Skip to playerSkip to main content
  • 7 minutes ago
K.G.N Welfare Trust Ijtemai Qurbani 2026 | Booking Open | Cow & Goat Qurbani Details | ARY Qtv

K.G.N Welfare Trust ki taraf se Ijtemai Qurbani 2026 ki booking ka aaghaz ho chuka hai. Is program mein aap asani se apni Qurbani Book kar sakte hain aur mustahiq logon tak gosht pohanchane ka Zariya ban sakte hain.

💰 Rates:
• Cow (Share): Rs. 20,000
• Goat: Rs. 36,000

🏦 Bank Details:
United Bank Limited (UBL)
Account Title: Khawaja Gharib Nawaz Welfare Trust
Branch: S.I.T.E Branch
Account No: 010-4843-0
IBAN: PK04UNIL0112007101048430

📞 Booking & Contact:
+92-333-1192023
+92-333-1192022
+92-21-32728765
Transcript
00:00ڈیرے کے لیے قربانی ہے یہ رب کے لیے
00:08اسلام علیکم موزز خواتین وزرات میں آپ کو مذبان علی رضا اور آپ تمام
00:14تمام جتنے موزز خواتین وزرات ہیں جتنی ہماری ماں بہنے بیٹیاں بزرگ
00:20ہمارے دوست احباب جو جو یہ ٹیلیویشن کی سکرین پر ہماری ان نشریات
00:25کو دیکھ رہے ہیں آپ سب کو خوش آمدید خواجہ غریب نباز ویل فیر ٹرسٹ
00:30کی جانب سے اور خواجہ غریب نباز ویل فیر ٹرسٹ کی جانب سے ناظرین
00:35یہ ہماری ٹیلیتھون ہے یعنی ہماری براہراس نشریات ہیں اور دنیا
00:43بھر کے تمام لوگوں کے لیے ان نشریات کا اجراح ہو رہا ہے ان نشریات کا
00:48مقصد مطلب جو ہے وہ یہ ہے کہ ہم آنے والے عیدالعظہ پر اجتماعی
00:57قرمانیوں کے سلسلے میں جو آپ کو تمام احباب کو تمام دوستوں کو بار
01:02بار بتایا جا رہا ہے یاد دلایا جا رہا ہے اور ان ٹرانسویشنز کے
01:08ناتے بھی ہم یاد دلا رہے ہیں کہ خواجہ غریب نباز ویل فیر ٹرسٹ کے
01:13جانب سے عیدالعظہ کے پہلے دوسرے اور تیسرے دن ہونے والے اجتماعی
01:18قربانیوں کے سلسلے میں جو احتمام کیجین نے کیا ہے اس احتمام کو
01:27مزید پائے تکمیل تک مہچانے کے لیے آپ تمام موزز خواتین وزارات
01:31سے گزارش ہے کہ آپ اپنی جانب سے اگر قربانیاں اپنے وطن میں کرتے ہیں
01:38اپنے اہل خانہ کے ساتھ کرتے ہیں تو ضرور کیجئے پرورتگار آپ کو
01:42ہمیشہ یہ نصیب فرمائے کہ آپ ان قربانیوں کو جاری اور ساری
01:46رکھیں لیکن ان قربانیوں کے ساتھ اگر آپ صاحب حیثیت ہیں صاحب
01:51سروت ہیں پرورتگار نے آپ کو رسک روزی میں مالا مال کیا ہے تو آپ
01:56کو یہ ضرور چاہیے کہ غریبوں کی فلاو بہبوت کے لیے خواجہ غریب
02:01نباز ویل فیر ٹرسٹ کی ان اجتماعی قربانیوں میں اپنی جانب سے
02:05زبیح جانور ضرور شامل کریں یا حصہ لے لیں یا جانور آہ خرید
02:12کر آپ وقف کر دیجئے ان غریبوں کے نام کہ جن غریبوں کے لیے
02:19کیجئے یہ احتمام کرتا ہے ناظرین یہ وہ لوگ ہیں کہ جو سال کے گیارہ
02:24مہینے گوشت کھاتے ہی نہیں ہیں استعمال ہی نہیں کرتے اور کیوں
02:31نہیں کرتے اس لیے نہیں کرتے کہ میسر نہیں ہے میسر کیوں نہیں
02:35ہے کہ حالات ایسے ہیں زندگی زندگی کی آتی جاتی سانسیں ہی مشکل
02:43سے ان کے پاس آتی ہیں یہ زندگی کی رانائیاں ان کے قریب بنی جاتی
02:51وہ غریب وہ مجبور بے بس ہلا چار لوگ کہ جن کی زندگیاں غربت
02:58کے چوکھٹ سے لپٹی ہوئی ہیں اور یہی لوگ اللہ کے وہ بندے ہیں
03:08کہ جنہیں انتظار رہتا ہے آپ تمام موزز خواتین حضرات کی جانب سے
03:12امداد کا اور ہم خوالہ غریب نواز بیل فیٹرسٹ کی جانب سے یہ
03:16بار بار کوشش کاوش جستجو لگن کرتے ہیں کہ کسی بھی صورت کسی بھی
03:21طرح ان کی مدد ان کی دلجوئی کی جاتی رہے اب دیکھئے ناظرین عید میں
03:27بس اب ایک ایک دن بیچ میں باقی رہ کیا ہے یا دو دن ہم چاہتے ہیں
03:34کہ زیادہ زیادہ آپ تمام موزز خواتین حضرات کی جانب سے آنے والی
03:39ڈونیشنز اور آنے والے قربانیوں کے جانور یا ان کے حصے آپ خرید
03:47فرمائیں وہ بھی ٹیلی فون کال کرناتے یعنی آپ کے ٹیلی ویژن کے سکرین
03:52پر جو ٹیلی فون نمبرز ہمارے آ رہے ہیں ان نمبرز میں ہمارے کنٹرول
03:58کا نمبر بھی ہے ہمارے سٹوڈیوز کا نمبر بھی ہے ہمارے دوسرے اور نمبرز
04:02بھی موجود ہیں ہمارے خوالہ غریب نواز بیل فیٹرسٹ کی تمام بینک ڈیٹیلز آپ کے سامنے
04:11آ رہی ہیں آپ جہاں جس لمحے چاہیں وہاں پر آپ اپنا ڈونیشن بھیج
04:15سکتے ہیں اپنی جانب سے اجتماعی قربانیوں کا سلسلہ جو ہو رہا ہے
