Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Why the U.S. hasn’t benefited much
✔ Sanctions blocked imports
✔ Production in Venezuela collapsed
✔ The oil quality and infrastructure make it expensive to use
✔ Trade is entangled in politics and legal restrictions
✔ Global market conditions mean limited impact on U.S. energy prices

Category

🗞
News
Transcript
00:00عالمی منظر نامے پر سالے نو کا آغاز انتہائی ہنکامہ خیز طریقے سے ہوا ہے
00:06یقیناً آپ کے علم میں ہوگا کہ ایک آزاد ریاست وینزویلا کے منتقل صدر نکولس مارڈورو اور ان کی اہلیہ کو
00:15امریکن فورسز غیر قانونی طریقے سے غوا کر کے اپنے ملک لے گئی تھی
00:20مارڈورو پر امریکہ ہی کی عدالت میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے
00:25اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ان پر لگائے گئے الزابات کی سزا بھی امریکہ ان کو دے کر ہی رہے گا
00:34برحال دوستو ہم اس تفصیل میں نہیں جا رہے کہ یہ آپریشن کیسے ہوا کیسے تکمیل تک ہو جایا گیا
00:41ہمارا یہ موضوع ہرگز نہیں
00:43ہم اس ویڈیو میں آپ کو یہ بتائیں گے کہ امریکہ کا یہ منصوبہ ماہرین کی نظر میں کیوں ایک ناکام منصوبہ ہے
00:52ایکسپرٹس کے مطابق امریکہ کے پاس کیوں کوئی قابل عمل منصوبہ نہیں ہے آئیے یہ سب جانتے ہیں
00:58تو دوستو امریکہ کیوں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر بائے گا
01:03تو اس کیوں کا جواب منشیات کے الزام میں ہرگز نہیں ہے جس کے تحت مارڈورو کو غوا کیا گیا ہے
01:09بلکہ اس کیوں کا جواب فینزویلا کے تیل کی دولت میں چھپا ہے
01:14اب کی بار امریکہ نے روایتی منافقت کا لبادہ اوڑنے کی زیادہ کوشش تک نہیں کی
01:21ماضی میں جب بھی امریکہ اس سے ملتے جلتے آپریشنز کیا کرتا تھا
01:25یا کسی ملک کے وسائل لوٹنا مقصد ہوتا تھا
01:29تو جمہوریت کی بحالی انسانی حقوق یا آزادی اظہار جیسی فینسی وجوہات کا سہارا لیا جاتا تھا
01:37لیکن اس پر ایسا معاملہ ہرگز نہیں
01:39امریکہ نے وضاداری اور گلوبل آرڈر کے تمام پرتے چاک کرتے ہوئے
01:45جمہوریت کا ڈراما عوام کی آزادی وغیرہ کا جھوٹ بلکل بھی نہیں مولا
01:50بلکہ بابانگ دہل پوری ڈھٹائی کے ساتھ کہا جا رہا ہے
01:54کہ وینزویلا کا تیل ہی ہمارا مقصد ہے
01:58اب ڈانلڈ ٹرم کی یہ ٹروتھ سوشل پوسٹ ہی دیکھ لیں
02:02جس میں وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وینزویلا کا 30 سے 50 ملین پیرل زخیرہ شدہ تیل
02:08امریکہ لاکر فروخت کیا جائے گا
02:11اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو وہ خود کنٹرول کریں گے
02:15یاد رہے کہ یہاں ٹرمپ اس تیل کی بات کر رہے ہیں
02:19جو ایکسٹریکٹ کیا جا چکا ہے پرڈیوز کیا جا چکا ہے
02:22اور پابندیوں کے باعث وینزویلا اسے ایکسپورٹ نہیں کر پایا تھا
02:27اور ابھی تک یہ سٹورج ٹینکس میں محفوظ بڑا ہوا تھا
