Skip to playerSkip to main content
  • 6 weeks ago
Found in Amazon ten times bigger than anaconda🐍 by zem tv

Category

🐳
Animals
Transcript
00:00Columbia کے علاقے سیرہون میں کوئلے کی کان میں سائنٹسٹ اور پیلینٹولیجسٹ کی ایک ٹیم زمین کی گہرائی میں خدائی
00:08کر رہی تھی۔
00:09کیونکہ یہ کوئلے کی کان اصل میں 6 کروڑ سال پرانے رین فورسٹ کی وجہ سے بنی تھی،
00:15اسی وجہ سے وہ لوگ اس میں پرانے زمانے کے پودوں اور جانوروں کے ریمینز تلاش کر رہے تھے۔
00:21یہ جگہ دنیا سے چھپے ہوئے ایک مسٹیریسٹ پاسٹ کا حصہ تھی،
00:26جسے زمین نے اپنی لیرز کے اندر چھپا رکھا تھا۔
00:29خدائی کے دوران ایکسپرٹس کو چٹانوں کی گہرائی میں سے ایک عجیب سی چیز ملتی ہے۔
00:35جب اس پر سے مٹی ہٹائی گئی تو یہ کچھ اور نہیں بلکہ ایک ہڈی تھی۔
00:40کسی نے کہا یہ کروکوڈائل کی ہڈی ہے،
00:43کوئی اسے کچھوے کی ہڈی کہنے لگا تو کوئی اسے پرانے درخت کا تنہ مان رہا تھا۔
00:49پر اسی ہڈی نے بعد میں سائنس کو ایک ایسی دنیا کی سیر کرائی جہاں اب تک کا سب سے
00:55بڑا سام پر رہتا تھا۔
00:57ٹائٹنو بوا یہ کوئی عام سامپ نہیں بلکہ آج کے گرین اینکونڈا سے ٹین ٹائمز زیادہ بھاری اور ایک پیسنجر
01:06بس سے بھی زیادہ لمبا تھا۔
01:07یہ اتنا بھاری سامپ تھا کہ اگر یہ زمین پر رینگنا شروع کرے تو اپنے ہی وزن سے مر جائے۔
01:14تو آخر پھر یہ رینگتا کہاں پر تھا؟
01:16ایک معمولی ہڈی نے ایکسپرٹس کو ایمیزون کے اس اتحاس میں پہنچا دیا جہاں کا نقشہ ہی بالکل الگ تھا۔
01:24ٹائٹنو بوا کی اس جسامت کی اصلی وجہ کیا تھی؟
01:28یہ شکار کیسے کرتا تھا؟
01:30اور آخر ایسا کیا ہوا کہ ایمیزون کے جنگلات میں اس کی بادشاہت کا خاتمہ ہو گیا؟
01:36زم ٹی وی کی ویڈیوز میں ایک بار پھر سے خوش آمدید۔
01:39ناظرین ٹائٹنو بوا کی دریافت کوئی اچانک ہونے والا واقعہ نہیں تھا۔
01:44بلکہ یہ سلسلہ 1994 میں شروع ہوا۔
01:47ایک لوکل جیولوجسٹ ہنری گارسیا نے سیرہون کی کان میں ایک عجیب و غریب چیز دیکھی جو کسی درخت کی
01:55ٹہنی کا حصہ معلوم ہوتا تھا۔
01:57اس وقت کسی نے اس پر زیادہ اٹینشن نہیں دی اور اسے سپیشل باکس میں ڈال کر رکھ دیا گیا۔
02:03تقریباً ایک دہائی بعد سال 2002 میں ایک اور جیولوجسٹ فیبیا نے ہیررہا کو بھی یہاں سے ویسا ہی ایک
02:11فوصل ملا۔
02:12ان جیولوجسٹ کا اصل مقصد پیلیو سین فلورا پر ریسرچ کرنا تھا تاکہ یہ پتہ لگایا جا سکے کہ دنیا
02:19کے پہلے ٹروپیکل رین فورسٹ کیسے دکھتے تھے۔
02:23اس کہانی میں اصل موڑ 2007 میں آیا جب ان فوصلز کو فلوریڈا میوزیم آف نیچرل ہسٹری میں پہنچایا گیا۔
