00:00حقیقی سکون کی تلاش، ایک فلسفیانہ اور روحانی تجزیہ
00:03آج ایک ایسے موضوع پر بات ہوگی جو ہم سب کی زندگیوں سے بہت گہرا تعلق رکھتا ہے
00:09آج کے اس جدید دور میں یہ بڑی عام سی بات ہو گئی ہے کہ انسان کے پاس مادی دولت
00:14بھی ہے
00:14کامیابی بھی اور دنیا بھر کی بے شمار سہولیات بھی
00:17لیکن اگر کچھ نہیں ہے تو وہ ہے اندرونی سکون
00:21بلکل ایک عجیب سی بے چینی ہر طرف چھائی ہوئی ہے
00:24آج کے اس تجزیے میں ہم اسی کشمکش، اس کے پیچھے چھپی اصل وجوہات
00:28اور سب سے اہم اس کے روحانی حلقہ ایک بہت تفصیلی جائزہ لینے والے ہیں
00:33تو چلیے سیدھا موضوع کی طرف چلتے ہیں
00:35اب ذرا اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے ایک بہت ہی کم مال کی شیر پر غور کریں
00:40کسی کو نفرت ہے مجھ سے، کوئی مجھ سے پیار کر بیٹھا ہے
00:45کتنی عجیب ہے یہ دنیا کہ کوئی مجھ سے ملنا نہیں چاہتا
00:49اور کوئی میرے انتظار میں بیٹھا ہے
00:51واہ! مطلب یہ اشار ہماری خواہشات اور اس دنیا کے کتنے گھرے تضادات کو
00:57کتنی سادگی سے بیان کر دیتے ہیں
00:59انسان زندگی میں بے وقت محبت بھی چاہتا ہے
01:01اعتبار بھی اور یہ بھی کہ کوئی اس کا انتظار کرے
01:04لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب یہ چیزیں ہماری منشاہ کے مطابق نہیں ملتی نہ
01:09تو بس وہیں سے بے سکونی جنم لینا شروع کر دیتی ہے
01:12اور یہی وہ مقام ہے جہاں سکون کی چار کھوئی وجہتیں سامنے آتی ہیں
01:17ذہنی سکون، کلبی سکون، گھرے لو سکون اور کاروباری سکون
01:21اب یہاں سب سے اہم اور غور طلب نکتہ یہ ہے
01:25کہ آج کل اللہ کا دیا ہوا بہت کچھ میاثر ہے
01:28مادی وسائل کی، دولت کی، خاندانی اور معشرتی عزت کی کوئی کم ہی نہیں ہے
01:32لیکن جب ہم زندگی کے ان چار مخصوص پہلوں کو دیکھتے ہیں
01:37تو ایک بہت گہرا خلا محسوس ہوتا ہے
01:39سب کچھ ہونے کے باوجود انسان ان جہاتوں میں شدید بے سکونی کا شکار ہے
01:44آخر یہ خلا کیوں آئیں؟
01:45دراصل اس سوال کا جواب ان دو بلکل مختلف کیفیتوں کے تقابلے میں چھپا ہے
01:50ایک طرف مادی دنیا ہے اور دوسری طرف روحانی کیفیت
01:54مادی دنیا کا علمیہ یہ ہے کہ وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنے خالق سے دور ہوتی جا رہی
01:59ہے
02:00جبکہ اس کے برعکس ذرا پچھلی نسلوں کی روحانی کیفیت کو دیکھیں
02:03ہمارے بزرگ اپنی زندگیاں کتنے بھر پور اور پور سکون طریقے سے گزار گئے
02:08اور اس کا راز کیا تھا؟
02:09ان کا وہ مضبوط رشتہ جو سجدے اور ذکر کے ذریعے سیدھا اپنے رب سے جڑاوا تھا
02:14آج مادی دنیا کی اس اندھی دوڑ میں ہم سے وہ روحانی رشتہ کہیں پیچھے چھوڑ گیا ہے
02:19اور سچ تو یہ ہے کہ یہی ہماری بے سکونی کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ ہے
02:24یہی وجہ ہے کہ حقیقی کشش صرف کسی کی ظاہری شخصیت سے نہیں بلکہ ذکرِ الٰہی سے آتی ہے
02:31زندگی میں اکثر ایسے لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے
02:34جن کے پاس بیٹھنے سے ہی ایک عجیب سی تمانیت اور سکون محسوس ہوتا ہے
02:39ہے نا؟
02:40اب یہ کوئی ان کے پہناوے، ظاہری خوبصورتی یا گفتگو کا کمال نہیں ہوتا؟
02:44بلکل نہیں
02:45در حقیقت یہ ایک مکناطی سی کشش ہوتی ہے
02:49جو ان کے اندر موجود پوشیدہ ذکرِ الٰہی اور خالق کے قربت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے
02:54وہ جو اندر کا چھپا ہوا روحانی سکون ہے نا؟
02:58وہی اصل میں انسان کو ان کے طرف کھینچتا ہے
03:00اور اس پوری بیچینی کی سب سے بڑی وجہ
03:03مرزا غالب کے اس کمال کے شیر میں پوشیدہ ہے
03:06تم بھی غالب کمال کرتے ہو