04:20کراچی میں اس اجتماعی قربانی میں آپ اپنی جانب سے بھی حصہ یا
04:30یا اپنا زمیحہ پیش کر سکتے ہیں ناظرین ایک بات ہم یاد دلاتے چلے
04:36آپ کو کہ دیکھئے یہ سلسلے جو ہیں سال کے بارہ مہینے کے نہیں ہیں
04:43بلکہ یہ عید بخرید کے قریب پہ یہ سلسلے جاری رہتے ہیں اور ہم ان
04:49سلسلوں کا احتمام کرتے بھی اسی لیے ہیں کہ غریبوں کی مدد کا یہ
04:54سامان موہیہ ہوتا چلا چاہے ہم آپ کو یہ ضرور بتائیں گے باور کراتے ہیں
05:00یاد دلاتے ہیں کہ آپ ہمیں ٹیلی فون کیجئے ٹیلی فون نمبرز ہمارے کھلے
05:04ہوئے ہیں آپ ہمارے کنٹرول پر فون کیجئے ہمارے اسٹوڈیوز میں ڈائریکٹ
05:08فون کر سکتے ہیں آپ مجھے ڈائریکٹ بتا سکتے ہیں کہ آپ کس طرح غریبوں کی
05:15مدد میں شامل ہوں گے خواجہ غریب نباز ویل فیر ٹرسٹ کی اس ٹیلی
05:21تھون میں ان براہراز نشریات میں ہم آپ تمام دوستوں کو یہ ملواتے چلیں
05:27کہ ہمارے ساتھ موجود ہیں علامہ امیر حمزہ صاحب آپ صاحب علم ہیں اور
05:34علمی شخصیت ہیں اور اسی وجہ سے انہیں یہاں پر بار بار مدود کیا
05:40چاہتا ہے حضرت آپ کیسے ہیں آپ کیا فرماتے ہیں آپ کیا فرماتے ہیں
05:47زندگی کیسی جا رہی ہے آپ کی جی الحمدللہ اللہ پاک کا احسان ہے
05:53اللہ کریم اپنے خیر و آفیت میں رکھے اور زندگی کو زندگی سمجھ کے
05:59رسول کی گزرتی جائے اور ان کے ساتھ ساتھ ناظرین محترم ہمارے پاس
06:07عطی خسینی صاحب موجود ہیں عطی خسینی صاحب سنہ خان سرکار دوالم
06:13صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں عطی بھئیہ کیسے ہیں آپ
06:17آپ کی زندگی صحت اندرستی طوانائی کیسی ہے اللہ کے فضل و
06:22کرم سے اس کے احسان سے ماشاءاللہ جتنہ شکردہ کرم جب تک اس کا
06:26فضل ہے زندگی تو باہو باہر ہی رہے یہ ماشاءاللہ اور پروردگار
06:32اپنا فضل رکھے اپنا کرم رکھے ناظرین پروردگار آپ سب پر اپنا
06:37رحم اور کرم رکھے پروردگار آپ کی دلی حاجات پوری کرے مالک دو جہاں جو
06:43بیمار ہیں دنیا میں ان کی بیماری دور فرما دے جو مشکلات پریشانی
06:48اور دکھوں تکالیف عیزاؤں میں ہیں ان کی دکھ تکالیف پریشانیاں عیزائیں
06:53دور ہو جائیں آقای دو جہاں سرکار دوالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
06:59کے صدق وسیلے اور واسطے میں ناظرین ہماری تو دعاوں کا مرکز بس ایک ہی
07:05تو ہے کہ جہاں کوئی مشکل پڑی ہم نے یوں سر اٹھایا اور یہ کہا کہ اے
07:11پروردگار اپنی رحمت نازل فرما اور یقین کر لیں یقین کامل کر کے
07:20تو دیکھیں رب کی ذات پر ایک دفعہ اس کے سامنے سر جھکا کر تو دیکھیں
07:27جو سر اس کے سامنے جھکتا ہے نا اس سر کو وہ کسی کے سامنے جھکنے
07:32نہیں دیتا پھر اسی لیے کہتے ہیں کہ ظلم سے ہمیشہ بچو ظلم کرنے سے
07:42ہمیشہ بچو کیونکہ غریب مجبور بیبس اور لاچار کی بددعا سات آسمانوں
07:49کو چیرتے ہوئے خدا بزرگ برتر کے حضور جا پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ
07:54اپنی رحمتوں میں اپنی برکتوں میں ہمیں آپ سب کو رکھے اور زندگی
08:02خوشحالی میں ہے تو صدا خوشحالی میں رہے زندگی پریشانیوں میں ہے تو
08:08اللہ تعالیٰ ان پریشانیوں کو دور فرمائے ان الجنوں کو دور فرمائے
08:13اور زندگی کو شادمہ اور کامران کر دے ناظرین مہدرم خواجہ غریب
08:19نواز ویل فیٹرسٹ کی اس ٹیلی تھون کا آغاز ہو گیا
08:24میں یہ چاہتا ہوں کہ حمد باری تعالیٰ سے اس سیشن کو شروع کیا جائے
08:32بسم اللہ
08:33حمد سب کی سب ہے ذات کے بریہ کے واسطے ہیں
08:47حمد سب کی سب ہے ذات کے بریہ کے واسطے ہیں
08:59حمد سب کی سب ذات کے بریہ کے واسطے ہیں
09:12اور درودو نات ختم الانبیان کے واسطے ہیں
09:24اور درودو نات ختم الانبیان کے واسطے ہیں
09:36ہر بڑائی تجھے کو زیبا ہے میرے پروردگا
10:03سربخم ہے تیرے آگے سب
10:09عطا کے واسطے ہیں
10:27اور جس کو چاہے
10:32بخش دیتا ہے
10:36اسے تو
10:38بے حساب
10:46جس کو چاہے
10:49بخش دیتا ہے
10:53اسے تو بے حساب
10:59تیرا دربازہ کھلا ہے
11:04ہر گردہ کے واسطے ہیں
11:10تیرا دربازہ کھلا ہے
11:15ہر گردہ کے واسطے ہیں
11:23اور فضل کر یا رب
11:33محمد مصطفی کے واسطے ہیں
11:38پضل کر یا رب
11:43محمد مصطفی کے واسطے ہیں
11:52مشکلیں حل کر
11:55علی مشکل
11:58کشا کے واسطے ہیں
12:03مشکلیں حل کر
12:07علی مشکل
12:10کشا کے واسطے ہیں
