- 6 minutes ago
- #shaneramzan
- #ramzan2026
- #aryqtv
Ilm o Ulama | Rehmat e Sehr - Topic: Huqooq ul Ibad Aur Us Mein Kotahi Ka Wabal
Watch Shan e Ramzan 2026➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw
Naimat e Iftar | New Episodes | 2026➡️ https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifM_2JI-vR0No8J3zKWTdec&si=ydRLxvXrh8nKk3on
Watch Rehmat e Sehr | Ramzan Episode's 2026➡️ https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XicMEurbK_1yWAYr02skW7Oq&si=5ZW8tuayXzOGsHwG
Host: Raees Ahmed
Guest: Allama Liaquat Hussain Azhari, Mufti Muhammad Akmal, Mufti Khurram Iqbal Rehmani
Sana Khuwan: Muhammad Saqlain Rasheed, Daniyal Sheikh, Anas Kareemi
#ShaneRamzan #ramzan2026 #aryqtv
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Watch Shan e Ramzan 2026➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw
Naimat e Iftar | New Episodes | 2026➡️ https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifM_2JI-vR0No8J3zKWTdec&si=ydRLxvXrh8nKk3on
Watch Rehmat e Sehr | Ramzan Episode's 2026➡️ https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XicMEurbK_1yWAYr02skW7Oq&si=5ZW8tuayXzOGsHwG
Host: Raees Ahmed
Guest: Allama Liaquat Hussain Azhari, Mufti Muhammad Akmal, Mufti Khurram Iqbal Rehmani
Sana Khuwan: Muhammad Saqlain Rasheed, Daniyal Sheikh, Anas Kareemi
#ShaneRamzan #ramzan2026 #aryqtv
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00ڈینا عظمتوں کا سفینہ زندگی کا قرینہ روح مکہ مدینہ آدمی کو بناتا ہے یہ انسان
00:30وہ کونسے محرکات ہیں علامہ صاحب کی جس میں ایک بندہ جو ہے وہ اپنے ہی جیسے بندوں کے حقوق
00:37غصب کرتا ہے اور ان کی حق تلفی کرتا ہے اس قسم کے چیزوں میں پائے جاتا ہے تو کیوں
00:45مرتقب ہوتا ہے ایک بندہ جو ہے اپنے ہی جیسے بندوں کے حقوق تلف کرنے کے حوالے سے
00:50جی رئیس بھی یہ بڑا اہم ترین سوال ہے کہ اس کے محرکات اور اس کے وجوہات کیا ہیں ایک
00:55تو انسان جو ہے وہ نفسانی خواہشات کی پیروی کرتا ہے اور اپنی ان نفسانی خواہشات کے حصول کے لیے
01:02یہ نہیں دیکھتا ہے کہ اس کی وجہ سے دوسروں کے حق تلف ہو رہے ہیں اور میں کسی پر
01:06قسم کر رہا ہوں
01:08جیسے کہ آیت کریمہ پہلے بھی پڑھی گئی کہ افرائی تمان اتخدہ الہا ہو حبا ہو تم نے دیکھا کہ
01:13اس نے نفسانی خواہشات کو اپنا الہ بنا لیا
01:16اس کی وجہ سے وہ پامال کرتا ہے دوسروں کے حقوق کو اللہ کے حقوق کو بھی اور دوسروں کے
01:21حقوق کو بھی
01:22دوسری ہوتی ہے تکبر تکبر اور غرور جو ہے کہ اپنے آپ کو سپیریر سمجھنا آلہ سمجھنا اور دوسرے یہ
01:30تو کچھ بھی نہیں ہے آر کم تر لوگ
01:33ایسے موچی مسلنی ہیں ان کی کیا حیثیت ہے کہ اس کی وجہ سے جو ہے وہ دوسروں کے حقوق
01:39کو تلف کرتا ہے
01:40اور ان کے ساتھ زیادتی کرتا ہے
01:41اور اس کو اپنا حق سمجھتا ہے
01:42اس کو اپنا حق سمجھتا ہے کہ ہم تو آئیں چودری ہیں آسانوں تک ہی لوڑے
01:46ہم یہ کریں گے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے
01:48تو تکبر اور غرور ایک وجہ ہوتی ہے
01:51تیسری وجہ جو ہوتی ہے وہ حرس اور حوث
01:54لالت جو ہوتی ہے دنیا کی مال کی
01:57جس کو قرآن ذکر فرمایا سورہ فجر کے اندر
02:04فرمایا کہ تم مال سے بہت محبت کرتے ہو
02:07جمع کرتے ہو مال کو کھاتے ہو
02:09اور یہاں تک کہ وارثوں کا مال بھی کھا جاتے ہو
