- 5 hours ago
- #shaneramzan
- #ramzan2026
- #aryqtv
Bazm e Ulama | Naimat e Iftar - Topic: Qoum-e-Saba
Watch Shan e Ramzan 2026 ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw
Host: Syed Salman Gul Noorani
Guest: Mufti Muhammad Sohail Raza Amjadi, Mufti Ahsan Naveed Niazi, Dr. Muhammad Ahmed Qadri, Hafiz Ahmed Yousuf
#ShaneRamzan #ramzan2026 #aryqtv
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Watch Shan e Ramzan 2026 ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw
Host: Syed Salman Gul Noorani
Guest: Mufti Muhammad Sohail Raza Amjadi, Mufti Ahsan Naveed Niazi, Dr. Muhammad Ahmed Qadri, Hafiz Ahmed Yousuf
#ShaneRamzan #ramzan2026 #aryqtv
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00:00شان رمضان
00:00:30آج بزمع علماء میں آپ کے ہمارے حردل عزیز علماء اسلام موجود ہیں
00:00:34مفتی محمد سویل نظام جلی صاحب
00:00:36مفتی احسن نوید نیازی صاحب
00:00:38جناب قبلہ پروفیسر ڈاکٹر محمد احمد قادری
00:00:41اور جناب علامہ حافظ احمد یوسف
00:00:44آپ چاروں کو میں پھر ویلکم کرتا ہوں
00:00:46بہت بہت شکریہ
00:00:47آج اختتام تک اسی شدومت سے ہمارے ساتھ رہنے کے لیے
00:00:51جس طرح آپ لوگ آغاز میں تھے
00:00:53ماشاءاللہ آج بھی ویسے ہی کھلے ہوئے چہرے ہیں
00:00:55اللہ سلامت رکھے دینِ مطین کی خدمت
00:00:57اسی طوانائی سے آپ کرتے رہیں
00:00:59اور اسی طرح اپنا
00:01:01خون پسینہ دین کو دیتے رہیں
00:01:03اللہ تعالیٰ قبول فرمائے
00:01:04مفتی صاحب آغاز کریں گے
00:01:05قومِ سبا آپ نے ملاحظہ فرمایا قرآن
00:01:08اور یقیناً آپ تو زمانے سے ملاحظہ فرما رہے ہیں
00:01:10قرآن کی ہی تعلیم عام کر رہے ہیں پوری دنیا میں
00:01:13ان کی معیشت جو ایکانومی ہے
00:01:15سندھے بڑی سٹرونگ ایکانومی کا ذکر ملا ہے
00:01:18ان کی معیشت کے حوالے سے
00:01:20قرآن مجید فرقان حمید کیا کہتا ہے قومِ سبا
00:01:22اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
00:01:25بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:01:28الحمد للہ وحدہ
00:01:30والصلاة والسلام علی ملا نبی بعدہ
00:01:34وعلی کل من صحبہ
00:01:38وصحبہ وطبیعہ بی احسان بعدہ
00:01:42صلی اللہ علیہ وعلا آلہ وصحابی وبرکہ وسلم
00:01:46اچھا سلمان بھائی یہ جو قومِ سبا کی جو بات ہے
00:01:52قرآن کریم نے اس کو اپنی انداز میں
00:01:55سورہ سبا میں ہی ذکر فرمایا ہے
00:01:58اور غالباً اسی نسبت سے اس صورت کا نام بھی
00:02:02سورہ سبا ہے
00:02:03اور ملکہِ بلکیس کا جو واقعہ ہم نے پڑھا تھا
00:02:07سلمان علیہ السلام کے حوالے سے
00:02:09تو ملکہِ بلکیس بھی یہیں کی آس پاس کی رہنے والی تھی
00:02:14اچھا اس کا جو اگر دیکھا جائے
00:02:17اس کو آپ سرد معارب کہلیں
00:02:20یا وہاں پر
00:02:22یہ جو علاقہ تھا نا یہ
00:02:25یعنی قومِ سبا
00:02:27یعنی یہ جو علاقہ تھا یہ حدر اموت
00:02:30اور یوں سمجھ لیں کہ یمن کے درمیان میں تھا
00:02:34اور اتنا سرسبز و شہداب تھا
00:02:37اتنا خوبصورت علاقہ تھا
00:02:39کہ فرمایا کہ دو پہاڑوں کے درمیان
00:02:42اور پھر یہاں پر کسی بادشاہ نے کسی زمانے میں
00:02:46ایک بڑا مضبوط قسم کی دیوار یا پشتہ قائم کر دیا تھا
00:02:51جس کی وجہ سے
00:02:52آٹومیٹیکلی جہاں سے بھی دریا کا آنا ہوتا
00:02:55یہ نالوں کا پانی
00:02:56اور مختلف ششموں کا پانی
00:02:58یہ سارا یہاں پر آ کر رکھ جاتا
00:03:01یعنی یوں سمجھ لیں کہ قدرتی ڈیم بناوا تھا
00:03:04اور آپ جانتے ہیں کہ پانی کی ضرورت صرف اس دور میں نہیں ہے
00:03:08یعنی آج کا کتنا جدید دور ہے
00:03:12کتنا جدید دور ہے
00:03:13کہ ہم اب اے آئی میں داخل ہو چکے ہیں
00:03:16اے آئی کا دور دورہ ہے
00:03:18لیکن پانی کی ضرورت ویسی کی ویسی ہے
00:03:21کبھی پیٹل کی ہوتی ہے
00:03:23کبھی کس کے لئے
00:03:24کی پانی کی ضرورت اپنی جگہ پر ہے
00:03:26اس دور میں بھی پانی کی ضرورت اپنی جگہ پر تھی
00:03:29اور آپ یوں سمجھ لیں کہ
00:03:31دیم جو ہے
00:03:32ان کا
00:03:33یعنی ایک معاشی حب تھا
00:03:36یعنی ان کی معاشیات یہاں سے منسلک تھی
00:03:39یعنی جہاں پر پانی رک رہا ہے
00:03:41جہاں پر پانی موجود ہے
00:03:43وہ بھی میٹھا پانی
00:03:44تو یہ ساری چیزیں وہاں پر موجود تھیں
00:03:46پھر لیلہاتِ کھیت
00:03:48باغات آس پاس
00:03:49یعنی دونوں جانب
00:03:52جو ان کی جانبین تھی
00:03:53دونوں اطراف میں ان کے باغات وغیرہ تھے
00:03:56یہ ساری چیزیں ان کو
00:03:58دنیا کے دیگر علاقوں سے
00:04:00ایریاز سے ممتاز کرتی تھیں
00:04:02یعنی آج کے دور میں اگر آپ یہ دیکھ لیں
00:04:04کہ ہمیں کئی معلوم ہو جائے کہ
00:04:06فلاں ملک ہے فلاں شہر بڑا خوبصورت ہے
00:04:08اچھا جی وہاں پر
00:04:10جہاں وہ
