Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Transcript
00:001281 ECU میں جب ورتوگل غازی کی وفات ہوئی تو اس وقت کائی قبیلے کے پاس صرف سعود شہر یا
00:06اس کے علاوہ چند قبائل کی سرداری موجود تھی
00:09جو کی وراثت میں عثمان غازی کے حصے میں آئی تھی
00:12عثمان غازی نے سرداری کو ایک سرحدی ریاست اور پھر سرحدی ریاست سے ایک سلطنت کی بنیاد رکھنے تک بڑی
00:19کامیابی حاصل کی تھی
00:20اور جب عثمان غازی کا انتقال ہوا تو انہوں نے اپنے بیٹے اورحان کیلئے جو وراثت چھوڑی وہ اس سے
00:26کہیں زیادہ تھی جو انہیں اپنے والی سے ملی تھی
00:30اگرچہ عثمان غازی نے سلطنت عثمانیہ کی بنیاد ڈھال دی تھی مگر ابھی تک کوئی منظم فوج موجود نہیں تھی
00:36عثمانیوں کے پاس نہ تو پیسہ تھا اور نہ ہی بہریہ
00:40اس لیے اورحان غازی کو اپنے والد کی جانب سے ملنے والی سلطنت کو ایک منظم ریاست میں تبدیل کرنے
00:46کے لیے انہیں کافی کوششیں کرنی پڑیں
00:49جب عثمان غازی کا انتقال ہوا تو اس وقت اورحان بے کی عمر تقریباً چالیس سال تھی
00:54انہوں نے اپنے والد عثمان غازی کی بیماری کی وجہ سے سلطنت کا انتظام سنبھالا اور بہت سی کامیابیاں حاصل
01:01کی
01:01جب بورسہ کا محاصرہ جاری تھا تو انہوں نے تیرہ سو اکیس عیسوی میں مدانیا پر قبضہ کر لیا
01:07اور وادی اسکاریا سے بہر عثمت کے ساحل تک کے علاقوں کی فتوحات کیلئے انہوں نے کونور علب
01:13جبکہ آکچہ کوچہ کو انہوں نے عظمیت کی فتح کیلئے روانہ کیا
01:17عثمان غازی کے یہ دونوں کمانڈر کامیاب رہے اور انہوں نے دوززہ اور اس کے گردو نوا
01:23اور سپانچہ جیل کے گردو نوا کے علاقوں کو تھوڑے ہی عرصے میں فتح کر لیا
01:28جبکہ یالوہ عبد الرحمن غازی نے فتح کیا
01:31عثمان غازی کے انتقال کے وقت ان کے پانچ بیٹے تھے
01:36اورحان، علاو الدین، پزارلو بے، حمید بے اور سافچی بے
01:41لیکن تاریخ میں صرف دو نام زندہ رہے اورحان اور علاو الدین
01:45اورحان غازی نے سب سے پہلے اپنے بھائی علاو الدین کو سلطنت کی تقسیم کی تجویز پیش کی
01:51لیکن علاو الدین نے اس پیشکش سے انکار کیا
01:54اور صرف اورحان کی اسرار پر انتظامی مملکت کی ذمہ داری قبول کی
01:58یوں سلطنت عثمانیہ کے پہلے وزیر کی حیثیت سے وہ سامنے آئے
02:03علاو الدین نے وزیر بننے کے بعد تین چیزوں پر خاص سور پر توجہ دی
02:07سکہ، لباس اور فوج
02:10اگرچہ سلجوکی سلطان علاو الدین نے عثمان غازی کو خطبے کے علاوہ
02:14اپنے نام کے سکے جاری کرنے کی بھی اجازت دے دی تھی
02:17تاہم اسمان بے نے صرف خطبے پر ہی اکتفاہ کیا اور اپنے نام کا سکہ جاری نہ کیا
02:23اورحان کی تخت نشینی کے وقت ایشیاء کوچک میں صرف سلجوکی سکے رائش سے
