Skip to playerSkip to main content
Huqooq ul Ibaad | Naimat e Iftar - Topic: Shehrion ke Huqooq

Watch Shan e Ramzan 2026 ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw

Host: Dr. Sarwar Hussain Naqshbandi

Guest: Dr. Faizullh Baghdadi, Dr. Muhammad Abbasi, Qasim Asif Jami,

Sana Khuwan: Muhammad Habibullah Bhatti

#shaneramzan #ramzan2026 #aryqtv

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00Shana Ramazan
00:03Shana Ramazan
00:03Shana Ramazan
00:06Shana Ramazan
00:20Bismillahirrahmanirrahim
00:21Muala Ya Salli wa Sallim
00:23Dائman Abada
00:24Ala Habibika Khairil Khalqi Kul Lihimi
00:26ناظرین اکرام Shana Ramazan
00:29میں یہ خصوصی Transmission Law
00:30Studio سے آپ دیکھ رہے ہیں
00:31حقوق العباد ہمارا یہ نعمت افطار
00:34میں پروگرام جس میں روزانہ
00:36ہمارے آپ سے ملاقات ہوتی ہے
00:37اور ہم کسی نہ کسی حق کے حوالے سے
00:40ذمہ داریوں کے تائین کے حوالے سے
00:42اس سیگمنٹ میں بات کرتے ہیں
00:44آج جمعت المبارک ہے
00:45رمضان المبارک کا یہ تیسرا عشرہ ہے
00:48اللہمہ اجیدنی من النار
00:50کا ورد جو ہے وہ اس عشرے میں
00:52تعلیم کیا گیا ہے
00:53اس کو زیادہ سے زیادہ ورد زبان رہنا چاہیے
00:56اور پھر جمعت المبارک ہے
00:58سید الشہور ہے
00:59یہ مہینہ مہینوں کا سردار ہے
01:01اور جمعہ جو ہے وہ دنوں کا سردار ہے
01:03سید الشہور میں
01:04سید اليوم میں
01:05ہم اس وقت موجود ہیں
01:07اور درود پاک کا ورد
01:09زیادہ سے زیادہ آج کے دن
01:10ہونا چاہیے
01:11کرنا چاہیے
01:12اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے
01:14یہ بہت متبرک اور بہت مبارک گھڑیاں ہیں
01:17بہت ہی قیمتی گھڑیاں ہیں
01:19اور ان کا ادراک اور احساس
01:21ہمیں ضرور ہونا چاہیے
01:23حمد سے ہم روزانہ آغاز کرتے ہیں
01:26اور آج بھی
01:26حمد کے چند اشار آپ کی خدمت میں
01:28عرض کرتے ہوئے آج کے موضوع
01:30اور مہمانوں کے تعرف کی طرف چلتے ہیں
01:33کہ جمالِ حرفِ محبت سے آشنا کر دے
01:37جمالِ حرفِ محبت سے آشنا کر دے
01:41کمالِ عشق و عقیدت سے آشنا کر دے
01:45تیری ہی ذات کی جانب رہے سفر جس کا
01:49خیال کو اسی رفت سے آشنا کر دے
01:53نگاہ ڈال میری فہم پر بصیرت پر
01:58میرے خدا مجھے حیرت سے آشنا کر دے
02:01میرے خدا مجھے حیرت سے آشنا کر دے
02:05یہ دوریاں تو مجھے کاٹ کاٹ کھاتی ہیں
02:08مجھے بھی قرب کی لذت سے آشنا کر دے
02:12یہ بے حضور عبادت بہت کھٹکتی ہے
02:16یہ بے حضور عبادت بہت کھٹکتی ہے
02:20جب ہی کو سجدوں کی لذت سے آشنا کر دے
02:24نظر نظر پہ تیری قدرتوں کے رنگ کھلیں
02:28بسارتوں کو بصیرت سے آشنا کر دے
02:32میں بولتی ہوئی سانسوں کی خامشی کو سنوں
02:36کچھ ایسے ذوق سمات سے آشنا کر دے
02:40جمالِ سبزہ و گل سے میں تیری بات کروں
02:44جمالِ سبزہ و گل سے میں تیری بات کروں
02:48اگر تُو لہجہ فطرت سے آشنا کر دے
02:52اگر تُو لہجہ فطرت سے آشنا کر دے
02:55سوال کرتی ہے میری سیاہیاں مجھ سے
02:58کہ سبغت اللہ کی رنگت سے آشنا کر دے
03:03نہیں بسارت جو میری تو اپنا راز نہ کھول
03:06نہیں بسارت جو میری تو اپنا راز نہ کھول
03:10مجھے فقط میری سورت سے آشنا کر دے
03:13مجھے فقط میری سورت سے آشنا کر دے
03:18جبیں کو سجدوں کی لذت سے آشنا کر دے
03:22حمد کے ان اشار کے ساتھ
03:24ناظرین اکرام آج حقوق العباد میں
03:26ہمارا موضوع ہے ملازمین کے حقوق
03:30یہ بہت اہم پہلو ہے بہت اہم موضوع ہے
03:33ہمارے معاشرے کا اور بلکہ ہر معاشرے کا
03:36بہت اہم پہلو ہے کہ ہمیں اپنے ملازمین کے ساتھ
03:40وہ لوگ جو زیر دست ہوتے ہیں ہمارے
03:42ان کے ساتھ کیسا رویہ اختیار کرنا چاہیے
03:45اور قرآن و سنت میں ہمیں ان کی
03:47کس طرح سے رہنوائی ملتی ہے
03:49رائٹس آف ایمپلائیمنٹ اور ایمپلائیز
03:51کے حوالے سے انشاءاللہ ہم بات کریں گے
03:54تشریف فرما ہے جناب ڈاکٹر فیضاللہ
03:56بغدادی صاحب خوش آمدید جناب آپ کو
03:58اور جمعہ والا دن ہماری آپ سے
04:00ملاقات ہوتی ہے بہت شکریہ
04:02کہ آپ وقت تنایت فرماتے ہیں
04:04جناب ڈاکٹر محمد عزر عباسی صاحب
04:06آپ کا بہت شکریہ جناب آپ بھی
04:08تشریف فرما ہوتے ہیں ہمارے ساتھ جمعہ کے دن
04:10اور قاسم حاصف جامی صاحب
04:13نے ہمیں جوائن کی ہے جناب
04:14آپ کو بھی خوش آمدید کہتے ہیں
04:16بہت شکریہ آپ کا گفتگو کا آغاز
04:18ڈاکٹر صاحب کرتے ہیں ملازمین
04:20کے ساتھ جو حسن سلوک ہے
04:22اس کے حوالے سے قرآن کریم بھی
04:24ہماری قرآنمائی کرتا ہے تو اس پہ
04:26ضرور آپ ارشاد فرمائے
04:27بسم اللہ الرحمن الرحیم
04:29بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب
04:31آپ نے ہمیشہ کی طرح آج کا
04:34جو موضوع ہے وہ بھی
04:36بڑا اہم موضوع منتخب فرمایا ہے
04:39ملازمین
04:40یا خدام
04:42یا جن کو سرونٹ
04:44یا غلام کہتے ہیں
04:46تو یہ ایک معاشرے کا جو ہے
04:49زیادہ تر جو ہوتا ہے
04:50یہ محروم طبقہ کنسیڈر کیا جاتا ہے
04:53لیکن
04:54اسلام کا یہ حسن ہے کہ
04:56اس نے جتنے بھی
04:58معاشرے کے طبقات ہیں
04:59ان سب کے حقوق بیان فرمائے ہیں
