🌙 Welcome to Mufti Hanif Qureshi🌙
This channel is dedicated to Islamic videos, Urdu Bayan, Naat, Manqabat, Islamic reminders, Quran & Hadith teachings, and motivational Islamic content to strengthen Imaan and spread the message of Islam.
📌 On this channel you will find:
• Islamic Bayan
• Quran & Hadith
• Naat & Manqabat
• Islamic Shorts
• Daily Islamic Reminders
• Motivational Islamic Videos
👍 Like the Video
💬 Leave a Comment
🔔 Subscribe to the Channel
📤 Share with Family & Friends
May Allah bless you all. JazakAllah Khair ❤️
#MunazireIslamOfficial #hanifqureshi #muftihanifqureshi #muftimuhammadhanifqureshi #Islam #muftihanifqureshibayan #IslamicVideos #UrduBayan #IslamicReminder
This channel is dedicated to Islamic videos, Urdu Bayan, Naat, Manqabat, Islamic reminders, Quran & Hadith teachings, and motivational Islamic content to strengthen Imaan and spread the message of Islam.
📌 On this channel you will find:
• Islamic Bayan
• Quran & Hadith
• Naat & Manqabat
• Islamic Shorts
• Daily Islamic Reminders
• Motivational Islamic Videos
👍 Like the Video
💬 Leave a Comment
🔔 Subscribe to the Channel
📤 Share with Family & Friends
May Allah bless you all. JazakAllah Khair ❤️
#MunazireIslamOfficial #hanifqureshi #muftihanifqureshi #muftimuhammadhanifqureshi #Islam #muftihanifqureshibayan #IslamicVideos #UrduBayan #IslamicReminder
Category
📚
LearningTranscript
00:00:00بسم اللہ والصلاة والسلام وعلى رسول اللہ
00:00:02معذر ناظرین و سامعین
00:00:06گزشتہ دنوں
00:00:07آل بیت اتحار اور صحابہ کرام کے
00:00:10دفاع اور محبت میں کیے گئے
00:00:12میرے خطابات میں
00:00:12تاریخ کے ایک ظالم ترین کردار
00:00:17اور انتہائی
00:00:19مبہوز ترین کردار
00:00:22مروان بن الحکم کے حوالے سے
00:00:23میں نے سخت جملوں کا چنو کیا
00:00:25اس پر لانت بیجی
00:00:28اور اسے قاتل و ظالم
00:00:30اور شقی اور بدبخت
00:00:32اور کتہ جیسے
00:00:33الفاظ کہہ کر میں نے بیان کیا
00:00:37کچھ لوگ عرصے سے
00:00:39میرے حوالے سے یہ ویلہ کر رہے ہیں
00:00:40کہ یہ نام حضر اللہ حضور کے
00:00:42صحابہ کا بے عدب ہے
00:00:44اور صحابہ اکرام کے حوالے سے
00:00:46اس کرویے جاریانہ ہے
00:00:47میں عرصہ سے مختلف فونس پر
00:00:50نبی علیہ السلام کے صحابہ کا دفاع کر رہا ہوں
00:00:52ساری قوم کو پتا ہے
00:00:54تیلوین چینلز ہوں
00:00:55تحریر کا میدان ہوں
00:00:56خطابت کا میدان ہو
00:00:58یا عدالتی ماز ہو
00:01:00ہر جگہ میں نے نبی علیہ السلام کے
00:01:02گستاغوں روافظ کا شدید ترین رد کیا
00:01:05اور جس کی بنا پر
00:01:07مجھے جانی مالی
00:01:08کئی حوالوں سے نقصانات بھی اٹھانے پڑے
00:01:10اس کے باوجود
00:01:12میرے ذاتی پرخواش میں
00:01:14میری ذاتی مخالفت کی وجہ سے
00:01:16یا کئی اور وجوہات کی بنا پر
00:01:18کئی لوگوں نے
00:01:20تسلسل سے یہ پروپیگنڈا جائے رکھا ہوا ہے
00:01:22کہ یہ ماز اللہ حضور کے
00:01:23صحابہ کی بیعت بھی کرتا ہے
00:01:25جب ان سے پوچھا جاتا تھا کہ بتائیں
00:01:27میں نے کس صحابی کی بیعت بھی کی
00:01:29تو وہ جواب ندارت
00:01:30تاہم میں نے
00:01:32گزشتہ دن ہوئے خطاب میں بڑے جارہانہ انداز سے
00:01:35یہ سوال اٹھایا تھا
00:01:36کہ بھئی تمہاری صحابہ سے کیا مراد ہے
00:01:38کیا تم مروان جیسے لانتیوں کو صحابی کہتے ہو
00:01:42ابن زیاد جیسے کمینوں کو
00:01:44خولی شمر اور یزید جیسوں کو
00:01:46تم صحابہ کی لسٹ میں شامل کر کے
00:01:48چونکہ میں تو ہمیشہ ان جیسے لوگوں کے خلاف
00:01:50بولتا ہوں تو تم ان کو تو کئی سابق کی
00:01:52لسٹ میں شامل کر کے میرے خلاف نہیں پروپیگنڈا کر رہے
00:01:55یہ
00:01:56فلی اللہ الحمد
00:01:57کہ یہ بات بڑی واضح ہو گئی
00:02:00کہ وہ جن لوگوں کا اصل درد
00:02:02ایسے ہی لانتی کرداروں کے ساتھ تھا
00:02:04انہوں نے اپنے اندر کا بغض نکالا
00:02:06اور وہ بول پڑے اور انہوں نے
00:02:08سوشل میڈیا پہ آ کر پروپیگنڈا کیا
00:02:10کہ دیکھو عنیف قریشی
00:02:11صحابہ کا گستاخے اور اس نے
00:02:13ایک صحابی مروان بن الحکم
00:02:16کے حوالے سے ایسے سخت جملوں کا استعمال کیا ہے
00:02:19اور کچھ تو نادان جو
00:02:21بعض لاؤری پارٹی سے جن کا تعلق ہے
00:02:24وہ میری ذاتی پرخواش میں
00:02:26ان جاہلوں کو یہ بھی سمجھنا آئی
00:02:28کہ وہ مروان کے دفاع میں
00:02:30اور یہ میری مخالفت میں انہوں نے بھی پروپیگنڈا کیا
00:02:32کہ دیکھیں یہ امام بخاری کے راوی
00:02:34اور ایک صحابی جس کو ابن کثیر نے صحابی
00:02:37قرار دیا ہے
00:02:38تو اس کی بارگاہ میں جنابز نے جسارت اور گستاخی کی ہے
00:02:42تو وغیرہ وغیرہ
00:02:43میں نے چاہا تھا کہ میں
00:02:46اس حوالے سے میں مروان کی
00:02:48صیرت اس کا کردار
00:02:50اس کے کرتوت اور اس کا پورا بائیو ڈیٹا
00:02:53آپ کے سامنے رکھوں
00:02:53میرے پاس چونکہ خطابات کا ایک سلسلہ چل رہا ہوتا ہے
00:02:57وقت نہیں تھا
00:02:58تو آج چھوڑا وقت نکال کر
00:02:59میں آپ کے سامنے
00:03:01اس مروان بن الحکم کی بائیو ڈیٹا رکھتا ہوں
00:03:04اس کی حالات زندگی آپ کے سامنے رکھتا ہوں
00:03:07اور پھر اس کے حوالے سے
00:03:08جو حدیث شریف میں
00:03:09یا دیگر
00:03:10صیرت کی تاریخ کی
00:03:11اسم اور رجال کی کتابوں میں
00:03:13جو اکابرین امت نے
00:03:14اور اس کے بعد
00:03:15بعد ازام ہمارے جو مسلکی بڑے ہیں
00:03:17ہم آل سنت و جماعت کے بزرگوں میں
00:03:19آل حضرت فاضل بریلوی
00:03:20یا دیگر بڑی بڑی شخصیات
00:03:21اور اسی طرح جو دیوبندی اکابر ہیں
00:03:23یا دیگر اہل حدیث اکابر ہیں
00:03:25ان کی چند حوالہ جات
00:03:27آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں
00:03:28کہ امت نے اس مروان کے لئے
00:03:30کیا رویہ رکھا
00:03:31اور یہ سارے حوالے
00:03:33سامنے رکھنے کے بعد
00:03:34میں پوچھنا چاہوں گا
00:03:35ان لوگوں سے
00:03:36کہ جو بعض
00:03:37تو آپ نے آپ کو
00:03:37سنی کہلاتے ہیں
00:03:38اور بعض
00:03:38دیوبندی
00:03:39سکول آف تھوڑ سے
00:03:41جن کا تعلق ہے
00:03:41دیوبندی مکتب فکر سے
00:03:43کہ ان سے پھر میں پوچھنا چاہوں گا
00:03:45کہ انہوں نے میرے
00:03:46راد کے اندر
00:03:46جو لہجہ اختیار کیا ہے
00:03:48تو کیا میرے سے
00:03:49زیادہ سخت رویہ
00:03:50اکابرین امت نے
00:03:51مروان کے بارے میں
00:03:53اختیار کیا ہے
00:03:53تو کیا آپ کے
00:03:55وہی الفاظ اور انداز
00:03:56ان کے بارے میں بھی ہے
00:03:57اگر ہے
00:03:58تو پھر آپ کا
00:03:59تعلق ان سے کیا ہے
00:04:00اور اگر نہیں
00:04:00تو پھر یہ ماں بھیل
00:04:01امتیاز کیا ہے
00:04:02سب سے پہلے
00:04:03میں نے یہ کہا تھا
00:04:05کہ مروان لانتی ہے
00:04:06ہاں
00:04:06مروان لانتی ہے
00:04:08یہ اپنے دور میں
00:04:09ایک ناصبی شخص تھا
00:04:10دشمن اہل بیت تھا
00:04:12حسنین کریمین
00:04:13کا شدید بغزی تھا
00:04:15مولا علی
00:04:16کرم اللہ تعالی
00:04:17وجل کریم
00:04:18اور دیگر
00:04:18اہل بیت پر
00:04:19سب و شتم
00:04:19اس کا معمول تھا
00:04:20ممبروں پہ بیٹھ کر
00:04:22جمعہ کے خطبوں میں
00:04:23یہ مولا علی پر
00:04:24حسنین کریمین پر
00:04:25تبرے کرتا تھا
00:04:26لانتیں بیشتا تھا
00:04:27گالیاں دیتا تھا
00:04:29اس کے اس گالیاں
00:04:30چونکہ خطبے میں دیتا تھا
00:04:31عید کے خطبوں میں بھی
00:04:33تو لوگ اس کا خطبہ
00:04:34سننے سے
00:04:34پہلے ہی جب
00:04:35اٹھ کے جانے لگے
00:04:36تو اس نے
00:04:36ایک نئی بدت
00:04:37بری بدت کا آغاز کیا
00:04:38اور اس نے
00:04:39وہ عید کا خطبہ
00:04:40نماز سے پہلے
00:04:41شروع کر دیا
00:04:42صحابی رسول
00:04:43اشرم و اشرم
00:04:44میں سے حضور کے
00:04:44ایک پیارے صحابی
00:04:45حضرت تلہا
00:04:46رضی اللہ تعالی عنہ
00:04:47کا قاتل تھا
00:04:48امام حسن مجتبال
00:04:50السلام کی وسیعت کے
00:04:51مطابق
00:04:51ان کو جب
00:04:52روزہ رسول میں
00:04:53دفن کیا جانے لگا
00:04:54تو اس نے
00:04:55وہاں پر
00:04:56جھگڑا ڈالا
00:04:56اور ان کو
00:04:56دفن نہ ہونے دیا
00:04:57حضرت عثمان غنی
00:04:59رضی اللہ تعالی عنہ
00:05:00کی شہادت کا
00:05:01مین یہ سبب تھا
00:05:02اسی کی خواست کی وجہ سے
00:05:03حضرت عثمان غنی
00:05:04کو شہید کیا گیا
00:05:05بڑے بڑے
00:05:06جلیل القدر صحابہ
00:05:07حضرت سیدنا
00:05:09ابو عیو بن ساری
00:05:10حضرت ابو سید خدری
00:05:11سال بن ساتھ سائدی
00:05:13حضرت ابو زرگفاری
00:05:14عسامہ بن زید
00:05:23حضرت نومان بن بشیر
00:05:24اور دیگر کئی
00:05:25صحابہ کا یہ قاتل تھا
00:05:26واقعہ حرہ جو پیشہ ہے
00:05:28جس میں کئی ہزار
00:05:29صحابہ
00:05:29ان کی اولادیں
00:05:30تابعین تابعین
00:05:31شہید کر دیئے گئے
00:05:32مدینہ کی حرمت
00:05:33کو پامال کیا گیا
00:05:34اور وہاں جو ہوا
00:05:35وہ ایک تاریخ کا
00:05:36سیاد ترین باب ہے
00:05:37اس میں یزیدی فوج کا جاسوس
00:05:39اور ان کی رانمائی کرنے والا
00:05:41یہی مروان
00:05:43اور اس کے بیٹا تھا
00:05:43اس کے علاوہ
00:05:45نبی علیہ السلام
00:05:46تو تصنیم کی جو
00:05:46یادگاریں تھیں
00:05:47ان کے ساتھ شدید
00:05:48بغض رکھنے والا
00:05:49اور اس کی ایسی کئی
00:05:51خواستیں
00:05:52اور کمینگیاں ہیں
00:05:54جن کی بنا پر
00:05:55یہ امت کے نزدیک
00:05:56ایک مبغوظ ترین شخص گزر ہے
00:05:58میں نے کہا تھا
00:05:59کہ یہ مروان لانتی شخص ہے
00:06:00اس پر اعتراض کیا گیا
00:06:01تو میں سب سے پہلے یہ
00:06:03حدیث
00:06:04اور روایات سیعہ سے
00:06:05یہ ثابت کروں گا
00:06:06کہ واقعی
00:06:07مروان جو ہے نا وہ لانتی ہے
00:06:08اور بعد ازاں
00:06:09امت کے بڑے بڑے لوگوں
00:06:10نے اس پر لانت بھیجی ہے
00:06:11سب سے پہلے میں
00:06:13حدیث کا حوالہ دوں گا
00:06:14نسائی شریف
00:06:15یہ سیاستہ میں سے
00:06:16ایک کتاب ہے
00:06:17حدیث نمبر
00:06:18گیارہ ہزار چار سو اکانوے ہے
00:06:20اور اس حدیث کی
00:06:21سنت جو ہے نا
00:06:22اس کو
00:06:22علامہ البانی
00:06:23یہ سلسلہ تو
00:06:24صحیحہ کے اندر
00:06:25انہوں نے اس کو
00:06:25صحیح قرار دی ہے
00:06:26اور علامہ البانی
00:06:27یہ ہمارے مکتبہ فکر کا
00:06:28بندہ نہیں ہے
00:06:29یہ دوسرے مکتبہ فکر کی
00:06:31بڑی مستند شخصیت ہے
00:06:32انہوں نے
00:06:33اس حدیث کو
00:06:34صحیح قرار دی ہے
00:06:35المستدرک
00:06:35اللہ صحیح حین کے اندر
00:06:37یہ روایت موجود ہے
00:06:38جس کو
00:06:38علا شرط البخاری
00:06:40اس کو
00:06:41حضرت امام حاکم
00:06:42رحمت اللہ تعالی نے
00:06:43اس کی صحت کا قول کی ہے
00:06:45امام ابن ابی خیسمہ نے
00:06:46اپنی تاریخ کے اندر
00:06:48اس کو روایت کیا
00:06:49امام ابن مردویہ نے
00:06:50اپنی تفسیر کے اندر
00:06:51حضرت امام جزری نے
00:06:53انہایہ
00:06:54فی غریب الحدیث کے اندر
00:06:55اس حدیث کو روایت کیا
00:06:56علامہ زمخشری نے
00:06:58الفائق فی غریب الحدیث کے اندر
00:06:59اس کو روایت کیا
00:07:00علامہ بلخی نے
00:07:02قبول الاخبار و معرفت الرجال
00:07:03اس کے اندر
00:07:04انہوں نے
00:07:05اس حدیث مبارکہ کو روایت کیا
00:07:07حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی نے
00:07:10مروان کو
00:07:10یزید کی بیعت کے لیے
00:07:11مدینہ میں معمور کیا
00:07:12تو اس نے
00:07:13مسجد نوی کے ممبر پر بیٹھ کر کہا
