رسول اللہ ﷺ نے ایک مرد کا ذکر فرمایا جو لمبے سفر سے تھکا ہوا تھا، بال بکھرے ہوئے تھے، آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا کر رہا تھا — "یا رب! یا رب!" لیکن آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام — تو اس کی دعا کیسے قبول ہوگی؟ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دعا کی قبولیت کا تعلق حلال رزق سے ہے۔ آج کے دور میں حرام کمائی کے بہت سے نئے راستے کھل گئے ہیں جن کے بارے میں ہم غافل ہیں — سودی لین دین، فراڈ کاروبار، ملاوٹ، ٹیکس چوری، جھوٹی تنخواہیں، وہ کام جو دین میں حرام ہیں۔ کئی لوگ یہ سوچتے ہیں کہ "سب کرتے ہیں تو کیا فرق پڑتا ہے" — لیکن یاد رکھیں کہ اللہ کے ہاں حساب انفرادی ہے، اجتماعی نہیں۔ حلال رزق کمانے کے لیے تین چیزیں ضروری ہیں — پہلی: کمانے کے ذریعے کو دیکھیں کہ وہ اسلام میں جائز ہے یا نہیں۔ دوسری: لین دین میں دھوکہ، جھوٹ اور وعدہ خلافی سے بچیں۔ تیسری: مشکوک مال سے بچیں — جس کمائی کے بارے میں دل میں شک ہو کہ یہ حلال ہے یا نہیں، اسے چھوڑ دینا بہتر ہے۔ یاد رکھیں — حلال کمائی میں بھلے ہی کم ہو لیکن اس میں برکت ہوتی ہے — اور حرام مال میں بھلے ہی بہت ہو لیکن اس کی آگ دنیا میں بھی جلاتی ہے اور آخرت میں بھی۔ جس گھر میں حلال رزق ہو، اس گھر میں اللہ کی رحمت اترتی ہے، دعائیں قبول ہوتی ہیں اور دلوں کو سکون ملتا ہے۔ #islam #Hadith #quran #muslim #believe
Comments