Skip to playerSkip to main content
Tarzan mot ke panje mein,story,watch listen and read story,urdu,hindi, #stories #videos,
please if you like video,then like video and subscribe channel and visit channel for more videos and share channel and videos

Category

😹
Fun
Transcript
00:05ڈارزن اپنے دوست قبیلے کے سردار سے مل کر واپس آ رہا تھا
00:11وہ درختوں کی شاخوں سے جھولتا ہوا تیزی سے آگے بڑھا چلا جا رہا تھا
00:17ممکو اس کے کندے پر بیٹھا مسلسل باتیں کے جا رہا تھا
00:23جب سے ٹارزن نے ممکو کے قبیلے اور اس کی منگے تر چھیمو کو بندر ڈاکم سے چورایا تھا
00:34ممکو بہت خوش تھا
00:37وہ اس کے متعلق باتیں کرتا ہوا آ رہا تھا کہ اچانک ٹارزن چھٹک کر رک گیا
00:46کیونکہ اس کے کانوں میں دور سے کسی عورت کے بری طرح چیف نے کی آواز سنائی دی تھی
00:55عورت یوں چیف رہی تھی جیسے اسے کوئی زبا کر رہا ہو
01:00یہ کیسی چیف ہے سردار
01:04ممکو نے بھی
01:06حیرت بھرے لہجے میں کہا کسی پر ظلم ہو رہا ہے
01:14ٹارزن نے سنجیدہ لہجے میں کہا اور پھر اس نے انتہائی تیزی سے اپنا روح بدلا اور ادھر بڑھنے لگا
01:24جدھر سے اسے عورت کے چیف نے کی آواز سنائی دی تھی
01:30ممکو ٹارزن کے کندے سے چھلانگ مار کر نیچے اترا اور پھر انتہائی تیز رفتاری سے ادھر بھاگنے لگا
01:40جدھر سے عورت کے
01:43چیف نے کی آوازیں سنائی دی تھی
01:47وہ ٹارزن سے آگے آگے بھاگ رہا تھا
01:51تھوڑی دیر بعد ٹارزن گھنے درختوں کے ایک بڑے جھنڈ سے جیسے ہی باہر نکلا
01:59اس نے سامنے حد نظر تک پہاڑی امفیلی ہوئی دیکھیں
02:05چونکہ یہ علاقہ ٹارزن کی حدود میں نہ آتا تھا
02:10اس لئے ٹارزن پہلی بار اس طرف آیا تھا
02:14ایک پہاڑی کے دامن میں بہشمار
02:19جھومپرے بنے ہوئے تھے اور سرخ رنگ کے
02:24پرم کے تاج پہنے ہوئے بہشمار بہشی جھومپریوں کے درمیان میں
02:30ایک گول دائری میں ناچ رہے تھے ان کے درمیان میں لکڑی کے
02:35ایک بڑے سے ستوں کے ساتھ ایک عورت بھندی ہوئی لٹک رہی تھی
02:43عورت کے جسم پر جگر جگر سے خون بہ رہا تھا اور وہ تکلیف کی
02:49شدت سے بری طرح سر مار رہی تھی اور چیف رہی تھی جبکہ
02:55ایک لمبا ترنگا بہشی ہاتھ میں نیزہ اٹھائے اس عورت کے
03:00قریب کھڑا بڑے بہشیانہ انداز میں ناچ رہا تھا
03:05ناچتے ناچتے وہ نیزے کی انی پوری فوت سے عورت
03:11کی جسم میں مار دیتا اور عورت کے حلق سے بے افتیار چیف
03:18نکل جاتی عورت کا رنگ روپ بتا رہا تھا کہ اس کا اس قبیلے
03:23سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ وہ کسی محضب علاقے سے تعلق
03:29رکھتی ہے
03:31تارزن نے دیکھا کہ یک ادم وحشیان کے ناچ میں بے پناہ
03:37تیزی آ گئی ہے
03:38وہ چونکہ ان وحشی لوگوں کے رسم واؤ ریواج اچھی طرح