00:04:12معاشی حوالے سے بھی وہ بڑا مضبوط ہے
00:04:14تو ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہاں جائے
00:04:17کچھ کمائے
00:04:18تو اس طرح اس دور میں یہ ملک سبا تھا
00:04:20تو وہاں پر لوگ جائے کرتے تھے
00:04:22اللہ رب العالمین فرماتا ہے
00:04:24لَقَدْ كَانَ لِسَبَئِن فِي مَسْكَنِهِمْ آَيَا
00:04:28اللہ وَاکبر
00:04:29یہ آیت نمبر پندرہ ہے
00:04:31کہ ہم نے قوم سبا میں
00:04:33ان کے مقانات کو نشانیاں بنا دیں
00:04:37ان کے لئے نشانیاں بنا دیں
00:04:38اور پھر اس کے ساتھ
00:04:40اللہ رب العالمین یہ بھی فرماتا ہے
00:04:45دونوں طرف باغات ہی باغات ہیں
00:04:47اور ہم نے ان سے فرمایا
00:04:48کہ قلوم مر رسک ربکو مشکرولا
00:04:51کہ تم اپنے لب کا رسک کھاؤ
00:04:53اور اس کا شکر ادا کرو
00:04:55لیکن انہوں نے ایسا کیا نہیں
00:04:57اور آپ جانتے ہیں کہ
00:04:59یہاں پر
00:05:00ایک تو ان کی بستیاں
00:05:01پھر آس پاس شام ہے
00:05:03جارڈن ہے فلسطین ہے یہ بستیاں
00:05:06اچھا عام طور پر ہوتا ہے
00:05:07کیا ہے کہ جب بندہ سفر میں جاتا ہے
00:05:09تو ایک مقام سے دوسرے مقام پر سفر
00:05:12تو بندہ توشہ بھی ساتھ لے جاتا ہے پانی یہ وہ کھانا پینا
00:05:15کہ بھائی سفر میں کچھ نہیں
00:05:17وہاں ایسا معاملہ نہیں تھا
00:05:18جو سفر میں بھی جاتا تھا
00:05:20اس سے ساتھ کچھ لے جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے
00:05:22یعنی ہر منزل پر کھانا موجود
00:05:25ہر منزل پر باغات موجود
00:05:27ایک بڑے آرام سے
00:05:29رب تعالیٰ فرماتا ہے
00:05:30جی جی جی
00:05:30اور رب تعالیٰ کیا فرماتا ہے
00:05:32فَقَالُوا وَبَّنَا بَاعِدْ بَيْنَا اَسْفَارِنَا
00:05:35فرمایا کہ ہم نے
00:05:37انہوں نے یہ دعا کی
00:05:38کہ مولا ہمارا جو سفر یہ بعید فرما
00:05:41فرمایا کہ ہم نے یہ کیا وقت
00:05:43وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنِ الْقُوَلَّتِ بَاوَقْنَا فِيهَا
00:05:46قُرَنْ زَاہِرَةً وَقَدَّنَا فِيهَا
00:05:48یعنی ہم نے بستیوں کے ساتھ بستییں جوڑی
00:05:51اور پھر اس کے ساتھ
00:05:52ان کا سفر بھی اتنا آسان بنا دیا
00:05:54کہ کوئی بھی سفر کے لیے جا رہا ہے
00:05:56صبح ایک بستی میں موجود ہے
00:05:58شام میں
00:05:59یا دن میں دوسری بستی میں آرام کر رہا ہے
00:06:02ساتھ لے جانے کی ضرورت نہیں ہے
00:06:03اب یہی سے آپ اندازہ لگائیں
00:06:06کہ خاتون اگر ایک ٹوکڑا ساتھ لے کر جاتی ہے
00:06:09ایک ٹوکڑا اس کے پاسے
00:06:10سر پہ رکھا ہوا ہے
00:06:11اور وہ ساتھ لے کر جا رہی ہے
00:06:13کچھ دور جا رہی ہے
00:06:15ابھی کچھ سفر تیک کیا ہے
00:06:17ایسے باغات
00:06:18کہ اس کا جو ٹوکڑا ہے نا
00:06:19وہ پھلوں سے بر جاتا تھا
00:06:20اللہ اکبر
00:06:22خود ہی گر گر
00:06:23ایسا حال تھا
00:06:24ایسے لدے ہوئے تھے
00:06:26رب تعالی نے فرمایا
00:06:27کہ ہم نے ان سے فرمایا
00:06:29کہ کھاؤ پیو جو کچھ کرتے ہو
00:06:31اللہ تعالی کا شکر ادا کرو
00:06:32اور جانتے ہیں کہ
00:06:33بارہ سے تیرہ نبی ان کے پاس آئے
00:06:36اللہ اکبر
00:06:36ان کے پاس آئے
00:06:38اور ان کو اللہ تعالی کی توحید کی طرف بلایا
00:06:45شکری کرتے رہے
00:06:48یعنی آپ اس سے انتاظہ لگائیں
00:06:50کہ آج کے دور میں
00:06:51ہم سی پیک کی بات کرتے ہیں نا
00:06:53بلکل شاہی
00:06:53کہ وہی سی پیک اگر ہوگا
00:06:55تو یہ معاشی کوریڈور ہوگا
00:06:58یہ ہوگا
00:06:58ہمارے ملک کا جو معاملہ ہے
00:07:00معاشی معاملہ
00:07:01وہ اس کے ساتھ منسلک ہو چکا ہے
00:07:03تو اس دور میں
00:07:05آپ یوں سمجھنے
00:07:06کہ ان کے علاقے کا معاشی معاملہ
00:07:09اسی سے منسلک تھا
00:07:11اور لوگ آ رہے ہیں
00:07:12سیاحت کے لیے
00:07:13فلاں کام کے لیے
00:07:14اور ان کی کمائیاں ہو رہی ہیں
00:07:15ساری چیزیں ہو رہی ہیں
00:07:16لیکن نشکری کی
00:07:17تو اللہ رب العالمین
00:07:19نے وہ جو
00:07:19ڈیم تھا نا
00:07:21جو کسی باشا کے زمانے
00:07:23بنا تھا
00:07:23ان کے لیے فائدہ ہی فائدہ تھا
00:07:25اللہ رب العالمین
00:07:26نے اسی ڈیم کو
00:07:27ان کے لیے مصیبت بنا دیا
00:07:28وہ اسی بارش کو
00:07:30اسی پانی کو
00:07:31جو ان کے لیے
00:07:32ایک معاشی بنیاد تھی
00:07:34اللہ رب العالمین
00:07:35نے اسی پانی کو
00:07:36ان کے لیے مصیبت بنا دیا
00:07:37The dam was broken and the whole of the people were broken and the whole of the people were broken.
00:07:42Here I would like to say one thing, that yesterday, when we were here, I was reading the Bible and
00:07:50reading the Quran in the church.
00:07:52Now I believe that in one minute, every thing has turned out.
00:07:59One minute, one minute, but in a few seconds.