00:07:15کہ یزید کی بیعت
00:07:16سنت ابی بکر اور عمر ہے
00:07:18اس حدیث کا ابتدائی
00:07:19یہ سائی بہاری
00:07:20اور دیگر سے آ کے اندر پیئے
00:07:21لیکن چونکہ جو اگلے الفاظ ہیں
00:07:22وہ مستقل
00:07:23جس کتابوں میں
00:07:24وہ میں نے ان کا حوالہ دیا ہے
00:07:25اس پر وہاں موجود
00:07:26خال المومنین
00:07:27حضرت سیدنا ابو بکر صدیق
00:07:29رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے
00:07:30ام المومنین
00:07:31سید عاشد صدیقہ کے پیارے بھائی
00:07:32اور جلیل القدر سے آبی
00:07:34حضرت سیدنا
00:07:35عبدالعیمان بن عبی بکر
00:07:37رضی اللہ تعالیٰ عنہ
00:07:38آپ کھڑے ہوئے
00:07:39اور آپ نے فرمایا
00:07:39سنت و حرق و قیسر
00:07:41کہ یہ عبو بکر اور عمر کی
00:07:43سنت نہ کہے ان کو
00:07:43اس کام کو
00:07:44بلکہ یہ تو قیسر و قسرہ کی
00:07:47سنت ہے
00:07:48اس پر
00:07:49جو بہاری کے الفاظ ہیں
00:07:50وہ یہ کہ مروان نے
00:07:51لوگوں کو کہا
00:07:52کہ اس کو پکڑو
00:07:52تو حضرت عبدالعیمان بن عبی بکر
00:07:54رضی اللہ تعالیٰ عنہ
00:07:55بھاگ کر
00:07:55اپنی بہن
00:07:56ام المومنین عدرت عائشہ
00:07:57کے حجرے میں تشریف لے گئے
00:07:59اور
00:07:59بعد ازاں یہ کہنے لگا
00:08:01حاضل لذی انزل اللہ فی
00:08:03والذی قال لے والدے
00:08:04افل لکما
00:08:04یعنی اس نے کہا
00:08:05کہ یہ عبدالعیمان بن عبی بکر
00:08:07وہ بندہ ہے
00:08:07جس کے بارے میں قرآن کی
00:08:08یہ آیت
00:08:09والذی قال لے والدے
00:08:10افل لکما
00:08:11یہ نازل ہوئی ہے
00:08:12یعنی اس کی مزمت میں نازل ہوئی ہے
00:08:13ام المومنین سید عائشہ
00:08:15تو صدیقہ نے
00:08:15جب یہ اس کی بات سنی
00:08:17تو آپ نے فرمایا
00:08:18قَذِبَوَ اللَّهُ
00:08:19مَا هُوَ بِهِ وَلَوْ شَيْتُو
00:08:20آپ نے فرمایا
00:08:21اللہ کی قسم یہ جھوٹ بول رہا ہے مروان
00:08:23اور اگر میں چاہوں
00:08:24تو میں
00:08:24اس آدمی کا نام بتا سکتی ہوں
00:08:26جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے
00:08:28لیکن مروان
00:08:29تیری اصلیت یہ ہے
00:08:30کہ
00:08:34اللہ کے رسول نے
00:08:36مروان پر اس وقت لعنت فرمائی
00:08:37کہ جب یہ اپنے والد کی پشت میں تھا
00:08:42مروان اللہ کی لعنت کا ٹکڑا ہے
00:08:44اب یہ جو عدیث مبارکہ ہے
00:08:47اس عدیث مبارکہ میں
00:08:49سب سے پہلی بات یہ ثابت ہوئی
00:08:50کہ ام المومنین
00:08:51سلام اللہ علیہ نے
00:08:53مروان کو جھوٹا قرار دیا
00:08:54اور اس نے جھوٹ بھی بولا
00:08:56تو
00:08:56قرآن کے حوالے سے جھوٹ بولا
00:08:58اور یہ کتنا بڑا جرم ہے
00:08:59کہ قرآن کے حوالے سے جھوٹ بولا
00:09:00اور ایک صحابی رسول کی اوپر الزام لگایا
00:09:02اور صحابی رسول پر یہ الزام
00:09:04اس کا لگانا
00:09:06یہ ایک اس کی شدید توئین ہے
00:09:08دوسرا یہ صحابی بھی عام نہیں ہے
00:09:09خال المومنین ہیں
00:09:10ام المومنین حضرت عائشہ تو صدیقہ کے بھائی ہیں
00:09:13اور اس کے بعد یہ آیت
00:09:15کافروں کے بارے میں نازل ہوئی ہے
00:09:16کافر کے بارے میں
00:09:17اس کو اس نے چسپاں کیا
00:09:18حضرت سعید عبدالعیمان بن نبی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
00:09:21اور دوسری بات یہ ہے کہ
00:09:23مروان کو لانتی
00:09:24حضرت ام المومنین سعیدہ
00:09:26عائشہ تو صدیقہ نے قرار دیا
00:09:27ہاں میں پوچھنا چاہتا ہوں
00:09:29کہ جو امی عائشہ کے بیٹے ہیں
00:09:30وہ امی عائشہ صدیقہ کی
00:09:32اس بات سے نالا کیوں ہیں
00:09:33اور میں پہلے
00:09:34حوالہ دے چکا
00:09:34کہ اس حدیث کو
00:09:35محدثین نے صحیح قرار دیا
00:09:36اب اسی روایت کو
00:09:38بطور استدلال
00:09:39بڑے بڑے علماء
00:09:40مفسرین نے
00:09:41اپنی اپنی کتب کے اندر
00:09:43ذکر کیا ہے
00:09:43تفسیر اے جی
00:09:44جامل بیان کے اندر
00:09:45علامہ عبدالعیمان بن عبداللہ شافی
00:09:47یہ
00:09:48نومی دسویں صدیقے بزرگ ہیں
00:09:50انہوں نے اس کو
00:09:51روایت کیا ہے
00:09:51اس حدیث کو
00:09:52تفسیر دروے منصور میں
00:09:54امام جلال الدین سیوتی
00:09:55تفسیر ابن کثیر کے اندر
00:09:56یہ روایت موجود ہے
00:09:57تفسیر روح المعانی کے اندر
00:09:58یہ روایت موجود ہے
00:09:59السوائق المورکہ کے اندر
00:10:01اسی مروان کی
00:10:02مضمت کرتے ہوئے
00:10:04یہ روایات لے کر آئے
00:10:06علامہ ابن حجر
00:10:06مکیر عمداللہ تعالیل ہے
00:10:08عمدت القائی کے اندر
00:10:09علامہ عینی نے
00:10:18امام جلال الدین سیوتی نے
00:10:20اور حیثیر امتاہ العصماء
00:10:21کے اندر علامہ مکریزی نے
00:10:22اور قصد الغابہ
00:10:24جیسی کتابوں کے اندر
00:10:24یہ حدیث ذکر کر کے
00:10:26مروان کی مضمت پر
00:10:27استدلال کیا گیا ہے
00:10:29اب اتنے علماء
00:10:30اور یہ محدثین
00:10:32انہوں نے
00:10:32اس مروان کو
00:10:34لانتی قرار دیا
00:10:35دوسری حدیث
00:10:37صحابی رسول ہیں
00:10:37حضرت عمر بن مرہ الجونی
00:10:40صحابی رسول
00:10:42حضرت عمر بن مرہ
00:10:43آپ روایت کرتے ہیں
00:10:45کہ مروان کے والد نے
00:10:48اللہ کے نبی پر
00:10:49آپ تشریف فرماتے
00:10:50اجازت چاہی
00:10:51اللہ کے نبی نے
00:10:52اس کی آواز کو پہچانا
00:10:53اور اس کی گفتگو کو
00:10:54لہجے کو
00:10:54تو فرمایا
00:10:55اس کو آنے دو
00:11:00کہ آنے دو
00:11:01اس پر اس پر
00:11:01اللہ کی لانت
00:11:02اور جو اس کی پشت
00:11:03کے اندر ہے
00:11:04سوائے مومنوں کے
00:11:05جو اس کی پشت
00:11:06کے اندر ہوں گے
00:11:06اس پر بھی
00:11:07خدا کی لانت
00:11:08اسی طرح
00:11:09حضرت عبداللہ بن زبیر
00:11:10رضی اللہ تعالی عنہ سے
00:11:12مروی جو روایت ہے
00:11:13اور یہ عبداللہ بن زبیر
00:11:15والی روایت کو
00:11:15اللامہ
00:11:16البانی نے
00:11:17سلسلہ تو
00:11:17صحیح کے اندر
00:11:18صحیح قرار دی ہے
00:11:19مسند بزار کے اندر ہے
00:11:21اور اس کی سند
00:11:22یہ حدیث نمبر
00:11:23اکی سو ستانوے ہے
00:11:24اور اس کی سند کو بھی
00:11:25دیکھا جائے تو
00:11:26سند صحیح ہے
00:11:27اور المطالب العالیہ
00:11:28کے اندر
00:11:29اللامہ سکلانی نے
00:11:30حدیث نمبر
00:11:30چار آزار چار سو انسٹھ
00:11:32یہ روایت ذکر کی ہے
00:11:33اسی طرح
00:11:34یہ روایت
00:11:35مستدرک للحاکم
00:11:36کے اندر موجود ہے
00:11:37صحیح ہے
00:11:39یعنی بخاری اور
00:11:40مسلم کی شرط پر
00:11:40یہ حدیث صحیح ہے
00:11:42اور
00:11:43اور مہدسین
00:11:44کرام نے یہ
00:11:44روایت ذکر کی ہے
00:11:45کہ نبی پاک
00:11:46صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:11:47کے غلام
00:11:48صحابی عدرت
00:11:49عبداللہ بن زبیر
00:11:49فرماتے ہیں
00:11:50لَقَدْ لَعَنَ اللَّهُ الْحَكَمَ
00:11:51وَمَا وَلَدْ
00:11:52عَلَى لِسَانِ نَبِي
00:11:53کہ اللہ تعالیٰ نے
00:11:54حکم
00:11:54اور
00:11:55اس کے بیٹے مروان
00:11:56پر
00:11:57اپنے نبی کی زبان
00:11:58سے لانت فرمائیے
00:11:59اسی طرح
00:11:59دوسرے الفاظ
00:12:00المطالب العریہ کے اندر
00:12:01لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ الْحَكَمَ
00:12:03وَمَا يَقْرُجُ مِنْ صُلْبِ
00:12:05اللہ نے
00:12:05حکم اور
00:12:06جو اس کی پشت میں سے
00:12:07نکلے
00:12:07اس پر لانت فرمائیے
00:12:08اسی طریقے سے
00:12:09مستدرک للحاکم
00:12:10کے الفاظ ہیں
00:12:11کہ
00:12:11اَنَّ رَسُولُ اللَّهِ الْعَنَ الْحَكَمَ
00:12:12وَمَا وَلَدُو
00:12:13اب یہ حدیث
00:12:14صحیحہ ہے
00:12:16حدیث
00:12:17صحیحہ ہے
00:12:18اور جو محدث
00:12:19کسی حدیث
00:12:20کو صحیح
00:12:20قرار دے کر
00:12:21ذکر کرتا ہے
00:12:21تو ہر مسلمان
00:12:23کا حدیث
00:12:23صحیحہ پر
00:12:23یقین ہوتا ہے
00:12:24اس کا مطلب ہے
00:12:25جو جو محدثین
00:12:26کرام
00:12:26اس حدیث
00:12:27کو صحیح
00:12:27قرار دے کر
00:12:28روایت بھی
00:12:29کر رہے ہیں
00:12:29اور استدلال
00:12:30بھی کر رہے ہیں
00:12:30تو وہ
00:12:31مربان کی اوپر
00:12:31لانت بیج رہے ہیں
00:12:32اسی طرح
00:12:33اگلی حدیث
00:12:34ہے
00:12:34یہ
00:12:35مستدرک
00:12:36علی الصحیحہ
00:12:37کے اندر ہے
00:12:37یہ بھی
00:12:38صحیح قرار دی ہے
00:12:39امام حاکم نے
00:12:40اس کو
00:12:40حدیث نمبر
00:12:418477 ہے
00:12:42اور اسی طرح
00:12:43آیات الحیوان
00:12:44کے اندر
00:12:44علامہ دمیری نے
00:12:45علامہ ابو نعیم
00:12:46بن حماد نے
00:12:47کتاب الفتن
00:12:48کے اندر
00:12:48اور علامہ برحان الدین
00:12:50علبی انسان اللہیون
00:12:51کے اندر
00:13:00بچے کو دعا دیتے
00:13:01تو فادخل علیہ
00:13:02مروان بن الحکم
00:13:03حضور کی بارگاہ میں
00:13:04مروان
00:13:06بن حکم آیا
00:13:07یا فعدخلا
00:13:08کی الفاظ
00:13:09کر سکتے ہیں
00:13:10کہ اس کو
00:13:11لایا گیا
00:13:11تو اللہ کے نبی
00:13:13نے فرمایا
00:13:13حاضل وزغ بن الوزغ
00:13:14الملعون بن الملمون
00:13:15یہ گرگٹ کا بچہ
00:13:16گرگٹ ہے
00:13:17اور لانتی کا بچہ
00:13:17لانتی ہے
00:13:18اب ایک اور حدیث
00:13:19ہے حضرت ابو
00:13:20سیدن الخدری سے
00:13:20روایت ہے
00:13:21کہ اللہ کے نبی
00:13:22صلی اللہ علیہ
00:13:22نے فرمایا
00:13:23کہ یہ حکم کی
00:13:23اولاد جس وقت
00:13:24تیس تک پہنچے گی
00:13:25تو یہ اللہ کے دین
00:13:27کو اتخذو دین
00:13:28اللہ دخلا
00:13:29وعباد اللہ خوالا
00:13:30ومال اللہ دولا
00:13:31یہ اللہ کے دین
00:13:32میں دخل اندازی
00:13:33کریں گے
00:13:33اللہ کے بندوں
00:13:34کو غلام
00:13:34اور اللہ کے مال
00:13:35کو ذاتی مل کی
00:13:36ید منا لیں گے
00:13:37اور اس کو بھی
00:13:38اس سلسلت
00:13:39السحیہ کے اندر
00:13:40علامہ البانی نے
00:13:41حدیثیں صحیح قرار دی ہے
00:13:42اور اسی طرح
00:13:43اس کو علامہ
00:13:45امام حاکم نے
00:13:46اس کو علا شرط
00:13:47مسلم کی شرط
00:13:48پر صحیح قرار دی ہے
00:13:49اگلی
00:13:50روایت ہے
00:13:52اور اس
00:13:53روایت کو
00:13:54بڑے دل تھام
00:13:55کر آپ سنیے گا
00:13:56اور
00:13:56یہ روایت
00:13:57المطالب العالیہ
00:13:58کے اندر
00:13:58علامہ اسکلانی
00:13:59نے ذکر کیے
00:14:00اتحاف المار
00:14:01الخیرہ کے اندر
00:14:02علامہ بوسیری نے
00:14:03بنیادی طور پر
00:14:04مسند ابو یالہ کے اندر
00:14:05امام تبارانی نے
00:14:07اس کو
00:14:07موجم القبیر کے اندر
00:14:08ذکر کیا ہے
00:14:09یوں ہی جامع المسانید
00:14:10و سنن کے اندر
00:14:11علامہ ابن کسیر نے
00:14:12طبقات القبرہ
00:14:14کے اندر
00:14:14علامہ ابن سعد نے
00:14:15اور تاریخ الاسلام
00:14:17کے اندر
00:14:17علامہ زابی
00:14:18نے اس حدیث کی
00:14:19تخریج فرمائیے
00:14:20اب یہ حدیث بھی
00:14:21سنت کے اعتباس
00:14:22سے مضبوط ہے
00:14:24اگر صحیح
00:14:25لذات ہی نہیں ہے
00:14:26تو بہرحال
00:14:26صحیح لغیر ہی
00:14:27ضرور ہے
00:14:28حضرت طبو یحییہ
00:14:29کہتے ہیں کہ
00:14:30میں
00:14:30اسنین کریمین کے پاس
00:14:32موجود تھا
00:14:43حضرت امام حسن
00:14:44اس پر حضرت حسین
00:14:45غصے ہو گئے
00:14:46تو امام حسن
00:14:46حضرت حسین پاک
00:14:48کو منع کرنے لگے
00:14:49جب ہی مروان
00:14:50کو غصہ آیا
00:14:51تو اب لفظ
00:14:52سنیے کہنے لگا
00:14:53اہل و بیتن
00:14:54ملعونون
00:14:55تمہال بیت ملعونو
00:14:58پغادی والحسن
00:14:59امام حسن
00:14:59مجتبا کو غصہ آ گیا
00:15:00فرمایا
00:15:01اہل و بیتن
00:15:01ملعونونا
00:15:02پہ مروان کے
