Skip to playerSkip to main content
Sarkari Mulazim ki Tankha Aur Ghareeb Mazdoor Ki Tankha...😳😳

#YasirShami #MinistryFinance #PakistanCivilServents #LabourSalries #Budget2026

Category

📚
Learning
Transcript
00:00Pakistan has a few
00:021.5 crore rupees
00:05PAKAVIT investment company
00:07MD's
00:08and PAKAVIT investment company
00:21MD's
00:22ڈی محانہ تنخواہ ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ چوراسی ہزار روپے ہے اور پاک ایران انویسٹمنٹ کمپنی کے ایم ڈی کی
00:29تنخواہ ستانوے لاکھ سولہ ہزار روپے ہے یہ تمام کی تمام انویسٹمنٹ کمپنیاں ہیں پاکستان میں یہ لوگ کتنی انویسٹمنٹ
00:35لے کر آ رہے ہیں اور کتنا کام کر رہے ہیں یہ سب آپ کے سامنے ہیں
00:40ان کی یہ جو تنخواہوں کے فگرز ہیں یہ میں نہیں دے رہا یہ وزارتیں خزانہ دے رہی ہے اس
00:45کے مطابق نیشنل بینک کے پریزیڈنٹ کی مہانہ تنخواہ نبے لاکھ روپے ہے پاک لیڈیا ہولڈنگ کمپنی لیمیٹڈ کے ایم
00:52ڈی کی تنخواہ اٹھاسی لاکھ سترہ ہزار روپے ہے جبکہ ذرائی ترقیاتی بینک کے صدر کی تنخواہ چون لاکھ روپے
00:59ہے
00:59اب اندازہ لگائیے یہ تمام کے تمام مالیاتی ادارے ہیں اور انویسٹر پاکستان سے بھاگ رہا ہے انویسٹمنٹ وہ کرنے
01:05ہی رات اور ان کی جو تنخواہیں ہیں نا ہر مہینے تھک کر کے ان کے اکاؤنٹ میں لگ جاتی
01:09ہیں اور مرات ابھی اس سے الگ ہیں
01:13آگے آگے سنتے جائیے شرماتے جائیے وزارت خزانہ کی ریپورٹ کے مطابق پرال کے سی او کی تنخواہ
01:18وامل لاکھ جبکہ صدر اگزم بینک کی مہانہ تنخواہ تقریباً پچاس لاکھ روپے کے قریب ہے
01:24گورنر سٹیٹمنٹ منتھلی کتنی سیلری لے رہا ہے جناب وہ چالیس لاکھ روپے ہے
01:29پاکستان سنگل وینڈو کے سی او کی تنخواہ کتنی ہے جناب چھبیس لاکھ
01:32پسٹ بیمن بینک کے پریزننٹ کی تنخواہ بائیس لاکھ روپے ہے
01:36اور وزارت خزانہ کی ریپورٹ کے مطابق چیئرمین سی سی پی کی تنخواہ صرف اور صرف گیارہ لاکھ روپے ہے
01:42اب ہر بندہ اگر دونوں ہاتھوں سے گنگا کو لوٹ رہا ہے تو قومی اسمبلی کے ممران اور سینیٹرز کیوں
01:47پیسے رہیں
01:47ایمینے اور سینیٹر کی مہانہ تنخواہ دقریباً پانچ لاکھ انیس ہزار کے قریب بنتی ہے
01:52اس میں ابھی مراد، ٹی اے ڈی اے، بیرون ممالک کے سفر، علاج، ان کو ملنے والی لگزری، گاڑیاں، کافلے،
01:59دو دو چار چار کنال کے بڑے بڑے گھر، خان سامے، باور چیف، سیکیورٹی، ڈرائیور، الیکٹریشن
02:06لائک میں بولتا جاؤں گا بولتا جاؤں گا وہ بالکل الگ ہیں
02:11دو ہزار چوبیس کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک سوبے کا آئی جی