02:28اب علاو الدین نے بدشاہت کی اس امتیاز کو بھی اختیار کیا
02:31اور اسلامی مملکت میں اورحان کے نام کے سکے جاری کیے
02:35علاو الدین نے عوام کے مختلف طبقوں کے لیے
02:39مختلف قسم کے لباس تجویز کر کے ان کے متعلق قوانین نافذ کیے
02:43شہری اور دیہاتی مسلم اور غیر مسلم ہر طبقے کا لباس
02:48الگ الگ مقرر کیا گیا
02:50لیکن علاو الدین کا سب سے بڑا کارنامہ وہ فوجی صلحات ہیں
02:54جس سے سلطنت عثمانیہ کی طاقت اچانک بڑھ گئی
02:57اور جو کلے تین سو سال تک اس کی حیرتنگیز فتوحات کی زامن رہی
03:01وہ عظیم کارنامہ سلطنت عثمانیہ کیلئے بقاعدہ فوج کا قیام تھا
03:06جو ینیچری ینی جانساری فوج کے نام سے تاریخ میں مشہور ہوئی
03:11اور جس کی بہادری کے بلبوتے پر عثمانیوں نے تین سو برس سک
03:15یورپ میں قدم جمائے رکھے
03:17یوں فوجی طاقت حاصل کرنے کے بعد اب اورہان غازی نے فتوحات کی جانب توجہ دی
03:22انہوں نے چھے اپریل تیرہ سو چھبیس اسوی کو بورسا شہر کی فتح کے بعد
03:27بورسا جیسے دو اہم مقامات ازنیک اور ازمیت کی طرف توجہ دی
03:32اس وقت ازنیک ایک سنتی شہر تھا جو کہ بورسا سے بھی بڑا تھا
03:37جبکہ ازمیت ایک تجارتی بندرگاہ تھی
03:39اگر اورہان غازی ان دو شہروں کو فتح کر لیتے
03:43تو رومی بحر مارمرہ میں اپنے مضبوط قدموں سے محروم ہو جاتے
03:46ازنیک شہر پر قبضہ کرنے سے پہلے خلیج ازمیت کے جنوبی ساحلوں کو کارا مرسل بے نے فتح کر لیا
03:53تھا
03:53جبکہ کنڈیرہ کے آس پاس کے علاقے کو آکچہ کوچانے اور کارتل کے قریب اسکدار اور اس کے شمال میں
04:00سماندرہ کلے کو کنور علب اور عبدالرحمن غازی نے فتح کیا
04:05ازنیک شہر کی ناکہ بندی اور محاصرہ عثمان غازی کی وفات کے آخری ایام میں شروع ہوا تھا
04:11اورہان غازی جب حکمران بنے تو انہوں نے اس شہر کی ناکہ بندی سخت کر دی اور محاصرے کا دائرہ
04:18وسیع کر دیا
04:19اس دوران مفتوحہ علاقوں میں یونانیوں کے ساتھ ترکوں کے اچھے سلوک کی وجہ سے ازنیک آس پاس کے یونانیوں
04:26نے شہر کے لوگوں کو ترکوں کا ساتھ دینے کا مشورہ دیا
04:29اور کچھ لوگ ترکوں کی طرف سے جنگ میں شامل بھی ہو گئے
04:33اب چونکہ ازنیک شہر چاروں طرف سے دیواروں میں گھرا ہوا تھا اس لیے یہ زیادہ محفوظ تھا
04:39اور تعمیر کے لحاظ سے یہ ناطولیہ میں مشرقی رومی سلطنت کا سب سے مشہور شہر تھا
04:44اس کے علاوہ یہ شہر آرتھوڈاکس کے مقدس مقامات میں سے بھی ایک تھا
04:50اناطولیہ میں حالات کی سنگینی کو دیکھ کر رومی شہنشاہ انڈرو نکوس سوم نے اندرونی لڑائیوں کو ختم کرتے ہوئے
04:57تیرہ سو انتیس عیسوی میں وہ اپنی فوج کے ساتھ اناطولیہ کی طرف روانہ ہوا