02:31وہاں معلوم پڑا کہ نہ یہ درخت کی ٹہنی ہے نہ اس کا اسٹرکچر مگر مچ کی ریڈ کی ہڈی
02:37سے میچ کرتا ہے۔
02:38پر جب انہوں نے اس کی بناوٹ کو آج کے اینکونڈا اور پائیتھن کی ہڈیوں سے کمپیر کیا تو حیرت
02:45کی انتہا نہ تھی۔
02:46یہ ہڈی اینکونڈا کی ہڈی سے تین کنا زیادہ بڑی اور موٹی تھی۔
02:51اس موقع پر ایکسپرٹس نے اسے فوراں ایک سامپ کی ہڈی کے طور پر پہچان لیا۔
02:57آپ خود اندازہ لگا لیں رائٹ سائیڈ پر وہ ہڈی ہے جو کوئلے کی کان سے ملی تھی اور لیفٹ
03:03سائیڈ پر اینکونڈا کی ریڈ کی ہڈی۔
03:05سائنس کی دنیا میں سائز کی امپورٹنس بہت زیادہ ہوتی ہے اور ٹائٹن او بوا نے ہر پرانے ریکارڈ کو
03:12توڑ دیا۔
03:13ایکسپرٹس نے اس ریڈ کی ہڈی کی مدد سے سامپ کی لمبائی کا اندازہ لگانے کے لیے میتھمیٹیکل موڈلز کا
03:20سہارا لیا۔
03:21انہوں نے دیکھا کہ سامپوں میں ریڈ کی ہڈی کا سائز ان کی ٹوٹل لمبائی کے ساتھ برابر کا تعلق
03:27رکھتا ہے۔
03:28یعنی سامپ کی ریڈ کی ہڈی کا سائز بتا سکتا ہے کہ سامپ کی ٹوٹل لمبائی کتنی ہوگی۔
03:34ان کیلکولیشنز کے ذریعے ملنے والی ریڈ کی ہڈی سے سامپ کا جو سائز نکلا وہ فورٹی ٹو سے ففٹی
03:41فیٹ تھا۔
03:42یعنی آج کے اینکونڈا سے تقریباً ٹو ٹائمز زیادہ۔
03:46ٹائٹانو بوہ محض لمبا ہی نہیں بلکہ اس کی موٹائی ایک موٹے آدمی کی کمر جتنی اور اس کی جسامت
03:54اتنی بھاری تھی کہ وہ ایک سیڈان گاڑی جتنا وزنی تھا۔
03:58تقریباً ٹویلو ہنڈریڈ کیجی یا پھر اینکونڈا سے ٹین ٹائمز زیادہ بھاری۔
04:04ون پوائنٹ ٹو ٹن کا وزن آج کے کسی بھی زمینی سامپ کے لیے ناممکن وزن ہے۔
04:09اس ڈسکوری نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا۔
04:13کیونکہ اصل میں یہ تھا سامپوں کا بادشاہ جسے بعد میں ٹائٹانو بوہ کا نام دیا گیا۔
04:20اصلی سوال یہ نہیں تھا کہ وہ کتنا بڑا ہے بلکہ حیرانی کی بات یہ تھی کہ وہ اتنا بڑا
04:25آخر کیوں ہے؟
04:26آج کے سامپ اتنے بڑے کیوں نہیں ہوتے؟
04:29اس کا جواب چھپا ہے موسم میں۔
04:32جی ہاں سامپ ایکٹو تھرمک یعنی تھنڈے خون والے جانور ہوتے ہیں۔
04:37انسان اپنا بدن گرم رکھنے کے لیے اندر سے گرمائش پیدا کر سکتا ہے
04:41مگر سامپ اپنی گرمی کے لیے ماحول کے ٹیمپریچر پر ڈپینڈ کرتے ہیں۔
04:46بائیولوجی کا ایک سمپل اصول ہے کہ ماحول جتنا گرم ہوگا
04:50تھنڈے خون والے جانور کا میٹابولیزم اتنا ہی تیز چلے گا۔
04:55تیز میٹابولیزم کا مطلب ہے زیادہ طاقت، زیادہ کھانا حضم کر پانا،
05:00تیزی سے بڑھنا اور بڑے جسم کو برداشت کر پانا۔
05:04ٹائٹن او بوا کی ڈسکوری نے ایکسپرٹس کے سامنے صرف ایک نیا سام بھی نہیں
05:08بلکہ اس وقت کے موسم کا تھرمومیٹر بھی پیش کر دیا۔