12:15حمد سب کی
12:18سب ہے ذاتیں
12:23کبریاں کے واسطے ہیں
12:27اور درود و نات
12:31ختم الانبیاء
12:35کے واسطے ہیں
12:39سبان اللہ
12:40سبان اللہ
12:41کیا اچھا اپنے کلام پڑھا ہے
12:43ناظرین محترم
12:44آپ ملاحظہ فرما رہے تھے
12:47عطیق حسینی کو
12:50ہماری خواجہ غریب نواز
12:52ویل فیر ٹرسٹ انٹرنیشنل کی
12:54یہ جو
12:56براہراس نشریات چاریوں ساری ہیں
12:58ان نشریات کا جو مطلب مقصد ہے
13:01وہ
13:02اجتماعی قربانیوں میں
13:03زیادہ سے زیادہ
13:04آپ سب کی شرکت ہو
13:06اور آپ کی جانب سے
13:08ضبیحے اس قربانی میں
13:10شامل کیے جائیں
13:12شیئرز آپ لے سکتے ہیں
13:14آپ کے سامنے ٹیلیویشن کے سکرین پر
13:16تمام تر تفصیلات
13:19آن ائر ہیں
13:20آپ دیکھ لیجئے
13:21اور جہاں آپ چاہتے ہیں
13:23وہاں پر فون کیجئے
13:27عید العظا کے اس موقع پر
13:31یعنی اب بس دو دن کے بعد
13:35علامہ صاحب
13:36دو ہی دن بعد عید ہے نا
13:38ماشاءاللہ
13:39تو اس عید العظا میں
13:42آپ مسلمان
13:43عالم اسلام کے جتنے بھی مسلمان ہیں
13:45ان سب کی کوشش یہ ہوتی ہے
13:47کہ وہ قربانیوں میں
13:48ذات سے زیادہ شرکت کرنے
13:50قربانیاں ان کی جانب سے ہوں
13:51اور یہ
13:55جو ہمارا
13:58تجدید اہد وفا کا دن ہے
14:00عید العظا
14:01یعنی حضرت ابراہیم
14:02علیہ السلام کے ساتھ
14:03جو ہم تجدید اہد وفا کرتے ہیں
14:07اس تجدید اہد وفا کا جو مقصد ہے جو مطلب ہے
14:12عید العظا کا مقصد کیا ہے
14:14علامہ صاحب بیان فرمائیں گے
14:16اعوذ باللہ من الشیط غانط عجیم
14:19بسم اللہ الرحمن الرحیم
14:22علی رضا بھئی یقینا قربانی جو ہے وہ
14:26اللہ رب العزت کی طرف سے بندہ مومن پر ایک خاص انعام ہے
14:30انعام ہے
14:31اور اگر ہم قرآن پاک کا مطالعہ کریں تو
14:34یہ ہمیں اس یاد کی طرف لے کر جاتا ہے
14:38جو حضرت ابراہیم علیہ السلام
14:40اور حضرت اسمائل علیہ السلام
14:42نے جو ایک عظیم صبر و رضا کی مثال پیش کی ہے
14:47اس کو اللہ رب العزت نے قرآن کے اندر بیان کیا ہے
14:52سورہ صوفات کے اندر اللہ رب العزت نے
14:56دو نبیوں کا بڑی تفصیل کے ساتھ تذکرہ کیا ہے
15:00دو نبیوں کا
15:01ایک حضرت نو علیہ السلام ہے
15:03اور ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام ہے
15:05یعنی ان دونوں نبیوں پر اللہ تعالیٰ نے سلام بھیجا ہے
15:08اللہ اکبر
15:09اور سلام بھیجنے کا
15:11آپیں سمجھ لیں کہ مطلب یہ ہوا
15:14کہ اللہ رب العزت جو ہے وہ
15:16انہیں جس مراحل سے
15:18اللہ رب العزت نے گزارا
15:19جس آزمائی سے گزارا
15:22اس امتحان کے اندر
15:24یہ دونوں نبی کامیاب ہوئے
15:25اور بڑی ہی احتمام کے ساتھ
15:28اللہ رب العزت نے قرآن میں ان کا ذکر کیا
15:30اور بقاعدہ جو ہے وہ آیت گزاری
15:32کہ یہ ہمارے بندوں میں سے ہے
15:34ہمارے عبادت گزار میں سے ہیں
15:37اور ہم اسی طرح ہی جو ہے وہ اپنے
15:39بندوں کو جزا دیتے ہیں
15:40جب وہ اپنی ان آزمائشوں پر پورا اترتے ہیں
15:43اللہ اکبر
15:44اب یہ دیکھیں کہ حضرت ابراہیم
15:46کی زندگی کا اگر ہم مطالعہ کریں
15:49تو یہ ہمیں
15:51سب سے پہلے جس چیز
15:52کا سبق ہمیں دیتی ہے تو وہ
15:54سبر ہے
15:56کہ آپ یہ دیکھیں
15:57کہ آپ اگر آپ
15:59ان کی زندگی کو دیکھیں تو
16:00آپ کی عمر مبارک اس وقت
16:02چھاسی سال تھی جب آپ کو اللہ رب العزت
16:05نے بیٹے کی دولت سے نوازا
16:07اللہ اپنی رحمتوں میں
16:09ہمیشہ رکھے ہر ایک بات
16:11پھر اس کے بعد آپ یہ دیکھیں
16:13کہ اس ہی بیٹے
16:15کو اور آپ کی جو زوجہ مطرمہ ہیں
16:17ان کو سہراں میں چھوڑنے
16:19کا حکم دیا یعنی آزماشوں کا سلسلہ
16:21چلتا رہا اور پھر
16:23جب وہی بیٹے ایک عمر
16:25تک پہنچ گئے جس کو قرآن نے بھی بیان
16:27کیا کہ وہ کام کاج کی عمر میں
16:29پہنچ گئے کیا عمر تھی وہ
16:30روایات اس حوالے سے ملتی ہیں کہ آپ کی عمر
16:33مبارک نو سال تھی بارہ سال بھی
16:35جو ہے اس کی روایت ہمارے سال بھی
16:38یعنی آپ یوں سمجھ لیں
16:39کہ جب آپ کام کاج کی عمر تک پہنچ گئے
16:41ٹھیک ہے تو پھر اس وقت جو ہے وہ
16:43یہ حکم آتا ہے کہ آپ اپنے ان شیر
16:45خار بیٹے کو جو ہے وہ اللہ رب العزت کی
16:47بارگاہ میں قربان کر دیں
16:50اتنی دعاوں
16:51منتوں کے بعد ہونے والی اولاد
16:53کو یہ سبق ہمیں