03:44جانتا تھا اس لئے وہ سمجھ گیا کہ اب اچانک ہی اس
03:51عورت کے سینے میں نیزہ مار دیا جائے گا اور اس طرح عورت
03:56کو ہلاک کر دیا جائے گا
04:00تارزن نے اچانک ہاتھ میں پکڑا ہوا نیزہ اٹھایا اور اسے
04:06ایک لمحے کے لئے ہاتھ میں تولا اور پھر پوری فوت سے اس نے
04:12نیزہ اس وحشی کی طرف پھنک دیا جو ہاتھ میں نیزہ اٹھائے اس
04:18عورت کو قتل کرنے کے در پہ تھا تارزن چونکہ اس وقت ان
04:23وحشی کی نسبت کافی بلندی پر تھا اس لئے نیزہ کمان سے نکلے ہوئے
04:31تیر کی طرح اٹھا ہوا سیدھا اس نیزہ بردار وحشی کی طرف بڑھتا چلا
04:40گیا اور پھر اس سے پہلے کہ وہ نیزہ بردار وحشی نیزہ اٹھا کر عورت کے
04:47سینے میں مارتا تارزن کا نیزہ اس کی کمر میں گھستا چلا گیا اور
04:54وحشی ایک خوفناک چیف مار کر زمین پر گرا اور بری طرح طرپنے لگا
05:03نیزہ بردار وحشی کو اس طرح زمین پر گرتے اور طرپتے دیکھ کر
05:09تمام وحشی ان فٹھک کر رک گئے جیسے چابی کے کھلوں نے چابی
05:15ختم ہونے پر رک جاتے ہیں فبردار اگر کسی نے اس لڑکی پر ہاتھ
05:24اٹھایا تو اس کے فاندان کو تحس نہس کر دیا جائے گا تارزن نے
05:31بڑے باوقار انداز میں آگے بڑھ کر کہا اچانک ان وحشیوں میں سے ایک
05:38زیادہ سیاہ رنگ کا خوفناک وحشی آگے بڑھ آیا اس کی انکھیوں خصے سے
05:46چھراغوں کی طرح جل رہے تھیں اس کے سر پر بھی سرخ رنگ کے پتوں
05:53کا تاج موجود تھا مگر ان پتوں کا رنگ اس کے جسم کی طرح سیاہی
05:59مائل تھا
06:01تم کون ہو اجنبی اور تم نے ہمارے پجاری کو کیوں مار دیا ہے
06:08اس وحشی نے گرجدار آواز میں کہا میرا نام تارزن ہے اور میں جنگلوں
06:17کا بادشاہ ہوں تمہارا پجاری اس نہتی اور کمزور عورت پر ظلم
06:24کر رہا تھا اور میں یہ ظلم برداشت نہیں کر سکتا تارزن نے اس کے
06:31قریب جاتے ہوئے کہا تارزن کا لہجہ وحشی سے بھی زیادہ دبنگ
06:38تھا تارزن تارزن کا نام سن کر یوں چنکا جیسے اسے کسی بچھو
06:46نے کاٹ لیا ہو اس کے چہرے پر حیرت کے آسار تھے ہم میں تارزن ہوں
06:55اس عورت کو رہا کر دو اور اسے وہاں پہنچا دو جہاں سے اسے پکڑ
07:03لائے تھے تارزن نے باوقار انداز میں کہا میں نے تمہاری شورت
07:11سن رکھی ہے تارزن کی تم بے حد بہادر اور ندر ہو اور جنگل میں
07:19رہنے والے تمام قبیلے اور جانور تم ہی بادشاہ مانتے ہی مگر ہم تمہاری بات
07:29نہیں مان سکتے یہ عورت ہمارا شکار ہے اور ہم ہاتھ آئے شکار
07:37کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑ سکتے ورشی نے قدرے تلف لہجے میں کہا تم اس قبیلے کے سردار
07:49ہو تارزن نے پوچھا ہم میں اس جاموش قبیلے کا سردار پونانگا ہوں اور چونکہ
08:00تم نے ہمارے پجاری کو مار ڈالا ہے اس لے تمہاری سزا یہ ہے کہ تمہیں
08:08اتاری پہاڑی کی سزا دی جائے سردار پونانگا نے کہا اتاری پہاڑی کی سزا