05:13ٹائٹن او بوا کی یہ جائنٹ باڈی اس بات کا جیتا جاکتا ثبوت تھی
05:17کہ چھے کروڑ سال پہلے اس وقت کولمبیا کے اس ماحول کا ٹیمپریچر آج سے کہیں زیادہ تھا۔
05:24اس دور میں دھرتی کا موسم اتنا گرم تھا کہ سال بھر دن رات ہر وقت ٹیمپریچر 32 ڈگری سیلسیس
05:32سے اوپر رہتا تھا۔
05:34اگر ایوریج ٹیمپریچر ہی اتنا زیادہ تھا تو ظاہر ہے ہیومیڈیٹی بھی انتہا کی ہوگی۔
05:40اتنی کہ شاید سانس لینا بھی بھاری لگے۔
05:43یہ ایک ایسا ڈھکا ہوا جنگل تھا جو کبھی تھنڈا نہیں ہوتا تھا۔
05:47اس لگتار گرمی نے ٹائٹن وعہ کو یہ طاقت دی کہ وہ اتنا بڑا ہو سکے۔
05:53آج کا ایمیزون رین فورسٹ جو ہمیں کافی نم اور گرم محسوس ہوتا ہے شاید ٹائٹن وعہ کے لیے بہت
06:00تھنڈا پڑ جائے۔
06:01اگر وہ آج زندہ ہوتا تو شاید اسی رین فورسٹ میں زندہ نہیں رہ پاتا۔
06:07کیونکہ اس کے اتنے بھاری جسم کو چلانے کے لیے جو انرجی چاہیے تھی وہ صرف اسی شدید گرمی میں
06:13مل سکتی تھی۔
06:15اب ظاہر ہے اتنے بڑے جسم کو زندہ رکھنے کے لیے کھانا بھی اتنا ہی کھانا ہوگا۔
06:20یہاں پر سوال اٹھتا ہے کہ ٹائٹن وعہ شکار کیسے کرتا ہے؟
06:25کیا یہ ہالی ووڈ فلموں کے ازدہوں کی طرح زمین پر تیزی سے رینگتا ہوا اپنے شکار کے پیچھے بھاگتا
06:32تھا؟
06:32بلکل نہیں۔
06:34اتنا بڑا اور بھاری جسم زمین پر شکار کرنا تو دور کی بات اس کا زمین پر رینگنا ہی کافی
06:41مشکل تھا۔
06:42گریوٹی اس کے وزن کے خلاف کام کرتی تھی کیونکہ سامپ جتنا لمبا ہوگا وہ زمین سے چپک کر چلے
06:49گا۔
06:49اس کا مطلب ہے اتنی ہی زیادہ فریکشن۔
06:52تحقیق سے معلوم پڑا کہ ٹائٹن وعہ بہت سست تھا اسی لیے وہ زمین کا نہیں بلکہ پانی کا شکاری
07:00تھا۔
07:00یہ بلکل اسی طرح ایکٹ کرتا تھا جیسے آج کا مگر مچ کرتا ہے۔
07:05وہ اپنا زیادہ تر وقت دلدلی پانی کے اندر گزارتا کیونکہ پانی اس کے بھاری جسم کو سہارا دیتا تھا۔
07:12اور وہ اس میں فلوٹ کر کے بوینسی کی مدد سے اپنے وزن کو کم محسوس کرتا تھا اور بھرتی
07:19دکھا سکتا تھا۔
07:20گہرے دلدل والے علاقے میں وہ گھات لگا کر چپ جایا کرتا۔
07:25صرف اس کی آنکھیں اور ناک پانی سے باہر دکھائی دیتی تھی۔
07:29وہ ایک ایمبوش پریڈیٹر تھا یعنی گھات لگا کر حملہ کرنے والا شکاری۔
07:35وہ اپنے شکار کے پیچھے نہیں بھاگتا تھا بلکہ لمبے وقت تک گھات میں ہی انتظار کرتا تھا۔
07:41گھنٹوں شاید دنوں تک وہ بینا ہلے جھلے پانی میں گھات لگا سکتا تھا۔
07:47اس کا جسم پانی کے رنگ میں ایسے کیموفلاج ہو جاتا کہ شکار کو اس کی موجودگی کا احساس تک
07:53نہ ہوتا۔
07:54اور جیسے ہی جب کوئی جانور پانی پینے کے لیے کنارے پر آتا،
