھتے پھر اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونکتے اور اپنے جسم پر پھیر لیا کرتے تھے
18:39یہ سنت ہے کوئی تاویز نہیں کوئی دھاگہ نہیں کوئی وسیلہ نہیں
18:45یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا کلام ہے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ پر مکمل بھروسہ ہے
18:52پاکستان کی مسجدوں میں آج اتنے نمازی موجود نہیں ہوتے
18:56جتنے لوگ آج درگاہوں پر کھڑے ہوتے ہیں جالی تاویز بنانے والوں کی لائنوں میں موجود ہوتے ہیں
19:04اور واتس ایپ کے اوپر ان جالی پیروں سے رابطے میں ہوتے ہیں
19:08پاکستان کے قانون کے مطابق جھوٹا دعویٰ، فراڈ اور لوگوں کو دھوکہ دے کر پیسے لینا قانونن جرم ہے
19:16چاہے وہ سپیرچول سرویسز کے نام پر ہی کیوں نہ ہو
19:21پاکستان پینل کورڈ میں چیٹنگ اور فراڈ سے متعلق دفعات موجود ہیں
19:26جو ایسے دھندے کو قانونن ناجائز قرار دیتی ہیں اور سزا کا تعیون کرتی ہیں
19:32لیکن یہ سب کچھ ہونے کے باوجود بھی آج یہ دھندہ زور و شور سے جاری ہے
19:39آج بھی جگہ جگہ گلیوں کے کونے میں تاریخ گلیوں میں تاویز بنانے کا، تاویز لکھنے کا اور تاویز بیچنے
19:47کا کاروبار چل رہا ہے
19:49کہ جب عقیدہ کمزور ہو جاتا ہے تو دھوکہ مہنگا بکتا ہے
Comments

Recommended