02:32ٹرمپ مزید کہتے ہیں کہ اس رقم کو وینزویلین اور امریکی شہریوں کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے گا
02:39اس پوسٹ کی زبان سے تو آپ کو اندازہ ہو چکا ہوگا
02:43کہ کیسے ایک آزاد ملک کے وسائل پر دھٹائی سے بلکیت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے
02:49اس طرح کا دعویٰ عالمی قوانین اور اخلاقیت پر کئی طرح کے سوالات اٹھاتا ہے
02:55خیر یہ تو وہ تیل تھا جسے زمین سے ایکسٹریکٹ کیا جا چکا ہے
02:59لیکن ظاہر ہے ٹرمپ صرف اسی تیل کی بات نہیں کر رہے
03:03بلکہ وہ وینزویلا کے پاس موجود دنیا کے سب سے بڑے تیل کے زخائر تک رسائی بھی چاہتے ہیں
03:08وینزویلا تین سو تین بلین پیرل معلوم تیل کے زخائر کے ساتھ
03:14اس حوالے سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے
03:17یہ دنیا کے ٹوٹل کلوبل آئل ریزاروز کا چھٹا حصہ
03:22یعنی تقریبا سترا فیصد بنتا ہے
03:24مگر وینزویلا کا یہ تیل ہیوی کروڈ آئل ہے
03:27یعنی یہ لائٹ کروڈ آئل کی نسبت انتہائی گاڑا اور کسافتوں سے بھرپور ہوتا ہے
03:33اسے ریفائن کر کے پیٹرل یا ڈیزل بنانے کے لیے زیادہ اور مہنگی پراسیسنگ کی ضرورت ہوتی ہے
03:40جس کی صلاحیت ہر ایک ملک کے پاس موجود نہیں
03:44دنیا میں ہیوی کروڈ آئل کو ریفائن کرنے کا سب سے بڑا اور جدید ترین انفرسٹیکچر بھی امریکہ ہی کے پاس ہے
03:50خاص طور پر امریکی ریسل ٹیکسس اور لوزیانہ کے ساحلوں پر موجود ریفائنریز
03:55اسی قسم کے گاڑے وینزویلین تیل کے لیے تیار کی گئی تھی
03:59جو بیسویں صدی میں بھی امریکہ کو وینزویلا سے حاصل ہوتا تھا
04:03یعنی امریکہ صرف تیل پر قبضہ نہیں کرنا چاہتا
04:06بلکہ وہ جانتا ہے کہ اس تیل کو کیش کروانے کی مشینری یا انفرسٹیکچر بھی اس کے پاس موجود ہے
04:14اب دوستو اس بارے میں بات کرتے ہیں
04:16کہ ماہرین خدشات کا اظہار کیوں کر رہے ہیں
04:20کہ وینزویلا کی تیل کی دولت سے امریکہ کیا فائدہ اٹھا پائے گا بھی یا نہیں
04:26دراصل اس وقت وینزویلا کی سرکاری آئل کمپنی پی ڈی وی ایسے
04:29شدید بد انتظامی اور طویل عرصے تک آئید رہنے والی بینالکوانمی پابدیوں کے باعث
04:35عملی طور پر تباہ ہو چکی ہے
04:37تیل کی پیداوار سے متعلق مشینری اور انفرسٹیکچر انتہائی خستہ حال ہو چکا ہے
04:42پائپ لائنز متدد مقامات سے غراب ہو چکی ہیں
04:46بڑی اتعداد میں تربیت یا افتار تجربہ کار مین پاور ملک چھوڑ کر جا چکی ہے
04:51ماہرین کے مطابق موجودہ انفرسٹیکچر فوری طور پر تیل کی پیداوار بڑھانے کی صلاحیت بلکل بھی نہیں رکھتا
04:59توانائی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے
05:03کہ وینزویلا کی تیل کی سنت کی بحالی کوئی شارٹرم منصوبہ نہیں
05:07بلکہ یہ ایک لانگ ٹرم عمل ثابت ہوگا
05:11وینزویلا جو اس وقت ایک میلین پیرل یومیا سے بھی کم تیل پیدا کر رہا ہے
05:16اگر اسے اس کی سابقہ صلاحیت جو کہ تین میلین پیرل یومیا تک تھی
05:22وہاں تک واپس لانے کے لیے کم از کم سات سے دس سال لگیں گے