00:08:33He said that the real crime of the world was the main crime.
00:08:46In the name of Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of
00:08:50Allah, the peace of Allah.
00:09:02Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of
00:09:18Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of
00:09:19Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of
00:09:22Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of
00:09:24Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of
00:09:27Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of
00:09:30Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of
00:09:31Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of
00:09:32Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the peace of Allah, the
00:09:32He said they said that they own this.
00:09:37They should freedom that God has given it.
00:09:40But of course, the effort has given it.
00:09:43The effort has given it.
00:09:44We all get this.
00:09:45We all offer this.
00:09:45They say this.
00:09:46They have given it a shame and it will be given it.
00:09:55They have given it as a given.
00:09:56But the reason we already have given it,
00:09:58Everyone has told that His name has given it.
00:10:01来了
00:10:04that
00:10:05they?"
00:10:08the
00:10:09those who ffers
00:10:10who
00:10:10are
00:10:10we
00:10:11how
00:10:11this
00:10:11that
00:10:12was
00:10:12him Yoast hell
00:10:26found
00:10:27.
00:10:27.
00:10:32.
00:10:33Jason
00:10:35.
00:10:36.
00:10:37mals ki, dhoulat ki ataf romayi
00:10:39ya afiyat me rukha, lakin ona nashukri ki
00:10:41to ye nashukri ki sada hai
00:10:43ke nashukri zawal-e-naymat
00:10:45ka sabab bantyi hai, ye qaidah-e-kuliyah
00:10:47hai, bel qaidah-e-kuliyah hai
00:10:49ye qaidah-e-kuliyah hai, ke nashukri
00:10:52zawal-e-naymat ka sabab
00:10:53bantyi hai, to benda Allah
00:10:55tabarak wa ta'ala ki naymaton ka shukr
00:10:57adha nahi kerta, to ye naymatیں
00:10:59zahil kar di jati hai, naymatیں
00:11:01usse chhin jati hai, yehi wajah hai, ki akabir
00:11:03hamne ye dhuāyye mángte nagar átê hain, ki
00:11:05Allah humne zawal-e-naymat se bucha
00:11:07khudahadies me ye dhuāyye tailim ki gai
00:11:09hai, ki Allah se zawal-e-naymat se bucha
00:11:11ni ki, or afiyat ki dhuā mángnye chahiyye
00:11:13afiyat ka hi bota or khas zikr fyrmaja gaya
00:11:15sallallaha'l-a-afwa wa-la-afiyyah
00:11:17hadith yomara ka hai, ki Allah kisun salli s-satuh sám ne
00:11:19fyrmaja, ki Allah se afw ka, muafi ka
00:11:21or afiyat ka sual kero
00:11:23ki bendhe ko yakin ke baad
00:11:25yani iman ke baad, afiyat
00:11:27سے بڑھ کر کوئی نعمت اطا نہیں فرمائی گئی
00:11:29تو آفیت ہوئے یہ جو اللہ تعالیٰ
00:11:30سے آفیت کبھی بندہ سوال کرے
00:11:32خود ناشکری نہ کرے اور یہ جو
00:11:34شکر گوداری ہے یہ شکر گوداری
00:11:37نعمتوں میں اضافے کا سبب
00:11:38بنتی ہے
00:11:42اگر تم شکر ادا کرو گئے تو میں تمہیں
00:11:44ضرور ضرور اور دوں گا
00:11:46زیادہ دوں گا یہ خود اللہ تعالیٰ
00:11:49نے اعلان فرمایا اور یہ جو ہم لوگ
00:11:51ہنفی کہلاتے ہیں مارے برے سیر پاک
00:11:53ہند کی اکثریت فقہ حنفی سے متعلق
00:11:55ہے امام آدم ابو حنیفہ رائم اللہ
00:11:57کے فالوار ہیں ہم لوگ اور
00:11:58پوری دنیا میں امام آدم حنیفہ رائم
00:12:01اللہ کے فالوارز پھیلے ہوئے ہیں حنفی
00:12:02حضرات امام آدم حنیفہ رائم اللہ کا
00:12:04لقب ہے امام الائمہ
00:12:06ان کا لقب ہے امام آدم
00:12:08سب سے بڑے امام دنیاوں نے سب سے بڑا
00:12:10امام کہتی ہے ان سے ایک مرتبہ پوچھا
00:12:13گیا حضرت آپ کو جو اتنا علم ملا ہے
00:12:14اتنا اللہ نے آپ کو کمال فضل
00:12:16عطا فرمایا ہے علمی اس کا سبب
00:12:18کیا ہے تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ
00:12:20جب بھی مجھے کوئی دین کی نئی بات معلوم
00:12:22ہوتی تو میں اللہ کا شکر ادا کرتا
00:12:25اور اللہ نے خود قرآن میں اعلان فرما
00:12:26لکھا اگر تم شکر کرو گئے تو میں
00:12:30تمہیں اور زیادہ دوں گا ضرور
00:12:32اور زیادہ دوں گا تو یہ اس شکر
00:12:34کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب میرا علم
00:12:36ادافہ ہوتا ہے میں دعا مانگتا تھا تو وہ
00:12:38اور ادافہ اللہ تبارک و تعالی فرماتا گیا
00:12:40تو یہ بطور مثال میں نے ذکر کیا
