00:00حدیث مبارکہ حضرت ابو حریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
00:03کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں فرمایا
00:07جنت میں ایک ایسا درخت ہے
00:09جس کے سائے میں ایک سوار سو سال تک چلتا رہے گا
00:13تب بھی اسے پار نہیں کر سکے گا
00:15اس حدیث کا سب سے پہلا سبق یہ ہے
00:18کہ جنت ہماری سوچ اور تخیل سے کہیں زیادہ بڑی ہے
00:23دنیا میں ہم بڑے سے بڑا درخت دیکھتے ہیں
00:26تو اس کا سایہ چند میٹر تک ہوتا ہے
00:28لیکن جنت کا ایک اکیلہ درخت اتنا بڑا ہے
00:32کہ اگر ایک تیز رفتار گھوڑا سوار سو سال تک بھی دوڑتا رہے
00:36تو وہ اس کا سایہ ختم نہیں کر پائے گا
00:39یہ حدیث مومن کے دل میں جنت کی تڑپ پیدا کرتی ہے
00:43یہ بتاتی ہے کہ دنیا کی عارضی اور چھوٹی سی زندگی کے بدلے
00:48اللہ تعالیٰ نے اتنی وسیع اور عریض سلطنت تیار کر رکھی ہے
00:52جس کی حدود کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے
00:55اگر ایک درخت کی عظمت کا یہ حال ہے
00:58تو ذرا سوچیں کہ وہ جنت کتنی خوبصورت ہوگی
01:02جسے اللہ نے خود اپنے ہاتھوں سے سجایا ہے
01:05اور وہ رب کتنا عظیم ہوگا جس نے یہ سب تخلیق کیا
01:09دنیا کی عارضی آسائشوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے
01:13اس دائنی جنت کی تیاری کریں
01:15جہاں کی نعمتیں بے مثال ہیں
01:18ایک اور روایت میں آتا ہے کہ جنتی لوگ
01:21اس درخت کے سائے تلے جمع ہوں گے
01:23اور دنیا کی باتیں یاد کریں گے
01:25وہ کہیں گے کہ دنیا میں ہم فلاں دن
01:28اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے
01:30یا فلاں دن ہم نے اللہ کے لیے قربانی دی تھی
01:34پھر اللہ تعالی جنت سے ایک ہوا چلائے گا
01:37جو اس درخت کی ٹہنیوں کو ہلائے گی
01:39جس سے ایسی سریلی آواز پیدا ہوگی
01:42جو دنیا میں کسی نے کبھی نہیں سنی ہوگی
01:44یہ عظیم و شان درخت
01:46اور اس کا سایہ ان لوگوں کے لیے ہے
01:49جو دنیا میں اللہ کی نافرمانی سے بچتے ہیں
01:52اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم بھی اس سائے تلے بیٹھیں
01:55تو ہمیں آج اپنی زندگیوں کو
01:58قرآن اور سنت کے مطابق دھالنا ہوگا
02:00اگر یہ پیغام آپ کو اچھا لگا ہو
02:03تو اسے لائک اور شیئر ضرور کریں
02:05تاکہ دوسروں کو بھی نیکی کی دعوت ملے
02:07اللہ حافظ
Comments
1