05:27اس کے لیے وسیع پیمانے پر تکنیکی اصلاحات کی ضرورت ہوگی
05:32انفرسٹیکچر کی اثر نو تعمیر بھی درکار ہوگی
05:35مسئلہ صرف وقت کا نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ مالی وسائل کا تقاضہ بھی کرتا ہے
05:42انرجی ایکسپرٹس کے اندازوں کے مطابق تباہ حال نظام کو دوبارہ فال بنانے کے لیے
05:47ایک سو سے دو سو ارب ڈالر کے درمیان سرمایہ کاری درکار ہوگی
05:52ایسے میں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے
05:54کہ اتنی بڑی سرمایہ کاری ایک تباہ حال اور خیر مستحقم ملک میں کون کرے گا
06:00کیونکہ جب تک انفرسٹیکچر مکمل طور پر بحال نہیں ہوگا
06:03تیل کی زیادہ پیداوار بھی ممکن نہیں ہو پائی گی
06:07اسی وجہ سے امریکہ کے اس رجیم چینج منصوبے کو
06:11زمینی حقائق سے غیر ہم اہنگ اور غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا جا رہا ہے
06:18اس کا عملی ثبوت ہم دیکھ بھی چکے ہیں
06:21حال ہی میں دو جنوری دوہزار شبیس کو
06:24ڈانلڈ ٹرمپ نے بڑی امریکی آئل کمپنیز کے ایکسیکٹیوز کے ساتھ
06:29ایک ہنگامی میٹنگ کی ہے
06:30اس ملاقات کا بنیادی مقصد کمپنیز کو وینیزویلا میں کم از کم
06:34ایک سو ارب ڈالرز کی انفیسٹمنٹ پر رازی کرنا تھا
06:37لیکن دوستو آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی
06:39کہ اس میٹنگ کا نتیجہ ٹرمپ کی توقعات کے برعکس نکلا
06:44اور کوئی بھی کمیٹمنٹ کسی بھی کمپنی سے حاصل کرنے میں وہ ناکام رہے
06:50دنیا کی بڑی آئل کمپنیز میں سے ایک ایکزان موبل کے سیئی او
06:54دیرن ووڈ نے وینیزویلا کو موجودہ حالات میں ان انویسٹیبل
06:59یعنی ناکابل سرمایہ کاری قرار دے دیا
07:02دیرن ووڈ نے واضح کیا کہ وینیزویلا میں وہ کوئی نئے کھلاڑی نہیں
07:06بلکہ انیس سو چالیس کی دہائی سے وہاں موجود تھے
07:09انہوں نے کہا کہ کمپنی کے اساسے وہاں ایک بار نہیں
07:12بلکہ دو بار ضبط کیے جا چکے ہیں
07:14جس کے کیسز ابھی تک چل رہے ہیں
07:17بڑی کمپنیز یقیناً وینیزویلا میں انویسٹ کرنے سے ہچکچا رہی ہیں
07:22اور ان کا یہ خوف بلا وجہ بھی نہیں کیونکہ اس کے پیچھے ایک تاریخ ہے
07:26یہاں ہم اساسوں کے فریز کیے جانے کا مختصر کنٹیکسٹ آپ کو بتا دیتے ہیں
07:31دراصل انیس سو چھتر میں جب وینیزویلا نے اپنے تیل کی سنت کو مکمل طور پر نیشنلائز کیا
07:36تو غیر ملکی کمپنیز کو باہر کا راستہ دکھا دیا گیا
07:39اور ان کے اساسے فریز کر لیا گئے تھے
07:42جن میں ایکزن موبل کمپنی بھی شامل تھی
07:44اس کے بعد 2007 میں ہوگو شاویز نے ریسورس نیشنلیزم کا نعرہ لگایا
07:49اور ایکزن موبل سمیت کئی دوسری کمپنیز کے اربوں ڈالر کے منصوبوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا
07:55لہٰذا اس کنٹیکس میں اور اس رسک کو ذہن میں رکھتے ہوئے
07:59حالیہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ میٹنگ میں ایکزن موبل نے بس اتنا ہی کمیٹ کیا
