Skip to playerSkip to main content
  • 1 day ago
islamic channel

Category

📺
TV
Transcript
00:00Allah تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ
00:03حَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانِ
00:07فرمایا کیا ہے احسان کا بدلہ سوائے احسان کے
00:14نیکی کا بدلہ صرف نیکی ہے
00:18دنیا میں جو لوگ خیر کے کام کریں گے
00:21تو اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں بھی خیر عطا فرمائے گا
00:24اور قیامت میں بھی خیر ہی عطا فرمائے گا
00:29اور جو لوگ دنیا کے اندر شر کریں گے
00:33انہیں قیامت میں تو اس کی سزا ملے گی ہی
00:36کچھ نظاریں اس کے وہ دنیا میں بھی دیکھیں گے
00:41ارشاد فرمایا دوسرے مقام پر
00:43وَمَنْ يَأْمَلْ مِسْكَالَ ذَرَّةٍ خَيْرَنْ يَرَا
00:48اگر کوئی ذرے کے برابر خیر کرے گا تو اسے دیکھے گا
00:52اسے وہ دکھائی جائے گی
00:55وَمَنْ يَأْمَلْ مِسْكَالَ ذَرَّةٍ شَرْنْ يَرَا
00:59اگر ایک ذرے کے برابر شر کرے گا تو اسے بھی دیکھے گا
01:05دنیا کے اندر کچھ سزائیں
01:09اور کچھ ہمارے حالات کی خرابی کا سبب ہمارے آمال ہوتے ہیں
01:16قرآن مجید نے کہا
01:24فرمایا جو تمہیں مصیبت پہنچتی ہے
01:26تو تمہارے ہاتھوں کے کرتوتوں کے سبب
01:30کسب کے سبب پہنچتی ہے
01:33بہت سارے چیزیں تو ہم ویسے ہی معاف فرما دیا کرتے ہیں
01:39زندگی دنیا میں رہتے ہوئے بھی انسان کو کچھ سبق دیتی ہے
01:46اگر آپ فصل زمین میں بوئیں
01:49تو چاول کا بیچ بوئیں گے
01:51تو وہاں چاول ہوگے گا گندم نہیں ہوگے گی
01:55اور اگر آپ کاشت گندم کریں گے
01:57تو گندم ہی وہاں سے ہوگے گی
02:00وہاں سے چاول ہوگ سکتا نہیں ہے
02:02یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ زندگی میں لوگوں کو
02:07تکلیفیں دیں اور خود آپ آرام سے سو جائیں
02:09یہ ہو نہیں سکتا
02:11یہ ممکن نہیں
02:13دو جملوں میں میرے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
02:15نے ہمیں بات سمجھا دی ہے
02:17اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
02:20کہ تم اللہ کے بندوں پہ رحم کرو
02:22اللہ تمہارے اوپر رحم فرمائے گا
02:27لیکن بندوں کے بارے میں بندوں کا رویہ سخت تو
02:31اس کا لہجہ رب کریم کے بندوں کے بارے میں تلخ ہو
02:35اس کے دل میں رحم کے کرم کے میٹھے جذبات ہی ناصرے سے ہوں
02:39اور وہ کہے کہ میرے بارے میں نرمی کی جائے
02:42تو یہ ہو نہیں سکتا
02:43یہ ممکن نہیں ہے
02:45ہم کیا کرتے ہیں
02:48ہم اپنے تھوڑی دیر کے سکون کے لیے
02:51بہت سارے لوگوں کو تکلیف میں مفتلا کرتے ہیں
02:55بلکہ بعض لوگ تو ایسے ہیں
02:56جو دوسروں کو مصیبت میں دے کر خوش ہوتے ہیں
03:02ان کو کل بھی راحت نصیب ہوتی ہے
03:04کسی شخص کو مشکل میں دیکھتے ہیں
03:06پریشانی میں دیکھتے ہیں
03:07تو بڑا انہیں سکون میسر آتا ہے
03:10اور میں نے دیکھا ہے کہ بگلیں بجاتے ہیں
03:13اور وہ بقاعدہ دلائل دیکھا ہیں
03:17دیکھا نا ہمارے ساتھ ایسے کرتا تھا
03:19تو آج اس کا کیا حال ہو گیا ہے
03:21بقاعدہ لوگ یہ کام کرتے ہیں
03:24وہ ہمارے درویشوں نے
03:26اپنے رنگ میں بھی ہمیں بڑے مسئلے سمجھائیں ہیں
03:29پر اللہ کرے ہماری سمجھ میں بات آئے
03:31اللہ کے بندوں نے نا سادی کر کے باتیں
03:34سادی کر کے
03:35اور نرم کر کے
03:36اور ہمارے مزاج اور طبیعت کے مطابق
03:39ہمارے ذہنوں میں اتارنے کی کوشش کی ہے
03:42اگر ہماری سمجھ میں آئے
03:43دیکھیں نا درویش کیا کہتے ہیں
03:45کہتے ہیں دشمن مرے تو خوش ہی نہ کریے
03:50دلیل کیا ہے
03:50کہ سجنہ بھی تے مر جانا ہے نا
03:54یہاں تو یہ کہہ نا کہ دشمن مر گیا
03:56تو دوست نہیں مرے گا
03:58تو کس طرح سادہ کر کے
04:00اور عام فہم کر کے اور
04:01ذہن کے قریب جا کے بات سمجھاتے ہیں
04:03کہتے ہیں کس بات کا چاؤ کر رہے تو
04:06دشمن مرے
04:08خوش ہی نہ کریے
04:10اپایا سجنہ بھی مر جانا ہے
04:12دیگر تے دن آیا ہے محمد
04:14دوڑک نو دوب جانا ہے
04:15یہ تو کس چکر میں تو پڑا ہوا ہے
04:18ترمیزی شریف
04:20حضرت واصلہ بن اسکر
04:22رضی اللہ تعالیٰ عنہ حدیث کے رابعین
04:24یہ دی ضرور یاد رکھیے گا
04:26میرے نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
04:29نے فرمایا
04:29اپنے بھائی کو
04:30مصیبت میں دیکھ کے
04:31خوشی کا اظہار نہ کرو
04:36اسے تکلیف میں دیکھ کر
04:38کبھی خوشی کا اظہار نہ کرو
04:40ورنہ حضور فرماتے ہیں
04:42اللہ اس پر رحم کر دے گا
04:43اور تمہیں اس مصیبت میں مبتلا کر دے گا
04:48کبھی بھی دشمن مرے تھے
04:50کدھے خوشی نہ کری
04:51کیونکہ سجناوی تھے مر جانے
04:53کبھی اپنے بھائی کو
04:54مصیبت میں دیکھ کر
04:56آپ یقین کریں
04:58کہ میں نے دیکھا ہے
04:59کہ بھابی کا خاندان
05:00کسی تکلیف میں آ گیا ہے
05:04تو وہ بجائے اس کے
05:05کہ ان کے لئے دعا ہوتی
05:06لیکن شریکہ چل رہا ہے نا
05:08تو تفسریں ہوتے ہیں
05:10کہ میں نے تو پہلے ہی کہا تھا
05:11یہ لوگ ٹھیک نہیں
05:13یہ بامروت با اخلاق
05:15اور مبفادار لوگوں کا
05:16یہ رویہ ہی نہیں ہوتا
05:18وہ تو گہرا دشمن بھی ہو