00:12:42علم کے ساتھ خاص نہیں ہے
00:12:44ہر نعمت کے ساتھ یہ ہے کہ جب
00:12:46اللہ کی طرف سے نعمت ملے تو بندہ
00:12:48اللہ کے حضور شکر گداری
00:12:50کا جذبہ اس کے اندر پیدا ہو
00:12:51اول تو نعمت کا اعتراف کرے
00:12:53اپنا کمال یا اپنا ہنر نہ سمجھے
00:12:56پھولے نہیں اس کے اوپر
00:12:57اللہ والوں کا طریقہ کیا بیان ہوئے ہے
00:12:59سلیمان علیہ السلام نے کیا کہا تھا
00:13:02یہ میرے رب کا فضل ہے
00:13:08یہ میرے رب کی رحمت ہے
00:13:10جتنے اللہ والے گزرے انبیاء
00:13:12مرسلین علیہ السلام ہوں
00:13:13یا دیگر اہل اللہ ہوں
00:13:14ان کو جب کوئی کمال حاصل ہوتا ہے
00:13:16ان کے پاس کوئی فضل ہوتا ہے
00:13:17ان کو کوئی نعمت ملتی ہے
00:13:19تو وہ اسے اپنا کمال سمجھنے کی بجائے
00:13:22اپنا ہنر یا اپنی ذہانت
00:13:24کا سمر سمجھنے کی بجائے
00:13:25وہ ہمیشہ اسے رب کی طرف منصوب کرتے ہیں
00:13:27اور یہ کہتے ہیں یہ ہمارے رب کا فضل ہے
00:13:29یہ ہمارے رب کی رحمت ہے
00:13:31تو اللہ تبارک و تعالی
00:13:32ان کے نام میں اور اضافہ فرماتا ہے
00:13:34وہ دعا مجھے یاد آگئی
00:13:35یا واجد یا ماجد
00:13:37لا تزل عنی نعمتنا نمتہا لیا
00:13:39اے واجد ہے
00:13:40ماجد مجھ سے اس نعمت کو دور نہ فرما
00:13:43جو تُو نے مجھ پہ فرمائی ہے
00:13:44اسے مجھ سے زائل نہ کرنا
00:13:46یہ دعا بھی تعلیم کی گئی ہے باقاعدہ
00:13:48تو یہ آفیت اور شکر ہے
00:13:51اور بند ہے مومن کا تو کام ہی خیر
00:13:52سبحان اللہ
00:13:53یہ دنیا امتحان گاہ ہے
00:13:54امتحان کے وصول پر ہے
00:13:56یہاں پانا بھی آزمائش ہے
00:13:58اور یہاں کھونا بھی آزمائش ہے
00:14:00کہ اللہ دے کر بھی آزماتا ہے
00:14:01لے کر بھی آزماتا ہے
00:14:02اللہ دے تو بندہ شکر ادا کرے
00:14:04پھولے نہیں
00:14:05اور اللہ لے تو بندہ صبر کرے
00:14:07حدیث مبارک میں اللہ کے رسول اللہ سبحانہ نے فرمایا
00:14:11مومن کا ماملہ کتنا ہی اچھا ہے
00:14:13کتنا ہی عجیب ہے
00:14:14کہ اس کا سارا معاملہ خیر ہے
00:14:17اور یہ مومن کے سوا کسی اور کو نصیب نہیں ہے
00:14:27اگر اسے نعمت ملتی ہے
00:14:28تو اس پہ شکر ادا کرتا ہے
00:14:29یہ بھی اس کے حق میں بہتر ہے
00:14:31اور اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے
00:14:32تنگی پہنچتی ہے
00:14:33وہ اس پہ صبر کرتا ہے
00:14:35یہ بھی اس کے حق میں بہتر ہے
00:14:36تو صبر اور شکر کے درمیان ہی رہنا چاہیے بندے کو
00:14:39بہت خوب ماشاءاللہ
00:14:40سر ہم نے بھی جانا کہ نعمت اور دولت کے ملنے پر
00:14:44شکر گزاری کی بات چل رہی ہے
00:14:45اچھا اس کے علاوہ انسان کی
00:14:47ایک تو شکر ہے ظاہرِ بدرجہ اولہ
00:14:50یہی ہونا چاہیے لیکن
00:14:51انسان کے پاس نعمت آگئی دولت آگئی
00:14:54اختیار آگئے اب اس کی کیا کیا ذمہ داری ہیں
00:14:57رسپونسیبیلٹیز
00:14:58عوض باللہ من الشیطان الرجیم
00:15:00بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:15:01مولای صلی وسلم دائمن ابدا
00:15:03علا حبیبکا خیر الخلق کل لہمی
00:15:06یار بی بالمصطفی
00:15:07بلغ مقاصدنا وفر لنا معمدہ
00:15:10عباسی القرمی
00:15:13حضرات علاوہ اکرام نے قرآن و سنت
00:15:15کے حوالے سے
00:15:17بہت اہم پہلوں کی طرف اشارہ کیا ہے
00:15:21جو سوال ہے
00:15:24وہ سوال
00:15:25آج کے دور میں رکھئے
00:15:27اور آج کے انسان کو آپ سوچیں
00:15:29کہ آج کا انسان کل کے انسان سے مختلف نہیں ہے
00:15:32ایسا ہی
00:15:32یہ سمجھے کہ آج کا انسان ہاں مختلف ہے
00:15:35وہ شلوار کرتا نہیں پہنتے تھے
00:15:37ہم پہنتے ہیں
00:15:41ظاہری وضاقتہ میں وہ ہم سے مختلف تھے
00:15:43لیکن انسان کا جو جذبہ
00:15:45اس کی فطرت
00:15:46اس کی خواہش
00:15:47اس کا ارادہ
00:15:47اس کی
00:15:48کہتے ہیں کہ
00:15:50شہوتیں
00:15:52اور خواہشات
00:15:53اس کی وہ سب
00:15:55آج کے دور کے انسان کی بھی ویسی یہ
00:15:57جیسے ماضی بہید میں تھی
00:15:58ماضی قریب میں تھی
00:16:00تو یہ تو نکال دیں
00:16:01تو اس کا مطلب یہ ہوا
00:16:02کہ جس انسان سے
00:16:03اللہ اس وقت مخاطب ہے
00:16:05وہی انسان آج بھی
00:16:06اس سے مخاطب کردار بدل رہے ہیں
00:16:09صحیح
00:16:09اب انسان کو پیسے ملے
00:16:11دولت ملی
00:16:11اپنی خواہ میں سبا کی بات کی نا
00:16:13تو ان کے پاس کیا کچھ نہیں
00:16:15لگتا ہے
00:16:15حضراتہ
00:16:15علماء اکرام میں بہت تفصیل سے بیان کیا
00:16:17اس پر جاؤں گا
00:16:18تو بات ریپیٹ ہوگی
00:16:19کوئی فائدہ نہیں
00:16:19ایک بات ارس کرتا چلوں
00:16:21کہ یہ انسان کی
00:16:23یعنی اطاعت
00:16:24اور بغاوت
00:16:25دونوں انسان کی فطرت کا حصہ ہے
00:16:27باہر کچھ بھی نہیں ہے
00:16:29ہم باہر تلاش کرتے ہیں
00:16:31کہ شاید یہ خرابی ایسے پیدا ہو رہی
00:16:32ایسے پیدا ہو رہی نہیں