02:14تقریباً آٹھ لاکھ چوالیس ہزار سے زائد تنخواہ لے رہا ہے
02:17جبکہ ہیمانے صدر میں ایک افسر تائنات ہے جس کی تنخواہ پندرہ لاکھ نوے ہزار چھ سو چونتیس روپے
02:24مہانہ ہے جناب مہانہ پنجاب اسمبلی کے ایک ایم پی اے کی تنخواہ چار لاکھ روپے ہے
02:29اور جو منسٹر حضرات ہیں وہ چھ لاکھ نوے ہزار روپے لیتے ہیں
02:32سپیکر کی تنخواہ سارے نو لاکھ روپے ہے
02:40جبکہ جو سی ایم کے مشیر اور معاونین خصوصی ہیں ان کی تنخواہیں بھی چھ لاکھ پین سٹھ ہزار روپے
02:46کے قریب قریب ہیں
02:47اگین ان میں ان کا ٹی اے ڈی اور باقی سہولیات انکلوڈڈ نہیں ہیں
02:51امام کے یہ تمام منتخب نمائندے اپنی مرات اور تنخواہیں ٹائم پر لے رہے ہیں
02:55لیکن اپنے حلقوں میں کئی کئی دن ہو گئے ہیں آتے ہی نہیں
02:58ان سب کو بلو پاسپورٹ ملتے ہیں
03:00اس کے بعد یہ اپنی فیملیز کے لیے بلو پاسپورٹ لینے کی کوشش کرتے ہیں
03:03اس کے بعد جب پاکستان پر برا وقت آتا ہے
03:05قریب آدمی جو ہے وہ مرتا ہے پستا ہے یہاں پر
03:08یہ لوگ بلو پاسپورٹ وہاں جا کر سرنڈر کر دیتے ہیں
03:10اور وہاں پر سیاسی پناہ لے لیتے ہیں
03:12اس کی ایک تازہ مثال اکبال افریدی جو پی ٹی آئی کے تھے
03:15ان کے صاحبزادے نے بلو پاسپورٹ نکلوایا
03:17اٹلی میں جا کر اس بلو پاسپورٹ کو سرنڈر کر دیا
03:20اور وہاں پر سیاسی پناہ لے لی
03:21ان لوگوں کا پاکستان میں کچھ ٹیک ہے ہی نہیں
03:23یہ تو پاکستان میں آورسیز ہیں
03:24کوئی کینیڈین آورسیز ہے
03:26کوئی بریٹش آورسیز ہے
03:27کوئی یورپین آورسیز ہے
03:28پاکستان تو صرف وہ دیاری لگانے آتے ہیں
03:30اس کو لوٹنے کے لیے آتے ہیں
03:31اور یہاں خزانہ خالی کرنے کے بعد
03:33اپنے ابائی وطنوں میں لوڑ جاتے ہیں
03:35اور پیچھے آئی ایم ایف کے بوش تلے
03:37کرزوں تلے
03:37پاکستانی غریب امام ٹیکس
03:39دے دے کر ان کا بھرکس نکل جاتا ہے
03:42اب لوٹنے والے یہ ہیں
03:44میشیت کس نے جلانی ہے
03:45وہ شخص جو بہرین
03:46سعودی عرب
03:47دبائی
03:48امارات
03:49یا دوسرے تپتے ہوئے سہراؤں کی
03:51چل ملاتی ہوئی گربی
03:52اور 50 ڈگری سینٹی گریڈ میں
03:54زمین میں گڑے ہوئے
03:568-8 میٹر
03:57گہرے گڑوں میں سے
03:58مٹی نگالتے ہیں
03:59وہ مزدور طبقہ
04:00جو 1000-15-1500 ریال
04:02پاکستان میں بھیجتا ہے
04:03اور اس ریمیٹنس کی صورت میں
04:05پاکستان چل رہا ہے
04:06لیکن یہ جو بابو ہیں
04:07elected members ہیں
04:08ان کو کسی قسم کو
04:09کوئی فرق نہیں پڑتا
04:10ان کو تنخواہیں چاہیے
04:11TADA چاہیے
04:12بچوں کی nationalities چاہیے
04:14ان کے بچے بھی بیرونے
04:15ممالک میں پڑھ رہے ہیں
