Skip to playerSkip to main content
  • 19 hours ago

Category

🗞
News
Transcript
00:00This is strange that the people who have one another in their own, they have one another in their own.
00:09Yes, we are talking about Iran and Israel.
00:13This is not a normal friend, but the leaders of their own,
00:19the gift share and secret agreements have been signed.
00:23This is not a common friend.
00:28But the most amazing thing is that the nuclear program is now on the attack of Israel and America.
00:38But what is the end?
00:40Is Israel's and Israel's and the enemy's?
00:42Is Israel's and Israel's and the enemy's?
00:45Is Israel's and why did they come to Israel's weapons?
00:50And finally, when this enemy was the enemy?
00:54ڈشمنی میں بدلتے ہیں
00:56زیم ٹی وی کی ویڈیوز میں ایک بار پھر سے خوش آمدید
00:59ناظرین اس دوستی کی جڑوں کو سمجھنے کے لیے
01:02ہمیں تھوڑا پیچھے جانا پڑے گا
01:04جب میڈل ایسٹ بالکل مختلف دیکھتا تھا
01:07یہاں پہلے آٹومن ایمپائر
01:08یعنی سلطنت عثمانیہ کا راج تھا
01:11جو 1922 میں ورلڈ وار ون کے بعد ختم ہو گیا
01:15اب یہاں بریٹین کا راج تھا
01:17اور عرب نیشنلزم بڑھ رہا تھا
01:19عربز تازے تازے آٹومن ایمپائر کی سلطنت سے آزاد ہوئے تھے
01:23اور وہ اپنا الگ ملک بنانا چاہتے تھے
01:26بلکہ ورلڈ وار ون میں آٹومن ایمپائر کے ہارنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی
01:30کہ عربز نے اندر ہی اندر بریٹیشلز کا ساتھ دیا تھا
01:34اس وعدے پر کہ آزادی کے بعد ان کو اپنا الگ ملک بنانے دیا جائے گا
01:40پر خطے میں بریٹیشلز اور عربز کے علاوہ ایک طاقت ایسی بچی تھی
01:44جن کو عرب نیشنلزم سے کافی مسئلہ تھا
01:47اور وہ تھا ایران
01:49اس وقت ایران ایک پاورفل ملک تھا اور یہاں کے لوگ عربز کو کم تر سمجھتے تھے
01:55ایران کے شاخ کو لگتا تھا کہ اگر عرب ملک سارے ایک ہو گئے
01:59تو وہ ایران کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں
02:02ایک تو پرشین گلف میں ایران کا ہولڈ ڈیوائیڈ ہو جائے گا
02:06کیونکہ عربز نے پہلے سے ہی اس کو پرشین کے بجائے
02:09عربین گلف کہنا شروع کر دیا تھا
02:11اور دوسرا ایران میں مجورٹی شیعہ مسلم تھے اور عربز سنی مسلم
02:16اگرچہ یہ دونوں مسلمان ہیں لیکن ہسٹری میں دیکھا جائے
02:20تو ان دونوں کے درمیان ایک خاموش مقابلہ ہمیشہ سے رہا ہے
02:24کہ اسلام کو رپریزنٹ کون کرے گا
02:26شاہ آف ایران محمد رضا پہلوی کو ڈر تھا
02:30کہ سنی مسلم کا انفلوینس کہیں بڑھ کر ایران تک نہ پہنچ جائے
02:34اور ان سے ان کا تخت چین نہ لیا جائے
02:37پر کون جانتا تھا کہ میڈل ایسٹ میں اکیلے پڑ جانے والے ایران کو
02:41ایک بہترین دوست ملنے والا ہے
02:44پھر آیا ایر 1948