00:16:33اسطلاح عمل کے لیے نبوت
00:16:36اور نبوت
00:16:37براہ راس متصل ہے
00:16:39انسان کی فطرت سے
00:16:41وہ انسان کے وجود سے بحث نہیں کرتی
00:16:43ظاہری وجود کی جتنی معاملات ہے
00:16:45کہ بھئی غسل ایسے کر لو
00:16:46فضو ایسے کر لو
00:16:47کپڑے ایسے پہن لو
00:16:49تحارت ایسی ہوتی ہیں
00:16:50یہ باتیں سب کچھ نہیں ہے
00:16:51لیکن جو تحارت قلبی ہے
00:16:53اور تحارت نفسی ہے
00:16:54وہ یہ ہے کہ
00:16:54رب کی شکر
00:16:56رب کا شکر اور رب کی نعمت کو
00:16:59ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر دیکھو
00:17:00کہ تمہارے پاس سب کچھ ہے
00:17:02مجھے ایک بات یاد آرہی ہے
00:17:03ایک چھوٹا سا تجرباتی بات ہے
00:17:05وہ ایکسپریمنٹ ہے میرا
00:17:06کہ ایک صاحب آئے
00:17:08میرے پاس ان کے پانچ پانچ مکانات
00:17:16یہ بتلائی ہے
00:17:17کہ یہ تو میں نے سب مارگیج پہ لیا ہے
00:17:20ڈاکسا مقروض ہوں نا میں تو
00:17:22تو کیا میں جب مقروض ہوں
00:17:24تو مجھ پر زکاة آئے گی
00:17:26یا نہیں آئے گی
00:17:28اور ایک ایک مکان
00:17:29ملینز کے اندر تھا وہ
00:17:30جی ایسا ہی
00:17:31ٹھیک ہے
00:17:31تو اگر انسان ایسا ناشکرا ہو جائے
00:17:35کہ تم پتہ نہیں کون سے علاقے میں
00:17:37پاکستان کے رہتے تھے
00:17:38تمہیں روٹی پوری ملتی بھی تھی
00:17:40یا نہیں ملتی تھی
00:17:41لیکن رب نے تم کو
00:17:42ڈوٹی یہاں پر بھی دی
00:17:43اور رزق کی فراوانی
00:17:44وہاں پر بھی دی
00:17:45اور سکون کے ساتھ
00:17:46تم رہ بھی رہے
00:17:47لیکن اس کے باوجود
00:17:48چھے چھے گاڑیا
00:17:48تمہاری کھڑی ہوئی ہیں
00:17:49اور تم قرضدار کہہ رہے ہو
00:17:50تو بھئی امریکہ میں تو
00:17:52کے اندہ میں
00:17:53یا یورپ کے موالی میں
00:17:54تو لوگ ہوتے ہی قرض پر ہیں
00:17:56پلج ہے موگیج ہے
00:17:57سب کچھ یہی استعلات
00:17:59قرآن کریم
00:18:00وہ جو
00:18:01ابلیس نے کہا تھا
00:18:02کہ اللہ علمین
00:18:04جو لوگ ہیں
00:18:05یہ
00:18:06تو نہیں پائے گا
00:18:07ان کو کئی شکر گزار ہیں
00:18:08قرآن کریم
00:18:09بے اشارہ دے رہا ہوں میں
00:18:10اور پھر
00:18:11یہ جو شکر کی نعمت ہے
00:18:14یہ نعمت
00:18:15پر نعمت ہے
00:18:16واہ
00:18:17اب کوئی کہے
00:18:18کہ کیسے
00:18:20اولاد ہے
00:18:20شکر ادا کیجئے
00:18:21اللہ کا
00:18:21اور اس نعمت کو
00:18:23ریکنائز کرنے کا طریقہ ہے
00:18:24کہ اولاد کو
00:18:24وہ عدب سکھلائیے
00:18:25جو قرآن کا عدب ہے
00:18:27واہ
00:18:27اور جو زبان و زین
00:18:29اور آپ کو
00:18:29صلاحیت دیئے
00:18:31آپ بہترین
00:18:32گلوکار بن سکتے
00:18:33گانا گائیں
00:18:33ہاں ہاں گا رہے ہیں
00:18:34کیا ہو رہا ہے
00:18:35قبر میں گانا کیا کام آئے گا
00:18:38قبر میں
00:18:38نات کام آئے گی
00:18:39قرآن کام آئے گا
00:18:40وہ پڑھو نا
00:18:41وہ پڑھو نا
00:18:42اپنی سہلق سے
00:18:43اور رساوات سے
00:18:43سبحان اللہ
00:18:45تم ظاہر کو دیکھ رہے ہو
00:18:46کہ بڑی لائٹیں
00:18:47لگی ہوئی ہیں
00:18:48دس زار کا
00:18:49پچاس زار کا مجمع
00:18:49تو یاد رکھو
00:18:50شیعاتی کا مجمع
00:18:51ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے
00:18:52اور شکر گزار
00:18:54کامی ہوا کرتے ہیں
00:18:55قرآن نے فرمایا ہے
00:18:56وَقَلِلُمْ مِنْ عَبَادِيَ الشَّكُورِ
00:18:58اللہ کے شکر گزار
00:19:00بندے چند ہی ہوا کرتے ہیں
00:19:01صحیح بات
00:19:02آپ اپنی نجی محافل میں بیٹھ کے
00:19:04علماء کرام کا
00:19:05یہ حفاظ کا مذاق
00:19:06اڑاتے ہیں
00:19:07کیونکہ آپ اپنے آپ کو
00:19:08موڈنائز کرنے کے لیے
00:19:10اپگریڈ کرنے کے لیے
00:19:11تم اپنے آپ کو
00:19:12اس زمین پر
00:19:13لوگوں کے سامنے
00:19:14اپگریڈ کر رہے ہو
00:19:14خدا کے سامنے تو
00:19:15ڈی گریڈ ہو رہے ہو نا
00:19:17اللہ اکبر
00:19:19پترت سلیمہ کے خلاف
00:19:20بات کر رہے ہو
00:19:21کہ رب کو جو پسند ہے
00:19:22تم اس کا مذاق
00:19:23اڑھا رہے بات
00:19:24تو ظاہری عالم کے نہیں ہو رہی
00:19:25یا حافظ کی
00:19:26یا مولوی کی
00:19:27یا دیندار کی
00:19:28یا وہ شخص جو
00:19:29نماز پڑھ کر باہر نکل رہا ہے
00:19:31اور اپنے قلب کو
00:19:32اور اپنے ذہن کو
00:19:32پاکیزہ رکھ رہا ہے
00:19:33بات یہ ہو رہی
00:19:34کہ وہ نعمت اللہ نے
00:19:35اس کو عطا کی ہے
00:19:37تم اسے
00:19:38ڈی ویلیو کر کے
00:19:39یا معاشر میں
00:19:40یہ دکھلا کر
00:19:40کہ میں اتنا موڈنائز
00:19:41آج کل زیادہ
00:19:42موڈنائز ہو کرنے لوگ
00:19:43تو وہ اس طرح سے
00:19:44موڈنائز ہوتے ہیں
00:19:45ابھی آپ رمضان کے
00:19:46پروگرام دیکھ رہے ہوں گے
00:19:47باز جگہ پر
00:19:48کیا بتمیزییں چل رہی ہیں
00:19:49توبہ
00:19:50میں نے کسی سے سنا
00:19:51وہ کہے لیں کہ
00:19:52صاحب وہ