05:20گہرا
05:21اس کے بارے میں بھی دیکھیں نا
05:23میرے نبی پاک
05:25صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
05:28کافر اور منافقوں پر نرم دل نہیں تھے
05:31ان کے بارے میں بھی
05:32حضور دعائیں کرتے تھے
05:33کہ اللہ انہیں خیر کی توفیق عطا فرما
05:35تو کبھی بھی کسی کے بارے میں
05:38اس طرح کا رویہ اختیار نہ کریں
05:40ورنہ وہ وقت دور نہیں
05:41کہ جب آپ اس حضور
05:42اسی طرح کا ہمارا معاملہ
05:44عیب تلاش کرنے کا ہے
05:47میں کس طرح کھول
05:48کہ آپ کو یہ بات طرز کروں
05:49کہ لوگوں کا دل کرتا ہے
05:51کہ ہمیں خوبیاں نہیں
05:52کمیوں کا بھی پتا چلے
05:54تو ٹولتے ہیں
05:56کہ تُو وہاں نہیں جاتا
05:58تُو جاتا تھا
06:00تو اب کیوں نہیں جاتا
06:02اور تُو اگر جاتا ہے
06:03تو پھر تُو کوئی کہانی سنا
06:04کوئی بات چھیڑ
06:05یہ ہمارا مزاد ہے
06:07ہم چاہتے ہیں
06:08میرے رب نے ہمیں محدود بنایا ہے
06:10ہم لا محدود کیوں ہوتے ہیں
06:12اللہ نے ہمارے اوپر رحم فرمایا ہے
06:15کہ ہمیں دیوار کے پیچھے نظر نہیں آتا
06:16یہ اس نے کرم فرمایا
06:18اگر ہمیں نظر آتا ہوتا
06:19تو کتنے پردے کھول جاتے
06:22اور بہت سارے چیزیں
06:23جو پردوں میں رہنی چاہیئے تھی
06:24وہ پردوں میں
06:25نہ رہتی
06:26یہ اس نے کرم فرمایا ہے
06:28کہ ہمیں دیوار کے پیچھے نہیں سنتا
06:30اس کو کرم سمجھو
06:32پردے نہ کھولو
06:34اگر ہمیں یہ خبر ہوتی
06:36کہ سامنے کیا ہے
06:37تو بہت سارے ہمارے معاملات
06:39خراب ہو جاتے ہیں
06:39اس کا شکر ہے
06:41اس کا کرم ہے
06:42یہی بہتر ہے
06:43کہ پردوں میں
06:44وہ پردہ پوش رہے
06:46اور وہ اگر پردے اٹھا دے
06:48تو کسے ہوش رہے
06:50مربانی کریں
06:51آپ جو اللہ تعالی نے
06:53ہمیں محدود بنایا
06:54تو لا محدود ہونے کی کوشش
06:55کیوں کرتے ہو
06:57جہاں اس نے رکھا ہے
06:58وہی رہنے کو
06:59اپنے لئے بہتر جانو
07:00وہی
07:01ورنہ حالات خراب ہو جائیں گے
07:03میرے نبی پاک
07:04صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
07:06محسند احمد میں موجود ہے
07:08حضور فرماتے ہیں
07:09لوگوں کی جاسوسی نہ کرنا
07:11ان کے عیب نہ ٹھٹولنا
07:13بس حضور نے کہہ دیا
07:14تو کہہ دیا
07:15کہہ دیا
07:16نہیں ٹھٹولنے
07:17تو سونیا
07:18تیرے غلام ہیں
07:19سوال ہی نہیں پیدا ہوتا
07:21کہ ہم کبھی یہ کام کریں
07:22حضور نے فرمایا
07:23کسی کے عیب نہ ٹھٹولنا
07:26اگر تم نے کسی کے عیب ٹھٹول کے
07:28اسے رسوا کرنے کی کوشش کی
07:30تو فرمایا
07:31تم اگر ساتھ پردوں کے اندر بھی بیٹھے ہوئے
07:35تو وہاں بھی اللہ تمہیں رسوا کر دے گا
07:37یہ نہ سمجھ نہ کہ میں چھوپ گیا ہوں
07:38تو بان جاؤں گا
07:39اللہ تمہیں وہاں بھی رسوا
07:41تو کچھ جرموں کی دنیا میں
07:43ہم دیکھتے ہیں
07:44اور اس کا سادر ترجمہ یہ ہے
07:46کہ جیسا کرو گے پھر ویسا
07:48بھرو گے یہ ہوتا ہے
07:49آپ اس سے بھچ نہیں سکتے
07:51اور اس وقت بندہ بڑا سمارٹ ہوتا ہے
07:55وہ اپنے آپ کو بڑا تیز سمجھتا ہے
07:56وہ کہتا ہے میں نے پتہ پھینکا تھا
07:58تو میرا پتہ چل گیا ہے
08:00دیکھا نا پھر
08:01اور کئی دفعہ میں نے دیکھا ہے
08:03شریف آدمی مجبور ہوتا ہے
08:05وہ کیا کر سکتا ہے
08:07شریف جو ہوا
08:10شر اور شریف
08:12ان کا مقابلہ
08:14نہیں ہوتا
08:15ایک چیز ہے اشارت
08:17تو شریف اس کا مقابلہ کیسے کرے گا
08:19بلکہ شریف آدمی
08:22تو کئی دفعہ ویسے ہی بچتا ہے
08:24کہتا ہے
08:24یار مطلب
08:25کسی طریقے جان چھڑائیں
08:26یہ شار ہے
08:27اور میں باب حضور رہنے والا آدمی ہوں
08:30میں گاند میں کیسے آز ڈالوں گا
08:32وہ بچتا ہے
08:33تو لوگ سمجھتے ہیں
08:33ڈرپوک ہے
08:35حالانکہ ڈرپوک اور ہوتا ہے
08:37اور شریف
08:38اور ہوتا ہے
08:39تو شرافت کو لوگ بجدلی جانتے ہیں
08:42نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
08:44کے صحابی ہیں
08:44حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالی
08:47اور
08:48اشرہ مبشرہ صحابی
08:49حضرت عمر کے بہنوں ہی ہیں
08:50اور یہ حوالہ میں آپ کو
08:53مسلم شریف سے
08:54عرض کر رہا ہوں
08:55حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالی
08:57انہوں وہ خوبصورت آدمی ہیں
08:59جنہیں دنیا میں چلتے پھرتے
09:00میرے نبی پاک نے جنت کے بشارت
09:02عطا فرمائے
09:04بندے کا قد کاٹ دیکھیں
09:06کہ جنتی بندہ
09:08یعنی اتنا اعتماد حضور نے کیا
09:09کہ فرمائے اس کے
09:11بعد والے آخری دم تک کے
09:13عامال پر بھی میں جانتا ہوں
09:15یہ جنتیوں والے کام کرے گا
09:18اتنا بڑا آدمی
09:20لیکن ایک عورت نے آ کے
09:22جھگڑا شروع کر دیا
09:23عربہ اس عورت کا نام تھا
09:26اسے آ کے حضرت سعید بن زید سے
09:27جھگڑا شروع کیا
09:28کہ یہ جو مکان ہے نا آپ کا
09:30اس میں اتنی جگہ میری ہے
09:34مجھے آپ بتائیں
09:35ایک شریف آدمی سے
09:36عورت جھگڑا کرے
09:37تو بندہ جواب میں کچھ کر سکتا ہے
09:40اب میری بات کو سمجھیں
09:42اب شریفوں کی مجبوریاں
09:44تو سمجھیں کتنی زیادہ ہیں
09:46بھئی ایک عورت آ گئی
09:47اس نے دعویٰ کر دیا
