00:00رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعے کے دن اگرچہ جنابت نہ ہو لیکن غسل کرو اور
00:07اپنے سر دھویا کرو اور خوشبو لگایا کرو
00:09ابن عباس رضی اللہ عنہمہ نے کہا کہ غسل کا حکم تو ٹھیک ہے لیکن خوشبو کے مطالق مجھے علم
00:16نہیں
00:17اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی تاقید فرمائی ہے
00:22جمعے کے دن نہانا مسنون ہے چاہے آپ پر غسل جنابت فرض نہ بھی ہو
00:28اپنے سر کو اچھی طرح دھونے کا حکم دیا گیا ہے تاکی مکمل صفائی ہو سکے
00:34مسجد جانے سے پہلے خوشبو کا استعمال کرنا پسندیدہ عمل ہے
00:38حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمہ نے اس پر یہ تفسرہ کیا کہ غسل کا حکم تو واضح ہے
00:44لیکن خوشبو کے مطالق انہیں اس خاص موقع پر علم نہیں تھا
00:48اس حکم کے پیچھی ایک خاص تاریخی پسے منظر ہے
00:52اسلام کے ابتدائی دور میں صحابہ کرام بہت مہنتی تھے
00:55اور اکثر لوگ بھیڑ بکریوں کی اون سے بنے ہوئے موٹے کپڑے پہنتے تھے
00:59جب لوگ دھوپ میں مشکت کرنے کے بعد جمعے کی نماز کے لیے
01:03مسجد نبوی میں جمع ہوتے
01:04تو پسینی اور کپڑوں کی وجہ سے مسجد میں بو پھیل جاتی تھی
01:08جس سے دوسروں کو تکلیف ہوتی تھی
01:10اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی
01:14کہ جمعے کی دن غسل کیا جائے
01:16سرد ہویا جائے اور میسر ہو تو خوشبو لگائی جائے
01:26یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ دینی اسلام صرف ظاہری عبادت کا نام نہیں
01:30بلکہ یہ پاکیزگی اور معاشرتی آداب کا بھی علم دیتا ہے
01:33تاکہ اجتماعی جگہوں پر دوسروں کا خیال رکھا جا سکے
01:36اگر یہ پیغام آپ کو اچھا لگا ہو
01:39تو اسے لائک اور شیئر ضرور کریں
01:41تاکہ دوسروں کو بھی میکی کی دعوت ملی
01:43اللہ حافظ
Comments