05:02چھیک
05:03اور بطور خاص ان طبقات کے
05:06جو عام سوسائٹیز
05:08کے اندر محروم طبقات کنسیڈر
05:10کیا جاتے ہیں ان پر زیادہ
05:12فوکس کیا ہے
05:13اور ان پر لوگوں کو زیادہ
05:15گائیڈ کیا ہے
05:16کہ ان کے حقوق میں
05:17کسی طرح کی کمی نہ آنے پائے
05:19صحیح
05:20تو یہی وجہ ہے
05:21کہ جب اسلام آیا
05:22تو اسلام سے پہلے کا جو دور تھا
05:24وہ غلامی کا دور کہلاتا تھا
05:26اور غلاموں کے ساتھ
05:28بڑا
05:28ابتر سلوک کیا جاتا تھا
05:30صحیح
05:30یعنی اپنے متیتوں کے ساتھ
05:32اپنے غلاموں کے ساتھ
05:33اپنے خدام کے ساتھ
05:35ان کو
05:36اپنے برابر
05:37سمینا تو درکنار
05:40ان کو معاشرے کا ایک
05:41رکن سمینا بھی ان کے لئے
05:43مشکل ہوتا تھا
05:44تو اس حوالے سے
05:45قرآن و سنت کی تعلیمات
05:47جو ہے
05:47وہ انہوں نے
05:48رہنمائی کی لوگوں کی
05:51اور غلامی سے
05:52نجات دلانے کے لئے
05:53جو ہے وہ تغدو کی
05:54قرآن کے اندر
05:56واضح حکام آئے
05:57اور ان میں سے
05:58جو بیسک فلسفہ یہ ہے
05:59کہ جتنے بھی
06:02بنی آدم ہیں
06:03بنین و انسان ہیں
06:04وہ سارے کے سارے برابر ہیں
06:06ان میں کوئی فرق نہیں ہے
06:09قرآن حکیم میں
06:10ارشاد ہوتا ہے
06:11وَلَقَدْ قَرَّمْنَا بَنِ آدَمَا
06:14کہ ہم نے
06:15بنی آدم کو
06:16بنین و انسان
06:18کو تقریم سے نوازا
06:19چھیک
06:20یعنی ان سب کو
06:21برابر کیا
06:22صحیح
06:22اب جب بنی آدم کہا
06:24تو اس میں کوئی تفریق نہیں کی
06:27یعنی
06:27کئی طبقات ہیں
06:29ان سب کو
06:30اس میں انکلیوڈ کر دیا
06:31کہ ان سب کو
06:31ہم نے تقریم دی ہے
06:32اسی طرح دوسری جگہ پر
06:35قرآن حکیم میں
06:36ارشاد ہوتا ہے
06:36کہ
06:37وَعْبُدُ اللَّهَ
06:38وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْعَ
06:40کہ اللہ کی عبادت کرو
06:43اور کسی شیع کو
06:44اس کو شریک نہ ٹھراؤ
06:45صحیح
06:46اس کے معن بات فرمایا
06:47کہ وَبِلْ وَالِدَيْنِ اِحْسَانَ
06:49اور والدین کے ساتھ
06:52حسنِ سلوک کرو
06:52صحیح
06:53اس کے ساتھ
06:54والدین کے حسنِ سلوک کے ساتھ
06:56کئی طبقاتِ معاشرہ کا ذکر ہوا
06:58جن میں
06:59قرابتداروں کا ذکر ہے
07:00جن میں
07:01پڑوسیوں کا ذکر ہے
07:03پھر دور والے پڑوسیوں کا ذکر ہے
07:05اور نزدیک والے پڑوسیوں کا ذکر ہے
07:07پھر انسان کے جو دوست ہیں
07:10ان کا ذکر ہے
07:10پھر ابن السبیل
07:12جو مسافر ہیں
07:13ان کا ذکر ہے
07:14اور
07:15اینڈ پر فرمایا
07:16وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ
07:19کہ ان کا بھی
07:20خیار رکھو
07:21اور ان کے ساتھ بھی
07:23حسنِ سلوک کرو
07:24جو تمہارے زیر دست ہیں
07:26یعنی جو تمہارے مطاعت ہیں
07:28اب اس آیت سے
07:29جو ہمیں
07:30جو نکتہ آخذ ہوتا ہے
07:32جو استمباد ہے
07:33وہ یہ ہے
07:33کہ کتنی اہم بات
07:35اللہ تعالیٰ نے
07:36آیت کے شروع میں فرمائی
07:37اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو
07:39اب عبادت کا کتنا مقام و مرتبہ
07:42اور وہ بھی اللہ کی عبادت
07:43اور دوسری چیز یہ فرمائی
07:45کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ
07:45کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ
07:47اور اس کے فوراں بعد
07:49جو چیزیں بیان کی
07:50یعنی ایسے لوگ
07:52جن کے ساتھ حسن سلوک
07:53ہم نے کرنا ہے
07:54ان کو بیان فرمایا
07:55ان میں غلاموں کا بھی ذکر کیا
07:58غلاموں کا جو ہے وہ
07:59خیال رکھو
08:00یہی وجہ ہے
08:01کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
08:03تعدہ میں وسال
08:04یعنی آخری وقت تھا
08:06حالت نزہ کا عالم تھا
08:08اس وقت بھی جن
08:10جس طبقے کو آپ نے
08:12اپنی دعا میں
08:13اپنے الفاظ میں یاد رکھا
08:14اللہ حرم
08:15ملازمین کا طبقہ تھا
08:17آپ نے فرمایا
08:21کہ ان دو چیزوں کا
08:23بڑا خیال رکھنا
08:24نماز
08:25نماز
08:26اور وہ لوگ
08:27جو تمہارے مطاعت ہیں
08:29اس سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے
08:31کہ کس طرح
08:32قرآن نے
08:33جو ہے
08:33وہ ہمیں رہنمائی کی ہے
08:35کہ ہم غلاموں کے ساتھ
08:37حسن سلوک کے ساتھ پیش آئیں
08:38بلکل ٹھیک
08:39بلکل ٹھیک
08:40اچھا
08:41روکس اب
08:42جب قرآن کریم کی ہم بات کرتے ہیں
08:44اور اس کے ساتھ ہی متصل
08:46پھر ہم سیرت سے بھی
08:47ان واقعات کو کوٹ کرتے ہیں
08:49اور آپ کے ارشادات کو شامل کرتے ہیں
08:51جو ہمارے موضوع سے مطابقت رکھتے ہیں
08:53تو ملازمین کے خدام کے جو حقوق ہیں
08:56اس کے حوالے سے
08:57سیرت طیبہ میں بھی رہنمائی کی گئی ہے
09:00تو اس پر مہربانی فرمائی ہے
09:01جو اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
09:03بسم اللہ الرحمن الرحیم
09:04اللہم صلی علیہ وسیدنا و مولانا محمد و علیہ و صحبہ و بارک وسلم
09:10ڈرکس اب
09:11بے شک
09:12آقا علیہ السلام کی سیرت طیبہ کو جب ہم دیکھتے ہیں
09:16تو ہمیں جا بجا جو ملازمین ہیں
09:20ان کے حقوق بھی نظر آتے ہیں
09:22اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیمات بھی وہ ہمیں ملتی ہیں