09:49اب
09:50بلا وجہ انسان کٹیرے میں
09:52کھڑا ہو جاتا ہے
09:53یہاں کو بندہ آگے کہا دیتا ہے
09:54کہتا ہے جی میں نے
09:55بیس لاکھ روپےہ لینا ہے
09:56تو شریف آدمی ادھر کیا کرے گا
09:58وہ تو مفتمے اور دائیں بائیں
10:00بیٹھے لوگ ویسے پریشان ہو جائیں گے
10:02کہ پتہ نہیں کوئی بات ہوتی ہے
10:03تو کوئی آتا ہے نا
10:04اس نے کہہ دیا
10:06کہ مکان میں میرا حصہ ہے
10:07اور کہہ کسے دیا
10:09اسے
10:10جن کے آمال کے
10:12صحیح ہونے کی
10:12گوائی مدینے والے
10:13رسول نے عطا فرمائی
10:16اس نے کہا جناب یہ
10:18مکان میں میرا حصہ ہے
10:21اب حضرت سعید بن زیاد
10:22رضی اللہ تعالیٰ انہوں فرمانے لگے
10:24یہ زمین اسی کو دے دو
10:28ختم ہو گئی بات
10:30شریف آدمی کیسے جھگڑا کرے
10:33اب میں آپ کو ایک بات بتاؤں
10:35اگر اس طرح بھی بندہ کر دے
10:37تو باتیں پھر بھی ہوتی ہیں
10:38لوگ کہتے ہیں
10:39بلا بچہ تو لینہ دے دی
10:42ایسے تو لینہ کوئی دے دیتا
10:43چار مر لے
10:44اور بھئی ایسے تو لینہ
10:46فوراں فرمایا حضرت سعید بن زیاد
10:48فرمایا دے دو اسے
10:51تو آپ کے اہل خانہ
10:52کہنے لگے حضور جب
10:53آپ اسے کیوں دے رہے ہیں
10:54فرمایا تم دے دو
10:56میرے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
10:58نے فرمایا جس نے ایک بالشت زمین پر
11:00ناجائز قبضہ کیا
11:02اللہ قیامت کے دن
11:03ساتوں زمینوں کا توق بنا کے
11:05اس کے گلے میں ڈال دے
11:07فرمایا اٹھانے دو اسے توق
11:09اسے اٹھانے دو
11:10اور ایک حدیث میں فرمایا
11:12ساتوں زمینوں میں دھنسا دے گا
11:14اللہ اسے
11:14اسے اٹھانے دو
11:16دے دو
11:18لیکن تکلیف تو ہوتی ہے نا
11:20اب یہ نہیں ہے کہ
11:21کہاں سے اتنا حصلہ بندہ کرے
11:24دل تو ٹوٹ جاتا ہے نا
11:25کہ یار میرے اوپر
11:26اس طرح اعزام لگانا
11:28اور اس طرح
11:29کسی شخص کے بارے میں
11:31وہ بندہ جس نے
11:31زندگی تقوی میں گزار دی
11:33اس پر اتنا گھنونہ
11:35اعزام لگا دے نا
11:36اب حضرت سعید بن زید
11:38نے نا
11:38لوگوں کو کہا دیا دے دو
11:40لیکن جب تنہا گئے
11:41تو دل ٹوٹا ہوا تھا
11:43کلیجہ پھٹا ہوا تھا
11:45طبیعت پریشانتی ہاتھ اٹھائے
11:46کہا اللہ
11:49سچانیاں بھی توں جانتا ہے
11:51جھوٹ بھی توں جانتا ہے
11:53ظاہر چیزوں کو بھی توں جانتا ہے
11:54چھپی ہوئی کو بھی توں جانتا ہے
11:56اللہ اگر یہ جھوٹی ہے
11:57تو اسے اندہ کر دے
11:59اور اللہ یہ جو زمین
12:00اس نے مجھ سے لی ہے نا
12:01پھر اس میں اس کی قبر بنا دے
12:05بادشارہین نے لکھا ہے
12:06کہ حضرت سعید بن زید
12:07تو پہلے بھی سال کر گئے
12:09لیکن وہ عورت
12:11زمین تو لے لی
12:13گھر میں رہتی تھی
12:14پر اندی ہو کے رہتی تھی
12:16ڈھونڈتی پھرتی تھی
12:18دائیں بائیں جاتی تھی
12:19تو لوگ اسے کہتے تھے
12:20کیا بنا کہنے لگی
12:21کچھ نہ پوچھو
12:22مجھے سعید بن زید کی دعا لگ گئی ہے
12:25مجھے لگ گئی دعا
12:27تڑپتی تھی
12:28روتی تھی
12:29کمہ خدوایا ہوا تھا
12:30امیر لوگوں نے گھر میں
12:31کمہ خدوایا ہوا تھا
12:33تو یوں لگتا ہے
12:34کہ پانی بھی کوئی نہیں پلاتا تھا
12:36کوئی نوازہ نوازی
12:37پوتا پوتی بھی قریب نہیں آتا تھا
12:39پانی پینے کے لیے
12:40کمہ میں گئی
12:41تو اندر ڈوب کے مر گئی
12:42اس کا گھر ہی
12:44اس کا گھر ہی
12:45اس کی قبر بن گیا
12:47دیکھیں نا
12:48لوگ اس وقت سمجھ رہے ہوتے ہیں
12:50اس وقت سمجھ رہے ہوتے ہیں
12:52کہ جناب دیکھا نا
12:53میرا پتا چل گیا
12:55حاصرے ہوتے ہیں
12:55کہ دیکھا میں نے کتنا رسوا کر دیا
12:57دیکھا پھر فلانا کتنی منتیں کر رہا تھا
12:59دیکھا
13:00اور تمہیں پتا نہیں
13:01تم کیا سمجھتے ہو
13:03کہ جس کو تم نے رسوا کرنا چاہا
13:05اس کا کسی
13:06جو ہے وہ
13:07وزیر مشیر
13:08اور بڑے آدمی سے تعلق نہیں تھا
13:11تو وہ تمہارے اتھے چڑ گیا
13:13یاد رکھنا
13:14اگر اس کا وزیر و مشیروں سے تعلق نہیں
13:16نا گریب کا
13:16تو اللہو ولی اللہزین آمانو
13:20اللہ تو وارش ہے کہ نہیں مومنوں کا
13:22اللہ تو وارش ہے کہ نہیں مومنوں کا
13:25نبی پاک تو والی ہیں کہ نہیں
13:26اپنی امت کے
13:27تو تم کس طرح سمجھتے ہو
13:29کہ بندہ
13:30اور وارشاہ مان کرینا وارشاہ دا
13:32راب بے وارشاہ کر کے مار دائی
13:34تو ہم جب چل رہے ہوتے ہیں
13:36تو پھر تو ہماری قد کاٹ کا کون
13:39مقابلہ کرے
13:39اور جب ہم چڑ جائیں
13:41ہوا کے گھوڑے
13:42تو پھر کون ہمارا روک پھیرے
13:43لیکن یاد رکھنا
13:45ایک قدل کرنے والی ذات ہے
13:47جب لگامیں کھینچتی ہے
13:49تو پھر لوگوں کو کوئی چارہ
13:50اپنی زندگی کے اندر
13:52کبھی بھی کوئی کام ایسا نہ کریں
13:54کبھی بھی
13:56آگے بڑھتا ہوں
13:59بسرے کا گوندر حجاج بن یوسف
14:01بڑا ظالم آدمی تھا
14:02تو حضرت سعید بن جبیر
14:05رضی اللہ تعالیٰ
14:06نے ایک کتابی بھزرک تھے
14:07تو آپ نہ اس کے غلط کاموں پر
14:09اسے ٹوکا کرتے تھے
14:11ہمارا یہ مسئلہ ہوتا ہے
14:12کہ جب ہمیں کوئی ٹوکتا ہے
14:13تو ہمیں زید چڑتی ہے
14:15یہ نہیں دیکھتے
14:16کہ میں پہلے دیکھ لو