07:58ٹائٹن او بوہ بجلی کی تیزی سے اس پر وار کرتا تھا۔
08:02سائنٹس نے بائیو میکینیکل موڈلز کے ذریعے اندازہ لگایا ہے
08:06کہ جب ٹائٹن او بوہ اپنے شکار کو جکرتا تھا
08:09تو وہ لگ بھگ 400 PSI سے بھی زیادہ پریشر ڈالتا تھا۔
08:13یہ دباؤ اتنا زیادہ ہے کہ مان لیں دو افریکن ہاتھی آپ کے سینے پر لاکر کھڑے کر دیے جائیں۔
08:21ٹائٹن او بوہ اپنے شکار کا دم ٹوٹنے کا انتظار نہیں کرتا تھا
08:25بلکہ اتنا پریشر سیدھا اس کی ہڈیاں توڑ دیتا اور بلڈ کی سرکولیشن فوراں رک جاتی تھی۔
08:33یعنی پلک جھپکتے ہی شکار کا کام تمام۔
08:36لیکن آخر وہ کھاتا کیا تھا؟
08:39اتنے دیو جسم کو زندہ رکھنے کے لیے اسے بہت زیادہ کھانا چاہیے تھا۔
08:43چھے کروڑ سال پہلے کے اس ٹروپیکل جنگل میں ٹائٹن بوہ کا پسندیدہ کھانا
08:49بڑے کچھوے اور پرانے زمانے کے بڑے کروکڑائلز تھے۔
08:53جی ہاں اس زمانے میں ایسی قسم کے کچھوے بھی موجود تھے جن کا سائز آٹھ فٹ سے بھی بڑا
08:59تھا
08:59یعنی ایک سنوکر ٹیبل جتنا بڑا کچھوہ۔
09:02ٹائٹن بوہ ایسے کچھووں کو اپنے جبڑوں میں جکڑ کر ان کے سخت شیل کو چیر سکتا تھا۔
09:09اس کے دانت مچھلی پکڑنے کے لیے ڈیزائنڈ نہیں تھے بلکہ موٹی ہڈیاں کچلنے کے لیے بنے تھے۔
09:15اسی طرح جو مگرمچ آج جنگل کے طلابوں میں خوف کا عالم بنے ہیں
09:20ان سے بڑے مگرمچ اس دور میں ٹائٹن بوہ کا کھانا ہوا کرتے تھے۔
09:25ان سب حقیقتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹائٹن بوہ اپنے دور میں شکاریوں کے بھی شکاری اور ایمیزون کے
09:32بے مثال بادشاہ تھے۔
09:34اب یہاں آپ سوچ رہے ہوں گے کہ جب اس کی موٹائی ہی ایک ہیلدی انسان کی کمر جتنی تھی
09:40تو وہ اتنا بڑا کچھوہ کیسے کھاتا ہوگا؟
09:43یہاں آپ کو بتاتا چلوں کہ سامپوں کی ڈسکوری میں سب سے بڑی مشکل ان کا اسکل یعنی کھوپڑی ڈھونڈنا
09:50ہوتا ہے۔
09:51سامپ کا اسکل بہت ہی نازک ہڈیوں سے بنا ہوتا ہے جو مرنے کے بعد جلدی ٹوٹ پوٹ جاتی ہیں۔
09:58ٹائٹن بوہ کی ڈسکوری کے پہلے چند سالوں تک ایکسپرٹس کے پاس صرف ریڈ کی ہڈیاں تھی
10:04جس کی وجہ سے وہ اس کے چہرے اور شکار کرنے کے طریقے کا اندازہ صحیح سے نہیں لگا سکتے
10:10تھے۔
10:11لیکن پھر 2011 میں ایک انٹرن جارج مورینو بیرنل نے سیری ہون میں ٹائٹنو بوہ کا اسکل ڈھونڈ نکالا۔
10:19یہ ایک ونس این آ لائف ٹائم ڈسکوری تھی۔
10:23اس اسکل نے ثابت کیا کہ اس کا جبڑا اینکونڈا کی طرحاں ڈس لوکیٹ ہو سکتا ہے
10:28جس سے وہ اپنے سر سے تین گناہ بڑی چیز آسانی سے نگل سکتا تھا۔
10:34اس کے برین کا سائز بہت چھوٹا تھا لیکن اس کے سینسز بہت تیز تھے۔