05:01انڈرو نکوس اس امید پر کسندنیا سے روانہ ہوا کہ وہ اورہن غازی کی فتوحات کو روک کر ازنیک شہر
05:08کو بچا لے گا
05:09اس کے علاوہ اس کی خواہش تھی کہ وہ اورہن غازی کو شکست زے کر ترکوں سے اناطولیہ میں اپنے
05:15کھوئے ہوئے علاقوں کو واپس حاصل کر سکے
05:18اورہن غازی کو جب یہ خبر ملی کہ رومی شہنشاہ خود اپنی فوج کے ساتھ اناطولیہ میں اورہن سے جنگ
05:25کیلئے پشکدمی کر رہا ہے
05:26تو انہوں نے ازنیک شہر کا محاصرہ اپنے بیٹے شہزاد سلمان کے حوالے کر کے
05:31خود رومی فوج سے جنگ کرنے کے لیے وہ ازمید چلے گئے
05:35جبکہ رومی شہنشاہ نے گیبزے اور اس کی شہر کے درمیان اپنی فوج کے ساتھ پڑاؤ ڈالا
05:41اور وہاں ترک فوج سے لڑنے کا اس نے فیصلہ کیا
05:44اب وہ مقام جہاں میدان جنگ کا انتخاب کیا گیا تھا وہ رومی فوج کے لیے بہترین میدان تھا
05:51دس جون کی صبح کو دونوں فوجیں آمنے سامنے کھڑی تھی
05:54انڈرو نکوس نے اپنی فوج کی کمان خود کی اور اس نے اپنے دائیں اور بائیں جانی پہاڑوں کے اوپر
06:00اپنے بہترین تیراندازوں کو بٹھایا جبکہ اس کے اقب میں بہر مارمرا کا سمندر تھا
06:05اس کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ عثمانیوں کو میدان جنگ کی طرف کھینچ کر وہاں ان کا مقابلہ کرے
06:11گا
06:11جبکہ دوسری جانب اورہن غازی پہاڑ سے میدان جنگ کا نظارہ کر رہے تھے
06:16اور رومی فوج کو اس نہموار علاقے کی طرف متوجہ کرنے اور اپنے گرسوار دسوں کے ساتھ گھات لگانے کا
06:23منصوبہ بنا رہے تھے
06:24اس منصوبے کے مطابق اورہن غازی نے ابتدا میں اپنے تین سو افراد پر مشتمل گرسواروں کو میدان جنگ میں
06:30اتارا
06:31اس دسے نے رومی فوج پر تیر برسائے اور وہ واپس پیچھے ہٹنے لگے
06:35یہ دراصل ایک جنگی چال تھی کہ دشمن اس دسے کا پیچھا کرتے ہوئے اورہن غازی کے پسند کے میدان
06:41میں آئے
06:42جہاں پر گھات لگا کر اس پر حملہ کیا جا سکے لیکن رومی شہنشاہ انڈرو نکوس نے جلد یہ محسوس
06:49کر لیا کہ ایک جال ہے
06:50لہٰذا اس نے اپنے سپاہیوں کو اپنی جگہ پر قائم رہنے کا حکم دیا اور اس نے جوابی تیر عثمان
06:56غازی کے گرسوار دسوں پر برسائے
06:58اورہن غازی کے گرسوار دسے نے ایک بار پھر رومی فوج پر تیر برسائے اور اس نے یہ حملہ کئی
07:04بار دھورایا
07:05جس سے شہنشاہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور اس نے تیر اندازوں کے دسے کو ختم کرنے
07:11کے لیے اپنے گرسواروں کو حملے کا حکم دیا
07:14جب رومی فوج اپنے شہنشاہ کے زیر کمان میدان جنگ میں اتری تو اورہن غازی کا یہ ہر اول دسہ
07:20واپس اپنے لشکر کی جانی پسپا ہوا