14:17میری کہیں کتائی پہ تو نہیں ٹوک رہا
14:19وہ ظالم تھا
14:20آپ اسے ٹوکتے تھے
14:22تو جب روک ٹوک ہونے لگی
14:24تو یہ جو بادشاہ قسم کے لوگ ہوتے ہیں
14:26ان کی خواہش ہوتی ہے
14:27کہ ہمیں پوچھنے والا کوئی نہ ہو
14:30روک ٹوک بڑی
14:31تو اس نے بلا لیا
14:32حضرت سعید بن جبیر
14:34رضی اللہ تعالیٰ
14:35انہوں کو بلا کے کہنے لگا
14:36میں آپ کو قتل کروں گا
14:39تو آپ فرمانے لگے
14:40جس طرح تُو مجھے قتل کرے گا
14:42میرا رب بھی تجھے
14:43اسی طرح ہی قتل کرے گا
14:45اللہ والے تھوڑا کسی سے ڈرتے ہیں
14:48وہ اسی طرح تجھے قتل کرے گا
14:50کہنے لگا
14:51حضرت سعید بن جبیر
14:52رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے
14:53کہ اگر آپ
14:54مجھ سے معافی مانگ لیں گے
14:56تو میں آپ کو چھوڑ دوں گا
14:58آپ فرمانے لگے
14:59معافی تو میں روز مانگتا ہوں
15:00پر صرف اپنے راب سے
15:02تجھ سے کہہے کی معافی مانگو
15:03کس بات کی تجھ سے معافی مانگو
15:06کہنے لگا
15:07پھر آپ بعض جلا سے کہنے لگا
15:08اسے قتل کرو
15:12آپ نے حسنا شروع کر دیا
15:15تو وہ کہنے لگا
15:16حستے کیوں ہو
15:17فرمانے لگے
15:17تیری جررت پہ حسرا ہوں
15:19کہ خدا کا کمزور بندہ ہو
15:21کہ
15:21تو کس طرح کی جررت کے ساتھ
15:24باتیں کر رہا ہے
15:24کہ میں تجھے قتل کرا دوں گا
15:26اس نے کہا
15:27پکڑو اور غصے میں آگیا
15:28پکڑو
15:30اور انہیں قتل کرو
15:31جب قتل کرنے لگے
15:32تو آپ نے مو کابے کی طرف کر لیا
15:34اور پڑا
15:42کابے کی طرف مو کر کے
15:43یہ دعا پڑی
15:44تو کہنے لگا
15:45اچھا اس کا روک پھیر دو کابے سے
15:48تو آپ کا جب روک پھیر رہا
15:49تو آپ فرمانے لگے
15:50تو بڑا ہی بے وکوف ہے
15:55تمہیں پتہ نہیں
15:55مو جدر بھی کرے
15:56اللہ ادھر ہی ہوتا ہے
15:58تو بڑا بے وکوف ہے
16:00تو کابے سے روک پھیر کے
16:01سمجھتا ہے
16:02کہ اللہ کوئی مادلہ مقید ہے
16:04رب تو ہر طرف ہے
16:05جلوہ تیری ذات کا
16:06کو بکو ہے
16:07میں جدر دیکھتا ہوں
16:09ادھر تو ہی تو ہے
16:11جدر دیکھتا ہوں
16:12ادھر
16:12جے میں تینو اندر جانا
16:15تے پھر مقید جانا
16:16تے جے میں تینو باہر جانا
16:18تے اندر کون سمانا
16:19اندر بھی توں میں تے
16:21باہر بھی توں میں تے
16:22بلہ کون نمانا
16:24فرمایا کہ بھئی
16:25اس ہر طرف ہی اللہ ہے
16:26اب اس نے بتایا کیا کیا
16:29آپ کو جب قتل کروا رہا تھا
16:31تو حضرت سعید بن جبیر نے
16:32ہاتھ اٹھائے
16:33کہا اللہ میرے بعد
16:34اسے کسی اور کو
16:35قتل کرنے کا موقع نہ دینا
16:37میں اتنی بات
16:39کسی اور پر
16:40اسے مسلط نہ کرنا
16:42حضرت سعید بن جبیر
16:44قتل ہوئے
16:44شہید ہوئے
16:45تو اتنا خون بہا
16:46اتنا خون بہا
16:48کہ خون باندی نہیں ہوتا
16:50اتنا خون
16:52وہ کہنے لگا
16:55وزیروں سے
16:56مشیروں سے
16:56طبیبوں سے
16:57کہ اتنا خون
16:58تو وہ کہنے لگے
17:00بادشاہ یہ خون بتاتا ہے
17:01کہ یہ بندہ
17:02تو اسے ڈر کے نہیں مرا
17:04ورنہ تو
17:04تلوار بندے کے قریب آتی ہے
17:06تو خون خوشک ہوتا جاتا ہے
17:08ورنہ تو
17:08حکم ہوتا ہے
17:09سزائے موت کا
17:10تو لوگوں کے کپڑے
17:11ڈیلے ہو جاتے ہیں
17:12جسم کمزور ہو جاتا ہے
17:14یہ بندہ نڈر تھا
17:16اس لیے اتنا خو
17:17اس کا خون نکلا ہے
17:18کہ اسے کوئی ڈر نہیں
17:20حضرت سعید بن جبیر
17:21کو قتل کرنے کے بعد
17:23حجاج بن یوسف
17:24پندرہ دن زندہ رہا ہے
17:26صرف پندرہ دن
17:27کینسر ہو گیا
17:30پیٹ میں
17:31اتنی تکلیف ہوئی
17:32کہ
17:33جس بیماری کو
17:34آج آپ کینسر کہتے ہیں
17:36کہ کسی کی سمجھ میں
17:38نہیں آتا تھا
17:38طبیب گوشت کی
17:39بوٹی ڈالتا تھا
17:40دھاگے کے ساتھ
17:41پیٹ میں تو باہر آتی تھی
17:43تو وہ
17:43گل سڑ کے بار نکلتی تھی
17:47اس کے اپنے بھی
17:48اس کے کمرے میں
17:48نہیں جاتے تھے
17:50اوہ یارو
17:51ظلم کرتے ہوئے
17:53لوگ سوچتے نہیں
17:54کہ اس کا حساب
17:56کتنا بھیانک ہوگا
17:58رات کو
17:59چیخ مار کے اٹھتا
18:01گھر والے کہتے ہیں
18:02تجھے کیا ہوا
18:02وہ کہتا تھا
18:03جب بھی میں سوتا ہوں
18:04تو سعید بن جبیر
18:05میری خواب میں آتے ہیں
18:06اور میری ٹان پکڑ کے
18:08گھسیٹتے ہیں
18:09تو میری آنکھیں
18:09کھول جاتی ہیں
18:10یہ جو بددعائیں ہیں
18:12یہ تمہارے بستر تک
18:13تمہارا پیچھا کرتی
18:14یہ نیندوں میں
18:16سراخ کر دیتی
18:18لوگ کہتے ہیں
18:18پتہ نہیں کیا بات ہے
18:20سویا نہیں جاتا
18:21تو میں کہتا ہوں
18:21پتہ کر لو
18:22شاید کو بات نکلی آئے
18:24پتہ کر لو
18:26دیکھ لو
18:26گوھر کر لو
18:27توجہ کر لو
18:28شاید کو بات نکل آئے
18:29اگر نکل آئے
18:30تو پھر توبہ کر لو
18:31اور اگر نکل آئے
18:33تو پھر معافی مانگ لو
18:34اگر نکل آئے
18:35تو پھر اللہ سے ڈر جاؤ
18:36اگر نکل آئے
18:37تو پھر احتیاط کر جاؤ
18:38لیکن باتیں
18:40نکلنے پر بھی
18:40ہم ماننے کو تیار
18:41تو یہ مت سمجھے کہ جب
18:44انسان کسی کا ظلم کرے گا
18:46تو وہ چین کی نیند سوئے گا
18:47یہ ہو سکتا
18:48جیسا کرو گے پھر ویسا