09:28آقا علیہ السلام کے ہاں جو خدام یا آپ کی ملازمت میں
09:33یا آپ کی خدمت میں جو صحابہ اکرام تھے
09:37سیرت میں روایات میں ان کا عدد بیس سے زیادہ آتا ہے
09:41اور ان میں جو سب سے قریب ہیں وہ حضرت انس بن مالک
09:45پھر اسی طریقے سے حضرت عبداللہ ابن مسعود
09:49اقبہ بن عامر
09:50بلال بن رباح
09:52یہ مشہور نام ہیں
09:53اس کے علاوہ بھی دیگر صحابہ اکرام ہیں
09:56حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں
10:00کہ ان کی عمر اس وقت دس سال تھی
10:03آقا علیہ السلام حجرتِ طیبہ کے بعد
10:06جب آپ مدینہ تشریف لائے
10:08تو حضرت انس بن مالک کے والد ان کو پکڑ کر حضور کے پاس لے گئے
10:13کہ یا رسول اللہ یہ آپ کی خدمت کیا کریں گے
10:16اب وہ بچپنے متھے
10:17اس وقت سے لے کر دس سال انہوں نے آقا علیہ السلام کی خدمت میں گزارے
10:22اور وہ فرماتے ہیں کہ دس سالوں میں
10:25میں نے جب بھی حضور نے مجھے کسی کام کے کرنے کا حکم دیا
10:30میں نے اس کام کو اس طریقے سے نہیں کیا
10:34جیسے اس کے کرنے کا حق تھا
10:36اور کبھی حضور علیہ السلام نے
10:39مجھے یہ نہیں کہا کہ انس یہ کام ایسے کیوں کیا ہے
10:43اور ایسے کیوں نہیں کیا ہے
10:45دس سال کا عرصہ ہے ڈاکٹ صاحب
10:47اور دس سالوں میں ہر روز سیکڑوں مرتبہ ایسے کام درپیش ہوئے ہوں گے
10:53اسی طریقے سے ایک صحابی ہیں حضرت ابو سعود
10:56وہ فرماتے ہیں کہ میری ایک خادمہ تھی
11:00میری وہ خادمہ میری بکریوں کو چرایا کرتی تھی
11:04اور میں نے ایک دن دیکھا کہ وہ بے دھیانی میں
11:07کھیل کود میں مصروف ہے
11:09کہ اتنے میں ایک بھیڑیا آتا ہے
11:10اور بکری کو کھا کر کٹ کر چلا جاتا ہے
11:14میں یہ سارا منظر دیکھتا ہوں
11:17اور میں غصے میں جاتا ہوں
11:19اور جا کر اس کو تھپڑ رسید کرتا ہوں
11:22میں جیسے ہی اس کو مارتا ہوں
11:25اتنے میں مجھے ایک آواز آتی ہے
11:27میری پشت سے
11:28کہ اللہ سے ڈرو
11:31اپنے جو ماتحت ہیں
11:32ملازمین ہیں
11:33زیر دست جو لوگ ہیں
11:35ان کے معاملے میں
11:35میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں
11:37تو آقا علیہ السلام کی آپ کی ذات ہے
11:41اور آپ کھڑے ہیں
11:42اور میں
11:44حضور علیہ السلام سے معافی مانگتا ہوں
11:46اور میں کہتا ہوں
11:47یا رسول اللہ میں نے اس کو آزاد کر دیا
11:50یہ جو
11:51حالانکہ اس نے غلطی کی تھی
11:53بے دہانی میں
11:54وہ اپنی
11:55یعنی اس کام سے اس نے جی چھرایا
11:58اس کے باوجود جب سختی کی
12:00تو اس کے عوض میں فرمایا
12:02اس کو آزاد کر دیں
12:03آقا علیہ السلام نے فرمایا
12:04اگر تم اس کو آزاد نہ کر دیں
12:07تو یہ دوزخ میں
12:08تمہارے لیے آگ چھونے کا باعث بن جاتی ہے
12:11اللہ حتی
12:11تو ڈک سب در حقیقت
12:13آقا علیہ السلام کی سیرتِ طیبہ کو جب ہم دیکھتے ہیں
12:16تو دیکھیں کئی رشتے ہوتے ہیں
12:19والدین کا رشتہ ہے
12:20بہن بھائیوں کا رشتہ ہے
12:21قرابتداروں کا رشتہ ہے
12:23پڑوسیوں کا رشتہ ہے
12:24حضور علیہ السلام نے
12:26ملازمین کو والدین کے بعد فرمایا
12:29یہ تمہارے بھائی ہیں
12:31یعنی گویا تمہارے خادمین
12:33تمہارے ملازمین
12:35یہ تمہارے بھائی ہیں
12:36جو تم خود کھاؤ وہی انہیں کھلاو
12:38جو تم خود پینو وہی انہیں کھلاو
12:41بلکل ٹھیک
12:43جو آئین کیا ہے جناب
12:45ہمارے بہت پیارے محمد حبیب اللہ بھٹی صاحب نے
12:47بہت شکریہ جناب آپ کی تشریف
12:49امریکہ
12:51دیر ہوئی آنے میں تو شکر ہے پھر بھی آئے تو
12:54آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا
12:56لیکن ہم گھبرائے تو
12:58بسم اللہ کلام عطا فرمائے
13:01آج چونکہ مدینہ تبہ روانگی ہے
13:03شکریہ
13:05تو حضرت عظیم
13:08قبال صاحب کی ناز شریف
13:10بسم اللہ
13:13مدینہ کا سفر ہے اور میں نمدیدہ نمدیدہ
13:27جبیں افسردہ افسردہ قدم لغزیدہ لغزیدہ
13:41چلا ہوں ایک مجرم کی ترے میں جانب تیبا
13:53چلا ہوں ایک مجرم کی ترے میں جانب تیبا
14:06نظر شرمندہ شرمندہ قدم لغزیدہ لغزیدہ
14:21کسی کے دست شفقت نے سہارا دے دیا ورنا
14:47کہاں میں اور کہاں وہ راستے پیچی دا پیچی دا
14:58کہاں میں اور کہاں وہ راستے پیچی دا پیچی دا
15:14غلامانِ محمد دور سے پہچان جاتے ہیں
15:37دلِ گرویدہ گرویدہ سرِ شوریدہ شوریدہ
15:49کہاں میں اور کہاں اس روزہ اقدس کا نظارہ
16:01کہاں میں اور کہاں اس روزہ اقدس کا نظارہ
16:13نظر اس سمت اٹھتی ہے مگر تزدیدہ تزدیدہ
16:25مدینے کا سفر ہے اور میں نمدیدہ
16:36نمدیدہ
16:40ناظرین اکرام برے کا وقت ہمارے ساتھ رہیے
16:42ابھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں
17:06ناظرین وقفے کے بعد خوش آمدید کہتے ہیں
17:08آپ کو پروگرام دیکھ رہے ہیں آپ حقوق علیبات
17:10اور آج ملازمین کے جو حقوق ہیں ان کے پر بات کر رہے ہیں
17:14بات کو آگے بڑھاتے ہیں تو ایک جو تیہ شدہ عجرت ہوتی ہے
17:18محترم قاسف قاسم عاصف جامی شاہب
17:22عموما یہ دیکھا گیا ہے کہ ایک تو اس کو ہم مؤخر کرتے ہیں
17:24جن سے کام کرواتے ہیں
17:26تھوڑے تھوڑے پیسے دیتے ہیں کہ اگر پورے عجرت دے دی
17:29تو یہ ہو سکتا ہے کہ آئے یا نہ آئے
17:31ایک تو یہ رویہ ہے
17:32تو اس معاملے کو کہ کسی سے کام پورا لینا
