00:00Tariq میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو صرف فتوحات کی وجہ سے نہیں
00:03بلکہ پوری دنیا کی تقدیر بدلنے کی وجہ سے یاد رکھے جاتے ہیں
00:06باتو خان، چنگیز خان کا پوتا، ایک ایسا ہی نام ہے
00:10ایک ایسا جنگجو جس نے یورپ کو تقریباً فتح کری لیا تھا
00:14لیکن پھر این موقع پر کچھ ایسا ہوا جس نے تاریخ کا دھارہ ہی موڑ دیا
00:18تو آج ہم جس کی کہانی سنانے جا رہے ہیں وہ صرف ایک عظیم جنگجو کی نہیں
00:23بلکہ تاریخ کے سب سے بڑے کیا ہوتا اگر سوالات میں سے ایک کی ہے
00:27تو سوال بہت سیدھا ہے
00:291242 میں جب منگولوں کو روکنا ناممکن تھا
00:33تو وہ یورپ کی دہلیس سے واپس کیوں پلٹ گئے
00:36آج ہم صرف ایک فاتح کی زندگی کا احوال نہیں جانیں گے
00:39بلکہ ایک تاریخی معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کریں گے
00:43آخر وہ کیا وجہ تھی جس نے ایک نارکنے والی آندھی کو روک دیا
00:47اچھا تو آئیے سیدھا اس وقت میں چلتے ہیں
00:49ذرا تصور کیجئے سال 1241 کا اختتام ہے
00:53منگول فوجیں ایک طوفان کی طرح مشرقی اور وستی یورپ کو رونتی ہوئی آگے بڑھ چکی ہیں
00:59اب ان کی نظریں بریعظم کے دل پر ہیں
01:02اور یوں لگ رہا ہے کہ یورپ کی قسمت کا فیصلہ بس ہونے ہی والا ہے
01:06اور اس طوفان کا مرکز تھا یہ شخص باتو خان
01:10یہ کوئی عام جنگجو نہیں تھا
01:12اس کی رگوں میں چنگیز خان کا خون توڑتا تھا
01:14وہ چنگیز کے سب سے بڑے بیٹے جوجی کا بیٹا تھا
01:18یعنی منگول سلطنت کے طاقتور ترین شہزادوں میں سے ایک
01:21اچھا اس کی پوری کہانی میں غوتہ لگانے سے پہلے
01:25ذرا ایک نظر اس کی زندگی پر ڈالتے ہیں
01:27یہ ٹائم لائن ہمیں اندازہ دیتی ہے
01:30کہ اس کی فتوحات کتنی پیز اور وسی تھی
01:33اور 1242 کا وہ ایک فیصلہ کتنا اہم تھا
01:36جس نے ست کچھ بدل کر رکھ دیا
01:38اس کی تو جیسے پوری زندگی ہی میدان جنگ میں گزری
01:41تو بات یہ ہے کہ
01:43اس اچانک واپسی کو سمجھنا ہے نا
01:45تو پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ توفان اٹھا کیسے تھا
01:48اس کی رفتار کیا تھی
01:49یہ کوئی عام حملہ نہیں تھا
01:51یہ ایک ایسی جنگی مشین تھی جسے روکنا تقریباً ناممکن نظر آ رہا تھا
01:55سب کچھ شروع ہوا 1236 میں
01:58کہ ویائی روس پر حملے سے
02:00کوئی ایک لاکھ تیس ہزار فوجیوں کا
02:02ایک بہت بڑا لشکر تیار کیا گیا
02:05بھلے ہی اس کا سربراہ باتو خان تھا
02:07لیکن اصل میں تو کھیل سارا سب اتائی کا تھا
02:10منگول تاریخ کا سب سے ذہین اور خطرناک جنرل
02:13منگولوں کی استباہ کن مہم کا پہلا نشانہ بنا
02:16ریاضان شہر
02:17صرف چھے دن
02:18چھے دن کی خونی جنگ کے بعد
02:21شہر کو اس طرح مٹایا گیا
02:22کہ تاریخ کی صفات سے جیسے اس کا نام و نشانی غائب ہو گیا ہو
02:26پھر باری آئی ماسکو کی
02:28انجام وحی جلا کر راک
02:31یہ منگولوں کا طریقہ تھا
02:33تیز بے رحم اور مکمل تباہی
02:36تاکہ کسی کے دل میں مضاحمت کا خیال تک نہ آئے
02:40اور پھر آخر کار
02:41دسمبر بارہ سو چالیس میں
02:43روس کے دل
02:45یعنی کیو پر بھی قبضہ ہو گیا
02:46بس اس کے ساتھ ہی کیویای روس کی کہانی ختم
02:50اور منگولوں نے ثابت کر دیا
02:52کہ وہ ایک ایسی طاقت ہیں
02:53جنہیں ہرایا نہیں جا سکتا
02:55اور باتو خان کا اعتماد دیکھئے
02:57روس کو روندنے کے بعد
02:59اس نے ہنگری کے بادشاہ کو جو پیغام بھیجا
03:01وہ سننے والا ہے
03:02یہ صرف دھمکی نہیں تھی
03:03یہ ایک اعلان تھا
03:05کہ اس سے بچنا ناممکن ہے
03:07اور باتو نے جو کہا
03:09وہ کر دکھایا
03:10گیارہ اپریل بارہ سو اکتالیس کو
03:12موہی کی جنگ میں
03:13اس نے ہنگری کی فوج کو تہز نیز کر دیا
03:16اس ایک فتح نے یورپ کے دروازے
03:18منگولوں کے لیے پوری طرح کھول دیئے تھے