18:51جیسا کرو گے پھر ویسا
18:54مجھے بڑی ایک شخص کی
18:55اور میں اس بندے کی
18:56اس بندے کو داد دیتا ہوں
18:58اس نے بڑی آل ایک دفعہ بات کی
19:02مجھے کسی نے بتایا
19:03کہ یہ فلانا آدمی
19:04اپنے باپ کا بڑا سخت نافرمان ہے
19:06تو میں چلا گیا
19:07مجھے پتا چلا کہ وہ بچارے
19:10جو ہیں اس کے والد وہ تکلیف میں ہیں
19:12تو میں نے جا کے ان سے کہا
19:13کہ آپ مہربانی کریں
19:15اس بچے سے کہ اپنے ابے کو رازی کر
19:18تو مجھے کہنے لگا پیر صاحب
19:19آپ کے آنے کا شکریہ پر
19:20یہ جو کر رہا ہے ٹھیک کر رہا ہے
19:22میں نے کہا کیوں
19:24کہنے لگے میں نے اس سے بڑھ کر
19:25اپنے ابا کو ستایا ہے
19:28یہ ٹھیک کر رہا ہے
19:29وہ روتا تھا شخص
19:31وہ روتا تھا
19:32کہتا تھا میں نے اس سے زیادہ زیادتییں کی
19:34تو یہ جو میرے ساتھ کر رہا ہے نا
19:36یہ صحیح کر رہا ہے
19:37یہ میری بہوں کے سامنے
19:39جب مجھے برا بھلا کہتا ہے
19:40تو یہ میری سزا
19:41یہ میرا بنتا تھا
19:42میرے ساتھ ہونا چاہیے
19:43یہ اپنے بچوں کے سامنے
19:45جب میرے ساتھ سخت رویہ اختیار کرتا ہے
19:48تو یہ جو ٹھیک کر رہا ہے
19:50جو بھی کر رہا ہے
19:51لیکن میں نے اس کے بیٹے کو کہا
19:52میں نے کہا پتر
19:53جہاں تیرا والد آج کھڑا ہے
19:55تو بھی کل یہی کھڑا ہونا چاہتا ہے
19:59تیرا بھی رادہ ہے
20:00کسی جگہ کل تجھے کھڑا کیا جائے
20:02اسی کٹائرے میں
20:03کہنے لگا نہیں
20:03تو میں نے کہا
20:04پھر تو اللہ پہ چھوڑ
20:05تو کس چکر میں پڑھ گئے
20:07آپ یقین کریں
20:08آپ سکون دے
20:10دل پہ ہاتھ رکھ
20:11کہ اپنے آپ سے پوچھ لو
20:13کہ ماں باپ جن کے چلے گئے
20:15وہ راضی گئے ہیں
20:16نہ کسی کو بتانا
20:18نہ کسی سے ذکر کرنا
20:19وہ اپنے آپ سے پوچھ لو
20:20اگر وہ راضی نہیں گئے
20:22تو پھر قبروں پہ جاؤ
20:23پھر ان کے لئے دعائے مغفرت کرو
20:25پھر قبر پہ بیٹھ جاؤ
20:27میرا رب تو وہاں بھی
20:28تمہاری صلح کرانے کو تیار ہے
20:30وہاں بھی کرم کر دے گا
20:32اللہ
20:32اور جن کے موجود ہیں
20:35وہ تھوڑی غور کر لیں
20:36وہ ایک دفعہ پلٹائیں
20:38واپس آ جائیں
20:39آپ جب کسی سے پیار کر رہے ہوتے ہیں
20:41بوڑے سے
20:42تو آپ اپنا بڑھاپا
20:43محفوظ کر رہے ہوتے ہیں
20:44جب آپ قدر کر رہے ہوتے ہیں
20:46تو آپ اپنی قدر کے لئے
20:48آنے والا اپنا مستقبل
20:49محفوظ کر رہے ہوتے ہیں
20:51اپنی زندگی کے لب و لہجوں پہ
20:52اٹھنے بیٹھنے پہ گھور کرو
20:54میں بڑی ذمہ داری سے کہتا ہوں
20:56ادھر دیکھنا میری طرف
20:59بیٹیاں بڑی پیاری ہوتی ہیں
21:03اور ان کے سسرال سے
21:04جب ٹیلی فون آتا ہے
21:05اور یہ رو پڑتی ہیں
21:07ابباجان بھائی جان
21:08میں تکلیف میں ہوں
21:10تو آپ یقین کرنا
21:13شاید زندگی میں
21:14بندہ اتنا مجبور کبھی نہیں ہوتا
21:16جتنا بیٹی کے فون پہ ہو جاتا
21:18کر بھی کچھ نہیں سکتا
21:20اور رہ بھی نہیں سکتا
21:22تو پھر تھوڑی نیکی نہ کر لیں
21:23جس بیٹی کو ہم کر لائیں
21:25اور اس سے پیار شروع کر دیں
21:28ہم اس کی گلتیوں کو
21:29معاف کرنا شروع کر دیں
21:30تاکہ کوئی ہماری بیٹی کی گلتیوں
21:32کو بھی معاف کرنا شروع کر دیں
21:33یہ سودا ہم کیوں نہیں کرتے
21:35میرے نبی پاک علیہ السلام نے فرمایا
21:38تو رحم کر اللہ تیرے اوپر رحم کرے گا
21:40تو ہم کیوں نہ یہ کام شروع کریں
21:42کہ جو ہمارے ہاں ہے
21:44اس کے ساتھ اپنا رویہ ٹھیک کر لیں
21:46تو پھر دیکھیں معاملات
21:48کتنے تیزی کے ساتھ بہتر ہوں گے
21:49تو میرے عزیز
21:50یہ مقفات عمل ہے
21:52بڑی جلدی اصحاب دینا پڑتا ہے
21:55بڑی جلدی
21:55اور ایسے لمبا وقت نہیں بیٹتا
21:58بہت تھوڑا تھا
21:58مخاری شریف میں
21:59حضرت خباب بن عرط رضی اللہ تعالیٰ عنہ
22:02ایک صحابی ہیں
22:03غریب آدمی تھے
22:04اللہ نے کرم فرمایا
22:06مدینے والے رسول کا کلمہ پڑ گئے
22:09اور یہ وہ خوش قسمت آدمی ہے
22:11جنہیں کبھی کبھی میرے نبی پاک
22:13خود ملنے تشریف لے جایا کرتے
22:15میں نے سنا ہے
22:16وہ بند سمر کے میری عیادت کو آ رہے
22:19تو کبھی کبھی نہ کبھی کبھی
22:21حضور بھی
22:22سرکار بھی
22:23چیر ہویا نا میں انہوں تر لے لیں دیا
22:32تو سرکار کبھی کبھی جاتے
22:34اور یہ وہ صحابی ہیں
22:35دو بندے ایسے تھے صحابہ میں
22:36جن کو حضرت عمر اٹھ کے ملتے تھے
22:39اور جب یہ دو لوگ آتے تھے
22:41تو عمر اپنی جگہ پہ بٹھاتے تھے
22:42ایک حضرت خباب اور دوسرے سیدنا بلال
22:45فرماتے تھے انہوں نے
22:46تکلیف سیدین کے لئے
22:48حضرت خباب
22:49لوہے کا کام کرتے تھے
22:51ان کی مالکن امہ امار
22:54بڑی سخت عورت
22:56لوہے کا کام کرتے تھے
22:57حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا
22:59کلمہ پڑ گئے
23:02ایک دن مالکن کو پتہ چل گیا
23:04کہ یہ تو دین اسلام میں چلا گیا
23:06تو وہ آئی بڑے غصے میں
23:08باولی ہو کر
23:10اور آپ نے رکھا ہوا تھا وہ
23:12لوہے کی سلاخ آگ میں
23:14رکھی ہوئی تھی
23:14تو اس نے جلدی سے وہ سلاخ اٹھائی
23:17اور جناب خباب کے سار پر رکھ دی
23:20جلتی ہوئی سلاخ
23:22وہ آگ کا انگارہ بن جاتی