00:19:52اگر کسی کے پاس
00:19:53افتار کے لیے
00:19:54کچھ بھی نہ ہو
00:19:54اور ایک سگریٹ ہو
00:19:56تو کیا وہ اس سے
00:19:57افتار کر سکتا ہے
00:19:57شرم کرنی چاہیے
00:19:59کہ ہم مزاق
00:19:59کس کا اڑا رہے ہیں
00:20:01روزہ
00:20:02ہم گفتگو کر کیا رہے ہیں
00:20:03استغفر اللہ
00:20:04چلیے آپ
00:20:05اپنے کھیل تماشے
00:20:06جو ہیں
00:20:06خاصی مزاق کی
00:20:07باتشیت کا بھی
00:20:08کوئی
00:20:08ایک لیمٹ ہوتی ہے نا
00:20:10اس سے باہر نکل کر
00:20:11مدر پیدر آزاد ہو جائیں
00:20:13اور کپڑوں سے
00:20:14بے نیاز ہو کر کہیں
00:20:15کہ یہ بھی ایک طریقہ ہے
00:20:16بلکل ہے
00:20:17لیکن وہ دوسرے معاشرے کے لیے
00:20:18تمہارے معاشرے کے لیے نہیں ہے
00:20:20بلکل ہے صاحب
00:20:21ایک پاکستان
00:20:22ایک نعمت ہے
00:20:24میرے وطن عزیز کے لیے
00:20:26قربانیاں دیئے لوگوں نے
00:20:27اس رمضان کے اندر
00:20:28لوگوں نے حجرت کی ہے
00:20:29جس میں پاکستان آزاد ہوا ہے
00:20:31اس لیے آزاد نہیں ہوا تھا
00:20:32کہ مدر پیدر آزاد ہو کر
00:20:34اپنے دین کی
00:20:35اپنے آپ کے مزاق اڑاؤ
00:20:36یاد رکھیں
00:20:37اگر آپ
00:20:38اس نعمتِ قبرہ کے
00:20:39اور اپنی
00:20:40دی ہوئی نعمتوں کی
00:20:42خود قدر نہیں کریں گے نا
00:20:44تو ان سے پوچھیں
00:20:45جو بے وطن ہیں
00:20:46اللہ اکبر
00:20:47جو ترس رہے ہیں آزادی کے لیے
00:20:49ان سے پوچھیں
00:20:50کہ پاکستان کیا ہے
00:20:52کہیں کچھ ہو جائے
00:20:53تو سر چھپانے کے لیے
00:20:55پاکستان کا رخ کرتے ہیں آپ
00:20:57بہت خوب
00:20:58اس سے پیار کیجئے
00:20:59بے شک
00:21:00ان نعمتوں سے قدر کیجئے
00:21:01جو اللہ نے سہت کی صورت میں
00:21:02زندگی کی صورت میں دی
00:21:04اور علماء کے دین کی
00:21:05قرآن کی حدیث کی
00:21:06اور میرے نبی سے پیار کیجئے
00:21:08نعمتِ قبرہ ہے
00:21:12یہ کر لیں گے
00:21:16تو ٹھیک ہے
00:21:17ورنہ میسیج بتاؤں
00:21:18گوشت اتنا کڑوا ہو جائے گا
00:21:19کہ کیڑے بھی نہیں کھائیں گے
00:21:21اللہ اکبر
00:21:22اللہ اکبر
00:21:22تاظرین الگرام
00:21:23یہی بر ایک بریک
00:21:24اور بریک کے بعد
00:21:25انشاءاللہ
00:21:26بزمع علماء میں
00:21:27مزید آپ سے ملاقات ہوتی ہے
00:21:29اور بات ہوتی ہے
00:21:29ہے مومینوں کے بلتا
00:21:32بجالہ شان رمضان
00:21:34ہے سارے مہینوں سے
00:21:37شانی رمضان
00:21:40ہے سارے مہینوں سے
00:21:42نرالہ شان رمضان
00:22:03Shalom Deirdre, Nاظرین
00:22:04خیر مقدم ہے آپ کا
00:22:05اور قوم سبا سے متعلق
00:22:07حضرات علماء
00:22:08کلام فرما رہے ہیں
00:22:09اللہ نے ان کو نعمت بھی دی
00:22:11اللہ نے ان کو دولت بھی دی
00:22:12معیشت ان کی
00:22:13ارے کیا کمال کی بات کی تھی
00:22:15مفتی صاحب نے ابتدا میں
00:22:16کہ عورت اگر ٹوکرا سر پر لے کے
00:22:19یا کندے پر رکھ کے چلتی تھی
00:22:21تو دوران سفر چند قدموں کے بعد
00:22:24اس کا ٹوکرا پھلوں سے بھر جاتا تھا
00:22:26ایسے لدے ہوئے
00:22:27پھلوں سے درخت اور لہلاتے ہوئے
00:22:30کھیت اور کیا کچھ نہیں تھا
00:22:32ان کے پاس
00:22:32اللہ نے ان کو ہر نعمت سے
00:22:35اس دور کی
00:22:36ہر نعمت سے ان کی حیثیت سے
00:22:39بندے کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی بھائی
00:22:41میں تو یہی کہتا ہوں کہ ہماری کیا عقاد ہے
00:22:43یہ اس نے نواز رکھا اس کا فضل ہے
00:22:45جو کچھ ہمارے پاس ہے یہ رب کا فضل ہے
00:22:47اس کی عطا ہے اس کی مہربانی ہے
00:22:49ورنہ ہم سے بہتر لوگ معاشرے میں
00:22:51شاید ہمیں دیکھ کر رش کرتے ہوں
00:22:53تو یہ اللہ رب العزت کا فضل ہے
00:22:56ہماری کوئی نقابلیت نہ صلاحیت
00:22:58مگر اس قوم نے
00:23:00شاید تصور کر لیا
00:23:02کہ یہ جو کچھ بھی ہے
00:23:03بس یہ ہمارا ہے ہمارے نصیب میں
00:23:05مطلب اس میں شکر بجا لانے کا
00:23:07شکر کی تکمیل تو باتیں دیگر ہیں
00:23:10شکر کی بات ہی نہیں ہو رہی تھی
00:23:11کہ شکر کہیں بجا لائے جائے
00:23:13تو باراً اس پر بڑا
00:23:15سہرحاصل کلام رہا حضرات علماء سے
00:23:17اللہ محافظ احمد یوسف صاحب تشریف فرمائے
00:23:19حضرت ناشکری جو ہے نا
00:23:23سخت ناپسند فرمایا
00:23:24اللہ اس کے رسول نے بھی
00:23:25اور مزاجن بھی اکثر
00:23:28انسانوں کو یہ چیز ہے
00:23:29میک سنس ہے کہ اللہ نے
00:23:31جو دیا اس سے نیچے دیکھ لو تو خود
00:23:33ہی شکر آپ کو سمجھ میں آ جائے گا
00:23:35لیکن کچھ لوگوں کو
00:23:37واقعتاً ایسا پایا گیا
00:23:39کہ اللہ رب العزت نے انہیں
00:23:42اس دور میں اس قدر
00:23:43نواز رکھا ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں ہے
00:23:46بخل ان کا نہیں جاتا
00:23:47ناشکری ان کی نہیں جاتی
00:23:48انتہائی بخیل جتنا اللہ نے دیا ہے
00:23:51اتنے ہی کنجوس اور