08:05کہ وہ وینزویلا میں آئل انڈسٹی کی موجودہ سیچویشن کو سمجھنے اور پرکھنے کے لیے
08:11اپنی ٹیکنیکل ٹیم بھیجنے کو تیار ہیں
08:13ایکزن موبل ہی کی طرح کنوکو فیلپس کے سی ایو ریان لینس نے کہا
08:18کہ وینزویلا کی سٹیٹ آئل کمپنی میں بڑے پیمانے پر ری سٹرکچرنگ کی ضرورت ہے
08:23ان کے مطابق بینکنگ سیکٹر کو وینزویلا کے قضوں کی ادائیگی اور انفرسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے
08:28بلینز آف ڈالرز مہیا کرنا ہوں گے
08:31یعنی آپ کہہ سکتے ہیں کہ دو بڑے آئل پلیئرز نے
08:34ملا جولا ریسپونس ہی دیا اور کوئی فنانشل کمیٹمنٹ نہیں کی
08:38اس خدشے کا اظہار امریکہ کے ٹریوری سیکرٹری سٹاک بیزنٹ پہلے ہی کر چکے تھے
08:44کہ بڑی کمپنیز وینزویلا جانے میں دلچسپی نہیں لیں گی
08:48شیوران جو اس وقت وینزویلا کی سٹیٹ آئل کمپنی پی ڈی وی ایس اے کے ساتھ
08:53جوائنٹ وینچر کے طور پر موجود ہے
08:55اس کمپنی نے بہرحال اپنی آئل پروڈکشن اگلے دو سال تک
08:59پچاس فیصد تک بڑھانے کی کمیٹمنٹ کی ہے
09:01لیکن یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے
09:04کہ شیوران اس وقت دو لاکھ چالیس ہزار بیرل یومیا ہی پروڈیوس کر رہی ہے
09:09دو سالوں میں پچاس فیصد اضافے کے ساتھ
09:13یہ مقدار بڑھ کر لگ بگ ساڑھے تین لاکھ بیرل تک ہی پہنچ پائے گی
09:17یہ کوئی خاطرخواہ اضافہ آئل کی پروڈکشن میں ہرگز نہیں ہوگا
09:21جس سے امریکہ کو بہت بڑا فائدہ ہو سکے
09:23ڈونالڈ ٹرمپ کو ایکزن موبیل کا رسپونس کچھ زیادہ پسند نہیں آیا تھا
09:28اسی لئے انہوں نے اس میٹنگ کے بعد کہا
09:30کہ وہ ایکزن موبیل کو وینزویلا سے آؤٹ رکھنے کے حق میں ہیں
09:34یہ صرف ایکزن موبیل کا مسئلہ نہیں
09:36بلکہ تقریباً سب ہی بڑی کمپنیز اس حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار ہیں
09:42اور ماہرین کے مطابق ان کے یہ خدشات بلکل درست اور بھجاہ ہیں
09:46اس سے بڑا سوال جو سنمایہ کاروں کو پریشان کر رہا ہے
09:49وہ یہ ہے کہ کیا واقعی وینزویلا میں سب کچھ بدل چکا ہے
09:52ایکسپرٹس کا ماننا ہے کہ امریکہ نے مدوروں کو تو ہٹا دیا
09:56لیکن وینزویلا کا سیاسی سٹرکچر یا رجیم واقعی تو جھوکی توں ہے
10:02اقتدار ابھی بھی انہی لوگوں کے پاس ہے
10:04جو امریکہ کے بہترین دشمن سمجھے جاتے ہیں
10:07بلکہ ان میں سے کئی تو ایسے ہیں
10:09جن کے سروں پر امریکہ نے کرونوں ڈالرز کے نامات یعنی ہیڈ منی رکھی ہوئی ہے
10:14نئی قیادت کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہیں
10:17وینزویلا کی موجودہ صدر
10:19ڈیلسی روٹریگوز کے بارے میں یہ توقع رکھنا
10:22کہ وہ امریکہ کی کٹ پتلی بن جائیں گی
10:24ایک خام خیالی ہی لگتی ہے
10:26ڈیلسی کے دل میں بھی کہیں نہ کہیں
10:28امریکہ کے خلاف شتید دفرت موجود ہے
10:31کیونکہ ان کے والد کے بےہمانہ قتل کا الزام
10:34سی اے اے اور امریکی حمایتی آفتہ پولیس پر ہی لگایا جاتا ہے
10:38ایسے ماحول میں کمپنیز کو وہاں جا کر