08:18تارزن نے اس انوکھی سزا پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہم یہ ہمارے
08:28قبیلے کی سب سے خوفناک سزا ہے یہ سامنے والی پہاڑی اتاری پہاڑی
08:37ہے اگر تم اس پہاڑی کی چھوٹی کا چکر لگا کر سہی سلامت واپس آ جاؤ تو تم
08:47ہمارے معزز مہمان نہ پڑے گا پونانگا نے تنسیہ لہجے میں کہا اس
08:57پہاڑی پر کون رہتا ہے تارزن نے غور سے اس ویران پہاڑی کی طرف دیکھتے
09:06ہوئے کہا اس پر رہتا کوئی نہیں یہ بالکل ویران ہے مگر یہ ہماری
09:15دیوی ہے جسے یہ سزا دینا چاہے اسے خود بخود سزا دے دیتی ہے اور
09:24جسے سزا نہ دینا چاہے اسے صحیح سلامت واپس بھیج دیتی ہے
09:33پونانگا نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا اگر میں اس پہاڑی کا چکر لگاؤں تو
09:42کیا اس عورت کو تم چھوڑ دو گے تارزن نے مسکر آتے ہوئے پوچھا
09:50اس کے فیال میں یہ سب سے آسان بات تھی کیونکہ ویسے تو اس عورت کو
09:59چھڑانے کے لئے اس کو پورے قبیلے سے جنگ لڑنی پڑتی بالکل چھوڑ دیں گے
10:08بلکہ اس کے علاوہ تم جو کہو گے ہم مانیں گے پونانگا سردار نے
10:16بھی جواب میں مسکر آتے ہوئے کہا تو ٹھیک ہے میں پہاڑی پر چڑھتا ہوں
10:25تم اس عورت کو اس ستون سے نیچے اتارو اور اس کی زخنوں پر مرہم لگاؤں
10:35تارزن نے شرط منظور کرتے ہوئے کہا اور سردار پونانگا نے
10:41اپنے ساتھیوں کو ایسا کرنے کا حکم دے دی
10:47چند ہی لمحوں میں اس نیم بے ہوش عورت کو ستون سے اتار لیا گیا اور
10:53پھر قبیلے کے حکیم جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ مرہم اس کے زخموں پر لگانے لگے
11:01ایک وحشی نے اسے ایک پیالے میں پانی بھی پلایا
11:06تارزن بڑے اتمنان سے
11:11کھڑا اس عورت کی حالت دیکھ رہا تھا
11:16تھوڑی دیر بعد عورت کے چہرے پر سکون کے آسار اُبھر آئے اور
11:22تارزن کو بھی اتمنان ہو گیا کہ اب یہ عورت بچ جائے گی تو وہ اس
11:28ویران پہاڑی کی طرف چل پڑا
11:31موں کو بھی اس کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا
11:37جب کی ان سے دس قدم پیچھے پونانگا سردار اور اس کے دو ساتھی بھی چل
11:43پڑے
11:46تارزن سوچ رہا تھا کہ آخر اس پہاڑی کی چھوٹی پر ایسی کونسی
11:53چیز ہے جس کی وجہ سے یہ وحشی انتہائی خوف زدہ ہی
11:59بظاہر تو پہاڑی بلکل ویران نظر آتی تھی
12:03پہاڑی پر کوئی جھاڑی تو ایک طرف گھاس کا ایک تنکہ تک نظر نہ آتا تھا
12:12بہرحال تارزن مکمین تھا کہ جو ہوگا دیکھا جائے گا
12:19چننچے وہ موں کو سمیت تیزی سے اس پہاڑی پر چڑھنے لگا
12:25سردار پونانگا اپنے دو ساتھیوں سمیت ان کے پیچھے پیچھے تھا
12:31تم لوگ کیوں آ رہے ہو
12:35تارزن نے روپ کر ان سے مخاطب ہو کر پوچھا
12:41ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ دیوی اتاری تمہیں کیا سزا دیتی ہے