00:15:03آل بیت لانتی ہیں
00:15:05فَوَاللَّهِ لَقَدْ لَعْنَكَ اللَّهُ عَنْتَ فِي صُلْبِ عَبِيْكَ
00:15:08اللہ کی قسم
00:15:09اللہ نے
00:15:09تجھ پر
00:15:10اس وقت لانت بھی
00:15:10جب تو
00:15:11اپنے باپ کی پشت میں تھا
00:15:12اور ایک رفع
00:15:13دوسری روایت
00:15:14کے الفاظ ہیں
00:15:14کہ حضرت امام حسن
00:15:16مجتبا علیہ السلام
00:15:17کو غصہ آیا
00:15:17پھر آپ نے
00:15:18قسم کھائی
00:15:19فرمایا
00:15:19وَاللَّهُ وَاللَّهُ
00:15:21لَقَدْ لَعْنَكَ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّ
00:15:23عِوَانْتَ فِي صُلْبِ الْحَكَم
00:15:24فَسَكَتَ مَروان
00:15:25فرمایا
00:15:26اللہ کی قسم
00:15:27پھر اللہ کی قسم
00:15:28پھر اللہ کی قسم
00:15:29اللہ نے
00:15:30اپنے نبی کی زبان سے
00:15:32تجھ پر لانت بھیجیے
00:15:33درہا حالے
00:15:33کہ تُو اپنے باپ
00:15:34حکم کی پشت میں تھا
00:15:35یہ سن کر
00:15:36مروان خموش ہو گیا
00:15:37اب
00:15:39اسی طرح
00:15:39محدثین کرام
00:15:41نے پورے باپ باندھ کر
00:15:42جس طرح
00:15:43حافظ اسکلانی
00:15:44نے باپ باندھا ہے
00:15:45بابو لانو رسول اللہ
00:15:46الحکم بن لبی الحاس
00:15:47و بنی و بنی و میا
00:15:48اور آگے
00:15:50انہوں نے
00:15:50ذکر کیا ہے
00:15:51کہ
00:15:53مروان
00:15:54کے حوالے سے
00:15:55مروان کے
00:15:57مروان کے والد
00:15:58اور مروان
00:15:59اور دیگر
00:16:00لوگوں کے حوالے سے
00:16:01بہت ساری روایتیں ہیں
00:16:02جن میں کئی سندیں
00:16:03کمزور ہیں
00:16:03اور کئی سندیں
00:16:04جید یعنی صحیح سند ہیں
00:16:05اب یہ
00:16:06روایت ہیں
00:16:07اس کے علاوہ
00:16:08ایک اور حدیث مبارکہ ہے
00:16:10مسند ابو یالہ
00:16:11کندر
00:16:11اور اس کی سند بھی صحیح ہے
00:16:12حضرت ابو رہا فرماتے ہیں
00:16:14کہ اللہ کے رسول نے
00:16:15خواب میں دیکھا
00:16:16آپ بیدار ہوئے
00:16:18تو آپ بڑے پریشان تھے
00:16:19فرمایا کہ
00:16:20میں نے دیکھا ہے
00:16:22کہ حکم کے بیٹے
00:16:23میرے ممبر پر
00:16:26اچھل کود کر رہے ہیں
00:16:27تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
00:16:28حضرت ابو رہا فرماتے ہیں
00:16:29وہ وقت ویسال تک
00:16:30اس خواب کی وجہ سے
00:16:31پریشان رہے
00:16:32اور پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
00:16:35نے فرمایا
00:16:35کہ
00:16:38میری امت کی علاقت
00:16:39قریش کے لونڈوں کے ہاتھوں پر ہوگی
00:16:41تو اب
00:16:42یہ بہاری مسلم
00:16:44اور دیگر صحیح
00:16:45صحیحہ کے اندر یہ روایت
00:16:46موجود مشہور حدیث ہے
00:16:50ایک اور روایت ہے
00:16:51کہ حضرت ابو رہرہ رضی اللہ تعالیٰ
00:16:52نے پناہ مانگا کرتے تھے
00:16:54کہ
00:16:54یا اللہ میں تجھ سے
00:16:55لونڈوں کی امارت
00:16:57اور حکومت کے حوالے سے
00:16:58میں پناہ مانتا ہوں
00:16:59ان روایت کی شرم ہیں
00:17:00میں قاتل مفاتیخ کے اندر
00:17:02علامہ ملالی قاری رحمت اللہ تعالیٰ
00:17:03آپ فرماتے ہیں
00:17:04کہ یہاں سے مراد
00:17:05یہ نہیں ہے
00:17:06کہ وہ بن امیہ کے
00:17:07جو لونڈوں کی مراد ہے
00:17:09تو ان کی حکومت
00:17:09وہ بچے ہوں گے
00:17:10کہ لونڈوں سے مراد
00:17:11یہ نہیں کہ عمر کے کچھے ہوں گے
00:17:12بلکہ عقل کے کچھے
00:17:14عمریں ان کی بڑی ہوں گی
00:17:15لیکن عقل کے کچھے ہوں گے
00:17:17کام ان کے بچوں مالے ہوں گے
00:17:19تو وہ کون ہیں
00:17:20اے من حکومت
00:17:21سغار الجحال
00:17:22کہ یزید بن معاویہ
00:17:24و اولاد حکم و ام صالح
00:17:25وہ کہتے ہیں
00:17:26کہ اس سے مراد
00:17:27ان ذلیل جاہل
00:17:28بن امیہ کے لوگوں کی حکومت ہے
00:17:30جس طرح
00:17:30یزید بن معاویہ
00:17:31اور حکم کی اولاد
00:17:32تو حکم کی اولاد مروان ہیں
00:17:34اور ان جیسے
00:17:35وہم اغیلمت من قریش
00:17:37یہی وہ لوگیں
00:17:38کہ
00:17:43اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:17:45یہ وہ لوگیں
00:17:46جن کو اپنے ممبر کی اوپر
00:17:48اچھلتے کودتے خواب میں دیکھا تھا
00:17:49تو گویا وہ جو حدیث ہے
00:17:51اس کے اندر بھی
00:17:52جو لوگ مراد ہیں
00:17:53تو وہ یہ مروان
00:17:53اور یہ لوگ ہیں
00:17:54جنہوں نے اپنے دوری حکومت میں
00:17:56ایسی کپاہتیں
00:17:57اسلام کے اندر
00:17:58جاری کی ہیں
00:17:59کہ
00:17:59تو اسی طرح
00:18:01اس سے لونڈوں سے مراد
00:18:03وہ عمر کے کچھے لوگ ہیں
00:18:04یہ بات
00:18:05ملالی کاری رحمت اللہ تعالیل ہے
00:18:07اور اس کے علاوہ
00:18:08امام ابن حجر اسکلانی
00:18:09اور دیگر محدثین
00:18:10نے بھی یہی مراد لیے
00:18:11کہ یہاں سے مراد
00:18:12یہ نہیں کہ وہ لونڈے ہوں گے
00:18:13بلکہ لونڈے سے مراد
00:18:15عمریں چھوٹی ہوں گی
00:18:15عمریں پکی ہوں گی
00:18:16لیکن وہ عقل کے کچھے ہوں گے
00:18:18وہ کام ایسے کریں گے
00:18:19شرارتیوں والے
00:18:20خبیصوں والے
00:18:21کہ جس طرح
00:18:22ایک جو حالہ بچے بھی
00:18:23وہ کام نہیں کرتے ہیں
00:18:24تو اب یہاں سے
00:18:26پہلا ہمارا
00:18:27سیگمنٹ
00:18:28یعنی پہلی ہماری بات
00:18:29مکمل ہوتی ہے
00:18:29اس کے علاوہ
00:18:29اور بہت ساری حدیث ہیں
00:18:30اس سے یہ ایک بات
00:18:32پتہ چلتی ہے
00:18:32کہ یہ جتنے میں نے
00:18:33محدثین اے کرام
00:18:34آپ کے سامنے نام لیے
00:18:35ان لوگوں کے نزدیک
00:18:36یہ مروان
00:18:37لنٹی شخص ہے
00:18:38اور یہ روایتیں
00:18:39لکھ کر انہوں نے
00:18:40اپنی کتابوں میں
00:18:41اس کو لنٹی کرا دی ہے
00:18:42تو اب میں پوچھنا چاہتا ہوں
00:18:44کہ جب اتنی بڑی امت
00:18:45یزی اس مروان کو
00:18:46لنٹی کرا دے رہی ہے
00:18:47تو میں نے اگر
00:18:48اس کے لیے کہہ دیا
00:18:49کہ مروان لنٹی ہے
00:18:50تو میں نے کون سا جناب
00:18:51نیا پہاڑ جو ہے
00:18:52اس کو میں نے سوراہ کر دی ہے
00:18:53پھر یہ کہا گیا جی
00:18:55کہ مروان جو ہے
00:18:56وہ صحابی ہے
00:18:56اور میں نے جناب
00:18:58ابن کثیر نے لکھا ہے
00:18:59کہ یہ صحابی ہے
00:19:00وغیرہ وغیرہ
00:19:01پہلی بات یہ ہے
00:19:02کہ آل علم
00:19:02اس بات سے واقف ہیں
00:19:03کہ مروان
00:19:04ہرگز ہرگز
00:19:05صحابی رسول نہیں ہے
00:19:07کسی طور پر بھی
00:19:09اگر بعض لوگوں نے
00:19:10اس کے لیے
00:19:10یہ قول لکھا بھی ہے
00:19:11تو وہاں پر انہیں
00:19:12وضاعت کی ہے
00:19:12کہ احتمال ہے
00:19:13یعنی
00:19:14ممکنا طور پر
00:19:15امکان موجود ہے
00:19:16کہ یہ اس دور میں
00:19:17چونکہ صحابہ کرام
00:19:19اپنے بچوں کو
00:19:19چھوٹی عمر میں
00:19:20حضور کی خدمت میں
00:19:21لے کر آتے تھے
00:19:21تو اس کا والد بھی
00:19:22شاید حضور کے پاس
00:19:23لے کر آیا ہو
00:19:24تو پھر
00:19:24اس کو جناب و شرف
00:19:25ملا ہو
00:19:26حالانکہ میں آپ کو
00:19:27عدیس پیچھے سنا چکا ہوں
00:19:28کہ جب اس کا
00:19:28باپ اس کو لے کر آیا تھا
00:19:32تو اس وقت
00:19:41میں چند حوالے
00:19:42ارز کرتا ہوں
00:19:42امام ابن حجر
00:19:44اسقلانی رحمت اللہ تعالی
00:19:45ایک بخاری کی روایت
00:19:47کچھ سامنے رکھتے ہوئے
00:19:48وہ کہتے ہیں
00:19:48کہ حاضر روایت
00:19:50تو بن نسبت
00:19:50لا مروان مرسلہ
00:19:51کہ مروان کی نسبت
00:19:53سے یہ روایت
00:19:54جو ہے
00:19:54یہ مرسل ہے
00:19:55کیوں
00:19:55کہ لا صحبت لہو
00:19:57کیونکہ مروان
00:19:57صحابی نہیں تھا
00:19:58تو ظاہر ہے
00:19:59جب وہ صحابی نہیں تھا
00:20:00تو اس کی روایت
00:20:00روایت ہے مرسلہ ہوئی
00:20:01تقریب تہذیب کے اندر
00:20:03واضح طور پر موجود ہے
00:20:05کہ لا تثبت لہو
00:20:06صحبہ
00:20:06کہ مروان کے لیے
00:20:07صحبت ثابت نہیں ہے
00:20:08یعنی وہ صحابی نہیں ہے
00:20:09شیخ عراقی
00:20:11توفت اس تحصیل کے اندر
00:20:12امام ترمزی سے
00:20:13روایت کرتے ہیں
00:20:14امام ترمزی فرماتے ہیں
00:20:15سألتو محمدن
00:20:16یعنی البخاری
00:20:18کہ میں نے امام بخاری
00:20:19رحمت اللہ تعالی سے
00:20:20سوال کیا
00:20:21میں نے ان سے پوچھا
00:20:22کہ مروان بن الحکم
00:20:23ران نبی
00:20:24کہ کیا مروان بن حکم
00:20:25نے نبی علیہ السلام کی
00:20:26زیارت کی
00:20:26اور یہ صحابی ہے
00:20:28کالاللہ
00:20:28آپ نے فرمایا
00:20:29یہ نہیں ہے
00:20:30تہذیب تہذیب کے اندر
00:20:31امام ابن حجر اسکلانی
00:20:32انہوں نے بھی
00:20:33اس چیز کو ذکر فرمایا
00:20:35الاستیاب کے اندر
00:20:36علامہ ابن عبدالبر
00:20:37متوفہ 463 حجری
00:20:38وہ فرماتے ہیں
00:20:39لَمْ يَرَوْ لِأَنَّهُ
00:20:40خَارَجَ الَتَّعِفِ
00:20:42تِفْلَنْ لَا يَقْ
00:20:43کہ یہ بالکل
00:20:44چھوٹی عمر میں تھا
00:20:45اور ایک حول کے مطابق
00:20:46تو اس کی ولادت ہی بات نہیں ہوئی
00:20:47بہرحال وہ جو حول ہے
00:20:48جس میں یہ ایک سال
00:20:49ڈیڑھ سال کا تھا
00:20:49یا دو سال کا
00:20:50کہ جب اس کے باپ کو
00:20:52اس کی حرکتوں کی وجہ سے
00:20:53اللہ کے رسول نے
00:20:54مدینہ منورہ سے
00:20:55نکال دیا تھا
00:20:56اور اس بات کی اوپر بھی
00:20:57تقریباً
00:20:58موررخین کا
00:20:59مفسرین
00:20:59مودسین کا اجمع ہے
00:21:00کہ مروان اور اس کے باپ
00:21:01کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ
00:21:02نے کئی وجوہات کی بنا پر
00:21:04مدینہ منورہ سے
00:21:05نکال دیا
00:21:05اور حضرت ابو بکر صدیق
00:21:07و حضرت عمر فاروق
00:21:08ان دونوں حسنیوں کے زمانے میں
00:21:09ان یہ سٹل جو ہے
00:21:10لگتار ان کی اوپر
00:21:11پابندی رہی
00:21:12اور یہ مدینہ تشریف
00:21:13یہ مدینہ منورہ میں
00:21:14داخل نہیں ہو سکتے تھے
00:21:16اسی طرح
00:21:16اللامہ جزری
00:21:17رحمت اللہ تعالی
00:21:18عصد الغابہ کے اندر لکھتے ہیں
00:21:19کہ اس کی صحبت
00:21:21یعنی صحبیت
00:21:21جو ہے مروان کی صحبت نہیں ہے
00:21:23اللامہ ابن حجر اسکلانی
00:21:25اطراف المسند کے اندر
00:21:26روایت کرتے ہیں
00:21:27کہ لا تصخلو رویہ ولا سما
00:21:28کہ نہ اس کا سما حضور سے ثابت ہے
00:21:30اور نہ اس کی رویت
00:21:31یعنی یہ صحبی نہیں ہے مروان
00:21:33امام ترمزیہ سنن کے اندر لکھتے ہیں
00:21:35وہ مروان
00:21:35اللہ یسما من النبی
00:21:37وہ ومن التابعین
00:21:38کہ یہ تابعین کے دور کا بندہ ہے
00:21:40تابعین کی لسٹ میں یہ آ سکتا ہے
00:21:42یعنی یہ زمانہ
00:21:43اس کا صحبہ کے بعد کا ہے
00:21:44مروان صحبی نہیں ہے
00:21:45اسی طرح
00:21:48اللامہ زرکشی لکھتے ہیں
00:21:49کہ مروان کو حضور سے کوئی سما حاصل نہیں ہے
00:21:52اسی طریقے سے
00:21:54تضہیب تہذیب الکمال
00:21:55الزابی کے اندر موجود ہے
00:21:56کہ اس کی صحبل
00:21:58اور اس کا سما رسول اللہ سے ثابت نہیں ہے
00:22:00اللامہ زرکشی
00:22:02اللامہ مقدمہ کے اندر
00:22:03انہوں نے بھی اسی بات کو
00:22:05واضح کیا ہے
00:22:06کہ مروان
00:22:06اس کی صحابیت نہیں ہے
00:22:08اللامہ ابن حجر
00:22:09فتح الباری کے اندر
00:22:11آپ ایک استدلال لے کر آئیں
00:22:14وہ کہتے ہیں کہ
00:22:15مروان نے جس وقت
00:22:16طلب خلافت کیا
00:22:17تو اس کے لئے کہا گیا
00:22:18کہ عبداللہ بن عمر جیسی حسنی موجود ہیں
00:22:20تو ان کے ہوتے ہوئے
00:22:21تو کیوں یہ خلافت کا دعوے دار بننا ہے
00:22:24تو کہنے لگا
00:22:25لیسے ابن عمر بے افقا منی
00:22:26ولیکنو اسنو منی
00:22:28وقانت لہو صحبہ
00:22:29کہ عبداللہ بن عمر
00:22:30مجھ سے زیادہ اقل مند اور سیانے نہیں ہیں
00:22:33دیکھئے صحابی رسول کے لئے کیا کہہ رہا ہے
00:22:35عبداللہ بن عمر جیسے بندے کے لئے کیا کہہ رہا ہے