17:36لیکن اس کو عجرت پوری نہ دینا
17:38یا اس کو روک کر رکھ لینا
17:40کہ ہمارا کام مکمل ہوگا
17:41اس رویہ کو اسلام کس طرح سے دیکھتا ہے
17:44کیا حکم ہے
17:45جی بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب
17:47بنیادی طور پر کسی بھی معاشرے کے اندر
17:50جو ترقی کا میار اور اس کی خوبصورت تہذیب کا پیمانہ
17:56وہ بلندوں بانگ سڑکیں
17:59امارتیں اور خوبصورت بیلڈنگز کے ساتھ ساتھ
18:02جو ما تحت اور زیر تحت ملازمین اور خادمین ہیں
18:07ان کے ساتھ انصاف اور اخلاق کا کیا برتا ہوگا ہے
18:10یہ میٹر زیادہ کرتا ہے
18:12نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
18:15جب اسلامی معاشرے کی تشکیل دی
18:17تو اس وقت جو بنیادی انسانی حقوق
18:21وہ ترتیب پا رہے تھے
18:23تو اس میں چونکہ وہ معاشرہ وہ کلچر
18:26ان ساری چیزوں کے ساتھ آگے پنپ رہا تھا
18:29تو اس چیز کا بھی حد درجے تک لحاظ اور خیال رکھا گیا
18:34کہ جو ما تحت ملازمین ہیں
18:36جو خادمین ہیں
18:37ان کے ساتھ ایک اسلامی تہذیبی اور خوبصورت اخلاقی معاشرے کی
18:42جو ایک بنیاد اور طرح ڈالی جا رہی ہے
18:45وہ کس طرح کی ہونی چاہیے
18:46صحیح
18:47ایک تو یہ جو درجات کی ترتیب تقسیم اور ان کے اندر جو تفاوت موجود ہے
18:55اس کو اللہ تبارک و تعالی نے اس کی حکمت کو
18:58قرآن مجید میں اصول بناتے ہوئے اس طرح ارشاد فرمایا
19:02کہ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمَائِشَتَّهُمْ فِي الْحَيَاتِ الدُّنْيَا
19:04کہ یہ جو معیشت کے اعتبار سے ہم نے تمہارے درمیان کچھ تقسیم رکھی
19:10کچھ ترتیب رکھی
19:11وَرَفَاِنَا بَعْدَهُمْ فُوْقَبَادِ دَرَجَاتِنْ
19:15اور ایک دوسرے کو بعض کباز پر جو کچھ ترجی فضیلت فوقیت دی گئی
19:21یہ کس لیے
19:21لِيَتْ تَخِذَبَاِدْهُمْ بَعْدَنْ سُخْرِيَا
19:24تاکہ ایک دوسرے کی ضروریات کے معاملے میں
19:27تم ایک دوسرے کے معاون بنو اور ایک دوسرے کی تکمیل کر سکو
19:30یعنی نشیب و فراز اور اونچ نیچ کا یہ تعلق
19:34اللہ کے ہاں اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کے ہاں
19:39جو اصل اخلاقی میار اور پیمانہ وہ یہ نہیں
19:42کہ کس کے پاس کتنی جاہو جلال مال و دولت ہے
19:46بلکہ فرمایا کہ
19:48اِنَّا اَقْرَمَكُمْ اِنَّا اللَّهِ اَتْقَاكُمْ
19:50تقویٰ اصل میار ہے
19:52جس طرف آپ نے اشارہ فرمایا
19:54نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بڑی تمبی کے ساتھ
19:57متوجہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا
19:59کہ
19:59اَعْتُ الْعَجِيرَ قَبْلَ اَنْيَ جِفَارْكُهُ
20:02کہ مزدور کو ملازم کو
20:04اس کی اجرت اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے عطا کیا کرو
20:08اب اس میں بطور تمثیل یہ بیان کیا گیا ہے
20:11کہ یعنی ابھی اس کا کام تکمیل کے مراحل میں ہو
20:15اور اس کو اس چیز کی فکر لاحق نہ ہو
20:17کہ پتہ نہیں اس کی اجرت ملتی ہے یعنی ملتی
20:20تو جب آپ اس کو نفسیاتی طور پر
20:23اس قدر مطمئن کر دیں گے
20:25تو وہ آپ کے کام کے ساتھ مطمئن بھی رہے گا
20:28خلوص کے ساتھ اور اپنی دیارنداری کے ساتھ
20:32پہلے سے زیادہ اپنے جان فشانی کے ساتھ بڑھتے ہوئے
20:35اس کو ساتھ کرے گا
20:36اور ایک اور تنبیہن روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محصوم ہے
20:41ملتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
20:43کہ تین اشخاص ایسے ہیں
20:46جن کا مدعی کل بروز قیامت اللہ تعالی خود ہوگا
20:49ان میں سے ایک ایسا ملازم ایک ایسا مزدور
20:52جس سے کام لے لیا گیا ہو
20:54اور اس کی اجرت کے معاملے میں اس کے ساتھ
20:56تلفی اور نائنصافی کی گئی ہو
20:58حضرت ابو اليسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
21:01بڑی خوبصورت روایت ہے
21:02فرماتے ہیں کہ جب میں رسالت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں
21:05ملاقات کے لئے حاضر ہوا
21:06اس کا حوال نامہ جب آپ نے ذکر کیا
21:09درج کیا تو بیان کرتے ہیں کہ جو لباس
21:11اور جو چدر خود رسالت
21:13محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
21:14زیبتن فرمائی ہوتی آپ کے ملازمین میں
21:17بھی اسی کو زیبتن کیا ہوا تھا
21:19تو یہ معاشرتی تفاوت
21:21یہ طبقاتی غرور
21:23ان ساری چیزوں کو ختم کرنے کے لئے
21:25اللہ تبارک وطالعہ کے پیغمبر
21:27نے اپنی سینے کی طرف
21:28اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ اشارہ کر کے
21:30ارشاد فرمایا کہ اصل
21:32تقوی یہاں ہے
21:36یہ سارے معاملات
21:37دنیا کے اس دنیا کے
21:38معاملات کے اندر یہ جو اونچ نیچ کمی
21:40بیشی نشیب و فراز ہوتے ہیں
21:42ان کے اندر ایک اخلاقی میار
21:44خدا کے سامنے جواب دہی اور
21:46احتساب جب یہ چیزیں سامنے
21:48ہوں گے تو بہت معاملات میں بہترک جائے سکیں
21:50بلکل ٹھیک
21:52اچھا ڈرک سب یہ جو عزت نفس
21:54مجروع ہوتی ہے مرازم کی
21:56یا خادم کی جس کو ہم
21:59کوئی اتنا اہمیت
22:00نہیں دیتے لیکن اس کو
22:01ایڈریس کیا ہے اسلام نے کہ چاہے کوئی آپ کا
22:04ماتحت ہے کوئی زیردست ہے