02:12یعنی یہ ایک انتہا ہے
02:14کہ انسان جو ہے وہ اپنی بہن بیٹی کے ساتھ احسان کرتا ہے
02:19اس کے ساتھ بھلا کرتا ہے
02:21لیکن ہماری سوسائیٹی کے اندر
02:23جہاں حج کا گراف بڑھتا جا رہا ہے
02:26شاید دنیا کی لیڈنگ کے اندر
02:28ہم آئیں کہ جو سب سے زیادہ مسلمان
02:30بلکل ایسا ہی ہے
02:31لیکن سب سے زیادہ ہمارے ہاں ہی بہنوں کا
02:34اور بچیوں کا حق کھایا ہوتا ہے
02:36اور لوگوں کا مال کھا کے
02:38وراست کے مال کو دبا کے
02:41اور ہم یہ سمجھتے ہیں
02:42کہ یہ شب برات میں
02:43لیلت القدر میں
02:44رمضان میں یہ افطاری لگا دی
02:47ہمارے ساری کے سارے
02:48مافی ہو چکی ہے
02:49ہمارے یہ سارے کے سارا
02:51بلیک جو ہے وہ وائٹ ہو گیا
02:53ایسا کوئی بھی وائٹ نہیں
02:54اسلام کے اندر
02:54اسلام کے اندر کوئی
02:56امیسٹی سکیم نہیں ہے
02:58اچانک کوئی امیسٹی نکالیں
02:59کہ بھئی آپ کو
03:00بلیک کو وائٹ کرنا ہے
03:01تو آجاؤ بھئی آجاؤ
03:02بلکل موقع بہت اچھا ہے
03:04ایسا کچھ بھی نہیں ہے
03:05وائٹ وائٹ ہے
03:06بلیک بلیک ہے
03:07اس کو کسی صورت کے اندر
03:09نہیں کیا جا سکتا
03:10تو لالچ اور حیرس
03:12اور حوض جو ہوتی ہے
03:13وہ انسان کو
03:14کسی کی زمین کو غصب کر لیا
03:17ابھر تھوڑا سا بار نکالو
03:18برابر والے کا گھر ہے بھائی
03:19اس کے ہوا بند ہو رہی ہے
03:21اس کے زمین کے اندر
03:22کیا ہوتا ہے تھوڑے سے
03:23کچھ نہیں ہوتا
03:24کیا کر لے گا یار
03:25خاص طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
03:26نے زمین کے حوالے سے فرمایا
03:28کہ کسی کی
03:28کتنی بھی زمین
03:30آلہ حضرت نے فرمایا
03:31کسی کی بالش پر زمین بھی ہوگی
03:32تو فرمایا کہ
03:33اس پر بھی پوچھا جائے گا
03:34اور کئی زمینیں
03:36اس کے گلے کا
03:37توق بنے گی
03:38کہ تم نے یہاں پر
03:39زمین غصب کی ہے
03:40تو آج ہمارے ہاں
03:41یہ سمجھا جاتے ہیں
03:42جیسے مصحب نے
03:43ابھی واقعہ بیان کیا
03:44جی جی
03:44کسی کی خالی زمین پڑی ہویا ہے
03:46کسی کی خالی پلوٹ پڑا ہوا ہے
03:47چل بھائی
03:48اس کو قبضہ کر لو
03:49اور ہم کراچی والوں پر
03:51تو بہت ہی زیادہ ہے یہ
03:52ذرا سے کسی کی آنکھ چونکی
03:54اور پتا چلا بھائی
03:55اس کو جو ہے وہ
03:57لے کے چلا گئے
03:58اور آ کے بیٹھ کے لوگ
03:59اور اس کو نکالنے کے لیے
04:00بہت بڑا سسرم چاہیے
04:01تو بظاہر ہمیں یہ لگتا ہے
04:03اس دنیا کے اندر
04:04کہ یہ حرس و حوث
04:05یہ طاقت
04:06اور یہ نفسانی خواہشات کی خاطر
04:08ہم دوسروں کے حقوق کو غصب کر کے
04:10اور رئیس بھائی دوسری بات یہ ہے
04:12کہ ہم یہ سمجھتے ہیں
04:14کہ دوسروں کے حق کو غصب کر کے
04:16دوسروں کے گھروں کو جھلا کے
04:18ان کو ہندیرہ کر کے
04:19ہم اپنے گھر کو روشن کر لیں گے
04:22دوسروں کے ساتھ جاتی کر کے
04:23رشوت لے کے
04:24دوخہ دہی کر کے
04:25ہم اپنے بچوں کو خوشیاں دے سکیں گے
04:28ان کے فیچر کو برائٹ کر سکیں گے
04:30آپ کسی بھی راشی سے پوچھیں
04:32رشوت خور سے پوچھیں
04:33کہ بھئی یہ کیا کر رہے ہو
04:34تم یہ کیوں کرتے ہو
04:36بچوں
04:38بچوں کے مستقبل کو روشن کر رہا ہوں
04:40بس بچوں کے فیچر کو برائٹ نہیں
04:42بلکل ڈار بلیک کر رہے ہو
04:44اپنی قبر کو بھی برباد کر رہے ہو
04:45کل اللہ کی بارگاہ کے اندر
04:47پوچھا جائے گا
04:48اور کتنا ظلم ہے یہ
04:49کہ ہم جس اولاد کے لیے
04:52اپنی قبر کو
04:53میدانِ معاشر کو
04:54آخرت کو تباہ و برباد کر رہیں گے
04:56آپ کا سمجھتے ہیں
04:57کہ یہ حرام کھلا کے ہم جائیں گے