00:23:53اتنے ہی زیادہ ناشکرے
00:23:55تو ناشکری کے نقصانات پر آبرشاد سرمائے
00:23:57بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:24:01قوم سبا کی ناشکری
00:24:03جو تھی وہ کیا تھی
00:24:05کہ انہوں نے اپنے خالق کا انکار
00:24:07کیا یعنی جس خالق
00:24:09نے انہیں نوازا انہیں نعمت
00:24:11عطا فرمائی انہوں نے
00:24:13اسی خالق سے مو پھیڑ لیا
00:24:15اور اسی لئے اللہ تبارک و تعالی
00:24:17نے ان کے پاس تیرہ
00:24:19انبیاء اکرام کو بھیجا تاکہ وہ انہیں
00:24:21توحید کی طرف پلائیں تاکہ وہ
00:24:23اپنے خالق سے جڑیں اور اس بات
00:24:25کو اکنالج کریں کہ ہاں
00:24:27جو چیزیں ہمیں ملی ہیں
00:24:28جو نعمتیں ہمیں ملی ہیں
00:24:30وہ کسی اور نے نہیں دی
00:24:32بلکہ ہمیں اسی خالق نے عطا کی ہیں
00:24:34تو ناشکری بنیادی طور پر کیا ہے
00:24:36کہ اپنے خالق سے مو مور لینا
00:24:38جیسے کہ آپ دیکھتے ہیں
00:24:40سورہ قحف میں اللہ تبارک و تعالی
00:24:42فرماتا ہے
00:24:42دو آدمیوں کا ذکر
00:24:45اللہ تبارک و تعالی نے کیا
00:24:46تو اس میں سے جو ایک آدمی تھا
00:24:48اس نے کیا کیا تھا
00:24:50بنیادی طور پر
00:24:50اس نے یہ سمجھاتا
00:24:52یہ بیان کیا تھا
00:24:53کہ جو ساری نعمتیں ہیں
00:24:54گویا ہے کس کی ہیں
00:24:55یہ میری ہیں
00:24:56ٹھیک ہے
00:24:56جیسے کہ قارون نے بھی کہا تھا
00:24:59تو یہ بنیادی طور پر
00:25:01ناشکری کہلائی جاتی ہے
00:25:03اور قوم سبا کا
00:25:04دراصل جنم یہ تھا
00:25:05کہ انہوں نے اس طور پر
00:25:06ناشکری کی
00:25:07کہ وہ خالق سے کٹ گئے
00:25:09اچھا اب ہمارے یہاں ہوتا ہے
00:25:10سمٹائمز کے
00:25:11بہت سارے لوگ
00:25:13ایسے ہوتے ہیں
00:25:13جو دوسروں کو دیکھتے ہیں
00:25:17اسٹیٹس میں
00:25:17مقام میں
00:25:18مرتبے میں
00:25:19وہ ان سے بڑے ہوتے ہیں
00:25:21اور پھر اس کے بعد
00:25:22وہ ناشکری میں
00:25:23مبتلا ہو جاتے ہیں
00:25:23رسول اللہ علیہ السلام کی
00:25:25حدیث مبارکہ
00:25:26ہے آپ فرماتے ہیں
00:25:27کہ وہ شخص
00:25:28جس نے دنیا میں
00:25:29اپنے سے
00:25:31اوپر والوں کو دیکھا
00:25:32اور دین میں
00:25:33اپنے سے نیچے والوں کو دیکھا
00:25:35تو اللہ تبارک وطالعہ
00:25:36اسے ناشکرہ لکھ دیتا ہے
00:25:38اور جس نے
00:25:39دین میں اپنے سے
00:25:40اوپر والوں کو دیکھا
00:25:41اور دنیا میں
00:25:42اپنے سے نیچے والوں کو دیکھا
00:25:43تو اللہ تعالیٰ و تعالیٰ اسے شکر گزار لکھ دیتا ہے
00:25:47تو اب ناشکری کے نقصانات کیا ہوتے ہیں
00:25:50اس کو اگر ہم تھوڑا سا ground realities کی روشنی میں
00:25:53تھوڑا psychological expect سے اگر ہم اس کو دیکھیں
00:25:55تو دیکھیں سلمان بھئی سب سے بنیادی بات کیا ہے
00:25:58جیسے میں نے ذکر کیا ہے
00:25:59ایک تو بندہ خالق سے کٹ گیا
00:26:00جب خالق سے کٹ گیا تو وہ جو ساری روحانیت ہے
00:26:03کیونکہ انسان کے اندر روح بھی ہے
00:26:06جسم ہے اور پھر روح
00:26:07انسان ان دونوں کا مجموعہ ہے
00:26:08تو جب آپ خالق سے کٹ گئے
00:26:10تو آپ کے جو روحانی معاملات ہیں
00:26:12جو آپ کی روح کی گزا ہے
00:26:14وہ disturb ہو گئی
00:26:15تو مطلب آپ کی جو body ہے
00:26:18جو آپ ہیں
00:26:18آپ عادے متاثر ہو گئے
00:26:20تو سب سے پہلا نقصان تو یہ ہوگا
00:26:21دوسرا نقصان کیا ہوگا
00:26:23کہ جب آپ ناشکری کریں گے
00:26:24تو negative thoughts
00:26:25یہ آپ کے اندر جب وہ پیدا ہوں گی
00:26:27اور اس میں پھر کیا ہوتا ہے
00:26:29کہ بندے کے پاس جو کچھ ہوتا ہے
00:26:32وہ اس پہ بھی کنات نہیں کر پاتا
00:26:35وہ اس کو بھی نہیں دیکھ پاتا
00:26:36آپ دیکھیں قرآن کیا کہہ رہا ہے
00:26:37رسول کریم علیہ السلام کو
00:26:39جب کفار نے تانا دیا
00:26:40کفار نے جب آپ کی اولاد کا انتقال ہوا
00:26:43آپ کی بیٹوں کا انتقال ہوا
00:26:44تو کفار نے تانا دیا
00:26:45تو اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا
00:26:47اِنَّا عَعْتَوِنَا کَلْقَوْسَرْ
00:26:50اے محبوب بے شک ہم نے آپ کو کاؤسر عطا فرمائی
00:26:52یعنی اللہ تعالیٰ نے جملہ جو اشارت فرمائی
00:26:55اس جملے کا جو اسٹرکچر اس پر فوکس کریں
00:26:57اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے
00:26:59اے محبوب ہم نے آپ کو دیا
00:27:00یعنی اللہ تعالیٰ بتانے جا رہا ہے
00:27:02کہ اے محبوب جو لے لیا گیا
00:27:04اس پر نہیں بلکہ جو دیا گیا ہے
00:27:06اس پر دیکھئے
00:27:07اس کو فوکس کیجئے
00:27:08تو ناشکری کیا کرتی ہے
00:27:10آپ سے کہ جو چیزیں آپ کے پاس ہوتی ہیں
00:27:12اس سے بھی آپ کا موپ پھیڑ دیتی ہے
00:27:14ٹھیک ہے تو آپ کو ایک نیگٹیف پروسیس میں
00:27:16وہ ڈال دیتی ہے
00:27:17اور ٹھیک ہے پھر کیا ہوتا ہے
00:27:19بندہ جو محنت ہوتی ہے
00:27:21وہ بھی صحیح طرح سے نہیں کر پاتا