03:20اب انہیں روکنے والا کوئی نہیں تھا
03:23اور یہیں کہانی کا سب سے بڑا موڑ آتا ہے
03:26منگول کامیابی کے اروج پر
03:28پورا یورپ ان کے قدموں میں
03:30اور پھر سب رک گیا
03:31اچانک
03:32یہی وہ سوال ہے جو صدیوں سے
03:34تاریخ دانوں کو پریشان کیے ہوئے ہیں
03:36آخر ہوا کیا
03:37اور یہ کوئی افوا نہیں تھی
03:39باتو اور ثبوتائی تو
03:40باقاعدہ مغربی یورپ پر
03:42حملے کی تیاری کر چکے تھے
03:43ان کے جاسوس ہر طرف پھیل چکے تھے
03:46نقشے بن چکے تھے
03:47یہاں تک کہ مقدس رومی شہنشاہ
03:49کو بھی پیغام بھیج دیا گیا تھا
03:51کہ بھئی تخت خالی کر دو
03:52مگر این اسی وقت جب
03:54سب کچھ تیار تھا
03:55میدان جنگ سے ہزاروں میل دور
03:58منگولوں کے دار الحکومت کراکرم سے
04:00ایک ایسی خبر پہنچی
04:02جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا
04:04خبر یہ تھی
04:06کہ عظیم خان اغدائی
04:07چنگیز خان کا جانشین
04:09مر چکا تھا
04:10یہ صرف ایک شخص کی موت نہیں تھی
04:12یہ ایک ایسی خبر تھی
04:14جو پوری دنیا کی تاریخ کا رخ مڑنے والی تھی
04:17تو
04:17اصل وجہ یہ تھی
04:19منگولوں کا ایک قانون تھا
04:20جسے یاسا کہتے تھے
04:22اس کے مطابق جب بھی عظیم خان کا انتقال ہوتا
04:25چنگیز خان کی نسل کے تمام شہزادوں کو
04:27کرولتائی نامی کانسل میں واپس آنا پڑتا تھا
04:30تاکہ نئے خان کا انتخاب کیا جا سکے
04:32اور باتو خان چنگیز کا پوتا ہونے کی وجہ سے
04:35اس سے پیچھے نہیں رہ سکتا تھا
04:37اور یہی سے باتو خان کا ایک نیا روپ سامنے آتا ہے
04:40ایک فاتح سے ایک سیاستدان کا روپ
04:43یورپ سے واپسی اسے میدان جنگ سے اٹھا کر
04:45منگول سلطنت کی خطرناک سیاست کے بیچو بیچ لے آتی ہے
04:49لیکن باتو نے واپسی میں کوئی جلدی نہیں دکھائی
04:52اس نے جان بوچ کر کرولتائی میں سالوں کی تاخیر کی
04:55یہ سب ایک سوچی سمجھی چال تھی
04:57اس دوران اس کی دشمنی اغدائی کے بیٹے گھوک خان سے بڑھتی گئی
05:01جو تخت کا سب سے مضبوط امیدوار تھا
05:03باتو اب تلوار سے نہیں
05:04بلکہ دماغ سے جنگ لڑ رہا تھا
05:13جس کی کسی کو امید نہیں تھی
05:14جب اسے خود تخت کی پیشکش ہوئی
05:17تو اس نے انکار کر دیا
05:18کیوں؟
05:19کیونکہ وہ سمجھ گیا تھا
05:20کہ کبھی کبھی بادشاہ بننے سے زیادہ طاقتور
05:22بادشاہ گر بننا ہوتا ہے
05:24اس نے اپنے کزن مونگ کے تو نیا عظیم خان بنوا دیا
05:28اس ایک چال سے
05:29اس نے نہ صرف اپنے دشمنوں کو اقتدار سے ہٹایا
05:32بلکہ خود سلطنت کا کنگ میکر بن گیا
05:34تو آخر میں باتو خان کو کس طرح یاد رکھا جائے
05:38اس کی واپسی نے یورپ کو تو بچا لیا
05:40لیکن اس نے ایک ایسی سلطنت کی بنیاد رکھی
05:42جو آنے والی صدیوں تک قائم رہی
05:44دیکھئے
05:45باتو خان کی اصل میراس یورپ کی فتح نہیں بنی
05:48بلکہ اس نے ایک بلکل نئی سلطنت کی بنیاد رکھی
05:52دی گولڈن ہورڈ
05:54اس نے منگول سلطنت کے مغربی حصے پر
05:57اپنی حکومت قائم کی
05:58اور ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھی
06:00جو آنے والی کئی نسلوں تک چلی
06:02دھائی سو سال
06:04یہ کوئی چھوٹا عرصہ نہیں ہے
06:05باتو خان کی قائم کردہ سلطنت نے
06:08روس اور اس کے آس پاس کے علاقوں پر
06:10تقریباً دھائی سو سال تک حکومت کی
06:12اور اس خطے کی تاریخ پر
06:14ایک ایسی چھاپ چھوڑی جو آج تک
06:16محسوس کی جاتی ہے
06:17اور آخر میں ہم اسی سوال پر واپس آتے ہیں
06:20جہاں سے بات شروع ہوئی تھی
06:22اگر بارہ سو اکتالیس میں
06:24اغدائی خان کی موت نہ ہوتی
06:26تو کیا ہوتا
06:26کیا آج یورپ کا نقشہ کوچھ اور ہوتا
06:29یہ تاریخ کا وہ عظیم سوال ہے
06:31جس کا جواب شاید ہمیں کبھی نہیں ملے گا
06:33لیکن یہ ہمیں سوچنے پر ضرور مجبور کرتا ہے
Comments