16:55یہ دیا جا رہا ہے بسیکلی کہ
16:57اللہ رب العزت کے حکم
16:59کے آگے ہمیں بلکل جو ہے
17:01وہ جھک جانا ہے سر نیاز
17:03تسلیم اخام کرنا ہے اپنے آپ کو سرنڈر کر
17:05دینا ہے اور اسلام کا مطلب
17:07یہی ہے کہ ہم اپنی
17:09خواہشات کو ترک کر کے جو مقصود
17:11شریعت ہے اور جو مقصود
17:13الہی ہے ٹھیک ہے اس کے
17:15مطابق جو ہے وہ ہم اپنے آپ
17:17کو اپنی زندگی کو گزاریں
17:19اور اپنی ہر خواہش کو جو ہے وہ
17:21اللہ اور اس کے رسول کی
17:23رضا کی خاطر اس پر جو ہے وہ قربان
17:25کر دیں جس کی مثال ہمیں
17:27حضرت ابراہیم علیہ السلام اور
17:29حضرت اسماعیل علیہ السلام کی زندگی سے ہمیں
17:31ملتی ہے بلکل ٹھیک ہے بلکل
17:33تو آپ یہ دیکھیں کہ
17:35ہمیں بھی بحیثیت مسلمانی حکم
17:37دیا جا رہا ہے کہ ہم اس
17:39چیز کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے
17:41اپنی قربانیوں کو ادا کریں
17:43اور یہ قربانی
17:44کا جو حکم ہے کیونکہ کوئی بھی جب
17:47عمل کیا جاتا ہے تو اس کا
17:49تعلق جو ہے وہ شریعت کے اعتبار
17:51سے اگر ہم دیکھیں تو قرآن و حدیث کے ساتھ
17:53ہوتا ہے کہ وہ اس کی
17:55کیا شریح حیثیت ہے کوئی بھی
17:57عمل کرتے ہیں تو قربانی
17:59جو ہے وہ
18:00واجب کا درجہ رکھتی ہے یعنی جو
18:03صاحب نصاب ہے اس پر یہ
18:05قربانی واجب ہے اور قرآن پاک
18:07کے اندر ہر صاحب
18:10نصاب پر جو صاحب
18:12جو صاحب نصاب
18:13نصاب کا مطلب یہ ہوا کہ جو
18:15صاحب حیثیت ہے جو صاحب حیثیت
18:17ہے اس پر قربانی واجب ہے
18:19آجا گھر میں اگر چھے افراد
18:21ہیں اور سب کے سب
18:24صاحب حیثیت
18:25ہیں تو ان چھے کے
18:27چھے لوگوں پر قربانی جائے ہیں
18:29اللہ کے
18:30ایسا نہیں ہے کہ والد نے کر لیا تو سب پچے
18:33بولیں ہم نہ کر لی قربانی
18:34جو صاحب حیثیت ہے بلکل ایسا ہی ہے
18:37کہ جو نصاب شریعت نے مقرر
18:39کیا ہے ساڑھے ساتھ تولے سونا
18:41یا ساڑھے باون تولہ چاندی
18:42اگر گھر میں ہے
18:44یا اس کی ہی جتنی رقم آپ کے پاس
18:46موجود ہے تو یہ اس
18:48کریٹیریا پر پورا اترتے ہیں جو کسی کام
18:50میں نہیں آری گھر پر رکھی ہے
18:52یعنی آپ اس کو آسان اور سال
18:54انداز میں بیان کرو تو یہ ہے کہ جس پر
18:56زکاة فرض ہے اس پر قربانی بھی واجب
18:58ہے
19:02اور قربانی
19:03کا ایک جو ہے وہ یوں سمجھ لیں
19:04کہ آپ جو ایام النہر ہیں
19:06دس گیارہ اور بارہ کیونکہ زکاة میں یہ ہوتا ہے
19:08کہ جو مال ہے اس پر
19:10پورا سال کا جو گزرنا ہے وہ
19:12ضروری ہے ایمپورٹنٹ ہے
19:14لیکن اگر کوئی دس گیارہ اور بارہ
19:16ذلحج کے موقع پر جو ایام النہر ہیں
19:19اس میں اگر کسی کے پاس
19:20اتنی وقت اور حیثیت
19:22آ جاتی ہے کہ وہ قربانی
19:24کا جانور خرید کر اللہ رب العزت
19:26کی بارگاہ میں قربان کر سکتا ہے
19:28تو اس پر قربانی واجب ہے
19:30واجب
19:30اور اس کو قربانی جو ہے وہ ادا کرنی ہے
19:33واہ ماشاءاللہ
19:35علامہ صاحب خوب
19:36آپ نے گفتگو زبردست فرمائی ہے
19:39ایک بات اور بھی بتاتے چلیں
19:40جی
19:41کہ
19:44قربانی کا اول جانور کونسا ہے
19:48دیکھیں جانور
19:49کی اگر آپ دیکھیں تو
19:50قرآن پاک کے اندر اللہ رب العزت
19:52نے جو جانور
19:54جو شریعت نے مقرر کی ہیں وہ
19:57گائے ہے بکرا ہے
19:58پھر اس کے اس میں آپ دیکھیں تو
20:00نہیں دیکھیں نا
20:00اول قربانی میں میرا مطلب کہنے کا یہ ہے
20:04کہ
20:05سب سے پہلے تو
20:06گو سفند ابراہیم
20:09جو
20:09جب
20:10مینڈہ آیا تھا
20:11اس مینڈے پر واجب ہے قربانی
20:13یا مینڈے جیسی اگر
20:15مینڈہ نہ دستیاب ہو
20:17تو اس جیسی شکل کا دوسرا جانور
20:19نہیں وہ دیکھیں نا جو قربانی کا جانور جو
20:22جیسے مینڈہ ہے اس کی قربانی ہو سکتی ہے
20:24دمبہ اس کی قربانی ہو سکتی ہے
20:26بکری ہے بکرا ہے گائے ہے
20:28تو اس کی پھر
20:29آزاد جانور پر قربانی نہیں ہوتی
20:31جی ہو جاتی ہے اس پر بھی قربانی
20:33ہرن پر ہوگی
20:35نہیں وہ قربانی کا جانور نہیں ہے
20:36ہرن نہیں ہے
20:37جو قربانی کے جانور شریعت نے مقرر کی ہیں
20:40صرف انہی کی قربانی ہو سکتی ہے
20:41ٹھیک ہے
20:44ناظرین محترم ہم یہ گفتگو آپس میں
20:46اس لیے کرتے ہیں
20:47So that you can have a lot of people like this,
20:53what are they doing?