04:59وہ پیچھے سے ہاتھ اٹھا کے
05:00ہمارے لیے دعا کر رہے ہوں گے
05:01وہ مسجدیں بنوارے ہوں گے
05:03مدرسے بنوارے ہوں گے
05:04دین کا کام کر رہے ہوں گے
05:05کہ ہمارے باپ کے لیے
05:06وہ کہیں گے
05:07بھائی دفع ہو گیا چلا گیا
05:08ایسے بھی دیکھیں
05:09کہ ان کے پاس جنازہ پڑھنے کا بھی وقت نہیں ہوتا ہے
05:11کہ ہمارے پاس ٹائم نہیں ہے
05:13بیزی
05:14ہم بہت زیادہ ورکنگ ڈے کے اندر
05:15مصروف ہے
05:16باہر دنیا کے اندر ایسا بھی پتا چلا ہے
05:17تو یہ آپ سمجھ لیے
05:19کہ کسی کے گھر کو نقصان پہنچا کے
05:21کسی کی چیزوں کو غصب کر کے
05:23آپ جو ہے
05:24اور پھر رفع آمہ
05:26دیکھیں نا ہمارے شہر کے اندر بھی ایسا ہوا ہے
05:28کہ رفع آمہ کی چیزوں کو
05:30کہ ایک علاقہ ہے
05:32وہاں کے جو سیورج لائن ہے
05:34پائپ لائن ہے
05:35جو سسٹم ہے
05:36وہ ایک پانچ لوگوں کا ڈالا ہے
05:38اور اس پہ ہم نے پچاس لوگ کھڑے کر دی
05:40اب وہ سارا بالکل
05:42کلیپس کر گیا
05:43برباد ہو گیا
05:44تباہ ہو گیا
05:44تو یہ ہم حقوق لوگوں کے غصب کر کے
05:47اور ہم یہ سمجھ رہے ہیں
05:49کہ بھئی بہت بڑے بلڈر بن گئے ہیں
05:51شہر کے اندر
05:51نام ہو گیا
05:52بلے بلے بلے
05:53تباہی پھیر کے رکھ دی
05:54یہ یہاں پر نام ہو گیا ہے
05:56وہاں پر تباہی بربادی
05:58تمہاری نکلے گی
05:58بلکل ہے صحیح
05:59یہ وہ باتیں ہیں
06:00کہ جو ہمارے گردوں پیش نظر آتی ہیں
06:02ہم خاموش نظر آتے ہیں اس پہ
06:04جبکہ اس کے لئے جو وعیدات ہیں
06:07وہ بہت سخت ہیں
06:08دیکھنا چاہیے
06:17اگر تلف کرتے ہیں
06:18یا اس کو غصف کرتے ہیں
06:20تو اس کی آپ کے لئے بہت بڑی جواب دیئی ہے
06:22اس کا ضرور پیش نظر رکھنا چاہیے
06:24اچھا
06:24ہم یہ بھی جاننا چاہیں گے
06:25فی زمانہ
06:27مفتی خورم اقبال رحمانی صاحب
06:28فی زمانہ ہم نے دیکھا ہے
06:29کہ لوگ
06:30اپنے حقوق مانگتے ہیں
06:31وہ بڑے ایکٹیو نظر آتا ہے
06:32جب ہمارا یہ بھی حق ہے
06:33ہمیں یہ بھی حق ہے
06:34ہمیں یہ بھی چاہیے
06:35ٹھیک ہے
06:35لیکن جب حقوق دینے کی بات آتی ہے
06:38حقوق کی ادائی کی بات آتی ہے
06:40اس میں تساہل سے کام لیا جاتا ہے
06:42اس میں پسو پیش سے کام لیا جاتا ہے
06:44اس میں بہت سی چیزیں
06:46جو ہے وہ
06:46ہائل نظر آتی
06:47کیا کہیے گا سوالے سے
06:49بلہ شبہ رئیز بھئی
06:50یہ ایک بہتی
06:52ڈارک سائیڈ ہے
06:53سوسائٹی کی
06:54اور
06:55اس وقت بالخصوص ہم دیکھ رہے ہیں
06:57کہ
06:57رائٹس کے نام پر
06:59وہ ہیومن رائٹس ہوں
07:00ویمن رائٹس ہوں
07:01چائل رائٹس ہوں
07:02دیگر پروٹیکشن کے رائٹس ہوں
07:04اس پر بہت سارے احتجاج
07:05اور مظاہرے
07:06اور اس پر فورمز ہوتے بھی نظر آتے ہیں
07:08اور ہر کوئی ڈیمانڈ کر رہے
07:09ہمارے حقوق ہمیں ادا کیے جائیں
07:11لیکن ہم حق مانگ کس سے رہے ہیں
07:14یہ بھی تو دیکھیں
07:15کوئی خلائی مخلوق سے حق مانگ رہے ہیں
07:16ہم تو انسانوں سے ہی مانگ رہے ہیں
07:18مطلب اپنے ہی ایک طرف
07:20ہم مطالبہ کر رہے ہیں
07:20دوسری طرف ہم خود
07:21لائیبیلیٹی کے اندر شامل ہو رہے ہیں
07:22یعنی میں اگر کسی سے حق مانگ رہا ہوں
07:25تو کچھ چیزیں میری طرف بھی
07:26لوٹ کر آ رہی ہیں
07:27تو یہ تھوڑا سا ہمیں
07:28اس بارے میں دیکھنا چاہیے
07:29اور اسلام کا جو نظام ہے
07:31حقوق اور فرائز
07:32اور ذمہ داری کے حوالے سے
07:33وہ اتنا کامل ہے
07:35اور اتنا خوبصورت ہے
07:36اور اتنا منظم
07:37بلکہ انٹیگریٹیڈ ہے
07:38وہ مربوط ہے
07:39بلکل وہ اتنا مربوط ہے
07:40کہ اگر کوئی شخص
07:42اپنی ذمہ دارییں
07:43ادا کر رہا ہے
