00:00इस नए और दिल्चस्प तफसीली जाइजे में खुशामदीद, आज हम एक ऐसे मौज़ू पर बात करने वाले हैं जो बजाहर
00:05बिलकुल मुख्तलिफ चीजों को आपस में जोड़ता है, यानी हमारा लहजा और हमारी माली तरकी, जी हाँ, बोलने का अंदाज
00:13और बैंक बैल
00:28अंदाज, वाकई हमारे बैंक बैलन्स को बढ़ा या घटा सकता है, हमाम तोर पर यही समझते हैं ना कि मारशी
00:34तरकी का तहलुक सिर्फ सक्त महनत या कारोबारी फैसलों से होता है, लेकिन जरा ठेरिए, सोर्स मौद हमारी तवज़ु एक
00:41बिलकुल नई तरफ दिलाता है, �
00:46एक ऐसी जबरदस्त पोशीदा ताकत रखते हैं जो मारशी हालात को पूरी तरह बदल सकती है, और यही वो बनियादी
00:52नुक्ता है जिस पर ये पूरा जायज़ा खड़ा है, अच्छा अब एक इनतहाई आम सी सूरत हाल को देखते हैं,
00:58सोर्स के मताबक हमारे मौशरे की एक
01:00बहुत आम शिकायत ये है कि करीबी रिष्टों में, चाहे वो दोस्त हों, भाई, शोहर या वालिद, अक्सर किसी ना
01:07किसी की जबान बहुत तेज और तल्ख होती है, बात बात पे तंस करना, सक्त तनकीद करना या उची आवाज
01:14में बोलना, ये तल्खी जाहर है, रिष्ट
01:30जरा तसवर करें, एक तरफ वो शक्स है जो हर वक्त तनकीद बराय तनकीद करता है, जिसका लहजा उचा है
01:37और जो बात बात पर दूसरों को चुप करवाने की कोशिश करता है, दावा ये है कि ऐसे शक्स का
01:42बैंक बैलन्स अमोमन खाली ही रहता है, जी हाँ खाली, और दू
01:46दूसरी तरफ वो शक्स है जो हमेशा मोहतरम और शाहिसता लहजा अपनाता है, सोर्स के मताबक ये नरम लहजे वाला
01:51शक्स अपनी जिन्दगी में बेपना दौलत इकठी करने की सलायत रखता है, यानि रवये और दौलत का सीधा सीधा कनेक्शन
01:58अब इस कनेक्शन को इल्म-े नुजूम के हवाले से समझते हैं, सोर्स में माहर इल्म-े नुजूम के हवाले
02:04से एक जबरदस्त बात बताई गई है, आस्ट्रॉलजी में इनसानी जिन्दगी को मुखतलिफ खानों या हाउसेज में तक्सीम किया जाता
02:11है, और हिरान कर देने
02:28So, the question is,
02:58کہ یہ شخص مستقبل میں کتنا مال و دولت سمیٹنے والا ہے
03:01اب اس بیس میں ایک بہت خوبصورت مذہبی اور روحانی زاویہ بھی شامل ہوتا ہے
03:07سورس مٹیریل ہمیں سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لے کے جاتا ہے
03:11بتایا گیا ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
03:15اپنی پوری زندگی ہمیشہ انتہائی دھیمے اور نرم لہجے میں گفتگو فرمائی
03:20اور یہاں تک کہ اگر کوئی بات ناپسند بھی گزری
03:22تب بھی چہرے سے ناغواری ظاہر نہیں ہونے دی
03:25گویا اسلاح کا پہلو ہمیشہ پیار اور نرمی میں چھپا ہے
03:28سورس اس عزیم روایت کو اپنانے کو نہ صرف روحانی تسکین کا باعث بتاتا ہے
03:32بلکہ اسے دنیاوی اور ذاتی کامیابی سے بھی برائراز جوڑتا ہے
03:35اور یہی بات ہمارے پچھلے تصور کو مزید واضح کر دیتی ہے
03:40ہمام طور پر سمجھتے ہیں نا کہ حسن اخلاق کا مطلب صرف اچھے کام کرنا ہے
03:45لیکن سورس اس بات پر زور دیتا ہے کہ اچھے اخلاق کی اصل بنیاد دراصل زبان اور گفتگو کی مٹھاس
03:52پر ہے
03:53یعنی زبان کا اچھا ہونا محض ایک سماجی خوبی نہیں ہے
03:56بلکہ لیے اخلاق کی وہ عالی قسم ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے
04:00کہ انسان کا اخلاق جتنا شاندار ہوگا وہ اتنا ہی زیادہ مال اور دولت حاصل کر سکتا ہے
04:06سیدھے لفظوں میں میٹھی زبان معاشی ترقی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے
04:10خیر یہاں تک تو ہم نے مسئلے کو اور اس کے اثرات کو اچھی طرح سمجھ لیا
04:15لیکن اب ایک بڑا عملی سوال سامنے آتا ہے
04:18وہ یہ کہ اگر کسی کو محسوس ہو کہ تلخ لہجے والی یہ خامی گھر کے کسی فرد میں