20:55What are they doing?
20:58What is it? What is it?
21:00What is it? What is it?
21:03And what is it?
21:05Of course, what is it?
21:06What is it? What is it?
21:11But what is it?
21:14but this is our opinion in our way.
21:18We are going to do this.
21:20If you look at this trust that we are going to make it.
21:26We are going to do this.
21:28We are going to do this.
21:32The concern is that we are going to do this in our own way.
21:39We are going to do this in our own way.
21:44so that we have to say,
22:14کہ یہ تمہارے والد ابراہیم علیہ السلام کی سنت مبارکہ ہے
22:17پھر اس قربانی کا فائدہ کیا ہے
22:20تو اس میں بھی حدیث مبارکہ کے اندر ہمیں اس کا جواب ملتا ہے
22:23کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارت فرمایا
22:26کہ قربانی کرنے والا جو جانور ہے جس کی قربانی ہے
22:29اس کے ہر بال کے بدلے میں ایک بندہ مومن کو نیکی عطا کی جاتی ہے
22:34اس حدیث مبارکہ میں آگے جو ہے وہ آن کا ذکر کیا گیا
22:37کہ اس کے جو خال ہے جو اس پر جو ہے وہ
22:40بال بھی زیادہ ہوتے ہیں اور بال باریک ہوا کرتے ہیں
22:43تو حضور اکرم نے فرمایا کہ اس کے بھی ایک ایک بال کے بدلے میں گویا
22:47کہ جو ہے وہ بندہ مومن کو نیکی دی جاتی ہے
22:49اس کا بدلہ دیا جاتا ہے
22:51علامہ صاحب جب رب دینے پر آ جائے
22:54تو اس کے بعد کسی چیز کی کمی تو ہے نہیں
22:57جی بالکل ایسا ہی ہے
22:58جب اس کی عطا ہو جائے
22:59تو ناظرین محترم پھر اس کی عطا ہی عطا ہے
23:04ہم جتنے بھی بندے ہیں
23:05ہم خطاکار ہیں
23:07لیکن وہ مالک الملک
23:09وہ بادشاہوں کا بادشاہ وہ شہنشاہوں کا شہنشاہ ہے
23:12وہ عظیم عظیم تر ہے
23:15پروردگار
23:18اپنے تمام گناہگار بندوں کو محب فرما کے
23:21ان پر اپنی رحمتیں نازل فرما
23:26جی عطی خسینی
23:31کیا آپ فرما رہے ہیں آپ ماشاءاللہ
23:33کعبے کی رونک
23:35واہ
23:36کعبے کی رونک
23:40کعبے کا منظر
23:48اللہ اکبر
23:55کعبے کی رونک
23:58کعبے کا منظر
24:02اللہ اکبر
24:09دیکھوں تو دیکھے جاؤں برابر
24:16اللہ اکبر
24:22دیکھوں تو دیکھے جاؤں برابر
24:29اللہ اکبر
24:32اللہ اکبر
24:39تیرے حرم کی کیا بات مولا
24:45تیرے حرم کی کیا بات مولا
24:52تیرے کرم کی کیا بات مولا
24:58تیرے کرم کی کیا بات مولا
25:05تیرے حرم کی کیا بات مولا
25:15تیرے حرم کی کیا بات مولا
25:25اللہ اکبر
25:28اللہ اکبر
25:31اور حیرت سے خود کو
25:36کبھی دیکھتا ہوں
25:41حیرت سے خود کو
25:43کبھی دیکھتا ہوں
25:47میں حیرت سے خود کو
25:50کبھی دیکھتا ہوں
25:53اور دیکھتا ہوں
25:56کبھی میں حرم کو
25:59اور دیکھتا ہوں
26:03کبھی میں حرم کو
26:07لایا کہاں
26:10مجھ کو میرا مقادر
26:14اللہ اکبر
26:18اللہ اکبر
26:21اللہ اکبر
26:24اللہ اکبر
26:29اور بھیجا ہے
26:32تجھ کو
26:36بھیجا ہے
26:38جنت سے
26:40تجھ کو
26:41خود آنے
26:43بھیجا ہے
26:45جنت سے
26:46تجھ کو
26:48خود آنے
26:49چوما ہے
26:51تجھ کو
26:53میرے مصطفیٰ نے
26:56چوما ہے
26:58تجھ کو
26:59میرے مصطفیٰ نے
27:03اے سنگے
27:05اسود
27:07تیرا
27:08مقادر
27:10اللہ اکبر
27:13اللہ اکبر
27:17اللہ اکبر
27:20اللہ اکبر
27:24اور مولا
27:27سبھی ہی اور کیا چاہتا ہے
27:32مولا
27:33سبھی ہی اور کیا چاہتا ہے
27:38مولا
27:41مولا
27:43مولا
27:46مولا
27:48سبھی ہی اور کیا چاہتا ہے
27:52بس مغفرت کی دعا چاہتا ہے
28:00بس مغفرت کی دعا چاہتا ہے
28:07پخشش کے طالب پہ اپنا کرم کر
28:17اللہ اکبر
28:21اللہ اکبر
28:23سبحان اللہ
28:24سبحان اللہ
28:26اللہ تعالیٰ آپ پر اپنی رحمت نازل فرمائے
28:28ناظرین مدرم
28:30ہماری یہ ٹرانسویشن خواجہ غریب بنوارد
28:32ویل فیٹرسٹ کی جانب سے
28:33جاری و ساری ہے
28:34آپ کی اس محفل میں
28:37ہمارے ساتھ اس وقت
28:38علامہ امیر حمزہ
28:40اور عطیق حسینی موجود ہیں
28:42جن کے ساتھ
28:44جن کے سنگ
28:45ہم اس ٹرانسویشن کو آگے لیے چاہ رہے ہیں
28:48آپ تمام موزیز خواتین حضرات سے گزارش ہے
28:50کہ ہمارے ٹیلی فون لائنز کھلی ہیں