00:22:37کہ وہ مجھ سے زیادہ
00:22:38اقل مند اور سیانے نہیں ہیں
00:22:39زیادہ زیادہ وہ مجھ سے عمر میں بڑھیں
00:22:41اور ان کو صحابیت حاصل ہے
00:22:42تو یہ امام ابن عجر لکھتے ہیں
00:22:45فَحَازَ اِتْرَافُمْ مِنْ غَبِ عَدْمِ سِيَتْي
00:22:47یہ مروان کی اپنی طرف سے اعتراف ہے
00:22:50کہ وہ صحابی نہیں ہیں
00:22:51اس نے حضور کی صحبت حاصل نہیں کیے
00:22:53اسی طریقے سے
00:22:54عَلَّمَ عَيْنِ رَحْمَتُ اللَّهِ تَعْلَيْهِ
00:22:56عَمْتَتُ الْقَارِي مِنْ سیم
00:22:58انہی لفظوں کے ساتھ
00:22:59انہوں نے بھی استدلال کیا ہے
00:23:00امام ابن حجر کے
00:23:01الفاظوں نے بھی ذکر کیا ہے
00:23:02کہ مروان کے لیے
00:23:04صحبت حاصل نہیں ہے
00:23:05اسی طریقے سے
00:23:07عَلَّمَ عَلْمَ لَقَنْ
00:23:09اَتْتَوْزِيْ لِشْرَ جَامِ صحیح
00:23:10کے اندر لکھتے ہیں
00:23:11کہ فَلَمْ تَسِقْحُ لَهُ سُحْبَا
00:23:13کہ مروان کے لیے صحبت ثابت نہیں ہے
00:23:15یہ صحابی نہیں ہے
00:23:16اسی طریقے سے
00:23:17تقریب تہذیب کے اندر
00:23:19امام ابن حجر نے لکھا ہے
00:23:20کہ لا تثبت لَو صحبہ
00:23:21کہ مروان کے لیے
00:23:23صحبت ثابت نہیں ہے
00:23:24یعنی لبی علیہ السلام کا
00:23:25یہ صحابی نہیں ہے
00:23:26عَلَّمَ عَيْنِ
00:23:27رَحْمَتُ اللَّهِ تَعْلِمَ
00:23:28مَغَانِيُ الْأَخْيَارِ
00:23:29فِي شَرِ عَسْعَامِ
00:23:30رِجَالِ مَانِي
00:23:31یہ الْآثَار میں لکھتے ہیں
00:23:32لا تثبت لَو صحبہ
00:23:33کہ اس کے لیے
00:23:34صحبت نہیں ہے ثابت
00:23:36اور اسی طریقے سے
00:23:39دیگر علماء کے علاوہ
00:23:41الْقَوْسُرُ الجَارِي کے اندر
00:23:43اللامہ قورانی
00:23:43الْقَوْسُرُ الجَارِي
00:23:44شرح صحیح بخاری
00:23:45وہ لکھتے ہیں
00:23:46کہ لَيْسَلُ الصحبہ
00:23:47کہ مروان کے لیے
00:23:48صحابیت ثابت نہیں ہے
00:23:49امام صخابی رحمت اللہ تعالی
00:23:51فتح المغیس کے اندر لکھتے ہیں
00:23:52کہ یہ صحابی نہیں ہے
00:23:54بلکہ تابعین کے دور کا ہے
00:23:55امام جلال الدین
00:23:56سیوتیت توشیخ
00:23:57شرح جامع صحیح کے اندر لکھتے ہیں
00:23:58اَنَّ مَرْوَانَ لَا صُحْبَتَ لَو
00:24:00کہ مروان کے لیے
00:24:01صحابیت ثابت نہیں ہے
00:24:02امام قستلانی
00:24:04ارشاد الساری
00:24:05شرح صحیح بخاری کے اندر لکھتے ہیں
00:24:06کہ لا صحبت لَو
00:24:08مروان کے لیے
00:24:08صحبت ثابت نہیں ہے
00:24:10طبقات ابن سعد کے اندر
00:24:12علامہ ابن سعد نے اس کو
00:24:13اَتَبْقَتُ الْأُولَى مِنْ اَعْلِ الْمَدِينَ
00:24:15مِنَ التَّابعینِ
00:24:16بعد اصحاب رسول اللہ
00:24:17حضور کے صحابہ کے بعد
00:24:18کا بندہ لکھا ہے
00:24:19خلیفہ بن خیات نے اس کو
00:24:21تابعین کے زمانے کا بندہ لکھا ہے
00:24:22امام ابن ساکر نے
00:24:24تاریخ دمشق کے اندر
00:24:25واضح طور پر تابعین کے دور کا بندہ لکھا ہے
00:24:27موجم التبرانی کے اندر
00:24:29امام التبرانی رحمت اللہ تعالی نے
00:24:31اس کو مدینہ منورہ میں
00:24:32تابعین کے زمانے کا بندہ لکھا ہے
00:24:34امام دارِ کتنی نے
00:24:35جہاں تابعین کے زمانے کے لوگوں کے نام لکھے ہیں
00:24:37وہاں پر مروان کا نام لکھا ہے
00:24:39اور الکواقبِ دوری کے اندر
00:24:41اللامہ کرمانی نے
00:24:43اس کو جناب تابعین کے دور کا بندہ لکھا ہے
00:24:46اور البدر المنیر کے اندر
00:24:48اللامہ ابن ملقن
00:24:49وہ کہتے ہیں کہ
00:24:50تَعَنَا آلُ الْعِلْمِ فِيَ
00:24:53کہ مروان کے اوپر
00:24:54آلِ علم نے محدثین نے تان کیا ہے
00:24:56اس کی تنقید کیا ہے
00:24:58اس پر نقد کیا ہے
00:24:59اور یہ بالکل آلِ سنت کے آن
00:25:02مکمل طور پر اصول ہے
00:25:03کہ جو صحابی ہوتا ہے
00:25:04صحابی پر کوئی جرہ نہیں ہو سکتی
00:25:05تو جب محدثین نے اس کے اوپر جرہ کیا
00:25:07اس کے اوپر کلام کیا ہے
00:25:08تو اس کا واضح مطلب یہ ہے
00:25:10کہ یہ صحابی نہیں ہے
00:25:11اب جب یہ صحابی نہیں ہے
00:25:13اور امام ابن کثیر کے حوالے سے بتایا گیا
00:25:16اور علامہ ابن تیمیہ کا
00:25:17اور اسی طریقے سے
00:25:19کلہ بازی اور علامہ باجی نے
00:25:20واغدی کا قول لکھا ہے
00:25:21اور احرانگی کی بات یہ ہے
00:25:22کہ اسی علامہ واغدی کے اوپر
00:25:24یہ لوگ تبرہ کرتے کرتے نہیں تھکتے
00:25:25لیکن وہ واغدی کے اس قول
00:25:27کو اپنے محبوب بندے کی محبت میں
00:25:29اس قول کو جناب وہ لے کر آگئے ہیں
00:25:31تو بہرحال
00:25:32علامہ ابن تیمیہ نے
00:25:34امکان لکھا ہے اس کی صحبت کا
00:25:36اور علامہ ابن کثیر نے
00:25:38جو دعویٰ کی ہے وہ بلا دلیل ہے
00:25:40وگرنا وہ بتاتے کہ
00:25:41کون سے کثیر علی علم ہیں
00:25:42جنہوں نے مروان کو
00:25:43صحابہ کی لسٹ میں لکھا ہے
00:25:45اور اگر
00:25:46ہم یہ بات مان لیں
00:25:47تو پھر آئیں ذرا
00:25:48یہی علامہ ابن کثیر
00:25:50یہ دیکھتے ہیں
00:25:51کہ یہ
00:25:51اس صحابی کے بارے میں
00:25:53انہوں نے آگے جناب اپنا
00:25:55رویہ کیا لکھا ہے
00:25:56وہ کہتے ہیں
00:25:57مروانوں کان اکبر الاسباب فی حسار عثمان
00:25:59کہ یہ جو مروان ہے
00:26:01یہ حضرت عثمان غنی کی
00:26:02شہادت کے
00:26:03اسباب میں سے
00:26:04بڑا سبب ہے
00:26:05کیوں؟
00:26:24البدائیون نے آیا
00:26:25کہ اندر آٹھویں جلدے
00:26:26صفت 364 پہ
00:26:27لکھتے ہیں کہ
00:26:28مروان حضرت عثمان غنی کی
00:26:29شہادت کا سب سے بڑا سبب تھا
00:26:30اس نے لسانی فریب سے
00:26:32مصر کے وفد کو
00:26:33قتل کرنے کی تحریر بیجی
00:26:34اور یہ حضرت معویر
00:26:36رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں
00:26:37مدینہ کا گورنر تھا
00:26:38اور ہر جمعے کے دن
00:26:40ممبر پہ بیٹھ کر
00:26:41مولا علی کو گلیاں دیتا تھا
00:26:43اس وجہ سے
00:26:43حضرت امام حسن مجتبہ نے
00:26:45غصے میں آ کر
00:26:46اس کو کہا تھا
00:26:47کہ اللہ تعالیٰ نے
00:26:47تیرے باپ حکم پر
00:26:48اس وقت لعنت کی
00:26:49جب تُو
00:26:51اپنے نبی کی زبان سے
00:26:52کہ جب تُو
00:26:52اپنے باپ کی پشت میں تھا
00:26:53اور وہ حدیث کیا ہے
00:26:54لعناللہ الحکم
00:26:55اب یہ حدیث
00:26:57علامہ ابن کسیر
00:26:58بطور استدلال
00:26:59اس کے بارے میں لے کر رہے ہیں
00:27:00تو کیا جناب
00:27:01اگر یہ صحابی رسول ہے
00:27:02تو اس کے حوالے سے
00:27:03اسی علامہ ابن کسیر کا
00:27:06یہ رویہ ہے
00:27:06کہ جو رویہ یہاں پر آپ نے دیکھا
00:27:08تو الگرز
00:27:09کسی طور پر بھی مروان جو ہے
00:27:10یہ صحابہ کی لسٹ میں نہیں آتا
00:27:12اور یہ صحابی نہیں ہے
00:27:14اس کی صحبت کا دعویٰ
00:27:15یہ بالکل بھونگا دعویٰ ہے
00:27:17اس وجہ سے
00:27:17جب یہ صحابی نہیں ہے
00:27:19تو اس کی حرکتوں کی وجہ سے
00:27:20اس پر تنقید بھی ہوگی
00:27:22اس کا رگڑا بھی چڑے گا
00:27:23اور اس کے حوالے سے
00:27:24پورا پورا اس کو ٹریٹ کیا جائے گا
00:27:26جیسا کہ
00:27:26مزاج امت ہے
00:27:27اب میں
00:27:29اس مروان کے حوالے سے
00:27:30میں کچھ دیوبندی
00:27:32اکابرین کے حوالے
00:27:33آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں
00:27:34اور اور چند لوگوں کے
00:27:35کہ یہ جو میرا رویہ ہے
00:27:37میرے سے کوئی زیادہ سخت رویہ
00:27:38اس کے بارے میں رکھا گیا ہے
00:27:40پہلی بات یہ ہے
00:27:41کہ امام ابن حجر مکی
00:27:42السوائق المورکہ کے اندر لکھتے ہیں
00:27:44کہ یہ شدید ترین
00:27:45آلی بیعت کا بغزی تھا
00:27:46یہ مروان
00:27:47وہ لکھتے ہیں
00:27:48کہ وَمِنْ عَشَدْ النَّاسِ بُغْزَنْ لِا
00:27:49آلی بیعتِ محمد
00:27:50مروان ابن الحقم
00:27:51کہ حضور کی آلی بیعت کا
00:27:53شریعت بغزی بندہ
00:27:54یہ مروان بن حقم تھا
00:27:55اب شاہد العزیز
00:27:56محدد سے دیلوی
00:27:57وہ کہتے ہیں کہ
00:27:58توفہ اس ناشریعہ کے اندر
00:27:59ہاں بخاری میں
00:28:00مروان سے البتہ روایت آئی
00:28:02یہ وہ لوگ بھی سن لیں
00:28:03جو کہتے ہیں
00:28:03یہ بخاری کا راوی ہے
00:28:05باوجود ہے
00:28:05کہ وہ نواسب میں سے تھا
00:28:07نواسب دشمن آلی بیعت کو کہتے ہیں
00:28:08بلکہ اس بدبخت گروہ کا
00:28:10سرغنہ اور سربراہ تھا
00:28:12آگے لکھتے ہیں
00:28:13یہ جواب دیتے ہوئے
00:28:14کہ بھئی بخاری کے اندر
00:28:15اس کی روایت آگئی
00:28:16تو کیا یہ قابل تعظیم ہو گیا
00:28:17کہتے ہیں
00:28:18اور یہ بات تے ہیں
00:28:19کہ کوئی منافق یا بدتی
00:28:21نقلِ عدیث میں
00:28:31پانچ باتیں کی ہیں
00:28:32پہلی بات
00:28:33کہ یہ مروان جو ہے
00:28:34یہ ناسبی ہے
00:28:35دوسری بات یہ
00:28:37بدبخت ہے
00:28:37اور ناسبیوں کے گروہ کا سرغنہ ہے
00:28:39اور اگلی بات یہ
00:28:41کہ یہ منافق ہے
00:28:42اور اگلی بات یہ
00:28:43کہ یہ بدتی ہے
00:28:44اور منافق یا بدتی بندہ
00:28:45اگر وہ حق کی موافق
00:28:47کوئی روایت بیان کرتا ہے
00:28:48تو اس کی روایت لینے میں
00:28:49کوئی حرید نہیں ہے
00:28:49اب
00:28:50تھوڑا سمیں آگے بڑھوں
00:28:51پہلے ذراہی اس کو
00:28:52میں عرض کر دوں
00:28:53کہ جب
00:28:54یہاں پر
00:28:55علامہ شعبدالعزیز
00:28:56مددس دیلوی نے
00:28:56اس کو ناسبی قرار دیا
00:28:57دیکھنا یہ ہے
00:28:58کہ ناسبی ہوتا
00:29:00کونے ہیں
00:29:00شعبدالعزیز مددس دیلوی
00:29:02ناسبی کس کو کہتے ہیں
00:29:03تو آپ
00:29:04توفیسنہ شریعہ
00:29:05صفحہ
00:29:05چھے کی اوپر لکھتے ہیں
00:29:07کہ یہ ناسبی جو ہوتا ہے
00:29:08یہ دشمنہ علی بیعت ہوتا ہے
00:29:09اور یہ کتے اور خنزیر کی طرح ہوتا ہے
00:29:11یہ کتے اور
00:29:12خنزیر کی طرح ہوتا ہے
00:29:14تو اب یہاں
00:29:15میں نے تو لفظ کتہ بولا تھا
00:29:17جناب اس سے ایک ڈگری آگے دے دی
00:29:19یہ شعبدالعزیز
00:29:19مددس دیلوی نے مروان کو
00:29:21پہلی بات یہ ہے
00:29:22کہ وہ ناسبی بدبخت
00:29:23منافق
00:29:24بدتی
00:29:24اور بدبخت گروہ کا سرغنہ
00:29:26اور اگلی بات یہ ہے
00:29:27کہ کتہ اور خنزیر
00:29:28تو ہمیں پوچھنا چاہتا ہوں
00:29:30کیا شعبدالعزیز کے بارے میں
00:29:31بھی زبان کھولیں گے
00:29:32کہ اس نے ایک صحابی رسول کے اوپر اٹیک کیا
00:29:34بخاری کے راوی کے اوپر
00:29:45مروان کے بارے میں
00:29:46اس کو اگر برا کہیں
00:29:47تو کیا مسئلہ ہے
00:29:47تو جواب دیتے ہیں
00:29:48کہ آلِ بیت کی محبت
00:29:50فرائضِ ایمان سے ہے
00:29:51نہ کہ لوازمِ سنت
00:29:52اور محبتِ آلِ بیت سے ہے
00:29:53کہ مروان علیہِ لانت
00:29:55کو برا کہنا چاہیے
00:29:56یعنی آلِ بیت کی محبت
00:29:58کا تقاضی یہ ہے
00:29:59کہ مروان لانتی کو برا کہنا چاہیے
00:30:01اور اس سے دل بیدار رہنا چاہیے
00:30:03اللہ الخصوص
00:30:04اس نے نعائیت بچسلو کی
00:30:06حضرت حسین اور آلِ بیت کے ساتھ کی
00:30:08اور کامل عدعوت ان حضرات سے رکھتا تھا
00:30:10اس خیال سے
00:30:11اس شیطان سے
00:30:13بیدار رہنا چاہیے
00:30:14اب مجھے بتائیے
00:30:15کون سی قصر ہے
00:30:17جو شعبدالعزیز محبتِ دیلوی رحمت اللہ تعالی کے ہاں رہ گئی ہے
00:30:20وہ کون سا گھٹیا لفظ ہے
00:30:21جو انہوں نے اس کے لئے استعمال نہیں کیا
00:30:23تو اب میں پوچھنا چاہوں گا
00:30:24کہ کیا وہ الفاظ جو میرے خلاف بولے گئے
00:30:26مروان کی
00:30:27مزمت کی پاداش میں
00:30:29کیا ان کا مستق شعبدالعزیز کو بھی سمجھا جائے گا
00:30:31اور اگر نہیں تو کیوں نہیں
00:30:33اور اگر ہاں
00:30:34تو پھر جب شعبدالعزیز محبتِ دیلوی جن کے بارے میں
00:30:37عقابلینِ دیوبند ان کو وقت کا کتب لکھا ہے
00:30:39تو پھر میں ان سے پوچھوں گا
00:30:40کہ آپ ایک ولی کے بارے میں