23:24جل گیا سار مبارک
23:26بڑی تکلیف میں آئے
23:28میرے رسول پاک
23:30صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور
23:32ارز کی حضور میں تکلیف میں ہوں
23:33میرے لئے دعا فرمائیں
23:34حضور میں کیا جملے کہے
23:36قربان جائیں مدینہ والے کی دعاوں پر
23:39حضور کی دعاوں پر بھی قربان
23:41اور میرے آلہ حضرت فرماتے ہیں
23:42جب نبی پاک دعا کرتے تھے
23:44تو دعا اوپر نہیں جاتی تھی
23:45قبولیت نیچے آ جاتی تھی
23:48خدا کی رضا چاہتے ہیں دوالم
23:51خدا چاہتا ہے رضا محمد
23:53صلی اللہ علیہ وسلم
23:55اجابت کا جوڑا
23:57انعیت کا سہرہ
23:58دلن بن کے نکلی دعا محمد
24:01اور اجابت نے جھک کر
24:03گلے سے لگایا
24:04بڑی ناز سے جب دعا محمد
24:06صلی اللہ علیہ وسلم
24:09تو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
24:11نے دعا کیا
24:12دعا کیا کیا حضور نے
24:14نبی پاک نے دعا دی
24:15اے اللہ میرے خباب کی
24:17مدد فرما
24:18اے اللہ میرے خباب کی
24:21دعاؤں کا رنگ ہوتا ہے
24:22اگرچہ ہمیں نظر نہ بھی آئے
24:24تو
24:25حضور نے دعا کر دی
24:26اب حضرت خباب کہتے ہیں
24:28کہ اس دعا کا رنگ میں سوچتا تھا
24:30لیکن مکہ کے حالات ہیں
24:32اور زیادہ کسرت سے
24:34تعداد کافروں کی ہے
24:35اور طاقت میں بھی کافر ہیں
24:37اسلام پہ بظاہر غربت ہے
24:38اب اس دعا کا رنگ کیا سے نظر آئے
24:43لیکن اگر کرم کرنے والا
24:46اللہ ہو
24:47تو پھر ضروری نہیں
24:49کہ ظاہر یہ اسباب
24:50لوگوں کی نظر میں آئے ہیں
24:51پھر وہ رنگ بنا لیتا ہے
24:52پھر وہ ساری رحمتیں
24:54خود بخود فرما دیتا ہے
24:56حضرت خباب کہتے ہیں
24:57وہی میری مالکن
24:58امہ امار بیمار ہو گئی
25:01اتنی بیمار ہوئی
25:02اس کے سر میں کوئی درد اٹھا
25:04اتنی تکلیف
25:05کہ ہر طبیب
25:06ہر حکیم
25:07ہر جگہ گئی
25:08جب کوئی نتیجہ نہ نکلا
25:10تو ایک طبیب نے اسے بتایا
25:11کہ سولاک گرم کر کے نہ
25:14تو سر پہ لگوایا
25:15کر تجھے آرام آئے گا
25:17تو آپ فرماتے ہیں
25:18پھر ایک دن وہ گھارہ آئی
25:19اور گھارہ آ کے
25:21مجھے کہنے لگی
25:21لوہیں کی سولاک
25:24اچھی طرح
25:24آگ میں تپا کے نہ
25:26تو میرے سر پہ رکھ
25:27کہتے ہیں
25:28لوہہ تاپ رہا تھا
25:29میں پکڑ رہا تھا
25:31اس پہ سر پہ رکھ رہا تھا
25:33اور مدینہ والے رسول پہ
25:34درود و سلام پڑ رہا تھا
25:36میں گویا میری توجہ
25:38حضور کی
25:38اس دعا کی طرف چلی گئی
25:40جو سرکار نے فرمائی
25:41کہ یہ انداز ہے
25:42قبولیت کا
25:43یہ انداز ہے
25:45کہ کوئی جنگ نہیں کرنی پڑی
25:46کوئی بہت زیادہ انقلاب
25:48بس حضور نے دعا کر دی
25:49اللہ اس کی مدد فرما
25:50تو کچھ فیصلے
25:52اللہ پہ بھی چھوڑ دینے چاہیے
25:54بڑی جلدی
25:55رب کریم وہ فیصلے
25:56فرما دیتا ہے
25:58اور بڑی جلدی انصاف ہوتا
25:59ہم لوگ نہ
26:02احتیاط نہیں کرتے
26:02نہ بولنے میں
26:03نہ چلنے میں
26:05نہ بات کرنے میں
26:06نہ ہم دیکھتے ہیں
26:07کہ بندہ کس کیٹاگری کا ہے
26:09نہ ہم نے صفید داڑیاں دیکھنی ہے
26:11نہ ہم نے
26:13علم دیکھنا ہے
26:14نہ ہم نے
26:15کوئی دین کی نسبت دیکھنی ہے
26:16نہ ہم نے
26:17تقوی دیکھنا ہے
26:18کیونکہ اس وقت
26:18میرے ذین کو بات چڑ گئی ہے
26:20تو وہ ہم نے کر کے چھوڑ دی
26:21ہم نے
26:22status بھی نہیں دیکھنا
26:23کہ بندہ سامنے جو ہے
26:24اس کا میعار
26:26کس لحاظ کا ہے
26:27اور وہ کہتے ہیں
26:28جی میں بڑا جذباتی ہوں
26:29تو میں اممہ کے سامنے
26:30بول پڑتا ہوں
26:32میرے سے بات ہو جاتی ہے
26:34تو میں کہتا ہوں
26:34تو بالکل جذباتی نہیں
26:36اگر اممہ کے سامنے
26:37بول پڑتا ہے
26:38تو ایسی ہے
26:38چھوڑے سامنے بھی بول کے دکھا
26:40پھر تیرے پتہ چلے گا
26:41اگر تُو جذباتی ہے
26:43اور اببہ کے سامنے
26:44تجھے غلطی لگ جاتی ہے
26:45تو جاج صاحب کے سامنے
26:46بھی غلطی لگے نا
26:47پھر تو تیرے جذبات کی سمجھ آئے
26:49لیکن یہ غصہ بڑا سینہ ہے
26:51تو میں بات ٹھیک کر رہا ہوں
26:53اور میری بات میں
26:54اچھی طرح توجہ کریں
26:55غصہ ہمارا بڑا سمجھدار ہے
26:56تگڑے بندے پہ آتا
26:58یہ مڑے بندے پہ آتا ہے
26:59غریب آتا
27:00یہ سمجھدار غصہ ہے
27:03اتنا یہ غصہ
27:04آقل مند ہے
27:04اتنا سمجھدار ہے
27:06کہ یہ جناب
27:07ہاتھ دو جاتی ہے
27:08بات کرتے ہوئے
27:09اور میرے
27:10اببا جی بڑی سادی مثالیں
27:12کبھی کبھی مجھے سمجھاتے تھے
27:13تو میں بڑی بات کو سمجھتا تھا
27:15وہ کہتے تھے
27:16کہ حمدیاتی لوگ بھی عجیب ہیں
27:17گالیوں پہ لڑ پڑتے ہیں
27:20اور اتنی لمبی لڑائی ہوتی ہے
27:21کہ بات تھانے جاتی ہیں
27:23تو جس گالی کی وجہ سے
27:24ہم نے ایک دوسرے کے سار پھوڑے ہوتے ہیں
27:26وہ جہاں کے تھانے
27:27ہمیں پتیس سو گالیاں کھانی پڑتی ہیں
27:30یہ یہ ہمارا
27:31عجیب بیوکوفوں والا عمل ہے
27:33کہ جس بنیاد پہ یہاں لڑے تھے
27:35میری بات کی سمجھ جا رہی ہے بہت رات
27:37تو وہ پھر بڑی رسیلی سجیلی بات کرتے ہیں
27:40میرے خیال ہے ہم سے محکم والے لوگ
27:41کیا کرتے ہیں
27:43تو غصہ بڑا ہمارا عجیب و غریب قسم کا ہے