10:41مقامی قوانین اور وینزویلین عدالتوں کا سامنا بھی تو کرنا ہے
10:45جو ابھی بھی مادورو کے حامیوں ہی کے کنٹرول میں ہیں
10:49لگل ایکسپرٹس کے مطابق
10:50ٹرمپ دیزامیہ نے مادورو کو ہٹانے کے بعد
10:52کوئی قانونی میکنزم نہیں بنایا
10:55جس کے تحت تیل کو قانونی طور پر وینزویلا سے نکال کر
10:58امریکہ لائے آ جا سکے
11:00جب تک وینزویلا کی پارلیمان قوانین تبدیل نہیں کرتی
11:03تب تک کوئی بھی امریکی کمپنی وہاں جا کر کام نہیں کر سکتی
11:06کیونکہ ان کا ہر اقدام
11:08وینزویلا کے قوانین کے مطابق
11:10غیر قانونی تصور ہوگا
11:12اور انہیں عالمی عدالتوں میں
11:14مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے
11:17بات صرف وینزویلا تک محدود نہیں
11:19خود امریکہ کے اندر بھی
11:20ٹرمپ کے لیے حالات زیادہ سازگار نہیں
11:23ٹرمپ کے ان جارہانہ اقدامات کے خلاف
11:25امریکہ کے اندر بھی شدید رد عمل
11:27سامنے آ رہا ہے
11:28یہاں تک کہ خود ڈونلڈ ٹرمپ نے
11:30اس خدشے کا اظہار کیا ہے
11:32کہ آنے والے میڈ ٹرم الیکشنز میں
11:34ریپبلکنز پارٹی کو اکثریت نہ ملی
11:37تو انہیں امپیچمنٹ
11:38یعنی مواخذے کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے
11:53اگر ایسا نہ بھی ہوا تو یہ ڈونلڈ ٹرمپ کی آخری صداتی ٹرم تو ہے
12:01اور ان کے پاس اقتدار کے زیادہ سے زیادہ تین سال ہی باقی بچے ہیں
12:06آئل انڈسٹری کے پروجیکٹس دہائیوں پر محیط ہوتے ہیں
12:10سرمایہ کاروں کے مائنڈ میں یہ ضرور ہوگا
12:12کہ اگر آج وہ اربوں ڈالرز لگا بھی نہیں
12:15تو تین سال بعد کیا نیا صدر یہی پالیسی اپنائے گا
12:20اور وینزویلہ میں کیا حالات یہی ہوں گے
12:23اس بارے میں ظاہر ہے کسی کو بھی کچھ معلوم نہیں
12:26انہی غیر یقینی حالات
12:29قانونی پہچیتگیوں اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے
12:32ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا وینزویلین تیل فروخت کر کے
12:37امریکہ کو فائدہ پہنچانے کا خواب
12:39شاید کبھی حقیقت کا روپ نہیں دھار سکے گا
12:43اور وینزویلین صدر کو غواہ کرنے کی بدنامی
12:46امریکہ نے خامخواہی مول لی ہے
12:48دوستو بات یہیں تک محدود نہیں
12:50بلکہ ایک طرف ٹرمپ نے خود کو وینزویلہ کا پوری صدر پھی
12:54ڈیکلئر کر رکھا ہے
12:55اور کھلے عام وہ یہ دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں
12:58کہ وہ وینزویلہ کے معاملات اور اس کی تیل سے حاصل ہو لیں
13:02والی آمدنی کو براہ راست کنٹرول کریں گے
13:05دوسری طرف مارکو روپیو نے ٹرمپ کے دعویوں کے برعکس
13:08دنیا کو دکھانے کے لیے ایک تھری سٹیپ پلین پیش کیا ہے
13:12جس کے پہلے مرحلے میں سٹیبلائزیشن یعنی استحکام
13:16دوسرے میں ریکاوری یعنی تنظیم نو
13:19اور تیسرے میں جمہوریت کی طرف منتقلی شامل ہیں
13:22روپیو کا مقصد صرف یہ تاثر دینا ہے
13:24کہ امریکہ قبضہ نہیں کر رہا
13:26بلکہ وینزویلین عام کی مدد کر رہا ہے
13:29جمہوریت کے حصول کے لیے