28:54اور یہ تمام نمبر آپ کے سامنے ٹیلی ویشن کے سکرین پر نظر آ رہے ہیں
28:58آپ
29:01آپ ان نمبروں میں سے
29:02اپنا نمبر چوز کیجئے
29:05ہمیں کال کیجئے
29:06ہمارے کٹرول پر کال کیجئے
29:08اور ہم
29:09منتظر ہیں آپ کی ٹیلی فون کالز کے
29:11کہ آپ ہمیں بتائیے
29:13کہ آپ ان اجتماعی قربانیوں میں
29:15کس طرح شامل حال ہونا چاہتے ہیں
29:19علامہ صاحب
29:20چونکہ ایام حج
29:23گزر رہے ہیں
29:26تو
29:26اس کی اہمیت جو ہے قربانی کی
29:29اور زیادہ اہم ہو جاتی ہے
29:31اس کی بابت بھی کچھ بیان فرمائی ہے
29:33بسم اللہ الرحمن الرحیم
29:36دیکھیں قربانی کے حوالے سے
29:38ہماری گفتگو یہ چل رہی ہے
29:40اور یہ ایک عظیم
29:44انسا مجلین کے ثواب حاصل کرنے کا
29:47اللہ رب العزت نے ہمارے لئے احتمام فرمایا ہے
29:49اور آپ یہ دیکھیں کہ
29:51حضرت ابراہیم علیہ السلام
29:53کے ہی یہ سارے معمولات ہیں
29:55جن کو حج میں دیکھیں
29:57اور عمرہ کے اندر ہم دیکھتے ہیں
29:59تو وہ یہ کام ہو رہے ہوتے ہیں
30:00حضرت ابی بی حاجرہ سلام اللہ علیہ
30:02آپ یہ بالکل یہ ساری چیزیں
30:04ڈیٹیل سے بتائیں
30:05لیکن دیکھیں جو نئی ہماری نسلیں دنیا بھر میں ہیں
30:08جو نئی نسلیں پروان چڑھ رہی ہیں
30:10ان بچوں کو بھی یہ پتا ہونا چاہیے
30:12بچیوں کو بھی پتا ہونا چاہیے
30:14کہ اصل میں یہ سب کیا ہے
30:16دیکھیں جس طرح قرآن پاک کے اندر
30:18اللہ رب العزت نے رشاد فرمایا
30:20میں پہلے بھی یہ بات کر چکا ہوں
30:21کہ اللہ رب العزت
30:23اپنے جن بندوں کو
30:25جب ان پر انعام فرماتا ہے
30:27تو ان پر انعام فرمانے
30:29کا ایک انداز
30:30جو ہے نا وہ ہمیں نرالہ نظر آتا ہے
30:32کہ جس طرح سورہ خوفات کی آیت مبارکہ ہے
30:36اللہ رب العزت نے رشاد فرمایا
30:38وَطَرَقْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ
30:40کہ ہم جو ہے وہ پچھلوں کے اندر
30:42جو ہے اس ذکر کو بلند رکھتے ہیں
30:44اس ذکر کو جاری رکھتے ہیں
30:46اب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
30:48اپنے ٹائم پر اور اپنے اس دور میں
30:51جو ہے وہ اللہ رب العزت کی حکم کی تکمیل کی
30:54وہ زبا کرنا
30:57یعنی اللہ رب العزت کی حکم کی تکمیل کرنا
31:00ایسا کامیاب ہوا
31:01اور صبر و رضا کی ایسی عظیم مثال پیش کی
31:04کہ اللہ رب العزت نے قیامت تک کے لئے
31:06جو ہے ان کی یاد کو برقرار رکھا
31:08اس قربانی کی صورت میں
31:10پھر آپ یہ دیکھیں کہ جو انویٹر ہوتا ہے
31:13کسی بھی اچھے کام کا
31:14تو وہ اس کو کرنے کے بعد
31:17جتنے بھی لوگ
31:18اس اچھے عمل کو کرتے ہیں
31:20تو اس کا جو ثواب جس طرح کرنے والے کو ملتا ہے
31:23بلکل اسی طرح
31:27بھی جاتا ہے جس نے اس کام کو
31:28اس کا آغاز کیا
31:30اب جیسے آپ یہ دیکھیں کہ
31:32ہم حدیث مبارکہ کے اندر دیکھتے ہیں
31:35کہ اس شخص کے لئے
31:37گویا کہ جو ہے وہ ارشاد فرمایا گیا
31:39کہ جب بندہ اس دنیا سے فوت ہو جاتا ہے
31:41چلا جاتا ہے
31:42تو پھر اس کا سلسلہ عامال منکتے ہو جاتا ہے
31:44لیکن کچھ ایسے عامال
31:47ہیں جس کے ذریعے سے اس کو جو ہے
31:48وہ مرنے کے بعد بھی جو ہے وہ فائدہ پہنچتا ہے
31:50جیسے علم نافع ہے
31:52استاد ہے کہ وہ جب اپنے کسی شاگرد
31:54کو علم سکھا دیتا ہے
31:56سکھا کے وہ اس دنیا سے چلا گیا
31:59تو وہ ان کا جو شاگرد ہے
32:00وہ پھر آگے جس جس کو بھی علم سکھاتا رہے گا
32:03تو پھر اس کا جو فائدہ ہے
32:04وہ استاد تک جاتا رہے گا
32:06بلکل ایسا ہی ہے
32:07کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو کام کیا
32:10اور آپ نے اللہ رب العزت کو
32:12رازی کرنے کے لئے جو یہ
32:14صبر و رضا کی عظیم مثال پیش کی ہے
32:16تو آپ یہ دیکھیں کہ
32:17اللہ رب العزت نے اس یاد کو جاری رکھا ہے
32:19حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر بھی
32:21اسی انداز میں آپ دیکھیں تو ہمیں ملتا ہے
32:24آپ نے ساڑھے نو سو سال تک گویا
32:26کہ جو ہے وہ تبلیغ کی ہے
32:27تبلیغ کرنے کے نتیجے میں
32:29جتنے لوگ مسلمان ہوئے ہیں
32:31جنہوں نے اللہ تعالی کی وحدانیت کو ایکسپٹ کی ہے
32:33تو پھر آ کر
32:34اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا
32:36کہ اب آپ ایک کشتی بنائیں
32:37اور اس پر اپنے بندوں کو لے کر سوار ہو جائیں
32:39جو آپ کے ساتھ ہوں گے وہ آپ کے ساتھ ہوں گے
32:42اور جو آپ کے ساتھ نہیں ہوں گے
32:43تو پھر اللہ کا عذاب ان تک آن پہنچے گا
32:45اور پھر یہی دیکھیں
32:46کہ آپ نے جو ہے
32:47کہ جو ہے وہ
32:48اللہ رب العزت کا جو ایک انبیاء ہونے کی حیثت سے
32:51جو مقصد ہے وہ کیا ہے
32:53کہ اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچانا
32:55انہوں نے وہ پہنچا دیا
32:57اس کی نتیجے میں جتنے لوگ مسلمان ہوئے
33:00اللہ رب العزت نے جو ہے
33:01ان کا جو ذکر ہے وہ قرآن پاک میں جاری رکھا
33:04یہی سلسلہ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی سے ملتا ہے
33:08کہ جب آپ دیکھیں کہ
33:09حاجی جو ہے وہ شیطان کو کنکریاں مارتے ہیں
33:12ابھی آپ دیکھیں کہ
33:13دس گیارہ اور بارہ زلحج کو جو ہے وہ
33:15جمرات کے مقام پر جو ہے وہ شیطان کو کنکریاں ماری جائیں گی
33:18تو یہ اصل ہے کیا
33:19شارین یہ لکھتے ہیں
33:21اس کا اصل یہ ہے
33:22کہ جب شیطان آپ کو بہکانے کے لیے
33:25حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس بھی
33:26حضرت اسماعیل علیہ السلام کے پاس بھی
33:29اور حضرت ابی بی حاجرہ سلام اللہ علیہہ کے پاس بھی آیا
33:32یہ کہنے کے لیے
33:33کہ جب یہ اطلاع ملی
33:35کہ اللہ رب العزت کا یہ حکم آیا ہے
33:37کہ اپنے شیر خار بیٹے
33:39اسماعیل کو اللہ کی راہ میں زبا کر دیں
33:41تو وہ آ کر ان کو یہ بہکاتا
33:43کہ کیا یہی ایک طریقہ ہے
33:45اللہ کو راضی کرنے کا
33:47کیا آپ جانتی ہیں کہ آپ
33:48آپ کی بیٹے کو جو ہے وہ کہاں لے کر جائے جا رہا ہے
33:51تو آپ یہ اس عمل سے رک جائیں
33:53لیکن یہی جواب
33:55ہمیں تینوں انداز اور تینوں ہستیوں کی زبان سے ملتا ہے
33:57کہ حکم جس کا آیا ہے
34:00اس کی تکمیل کی خاطر
34:02ایک بچہ تو کیا
34:03اگر سو بچے کا قربان کرنے کا حکم بھی
34:05اگر ہمیں مل جائے
34:06تو یقینا ہم وہ قربان کر پائیں گے
34:09تو یہ دیکھیں یہ شیطان کو مردود قرار دینا
34:12اور ان پر گویا کہ
34:13جو ہے وہ ایک انداز سے
34:14اس وقت انہوں نے پتھر پھیکا
34:16اللہ رب العزت نے اس کو جو ہے
34:18وہ حاجیوں کے لیے جو ہے وہ
34:19دس گیارہ اور بارہ زلحچ کو جو ہے
34:22ایک رکن قرار دے دیا
34:24تو یہی بات ہے
34:25کہ جب اللہ کا حکم آ جاتا ہے
34:28تو بندہ مسلمان کے لیے بھی یہی ہے
34:30کہ وہ عقل کے گھوڑے دورانہ ختم کر دے
34:32اللہ کے حکم کے آگے سرنڈر کر دے
34:34کیونکہ جس نے ہمیں پیدا کیا ہے
34:37وہی اس بات کا زیادہ استقاق رکھتا ہے
34:39کہ ہم اس کے بتائے ہوئے طریقے پر
34:42اس کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے
34:44اپنی زندگی کو گزاریں
34:45کیونکہ یہی ایک واحد طریقہ ہے
34:47اس دنیا میں کامیاب و کامران ہونے کا
34:50اور یہی ہمارے لیے آخرت میں نجات کا سبب بنے گا
34:53وہ بھی بیان کرتے چلے جائیں آپ
34:54کہ جب بی بی حاجرہ
34:57سلام اللہ علیہہ کو
34:58اور
35:01اپنے بیٹے کو
35:02انہوں نے
35:05ایک
35:06ریکستان جیسے
35:08سہرہ میں چھوڑ دیا
35:09وہ معاملہ بھی ضرور بیان کی
35:11دیکھیں یہ اسی آزمائش کا ایک سلسلہ ہے
35:13آپ یہ دیکھیں کہ
35:15اللہ رب العزت اپنے ہی پیارے بندوں کو
35:18آزمائش میں اپتلا کرتا ہے
35:20قرآن پاک میں بھی جس طرح
35:22بندہ مومن کے لئے ارشاد فرمایا
35:23کہ
35:26ہم ہر انداز سے
35:28وہ اپنے بندے کو آزماتے ہیں
35:29اللہ رب العزت نے اپنی اس نعمت کے ذریعے سے
35:32چھاسی سال کی عمر میں بیٹے کو عطا کیا
35:35پھر اس کے بعد حکم آیا
35:37کہ آپ اپنی زوجہ کو اور اپنے بیٹے کو
35:39کھلے ریگستان میں چھوڑ دیں
35:41چھوڑ کے آ جائیں
35:41سہرا کیا ہے
35:42ریگستان ہے
35:43مٹی ہے
35:44وہاں پر سورج کی گرمی ہے
35:46پانی دور دور تک دسیاب نہیں ہے
35:49یہی تو امتحان ہے
35:50اور پھر آپ دیکھیں
35:51اس امتحان میں کامیاب و کامران ہو کر
35:54جب وہ اس عمر تک پہنچتے ہیں
35:55تو پھر اللہ کا حکم آ جاتا ہے
35:57کہ اپنے اس بیٹے کو قربان کر دیں