27:46اسی طرح کا دکانداروں کا مسئلہ ہے
27:48پائیا چینی والے پہ غصہ آتا ہے
27:50جس نے پاولے نہیں ہو
27:59جو کہے کہ میں نے تو اکٹھا لینا ہے
28:01بیس کلو چینی
28:02اس پہ بھی کبھی غصہ ہے
28:05اگر وہ کہے دے توڑا ٹھیک نہیں
28:07آتا ہے غصہ
28:08کہتے ہیں میں اندر سے نیا لے کے آتا ہوں
28:10میں نے تو ڈاکٹروں کا یہ حال دیتا ہے
28:12ڈاکٹروں کا آپ یقین کرے
28:14یہ میں نیچے سے شروع ہوا ہوں
28:16اور اگر آپ مجھے تجزیہ بیان کرنے کا کہیں گے
28:18تو میں بڑا اوپر تک جاؤں گا
28:21میں نے ڈاکٹر دیکھے ہیں
28:22ڈاکٹر ازرات
28:23غریب آدمی بچارہ نا
28:25جس کی کوئی سفارش آگئی ہے
28:26کہ یہ غریب ہے
28:27تو ڈاکٹر صاحب چلو پانچ سو روپیہ چھوڑ دیں
28:29اب ڈاکٹر کا دل بڑا پریشان ہوتا ہے
28:32کہ یہ جا کیوں نہیں رہا
28:34آ کیوں گیا
28:35اور اگر اس کو پتہ چل جائے
28:38کہ جس شخص کے ساتھ
28:40میں نے ڈاکٹروں کو خود فون کرتے دیکھا ہے
28:42کہ آپ کی اپوائنٹمنٹ تھی
28:44آپ آئے کیوں نہیں
28:45اس لیے کہ اس کا سٹیٹس بڑھا ہے
28:47یہ آپ کی اخلاقی کمزوری ہے
28:49آپ کمزور ہیں اخلاقی طور پر
28:51اس طرح آپ کرتے ہیں
28:52تو یہ ہمارے سمجھدار جذبات
28:54سیانے گسے
28:56اور ہماری نرازگیاں
28:58ان کے روپ
28:58اس سے بچیں
28:59کوشش کریں
29:00زندگی میں کبھی کسی پر الزام نہ لگائیں
29:02میرے رسول پاک
29:04صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
29:06کسی بندے کے لیے
29:07جھوٹا ہونے کے لیے
29:09اتنا ہی کافی ہے
29:10کہ سنی سنائی بات آگے کر
29:12ہم تو تیزی سے کانی ہوتی بھی نہیں
29:14بنا لیتے ہیں
29:15اور کہہ دیتے ہیں
29:16کوئی بات ہوتی ہے
29:17تو کوئی کرتا ہے نا جی
29:18میرا تجربہ یہ ہے
29:19کہ بہت ساری باتیں نہیں ہوتی
29:21لوگ پھر بھی کرتے ہیں
29:23ہوتی نہیں سیرے سے
29:24اور لوگ کرتے ہیں
29:26حضرت سعید بن نبی وقع
29:29رضی اللہ
29:29یہ بھی بخاری کتاب العزان میں
29:31آپ کو روایت ملے گی
29:32یہ اشرا مبشرہ سے آپ بھی ہیں
29:36اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
29:38نے ایک مقام پہ فرمایا تھا
29:39جب یہ بیمار ہو گئے
29:40اور پریشان ہو گئے
29:41کہ پتہ نہیں تندرست ہوں گا بھی کہ نہیں
29:43تو حضور نے فرمایا
29:45ساتھ فکر نہ کر
29:46اللہ شفاہ دے گا
29:47اور تیری وجہ سے
29:48اسلام کا فائدہ کرے گا
29:50اور کفر کا نقصان کرے گا
29:51میں نے کہا
29:52کہ ڈریکٹ آ کے
29:53کوئی بندہ الزام لگا لے
29:55تو شریف آدمی
29:55بھلا جواب کیا دے اس کو
29:59اور پھر بڑا مشکل نہیں
30:01اس نے کچھ نہ کیا
30:02وہ بیچارہ وضاحتیں دیتا پھرے
30:05یعنی کوئی جرب نہیں کیا
30:07اور اسے وضاحتیں
30:08اسے کٹیرے میں کھڑا ہونا پڑ جائے
30:09یہ کوئی تھوڑی سزا ہے
30:11لیکن لوگ کر دیتے ہیں
30:13بھیلا وجہ بغیر سبب کے
30:15بغیر کسی وجہ کے
30:16کر دیتے ہیں
30:17ہم سوچتے ہی نہیں
30:18ہمارا ذین ہی نہیں
30:19ہمارا رویہ ہی نہیں
30:21اور چونکہ میرا تھوڑا سا تعلق ہے
30:24شعبے سے
30:24تو بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ
30:26لوگ آکے کہتے ہیں
30:27حضرت صاحب بس وہ جب سے
30:29بہو لے کے ہیں
30:29تو تعویز بڑے کراتی ہے
30:31تو میں نے کہا
30:32کہ آپ نے کبھی دیکھا ہے
30:33بیچاری کو کراتے
30:35اور اس سبب سے
30:36ایک میں نے ریپورٹ پڑی
30:38کہ مار مار کے
30:38بحال کر دیا
30:39خامدنے کے تعویز کراتی
30:41پہلی تو بات یہ ہے
30:42کہ تعویز
30:44آپ نے یہ کیسے سمجھ لیا
30:46کہ تعویز اتنی جلدی
30:47اثر کر دیتا ہے
30:49جادو کے اثرات کا انکار
30:51نہیں ہے
30:52پر کیا آپ نے وہ
30:54عدیس نہیں پڑی
30:54کہ صورت بکرہ پڑیں
30:55تو جن بھی دوڑ جاتا ہے
30:57شیطان بھی دوڑ جاتا ہے
30:58کیا وہ ہمارے لئے
30:59کافی نہیں
31:00کہ صورت فلق اور ناز
31:01پڑھ کے سو جاؤ
31:02تو جادو اثر نہیں کرتا
31:03ہمارے لئے کافی نہیں
31:05ہم کیوں اتنے زیادہ
31:06کمزور نظریات کے
31:07مالک ہو گئے ہیں
31:08کہ شک کی بنیاد پر
31:09پیٹ دیا
31:10بہت زیادہ
31:10کہ تعویز کراتی ہے
31:19کوئی وجود ہی نہ ہو
31:20وہ جی یہ
31:21اسی طرح کی الزام
31:22بیٹی لگاتی ہے
31:23وہ کہتی ہے
31:24کہ اس کو نہ
31:25اس کے ماں باپ
31:26سکھاتے ہیں
31:28پڑھاتے ہیں
31:29تو میں نے کہا
31:29کبھی تم نے سنایا
31:30پڑھاتے ہوئے
31:31کہتی نہیں
31:31وہ بیٹھا تو ہوتا ہے
31:32نا رات کو جا کے
31:33تو میں نے کہا
31:34وہ تو جب سے پیدا ہوئے
31:35اممہ کے پاس ہی بیٹھا ہوئے
31:38تو یہ
31:39بغیر سبب کے
31:39بلا وجہ اور
31:40وضاحتیں دیتی پھرتی ہے
31:41بشاری بڑی
31:42اممہ کے نہیں
31:43میں ایسی نہیں ہوں
31:44کیوں کٹیروں میں
31:45لوگوں کو کھڑا کرتے ہیں
31:46اخلاقی رویے
31:47بلند کریں
31:48اور سوچ سمجھ کے
31:49بات کریں
31:49سوچ سمجھ کے
31:50حضرت اسعاد بن ابی وقاس
31:53حضور صلی اللہ علیہ وسلم
31:55نے کتنی
31:55اس شخص کی عظمتیں
31:56بیان کی
31:57اشرا مبشرا سے
31:58آبی ہیں
31:59لیکن آپ پر
32:00ایک شخص نے
32:01تین الزام لگا دیئے
32:04اور شاید