02:46وہ تاریخی سال جب یونائٹڈ نیشنز کے اعلان کے بعد
02:50جیوز کے ملک اسرائیل کا قیام ہوا
02:53اسرائیل کے بنتے ہی پڑوسی عرب ملکوں کو لگا
02:56کہ یہ فلسطینیوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے
02:59تو انہوں نے اسرائیل پر حملہ کر دیا
03:01یہ جنگ جہاں اسرائیل کے وجود کا خطرہ بنی
03:05وہیں ایران کے شاہ کے لیے عرب سے چھٹکارہ پانے کا ایک راستہ بھی بن بیٹھی
03:10حقیقت میں ایران کو اسٹیٹ آف اسرائیل سے اتنا مسئلہ نہیں تھا
03:15جتنا عرب ملکوں کے بڑھتے ہوئے اثر سے تھا
03:18یعنی جب عرب فلسطین کے حق کے لیے اسرائیل سے لڑ رہے تھے
03:22ایران کا جھکاؤ اسرائیل کی طرف تھا
03:25دوسری طرف اسرائیل بھی یہ محسوس کرنے لگا
03:28کہ اسے دشمن پڑوسیوں کے بیچ نون عرب دوستوں کی ضرورت ہے
03:32اسی کے چلتے اسرائیل کے پہلے پرائم منسٹر
03:35ڈیویڈ بین گوریون نے ایک اسٹرٹیجک پولیسی بنائی
03:39جسے پیریفیرل ڈاکٹرین کہا جاتا ہے
03:41ان کا کہنا تھا کہ کیونکہ اسرائیل ایک چھوٹی سی اسٹیٹ ہے
03:45جو چاروں طرف عرب ملکوں سے گھری ہوئی ہے
03:48تو ہمیں اپنے دشمنوں کے پڑوسیوں سے دوستی کرنی چاہیے
03:52اور اس میپ پر عرب کا سب سے بڑا اور سب سے اہم پڑوسی تھا ایران
03:58یہی وہ اسرائیلی پولیسی تھی جس نے ایران اور اسرائیل کے بیچ دوستی کی پہلی بنیاد رکھی
04:05بین گوریون کی اس پولیسی کا سب سے پہلا سب سے بڑا نتیجہ 1950 میں سامنے آیا
04:12ٹرکی کے بعد ایران دوسرا مسلم مجورٹی ملک تھا جس نے اسرائیل کو دیفیکٹو طور پر تسلیم کر لیا
04:19ایران نے سوڈزلینڈ کی حکومت کے ذریعے اسرائیل کو ایک فارمل لیٹر بھیج کر نہ صرف انہیں ایکسپٹ کیا بلکہ
04:26دوستی کی پیشکش بھی کی
04:28یہ اوفیشل ڈے جوری ریکگنیشن نہیں تھی بلکہ ایک ایسا خفیہ ایگریمنٹ تھا جس کا سب کو معلوم تھا
04:36یعنی کہ اوپن سیکرٹ
04:37دنیا کو لگتا تھا کہ ایران اسرائیل کو نہیں مانتا
04:41مگر حقیقت میں شاہ آف ایران نے اسرائیل کے مشن کو تہران میں کھلنے کی اجازت دے دی
04:47تہران میں اسرائیل کا ایک بہت بڑا آفیس کھولا گیا
04:51جو بلکل کسی ایمبیسی کی طرح کام کرتا تھا
04:54مگر اس کے باہر نہ اسرائیل کا جھنڈا تھا اور نہ ایمبیسی کا ورڈ لکھا تھا
04:59لوگ جانتے تھے کہ یہ اسرائیل کا مشن ہے
05:01مگر اوفیشل طور پر اسے اسرائیلی ٹریڈ آفیس کہا جاتا تھا
05:05یا کبھی کبھار کچھ اور
05:07ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے کا کتنا اور کس کس موقع پر ساتھ دیا
05:13یہ جاننے سے پہلے سمجھتے ہیں کہ آخر شاہ آف ایران نے
05:16ایک مسلم ملک ہوتے ہوئے اسرائیل کا ساتھ کیوں دیا
05:20اس کے پیچھے تین بڑے ریزنز تھے
05:23شاہ اپنی منارکی کو مضبوط کرنا چاہتے تھے
05:26اور ایران کو ایک موڈرن پاورفل انڈسٹریل اسٹیٹ بنانا چاہتے تھے
05:30اس کے لیے انہیں جدید ٹیکنالوجی اور ذہانت کی ضرورت تھی
05:34جو کہ اسرائیل دے سکتا تھا