22:06لیکن اس کی عزت نفس
22:08آپ کے رویے سے مجروع نہیں ہونی چاہیے
22:10اس پر کیا فرماتے ہیں
22:11بلکل ڈرک سب یہ ایک علمیہ ہے
22:15کہ
22:16یا ایک سوچ
22:18پائی جاتی ہے
22:20جیسے ہے نا کہ وہ پانی جو ہوتا ہے
22:22وہ میشہ نشیبی جگہ پر جاتا ہے
22:25اسی طرح ہمارا جو غصہ
22:26یہ بھی بڑا اکلماند ہے
22:28اور یہ بھی کمزوروں پر
22:30متیتوں پر اور اس طرح
22:32کے جو طبقات ہوتے ہیں ان پر زیادہ
22:34یہ ظاہر ہوتا ہے
22:37اور ایک شوری
22:38کوشش بھی یہ ہوتی ہے کہ جو
22:40ملازمین ہیں ان کو ذرا
22:41دبا کے رکھیں
22:43یعنی باس جو ہوتا ہے وہ شوری کوشش کرتا ہے
22:46کہ ان کو کبھی یہ احساس
22:48نہ ہو کہ وہ کہیں باس کی
22:51برابری کی سطح پر
22:52محسوس نہ کرنا شروع کر دیں
22:54تو اس میں
22:56دفاتر کا محول دیکھا جائے
22:57وہاں جو سٹنگ پلان ہے اس کو دیکھا جائے
23:00تو جو باس ہوتا ہے
23:02اس کی اپنی کرسی کی ایک شان ہوتی ہے
23:03جو ملازمین ہوتے ہیں ان کو
23:05مطلب اس طرح کی کرسیاں لگا کی دی جاتی ہیں
23:07کہ کہیں ان میں یہ احساس نہ پیدا ہو
23:09کہ ہم باس کے ہم پلہ ہو گئے ہیں
23:12تو یہ ایک سوچ
23:13قدیم سوچ لیا آ رہی ہے
23:15ایک شاعر تھا باسی دور کا
23:17اس کا نام تھا متنبی
23:19بڑا معروف شاعر ہے
23:21تو وہ اپنے قصیدہ کے اندر
23:23اس کا ایک مصرہ جو ریلیونٹ ہے
23:25وہ مجھے یاد آ رہا ہے
23:26تو وہ کہتا ہے
23:27لَا تَشْتَرِ الْعَبِيدَ إِلَّا وَالْعَسَى مَعَهُ
23:32کہ کسی غلام کو نہ خریدو
23:34مگر اس کے ساتھ
23:35گنڈا بھی خریدو
23:36تو یہ ایک سوچ ہے
23:39جو ہمارے معاشروں میں
23:40اگزسٹ کرتی ہے
23:42اور جس کی اسلام کے اندر کوئی گنجائش نہیں ہے
23:45اسلام نے ہمیشہ جو ہے
23:46جو متحت ہیں
23:48ان کو ہمپلہ قرار دیا ہے
23:50اور جو ایک
23:53مساواد کا درست ہے
23:54انسانیت کے اندر
23:55وہ دیا ہے
23:56جیسے کہ حضرت عمر فروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
23:57کا بڑا مشہور قول ہے
24:02کہ
24:05کہ تم نے کب سے لوگوں کو اپنا غلام سمجھ لیا ہے
24:09حالانکہ ان کی ماں نے انہیں ازاد پیدا کیا تھا
24:12تو یہ جو ازادی کا کنسیپٹ ہے
24:14اس کو اسلام نے انشور کیا ہے
24:16کہ اگر آپ کے مطاعت اللہ تعالیٰ نے کچھ لوگ دے دیئے ہیں
24:21تو ان کو مطاعت نہ سمجھو
24:22بلکہ ان کو برابر سمجھو
24:24اور جو حقوق تم انجائے کر رہے ہو
24:26وہی حقوق ان کو دو
24:28جیسا کہ پہلے بات ہوئی
24:30جو تم کھاتے ہو اس میں سے ان کو کھلاو
24:32جو تم پہنتے ہو اس میں سے ان کو پہناؤ
24:35تو یہ کیا درس ہے
24:36یہ مسابعات کا درس ہے
24:38تو اس سے ہمیں بچنا چاہیے
24:40کہ ہم مطاعتوں کو غصہ
24:42ان کے ساتھ کریں
24:43ان کی جو انسلٹ ہے
24:46وہ کریں
24:47اور ان کو یہ شوری طور پر احساس دلائیں
24:49کہ وہ ہام سے کم تر ہیں
24:50اسلام اس کی کلیتن نفی کرتا ہے
24:53بلکہ چھیک
24:53اچھا درکس اب ہمارے ہاں
24:55عموما ملازمین کو نکالتے ہوئے
24:58کوئی نوٹس یا نوٹیفائی کرنے کا رواج نہیں ہے
25:02وہ صبح آتے ہیں
25:03تو پتہ چلتا ہے جناب آپ کو
25:04فارق کر دیا گیا ہے
25:06تو یہ جو بغیر کسی ٹھوس وجہ کے
25:08اور بغیر کوئی نوٹیفائی کیے بغیر
25:11حالانکہ جو جوبز کرنے والے لوگ ہیں
25:14ان کو یہ پابند کیا جاتا ہے
25:15کہ آپ دو تین ماہ پہلے
25:17بتائیں گے اگر آپ نے جوب کو چھوڑنا ہے
25:19لیکن جو امپلائر ہے
25:21وہ اپنے ملازم کو کسی کو فارق کرنا چاہتا ہے
25:24تو آ کے صبح پتہ چلتا
25:26یا رات کوئی اس کو بھیج دے جاتا
25:27کہ صبح سے آپ نے نہیں آنا
25:28تو یہ جو اچانک کسی کا معاشی
25:32قتل کر دینا
25:33اور اس کو ایک پریشانی میں مبتلا کر دینا
25:35زینی عذیت میں مبتلا کر دینا
25:37یہ کیسا ہے
25:38سرپرائز دینا
25:40جی ڈرک صاحب میں کوشش کروں گا
25:42کہ میں تین اس کے جو
25:45پہلی چیز تو یہ ہے
25:46جب ہم بات کرتے ہیں
25:47ملازمین کے حوالے سے
25:49تو عمومی طور پر
25:51ہمیں اسلامی تاریخ میں
25:52تین اس کی کیٹیگری ملتی ہیں
25:54جب ہم بات کرتے ہیں خادمین کی
25:57تو در حقیقت یہ جو خادم ہوتے ہیں
25:59یا غلام جن کو کہا جاتا ہے
26:01غلام ہوں
26:03خادم ہوں
26:04یا ملازم ہوں
26:05یہ تینوں کیٹیگری
26:07ایک دوسرے کے ساتھ وہ اٹیچ ہیں
26:09آج کے زمانے میں
26:10چونکہ جو غلامی کا تصور ہے
26:12یہ ختم ہو چکا ہے
26:13ٹھیک
26:14تو آقا علیہ السلام کی صیرتِ طیبہ میں
26:17ہمیں جتنے بھی فرامین
26:18جو غلام اور باندیاں اور لونڈیاں ہیں
26:21ان کے حوالے سے ملتے ہیں
26:23وہ در حقیقت
26:23ڈائریکٹ انوالو ہیں
26:25ملازمین
26:26اور اثر حاضر میں
26:27جو ہم کہتے ہیں
26:28خدام یا مزدور طبقات ہیں
26:30چھیک
26:31یہ ہمیں
26:31میں اس لیے میں نے سوچا
26:32کہ ہمیں یہ کلائرٹی ہونی چاہیے
26:34کہ ہمیں
26:35بعض اوقات روایات میں
26:36ہم کہہ دیتے ہیں
26:37کہ خادموں کے ساتھ
26:38ایسے سلوک کیا جاتا تھا
26:40یا غلاموں کے ساتھ
26:41ایسے سلوک کیا جاتا تھا
26:43وہ در حقیقت
26:43ملازم ہی ہوتے تھے
26:45چھیک
26:45پس یہ ہوتا تھا
26:46کہ وہ
26:47اونرشپ میں ہوتے تھے
26:49اور اب وہ
26:49اونرشپ ختم ہو چکی ہے