13:31لیکن دوسری طرف
13:32کئی امریکی کانگریس کے ممبرز دعویٰ کر رہے ہیں
13:35کہ ٹرمپ ایڈمنسٹیشن کے پاس
13:42دوسرے سے موجود ہی نہیں
13:44دوستو یاد رہے کہ اس ویڈیو میں
13:46ہم نے صرف تیل کے پوائنٹ آف یو سے
13:48ڈسکشن کی ہے
13:49ٹرمپ ایڈمنسٹیشن حالیہ آپریشن کے بعد
13:52جو باقی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں
13:55جن میں چین اور روز سے دوری جیسے مقاصد شامل ہیں
13:58ان پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار
14:02ٹرمپ کے سیاسی مقالفین کی جانب سے کیا جا رہا ہے
14:05مرڈورو کو ہٹائے جانے کے بعد
14:07یہ کیاس آرائیاں ہو رہی ہیں
14:09کہ اب اقتدار اپوزیشن لیڈر
14:11ماریا کو رینا مچادو کو دیا جائے گا
14:15مگر باخبر حلقوں کا ماننا ہے
14:17کہ شاید انہیں بھی اقتدار نہ مل سکے
14:19اس حوالے سے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا
14:23کہ امریکی صدر نے مچادو کی حمایت سے ہاتھ صرف اس لیے کھینچ لیا
14:27کیونکہ انہوں نے نوبل انام قبول کرنے کا فیصلہ کیا تھا
14:32اگرچہ ماریا مچادو نے جیت کے بعد یہ ایوارڈ ٹرمپ کو ڈیڈیکیٹ بھی کیا
14:38لیکن ان کا ایوارڈ قبول کرنا ہی ان کی بڑی غلطی سمجھا جا رہا ہے
14:43سورسز کے مطابق اگر مچادو یہ ایوارڈ لینے سے انکار کر دیتی
14:48اور یہ کہتی کہ میں اسے قبول ہی نہیں کرتی
14:51کیونکہ یہ دراصل ڈونلڈ ٹرمپ کا حق ہے
14:54تو شاید آج وہ وینزویلا کی صدرپن بھی چکی ہوتی
14:58مادوروں کو ہٹائے جانے کے بعد ماریا مچادو نے خوشامت کے انتہائی درجے پر جاتے ہوئے
15:03یہاں تک کہہ ڈالا کہ وہ اس انام کو ٹرمپ کے ساتھ شیئر کریں گی
15:08لیکن ظاہر ہے ٹرمپ بھی اس سے راضی نہیں ہوں گے
15:11امریکہ کے اس جارہانہ اقدام نے عالمی سیاست میں ایک انتہائی خطرناک مثال قائم کر دی ہے
15:18تذیعہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر دنیا کی سوپر پاور ہونے کے ناتے
15:22امریکہ ایک آزاد ریاست کے سربراہ کو یوں کوا کر سکتا ہے تو کل کلا دوسرے طاقتور ممالک کو ایسا کرنے سے کون رکے گا
15:29سوچیں اگر آنے والے وقت میں روسی صدر پوٹن یہی جواز پیش کر سکتے ہیں
15:35اور وہ یوکرین کے صدر زلنسکی کو اٹھا کر ماسکو لے جائیں اور ان پر مقدمہ چلائیں
15:41تو جس کی لاتھی اس کی بھینس کا قانون تو ظاہر ہے امریکہ نے خود ہی شروع کیا ہوگا
15:47تو امریکہ پھر روس کے اس طرح کے اقدام پر تنقید کیسے کر پائے گا
15:51صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ پر قبضے کرنے کا دعویٰ بھی کھلے عام کر رہے ہیں
15:56اس بات کا لحاظ تک نہیں کر رہے کہ دنوارک ان کا نیٹو الائی ہے
16:02اگر گلوبل آرڈر کو کسی حد تک مستحکم رکھنا ہے اور کسی بڑی جنگ سے بچنا ہے
16:09تو امریکہ کو ان جارہانہ اقدامات پر نظر سانی کرنی ہوگی
16:14دوستو آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے
16:16کیا امریکہ وینزویلا کے صدر کو
Comments

Recommended