05:37دوسرا ایران کے شاہ کو ایجپٹ کے جمال عبدالناصر سے ڈر لگتا تھا
05:42جو عرب نیشنلزم کا پرچم لہرا رہے تھے
05:45شاہ کو لگا کہ ان کا اگلا نشانہ ایران ہو سکتا ہے
05:49اس ڈر نے انہیں اسرائیل کی طرف جھکنے پر مجبور کر دیا
05:52پر سب سے اہم وجہ تھی شاہ آف ایران کا امریکہ کے بہت قریب ہونا
05:581953 میں ایران کے پرائم منسٹر موسیٰ دیگ نے شاہ کی پاورز کم کرنے کی کوشش کی تھی
06:05لیکن امریکہ نے ہی سی آئیے کے ذریعے شاہ کی مدد کی اور ان کے تخت کو بچا لیا
06:11اس واقعے کے بعد وہ ایک طرح سے امریکہ کے احسان مند تھے
06:15اور ان کی کوئی بات ٹالنا نہیں چاہتے تھے
06:18امریکہ بھی یہی چاہتا تھا کہ ایران اور اسرائیل آپس میں دوست بن کر رہے ہیں
06:23شاہ کو اپنی عوام سے اتنا ڈر تھا کہ انہوں نے ایک خفیہ پولیس بھی بنائی
06:28جس کا نام ساوق رکھا گیا
06:30اس پولیس کا کام ان لوگوں کو پکڑنا یا ختم کرنا تھا جو شاہ کے خلاف بولتے تھے
06:36اور آپ کو یہ بات جان کر حیرت ہوگی کہ ساوق کو ٹریننگ دینے کے لیے
06:41اسرائیل نے موساد کے ایجنٹس کو ٹاسک دیا تھا
06:44موساد نے ہی ساوق کو ٹریننگ دی کہ لوگوں پر کیسے نظر رکھنی ہے
06:49اور انٹروجیشن کیسے کرنی ہے
06:51ساوق اور موساد کے بیچ انٹیلیجنس شیرنگ روٹین کا معمول تھی
06:56یہ دونوں ایجنسیز مل کر کمیونزم اور عرب ملیٹنٹ گروپس کو ٹارگٹ کرتی تھی
07:02نہ صرف اتنا ایرانیان ائر فورس کے پائلٹس کو اسرائیل میں ٹریننگ بھی ملتی تھی
07:07اسرائیل نے ایران کو ایڈوانسٹ ویپنز اور ٹیکنالوجی بیچی
07:11جو اس وقت عرب دنیا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی
07:15دونوں ملکوں نے مل کر میزائل ٹیکنالوجی پر بھی کام کیا اور نیوکلئر ویپنز کی ٹیکنالوجی پر ریچارچ کے ایگریمنٹس
07:23بھی کیے
07:23ایران کا وہ نیوکلئر پروگرام جس کے پیچھے آج امریکہ اور اسرائیل پڑے ہیں یہ اصل میں ان کی مدد
07:30سے ہی شروع کروایا گیا تھا
07:321957 میں امریکن پریزیڈنٹ آئیزن ہاور نے ایک کیمپین لانچ کی تھی جس کا نام تھا ایٹمز فور پیس
07:40اس کا مقصد دنیا بھر میں امریکن آلائز کو نیوکلئر ٹیکنالوجی دینا تھا تاکہ وہ سستی بجلی پیدا کر سکیں
07:47امریکہ نے ایران کو پہلا نیوکلئر ریسرچ ریاکٹر 1967 میں دیا جو تہران یونیورسٹی میں لگایا گیا تھا
07:56مزے کی بات یہ ہے کہ اس وقت اسرائیل نے ہی ایران کے نیوکلئر سائنٹس کو ٹریننگ دی تھی جن
08:02کو آج چن چن کر ختم کیا جا رہا ہے
08:05ایران اور اسرائیل کی دوستی صرف ملٹری آلائنس پر ڈپینڈ نہیں کرتی تھی بلکہ اکنومی اس دوستی کا سب سے
08:13مضبوط حصہ تھی
08:14اسرائیل کو تیل کی ضرورت تھی اور عرب ملکوں نے انہیں تیل دینے سے بائیکوٹ کیا ہوا تھا
08:21ایران جو کہ اسرائیل کا دوست تھا اس کے پاس تیل تو بہت تھا لیکن وہ تیل اسرائیل تک پہنچانے
08:27کے لیے کوئی راستہ نہیں تھا