00:30:41اور کتب کے بارے میں یہ رویہ ہے آپ کا
00:30:44اب میں ایک اوالہ اور دیتا ہوں
00:30:46رشید عمد گنگوئی
00:30:47یہ لکھتے ہیں
00:30:48یہ دیوبندی عقابر میں سے ان کا بڑا نام ہے
00:30:50اور یقیناً علماء ان کا ایک مقام سے
00:30:52دیوبندی مکتب فکر میں جانتے ہیں
00:30:56سفہ دو سو چھے کی اوپر یہ
00:30:58روایت یہ اپنا عبارت موجود ہے
00:31:00کہ رشید عمد گنگوئی صاحب لکھتے ہیں
00:31:06کہ یہ مروان اپنے خطبے کے دوران
00:31:08اصل باس یہ چل رہی ہے
00:31:09کہ عید کا خطبہ یہ پہلے کیوں اس نے شروع کیا
00:31:12اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے
00:31:13رشید عمد گنگوئی صاحب لکھتے ہیں
00:31:14کہ یہ اپنے خطبے کے اندر آل بیت نبی کے اوپر
00:31:19الزامات لگاتا تھا
00:31:20اور آل بیت نبی کی توہین کرتا تھا
00:31:22وہ یہ سی اولاد اب ابھی ہیں
00:31:23بیعت بھی کرتا تھا ان کی
00:31:24جب لوگوں نے اس کی یہ عرکت دیکھی
00:31:26تو وہ اس کی اس بقواس کو سننے پر صبر نہ کر سکے
00:31:29تو جَعَلُوا يَزَبُونَ اِذَا فَرَهُ مِنَ السَّلَاتِ
00:31:32وَتْتَرَقُوا خُطْبَةَ مَرْوَانَ يَسْمَهُوا
00:31:35تو وہ مروان کا عید کا خطبہ نہیں سنتے تھے
00:31:37نماز پڑھ کے چلے جاتے
00:31:38تو مروان نے خطبہ ہی جی نماز سے مقدم کر دیا
00:31:40تاکہ زبردستی طور پر یہ خطبہ
00:31:43جس کے اندر وہ آل بیت کو گلیاں دیتا تھا
00:31:45یہ سنایا جائے
00:31:45تو کہتے ہیں
00:31:50یہ اس کا کام خبیسانہ
00:31:52علل اعلان واضح طور پر خبیسانہ عرکت تھی
00:31:55اس کی
00:31:55اور اس وجہ سے
00:31:56اس دور کے لوگوں نے انکار کیا
00:31:58اور وہ اس کا خطبہ جو ہے نا وہ نہ سنتے تھے
00:32:00شیخ الہند محمود حسین دیوبندی صاحب
00:32:03وہ بھی اسی طرح کی بات لکھتے ہیں
00:32:07وہ کہتے ہیں
00:32:26یہ التقریر لترمزی جلدور
00:32:28پیج 18 کی اوپر
00:32:29شیخ الہند لکھتے ہیں
00:32:30کہ مروان ظالم تھا
00:32:31سخت قسم کا
00:32:32اور نبی علیہ السلام کی
00:32:34سنت کا مو پھیرنے والا
00:32:36مستقبراً سنت رسول اللہ
00:32:38حضور کی سنت کی دجیاں اڑانے والا
00:32:40یہ صحابہ کو اور آل بیت کو
00:32:42جمعہ اور عید کے خطبوں میں
00:32:44گالیاں دیتا تھا
00:32:45اور لوگ
00:32:46نماز کے بعد
00:32:48اس کے خطبے کا انتظار نہیں کرتے تھے
00:32:50کیوں
00:32:50کہ لسب بی فی اسنائل خطبہ
00:32:53یہ خطبے کے دوران آل بیت اتار پر
00:32:55مولا علی پر لانتیں بیتا تھا
00:32:56گالیاں نکالتا تھا
00:32:57اس وجہ سے لوگ
00:32:58نماز پڑھ کے
00:32:59اس کا خطبہ سننے سے پہلے چلے جاتے
00:33:01تو اس نے خطبہ ہی مقدم کر دیا
00:33:02تاکہ لوگوں کو زبردستی خطبہ سنا جائے
00:33:04انور شاہ کشمیری صاحب
00:33:06یہ ابواب العیدین کے تحت
00:33:08یہاں بھی موجود ہے
00:33:09وہ لکھتے ہیں کہ
00:33:10عیدین کے بعد
00:33:11خطبہ سنت ہے
00:33:12اور امت نے اس کو تلقی بالقبول کا درجہ دیئے
00:33:14وخالفہ مروان
00:33:16مروان نے اس سنت کی مخالفت کی
00:33:18کیوں
00:33:19کہ وہ حضرت علی پر
00:33:20خطبہ کے دوران لانتے بیتا تھا
00:33:22تو لوگوں نے
00:33:23اس وجہ سے اس سے نفرت کی
00:33:25اور اس کا خطبہ سنت سے انکال کیا
00:33:27تو اس نے
00:33:27عید کے خطبہ پہلے شروع کر دیا
00:33:28فیض الباری کے اندر وہ لکھتے ہیں
00:33:34فیض الباری کے اندر وہ لکھتے ہیں
00:33:35کہ ان کے حضرت علی پر
00:33:36گالیاں بیتا بگتا تھا
00:33:37یہ خطبے کے دوران
00:33:38اس لئے
00:33:39لوگ جناب اس کا خطبہ سنتے سے پہلے
00:33:41اٹھ کے چلے جاتے تھے
00:33:41اس وجہ سے اس نے
00:33:42um
00:33:42a
00:33:43now
00:33:44when
00:33:45she is
00:33:47a big
00:33:48big
00:33:48and
00:33:48he is
00:33:49a
00:33:50a
00:33:50a
00:33:50a
00:33:51a
00:33:52a
00:33:53a
00:33:53a
00:33:53a
00:33:54a
00:33:54a
00:33:54a
00:33:54a
00:33:54a
00:33:54a
00:33:55a
00:33:55a
00:33:55a
00:33:55a
00:33:55a
00:34:24a
00:34:24a
00:34:24a
00:34:24a
00:34:24a
00:34:25a
00:34:25a
00:34:25a
00:34:25a
00:34:25That we can connect with the nation with the
00:34:27We can connect with the ,,
00:34:39and give the same things in that
00:34:40with the
00:34:40spirit and nourishment
00:34:41And I made it
00:34:44And I made it
00:34:45And I made it
00:34:45And I made it
00:34:46And I made it
00:34:46And I made it
00:34:48I made it
00:34:51And I made it
00:34:54to kill and he is going to kill and he is going to kill and I have a
00:35:07150
00:35:0840
00:35:0840
00:35:0940
00:35:0940
00:35:0940
00:35:1350
00:35:1750
00:35:1850
00:35:2050
00:35:2245
00:35:2245
00:35:2246
00:35:2345
00:35:2346
00:35:52this is why Muslim
00:35:53akte кого한
00:35:57قمت متصلطہ کا ایک رکن
00:35:59ہونے کے علاوہ خود بھی
00:36:01ظالم اور جابر تھا
00:36:02صحابہ اکرام کے ساتھ ان بدبخت
00:36:04کام کا طرز عمل بے حد گستا خانہ تھا
00:36:06حتیٰ کہ خطبوں میں دلازار
00:36:08کلمات کہنے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے
00:36:10اس کے علاوہ سرفراز خان
00:36:12سفدر صاحب یہ بہت بڑے دیوبندی
00:36:14عالم گزرے ہیں اور
00:36:15ان کی بہت تصانیف ہیں دیوبندی
00:36:17مقدمہ فکر میں ان کی شخصیت جو تعرف کی
00:36:20معتاج نہیں ہیں
00:36:21जखीरत तुल जनाम, तफसीर सूर जारियात, आयत 38 के तहत, वो लिखते हैं कि जैसे हमारी तारीख में, मरवान बिन
00:36:27अकम अपने जमाने में बड़ा जालिम था, इसने बड़ी जियात्तियां की हैं, इसका बेटा अब्दुल अब्दुल अच्छा था, और पोता
00:36:46अमर बिन अ
00:36:47उलमाने जो लवज इसनेमाल की हैं मरवान के लिए, इनमें से वो कौन सा एक ऐसा लवज है कि जो
00:36:53मैं इसके लिए इसनेमाल करता हूँ, जो जनाब उससे कम खतरनाक है, एल बैत का शदीद, बगजी, नास्भी, मुनाफिक, बित्ती,
00:37:01लंती, शेतान, खुता, खिंजीर, मु
00:37:08प्यद, बित्त, सख्ट, जाल्म, सुन्द से पीट फेरने वाला, सहाबा को गालियां देने वाला, मुला जी की हजव करने वाला,
00:37:14फित्ना परदा, जाल्म, जाबर, सहाबा का गुस्ताख, दिल, सहाबा की दिल Alwaysbig करने वाला, शकी, बद्बश वोश कलाँ, वाकिया, हररका,
00:37:21حرقہ معاون صفاق ظالم
00:37:23سند یافتہ مفسد بڑا ظالم خواست کرنے والا
00:37:26بتائیں کوئی اور رہتا ہے
00:37:27کوئی کمی ماشاءاللہ کوئی اور ضرورت ہو
00:37:29تو وہ بھی پیش کر دیتے ہیں اور یہ ساری
00:37:31چیزیں دیوبندی حقابر کی کتابوں میں سے
00:37:33ثابت شدہ ہیں اور بیان کی گئی ہیں
00:37:36اور اور بھی یہ
00:37:37یقیناً وقت بہت میں تھوڑا
00:37:39کلپ کو شارٹ کر رہا ہوں یہ بہت
00:37:41طویل جنابی ہے اس کے خلاف چار شیر دی گئی ہے
00:37:43اب میں پوچھنا چاہتا ہوں
00:37:45کہ اس مروان کے لیے جو لہجہ دیوبندی
00:37:47علماء نے رکھا ہے کیا
00:37:49وہ جو میرے خلاف کا آگئے ایسے گریفتار کرو
00:37:51تو پھر میرا بھی مطالبہ ہے
00:37:53گریفتار کرو گریفتار کرو اشرف علی تھانوی
00:37:55کو گریفتار کرو رشید احمد گنگوئی
00:37:57کو گریفتار کرو شاہ عبدالعزیز
00:37:59کو گریفتار کرو سید احمد رضا بجنوری
00:38:01کو گریفتار کرو عبدالشکور لکنوی
00:38:03کو گریفتار کرو رشید عمد گنگوئی
00:38:05صاحب کو گریفتار کرو شیخ الہند محمود
00:38:07حسین دیوبندی صاحب کو گریفتار کرو انور شاہ
00:38:09کشمیری کو گریفتار کرو انسانوں کو گریفتار کرو
00:38:11پھر مجھے بھی گریفتار کرو اور اگر وہاں
00:38:13ڈال نہ گلے تو shut up
00:38:15میرے بارے میں بقواس مت کرو
00:38:17حضرت
00:38:19پیچھے دیوبندی بزرگوں نے بھی لکھا
00:38:21میں نے بھی ابتدائیے میں کہا تھا
00:38:23کہ مروان جو ہے یہ مولا علی پر لانت کرتا
00:38:25تھا سب و شتم کرتا تھا ممکن ہے کہ
00:38:27کوئی قیدی کی ادعو بلا دلی لیے میں جلدی جلدی
00:38:29کچھ عوالے آپ کے سامنے جناب
00:38:31وہ عرض کر دیتا ہوں صحیح مسلم شریف
00:38:33حدیث نمبر 2409 ہے
00:38:35حضرت سال بن سعید کہتے ہیں
00:38:36کہ مدینہ کی اوپر آل مروان میں سے
00:38:39ایک آدمی حاکم بنایا گیا تو
00:38:41اس نے وہ کہتے ہیں کہ
00:38:43اس نے سال بن سعید کو بلایا اور
00:38:45ان کو حکم دیا کہ آن یشتما علی
00:38:47ین علی کو گالی دو تو انہوں نے انکار کیا
00:38:49تو کہنے لگا کہ چل اگر
00:38:51تو یہ نہیں کرتا تو پھر یہ کہہ دے
00:38:53لعناللہ عبد تراب ابو تراب پر
00:38:55اللہ کی لعنہ تو تو حضرت سال کہنے لگے
00:38:57ارے بھائی علی کو یہ ابو تراب کا نام
00:38:59تو سب سے زیادہ جناب پیارا تھا
00:39:01اور یقینا جب حضرت علی
00:39:03کو ابو تراب کہہ کر پکارا جاتا تھا
00:39:05تو وہ اس پر خوش ہوتے تھے
00:39:06اس حدیث کی شرعہ کے اندر اس کے اندر ایک تو پتہ چلا
00:39:09کہ مروانی شخص کوئی تھا
00:39:11کہ جس نے یہ حرکت کی مولا علی پر
00:39:13یہ گالیاں دلواتا تھا
00:39:14تو حدیث کی
00:39:16اس مسلم شریف کی شرعہ شیخ عمین علیہ حرری
00:39:19شافعی القوقبل وحاج
00:39:21شرعہ مسلم اس میں وہ لکھتے ہیں
00:39:23کہ وہ حکمران مروان تھا
00:39:24جس نے حضرت زال بن سعید کو حضرت علی
00:39:27پر گالی دینے کے لیے اس کو حکم دیا
00:39:30پھر امام احمد بن حنبل کی کتاب
00:39:32علیلل والمعارفت الرجال
00:39:33اس میں لکھتے ہیں کہ
00:39:34کہ مروان ہم پر
00:39:39چھے سال حکمران رہا
00:39:41فَقَانَ يَسُبُّ عَلِيًّا
00:39:43كُلَّ جُمْعَاتٍ
00:39:44یہ ہر جمعہ مولا علی پر لانت بہیتا تھا
00:39:46گالی دیتا تھا
00:39:47پھر اسے معذول کیا گیا
00:39:48پھر سعید بن العاص کو دو سال کے لیے
00:39:50امیر مک بنایا گیا
00:39:51تو یہ جناب
00:39:53حضرت علی کو گالی نہیں دیتے تھے
00:39:54پھر مروان کو جب بنایا گیا
00:39:56تو پھر یہ نئے حضرت علی کو گالیاں بگتا تھا
00:39:58تو یہ
00:40:00حدیث نمبر 4881 ہے
00:40:02تو اب پچھلی روایت
00:40:04جو مسلم شریف کی ہے
00:40:05اس روایت کی تشریح کر رہی ہے یہ روایت
00:40:08اور
00:40:09حافظ ابن حجر رحمت اللہ تعالی
00:40:11وہ بھی لکھتے ہیں کہ
00:40:13مولا علی پاک کرم اللہ تعالی وجل کریم پر
00:40:16یہ بندہ جو ہے نا یہ
00:40:17لانتان کرتا تھا
00:40:18اور ان کو گالیاں دیتا تھا
00:40:20تو یہ
00:40:22حضرت مولا کائنات پر
00:40:23چونکہ یہ
00:40:24سبو شتم کرتا تھا
00:40:25چھے سال تک یہ شخص
00:40:27ہر جمعہ کے جمعہ مولا علی پر
00:40:28سبو شتم اور لانت بھیتا تھا
00:40:30اس وجہ سے
00:40:31حضرت امام حسن مجتبہ جب مسجد تشریف لاتے
00:40:34تو آپ اس کا خطبہ نہیں سنتے تھے
00:40:36امام بخاری تاریخ الوصد کے اندر روایت لائے ہیں
00:40:38کہ جب مروان خطبہ دیرہ ہوتا
00:40:41تو فکان الحسن و یجیف اید خلال حجرہ
00:40:43فائضہ فراغ من خطبتی خرجہ فساللام آو
00:40:45تو آپ خطبے کے دوران حضور کے حجرے میں تشریف لے جاتے
00:40:47کیونکہ اس کی بقواس بازی ایسی ہوتی تھی
00:40:50کہ امام حسن مجتبہ اس کا
00:40:51وہ بک بک سننا نہیں چاہتے تھے
00:40:54اسی طریقے سے
00:40:56امام ابن عجر اسکلانی المطالب العالیہ کے اندر
00:40:58امام بوسیری اتحاف المارہ الخیرہ کے اندر
00:41:01امام ابن ساکر تاریخ دمشق کے اندر
00:41:03تاریخ الاسلام کے اندر علامہ زابی
00:41:05تاریخ الخلفاء کے اندر امام جلال الدین سیوتی
00:41:07اور تاریخ السغیر کے اندر
00:41:09امام بخاری رحمت اللہ تعالیٰ
00:41:10امیر بن عساق سے یہ روایت لے کر آئے ہیں
00:41:12کہ ہم پر مروان سالہ سال تک
00:41:14وہ ہر جمعہ کو عدرت علی پر
00:41:16ممبر پر برا بلا ان کو کہتا تھا
00:41:18پھر مروان کو معذول کر کے