04:24یا شاید اپنے ہی اندر موجود ہے تو اب کیا کیا جائے
04:28پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ سورس مواد صرف مسئلے کی نشاندہی کر کے ہمیں تنہا نہیں چھوڑتا
04:34بلکہ ایک باقاعدہ روحانی حل بھی پیش کرتا ہے
04:37تو چلیے اس حل کی طرف بڑھتے ہیں
04:39اس سخت زبانی سے چھٹکارہ پانے کے لیے
04:42سورس مٹیریل میں ماہر علم نجوم جانی کی طرف سے
04:46ایک خاص روحانی علاج یعنی ایک وظیفہ تجویز کیا گیا ہے
04:51اس روحانی علاج کا ایک ہی بنیادی مقصد ہے
04:54زبان کی سختی کو ختم کرنا اور اس میں وہ مٹھاس پیدا کرنا
04:58جو نجوم کے مطابق بند دروازے کھول دیتی ہے اور دولت کے راستے بناتی ہے
05:03تو آئیے دیکھتے ہیں کہ عمل دراصل کیا ہے اور اسے کیسے کرنا ہے
05:07اس عمل کی ترتیب کو بہت دھیان سے سمجھنے کی ضرورت ہے
05:11سورس کے مطابق سب سے پہلے پیلے عقیق کے پتھر والی تسبیح کا ہونا لازمی ہے
05:16پھر عمل کا آغاز چودہ مرتبہ درود پاک پڑھ کر کرنا ہے
05:20اس کے بعد روزانہ اسی پیلے عقیق کی تسبیح پر تین تسبیح آیت کریمہ کی پڑھنی ہے
05:26یعنی لا الہ الا انتہ سبحانہ کا انہی کنتو منہ زالیمین
05:31اور پھر آخر میں دوبارہ چودہ مرتبہ درود پاک پڑھنا ہے
05:34سورس اس بات پر بہت زور دیتا ہے کہ ان مخصوص اقدامات اور ترتیب کی سختی سے پابندی کی جائے
05:40اچھا اس وظیفے کے ساتھ ایک بہت ہی خاص ہندسہ جڑاوائے اور وہ ہندسہ ہے تیس
05:47شرط یہ رکھی گئی ہے کہ روزانہ ٹھیک تیس روپے کی زکاة یا صدقہ نکالنا ہے
05:52نہ کم نہ زیادہ
05:54سورس کی واضح ہدایت ہے کہ یہ تیس روپے روزانہ کی بنیاد پر
05:57کسی بھی مستحق فرد کسی مسجد یا امام بارگاہ کو ہدیہ کر دیے جائیں
06:02یہ بظاہر ایک بہت چھوٹا سا مالی عمل ہے
06:05لیکن اس روحانی علاج کو مکمل اور موثر بنانے کے لیے اسے بے حد ضروری قرار دیا گیا ہے
06:11اور پھر سے وہی ہندسہ تیس
06:13لیکن اس بار اس تیس کا تعلق پیسوں سے نہیں ہے بلکہ وقت سے ہے
06:16سوس مٹیریل کا دعویٰ ہے کہ اگر کوئی شخص
06:18اس بتایا گئے وظیفے اور روزانہ تیس روپے صدقے کے عمل کو پوری پابندی سے اپناتا ہے
06:23تو ٹھیک تیس دن کے اندر اندر اس کے لہجے میں ایک حیران انگیز اور واضح بہتری آنا شروع ہو
06:27جائے گی
06:27اس تیس دن کی مدد کو ایک ٹرننگ پوائنٹ کہا گیا ہے
06:30جس کے بعد انسان کی زندگی میں نمائیہ مضبط تبدیلیاں اور مالی خوشحالی کے اثار آنا شروع ہو جاتے ہیں
06:35تو اس ساری بیس اور سورسز کا نچوڑ کیا نکلا؟
06:38وہ یہ کہ اگر واقعی ذاتی اور مالی ترقی چاہیے
06:41تو صرف دن رات ایک کر کے معاشی جدو جہد کرنا ہی کافی نہیں ہے
06:45اپنی زبان اور اپنے گفتگو کے انداز میں مٹھاس اور شائستگی پیدا کرنا
06:49بلکل اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ محنت کرنا
06:52علم نجوم کی بصیرت ہو روحانی وظائف ہو
06:55یہ ہماری مذہبی روایات
06:56ان سب کا ایک ہی متفقہ پیغام ہے
06:59اپنے لہجے کو درست کریں اور خوشحالی کا راستے خود بخود ہموار ہوتے چلے جائیں گے
07:03اس تفصیلی جائزے کے اختتام پر
07:06ایک بہت ہی گہرا سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے
07:09آج جو کچھ ہم نے سوس مواد کی روشنی میں سیکھا
07:12کیا وہ اس بات کا تقاضہ نہیں کرتا
07:14کہ ہم اپنی روزمرہ کی بول چال اور الفاظ کے چناؤں کا ایک بار پھر سے جائزہ لیں
07:18اگر واقعی الفاظ کی مٹھاس کا
07:20ہماری کامیابی اور بینک بیلنس سے اتنا گہرا اور سیدھا تعلق ہے
07:24تو یقین مانے یہ اپنی گفتگو کے انداز کو بدلنے کا بلکل صحیح وقت ہے
07:28اس سفر میں ہمارے ساتھ رہنے کا بہت شکریہ
07:31ایک نئے جائزے کے ساتھ جل ملاقات ہوگی
Comments