08:29اگر تیل کے کنٹینرز پرشین گلف سے ریڈ سی اور پھر سوئیز کنال سے گزر کر اسرائیل جانے کی کوشش
08:36کرتے
08:36تو یہاں مسئلہ یہ تھا کہ سوئیز کنال ایجپٹ کے کنٹرول میں تھا جو کہ عرب کے ساتھ کھڑا تھا
08:42اور ایجپٹ کسی بھی صورت ایسا نہیں ہونے دیتا
08:46زمینی راستہ دیکھا جائے تو ایران اور اسرائیل کے بیچ عراق سیریا اور جارڈن آتے ہیں
08:51اور یہ بھی عرب ملک ہیں یعنی ایران سے اسرائیل تک تیل پہنچانے کا کوئی راستہ ہی نہیں بچا تھا
08:58پر اس دوستی کا حق ادا کرنے کے لیے خاص ایک پائپ لائن بچھائی گئی
09:03آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اسرائیل کا ایک پورٹ گلف آف اکابا پر بھی موجود ہے
09:08جسے ایلات کہا جاتا ہے
09:10یہاں سے پائپ لائن شروع ہو کر اسرائیل کے ایشکلون پورٹ تک جاتی تھی
09:15اور اس پروجیکٹ کو ایلات ایشکلون پائپ لائن کا نام دیا گیا
09:19یہ صرف اس لیے کیا گیا تاکہ ایرانی آئل ٹینکرز خرگ آئیلینڈ سے نکل کر ریڈ سی میں جائیں
09:26وہاں سے سوئیز کنال کو بائپاس کر کے گلف آف اکابا اور پھر اسرائیل کے پورٹ ایلات پر ٹینکرز خالی
09:33کر دیں
09:33اس سیکرٹ پائپ لائن سے جہاں اسرائیل کو تیل مل گیا
09:37وہیں ایران کو اپنا تیل یورپ تک بیچنے کا موقع بھی مل گیا
09:42کیونکہ اسرائیل کا ایشکلون پورٹ میڈیٹرینین سی پر ہے
09:45جہاں سے تیل یورپ تک پہنچنے میں سوئیز کنال جیسی کوئی رکاوٹ نہیں ہے
09:51یہ صرف ایک پائپ لائن نہیں تھی بلکہ ایران اور اسرائیل کا بھائی چارہ تھا
09:56اس میں 50% حصہ ایران کا تھا اور 50% اسرائیل کا
10:00دونوں نے مل کر پیسہ لگایا تاکہ عرب ملکوں کی آئل منوپلی کو چوٹ پہنچائی جا سکے
10:06یہ دوستی اتنی پکی تھی کہ شاہ آف ایران اور اسرائیلی پرائیم منسٹر بین گوریون کی ملکاتیں چھپ چھپ کر
10:14ہوا کرتی تھی
10:15بین گوریون جب تہران ائرپورٹ پر اترتے تو ان کو وگ لگی ہوتی تھی تاکہ میڈیا کی نظروں سے بچ
10:22کر نکل سکیں
10:231970s میں تہران اور اسرائیل کا ٹریڈ مشن جو اصل میں ایمبیسی تھی بلکل ایکٹیو تھی
10:29وہاں اسرائیلی انجنئرز، ڈاکٹرز اور ملٹری ایڈوائزرز موجود ہوتے تھے
10:35اسرائیل نے ایران کے کسانوں کو جدید ایریگیشن اور ٹیکنالوجی بھی سکھائی اور دونوں ملکوں کے بیچ ڈائریکٹ فلائیڈز بھی
10:42چلتی تھی
10:43یہ دور دونوں ملکوں کی فرینڈشپ کا گولڈن ایرا مانا جاتا ہے
10:47اسی دور میں شاہ آف ایران نے دنیا کی سب سے مہنگی اور سب سے بڑی برث ڈے پارٹی رکھی
10:5426th October 1971
10:57یہ شاہ کی 52nd برث ڈے اور پرشین ایمپائر کی 2500 year anniversary کا دن تھا
11:04اس پارٹی کے لیے ریگستان میں ایک پوری منی سٹی تعمیر کی گئی
11:09ایک خاص رنوے بھی بنایا گیا جس پر اس دور میں 100 ملین ڈالر سے زیادہ خرچہ ہوا تھا
11:15اس میں دنیا بھر سے بادشاہ، ملکائیں، پریزیڈنٹس اور پرائیم منسٹرز بلوائے گئے تھے