07:44تو وہ دوسرے کی حقوق
07:46خود با خود ادا کر رہا ہے
07:47جسے مثال کے طور پر
07:49ہم دیکھیں
07:49کہ اگر شوہر پر یہ حق ہے
07:51یہ شوہر کی ذمہ داری ہے
07:52کہ وہ اپنی بی بی کا نفقہ ادا کرے
07:54تو اگر شوہر اپنی ذمہ داری پورا کرے گا
07:57تو خود با خود بی بی کا حق ادا ہوتا چلا جائے گا
07:59باپ پر ذمہ داری ہے
08:01کہ اپنے بچوں کی پرورش کرے
08:02کفالت کرے
08:03تو باپ اگر اپنی ذمہ داری پوری کرے گا
08:05تو پھر بچوں کو ڈیمانڈ نہیں کرنا پڑے
08:07کہ ہمارے حقوق پورے کریں
08:08بچوں کا خود با خود ادا ہوتا چلا جائے گا
08:10اسی طرح سوسائیٹی میں
08:11جتنی بھی کیفیات
08:12ہمیں رائٹس کی نظر آتی
08:13حقوق کی نظر آتی ہیں
08:14تو وہ رائٹس
08:16آپ یہ سمجھے بات میں
08:17ڈیوٹیز پہلے ہیں
08:18اور ہمیں تو تعلیم یہ دی گئی ہے
08:20کہ آتو کل لذی حق انحقا
08:21کہ ہر صاحب حق اس کو حق دینا چاہیے
08:24ہماری ڈیوٹی ہے
08:25ہماری ذمہ داری ہے
08:26اور پھر ہمیں یہ سکھایا جاتا ہے
08:28اسلام کے اندر بالخصوص یہ بتایا جا رہا ہے
08:30ہم جو علماء کی گفتگو سن رہا ہے
08:32کہ جس کا حق ہم نے دبایا
08:33بھلے وہ مطالبہ کرے نہ کرے
08:35لیکن اصل مطالبہ تو
08:36اللہ سبحانہ وتعالی کی جانب سے
08:37کہ اس کا حق ادا کرو
08:39یعنی اس مظلوم کی طرف سے
08:41یہ صاحب حق کی طرف سے
08:42اصل مطالبہ کرنے والی ذات
08:43اللہ سبحانہ وتعالی کی ہے
08:45کہ یہ میرا بندہ ہے
08:46اور میں نے اس کا حق تم پر یہ لازم کیا تھا
08:48وہ بندہ ڈیمان کرے یا نہ کرے
08:49لیکن تم نے اس کا حق ادا کرنا ہے
08:51ہو سکتے کہ وہ کمزور ہے
08:53مجبور ہے لاچار ہے
08:54یا اس کے بعد سے اتنے وسائل نہیں
08:56کہ اپنے حقوق تم سے مانگ سکے
08:58کسی بھی صورت میں
08:59جو تم نے غصب کی
09:00اس کی اتنی رسائی نہیں ہے
09:01یا تم اتنے بڑے منصف پر فائد ہو
09:03یا تمہارا اتنا روب اور دب دب ہے
09:05لیکن اللہ سبحانہ وتعالی نے
09:07جو حکم دے دیا ہے
09:08دنیا کے اندر اگر ادا نہیں کیا
09:10تو ہم نے علماء تو سنا
09:11کہ آخرت میں اس کی اداگی
09:12لازمی بھی رمے کرنی پڑے گی
09:14تو یہاں اگر ہم
09:15اسلام کا جو نظام حقوق و فرائز ہے
09:17اگر اس کی طرف معاشرے میں
09:18ہم آپس میں ایک دوسرے کو
09:19اس بات کا پابند بنا لیں
09:20کہ ہم سب اپنی ذمہ داریاں
09:22پورا کرنے لگ جائیں
09:23جو ہم پر حق لازم میں
09:25وہ ادا کرنے لگ جائیں
09:26تو پھر کسی کو بھی
09:27کسی سے حق مانگنا نہیں پڑے گا
09:28یا ایک طرف ملازم ہو کر
09:30میں اپنے مالک سے حق مانگ رہا ہوں
09:31تو دوسری طرف میں
09:32کہیں نہ کہیں کسی کی حق تلفی کر رہا ہوں
09:35تو ہر شخص کہیں نہ کہیں
09:36کتاہی کا شکار ہے
09:37تو اسلام کے ہی جو نظام حقوق
09:39و فرائض ہے
09:40وہ ہمیں اس بات کا پابند بناتا ہے
09:41کہ ہم اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے
09:43جب اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے گے
09:45تو انشاءاللہ
09:45حقوق خود با خود ادا ہوتے چلے جائیں گے
09:47کیا کہنے ہیں
09:48سبحان اللہ
09:48سبحان اللہ
09:50اچھا قبلہ مفتی
09:51محمد اکمل مدنی صاحب سے
09:52یہ گزاریش بھی کروں گا
09:53اور یہ ایک
09:54اب جو جواب آ رہا ہے
09:55وہ ایک ایسا جواب ہوگا
09:56کہ جس میں ہم
09:57بہت ساری چیزوں کو سمجھ کر
09:59اگر اپنا لیں گے انشاءاللہ
10:00تو بہت بڑے وعبال سے بچ سکتے ہیں
10:02قبلہ یہ فرمائے گا
10:03خود کو حقوق کی ادائیگی کا
10:05عادی کیسے بنایا جائے
10:07اس پر کچھ روشن علی