07:23اورہن غازی نے تازہ دم گرسوار دسے میدان جنگ میں اتارے اور یوں جنگ شروع ہو گئی
07:30اورہن غازی کی فوج تیر اندازی کے وجہ سے جلد رومی فوج پر غالب آ گئی
07:35شہنشاہ نے جب یہ صورتحال دیکھی تو اس نے اپنے گرسواروں کے ساتھ پیچھے ہٹنا شروع کر دیا
07:40لیکن اسمانی گرسواروں کا حملہ اس قدر تیز اور شدید تھا
07:44کہ اس سفرہ تفری کے دوران شہنشاہ ایک تیر لگنے کے وجہ سے اس کی ٹانگ شدید زخمی ہو گئی
07:50اور جلد بازنتینی لشکر میں یہ خبر پھیل گئی کہ شہنشاہ کی موت ہو گئی ہے
07:54اس خبر نے رومی فوج میں شدید انتشار پیدا کر دیا جس پر اورہن غازی اپنی پوری فوج کے ساتھ
08:01میدان جنگ میں اترے
08:03رومی شہنشاہ اپنی فوج میں پھیلی ہوئی سفرہ تفری کو روک نہ سکا اور وہ اپنے چند خاص آدمیوں کے
08:09ساتھ میدان جنگ سے بھاگ کر کشتی میں سوار ہو گیا
08:12جبکہ فوج کا کچھ ہی حصہ جہازوں میں سوار ہو کر کسنتونیہ کی طرف فروانہ ہوا
08:17باقی رومی فوج اتنے خوش قسمت نہیں تھی کہ وہ جان بچا کر کشتیوں میں سوار ہو سکیں اور زندہ
08:24واپس کسنتونیہ پہنچ سکیں
08:25رومی فوج کا کچھ حصہ اورہن غازی کے سپاہیوں کے ہاتھوں مارا گیا
08:30باقی کے سپاہی اورہن کی فوج کے ہاتھوں جنگی قیدی بنے
08:34جبکہ فوج کا ایک حصہ دریاء میں ڈوب کر ہلاک ہو گیا
08:37یوں اورہن غازی کی رومی سلطنت کے ساتھ ہونے والی اس پہلی جنگ میں اورہن غازی کو شاندار فتح حاصل
08:44ہوئی
08:45اور رومی شہنشاہ اینڈرو نکو سوم بڑی مشکل سے زندہ جان بچا کر کسنتونیہ واپس پہنچ سکا
08:53بازنتینی شہنشاہ کو شکست دینے کے بعد اورہن غازی اپنی فوج کے ساتھ ازنیک شہر کے محاصرے پر واپس پہنچ
08:59گئے
09:00رومی شہنشاہ کی فوج جو کہ ازنیک شہر کی واحد امید تھی اورہن غازی کی ہاتھوں شکست کھا کر واپس
09:06کسنتونیہ پہنچ گئے
09:08اس شکست کے بعد ازنیک شہر کی تمام امیدیں دم توڑ گئیں
09:12اور اہل شہر کے لیے ہتھیار ڈالنے کے سیوا اب کوئی چارہ نہ تھا
09:16یوں اناتولیا میں مشرقی رومی سلطنت کا اہم ترین شہر ازنیک عثمانی سلطنت کے قبضے میں چلا گیا
09:22تیرہ سو اکتی سیسوی میں ازنیک شہر کی فتح کے بعد اورہن غازی نے فاتحانہ اس سہر میں داخل ہوئے
09:28اور انہوں نے لوگوں کو اجازت دی کہ وہ اپنا سامان لے کر شہر سے جا سکتے ہیں
09:33اس فتح کی شام تک ازنیک شہر کی گلیوں میں اورہن غازی کی حکم پر ترک سپاہی یہ اعلان کرتے
09:39رہے
09:40کہ تمہارا مال اور جان اب ہمارے سپورت ہیں
09:43آپ لوگ اپنے مذہب پر ازادی کے ساتھ عمل پیرا ہو سکتے ہیں
09:47اس کے بعد ازنیک شہر کا کمانڈر جہاز کے ذریعے اپنے سپاہیوں کے ساتھ اس سمبول واپس سلا گیا
09:53لگین اورہن غازی
Comments

Recommended