12:47سردار پونانگا نے جواب دیا
12:52چلو ٹھیک ہے دیکھ لینا کہ تمہاری دیوی مجھے سزا دیتی ہے
12:58یا میں اسے سزا دیتا ہوں
13:02تارزن نے ہنستے ہوئے کہا اور پھر اوپر چڑھنے لگا
13:07تقریباً ایک گھنٹے تک مسلسل اوپر چڑھنے کے بعد وہ پہاڑی کی چوٹی پر پہنچ گئے
13:16پہاڑی کی چوٹی پر ایک کنگرا نمہ چٹان تھی
13:22جس کی دوسری طرف گہری کھائی تھی
13:26تارزن اس چٹان پر گھومنے لگا
13:30ممکو بھی اس کے ساتھ تھا
13:34اب تک انہیں کوئی ایسی چیز نظر نہ آئی تھی
13:38جسے وہ سمجھتے کہ ان کے لئے پریشانی پیدا کر سکتی ہے
13:43ہر طرف پتھر ہی پتھر اور ویرانی ہی ویرانی تھی
13:50سردار آخر یہ کیا چک کر ہے
13:54یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے
13:57ممکو نے حیران ہوتے ہوئے کہا
14:01ہم میں بھی یہی سوچ رہا ہوں کہ آخر چک کر کیا ہے
14:08سردار پونانگا کے مطابق یہاں تو کوئی خوفناک بلہ ہونی چاہیے تھی
14:15تارزن نے کہا اور پھر وہ قدم بڑھاتا ہوا
14:19اس کنگرا نمہ چٹان کے کنارے کی طرف بڑھتا چلا گیا
14:24ممکو بھی اس کے ساتھ ساتھ تھا
14:30پھر جیسے ہی وہ کنارے پر پونچے
14:33ان کے پیرن میں اچانک سرسراہت سی گونجی
14:37تارزن چنک کر اچھلا
14:41مگر اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتا
14:45چٹان کے پتھر میں سے کنتے دار بیلی سنکوں کی طرح لہراتی ہوئی تیزی سے
14:52باہر نکھلیں اور تارزن اور ممکو کے جسم کے گرد لپٹی چلی گئیں
14:59ان بیلوں میں اس قدر طاقت تھی کہ تارزن کے پیر
15:04زمین سے اکھر گئے
15:07بیلی تیزی سے بڑھتی چلی جا رہے تھی
15:11ممکو کے حلق سے بھی ایک زوردار چیخ نکھلی
15:16بیلی ان دونوں کو گھسیٹی ہوئیں چٹان کے کنارے سے نیچے جانے لگیں
15:25چند لمحوں بعد تارزن اور ممکو دونوں ان بیلوں سے
15:30لپٹے ہوئے فضاء میں لٹکے ہوئے تھے اور نیچے ہزاروں فٹ کی گھرائی تھی
15:39اسی لمحے سردار پونانگا اور اس کے دو ساتھی بھی اوپر پہنچ گئے
15:46انہم نے جب تارزن اور ممکو کا یہ حال دیکھا تو وہ چھٹک کر رہ گئے
15:56ادھر تارزن نے بڑی فرتی سے اپنا فنجر نکالا اور بیلوں کو
16:02کاٹنے کے لئے ہاتھ بڑھانا چاہا مگر رک گیا کینکہ اگر اس نے
16:08ان بیلوں کو کاٹ دیا تو وہ ہزاروں فٹ کی گھرائی میں پتھروں پر
16:14جا گرے گا اور نتیجہ ظاہر تھا ادھر ممکو بری طرح چیخ رہا تھا
16:23بیلوں کے دونوں کناروں پر نکلے ہوئے خوفنا کھنٹے جسم کو آرے کی طرح
16:30چیرتے چلے جا رہے تھے اب تارزن واقعی پریشان ہو گیا تھا کیونکہ اگر
16:40وہ ان خونی اور عجیب واو غریب بیلوں کو نہ کاٹتا تو وہ چند ہی
16:47جسم کو چیر فار کر رکھ دیتی اور اگر وہ انہیں کاٹتا تو خود وہ ہزاروں
16:54فٹ گھرائی میں گر کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا واقعی اتاری پہاڑی