10:08جس میں کچھ امور
10:11انتہائی امپورٹنٹ ہیں
10:12سب سے پہلے تو
10:13اس بات کی معرفت
10:15مجھ پر
10:16کس کا کیا کیا حق ہے
10:18یہ علم سیکھنا بہت ضروری ہے
10:20میں اکثر ہی آپ کو شکوہ کرتا
10:22نظر آتا ہوں
10:23کہ ہمارے گھروں میں
10:23کچھ چیزیں
10:25رسمی طور پر رائج ہو گئی ہیں
10:27اور ہم اس سے باہر نکلنے کے لئے
10:28تیار نہیں ہیں
10:29باہر نکلنے کا مطلب
10:31کہ اصل دین کو جاننا
10:32ہمارے کیا ہے
10:33کہ بچہ بڑا ہوا
10:34ناظرہ پڑھایا
10:35حفظ کروا دیا
10:35چھے کلمیں
10:36ایمان مفصل
10:38ایمان مجمل
10:38پھر اس کے بعد
10:40وہ نماز سکھا دی
10:41سنت کے مطابق دعائیں
10:42تھوڑے سے آداب وغیرہ
10:44سنن آداب
10:44بس کامل ہو گیا بچہ
10:46چلیں پھر وہ باہر گیا
10:48مسجد میں چلا گیا
10:49اور چیزیں اس نے سیکھ لیں
10:50لیکن یہ بہت ہی
10:51میں نے کتا ہی دیکھی ہے
10:52کہ باقاعدہ
10:53کس کا کیا حق ہے
10:54وہ بیان کر کے
10:55اس کی ادائیگی کے طریقے کیا ہیں
10:57اس کا شعور دینا
10:58یہ بہت ضروری ہے
11:00کہ جو گھر والے ہیں
11:01سرپرست ہیں
11:01وہ سب سے پہلے
11:02اس کو علم حاصل کریں
11:04اور پھر ایک دوسرے کا حق
11:06احسن طریقے سے ادا کریں
11:07بچوں کے لیے خاص طور پر
11:09اس سلسلے میں
11:10رول موڈل بنے
11:12اس طرح
11:12تیچرز بہت بڑا کردار
11:13ادا کر سکتے ہیں
11:14کہ وہ حقوق کے بارے میں
11:16بچوں کو بتائیں
11:17اور خود حقوق
11:18ادا کر کے دکھائیں
11:19جیسے اسٹورنٹس کے
11:20کچھ حقوق ہوتے ہیں
11:21ان کو بتائیں
11:22ایسی اپنے بچوں
11:23ان کو بچوں کو سمجھائیں
11:24کہ جب آپ گھر میں جاتے ہیں
11:25تو پیرنٹس کا کیا حق ہے
11:27تمہیں یہ حق ادا کرنا ہے
11:28ہم اسے دوسرے نام
11:29دے دیتے ہیں بہرحال
11:30لیکن باقاعدہ
11:31حق کا لفظ استعمال کر کے
11:33اور بچوں کو شعور دینا
11:34اس کا پریکٹیکل کروانا
11:36انتہائی ضروری ہے
11:37ایسی مساجد کے اندر
11:39آئیمہ اس پر بہت بہترین
11:40کردار ادا کر سکتے ہیں
11:41کہ جمعہ میں پبلک آتی ہے
11:43بعض اوقات بہت زیادہ لوگ ہوتے ہیں
11:44مارکٹ کی مسجدوں میں
11:45بہت سارے لوگ ہوتے ہیں
11:46ان کو یہ شعور فرام کرنا
11:48کہ حق کیا ہے
11:49اور آپ حق تلفی کر رہے ہیں
11:51تو دنیا میں کیا وابال ہے
11:53اور آخرت میں کیا وابال ہے
11:54تاکہ شعور بیدار ہو
11:55ایک آدمی اپنے جرم کو سمجھے
11:58اپنی کوتاہی کو سمجھے
11:59اس کو احساس جرم ہو
12:00احساس ندامت ہو
12:01کتنے لوگ ایسے ہیں
12:03کہ جب اس کا شعور فرام کیا گیا
12:05آپ یقین کریں
12:06جا کے اپنی ازوار سے
12:07معافیہ مانگی ہیں
12:09مجھے اس کی نالیج ہے
12:10مطلب لوگ فیڈ بیک جو دیتے ہیں
12:11ہم نے معافی مانگی
12:13کہ واقعی میں یہ توجہ نہیں تھی
12:15کہ تمہارا یہ حق تھا
12:16اور میں عرصہ دراز سے
12:17کتاہی کرتا رہا
12:18تو مجھے معاف کر دو
12:19ایسے کتنی بہنوں نے
12:20اپنے شوہروں سے معافی مانگی
12:21حتیٰ کہ پیرنٹس نے
12:23اپنے بچوں سے معافی مانگی
12:24کہ بعض وقت بچوں میں
12:26مساوات قائم کرنا
12:27یہ بچوں کا حق ہوتا ہے
12:28لیکن ماں باپ کسی ایک دو بچوں
12:30کے طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں
12:31اور دوسرے کو
12:31زلیل کرتے رہتے ہیں
12:32اس کی انسلٹ کرتے ہیں
12:33سب کے سامنے
12:34یا لڑکا لڑکی کے اندر
12:35ڈیفرینس پیدا کر دیتے ہیں
12:37بچے گوزہ لڑکے پہ زیادہ توجہ
12:38بچی پہ کم
12:39جس سے وہ سلسل احساس سے
12:41کم طریقہ شکار ہو رہی ہوتی ہے
12:43تو پھر جب ان کو احساس ہوتا ہے