26:51دوسری چیز
26:52ڈائریکٹ سا
26:53بنیادی طور پر
26:54کسی بھی معاشرے کے اندر
26:55ایکانومیکلی جب ہم دیکھتے ہیں
26:57تو چار بیسک چیزیں ہوتی ہیں
26:59لینڈ
26:59لیبر
27:00کیپیٹل
27:01اور اورگنائزیشنز
27:02یہ چاروں چیزیں
27:05مل کر
27:05کسی چیز کو
27:06وجود دیتی ہیں
27:08اب اس میں
27:09جو پہلی تین چیزیں ہیں
27:11مثال کے طور پر
27:12زمین ہے
27:12تو وہ
27:13اپنا معافضہ
27:14لگان کی صورت میں لیتی ہے
27:16کیپیٹل ہے
27:17تو وہ
27:17ویلیو کی بیس میں
27:18اپنا انویسٹمنٹ لیتا ہے
27:20یا اپنا پروفٹ لیتا ہے
27:21اور جو
27:22اورگنائزیشن ہے
27:23یا جو مالک ہے
27:25جو انٹرپنیور کی صورت میں ہے
27:27وہ پروفٹ لیتا ہے
27:28چوتھا طبقہ
27:29ہمارے پاس آ جاتا ہے
27:31ملازم کا
27:31جس کو
27:32ویج ملتی ہے
27:33مزدوری ملتی ہے
27:36اس میں
27:37ڈاکٹر صاحب
27:37انٹرسٹنگ فیکٹ یہ ہے
27:39کہ چاروں جو
27:41فیکٹرز آف پروڈیکشنز ہیں
27:43ان میں
27:44تین کا جو پروفٹ ہے
27:46وہ مالک کو
27:47یا آنر کو
27:48مل جاتا ہے
27:48صحیح
27:49ملازم کو صرف
27:50ایک حصہ ملتا ہے
27:51نمبر ایک
27:53نمبر دو
27:54جب ہم سوسائٹی میں دیکھتے ہیں
27:56تو ملازم وہ طبقہ ہوتا ہے
27:58کہ گویا
27:59اس نے اپنی زندگی کا جو پیک ٹائم ہوتا ہے
28:02وہ اپنے مالے کو دیا ہوتا ہے
28:03چھیک
28:04اپنی
28:04ارگنائزیشنز کو دیا ہوتا ہے
28:06ہماری بارڈی ہے
28:07ہمارا جسم ہے
28:08اس کی سٹیجز ہیں
28:10ظاہرہ ایک سے بیس سال تک کی عمر ہے
28:13بیس سے چالیس سال تک کی عمر ہے
28:15اور دن چالیس سے ساٹھ سال کی عمر ہے
28:17اب ایک انسان
28:19وہ بیس سے پینتالیس سال
28:21پچاس سال کی عمر کا
28:22جو حصہ
28:23جس ادارے انسٹیٹیوٹ
28:25یا ارگنائزیشنز کو دیتا ہے
28:26اس کا مطلب ہے
28:28اس نے اپنی زندگی کا پیک ٹائم
28:30وہ اپنے ادارے کو دی
28:31صحیح
28:32اب وہ ادارہ اسے
28:33without any notice
28:34وہ اٹھا کر
28:36رات و رات اس کو گھر بھیج دے
28:38تو اس کا مطلب ہے
28:39کہ یہ اس نے
28:40اپنے ملازم کے ساتھ
28:41زم کیا
28:42اور یہاں ڈاکٹر صاحب میں ایک
28:44آپ کہہ سکتے ہیں
28:45آقا علیہ السلام کی
28:46سیرتِ طیبہ کی روشنی میں
28:48ایک شخص حضور کی بارگاہ میں آتا ہے
28:50اور آ کر عرض کرتا ہے
28:52یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
28:54میرا ایک ملازم ہے
28:55اور وہ غلطی کرتا ہے
28:57مجھے کتنی اجازت دیں گے
28:59کہ میں اپنے ملازم کی غلطی کو
29:01ماف کروں
29:01حضور نے فرمایا
29:02دن میں ستر مرتبہ
29:04اللہ اکبر
29:05کیا بات
29:05سبحان اللہ
29:06سبحان اللہ
29:08جنابِ حبیب اللہ بھٹی صاحب
29:09ہمارے سے تشریف فرمائے
29:10اور ان سے گزاری صاحب
29:12بسم اللہ کلام
29:12عطا فرمائے
29:13عج سکمت راندی
29:23و دیری یہ
29:29کیوں دلڑی
29:34اداس گھنے
29:36چنگیری یہ
29:41لوں
29:44لوں
29:45وچ شوق
29:49چنگیری یہ
29:53عج نے
29:55نہ
29:56لا
30:00یا
30:02کیوں
30:05جھڑیاں
30:08مُکھ چند
30:10بدر
30:15شاشانی
30:16یہ
30:20متھے چمک
30:24دلات
30:26نورانی
30:28یہ
30:30کالی
30:32ظلمتِ
30:33اکھ
30:38مستانی
30:40یہ
30:42مخمور
30:45اکھی
30:46ہنمد
30:51بھریانج
30:55سکمت
30:56سکمت
30:57راندی
30:58و دیری
31:00یہ
31:04اس سورت
31:07نو
31:07میں
31:11جانا
31:12کھا
31:16جانا کھا
31:18کہ جان
31:21جہانا
31:23کھا
31:24سچ
31:26آقا
31:28نے
31:28رب
31:30دی
31:31میں
31:33شانا
31:35کھا
31:36جس
31:38شان
31:39تھی
31:41تھی
31:41شان
31:43سب
31:44بڑی آج
31:50سکمت
31:51راندی
31:53و دیری
31:55یہ
31:58سبحان
32:00اللہ
32:00ماج
32:03مالکہ
32:10محسنہ
32:11کامت
32:13مالکہ
32:16کتھے
32:19محر
32:20علی
32:21کتھے
32:23تیری
32:26سنا
32:29کتھے
32:30تیری
32:32اکھیں
32:34کتھے
32:35جا
32:36اڑی آج
32:42سکمت
32:44راندی
32:45و دیری
32:47یہ
32:50ناظرین اکرام بریک ہے ہمارے ساتھ رہیے
32:53لوٹتے ہیں ایک چھوٹے سے وقفے کے بعد
32:57شان
33:01رمضان
33:02شان
33:04رمضان
33:05شان
33:06رمضان
33:07ہے مومینوں کے دل کا
33:10اجالا شان
33:12رمضان
33:13ہے مومینوں کے دل کا
33:16اجالا شان
33:20رمضان
33:21جی ناظرین خوش آمدیت کہتے ہیں
33:23وقفے کے بعد آپ کو پروگرام آپ دیکھ رہے ہیں
33:25کوکل عباد اور آج
33:27رائٹس آف امپلائیز کے اوپر ہم بات کر رہے ہیں
33:29بہت اچھی گفتگو ہمارے دونوں
33:32سیشنز میں ہوئی
33:32اور ایک اور پہلو سیرت طیبہ
33:35کے حوالے سے کچھ ذکر بھی ہوا
33:37لیکن
33:38میں چاہتا ہوں کہ آپ
33:40رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو رویہ تھا
33:42خادمین کے ساتھ غلاموں کے ساتھ
33:45وہ کس نویت کا تھا
33:46وہ محبت اور
33:48عزت نفس کے احترام کا تھا
33:50اس کو آپ نے کس طرح سے منیج کیا
33:52اور ہمیں کیا پیغام ہے اس میں
33:55ڈاکٹر صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ
33:57علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور
33:58اسوہ حسنہ کے جو روشن اور تابندہ
34:00پہلو ہمارے سامنے اس موضوع کے متعلق
34:03ملتے ہیں تو
34:04حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی
34:11ماب صلی اللہ علیہ
34:13علیہ وسلم نے
34:14مجھے میرے کسی بھی کام کے متعلق
34:16کبھی اُف تک نہ کہا
34:18کسی کام کے متعلق
34:20روک ٹوک
34:21اس کی غلطی اس کی تنبی
34:24اگلے بندے کی عزت نفس
34:26کا خیال اور لحاظ کرتے ہوئے
34:27رسالت ماب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
34:29نے کبھی اس کی طرف بھی اشارہ نہ فرمایا
34:31حدیث کے الفاظ ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ
34:33علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم ہے اس میں
34:35امت کے لئے
34:36کہ اَلْمُسْلِمُ اَخْوِ الْمُسْلِمُ
34:38لَا يَزْلِمُهُ وَلَا يَحْكِرُهُ
34:40کہ ایک مسلمان دوسرے
34:42مسلمان کا بھائی ہے
34:43نہ تو اس کے اوپر ظلم کرے
34:45اور نہ ہی اس کو حقیر جانے
34:48اور اسی کو آگے لیتے ہوئے
34:50نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
34:51نے جو ایک جن جھوڑنے والی ایک بات
34:54اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے
34:57تعلیمِ امت کے لئے
34:58سبق کے لئے
34:59رشاد فرمائی
35:00فرمایا کہ کسی بھی آدمی کے حقیر ہونے کے لئے
35:03اتنا ہی کافی ہے
35:04کہ وہ اپنے کسی دوسرے مسلمان بھائی کو حقیر جانے
35:07چاہے اس کے کام کی وجہ سے
35:09اس کے شعبے کی وجہ سے
35:10اس کے پرفیشن کی وجہ سے
35:11تو رسالت معاف صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
35:14چونکہ ایک زندہ معاشرے میں
35:16اگزسٹ کرتے تھے
35:18تو ملازموں سے خادمین سے بھی
35:20گلتیاں ہوتی ہیں
35:21تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
35:23نے اس معاملے میں بھی یہ رہنمائی فرمائی
35:25کہ اگر ستر مرتبہ بھی تمہارا
35:27ملازم کام غلط کرے
35:29تو تم اس کو معاف کرو کیوں
35:30کیونکہ کم ایک دن میں
35:32اللہ کی ذات سے بھی یہی توقع اور امید رکھتے ہو
35:35حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
35:37آپ سے روایت ہے
35:39فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
35:42کہ ایک وفد آیا
35:43آپ کے پاس
35:44اور ساری چیزیں
35:45آپ مرض الوفات میں تھے
35:47اپنی جو انتقال کی
35:49اور رہلت کی آپ کی گھڑیاں تھی
35:51اس کے قریب تھے
35:52تو اللہ کی عبادت کے ساتھ
35:55اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
35:57نے جس چیز کی تنبیہ فرمائی
35:59وہ فرمایا کہ
35:59اپنے ملازمین کے ساتھ
36:01اپنے ماتحت اور زیر دس لوگوں کے ساتھ
36:03جو حسن سلوک ہے
36:04اس کا احتمام لازمی کیے رکھنا
36:06اور اس کو چھوڑنا نہ
36:07کسی کو آگے بڑھاتے ہوئے
36:09ایک چیز میں ذہن میاری کے
36:11مولانا حالی
36:12فرماتے ہیں کہ
36:13ہے ساری مخلوق کمبہ خدا کا
36:15تو اگر ہم اس
36:17ایک نفسیاتی تعبیر کو قبول کر لیں
36:20یہ ساری چیزیں
36:21یہ سارے درجات
36:23یہ مرتبے
36:23اس دنیا کی کشم کشم میں ہیں
36:25اللہ کے ہاں
36:26اصل میار
36:27اصل چیز
36:28میرٹ تقوی ہے
36:29تو یہ
36:31ماتحت ملازمین کے ساتھ
36:33جو آئے روز
36:34چیزیں سننے کو ملتی ہیں
36:36ان کے ساتھ یہ چیزیں سامنے آتی ہیں
36:38تو ان میں بہت حد تک
36:39قابو پایا جاسے ہیں
36:40بلکل ٹھیک
36:40جی ڈاکس اب کیا فرماتے ہیں
36:42آج کی جو گفتگو اس کی روشنی میں
36:44جو محاصل ہے گفتگو کا
36:47کرکس ہے
36:47یا جس کو ہم خلاصہ کہہ سکتے ہیں
36:49وہ کیا ہے
36:50جی ڈاکس اب
36:52ملازمین کے والے سے بات ہو رہی ہے
36:54تو ایک بات جو
36:57ہمیں نظر آتی ہے وہ یہ ہے
36:59کہ ملازمین کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی ہے
37:03یعنی آپ دیکھیں تو حضور نبی اکرام صلی اللہ علیہ وسلم نے
37:06اس کا ایک مطلب اینگل ہے
37:07کہ اپنے ہاتھ سے کام کرنے کو ترجیح دی ہے
37:11اور ہمیں سیرتِ طیبہ سے جو درس ملتا ہے
37:14وہ یہ ہے کہ آپ علیہ السلام جو ہے
37:17وہ اپنے کام خود سرانجام دیتے تھے
37:20اپنے کپڑے کو سی لینا
37:22اپنے جوتے کو گانٹ لینا
37:23اور جو ازواجِ متحرات کا ارشاد ہے
37:26کہ
37:29کہ حضور نبی اکرام صلی اللہ علیہ وسلم
37:31جب اپنے گھر میں تشریف فرما آتے تھے
37:33تو اپنے جو اہل و ایال ہیں
37:36ان کے کام میں ان کا ہاتھ بٹاتے تھے
37:38چھیک
37:39تو اس سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے
37:41کہ ہم اپنے کام جو ہے
37:43اپنے ہاتھ سے سرانجام دینے کی
37:46جو ہے وہ تگو دو کریں
37:47یہی تربیت حضور نبی اکرام صلی اللہ علیہ وسلم
37:49نے صحابہ اکرام کی کی تھی
37:51اور یہاں تک ان کو اپنے ہاتھ سے کام کرنے کا عادی بنایا تھا
37:55کہ روایات میں ملتا ہے
37:56کہ اگر کسی صحابی کا اونٹ پر بیٹھے ہوئے
37:59اس کا چابک نیچے گر جاتا تھا
38:01تو وہ کسی کو نہیں کہتا تھا
38:03کہ یہ مجھے چابک پکڑانا
38:04بلکہ وہ خود سواری سے اترتا تھا
38:06اور خود اتر کے اس چابک کو پکڑ لیتا تھا
38:09لیکن افسوس آج یہ ہے
38:10کہ جو اسلامی کلچر ہے
38:13اسلامی روایات ہے
38:14یہ غیر مسلموں نے اپنا لیا ہے
38:16اور جو غیر مسلموں کا کلچر ہے
38:18وہ ہم اپنانے کو فخر سمیتے ہیں