00:27:23وہ بس یہی شکوہ اور شکایات کی عادت
00:27:25اس کے اندر آ جاتی
00:27:26یہ بھی ناشکری کا ایک نقصان ہے
00:27:27کہ جو نعمتیں ہیں
00:27:29ان سے موپ پھیڑ لیتا ہے
00:27:30اور پھر شکوہ اور شکایت
00:27:32ہمیشہ اس کی زبان پر شکایت رہتی ہے
00:27:34کبھی بھی آپ اس کی زبان سے
00:27:36آپ اس کے انداز سے
00:27:38آپ اس کے چہرے سے
00:27:39کبھی بھی خوشی کے آسان نمائے ہوتے ہوئے
00:27:47اور یہی چیزیں بیان کرتا ہوا
00:27:49نظر آتا ہے
00:27:49اور پھر ناشکری کا ایک بہت بڑا فائدہ ہوتا ہے
00:27:52جیسے میں نے ابتدا میں ذکر کیا
00:27:54کہ بندہ اپنے سے اوپڑ والوں کو دیکھتا ہے
00:27:56اور ناشکری کرنے لگ جاتا ہے
00:27:57جو اس کے پاس ہے اس میں
00:27:59تو کیا ہوتا ہے
00:28:01حسد کے بھی جذبات بندے کے اندر پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے
00:28:04ایک ناشکری سے دوسرا گناہ بھی اس کے
00:28:06دوسرا گناہ
00:28:07جی بلکل بلکل
00:28:08شکوہ شکایات
00:28:09ٹھیک ہے نیگٹیف تھوٹس جو ہیں
00:28:11اس کو بھی نہیں دیکھنا
00:28:12اور پھر کیا ہے کہ
00:28:13حسد کی بیماری میں بھی بندہ مبتلا ہو جاتا ہے
00:28:15تو آپ دیکھیں یہ ساری چیزیں مل کر
00:28:18انسان کی جو شخصیت ہے
00:28:20انسان کی جو پرسنالیٹی ہے
00:28:22انسان کا جو کریکٹر
00:28:23اس کو کس طرح ڈیمیج کر دی ہے
00:28:24وہ سوسائیٹی میں
00:28:25جب بھی لوگوں کے درمیان کھڑا ہوگا
00:28:27وہ ہمیشہ ایک ایسی
00:28:29جو ہے وہ اس کی تصویر ہوگی
00:28:31ایسا اس کا ایک بیویر ہوگا
00:28:32ایسا اس کا روئی ہوگا
00:28:33کہ لوگ اسے ناپسند کرنے لگیں گے
00:28:35ٹھیک ہے اس کا جو کردار ہوگا
00:28:37وہ ایک نیگٹیف کردار ہوگا
00:28:38نبی کریم علیہ السلام کی
00:28:40بڑی خوبصورت حدیث
00:28:41اس پر گفتگو کا اختدام کرتا ہوں
00:28:43آپ فرماتے ہیں
00:28:44کہ جو مسلمان نہ مسلمان
00:28:46اللہ تعالیٰ نے اس پر کیسا کرم کیا
00:28:49کہ اس کے لئے ہر حال میں
00:28:51اللہ تعالیٰ نے جو عجر رکھا
00:28:53کس طرح
00:28:54کہ جب اس کے پاس نہیں ہوتا
00:28:56یا اس کے پاس مسئیبت آتی ہے
00:28:58تو وہ صبر کرتا ہے
00:28:59اللہ تعالیٰ اسے عجر دیتا ہے
00:29:00اور جب اس کے پاس کچھ آتا ہے
00:29:02تو وہ کیا کرتا ہے
00:29:03شکر ادا کرتا ہے
00:29:04اور اللہ تعالیٰ اسے عجر عطا فرماتا ہے
00:29:07ہر حال میں کیا ہے
00:29:08ہمارے لئے یہ آپشن ہے
00:29:09کہ ہم اللہ تعالیٰ سے عجر لے سکے
00:29:12دنیا ہے نہیں ہے
00:29:13وہ صرف غرض نہیں ہے
00:29:15لیکن عجر ہمارے لئے کیا ہے
00:29:17کنفرم ہے
00:29:18واہ بہت خوب
00:29:19مفتی محمد صورت اللہ علیہ وسلم جلی صاحب کی طرف بڑھتا ہوں
00:29:21کالر ہیں انہیں شامل کرلوں
00:29:22جی اسلام علیکم
00:29:25محمد صورت اللہ علیہ وسلم
00:29:26کیا سوال ہے آپ کا
00:29:28جی مجھے مفتی صورت اللہ تاریخ جو پریسمی نمبر مل سکتا ہے
00:29:32جی مل جائے گا
00:29:33دے دیں گے
00:29:34کنٹرول روم سے دے دیں
00:29:35ان کو نمبر دے دیں
00:29:35جی ایک اور کالر ہیں ہمارے صاحب
00:29:37اسلام علیکم ورحمت اللہ
00:29:40آجا
00:29:40مفتی صاحب
00:29:41قبلہ یہ بتائیے گا
00:29:42کہ یہ ناشکری
00:29:44اور شکر
00:29:46یہ ایک نعمت ہے
00:29:47اور ایک جسے کہتے ہیں کہ وہ
00:29:49انسان کو بلا وجہ گناہوں میں دھکیل دیتے ہیں
00:29:52ناشکری ظاہر حسد بھی کرواتی ہے
00:29:53ناشکری دوسرے کے بارے میں
00:29:55جو انہاں انسان غلط تصور
00:29:57غلط کلام بھی کرتا ہے
00:29:58اور اکثر آپ نے دیکھا ہوگا
00:30:01سوالات میں سوال آتا ہے
00:30:02کہ خواتین ناشکری کرتی ہیں
00:30:04وہ اپنے سے اوپر والوں کو دیکھتی ہیں
00:30:06BUT kaler
00:30:09Yeah
00:30:13What's the question?
00:30:18In the morning
00:30:24What's the question, brother?
00:30:30Yes, it will be.
00:30:31Control room in control.
00:30:33Tell them.
00:30:36That we are here one side,
00:30:39one side is the first one,
00:30:40one side is the first one.
00:30:42God has given us.
00:30:44He has given us the first one.
00:30:47He has given us these words.
00:30:47This word is the second one.
00:30:50The third one is the second one.
00:30:50What is this one?
00:30:55The third one is the second one.
00:30:59Thank you very much.
00:31:29Thank you very much.
00:31:59Thank you very much.
00:32:33Thank you very much.
00:33:03Thank you very much.
00:33:29Thank you very much.
00:33:59Thank you very much.
00:34:38Thank you very much.
00:35:31Thank you very much.
00:35:59Thank you very much.
00:36:30Thank you very much.
00:36:59Thank you very much.
00:37:29Thank you very much.
00:40:01Thank you very much.