12:45تو پھر وہ اپنے بچوں سے بھی
12:46معذرت کرنے میں شرح
12:47محسوس نہیں کرتے ہیں
12:48تیسی چیز جو بہت ضروری ہے
12:49وہ آخرت کو یاد رکھنا
12:51دنیا جو ہے یہ ابھی ختم ہو جائے گی
12:53اپنے سے پہلے والوں کو دیکھیں
12:55اور خصوصاً اپنے اطراف میں دیکھیں
12:57ہمیں لمبی زندگی کی امید نے
13:00کو تہیوں کے اندر مبتلا کر دیا
13:01اچھا کر لوں گا
13:02بہت سے شعور بھی رکھتے ہیں
13:04کر لیں گے
13:05بنگلہ قبضے میں کر رکھا ہے
13:07پلوٹ قبضے کے کر رکھا ہے
13:08بعد میں دے دوں گا واپس
13:09اور پھر اچانک موت آتی ہے
13:11اور آدمی وہاں پہنچ جاتا ہے
13:13اور چونکہ پھر ہم نے
13:14اپنے گھر والوں کو
13:15اچھا راستہ تو دکھایا نہیں ہوتا
13:16شب برات پر گلاب کے پھول ڈلیں گے بس
13:19پورا سال بچہ نہیں آئے گا
13:21نہ آپ کے ہاتھ اٹھا کر دعا کرے گا
13:22اور میں نے تو ایسے سے مندر دیکھیں
13:24حضرت کے بیٹے کو جنازی کی
13:26نہ دعا آتی ہے نہ نماز آتی ہے
13:28ہاتھ باندھ کے کھڑا ہوگے
13:30دائے بھائے دیکھ رہے ہیں
13:30کون کیا کر رہا ہے
13:31بس ویسے آخر میں
13:33سلام وہ دیکھ لیا
13:34اس نے کہ سلام پھیر نہ کر لیا
13:35باقی خاموش کھڑے ہوئے آتا ہی نہیں ہے
13:37وہ کیا پھر قبر کے اوپر آئے گا
13:39اس لئے میدان معاشر کی گریفت کے اوپر توجہ کریں
13:42کہ آج اگر ہم نے
13:43حق العبد میں کوتا ہی کی
13:44اس کا تدارک نہیں کیا
13:46تو وہاں پر بڑی سا گریفت ہو سکتی ہے
13:47یہ چیزیں تھوڑے سے جمع ہو جائے
13:49تو پھر انشاءاللہ
13:50ہم یہ تو نہیں کہتے
13:51کہ اگرم معاشرہ بدل جائے گا
13:52لیکن چلے ہم کوشش کرتے ہیں
13:54قطرہ قطرہ ملے گا
13:55انشاءاللہ دریہ بنے گا
13:56جہاں تک جو میری ذمہ داری ہے
13:58میں اس کو پوری کروں
13:59آپ کی ہے آپ پوری کریں
14:00حضرات کی حضرات پوری کر رہے ہیں
14:01تو جہاں تک ہمارا فیض ہو سکتا ہے
14:03ہم کوشش کرتے ہیں
14:04باقی سب لوگ اگر مل کر
14:06اس میں تعاون کریں
14:07اور حق تلفی کے خلاف
14:09ایک جہاد قائم کر لیں
14:12مجاہدانہ کوشش کریں
14:14تو بہت بڑے پیمانے پر کام ہو سکتا ہے
14:16بہت بڑی بات
14:17بہت اچھی بات ہے
14:18یعنی کہ بہت زیادہ
14:19گہرہ اندھیرہ ہو
14:20اور اگر کسی روزن سے
14:22کوئی روشنی آ رہی ہو
14:23تو وہ بھی میں سمجھتا ہوں
14:25کافی ہوتی ہے
14:26اور وہ بھی بڑی غنیمت سمجھی جاتی ہے
14:28اسی طرح
14:29اس مختصر وقت میں
14:30جو علماء حضرات بیانات فرما رہے ہیں
14:31اپنی پوری زندگی
14:33ہول لائف پر آپ نظر ڈالے
14:34اور ایک نقدانہ نظر ڈالے
14:37میں تو کہتا ہوں
14:39تب آپ کو اندازہ ہوگا
14:40کتنی کتنی کتنی کتائیاں آپ سے ہوگئی
14:42لاعلمی میں ہوگئی
14:44لاعلمی میں ہوگئی
14:44آپ نے اس کو محسوس نہیں کیا
14:46اس کو اہمیت نہیں دی
14:47تو اس حوالے سے آج کا پروڈرام
14:48بہت اہم ہے آج کا موضوع
14:50ایک مختصر سا وقفہ
14:51وقفہ عباد حضر ہوتے ہیں
14:52ہم اسا تریئے گا
14:54جی ناظرین آپ کا خیر مقدم ہے
14:56حقوق العباد کے حوالے سے
14:57اور اس میں کتائی پر
14:58جو وبال ہے
14:59اس کے حوالے سے
15:00اب تک جتنی باتیں ہوئیں
15:01یقین جانئے
15:02کہ وہ ساری باتیں
15:03اس میں سے بہت سی باتیں
15:04ایسی ہوں گی
15:05کہ جو آپ کے لئے نئی ہوں گی
15:07کہ ہم سے تو یہ بھی ہو گیا
15:07ہم تو یہ بھی کر گزرے
15:09ہمیں تو معلومی نہیں تھا
15:11ہمیں تو کسی نے بتایا نہیں آج تک
15:13یہ ساری چیز ہے
15:14دیفنیٹلی
15:15آپ کے ذریعے
15:15لیکن خفت محسوس ہوتی ہے
15:17کسی کو بتانے میں
15:17کہ ہم سے تو یہ ہو گیا
15:19چونکہ ظاہر ہے