17:02کی اس خوفناک بیلوں نے اسے خوفناک سزا دینی شروع کر دی تھی اب دونوں
17:10طرف موق تھی سردار پونانگا اور اس کے ساتھی انہیں افقہ لگانے شروع کر دے
17:20دیکھا تارزن ہماری دیوی نے تمہیں کیسی خوفناک سزا دی ہے اب
17:28چند لمحوں بعد تمہارا گوشت اور خون غائب ہو جائے گا اور تمہاری
17:34سزا مکمل ہو جائے گی سردار پونانگا نے خوشی سے چیختے ہوئے کہا
17:43ادھر مم کو مسلسل چیکے چلا جا رہا تھا اس کے جسم سے بھی خون بہ رہا تھا
17:52اور خوف واؤ دہشت سے اس کی ننکھی فٹی ہوئے تھی
17:58سردار بچاؤ بچاؤ یہ خونی بیلیں ہمیں مار ڈالیں گی
18:04مم کو نے چیختے ہوئے تارزن سے مخاطب ہو کر کہا
18:12تارزن نے صرف ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھر اپنے جسم کو
18:18پوری خوت سے اوپر چٹان کی طرف اچھالا
18:25خونی بیلوں نے اپنی طرف سے اسے نیچے لے جانے کی کوشش کی
18:31مگر تارزن نے چونکہ اچھلنے کے لیے پوری خوت لگا دی تھی
18:37اس لئے بیلیں اس کا مقابلہ نہ کر سکیں اور وہ فضامی اچھل کر
18:42دوبارہ چٹان کے اوپر جا گرہ
18:47ادھر مم کو نے بھی تارزن کی دیکھا دیکھی یہی حرکت کی
18:53اور وہ بھی پوری خوت سے اچھل کر چٹان پر جا گرہ
19:01چٹان کے اوپر گرتے ہی تارزن کے ہاتھ نے انتہائی برخ رفتاری
19:07سے ان خونی بیلوں پر فنجر کے وار کرنے شروع کر دے
19:13اس کا ہاتھ مشینی انداز میں چل رہا تھا اور پھر چند ہی لمحوں میں
19:19تارزن نے بیلوں کو کٹ کر اپنے آپ کو آزاد کرا لیا
19:26ادھر مم کو نے بھی اچھل کود کر کے اور پنجے مار مار کر
19:31اپنے آپ کو آزاد کرا لیا
19:34اب دونوں آزاد تھے
19:38جیسے ہی وہ دونوں آزاد ہوئے بیلیں تیزی سے سمٹی ہوئی پتھروں میں غائب ہو گئیں
19:48اب وہ چٹان پہلے کی طرح بلکل ویران تھی
19:52کوئی بیل وفیرہ موجود نہ تھی
19:57تارزن اور مم کو دونوں کے جسموں سے خون بہ رہا تھا
20:03ان کے جسموں پر ایسے نشان پڑ گئے تھے
20:06جیسے کسی نے انہیں کوڑے مارے ہوں
20:12سردار پونانگا اور اس کے ساتھ ہی ایک طرف کھڑے حیرت سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے
20:19انہیں شاید یقین نہ آ رہا تھا
20:22کہ یہ دونوں ان خوفناک بیلوں سے بچ کیسے گئے ہیں
20:26دیوی نے تمہیں معاف کر دیا ہے
20:30اور شاید ایسا پہلی بار ہوا ہے
20:35ورنہ دیوی نے جسے سزا دینی شروع کر دی ہو اسے کبھی معاف نہیں کرتی
20:42سردار پونانگا نے آگے بڑھتے ہوئے کہا
20:48بہرحال انتہائی خوفناک دیوی ہے
20:52تمہاری کیا تمہیں پہلے سے معلوم تھا
20:55کہ ان پتھروں میں خونی بیلی موجود ہیں
21:00تارزن نے قدری مسکر آتے ہوئے پوچھا
21:04نہیں
21:06میں نے بھی یہ بیلی پہلی بار دیکھی ہیں
21:11ہم نے صدیوں سے سنا ہوا تھا
21:13کہ دیوی سزا دیتی ہے