10:39اس کے پاس پٹ آرگنز تھے جو دوسرے جانوروں کے جسم کی ہیٹ کو محسوس کر سکتے تھے۔
10:45جس سے وہ اندھیرے میں بھی شکار کر سکتا تھا۔
10:48یہ بھی یاد رکھیں کہ پانی ٹائٹنو بوہ کے لیے صرف شکار کا ہی ذریعہ نہیں تھا
10:54بلکہ اس کی زندگی کے لیے بھی سب سے امپورٹنٹ تھا۔
10:58اتنا بڑا جسم اگر پوری طرح خوشک زمین پر رہتا تو اپنے ہی وزن سے دب جاتا اور اس کے
11:04انٹرنل آرگنز پھٹ جاتے۔
11:06پانی اس کو سہارا دیتا تھا تاکہ وہ اپنے بوجھ کو ہلکا کر سکے۔
11:11یعنی ٹائٹنو بوہ کی زندگی ایک پرفیکٹ بیلنس میں تھی۔
11:15گرمی اس کو طاقت دیتی تھی اور پانی اس کا وزن کم رکھتا تھا۔
11:20یہ قدرت کا ایک ایسا عجوبہ تھا جو اپنے انوارمنٹ کے لیے بلکل پرفیکٹ تھا۔
11:26لیکن یہاں پر سوال اٹھتا ہے کہ اگر وہ اتنا ہی پرفیکٹ تھا، اتنا طاقتور تھا اور اس کا کوئی
11:32شکاری دشمن بھی نہیں تھا
11:34تو آخر جنگلات کے یہ بادشاہ ختم کیسے ہوئے؟
11:38آج کے دور میں وہ ہمیں نظر کیوں نہیں آتے؟
11:41اس کا جواب بہت ہی سمپل مگر کافی افسوسناک ہے۔
11:45دنیا بدل گئی لیکن ٹائٹنو بوہ خود کو اس طرح بدل نہ سکا۔
11:50پیلیو سین دور کے بعد زمین کا موسم آہستہ آہستہ تھنڈا ہونا شروع ہوا۔
11:55ہم انسانوں کے لیے چند ڈگریز کا اوپر نیچے ہونا معمولی بات ہوتی ہے
12:00لیکن ایک تھنڈے خون والے ازدہے کے لیے یہ موت کا پیغام تھا۔
12:05جیسا کہ آپ نے پہلے جانا ٹائٹنو بوہ کا میٹابولزم ماحول کی گرمی پر ڈپینڈ کرتا تھا
12:11جب تھنڈ بڑھنا شروع ہوئی تو اس کا میٹابولزم سست پڑ گیا
12:15اس کا کھانا حضم کرنے کا پروسیس زیادہ لمبا ہو گیا اور اس کی طاقت کم ہوتی گئی
12:21اب نہ وہ پہلے جیسا پھرتیلا تھا اور نہ ہی آسانی سے شکار دبوچ سکتا تھا
12:27صرف ٹیمپریچر کا کم ہونا ہی نہیں بلکہ یہاں کا پورا ایکو سسٹم ہی بدل گیا
12:33رین فورسٹ میں جو دلدلی علاقے ٹائٹنو بوہ کے رہنے کے لیے پرفیٹ تھے
12:38وہ آہستہ آہستہ سوکنے لگ گئے اور دلدل کم ہونے لگی
12:42اور اس سب کے ساتھ ساتھ تابوت میں آخری کیل میملز نے ٹھوک دیا
12:47دنیا میں میملز بڑھنا شروع ہو گئے
12:50اور جو شکار پہلے ٹائٹنو بوہ کا تھا وہ اب دوسرے جانوروں میں ڈیوائیڈ ہو گیا
12:55دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ دنیا کے سب سے بڑے ازدہے کے لیے کم پڑ گیا
13:01نہ دلدل بچی نہ گرم موسم اور نہ ہی شکار
13:05صرف چند ڈگریز تھنڈے موسم نے دنیا کے سب سے بڑے سامپ کو تاریخ کا حصہ بنا کر رکھ دیا
13:13امید ہے زیم ٹی وی کی یہ ویڈیو بھی آپ لوگ بھرپور لائک اور شیئر کریں گے
13:18آپ لوگوں کے پیار بھرے کومنٹس کا بے حد شکریہ
13:21ملتے ہیں اگلی شاندار ویڈیو میں
Comments

Recommended