00:41:20سعید بن عاص کو دو سال تک آکے مقرر کیا گیا
00:41:22یہ عدرت علی کو برا نہیں کہتے تھے
00:41:24لیکن پھر انہیں معذول کر کے دوبارہ مروان کو عقم بنایا گیا
00:41:26تو وہ دوبارہ مولا علی پر سبوشتم کرنے لگا
00:41:28چنانچہ امام حسن کو کہا گیا کہ آپ مروان کی بکواس نہیں سنتے
00:41:31اسے کوئی جواب تو دیں
00:41:32امام حسن جمعہ کے دن تشریف لاتے
00:41:34اور حجرِ نبوی میں چلے جاتے
00:41:36اور اسی میں رہتے حتیٰ کہ خطبہ ہو جاتا
00:41:38پھر آپ باہر نکلتے اور نماز پڑھتے
00:41:40اور اپنے گھر کو لوٹ جاتے
00:41:41چنانچہ مروان اس بات پر رازی نہ تھا
00:41:43یہ روایت بڑے غور سے سنیں کہ یہ بدماش کس قدر خبیص تھا
00:41:46اس سے جانا اس کا دل نہ بھارا
00:41:49حتیٰ کہ اس نے آپ کے گھر میں
00:41:51ایک دل خراشتوف آروانہ کیا
00:41:53حضرت امام حسن مجتبہ
00:41:54چپکے سے اس کی بکواس بازی کی طرف تیان نہ کرتے
00:41:56وہ گھر تشریف لے جاتے
00:41:57سبر کرتے
00:41:58تو اس نے ایک دن ایک شخص کو بیجا
00:42:00تو وہ ان کے دروازے پہ گئے
00:42:02امام حسن کے دروازے پر
00:42:03اور وہاں جا کر
00:42:04اس نے اجازت مانگی
00:42:05تو بتایا کہ جی کی فلاں بندہ آپ کے دروازے پر کھڑایا
00:42:06آپ نے اندر آنے کی اجازت دی
00:42:08تو اس نے کہا جی کہ میں مروان کی طرف سے ایک مقصد لے کر رہا ہوں
00:42:11آپ نے فرمایا بتاؤ
00:42:11اس نے کہا مجھے مروان نے
00:42:12علی اور آپ کے لئے یوں پیغام دے کر بھیجائے
00:42:15اور یہ کہا ہے
00:42:16کہ میں نے تمہیں خچر کی مثل پایا ہے
00:42:18کہ جب خچر سے پوچھا جائے
00:42:19کہ تیرا باپ کونے تو وہ بولتا ہے
00:42:21میری ماں گھوڑی تھی
00:42:22اب یہ آپ سمجھ سکتے ہیں
00:42:23کہ اس نے کس قدر شدید دیدوی اور گستاخی
00:42:26شدید ترین
00:42:27اس نے چوٹ ماری حضرت امام حسن مجتبہ علیہ السلام پر
00:42:30امام حسن نے فرمایا
00:42:31جاؤ اسے جا کر کہو
00:42:32کہ جو تُو نے کہا ہے
00:42:33میں اسے ہرگز نہ مٹاؤں گا
00:42:35کہ میں بھی تجھے جواب میں برا کہوں
00:42:37البتہ میرا تیرے معاملہ اللہ کے سپر دے
00:42:39پس اگر تُو سچا ہو
00:42:40تو اللہ تعالی تجھے تیری سچائی کا عجر دے
00:42:42اور اگر تُو جھوٹا ہو
00:42:43تو اللہ تعالی سخت حساب لینے والا ہے
00:42:44اور میرے جدے گرامی رسول اللہ کو
00:42:46اللہ نے بزرگی عطا فرمایے
00:42:47تو میری مثال خچر کسی کیسے ہو سکتی ہے
00:42:49وہ شخص وہاں سے جب جانے لگا
00:42:51آگے امام حسین علیہ السلام سے ملقات ہوئی
00:42:54آپ نے اسے زبردستی پوچھا
00:42:55تو اس نے پھر بتا دی یہ ساری بات
00:42:57تو امام حسین نے اس بندے کو
00:42:58سخت قسم دے کے فرمایا
00:43:00کہ جاؤ مروان کو میرا پیغام دو
00:43:06آپ نے فرمایا
00:43:07کہ تجھے تیرے باپ اور تیری قوم کی بدبختی
00:43:16آپ نے فرمایا
00:43:18تیرے اور تیرے باپ اور تیری قوم کے لیے
00:43:20یوں یوں ہے
00:43:20اور تیرے اور میرے معاملے کی نشانی یہ
00:43:22کہ تُو نے رسول اللہ کی لانت سے اپنے کندے پکڑ رکھیں
00:43:25اشارہ کیا
00:43:26اسی حدیث کی طرح جس میں اللہ کے رسول نے
00:43:28اس پر لانت بیجی تھی
00:43:29اب یہاں پر آپ دیکھیں
00:43:31کہ اس نے کس قدر بکواس بازی کی
00:43:33امام ابن ابی خیسمہ
00:43:34تاریخ القبیر کے اندر
00:43:35تاریخ دمشق کے اندر
00:43:36امام ابن عساکر
00:43:38وہ روایت کرتے ہیں
00:43:39کہ حضرت عائشہ بن تیساد
00:43:40حضرت سعید بن نبی وقاس
00:43:41جو اشیرم بشرا میں سے ایک صحابی ہیں
00:43:43ان کی بیٹی ہیں
00:43:44آپ فرماتی ہے
00:43:45کہ ایک مرتبہ مروان
00:43:46حضرت سعید بن نبی وقاس کی
00:43:47عیادت کے لیے آیا
00:43:48تو حضرت سعید نے فرمایا
00:43:49کہ اس سے واپس بھی دو
00:43:50یعنی آپ اس سے نفرت کرتے تھے
00:43:51اس کی انہی خواستوں کی وجہ سے
00:43:52تو حضرت عبور ایرہ بھی پاس تھی
00:43:54انہیز کی
00:43:54کہ آکھیں شہر حضور
00:43:55آنے دیں فتنہ ہوگا
00:43:56بہرحال جب یہ اندر آیا
00:43:57تو اس نے حضرت سعید کی
00:43:59بیٹی حضرت عائشہ کی
00:43:59چارپائی کو تارنا شروع کیا
00:44:01یہ ایک بڑی گندی عرقت اس نے کی
00:44:02تو حضرت سعید نے فرمایا
00:44:04وَيْلَكَيَا مَرْوَان
00:44:05اِنَّهُ تَعْتُكَيَانِيَا لِشَامَ
00:44:07اللَّا شَطْمِ عَلِي بِنِ عَبِي طَالِب
00:44:09تو آپ نے فرمایا
00:44:10اوہ مروان تیری بدبختی ہو
00:44:12اوہ تُو شامیوں کی اطاعت کر رہے
00:44:14علی کو گلیاں دے رہا ہے
00:44:15تو فَغَدَ بَا مَرْوَان
00:44:17فَقَامَا وَخَرَجَا مُغْذِبًا
00:44:18غصے میں کھڑا ہو گیا
00:44:19اور وہاں سے دفع ہو گیا
00:44:20اب یہ دیکھئے کہ
00:44:22اس روایت کے اندر بھی
00:44:23یہ مستنت روایت ہے
00:44:25اس روایت کے اندر بھی موجود ہے
00:44:27کہ یہ صحابی رسول گوائی دیتے ہیں
00:44:29کہ حضرت علی کو یہ گلیاں دیتا تھا
00:44:31امام ابن ابی خیسمہ
00:44:34تاریخِ قبیر کے اندر
00:44:35اور امام زابی سیر علام النبلاء کے اندر
00:44:37روایت فرماتے ہیں
00:44:37کہ امام زین العبدین فرماتے ہیں
00:44:39کہ مجھے مروان نے کہا
00:44:40کہ ہمارے سردار
00:44:41یعنی عثمان غنین کے دفاع کرنے میں
00:44:42تو ہمارے سردار
00:44:43یعنی علی سے بڑھ کر کوئی بھی نہ تھا
00:44:45یعنی حضرت علی
00:44:46حضرت عثمان کا بڑا دفاع کرنے والے تھے
00:44:48تو حضرت سعید انہ
00:44:50زین العبدین علیہ السلام نے فرمایا
00:44:52آپ فرماتے ہیں
00:44:55تو پھر تمہیں کیا ہوگیا ہے
00:44:57کہ جب انہوں نے حضرت عثمان کا دفاع کیا
00:44:59تو تم حضرت علی پر لانتے کیوں بیٹے ہو
00:45:01ممبروں پر
00:45:01کیوں نے گالیاں دیتے ہو
00:45:05کہنے لگے جی
00:45:05کہ ہماری حکومت کا نظامی
00:45:07علی کو گالیاں دینے سے
00:45:08اور لانت کرنے سے چلتا ہے
00:45:09تو اب دیکھیں یہ کس قسم کے
00:45:10جو نہ وہ لوگ تھے
00:45:12تو اب اسی طریقے سے
00:45:15امام کرتبی المفہم
00:45:17لیماش کلام ان کتاب تلخی سے
00:45:19مسلم کے اندر لکھتے ہیں
00:45:20کہ اس مروان نے عید کا خطبہ
00:45:22اس لیے مقدم کیا
00:45:23کہ اس میں یہ حضرت علی المرتضاء پر
00:45:25لانتان کرتا تھا
00:45:26اور انہیں گالیاں دیتا تھا
00:45:27اور وہ لکھتے ہیں کہ
00:45:28وَمَّا مَرْوَانْ وَبْنُوا مَيَّا
00:45:30وَإِنَّمَا قَدْ نَمُوا عَلِئَنَّمْ قَانُوا فِي خُطَبِهِمْ
00:45:33يُنَالُونَ مِنْ عَلِيٍّ عَلِيٍّ
00:45:35قَرَّمَ اللَّهُ تَعْلَوَ جُلْكَرِ
00:45:37تو یہاں پر یہ واضح طور پر ہے
00:45:39کہ حضرت علی کی اپنے خطبوں میں مضمت کرتے
00:45:41برا بلکتے
00:45:41لوگ ان کے خطبہ نہیں سنتے تھے
00:45:43تو اس وجہ سے جناب انہوں نے عید کے خطبہ ہی مقدم کر دیئے
00:45:46امام اسکلانی
00:45:47یہ نئے والے سنتے جائیں
00:45:49اتحاف المار الخیرہ کے اندر
00:45:51اللامہ بوسیری
00:45:52امام قاضی ابو یالہ
00:45:53مسند ابو یالہ کے اندر
00:45:54الموجم القبیر کے اندر امام تبرانی
00:45:56امام ابن کسیر
00:45:57جامل مسانید
00:45:58تاریخ الاسلام کے اندر
00:46:02اور دیگر کئی
00:46:04اثنات سے یہ روایت موجود ہے
00:46:05جو میں نے افتداء میں بھی عرض کی ہے
00:46:07کہ راوی کہتے ہیں کہ حسنین کریمین کے پاس میں بیٹھا ہوا تھا
00:46:10اور بڑی گنڈی گالی دی
00:46:12مروان نے حضرت
00:46:15حسین رضی اللہ تعالیٰ عن
00:46:17ہما کو
00:46:18حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عن ہما کو
00:46:19تو یہ کہتا ہے کہ
00:46:20یہاں تک بکواس کیا کہ
00:46:22اِنَّكُمْ عَلُوا بَيْتٍ مَلُونُونَ
00:46:23اے عالِ بَيْتٍ تم لانتی ہو
00:46:25تو امام حسن اور حسین
00:46:27دونوں بولے یا ایک بولے
00:46:28انہیں کہا اللہ کی قسم
00:46:29اللہ کی قسم
00:46:30پھر اللہ کی قسم
00:46:31تو تجھ پر تو اللہ تعالیٰ نے
00:46:32رسولِ خدا کی زبان پر
00:46:34اس وقت لانت بھیجی تھی
00:46:35کہ جب تو اپنی باپ کی پشن کے اندر تھا
00:46:37تو مروان یہ سن کر جو ہے نا وہ
00:46:39چپ ہو گیا
00:46:39پھر یہ شخص
00:46:40حسنین کریمین سے
00:46:41وہ شریف قسم کا بغض رکھتا تھا
00:46:43تاریخِ دمشق کے اندر
00:46:44امام ابن عساقر نے لکھا ہے
00:46:45تہذیب الکمال کے اندر موجود ہے
00:46:47مجموع زبایت کے اندر
00:46:48علامہ حیثمین نے لکھا ہے
00:46:50حیات السعابہ یہ دو بندی عالم
00:46:51علامہ کاندلوی
00:46:52انہوں نے لکھا ہے
00:46:53موجم القبیر کے اندر
00:46:54امام التبرانی لکھتے ہیں
00:46:55اور یہ جو روایت مرض کر رہا ہوں
00:46:56اس کے راوی سارے سکھا ہے
00:46:57اور امام عیثمین فرماتے ہیں
00:46:59رجالو سکات کے سادیث
00:47:00کے سارے راوی سکھا ہے
00:47:01حضرت سیدنا ابو ریرہ
00:47:02رضی اللہ تعالیٰ نو بیمار تھے
00:47:03تو مروان ان کی عیادت کے لیے آیا
00:47:05اور کہنے لگا
00:47:06کہ موجد تو علیکا
00:47:07فی شیئن منزو استحبنا
00:47:09استحبنا اللہ فی حبک الحسن والحسین
00:47:11کہ لگے ابو ریرہ
00:47:12جب سے آپ کا ہمارے ساتھ تعلق ہوا ہے
00:47:14ہمیں آپ کی کوئی چیز
00:47:15اتنی بری نہیں لگی
00:47:16کوئی خرابی آپ میں نظر نہیں آئی
00:47:17سوائے اس کے
00:47:18ایک خرابی آپ کے اندر ہے
00:47:19کہ آپ حسن اور حسین سے پیار کرتے ہیں
00:47:21حضرت ابو ریرہ بیمار تھے
00:47:22بس طرح پر لیٹے گئے تھے
00:47:23تو آپ غصے سے تڑپ کے اٹھ بے تھے
00:47:25اور پھر آپ نے حدیث سنائی
00:47:27اور جس میں آپ نے تفصیل سے بتایا
00:47:28وہ مروان حسن اور حسین سے
00:47:30تو رسول اللہ پیار کرتے تھے
00:47:31ابو ریرہ ان سے پیار کیوں نہ کرے
00:47:33تو الغرض
00:47:34یہ شخص انتہا درجے کا
00:47:35حسنین کریبے ان کا بغزی تھا
00:47:37یہی بات ہے کہ
00:47:38امام حسن مشتبہ
00:47:39آپ کو جب زہر دیا گیا
00:47:40تو
00:47:41اس زہر خورانی کے دوران
00:47:43امام حسن مشتبہ کو جب پتا
00:47:45چل گیا کہ
00:47:46بھئی یہ میری شہادت ہو رہی ہے
00:47:47تو آپ نے حضرت حسین اور دیگر لوگوں کو
00:47:49وسیعت فرمائی کہ
00:47:50جب میرا انتقال ہو
00:47:51میری شہادت ہو جائے
00:47:52تو مجھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے
00:47:53حجرِ اتر کے اندر دفن کرنا
00:47:55اور سید آئش حسدیقہ سے
00:47:56اجازت لے لی گئی
00:47:58امام نعیم بن حمد المروزی
00:48:00متوفہ 288 حجری
00:48:02عصد الغابہ میں امام ابن عصیر جزری
00:48:03سیر علامن و بلامے امام شمس الدین زابی
00:48:06تاریخ الدمشق کے اندر امام ابن عساقر
00:48:07غفیات العیان کے اندر
00:48:09ابن حلقان
00:48:10متوفہ 681 حجری
00:48:11اور علامہ بلازری
00:48:13انصاب الاشراف کے اندر
00:48:14یہ لکھتے ہیں
00:48:16کہ
00:48:17امام حسن مشتبہ کا
00:48:18وسال جب ہو گیا
00:48:20تو آپ نے وسیعت
00:48:21وسال سے پہلے وسیعت کی تھی
00:48:22امام حسین سے
00:48:23کہ
00:48:23مجھے واندفن کرنا اور
00:48:25اگر کوئی لڑائی جگڑے کا
00:48:27کیونکہ آپ کو اندازہ تو تھا
00:48:28کہ یہ بن امیہ اور بالخصوص
00:48:29یہ مروان جیسے کمینے لوگ
00:48:30کوئی نہ کوئی گڑھ بڑھ کریں گے
00:48:31تو آپ نے فرمایا کہ
00:48:32پھر وہاں قتل و غارت نہ کرنا
00:48:34اگر کوئی گڑھ بڑھ ہو جائے
00:48:35جگڑا وگڑا ہو جائے
00:48:36تو خون بانے کی کوشش نہ کرنا
00:48:38مجھے پھر جنت الوکی میں دفنا دینا
00:48:39تو جس وقت
00:48:41قبر کھو دی جانے لگی
00:48:43عجرہ رسول کے اندر امام
00:48:44حسن مشتبہ کی حضرت سعید آئشہ
00:48:45نے اجازت دے دی
00:48:46تو جا مروان بن الحکم
00:48:48فی بنی امیہ
00:48:49تو یہ مروان بن الحکم
00:48:51یہ بن امیہ کے اندر گیا
00:48:52جا کر لوگوں کو اس نے بڑھکایا