21:15مگر ہمارے رواج کے مطابق ایسے
21:19اجنبیوں کو ہم اتاری پہاڑی کی سزا دے سکتے تھے
21:24جو قبیلے کے پجاری کو مار ڈالیں
21:27چونکہ میری زندگی میں ایسا کبھی نہیں ہوا
21:33اس لئے ہم اس پہاڑی پر کبھی نہ چڑھے تھے
21:38سردار پونانگا
21:40نے جواب دیا
21:41چلو ٹھیک ہے
21:44اب تو تمہاری شرط پوری ہو گئی آؤ واپس چلیں
21:49ٹارزن نے کہا اور پہاڑی سے نیچے اترنے لگا
21:54وہ دراصل جلد از جلد نیچے جا کر اپنے اور منکوں کے زخموں پر مرہم لگانا چاہتا تھا
22:04کینکہ اب اسے زخم میں سوزش اور شدید تکلیف محسوس
22:09کھونے لگی تھی
22:11ہم چلو اب تم ہمارے مہمان ہو
22:16سردار پونانگا نے کہا اور پھر وہ پہاڑی سے نیچے اترنے لگے
22:25پہاڑی کے دامن میں پورا قبیلہ مو اٹھائے منتظر کھڑا تھا
22:31انہم نے جب ٹارزن اور منکوں کو صحیح سلامت واپس آتے دیکھا تو پہلے تو وہ حیرت زدہ رہ گئے
22:40اور پھر وہ آپس میں سرگوشیم کرنے لگے
22:44ان سب میں ایک عجیب سا حیجان سا فیل گیا تھا
22:50جب ٹارزن منکو سردار پونانگا اور اس کے دو ساتھی نیچے پونچے تو قبیلے والے ان کے گرد اکٹھے ہو
23:01گئے
23:03سردار پونانگا کیا دیوی نے انہیں سزا نہیں دی
23:08ایک وحشی نے قدرے گسیلے لہجے میں کہا
23:13اتاری دیوی نے انہیں تھوڑی سی سزا دے کر معاف کر دیا ہے
23:20ان کے جسموں پر نشان دیکھ رہے ہو
23:24یہ نشان اسی سزا کا نتیجہ ہی
23:28سردار پونانگا نے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا
23:34ایسا نہیں ہو سکتا پجاری کا قتل ہمارے قبیلے کے لیے انتہائی خوفناک ثابت ہوگا
23:43پجاری کی روح پورے قبیلے پر نہوستوں کی بارش کر دے گی
23:50انہیں قتل ہونا چاہیے
23:52چند وحشی نے انتہائی گسیلے انداز میں اچھلتے ہوئے کہا
23:58ان کی انہیں غصے سے سرخ ہو رہے تھیں
24:05جب دیوی نے انہیں معاف کر دیا ہے تو
24:09پھر ہمیں کیا اختیار ہے کہ ہم انہیں سزا دیں
24:12اس لیے اب تارزن ہمارا معزز مہمان ہے
24:16سردار پونانگا نے بھی جواب میں چیفتے ہوئے کہا
24:21نہیں ہم انتقام لیں گے
24:26پجاری کا انتقام لیں گے
24:28سردار کے جواب میں تمام وحشیم نے چیفنا شروع کر دیا
24:34فہرو پہلے مجھے بتاؤ کہ تم پجاری کا انتقام کیسے لینا چاہتے ہو
24:43اچانک تارزن نے ہاتھ اٹھا کر بابکار لہجے میں کہا
24:50تارزن کے بولتے ہی تمام وحشی یا قدم فاموش ہو گئے
24:56البتہ
24:57ایک وحشی اچھل کر آگے آ گیا
25:01اس کے ہاتھ میں ایک لمبا سا نیزہ تھا جس کا سرا دو شافہ تھا
25:08میں انتقام لوں گا میں پجاری کا بھائی ہوں
25:14اس وحشی نے دو شاخہ نیزہ لہراتے ہوئے جواب دیا
25:20ٹھیک ہے تم بھی آ جاؤ مقابلے میں
25:24تارزن نے قریب پڑی ہوئی پجاری کی لاش سے
25:28نیزہ کھینچتے ہوئے کہا
25:31نہیں
25:32میری اجازت کے بغیر یہ مقابلہ نہیں ہو سکتا
