00:00KABY KABY AYSA NAHY LAKTA KAY INSAN CHAHAYE JITNINI BHI KOOSHISH KER LAYE, HALAT USKE KHILAF HHI RAHTAY HIN, JAYSSE
00:06KOYI APNI KISMET KEY HATHON BILKUL MAJBOUR HO, OR KUCH BEDL HHI NA SAKTA HO.
00:11ÁJ HUM ISI AHSAS KI GHEHRAI MEH ATRING GAYE, OR DEEKHING GAYE KAY MAH KHUDZ IS SE NIKALNESKA KYA RASTA
00:16DIKHATA HAY.
00:17اور یہ خیال یہ سوچ ذہن میں آنا کوئی عجیب بات نہیں ہے.
00:21جب بار بار ناکامی ہو رہی ہو یا رشتے بگڑ رہے ہو تو انسان اکثر یہی سوچتا ہے کہ شاید
00:27میری قسمت میں ہی کوئی خرابی ہے.
00:29یہ ایک بہتی بوجھل خیال ہے جس کا سامنا ہم میں سے کئی لوگوں کو کبھی نہ کبھی ہوتا ہے.
00:35اور دیکھیں یہاں ایک بہت گہرا نکتہ سامنے آتا ہے.
00:39ماخذ ہمیں بتاتا ہے کہ مسئلہ صرف اپنی قسمت کو برا کہنے کا نہیں ہے
00:44بلکہ جب دوسروں کی کامیابیوں کو حسرت سے دیکھا جاتا ہے نا
00:48تو یہ احساس اور بھی زیادہ گہرا ہو جاتا ہے.
00:51یہ موازنہ انسان کو ایک منفی چکر میں بری طرح پھسا دیتا ہے.
00:56تو جسے ہم بدقسمتی کا نام دیتے ہیں وہ اصل میں ہے کیا؟
01:01کیا یہ کوئی غیبی طاقت ہے؟
01:04ماخذ کے مطابق ایسا بلکل نہیں ہے.
01:06بلکہ یہ کچھ ٹھوس نشانیاں ہیں، کچھ علامات ہیں جنہیں ہم اپنی زندگی میں پہچان سکتے ہیں.
01:14آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ کیا ہیں؟
01:16اچھا سب سے پہلی اور سب سے واضح نشانی مالی معاملات میں نظر آتی ہے.
01:21پیسہ ہاتھ میں آتا تو ہے مگر جیسے ریت کی طرح پھسل جاتا ہے.
01:25اخراجات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں اور انسان کو لگتا ہے کہ اس کے کام میں کوئی بھرکت ہی
01:30نہیں رہی.
01:30لیکن یہ اثر صرف مالی حالات تک نہیں رہتا.
01:34آہستہ آہستہ یہ ہمارے رشتوں میں بھی زہر گھولنا شروع کر دیتا ہے.
01:37چھوٹی چھوٹی بلکل معمولی باتوں پر دوستوں اور رشتہ داروں سے تلخ کلامی اور چھگڑے ہونے لگتے ہیں.
01:43اور یہ سلسلہ یہی پر نہیں رکھتا.
01:46یہ جو مسلسل چھگڑے ہیں یہ رشتوں میں درارے ڈال دیتے ہیں.
01:49اور بعض اوقات بات نوکری چھوٹنے تک بھی پہنچ جاتی ہے.
01:52ایسا لگتا ہے جیسے زندگی میں ہر طرف سے مضاحمت کا سامنا ہے اور ہر چیز منفی ہوتی جا رہی
01:58ہے.
01:59ماخص کے مطابق یہ بدقسمتی کی سب سے بڑی نشانی ہے.
02:03مکمل تنہائی.
02:04جب اچھے وقت میں سب ساتھ تھے لیکن جیسے ہی برا وقت آیا کوئی بھی ساتھ کھڑا نظر نہیں آتا.
02:10اور یہ احساس انسان کو اندر سے توڑ کر رکھ دیتا ہے.
02:14اچھا تو اب تک ہم نے مسئلے کی بات کی.
02:17آئیے اب اس گفتگو کا رخ ایک بالکل نئے اور میں کہوں گی کہ ایک بہت طاقتور خیال کی طرف
02:23موڑتے ہیں.
02:25کیا ہو اگر قسمت کوئی پتھر پر لکھی لکیر نہ ہو.