00:48:54تو والا بیسو سلاحہ
00:48:55لوگ اسلحہ لے کے آگے
00:48:56اور کہنے لگا
00:48:58کہ اے نبی کا ساتھ میں
00:48:59حسن کو نہیں دفن ہونے دوں گا
00:49:00منا تم عثمانہ
00:49:01فنحنو نامناکم
00:49:02اس نے الزام لگایا
00:49:03کہ تم نے عثمانِ غنی
00:49:04کو یہاں دفن نہیں ہونے دیا
00:49:05تو ہم تمہیں دفن نہیں ہونے دیں گے
00:49:07حالانکہ یہ سیدھا سیدھے الزام ہے
00:49:08حضرت عثمانِ غنی کے حوالے سے
00:49:09وہ تو اس وقت
00:49:10جہاں پر مفسد اور باغی لوگ آئے ہوئے تھے
00:49:12وہ تو ان کی حرکتیں تھیں
00:49:13وہاں اس وقت تو
00:49:14بنو عاشم مولا علی
00:49:15اور ان کے بیٹے تو حضرت عثمانِ غنی
00:49:16کے دفاع پر کھڑے تھے
00:49:17تو اب قریب تھا
00:49:19کہ دونوں طرف تلواریں نکل آئیں
00:49:20حضرت عبور اے رہے
00:49:21امام حسین کے پاس تشریف لے گئے
00:49:22ان کو سمجھاتے رہے
00:49:24عرض گزاریاں کرتے رہے
00:49:25یہاں تک کہ
00:49:26پھر یہ تنازہ جب بہت زیادہ بڑھ گیا
00:49:28تو بلا کر امام حسین نے
00:49:29وسیعت کے مطابق
00:49:30چونکہ امام حسین کی وسیعت تھی
00:49:31کہ بھئی لڑائی جگڑا نہیں کرنا
00:49:33تو ان کو جنت البقی کے اندر
00:49:34دفن کر دیا گیا
00:49:35اب ظلم دیکھیں
00:49:36بوس دیکھیں
00:49:37کہ
00:49:38روایت کے اندر آتا ہے
00:49:40کہ ایک بھی بن عمیہ کا بندہ
00:49:42امام حسین کے جنازے میں نہیں گیا
00:49:44سوائے
00:49:44خالد بن ولید بن اقبہ کے
00:49:46اور اس نے بھی بڑی زبردستی
00:49:47اجازت مانگی
00:49:48اور امام حسین کے ساتھ
00:49:49اس نے امام حسین کے جنازے میں
00:49:50شرکت کی اور کندہ دیا
00:49:51اور دوسرا بندہ
00:49:52جو اس وقت کا
00:49:53وہاں کا حاکم تھا
00:49:54سعید بن العاص
00:49:55تو اس نے
00:49:56وہاں شرکت کی
00:49:58تو یہ دو بندے بن عمیہ کے
00:49:59یعنی یہ مروان لانتی جو ہے
00:50:00وہ وہاں شریک نہیں ہوا
00:50:02نہ اس نے جنازہ پڑا
00:50:03اسی بات کو
00:50:05کہ بھئی اس مروان کی
00:50:05یہ ساری عرقتیں ہیں
00:50:06انوار الباری میں
00:50:07اللہمان ورشاہ کشمیری نے لکھا
00:50:08تہذیب القمال کے اندر
00:50:09اللہم مزی نے لکھا
00:50:10اور دیگر جناب
00:50:12اور بہت ساری تاریخ کی کتابوں میں
00:50:14کہ یہ اتنا بغزی تھا
00:50:15کہ اس نے مہم حسین کو
00:50:15وہاں دفن نہیں ہونے دیا
00:50:17اب یہاں پر کئی ناصبی عدرات
00:50:19یہ کہتے ہیں
00:50:19کہ نہیں ہوں تو حضرت سعیدہ
00:50:20عائشہ صدیقہ نے
00:50:21انکار کیا تھا
00:50:22دفن ہونے سے
00:50:23انہوں نے انکار کر دیا تھا
00:50:24کہ یہاں کسی کو دفن نہ کیا جائے
00:50:25حالانکہ بات یہ نہیں ہے
00:50:26سعیدہ نے پہلے اجازت دے دی
00:50:28انصاب الاشراف کے اندر
00:50:29علامہ بلازری لکھتے ہیں
00:50:30فَلَمْمَا رَاتْ آئِشَةُ السَّلَا
00:50:32وَرْرِجَال
00:50:33وَخَافَتْنَيَازِمَ الشَّرْء
00:50:34وَاِنَهُمْ
00:50:36وَتُسْوِقُدِّمَا
00:50:49سعیدہ عائشہ نے جب دیکھا
00:50:50میرا گھرے میں
00:50:50آپ کسی کو اجازت نہیں دوں گی
00:50:52تو آپ بتائیں
00:50:53یہاں واضح لکھا ہوا ہے
00:50:54کہ ان کی شرارت کے بعد
00:50:56ام المومنین نے
00:50:57پہلے اجازت دی تھی
00:50:58اور بعد میں آپ نے فرمایا
00:50:59کہ یہاں شرارت ہو رہی ہے
00:51:00اور ویسے بھی حضرت سعیدنا
00:51:01امام علی مقام امام حسین کو
00:51:03جو وسیعت ہی
00:51:04آپ نے اس وسیعت کے مطابق پھر
00:51:05اس شر کو بڑھایا نہیں
00:51:07فتنہ انگیزی سے
00:51:08بچتے ہوئے پھر آپ نے
00:51:09جناب ان کو
00:51:10امام حسین کو دفن کیا
00:51:11تو کہنے کا یہ مطلب ہے
00:51:12کہ یہ ہے
00:51:13وہ جس کو یہ صحابی کہہ رہے ہیں
00:51:14کہ جو اس قدر
00:51:15آلِ بیعت کا بوزی اور دشمن ہے
00:51:16اس قدر یہ شرارت اور
00:51:18خبیص قسم کا ظالم آدمی ہے
00:51:19پھر حضرت عثمان غنی کی شہادت
00:51:21اس بدبخت کی وجہ سے ہوئی
00:51:23امام ابن کثیر البدائیون نے آیا
00:51:24کہ اندر
00:51:24جیسے میں پہلے
00:51:25اوالہ دے چکا
00:51:26کہ وہ لکھتے ہیں
00:51:27کہ وہ مروانوں کا آنا
00:51:28اپر الاسبافی ہے سارِ عثمان
00:51:41اپنی طرف سے اس نے لکھ کر
00:51:42ایک فتنہ انگیزی کی
00:51:43جس کی وجہ سے
00:51:44حضرت عثمان کی شہادت ہوئی
00:51:45علامہ یوسف بن تغریب بردی
00:51:47یہ
00:51:49مولد اللطافہ فی من
00:51:50ولیہ سلطنتا والخلافہ
00:51:52اس کے اندر لکھتے ہیں
00:51:53کہ
00:51:54کانا ہوا من آزم الاسباب فی زبال دولت عثمان
00:51:57حضرت عثمان غنی کی شہادت
00:51:58یہ سب سے بڑا سبب تھا
00:52:00تاریخ الخمیس کے اندر شہر شیخ دیار بکری
00:52:02اور انوار البائی کے اندر
00:52:03اسی طرح علامہ تھانوی صاحب
00:52:04اور اسی طرح دیگر
00:52:06بہت سار عدیوبندی علماء نے لکھا ہے
00:52:08کہ مروان کی
00:52:09اصل وہ شخص تھا
00:52:10وہ بدبخت تھا
00:52:11جس کی بدبختی کی وجہ سے
00:52:12حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ہوئی
00:52:16اس کے علاوہ
00:52:17اس مروان
00:52:18بدبخت کی بڑی بدبختیاں ہیں
00:52:22حضرت ابو سیدن الخدری
00:52:23حضرت ابو ذرگ فاری
00:52:24سال بن ساد السادی
00:52:25ابو یوب بن ساری
00:52:26عسامہ بن زید
00:52:26حضرت ابو رہرہ جیسے
00:52:27صحابہ کی بینستی کرتا تھا
00:52:28مصند تیالسی
00:52:30صحیح ابن ابان
00:52:31تاریخ ابن ابی خیسمہ
00:52:32انصاب الاشراف
00:52:33اور دیگر کتب میں موجود ہے
00:52:34بڑے مقام پر
00:52:35ایک دن حضرت
00:52:35صحیح ابو یوب بن ساری حضور کے روزے پہ آئے
00:52:37تو ان کو اس نے
00:52:38بدتمیزی سے
00:52:39ان حضور کے روزے پر
00:52:41وہ پیار کر رہے تھے
00:52:42تو اس نے جڑک کے جناب
00:52:43ان کی بیتبی اور بدتمیزی کی
00:52:44اور ان کے گلے میں
00:52:45چدر ڈال کے جناب
00:52:46ان کو گردن سے پیچھے اٹھایا
00:52:48صحابی رسول حضرت دہاد بن
00:52:49قیس کرشی فاری
00:52:51اور حضرت نومان بن بشیر جیسے
00:52:52صحابہ کو اس بدبخت نے شہید کیا
00:52:54تہذیب الکمال کے اندر
00:52:55تاریخ الاسلام کے اندر
00:52:56رفضہ بھی
00:52:57اور اللہ صحابہ کے اندر
00:52:58یہ موجود ہے
00:52:58اسی طریقے سے
00:53:00حضرت عبداللہ بن زبیر
00:53:01صحابی رسول ہیں
00:53:01ان کے خلاف اس نے بغاوت کی
00:53:03اور خروج کیا
00:53:03اور یہ عام کتب سیرت
00:53:05تو تاریخ کے اندر
00:53:05واضح طور پر موجود ہے
00:53:07اور اسی طرح
00:53:08طبقات ابن سعد اور دیگر
00:53:09تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہے
00:53:11کہ واقعہ حرہ کے اندر
00:53:13مسلم بن اقبہ کی
00:53:14معاونت اور مخبری کرنے والا
00:53:16جاسوسی کرنے والا
00:53:16یہ بدبخت ہے
00:53:17جس کی وجہ سے وہ واقعہ حرہ
00:53:19جس میں
00:53:19ہزاروں صحابہ تابین
00:53:21تبہ تابین
00:53:21ان کی بیگمات
00:53:22اور ان کے بچے بچے شہید کیے گئے
00:53:23مدینہ منورہ کو پامال کیے گئے
00:53:25وہاں عورتوں سے بدکاریاں کی گئیں
00:53:26وہ ظلم ہے تاریخ کے اندر
00:53:28یہ واقعہ حرہ کے علمان والحفیظ
00:53:30اور اسی طرح یہ اتنا بغزی آدمی تھا
00:53:32کہ حضرت عثمان بن مزون
00:53:33رضی اللہ تعالی عنہ
00:53:34آپ کی قبر منور پر
00:53:35حضور نے ایک پتھر رکھا تھا
00:53:37نشانی کے طور پر
00:53:38کہ یہاں میری آل بیعت میں سے
00:53:40اگر کوئی بندہ فوت ہوگا
00:53:41تو وہ حضرت عثمان بن مزون سے
00:53:42بڑا پیار کرتے تھے وہ
00:53:43فرمایا میں اس کو یہاں دفن کروں گا
00:53:44تو اپنی خاندانی تاثب میں
00:53:46اس بدبخت نے
00:53:47وہاں وہ حضور کے آتوں کے
00:53:48رکھے ہوئے پتھر اور نشانی
00:53:50کو اٹھا کر پھینک دیا
00:53:51جب اسے کہا گیا
00:53:52خد بن میا کے لوگوں نے کہا
00:53:53کہ یہ تو رسول خدا نے ایسا کیا تھا
00:53:54تو اس کو واپس رکھ پتھر کو
00:53:56تو یہ کہنے لگا
00:53:56اللہ کی قسم میں ایک دفعہ
00:53:58جس پتھر کو کھار دوں میں
00:53:59واپس نہیں رکھتا
00:53:59الگرد یہ بہدب رسول بھی تھا یہ
00:54:03اور یوں ہی اس نے جناب عید کا
00:54:18اور اس کے لئے دیگر حدیث کی کتابوں میں
00:54:20بلکہ اس پہ تقریباً آل سنت کو اتفاق ہے
00:54:23کہ اس مروان نے جناب
00:54:24بدت سیئیہ کو شروع کی حضور کی سنت کو ترک کیا
00:54:27اور خطبہ عیدین کو اس نے نا مقدم کیا
00:54:30اور وہ وجہ کوئی خاص مجبوری
00:54:32یا وہ نہیں تھا
00:54:33بلکہ جیسے میں آپ کو پیچھے
00:54:34شارحین نے حدیث کے عوالے سے بیان کر چکا
00:54:36کہ یہ بدبخت
00:54:37اس نے اس وجہ سے وہ کیا
00:54:39کہ یہ خطبوں میں آل بیعت اطار پر
00:54:40لان تان کرتا تھا
00:54:42اس وجہ سے اس بدبخت کی
00:54:43اس بدبختی کی وجہ سے
00:54:45لوگ خطبہ نہیں سنتے تھے
00:54:46تو اس نے اس خطبے کوئی جو ہے نا وہ
00:54:47مقدم کر دیا
00:54:48پھر اسی طرح
00:54:49اس مروان بدبخت کی بدبختیوں میں سے
00:54:51عید بدبختی
00:54:52یہ ہے کہ یہ
00:54:53حضرت صحابی رسول حضرت تلہا
00:54:56رضی اللہ تعالیٰ بن عبید اللہ
00:54:58وہ جس کی شان میں
00:54:59درجنوں حدیث ہیں رسول اللہ کی
00:55:00جو اشرم بشرہ میں سے ایک ہیں
00:55:02جو جنگ اوہد کے ہیرو ہیں
00:55:04صحابی رسول ہیں
00:55:05تو جناب ان کا یہ قاتل ہے
00:55:07شیخِ عجلی متوفہ دوستو اکسٹھ اجری
00:55:10معرفت و سقات کے اندر لکھتے ہیں
00:55:11وَطَلْحَةُ وَزْزُبَیرْ لَمْ يَكْتُلْهُمَا صحابُ عَلِي
00:55:19یہ شیخِ عجلی کوفی لکھتے ہیں
00:55:21کہ تلہا اور زبیر
00:55:22ان کو مولا علی کے ساتھیوں میں سے
00:55:24کسی نے قتل نہیں کیا
00:55:25حضرت تلہا کو مروان بن حکم نے
00:55:26اور زبیر دلو تلانو کو جرموز نے قتل کیا
00:55:29جبکہ یہ جنگ سے واپس
00:55:30جنگ سے نکل چکے تھے
00:55:31امام ابن حبان کتاب السقات کے اندر لکھتے ہیں
00:55:34کہ وَأَمَّا تَلْحَةُ فَرَمَاهُ مَرْوَانُ
00:55:36ابن الحکم بے سامن میں ورائی
00:55:40یہ لکھتے ہیں کہ جناب حضرت تلہا کو
00:55:42مروان بن حکم نے پیچھے سے تیر مارا
00:55:44جس تیر پیوست ہو گیا
00:55:47ان کی جا کر گھٹنے میں لگا
00:55:48اور وہاں سے ان کی خون کی
00:55:50رکٹ گئی جو خون بیتا رہا
00:55:52حضرت سیدنا تلہا اس تیر کی وجہ سے شہید ہو گئے
00:55:55صحیح سنت کے ساتھ
00:55:56امام تبرانی یہ روایت دے کر آئیں
00:55:58اور امام حیسمی نے مجموع زوایت کے اندر لکھا ہے
00:56:01کہ رجالو رجالو صحیح
00:56:02یہ صحیح سنت کے راوی ہیں اس کے
00:56:13یہ لکھتے ہیں کہ میں نے مروان کو دیکھا
00:56:15راوی کہتا ہے کہ جب اس نے تلہا
00:56:17رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تیر مارا
00:56:19تو وہ تیر ان کے گھٹنے میں لگا
00:56:21اور گھٹنے کے اندر پیوست رہا
00:56:22اسی طرح آپ جو ہیں وہ شہید ہو گئے
00:56:32یہ تیر چلانے کے بعد
00:56:34یہ مروان نے کہا
00:56:35کہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف
00:56:37یہ معاونت کا بدلہ ہے
00:56:38یعنی اس ظالم نے ایک اور جرم یہ کیا
00:56:40کہ صحابی رسول حضرت اطلاع پر
00:56:42حضرت عثمان کی شادت کے الزام لگا کر کہا
00:56:44کہ گویا میں نے حضرت عثمان کی شادت کیسے بدلہ لی ہے
00:56:46آج کے بعد میں اور کسی سے بدلہ نہیں لوں گا
00:56:48یعنی کہ میں نے بدلہ لے لیا گویا
00:56:50کہ اس نے اپنی طرح سے
00:56:51حضرت عثمان گنی کے سب سے بڑے قاتل کو
00:56:54اپنی طرح سے قتل کر دیا
00:56:55امام حاکم نے یہی روایت
00:56:57اپنی سنت کے ساتھ المستدرک کے اندر ذکر کیے
00:56:59اور آف الزابی نے اس روایت کو صحیح کہا ہے
00:57:02اور امام یعقوب فسوی
00:57:04متوفا 273
00:57:06حجری نے المعرفت والتاریخ میں روایت کی ہے