03:08لوگوں سے امیدے لگا کے شکوے خدا سے کرتے ہو
03:12مطلب یہ شیر ہماری موجودہ کیفیت کی بلکل صحیح اکاسی کرتا ہے
03:16انسان کی سب سے بڑی ٹرائجیڈی
03:18سب سے بڑی غلطی ہی یہی ہے
03:20کہ وہ اپنی توقعات اور امیدیں
03:22فانی انسانوں سے وابستہ کر لیتا ہے
03:25اور پھر جب وہ امیدیں ٹوپتی ہیں
03:27تو انسان فوراں اپنے خالق سے شکوے کرنا شروع کر دیتا ہے
03:30اسی شائری کے تسلسل میں
03:32اگر تھوڑا اور گہرائی میں جائیں
03:35تو ایک بہت ہی دلچسپ نفسیاتی نکتہ سامنے آتا ہے
03:38وہ یہ کہ دوسروں سے ناراضگی
03:40دراصل غلط جگہ امیدیں وابستہ کرنے پر
03:43اپنی ہی ذات سے ناراضگی ہے
03:45جب انسان دوسروں سے مایوس ہوتا ہے نا
03:48تو وہ درحقیقت دنیا یا لوگوں پر اتنا غصہ نہیں ہوتا
03:51جتنا اپنی ذات پر خفا ہوتا ہے
03:53کیونکہ لا شعوری طور پر
03:55اسے یہ احساس ہو رہا ہوتا ہے
03:57کہ اس نے انسانوں سے وہ توقعات کیوں رکھیں
04:00جو پوری کرنا صرف اور صرف خالق کائنات کے بس میں ہے
04:03غلط جگہ امیدیں لگانے کا حتمی نتیجہ
04:06مایوسی اور غصے کے سوا اور کچھ نہیں نکل سکتا
04:09روحانی علاج
04:11فلسفے سے عمل کی طرف
04:13تو آئیے اب اس فلسفے سے نکل کر
04:15تھوڑا عمل کی جانب چلتے ہیں
04:17اس بے سکونی کا ایک انتہائی مخصوص
04:21اور آزمودہ روحانی حل تجویز کیا گیا ہے
04:24یہ تین سادہ مگر بہت طاقتور مراحل پر مشتمل ہے
04:29پہلا قدم چودہ مرتبہ درود پاک پڑھنا ہے
04:32دوسرا قدم
04:34اللہ تعالیٰ کے دو انتہائی بابرکت اور شفا دینے والے نام
04:38یا سلامو یا رحمان
04:40ان کا سو مرتبہ ورد کرنا ہے
04:42اور پھر تیسرا قدم
04:43آخر میں دوبارہ چودہ مرتبہ درود پاک پڑھنا ہے
04:47یہ عمل چوبیس گھنٹوں میں کسی بھی وقت
04:50جب بھی آسانی ہو کیا جا سکتا ہے
04:52اس کا بنیادی مقصد
04:54زندگی میں اس کھوئے ہوئے
04:56الہی سکون اور رحمت کو
04:57باقاعدہ دعوت دینا ہے
04:59اور اس روزانہ کے ذکر کے ساتھ ساتھ
05:02ایک اور چیز کا ذکر ملتا ہے
05:04جسے تعویز فتح خیبر کہا جاتا ہے
05:06یہ دنیاوی مشکلات کے درمیان
05:08ڈپریشن کو ختم کرنے
05:10بے سکونی دور کرنے
05:11اور اندرونی سکون بحال کرنے کے لیے
05:13استعمال ہونے والا ایک مخصوص
05:15روحانی علاج ہے
05:16جو لوگ ذہنی دباؤ اور بے سکونی کا شکار ہیں
05:20ان کے لیے یہ ایک بے حد طاقتور
05:22ذریعہ سمجھا جاتا ہے
05:23تاکہ وہ ان منفی کیفیات کو جڑ سے ختم کر کے
05:26اپنے ذہن کو ایک پرسکون حالت میں
05:28واپس لاسکیں
05:29اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے
05:31کہ ان تمام روحانی عامال کا
05:33اصل مقصد ہے کیا
05:34دراصل امیدوں کو مخلوق سے ہٹا کر
05:37خالق کی طرف مرنے سے ہی
05:39ذہن مکمل طور پر پرسکون ہو جاتا ہے
05:42اور شکوے ختم ہو جاتے ہیں
05:44جب ہماری توقعات دنیا سے کٹ کر
05:46صرف اور صرف ایک ذات
05:48یعنی خالق کے کائنات کے ساتھ
05:50مضبوطی سے جڑ جاتی ہیں
05:52تو ایک کم مال کا جادو ہوتا ہے
05:54پھر زندگی سے یہ سارے شکوے
05:56یہ روز مرہ کی شکایات اور گلے
05:58خود بخود مٹ جاتے ہیں
06:00ذہن ایک ایسی حالت میں پہنچ جاتا ہے
06:03جہاں شکر اور تمانیت کے سوا
06:05کچھ باقی نہیں رہتا
06:06تو آج کی اس تجزیہ کو سمیٹتے ہوئے
06:08ایک بہت ہی گہرا سوال ہے
06:10جس پر ہم سب کو تنہائی میں
06:12غور کرنے کی ضرورت ہے
06:13کیا حقیقی اور دائمی سکون
06:15خالق کے بجائے مخلوق میں
06:17تلاش کرنے سے کبھی مل سکتا ہے
06:19ذرا سوچئے گا ضرور
06:21آج کے اس تیز رفتار اور مادیت پرست
06:23دور میں ہماری امیدوں کا
06:25اصل مرکز آخر ہے کہاں
Comments