15:20خفت تو ہوگی
15:20شرمندگی تو ہوگی
15:21لیکن کیا ہے
15:22کہ آخرت کے
15:24عذاب سے بچنے کے لئے
15:25اور وہاں کی پکڑ سے بچنے کے لئے
15:27آج کچھ کر لیں
15:28سنجیدگی سے غور کر لیں
15:30اس بات پر
15:30اب جناب حق تلفی تو ہو گئی ہے
15:33جناب ہو گئی
15:34آپ کی زندگی میں
15:35اللہم علیہ عقصہ صاحب فرمائے گا
15:37اس حوالے سے
15:37حق تلفی ہو جائے
15:38تو تلافی کیسے ممکن ہے
15:40اس کے حوالے سے کوئی اشارت فرمائے گا
15:42جو کہ حق تلفی
15:43اگر تو آپ نے کسی کا
15:44مال غصب کیا ہے
15:46یا پھر آپ نے
15:47کسی کی زمین غصب کی ہے
15:49وہ تو
15:50آپ کو واپس کیے بغیر
15:51کسی صورت کے اندر نہیں ہے
15:53سب سے پہلے آپ کو
15:54جو حق تلفی ہوئی ہے
15:55اس کو واپس کریں گے
15:56اور پھر اللہ کے بارگاہ کے اندر
15:57آپ توبہ کریں گے
15:58اور اس بندے کو دینی کی وجہ سے
16:00جو ہے
16:01اس سے مازد بھی کریں گے
16:02کہ میں نے آپ کا یہ حق ہمارا ہے
16:03تو رئیس بھئی
16:04ایسی چیز کے
16:05جو
16:06فیزیکل طور پر
16:07آپ نے کسی کی قبضہ کی ہے
16:09کسی کا مال
16:10کسی کی زمین
16:10وہ آپ کو واپس کرنی پڑے گی
16:13دوسری وہ چیز ہے
16:14جیسے
16:14علامہ مفتی خورم صاحب نے فرمایا
16:16کہ آپ نے کسی کے تمسخر اڑایا
16:18کسی کا مزاک اڑایا
16:20کسی کی غیبت کی ہے
16:22دیکھیں اس کے لئے یہ ہے
16:24کہ یا تو
16:25آپ جو ہے
16:25اسے معافی مانگے
16:26اصول تو یہ ہے
16:27کہ آپ اسے کھلے دل کے ساتھ
16:29معافی مانگے
16:30کہ مجھ سے یہ غلطی ہوئی ہے
16:31اور میں اس پر آپ سے معذر چاہتا ہوں
16:33لیکن اگر
16:35مثال کے طور پر
16:36اسے فطرہ ہوتا ہے
16:37شر ہوتا ہے
16:38تو آپ اللہ کی بارگاہ کے اندر
16:39توبہ کریں
16:40اور جو ہے
16:41وہ دوسری بات یہ ہے
16:42کہ اس کے لئے بھی دعا مغفرت کریں
16:44لیکن اس کا اصول یہی ہے
16:46کہ آپ نے جس کی جو دل
16:48آزاری کی ہے
16:49ہم
16:49ہمارے ہاں یہ جو رسم توبہ
16:51شب برات پر ہوتی ہے
16:52کہ ایک میسیج بنا کے
16:53تو میرے موبائل کے اندر
16:54چار ہزار نمبر ایک
16:55بڑن دبائے چال بھائی
16:57ہوئی معافی
16:57میرے سے
16:58اگر کوئی غلط
17:00اگر
17:00اگر
17:01تو اگر مگر کے ساتھ
17:02موسیٰ بیٹھے ہوئے
17:03اف بٹ کے ساتھ
17:04اگر مگر کے ساتھ
17:05تو توبہ ہوتی نہیں ہے
17:06ہوتی نہیں
17:07یعنی بیسے تو فقیر
17:08بہت ہی عالی
17:09سطح کا ہے
17:10میں ایسا ہونی ہوں
17:11بالفرض محال
17:12اگر کہیں
17:13کبھی ایسا ہو گیا ہو
17:14ہو جاتا ہے انسان سے
17:15تو یہ توبہ نہیں
17:17یہ ایک رسم توبہ
17:18ہم نے بنا رہی
17:18اور دوسرا پھر جو ہے
17:20ساتھ یہ بھی کر رہے ہوتے
17:21دیکھو بھائی
17:22معاف نہیں کروگے نا
17:23تو بہت بڑے گناہگار ہوگے
17:25تمہیں پتہ ہے
17:25امت مصطفیٰ کو
17:26معاف کرنا کہتے ہیں
17:27تم نے کسی کی
17:28عزت اشال دی
17:29کسی کی ایسی تیسی
17:31بجا کے رکھ دی
17:31اس کے دل کو
17:33چھنی کر کے رکھ دیا
17:34اور تم جو ہے
17:35یہ سمجھ رہے ہو
17:36کہ یہ رسم توبہ
17:37ادا کرنے کے لیے
17:38جو ہے
17:38ایک میسیج گمار ڈالا
17:39اور یہ بھی پتہ نہیں
17:40کون ہے
17:41توبہ تو یہ ہوتی ہے
17:42کہ آپ نادم ہیں
17:44شرمندہ ہیں
17:45آپ اسے معافی مانگتے ہیں
17:46اور اس کی دل جو ہی کرتے ہیں
17:48یار میرے سے یہ غلطی ہوئی ہے
17:49میں اپنے آپ کو
17:50اپنے آپ کو نیچے کر لیتا ہوں
17:51کچھ نہیں ہوتا ہے
17:52منتوازہ اللہ فقد رفعہ اللہ
18:01جا سکتا ہے
18:02اس کو کرے
18:02اور اگر جو ہے
18:04ویسے دوسرا یہ ہے