00:57:08کہ انہ مروان ابن الحکم را آ فی الخیل
00:57:10فقال حازہ آانہ علا عثمان فرماؤ بسامن فی رکبتی
00:57:13فما زالت نمو یسیو حتہ ماتہ
00:57:15یہاں پر بھی یہ لکھتے ہیں
00:57:17کہ مروان نے گھر سواروں میں حضرت سیدنا
00:57:19طلعہ کو دیکھ لیا اور یہ کہہ کر کے
00:57:21یہ حضرت عثمان کا قاتل ہے
00:57:23اس نے ان کو تیر مارا اور جس کی وجہ سے آپ جنہیں شہید ہوگئے
00:57:25الاسابہ کے اندر امام اسکلانی
00:57:28انہوں نے
00:57:29اسی امام یعقوب بن سفیان کی سنت کو
00:57:31صحیح قرار دے کر انہوں نے اس روایت کو لکھا ہے
00:57:33امام ابن حجر اسکلانی نے اتحاف المعارہ کے اندر
00:57:36روایت نمبر
00:57:376650 کے اندر یہی باری باز روایت کی ہے
00:57:39کہ مروان نے حضرت سیدنا طلعہ کو شہید کیا
00:57:42شیخ علامہ ابن عبدالبر
00:57:43متوفہ 463 حجری
00:57:45آپ اپنی کتاب
00:57:46الاسطیعافی معارفت اللہ صاحب
00:57:47اس کے اندر جناب انہوں نے لکھا ہے
00:57:49کہ حضرت طلعہ وَأَنَّ الَّذِي رَمَاؤُ مَرْوَانُ
00:57:52ابن الحکم بِسْسَامِن فَقَتْلَو
00:57:53کہ حضرت سیدنا طلعہ رضی اللہ عنہ کو
00:57:56مروان بدبخت نے تیر مارا
00:57:58اور ان کو شہید کر دیا
00:57:59اور اسی طرح پھر اس نے یہ کہا
00:58:01کہ میں نے حضرت عثمان کا قتل کا بدلہ لے لیا ہے
00:58:05تو آگے یہ لکھتے ہیں
00:58:06علامہ شیخ ابن عبدالبر
00:58:07وَأَنَّ الَّذِي رَمَاؤُ مَرْوَانَ
00:58:10کہ اس پر تقریباً
00:58:13کسی عالم کو اختلاف ہے
00:58:14ہے ہی نہیں
00:58:15سکہ مضبوط علماء اس بات پر متفق ہیں
00:58:17کہ یہ مروان ہی ہے
00:58:18کہ جس نے حضرت طلعہ کو
00:58:19اس دن وہ شہید کیا
00:58:20حافظ شمس الدین زابی متوفہ
00:58:30کہ اس کے بڑے گندے کردار رہے ہیں
00:58:32اس مروان کے
00:58:33ہم اللہ تعالی سے
00:58:34امن اور سلامتی کی دعا مانگتے ہیں
00:58:35اس نے حضرت طلعہ کو تیر مارا
00:58:38اور ان کو شہید کیا
00:58:39اور اس کے اور جو حرکتیں ہیں
00:58:40بس وہ حرکتیں قابل بیان نہیں ہیں
00:58:41یہ دیکھیں
00:58:42حافظہ بھی یہ سا بندہ کیا کہہ رہا ہے
00:58:44حافظ ابن عجر اسکلانی فتول باری
00:58:46با فضائل طلعہ کے اندر لکھتے ہیں
00:58:47کہ حضرت طلعہ
00:58:48جمع جمل کو جنا قتل کیے گئے
00:59:03تو حافظ ابن عجر لکھتے ہیں
00:59:05کہ ایک طلعہ کے کثیر سے
00:59:08یہ روایت آئی ہے
00:59:09کہ مروان بن حکم نے ہی
00:59:10آپ کو تیر مارا
00:59:11جو آپ کے گھٹنے میں لگا
00:59:12جس سے آپ جو انہا وہ شہید ہو گئے
00:59:14امام ابن سعد
00:59:15اتب قاتل قریب قبیر کے اندر
00:59:17صحیح سنت کے ساتھ روایت کرتے ہیں
00:59:18کہ جس کے اندر مروان
00:59:19خود قتل کا اعتراف کرتا ہے
00:59:27کہ مروان جو انہا حضرت طلعہ
00:59:29رضی اللہ عنہ ان کے حائل ہوا
00:59:31اور جس وقت لوگ گتم گتا ہوئے
00:59:33تو اس نے جناب
00:59:34حضرت طلعہ کو شہید کیا
00:59:36تو عبد الملک بن مروان نے کہا
00:59:41اگر میرے باپ
00:59:42امیر المومنین مروان
00:59:43مجھے یہ خبر نہ دیتا
00:59:44کہ وہی بند ہے
00:59:47جس نے خود حضرت طلعہ کو قتل کیا
00:59:48تو میں طلعہ کے بیٹوں میں سے کسی ایک کو بھی نہ چھوڑتا
00:59:51کہ میں اس کو حضرت عثمان کے قتل کے بدلے قتل کرتا
00:59:53حالانکہ یہ جھوٹ ہے
00:59:54کہ حضرت طلعہ کا کسی قسم کا کردہ تھا
00:59:56حضرت عثمان کی شہادت میں
00:59:57یہ ان بدبختوں کا خود گڑا ہوا ہے
00:59:59جانا وہ فساد اور فراد تھا
01:00:01تو یہاں پر اس کا بیٹا خود گوائی دیرہ ہے
01:00:03صحیح سند کے ساتھ یہ روایت ہے
01:00:05کہ مروان نے خود اعتراف کیا
01:00:06کہ اس نے حضرت طلعہ کو شہید کیا
01:00:08امام ابن حجر اسکلانی علیہ السابہ
01:00:09فی تمیز سابہ میں
01:00:10صحیح کا دعویٰ کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں
01:00:12کہ جناب حضرت طلعہ کو مروان نے شہید کیا
01:00:15امام ابن ساکر نے متعدد ترک کے ساتھ روایت کیا
01:00:18تاریخ دمشق میں
01:00:19کہ مروان نے حضرت طلعہ کو شہید کیا
01:00:21اسی طرح امام ابو القاسم بغوی نے
01:00:22صحیح سند کے ساتھ روایت کیا
01:00:24کہ مروان نے حضرت طلعہ کو شہید کیا
01:00:26علامہ طبرین یا ریاض النظرہ کے اندر
01:00:28علامان ورشاہ کشمیری انوار البھائی
01:00:29شرح سی بخائی کے اندر
01:00:31یہ جناب لکھتے ہیں
01:00:33کہ قاتل حضرت طلعہ جو ہے
01:00:35یہ مروان ہی ہے
01:00:36اب یہ مروان حضرت طلعہ کا قاتل ہے
01:00:38اس پر تقریبا تقریبا آل سنت کے علماء کا
01:00:42سکہ لوگوں کا اجماع ہے
01:00:43تمام لوگ یہی کہتے ہیں
01:00:45کہ مروان بدبخت نے یہ حضرت طلعہ کو شہید کیا
01:00:48اب دیکھتے ہیں کہ اس کی حیثیت کیا ہے
01:00:49تو تبقات القبرہ کے اندر ہیں
01:00:51آفز سعید نے
01:00:53اور آفز زابی تاریخ الاسلام کے اندر
01:00:55سیر الامن وبلہ کے اندر
01:00:56آفز زابی لے کر ہیں
01:00:57اکمال و تحذیب الکمال کے اندر
01:00:58آفز مغلطائی
01:00:59یہ روایت لے کر آئے ہیں
01:01:01صحیح سنت کے ساتھ
01:01:03سنت اس کی صحیح ہے
01:01:04جا رجل یومل جمل
01:01:05جوم جمل کو ایک بندہ آیا
01:01:06اس نے آ کر
01:01:07کہا جی کہ
01:01:08طلعہ کے قاتل کو اجازت دو
01:01:10تو آگے سے انہیں کہا گیا
01:01:11فَسَمِتُ عَلِيَنِ يَقُولُو
01:01:13بَشِّرُ بِن نَار
01:01:14مولا علی نے جب یہ سنا
01:01:14تو آپ نے فرمایا
01:01:15اس کو جہنم کی آگ کی بشارت دے دو
01:01:19اسی طرح کی روایت
01:01:19حضرت سیدنا علی المرتضاء سے
01:01:21حضرت زبیر کے قاتل کے لیے بھی ہے
01:01:22کہ آپ نے جب سنا
01:01:23کہ زبیر کا بندے نے کہا
01:01:24میں زبیر کا قاتل ہوں
01:01:25تو حضرت علی المرتضاء کررم
01:01:26اللہ تعالی و جل کریم نے فرمایا
01:01:27کہ اس کو جناب جہنم کی بشارت دے دو
01:01:30اب یہ ہے قاتل تلع
01:01:33مروان
01:01:34جس کو حضرت سیدنا مولا علی نے
01:01:36جہنم کی بشارت دی
01:01:37اور مروان نے اس قتل سے توبہ بھی نہیں کی
01:01:40بلکہ برابر اس بات پر فخر کرتا رہا
01:01:42تو اس لیے
01:01:44حافظ زبیر علامن و بلا کے اندر لکھتے ہیں
01:01:46کہ قتل تلع کا جو معاملہ ہے نا
01:01:49وہ لکھتے ہیں کہ جتنا گناہ
01:01:51حضرت علی کا قاتل گناہگار ابن ملجے میں
01:01:53اتنا ہی بڑا گناہگار
01:01:54حضرت سیدنا تلع کا قاتل ہے
01:01:56اور وہ تلع کا قاتل کون ہے وہ مروان ہے
01:01:59تو یہ ہے جناب آپ کا مروان
01:02:01یہ ہے وہ بندہ
01:02:02جس کے لیے کہا گیا
01:02:03کہ یہ سابیہ اور یہ راویہ بخاریہ
01:02:06اور میں یہ بھی بات کرتا چلوں
01:02:07کیا یہ جو کرتود بیان ہوئے ہیں
01:02:09یہ ساباہ ایسے کرتود کرتے ہیں
01:02:11اور پھر جب سارے اتفاق سے کہہ رہے ہیں
01:02:13کہ یہ بدبخت ہے
01:02:14کہ کوئی اس کو ظالم فاسق جابر منافق کہہ رہا ہے
01:02:16تو پھر ذرا لگائیے فتوہ
01:02:17ان کو اس لانتی کو لانتی شیطان اور منافق کہنے والوں کیوں پر
01:02:21کہ وہ ساباہ کو یہ کہہ رہے ہیں
01:02:22میں اتنا ہی کہنا چاہوں گا
01:02:24اگر میری ذات سے تمہیں ظالموں بدبختوں
01:02:26اگر تمہیں میری ذات سے کوئی چڑے
01:02:28تو کم از کم آلِ بیتِ اتھار کے بغض میں
01:02:30تم ان کے قاتلوں اور
01:02:32ازلی بدبختوں کی آیت میں کھڑے نہ ہو جاؤ
01:02:34کل قیامت والے دن
01:02:35تم نے جنت کے والیوں کا سامنا کرنا ہے
01:02:36کل رسولِ خدا کے سامنے جاننا ہے
01:02:38حضرت طلعہ زبیر
01:02:39حضرت مولا علی
01:02:40حضرت اسنین کریمین
01:02:41حضرت سیدنا طلعہ
01:02:44حضرت ابو رہرہ
01:02:45اور وہ صحابہ مظلوم صحابہ
01:02:47ان کے سامنے تم نے جاننا ہے
01:02:48تمہارا عجیب و غریب دعوی ہے
01:02:49کہ تم صحابہ کے غلام ہو
01:02:50اگر صحابہ کے غلام ہو
01:02:52تو اتنے بڑے بدبخت
01:02:53جس نے صحابہ کے ساتھ
01:02:54اتنے بڑے ظلم کیے
01:02:54حضرت اسامہ بن زید کو
01:02:56گالیاں دیتا رہا
01:02:57کئی اس کے کہانیاں اور کسیں ہیں
01:02:59تاریخ پوری کے اس بدبخت
01:03:01بدبختیوں کے پورا ریجسٹر ہے
01:03:02جس کی وجہ سے لوگ
01:03:04اس کے ساتھ نفرت کرتے رہے ہیں
01:03:05اور ہم اپنے بزرگوں کی
01:03:06ان پرانے لوگوں کی اقتدامیں
01:03:08ہم بھی اس بدبخت سے نفرت کر رہے ہیں
01:03:10ہمارے حال حضرت فاضل ابو ریلوی نے
01:03:11اپنی تصانیف کے اندر
01:03:13اس کا ذکر اچھے الفاظ سے
01:03:14بلکل نہیں کیا
01:03:14بلکہ اس پر جگہ جگہ
01:03:16آپ نے چھوٹیں کی ہیں
01:03:17اسی طرح ہمارے بزرگوں میں
01:03:18حضرت علامہ
01:03:20نعیم الدین مراد آبادی
01:03:21اسی طرح علامہ
01:03:23احمدی آرخان نعیمی
01:03:24اور دیگر جو ہمارے
01:03:25لکھنے والے آل سنت کے علماء ہیں
01:03:27انہوں نے بھی اس کا
01:03:28برپور انداز سے رد کیا
01:03:29اور اس کی مضمت کی
01:03:30اور اس ظالم نے
01:03:31جو کچھ علی بیت اتحار کے ساتھ
01:03:33باقی فضل کے معاملے میں کیا
01:03:34باقی کیا
01:03:35وہ ایک پوری تاریخ ہے
01:03:36تو چلیں پھر جو لوگ
01:03:37مروان مروان کرتے ہیں
01:03:39تو پھر ہم دعا کرتے ہیں
01:03:40آئیں آپ آمین کہہ دیں
01:03:41کہ اللہ تعالیٰ
01:03:42آپ کا خاتمہ مروان کے ساتھ کرے
01:03:43یزید کے ساتھ کرے
01:03:45اور ابن زیاد کے ساتھ کرے
01:03:46خولی اور شمر کے ساتھ کرے
01:03:48اور اللہ تعالیٰ ہمارا خاتمہ
01:03:49مولا علی کے ساتھ کرے
01:03:50حضرت تعالیٰ کے ساتھ کرے
01:03:51حضرت زبیر کے ساتھ کرے
01:03:52حضرت اسنین کریمہین کے ساتھ کرے
01:03:54حضرت ابو رہرہ کے ساتھ کرے
01:03:56حضرت ابو عیوب انساری کے ساتھ کرے
01:03:57اللہ تعالی ہمارا خاتمہ صحابہ کے ساتھ کرے
01:04:00تو میں یہ جو رٹا رٹایا
01:04:01کیا جا رہا کہا جا رہا ہے
01:04:03کہ امام بخاری کے راوی کی اوپر رگڑا دے دیا
01:04:05تو پھر میرا یہی سوال آپ پہ ہے
01:04:06کہ کیا کہیں گے ان محدثین کو
01:04:08علامہ اسماعیلی
01:04:09انہوں نے یہاں پر بڑا سخت تنقید کی ہے
01:04:13امام بخاری پر
01:04:14کہ انہوں نے ایسے راوی کو
01:04:15اپنا رجال میں سے کیسے رکھ لی ہے
01:04:18بہرحال امام بخاری کے
01:04:19ہم نہیں کہتے ہیں کہ انہوں نے جان بوجھ کر
01:04:21ممکن ہے کہ ان سے اس کے حوال پوشیدہ ہوں
01:04:23تو اس حوالے سے ایسا ہو سکتا ہے
01:04:26یا کئی اور وجوہات بھی ہو سکتی ہیں
01:04:27اور ایسا ہے امام بخاری رحمت اللہ تعالیٰ علیہ نے
01:04:30اگر کوئی روایتیں اس سے لی بھی ہیں
01:04:31تو وہ رسول اللہ کی حدیثیں نہیں ہیں
01:04:33بلکہ کچھ مشاہدیں ہیں کئی بزرگوں کے
01:04:35جن کا جس نے
01:04:37جو اس کی روایت میں آیا ہے
01:04:38لیکن امام بخاری کی روایتیں راویوں میں تو
01:04:41ایک سو چودہ راوی ایسے ہیں
01:04:42جن کے اندر جبری ہیں قدری ہیں جامی ہیں
01:04:45رافضی ہیں شیعہ ہیں
01:04:46تو کیا بخاری کا راوی ہونے کی وجہ سے
01:04:49ہم ان کو چھوڑ دیں
01:04:49پھر حریز بن عثمان جیسے لوگ ہیں
01:04:51جو صبح و شام نماز کے ساتھ مولا علیہ پر لعنت بیٹے تھے
01:04:54تو کیا آمن کے لیے بھی رحمت اللہ پڑھنے لگ جائے
01:04:56کہ یہ امام بخاری کے راوی ہیں
01:05:06اس لیے بالکل یہ بدبخت آدمی ہے
01:05:09اور اگر میں ان لوگوں سے کہوں گا
01:05:11جنہیں میری ذات سے چڑے
01:05:12خدا کا خوف کریں
01:05:13میری ذات سے جو مرضی کریں
01:05:15کم از کم آلِ بیت کے قاتلوں کی معیت نہ کریں
01:05:17اللہ تعالی ہم سب کا
01:05:19ہم سب کا حامی و ناصر ہو
01:05:20واللہ تعالی ہمیں جادے
01:05:23مستقیم پر گامزن فرمائے
01:05:24والسلام علیکم
01:05:25آج کے لیے یہ اتنا ہی ہے
01:05:28مزید انشاءاللہ اس سلسلے میں آگے کچھ چیزیں عزت کروں گا
01:05:30والسلام علیکم ورحمت
Comments