11:21پیریس کے مشہور میکسیمز ریسٹورنٹ سے پرائیوٹ جہازوں کے ذریعے کھانا منگوایا گیا
11:26اس پارٹی میں اسرائیلی پرائیم منسٹر کو نہیں بلوائے گیا
11:30تاکہ یہ دوستی سیکرٹ ہی رہے
11:32حالانکہ اسرائیلی لیڈرز اسٹیج پر نہیں تھے
11:35لیکن اسرائیل کی خفیہ ایجنسی مساد نے شاہ کی سیکیورٹی ٹیم کے ساتھ مل کر
11:41اس پارٹی کی حفاظت کا سارا پلان بنایا
11:44تاکہ کوئی حملہ نہ ہو سکے
11:46پارٹی میں اسرائیلی پرائیم منسٹر کو انوائٹ نہ کرنے کے باوجود
11:50دونوں کی دوستی میں کوئی فرق نہیں پڑا
11:53اگلے کچھ سالوں تک یہ دوستی ایسے ہی چلتی رہی
11:56لیکن آخر کار وہ دن آ گیا جب ایران اور اسرائیل کی دوستی دشمنی میں بدل گئی
12:031979 کے ریولیشن میں آیات اللہ خمینی نے شاہ آف ایران کا تخت پلٹ دیا
12:09اور ایران کو ایک اسلامک رپبلک بنا دیا
12:12خمینی نے آتے ساتھ ہی اعلان کیا کہ اسرائیل اسلام کا دشمن اور شاہ ایک غدار تھا
12:18کچھ ہفتوں بعد اسرائیل کے ٹریڈ مشن پر حملہ کر کے وہاں فلسطین کا جنڈا لہرا دیا گیا
12:25اسی دن فلسطینی رہنما یاسر عرفات تہران پہنچے
12:29اور خمینی نے اعلان کیا کہ اب یہ اسرائیلی نہیں بلکہ فلسطین کی ایمبیسی ہے
12:34یہ وہ لمحہ تھا جب ایران اسرائیل دوستی کی کہانی ختم تو ہوئی لیکن فلحال دفن نہیں ہوئی
12:41اسلامی انقلاب کے بعد کہانی میں ایک دلچسپ موڑ آتا ہے
12:46ایک سال بعد جب ایران اور عراق کی جنگ شروع ہوئی
12:49تو اس موقع پر ایران کو ہتھیاروں کی سخت ضرورت پڑ گئی
12:53اور تب ایک بار پھر ضرورت نے ان دونوں کو دوبارہ ملا دیا
12:58اسرائیل نے اس موقع پر ایران کی مدد کی اور خفیہ طور پر انہیں ویپنز سپلائے کیے
13:03ہمینی کی سربراہی میں چلنے والی یہ جنگ آٹھ سالوں تک چلتی رہی
13:08اور ویپنز اسرائیل سے آتے رہے
13:10اس میں اسرائیل کا فائدہ یہ تھا کہ وہ ایران کو ویپنز سپلائے کر کے
13:15اپنے پڑوسی عرب ملک عراق کو کمزور کرنا چاہتا تھا
13:19اسلامی ریولیوشن کے بعد ایران نے بھی پرانے شاہ کی ساری چیزیں ختم کر دی
13:24جیسے ساوک پولیس، آئل پائپ لائن اور اسرائیلی ٹریڈ مشن بھی
13:28پر ایک چیز جو ایران کو اسرائیل اور امریکہ نے گفت کی تھی
13:32وہ خمینی نے دوبارہ کھول دی
13:34اور وہ تھا ایران کا نیوکلئر پروگرام
13:371990 میں ایران اراک جنگ ختم ہوئی
13:40تو اسرائیل نے محسوس کیا کہ اب خطرہ اراک نہیں
13:44بلکہ ایران کا وہ نیوکلئر پروگرام ہے
13:46جو اب اسلامی ریولیوشنس کے ہاتھوں میں پڑا ہے
13:50اسی دور سے ان دونوں کے بیچ ایک شیڈو وار شروع ہوئی
13:54جس کو لے کر آج تک جنگیں ہو رہی ہیں
13:57اور یہی وہ پوائنٹ تھا جب ایران اسرائیل کی دوستی پوری طرح دفن ہو گئی
14:02امید ہے زیم ٹی وی کی یہ ویڈیو بھی آپ لوگ بھرپور لائک اور شیئر کریں گے
14:07آپ لوگوں کے پیار بھرے کومنٹس کا بے حد شکریہ
14:10ملتے ہیں اگلی شاندار ویڈیو میں
Comments

Recommended