38:20اب آپ تو ماشاءاللہ یورپ غیرہ میں جاتے رہتے ہیں
38:23تو وہاں جو لوگ جاتے ہیں
38:25وہ یہ ہمیں بتاتے ہیں آکے
38:27کہ وہاں لوگ اپنے کام
38:28اپنے ہاتھ سے کرتے ہیں
38:30مثلا ایون دفتر میں جو ہیں
38:32تو باس ہے تو وہ اپنی چائے بنانی ہے
38:34اس نے تو خود اٹھ کے بنائے گا
38:37اس نے اپنا واشروم صاف کرنا ہے
38:39تو خود وہ اٹھ کے صاف کرے گا
38:41تو اپنے حصے کا کام
38:42خود کرنے کو ترجیح دیجئے
38:44اور اگر ملازم رکھنا ہی ہے
38:46تو پھر جو اسلامی جو روایات
38:49ہمیں ملتی ہیں خوددام کے والے سے
38:51ان کو ہمیں امپلیمنٹ کرنا چاہیے
38:52اور ان کو برابری کا درجہ دینا چاہیے
38:55نہ کہ ان کو کم تر حصیت میں رکھنا چاہیے
38:57جی ڈاکس اب کیا فرماتے ہیں آپ
38:59ڈاکس اب میں یہ عرض کرنا چاہوں گا
39:01کہ جو ملازم پر شاہ افراد ہوتے ہیں
39:04کسی بھی ارگنائزیشن کے اندر
39:06سب سے پہلے تو جو
39:08ارگنائزیشنز ہیں جو بھی ان کے
39:10ہیڈ ہیں انہیں یہ سوچنا چاہیے
39:12کہ آنرشپ
39:14اور انٹرپنورشپ
39:16وہ تین مختلف اطراف سے
39:19پروفٹ لیتی ہے جیسے میں نے
39:20پہلے بھی عرض کیا ہے
39:21کیپیٹل کی مد میں بھی زمین کی مد میں بھی
39:24اور ارگنائزیشنز کی مد میں بھی
39:26یعنی چار فیکٹرز ہیں تین فیکٹر
39:28کا ہیڈ لے جاتے ہیں جو بھی
39:30تنظیم کی صورت میں آتے ہیں
39:32اور ملازم کو ایک فیصد ملتا ہے
39:35اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے
39:36کہ کیا ہمارے معاشرے میں
39:38اس ملازم کے لیے وہ جو
39:40ایک فیصد تنخواہ کی صورت میں
39:42ہم اس کو منتھلی دیتے ہیں
39:44کیا وہ پورا کرتا ہے یا نہیں کرتا
39:47آقا کریم علیہ السلام کی
39:49صیرت طیبہ میں جب ہم دیکھتے ہیں
39:51تو حضور نے فرمایا
39:52کہ تین چیزیں ایسی ہیں
39:54کہ جو اس کے لیے
39:56یعنی مالک کے لیے
39:57ارگنائزیشن کے لیے پروائیڈ کرنا
39:59یہ لازم ہوتا ہے
40:00ایک گھر
40:02تاکہ اس کی رہائش کا
40:03انتظام ہو سکے
40:05دوسرا فرمایا
40:07کہ اس کا
40:07یعنی کہ پناوہ کپڑے
40:09اور تیسری صورت میں کہا
40:11کہ زندہ رہنے کے لیے
40:12جو روٹی درکار ہوتی ہے
40:14تو سی ایس آر کا جو
40:16کنسپٹ ہے
40:16یا آج ہم دیکھتے ہیں
40:18ایس ڈی جیز
40:19یونائٹڈ نیشنز کی صورت میں
40:20تو وہ یہی کہتے ہیں
40:22کہ اگر ہم یہ چاہتے ہیں
40:23کہ معاشرے میں
40:24جو تنظیمات ہیں
40:26ادارے ہیں
40:27وہ ترقی کریں
40:28تو ملازمین کو
40:29زیادہ سے زیادہ
40:30ہمیں فیسیلیٹیٹ کرنا ہوگا
40:32سائیکولوجیکل
40:33ہم جتنا ان کو
40:34ریلیکس رکھیں گے
40:35اور جتنا ہم
40:36ان کی معاشرے کو
40:37آسان کریں گے
40:38تنظیمیں اور ادارے
40:40اتنے ہی زیادہ ترقی کریں گے
40:42بلکل ٹھیک
40:42جرہ آپ کوئی میسیج
40:44اطاف فرمادے ہیں
40:45محترم کاسم آصف جانبی صاحب
40:47بنیادی طور پر
40:47تعریف
40:48اوصلہ فضائی
40:50مشاورت
40:51بیمار پرسی
40:52یہ وہ ساری چیزیں ہیں
40:54جن کا استحقاق
40:55جو ملازمین اور خادمین ہے
40:57وہ بھی رکھتے ہیں
40:57اور اس کے ساتھ ساتھ
41:00بہت حد تک یہ ممکن ہے
41:02کہ اللہ کے ہاں
41:03کسی مالک کی بجائے
41:05اس کا جو ملازم
41:06یا اس کا جو خادم ہے
41:07اس کا درجہ بلند ہو
41:09اور کل جنت میں
41:11بلند نگاہ کرنے سے بھی
41:13اس کو اپنا جو ملازم ہے
41:16وہ نظر نہ آئے
41:16اللہ کے ہاں
41:17اس کا درجہ
41:18اس قدر بلند ہو
41:19اسی کو
41:20القاسب حبیب اللہ سے
41:21تعبیر کیا گیا
41:22کہ جو اللہ کی راہ میں
41:23رزق حلال
41:24کمانے والا
41:25کھانے والا ہے
41:26وہ اللہ کے ہاں
41:27محبوب اور
41:27اس کا پسندیدہ دوست ہوتا ہے
41:30قوانین موجود ہیں
41:32چائیڈ لیبر ایکٹ بھی موجود ہے
41:33ان کی اویرنس
41:35عوامی سطح پہ
41:35وہ کرنی چاہئے
41:36تو یہی آخر پہ
41:37پیغام دیا جاتا ہے
41:39جو چیزیں دین نے
41:41خسن معاشرت کے لیے
41:42تلقین کی گئی ہیں
41:43ان کو منوان تسلیم کیا دے
41:45بلکل ٹھیک
41:45بہت شکریہ جنابے
41:46ڈاکٹر فیض اللہ مغدادی صاحب
41:48بہت شکریہ جنابے
41:49محمد عزر عباسی صاحب
41:51اور جنابے
41:52قاسم آصف جامی صاحب
41:54اور جنابے
41:55حبیب اللہ بھٹی صاحب
41:57آپ کی تشریف آوری کا
41:58بہت شکریہ
41:59اور ناظرین اکرام
42:01چند اشار
42:02آپ کی خدمت میں
42:03عزت کرتے ہوئے
42:03اجازت طلب کرنی ہے
42:04کہ
42:05لف ہیں روح و جسد مدینے سے
42:08لف ہیں روح و جسد مدینے سے
42:11ہے محبت اشد مدینے سے
42:15شہر کوئی نہیں ہے دنیا میں
42:18شہر کوئی نہیں ہے دنیا میں
42:21جس کا انچا ہو قد مدینے سے
42:24جس کا انچا ہو قد مدینے سے
42:26موتبر ہو گیا زمانے میں
42:29Most of our time
42:31This time is built
42:32Which has been done
42:34We are here
42:36We are here
42:39We are here
42:39We are here
42:41We are here
42:41I'm out
42:42My
42:43My
42:44My
42:46My
42:47My
42:47ڈائینا رد مدینے سے میرے فکر و خیال کو سرور مل رہی ہے رسد مدینے سے
42:55جازت دیجئے کہ اللہ آپ سے ملاقات ہوگی
42:57السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
43:17اے مومینوں کے دل کا اجالہ شانِ رمزی
Comments

Recommended