32:04میں نے پہلے بھی کہا تھا
32:05کہ لوگ بڑے سیانے ہیں
32:07کعوے کے اندر سے
32:08مٹی لے کے
32:08بوت بنا لیتے ہیں
32:10اور یہ
32:11کسی کو کیسے
32:12معاف کریں گے
32:12انہوں نے تو
32:13جناب مریم
32:14سلام اللہ علیہ
32:15پہ بھی
32:16الزام لگا دی
32:16حضرت عیسیٰ کی
32:18والدہ مریم پہ بھی
32:19وہ کسی شاید
32:20نے کہا تھا
32:21مخلوق تو
32:21فنکار ہے
32:22اس درجہ کے
32:23پل بھر میں
32:25سنگے در کعوہ
32:26سے بھی
32:26اسنام تراشے
32:28اور تم کون ہو
32:29کیا چیز ہے
32:30داگِ کبابی
32:31لوگوں نے تو
32:32مریم پہ بھی
32:33الزام تراش
32:33یہ معافی دیتے ہیں
32:35کسی کو
32:35بس ہو گئے
32:36پیچھے تو ہو گئے
32:37تین الزام
32:38حضرت سعید بن
32:39ابی وقعہ پہ لگا دیئے
32:40پہلا الزام یہ لگایا
32:42کہ حضرت سعید بن
32:43ابی وقعہ
32:44یہ مالِ غنیمت
32:45برابر تقسیم نہیں کرتے
32:48اور دوسرا
32:49الزام یہ لگایا
32:49کہ لشکرِ اسلام
32:50کو بھیج دیتے ہیں
32:51خود ساتھ نہیں جاتے
32:52اور تیسرا
32:54الزام یہ لگایا
32:55کہ مقدمات
32:56کے فیصلے میں
32:56عدل سے کام نہیں لیتے
33:00ایک یہ
33:00کہ یہ
33:01لشکر کے ساتھ
33:02خود نہیں جاتے
33:03ایک مقدمات
33:04کا فیصلہ
33:04عدل سے نہیں کرتے
33:05اور تیسرا یہ
33:06کہ یہ مالِ غنیمت
33:07عدل سے تقسیم ہے
33:09حضرت سعید بن
33:09ابی وقعہ
33:10اس کا بڑی تکلیف ہوئی
33:11ہاتھ اٹھائے
33:12کہا ہے اللہ
33:13اگر یہ جھوٹا ہے
33:14نا
33:15تو اس کی عمر
33:15لمبی کر دے
33:17اس کے فقر میں
33:18اضافہ کر دے
33:19اسے فتنوں میں
33:20مبتلا کر دے
33:21دعا کر دی
33:23بات ختم ہو گئی
33:24حضرت سیدنا
33:25عبد الملک
33:26بن عمیر
33:27تابی
33:27بزرگ ہیں
33:28رضی اللہ تعالی
33:30انہوں فرماتے ہیں
33:31میں نے اس بڑے کو دیکھا
33:32جس کے لئے
33:33حضرت سعید بن
33:34ابی وقعہ
33:34اس نے دعائیں کی تھی
33:35اس نے تین
33:36الزام لگا ہے
33:37تو آپ نے
33:37جواب میں تین
33:38دعائیں دی
33:39آپ نے کہا ہے
33:40اللہ
33:41اس کی عمر
33:41لمبی فرما
33:43فقر میں
33:43اضافہ کر
33:44اسے فتنوں میں
33:45مبتلا کر
33:46آپ فرماتے ہیں
33:46میں نے اسے دیکھا
33:47اتنا بڑا ہو گیا
33:48تک کمر جھگ گئی تھی
33:49یہ بھمیں
33:50اس کی آنکھوں پہ آ گئیں
33:52چلا نہیں جاتا تھا
33:54اور کبھی وہ
33:54مالدار ہوتا تھا
33:55پر حضرت سعید بن
33:56ابی وقعہ
33:57اس کی دعا
33:57نے اتنا پیچھا کیا
33:58کہ دردر کی
33:59بھیک مانگنے پہ
34:00مجبور ہو گیا
34:02اور بڑاپے میں
34:03بھی اس کے فتنے
34:04کا یعالب تھا
34:04کہ ضعیف ہو گیا
34:05عورت کی خواہش
34:07رہی نہیں وجود میں
34:08لیکن پھر بھی
34:09را جاتی عورت
34:10کو چھیڑ دیتا تھا
34:11اور یقینا پھر
34:12اس کی وجہ سے
34:13وہ مار کھاتا تھا
34:14چونکون چوراہوں میں
34:15تو لوگ اسے کہتے تھے
34:17کہ تو
34:17اس عمر میں بھی
34:19باز نہیں آتا
34:20تو وہ کہتا تھا
34:20میں تمہیں کیا بتاؤں
34:22سعید بن نبی وقعہ
34:23اس کی دعائیں
34:24میرا پیچھا کرتی
34:25وہ میں نے
34:26ان کو تکلیف دیتی
34:27تو آج تک
34:28میں فتنے میں
34:29مبتلا ہوں
34:29فتنے میں
34:30کہ میں
34:31جاتی جاتی خاتون کو
34:33پتہ نہیں
34:34مجھے کیا ہو جاتا ہے
34:35اور پھر مجھے
34:36بے عزتی کا
34:37موں دیکھنا پڑتا ہے
34:38اور رسوائی کا
34:39تو کیوں لوگ
34:40بددعائیں لیتے ہیں
34:41اور کیوں کر کے
34:43لوگ اتنا سخت
34:44اپنے آپ کو
34:45بنا لیتے ہیں
34:46کہ وہ نیک
34:47سالے
34:47اور پاک لوگوں کے بارے میں
34:49بھی ان کے نظریات
34:50اس طرح کے ہو جاتے
34:51خدا رہا
34:52زندگی میں
34:53بڑی تکلیفیں آ جائیں گی
34:55اگر ہم ان چیزوں سے
34:55نہیں بچیں گے
34:56یاد رکھیں
34:57جیسا کریں گے
34:58پھر ویسا
34:59بھریں گے
35:00بولیں بھی سوچ کے
35:01چلیں بھی
35:03سوچ کے
35:04مخالفت بھی کریں تو
35:06سوچ کے
35:07اور اتنی جتنی
35:08کسی کی بنتی ہے
35:10الزام بھی لگائیں
35:11تو خدا رہا
35:12اللہ سے ڈر کے
35:13فٹا فٹ نہیں
35:14جلدی نہیں
35:14ہر چوتھے بندے کے بارے میں
35:16لوگ نہیں کہہ رہے
35:17فلانا پیسے کھاتا ہے
35:18یہ آپ نے دیئے ہیں
35:19یا آپ گواہ بنے ہیں
35:21جب وہ کھا رہا تھا
35:22آپ نے یہ کیسے بات کر دی
35:23تو ہم تیزی کے ساتھ
35:26اس طرح کے
35:26عمال کٹھے کر رہے ہیں
35:27کہ جو ہمارے لئے
35:29عذیت کا سبب بنیں گے
35:30میرے رب نے فرمایا
35:32احسان کرو
35:33نیکی کرو
35:34تاکہ بدلے میں
35:35تمہیں بھی
35:36نیکی ملے
35:37ہل جزا الاحسان
35:39اللہ الاحسان
35:40کیا ہے نیکی کا بدلہ
35:42سوائے
35:43نیکی کے
35:44اپنی زندگی میں
35:45کوشش کریں
35:46کوئی بددعا نہ لیں
35:49تکلیف میں مبتلا نہ کریں
35:51کہ پھر وہ
35:51رب کریم کے دروازے پہ جھکے
35:53اور ہمارے لئے
35:54وہ بددعائیں کریں
35:56اللہ کے حضور حاضر ہوں
35:58کوشش کریں
35:59کہ بھولے سے بھی
36:00کسی شخص کو
36:01ہماری وجہ سے
36:02تکلیف نہ پہنچے
36:03اللہ ہمیں سمجھنے کی
36:04توفیق عطا فرمائے
Comments
jery jhonn
Creator
Biyaan

Recommended