25:38دیوی کے معاف کر دینے کے بعد ہمیں انتقام لینے
25:44کا کوئی افتیار نہیں ہے
25:47اچانک سردار پونانگا نے
25:50اچھل کر ان دونوں کے درمیان میں آتے ہوئے کہا
25:56دیوی نے انہیں تھوڑی سی سزا دے کر ہمیں
26:02بتا دیا ہے کہ باقی سزا ہم دے سکتے ہی
26:06اگر دیوی اسے معاف کرتی تو سرے سے ہی انہیں کچھ نہ
26:13کہتی پجاری کے بھائی نے دلیل دیتے ہوئے جواب دیا
26:19نچومڑ سہی کہہ رہا ہے
26:23ہماری دیوی نے ہمیں
26:26ان سے پجاری کا انتقام لینے کا اشارہ دے دیا ہے
26:31تمام وحشیوں نے پجاری کے بھائی نچومڑ کی تائید
26:37کرتے ہوئے کہا
26:40سردار پونانگا تم ہٹ جاؤ ایک طرف میں
26:45اس نچومڑ سے ابھی نپٹ لیتا ہوں
26:49تارزن نے تمام
26:51وحشیوں کو نچومڑ کی تائید کرتے دیکھ کر کہا
26:57اور پھر سردار پونانگا نے بھی شاید اپنے تمام
27:02ساتھیوں کو پجاری کے بھائی نچومڑ کے حفمی بولتے
27:08دیکھ کر ایک طرف ہٹ جانے کا فیصلہ کر لیا
27:13اور پھر ایک طرف ہٹتا چلا گیا
27:17اب تارزن اور نچومڑ ہاتھوں میں
27:22اپنے اپنے نیزے پکڑے آمنے سامنے کھڑے تھے
27:27ممکو تارزن کے قریب ہی ایک طرف کھڑا ہوا تھا
27:32باقی تمام وحشیوں نے
27:35تارزن اور نچومڑ کے گرد گھیرا ڈال لیا
27:41اور پھر جیسے بجلی چمکتی ہے
27:45اس طرح نچومڑ کا ہاتھ فضا میں بلند ہوا
27:48اور اس کا خوفناک دو شافہ نیزہ
27:52سیدھا تارزن کے سینے کی طرف بڑھا
27:56تارزن شاید ابھی اس کے لئے تیار نہیں تھا
28:00اس لئے اسے سنبھلنے کا موقع نہ مل سکا
28:05مگر اس سے پہلے کی نچومڑ کا
28:09دو شافہ نیزہ تارزن کے سینے میں بھستا
28:13اچانک قریب کھڑے ممکوں نے اپنی
28:17جگر سے چھلانگ لگائی اور وہ دو شافہ نیزے کے ساتھ
28:23پوری قوت سے ٹکرایا اور نیزے کا روح بدل گیا
28:29اس طرح تارزن اس یقینی اور اچانک موت سے بال بال بچ گیا
28:37تارزن کے لئے اتنا موقع ہی کافی تھا وہ اپنے آپ کو سنبھال چکا تھا
28:43اور پھر جیسے ہی نچومڑ کے نیزے کا روح بدلہ
28:49تارزن کا نیزہ حرکت میں آیا اور دوسرے لمحے نچومڑ
28:55جو اپنے نیزے کو سنبھالنے میں مصروف تھا
28:58ایک چیف مار کر نیچے گر گیا
29:03تارزن کا نیزہ اس کی پسلین تورتا ہوا
29:07سیدھا اس کے دل میں گھستا چلا گیا
29:10اور نچومڑ بھی اپنے بھائی کی طرح چند لمحے ترپنے کے بعد
29:16تھنڈا ہو گیا
29:20نچومڑ کے مرتے ہی تارزن نے ایک زوردار فاتحانہ نعرہ مارا
29:26اور پھر اپنا نیزہ نچومڑ کی لاش سے کھینچ لیا
29:31اور نچومڑ کے سینے سے خون تیزی کے ساتھ نکلنے لگا
29:36اور زمین پر پھلنے لگا
29:40اور کسی نے انتقام لینا ہے تو سامنے آ جائے
29:45تارزن نے نیزہ لہراتے ہوئے کہا
29:48مگر نچومڑ کے مرتے ہی سردار پونانگا
29:54اور اس کے تمام ساتھی تارزن کے سامنے عدب سے جھک گئے
30:00تم واقعی جنگلوں کے بادشاہ ہو تارزن