35:59تو یہ ساری آزمائشوں پر گویا
36:01کہ جو ہے وہ کامیاب و کامران ہو کر
36:03ہمیں یہی سبق ملتا ہے
36:05کہ بندہ مومن
36:06جب اللہ رب العزت کی آزمائش پر پورا اترتا ہے
36:09سبر سے کام لیتا ہے
36:11تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا تذکرہ
36:13بڑی شان کے ساتھ فرماتا ہے
36:14اور یہی گویا کہ جو ہے
36:16وہ ان کی نجات کا سبب بھی بن جاتا ہے
36:18آپ دیکھئے ناظرین
36:19ابھی جتنی مفصل گفتگو جاری ہے
36:23اس گفتگو کا جو مقصد ہے
36:25مطلب ہے وہ صرف یہی ہے
36:27کہ خدا کی خوشنودی کے آگے سربسوجود
36:30ہو جانا چاہیے
36:31اور ہم بار بار ایک بات کہتے ہیں
36:34کہ جو سر پروردگار کے حضور جھکتا ہے
36:37اللہ اس سر کو کہیں اور نہیں جھکنے دیتا
36:42وہ ایک سجدہ
36:44جسے تو گران سمجھتا ہے
36:47اللہ میں اقبال نے لکھا
36:49وہ ایک سجدہ جسے تو گران سمجھتا ہے
36:52ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
36:58ہر ہر در پر سر جھکانے کے بجائے
37:00ایک اس در پر سر جھکا دو
37:03کہ جہاں پر
37:05جہاں پر
37:07نبیوں ولیوں انبیاؤں نے
37:09اپنا سر جھکایا ہے
37:11تو ہم انہی کے اتباع کرتے ہوئے
37:15اپنے سر نیاز کو
37:16تسلیم خم کر کے رکھیں
37:18پروردگار
37:19اپنی رحمتوں سے
37:20ہماری چھولیاں بھڑتے گا
37:24دوسری بات یہ ہے ناظرین کے
37:26خواجہ غریب نواز ویل فیر ٹرسٹ کی جانب سے ہونے والی
37:29ہماری یہ ٹرانسمیشن جاری و ساری ہے
37:31آپ تمام معزز خواتین و حضرات سے یہ گزارش ہے
37:34کہ آپ ان اجتماعی قربانیوں میں
37:37اپنی جانب سے شیئرز
37:40آپ لے سکتے ہیں
37:41آپ بکرا خرید کر
37:43اپنی جانب سے
37:44قربانی میں پیش کر سکتے ہیں
37:48یا پوری ایک گائے خرید کر
37:50یا گائے کے حصے لے کر
37:51آپ
37:53غریبوں کی مدد میں
37:54شامل حال ہو سکتے ہیں
37:56آپ کے سامنے ٹیلیویجن کے سکرین پر
37:59جو ٹیلیفون نمبرز آ رہے ہیں
38:02وہ کنٹرول کا نمبر بھی ہے
38:03اسٹوڈیوز کا نمبر بھی ہیں
38:05مختلف اور نمبرز بھی ہیں
38:07آپ دنیا کے جس ملک میں بھی ہیں
38:10جس شہر میں ہیں
38:11جس اسٹیٹ میں ہیں
38:12آپ
38:15امریکہ میں ہیں
38:16کینیڈا
38:17آپ لنڈن میں ہیں
38:19آپ یورپ میں ہیں
38:20آپ
38:21آسٹریلیا میں ہیں
38:23آپ جہاں بھی ہیں
38:25آپ
38:27یہ
38:27یاد رکھئے
38:29کہ غریبوں کی مدد کا جو سلیقہ ہے
38:31یہ ہم نے
38:33محسن انسانیت
38:35آقائے دو جہاں سرکار دو عالم
38:37صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سیکھا ہے
38:39اور
38:40انہی کی
38:43انہی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے
38:46ہم زندگی کو
38:48باہو باہر بنانا چاہتے ہیں
38:49ناظرین
38:50ایک زندگی جو ملی ہے
38:52زندگی کو
38:53زندگی سمجھ کر گزارنا ہی
38:55زندگی کا سب سے
38:57سب سے کمال طریقہ کار ہے
39:00دوسری بات یہ ہے
39:01کہ
39:02اس زندگی کو
39:03جو اللہ کی امانت ہے
39:06ہمیں بہت سنبھال کر رکھنا چاہیے
39:08اس زندگی سے کوئی ایسے کام نہ لیں
39:11کہ جو حکم ربی کے خلاف ہوں
39:14زندگی کو زندگی بنائیں
39:17اور پروردگار عالم کو دیکھئے
39:20کہ وہ کیا کچھ عطا فرماتا ہے
39:22ہم سب کو
39:25زندگی آمد برائے بندگی
39:29زندگی
39:29اگر اس دنیا میں ملی ہے
39:32ہم زندگی لے کر اس دنیا میں آئے ہیں
39:34تو زندگی آمد برائے بندگی
39:37زندگی
39:38بے بندگی
39:40شرمندگی
39:41کہ ہم زندگی پائی ہم نے
39:44ہم نے دنیا میں عیش و عشرت کیے
39:47اور
39:48گزر گئے
39:50تو اس زندگی کا فائدہ کیا ہے
39:52انسان کو ایک شخص بن کر نہیں
39:54بلکہ ایک پوری شخصیت بن کر رہنا چاہیے
39:59شخصیت
40:00کبھی نہیں مرتی
40:03کبھی مہف نہیں ہوتی
40:06بلکہ شخصیت کو
40:08شخصیت بنانے کے بعد
40:11یہ سمجھ دیجئے کہ زندگی
40:15یادکار بن کر رہ چاہتی ہے
40:16ناظرین محترم اس لمحے ہم
40:20ایک بریک کے جانب جا رہے ہیں
40:23یعنی جب بریک سے واپس لوٹیں گے
40:24تو ہم اور آپ
40:26ایک بار پھر یک چاہوں گے
40:27اور ہاں
40:28جب تک ہم واپس نہ آئیں
40:30انتظار کیچے کا
40:32پیغام ہے یہ سب کے لیے
40:38قربانی ہے یہ رب کے لیے
Comments

Recommended