02:28بلکہ ہمارے اپنے آمال کا ہی نتیجہ ہو.
02:31یہ ایک بہت ہی بہت ہی طاقتور نکتہ ہے.
02:35ماخص ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیں احسن تقویم یعنی بہترین ساخت پر پیدا کیا گیا ہے.
02:42اس کا مطلب یہ ہوا کہ پیدائشی طور پر کوئی بھی بدقسمت نہیں ہوتا.
02:47ہماری زندگی کا رخ اور اس کے نتائج دراصل ہمارے اپنے آمال پر منحصر ہوتے ہیں.
02:52تو یہاں دو بلکل مختلف سوچ کے زاویے ہیں.
02:56ایک طرف بیبسی کا حساس ہے کہ ہم کٹ پتلی ہیں.
02:59اور دوسری طرف یہ با اختیار نظریہ کہ ہمیں بہترین صلاحیتوں سے نوازا گیا ہے اور ہم اپنے آمال کے
03:06خود ذمہ دار ہیں.
03:07یہ سوچ کا ایک انقلابی فرق ہے.
03:10ماخذ میں ایک بہت خوبصورت مثال دی گئی ہے کہ کبھی کبھی ہمارے اپنے آمال ہی ہمارے راستے میں ایک
03:16رکاوٹ یا ایک پل بنا دیتے ہیں جسے پار کرنا مشکل ہو جاتا ہے.
03:21ہماری قسمت تو کھلی ہوتی ہے لیکن ہم خود ہی اپنا راستہ کارٹ بیٹھتے ہیں.
03:25تو اگر یہ رکاوٹ ہم نے خود بنائی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اسے ہٹانے کی طاقت بھی
03:30ہمارے ہی پاس ہے.
03:31تو آئیے اب مسئلے کی تشخیص سے آگے بڑھ کر اس کے حل کی طرف چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں
03:38کہ ماخذ ہمیں کیا عملی منصوبہ دیتا ہے.
03:41یہ پانچ اقدامات بہت سادہ ہیں لیکن بہت گہرے ہیں.
03:45نماز کی پابندی اللہ کے لیے صدقہ اپنی استطاعت کے مطابق، اچھی گفتگو، صبر کے ساتھ محنت اور آخر میں
03:54ایک مخصوص روحانی عمل یہ سب مل کر ایک مصبت تبدیلی کا آغاز کرتے ہیں.
04:00اچھا وہ جو پانچوہ قدم تھا اس کی مزید وضاحت بھی کی گئی ہے۔
04:05ماخذ ہدایت دیتا ہے کہ اس عمل کو موثر بنانے کے لیے روزانہ نو مرتبہ سورہ اثر کی تلاوت کی
04:13جائے۔
04:14اور اس عمل کو مکمل کرنے کے لیے ایک آخری ہدایت بھی ہے کہ سورہ الاسر کی تلاوت سے پہلے
04:19اور بعد میں چودہ مرتبہ درود پاک پڑھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
04:23تو اس ساری گفتگو کا نچوڑ کیا ہے؟
04:27نچوڑ بس یہی ہے کہ انسان اپنی زندگی کے سفر میں کوئی بے بس مسافر نہیں بلکہ اپنی گاڑی کا
04:33ڈرائیور ہے اور سٹیرنگ ویل اس کے اپنے ہاتھ میں ہے۔
04:36یادے وہ پل والی مثال یہ پانچ اقتامات دراصل اس خود سختہ پل کو پار کرنے کا ذریعہ ہیں۔
04:43یہ وہ عمال ہیں جو ہمارے اپنے بنائے ہوئے راستے کی رکاوٹوں کو دور کرتے ہیں اور قسمت کو دوبارہ
04:50کھول دیتے ہیں۔
04:51تو آخر میں یہ سوال ہر کسی کو خود سے پوچھنے کی ضرورت ہے کہ آپ کی قسمت کا راستہ
04:58آخر کس نے روکا ہے؟
04:59اگر قسمت ہمارے عمال کا ہی عقص ہے تو ایسے بدلنے کی چابی بھی ہمارے ہی ہاتھوں میں ہے۔
05:04یہ سوال ہمیں اپنی ذمہ داری اور اپنی اصل طاقت کا احساس دلاتا ہے۔
Comments