04:16اور پاکستان کی جو
04:17سرکاری تعلیمات ہیں
04:18وہ ساری آپ کے سامنے ہیں
04:19غریب کا بچہ
04:20اگر پڑھ بھی جائے گا
04:21تو اس کو جوت کہاں ملے گئے
04:22اور اگر وہ بیمار ہو جائے گا
04:23اس کو تو
04:24ہسپتال میں کوئی پوچھے گئے نہیں
04:25کیونکہ
04:25پرانوں کی پیرورٹیز میں
04:27یہ تعلیم اور صحت تو ہے ہی نہیں
04:28یہی وجہ ہے کہ
04:29دنیا کی پرسنٹیز
04:30تعلیم اور صحت پر
04:31اتنی ہے
04:31کہ آپ ترقی آفتہ ممالک میں جائیں
04:33بچے فری پڑھتے ہیں
04:34لیکن یہاں پر
04:35تعلیم اور صحت کے بجٹ ہی نہیں
04:36نہ ہونے کے برابنہ
04:37کم ہی کیے ہیں
04:38اور اس چیز کا کھلا دوزاد یہ دیکھئے
04:40کہ دو ہزار پچیس ہبیس کے بجٹ میں
04:41مزدور کی تنخواہ
04:42اٹھتیس ہزار روپے صرف رکھی گئی ہے
04:44کہاں ان کی کروڑوں لاکھوں کی تنخواہ ہیں
04:46اور کہاں اس بچارے کی اٹھتیس ہزار
04:48جو کہ اس کو اٹھتیس ہزار ملتی بھی نہیں ہے
04:50آپ کسی بھی پرائیوٹ کمپنی میں چل جائیں
04:51جو بچارے سیلز مین ہیں
04:53وہ اٹھارہ ہزار کو
04:53بائیس ہزار کو
04:54پچیس ہزار پر کام کر رہا ہے
04:55اور اتنے کا ان کا پیٹرل لگ جاتا ہے
04:57آج کے دور میں
04:58اگر اٹھتیس ہزار روپے دے بھی
04:59تو کسی فیملی کا گزارہ ہو سکتا ہے
05:01اس کا جواب ہے نہیں
05:04فچھلے دو سالوں میں
05:05ستائیس سو ارب روپے
05:07حکومت نے لیوی کی مد میں
05:09عام عوام کی جیب سے نکال لی ہیں
05:11کیوں نکال لی ہیں
05:11ان بابوں کو تنخواہیں دینی ہے
05:13ڈیڈ ڈیڈ ڈیڈ کروڑ روپے
05:14جنہوں نے اپنے تھنڈے آفیسز میں بیٹھ کر
05:16خلم چلانے آئے
05:17اور کوئی انویسمنٹ کے نام پر
05:19ڈیڈ کروڑ لے رہا ہے
05:20کوئی بینکنگ کے پریزیڈنٹ کے طور پر
05:21جو ہے وہ ایک کروڑ روپے لے رہا ہے
05:23کوئی اگر منتخب نمائندہ بن گیا
05:25دوارے نے آرہے ہیں
05:25پھر اس میں ڈیڈ ڈیڈ ڈیڈ ڈنخواہیں مراد
05:27ان سب کی مد میں کروڑ روپے لینے
05:29آپ کی میرے ٹیکسز کے پیسے سے
05:30آئی ایم ایف سے ہم نے
05:31ٹائی سو ارب روپے لیا ہے
05:33اور لیوی کی مد میں کتنے پیسے ہی کٹے کی ہیں
05:35ستائی سو ارب روپے
05:36تو یہ آئی ایم ایف کے کرزے
05:37اور ان کے سود کے پیسے
05:38کہاں سے کٹے ہو رہے ہیں
05:39یہ عام عوام کی جیب میں سے
05:41اب ان بابوں کے
05:41بڑے بڑے بیس بیس گاڑیوں کے
05:43کافلے اور عوام کو کہا جاتے
05:44کہ آپ لوگ جو ہے نا
05:45خوکے فائش شہری کریں
05:46بجہ ڈانے مالا ہے
05:47قربانی ہوگی ہے
05:48قربانی کے بعد
05:48بڑی قربانی کے لیے
05:49آپ سب لوگ تہیہ آ رہے ہیں
05:50اللہ حافظ
Comments

Recommended