30:04جنگلوں کا بادشاہ ہی پجاری فاندان کا خاتمہ کر سکتا ہے
30:11سب وحشیوں نے بیک زبان ہو کر کہا
30:16چلو کسی طرح تمہاری تسلیت ہو ہوئی سردار پونانگا میری بات سنو
30:24تارزن نے مکمین لہجے میں کہا
30:28حکم کرو سردار تارزن
30:31تمہارے حکم کی تمیر ہوگی
30:35سردار پونانگا نے جواب دیتے ہوئے کہا
30:40میری زخم میں شدید سوزش ہو رہی ہے
30:44اپنے حکیموں کو کہو کہ وہ ان پر مرہم لگائیں
30:49تارزن نے حکم دیتے ہوئے کہا
30:53ابھی لو سردار تارزن
30:56سردار پونانگا نے مود بانا لہجے میں کہا
31:02اور پھر سردار پونانگا کے حکم پر
31:06قبیلے کے حکیم جنگل میں دوڑتے چلے گئے
31:10تاکہ مرہم کے لئے جڑی بوٹیاں اکٹھی کر کے لے آئیں
31:15سردار پونانگا تارزن
31:19اور منکوں کو ہمراہ لے کر اپنی جھمپڑی میں آ گیا
31:24وہ عورت بھی وہم موجود تھی وہ اب بلکل ٹھیک تھاک تھی
31:32تارزن کے پوچھنے پر
31:34اور عورت نے بتایا کہ وہ سرحد قبیلے کی رہنے والی ہے
31:39اور راستہ بھول کر اس قبیلے میں آ گئی تھی
31:45اور پھر اس عورت نے تارزن کا شکریہ ادا کیا
31:50کہ اس کے آ جانے کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی
31:56تارزن نے اسے تسلی دی اور پھر تھوڑی دیر کے بعد
32:01حکیم واپس آ گئے انہم نے بہت سی جڑی
32:06بوٹیاں اٹھا رکھے تھیں
32:08پھر انہم نے جڑی بوٹیاں پیس کر ان کا مرہم بنایا
32:14اور تارزن اور منکوں کے زخموں پر لگا دیا
32:19مرہم لگتے ہی تارزن کو یوں محسوس ہوا
32:23جیسے زخموں پر برف لگا دی گئی ہو
32:28تارزن اور منکوں دو روز تک وہم بطور مہمان رہے
32:33اور پھر جب ان دونوں کے زخم ٹھیک ہو گئے
32:37تو تارزن نے سردار پونانگا سے کہا
32:42کہ وہ اس عورت کو اس کے قبیلے تک پہنچا دے
32:48چنونچے سردار پونانگا نے اپنے قبیلے کے دو آدمیوں کے ساتھ
32:54اس عورت کو واپس اس کے قبیلے میں وجھوا دیا
33:01قبیلے سے روانہ ہوتے وقت تارزن نے تمام قبیلے کو اکٹھا کیا
33:08اور انہیں اس بات کی ہدایت کی کہ آئندہ وہ کسی آدمی یا عورت پر ظلم نہیں کریں گے
33:16قبیلے والے چنونکہ تارزن سے بہت مروب ہو چکے تھے
33:21اس لئے ان سب نے اتاری دیوی کے قسم کھا کر وعدہ کیا
33:26کہ وہ آئندہ کسی پر ظلم نہیں کریں گے
33:30بلکہ ایک دوسرے سے محبت کریں گے
33:36پھر سردار پونانگا اور اس کا پورا قبیلہ اپنی سرحد تک
33:41تارزن اور ممکوں کو چھوڑنے کے لئے آیا
33:45تارزن نے سردار پونانگا کو اپنے جنگل میں آنے کی دعوت دی
33:51اور پھر وہ ممکوں کو کندھے پر بٹھا کر اپنے جنگل کی طرف روانہ ہو گیا
34:00تارزن سوچ رہا تھا کہ اس بار واقعی وہ موت کے پنجے سے نکلنے میں کامیاب ہوا ہے
34:08ورنہ پہاڑی کی خونی بیلوں نے اسے موت کے موں میں پہنچا ہی دیا تھا
34:16ختم شد
Comments

Recommended