18:05کہ انسان چلا گیا دنیا سے
18:07تو اس کے لیے دعائے
18:08مغفرت کرتا رہے
18:09اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں
18:10خدایا
18:10اس کی بھی مغفرت فرما
18:12اور میری بھی
18:13اللہ کی بارگاہ کے مغفرت
18:14کیا اچھی بات کہی آپ نے
18:16اچھا اللہ مفتی خورم اقبال رحمانی صاحب
18:18حقوق العباد کے حوالے سے
18:20جب بندہ
18:21کسی کی حق تلفی کر دیتا ہے
18:23تو سنا یہی گیا علماء سے
18:25اور ابتدا میں بھی یہی بات آئی
18:27کہ جب تک وہ بندہ
18:29معاف نہ کرے
18:30تب تک اس کی تلافی نہیں ہوتی
18:31یا اس کی خلاصی نہیں ہوتی
18:33کیا فرمایے گا اس حوالے سے
18:35اگر کوئی اس سیچویشن کا شکار ہے
18:37بچہ تو اس پر کچھ کلاب فرمایے گا
18:39رئیس بھئی
18:40اس میں جیسے علماء بار بار
18:42ارشاد فرما رہے ہیں
18:42اور اصول جو بیان کیا جا رہا
18:44واقعتاً یہی ہے
18:45کہ جس بندے کا حق دبایا ہے
18:47جس بندے کی حق تلفی کی ہے
18:48اسی سے معافی مانگنی پڑے گی
18:51اس کے بغیر
18:52اللہ سبحانہ وتعالی بھی
18:53معاف نہیں فرمائے گا
18:55لیکن
18:56اب اگر کسی کا انتقال ہی ہو گیا
18:58یعنی جس کی حق تلفی کی
18:59تو اس کا انتقال ہو گیا
19:00تو اب کیا کیا جائے
19:01تو اس صورت میں
19:02جیسے قبلہ نے برشاد فرمایا
19:03کہ اگر کوئی فزیکل چیز ہتیائی تھی
19:05مال تھا زمین تھی
19:07جو بھی چیز تھے
19:07اس کے ورثہ کو دینی پڑے گی
19:09ایسا نہیں کہ اس کا انتقال ہو گیا
19:10تو میں ہڑپ کر جاؤں
19:11اور صرف دعائیں مغفرت کر دوں نہیں
19:12اس کے ورثہ جو ہیں
19:14شرعی ورثہ
19:15ان کے درمیان تقسیم ہوگی
19:16ان کو لٹانی پڑے گی
19:17بھئی آپ کے
19:18فلان صاحب تو ان کا یہ مال میرے پاس تھا
19:20اور یہ میں
19:20واپسی کر رہا ہوں
19:21یہ دیکھ لیں
19:22اور اگر کوئی وارث نہ ہو
19:24اس کا
19:24تو ایتی صورت میں
19:25اسی کی طرف سے
19:27صدقے کی نیت سے
19:28اللہ سبحانہ وتعالی کی رامے
19:29خرچ کیا جائے گا
19:30کہ اس کا ثواب
19:30اسی مرہوم کو پہنچے
19:31اس کی طرف سے صدقہ ہوگا
19:33اس کے بعد بھی
19:34اگر اس کے ورثہ
19:35ڈھونٹے وے پہنچ گئے
19:36ہمارے فلان
19:37وارث کا
19:38ہمارے فلان
19:38جناب والا
19:39ان کا مال تھا ہے
19:40آپ کے باس موجود تھا
19:41تو اب وہ جو صدقہ کیا تھا
19:43اس کا ثواب
19:43ان صاحب کی حصے میں آ جائے گا
19:45یعنی اس کو بتا دے میں
19:46صدقہ کر چکا ہوں
19:47وہ مطالبہ کرے
19:48تو اس کو دینا پڑے گا
19:48تو ہر صورت میں
19:50جو ورثہ ہیں
19:51جو بیچے رہنے والے
19:52ان کو دینا پڑے گا
19:53پھر اس کے ساتھ ساتھ
19:54اللہ سبحانہ وطالعہ کی بارگاہ میں
19:56توبہ بھی کرنی پڑے گی
19:58اور اگر ایسا معاملہ ہے
19:59کہ وہ جیسے
20:00غیبت کا معاملہ تھا
20:02یا کسی کی دلازاری کا معاملہ تھا
20:04اب وہ موجود نہیں ہے
20:05اور براہرہ اس سے معافی نہیں مانگی جا سکتی
20:07تو اللہ سبحانہ وطالعہ کی بارگاہ میں
20:09توبہ کرنا
20:10استغفار کرنا
20:11یہ لازم ہے
20:11اور اس مرہوم کے لئے بھی استغفار کرنا
20:14اور اسالے سواب کرتے رہنا
20:15یہ ضروری ہے
20:16اور پھر آخر میں
20:17اللہ سبحانہ وطالعہ اپنے ذمہ کرم سے
20:19اللہ سبحانہ وطالعہ اپنے فضل سے
20:21اس مظلوم کو
20:23اس ظالم سے رازی کروا دے
20:24بروز حشر
20:25اللہ سبحانہ وطالعہ کی رحمت سے
20:26کچھ بعید نہیں ہے
20:28تو اللہ کی رحمت سے
20:29مایوس نہیں ہونا چاہیے
20:30یعنی آخر میں کہنا ہے کبھن
20:31لا تقنتم رحمت اللہ
20:33اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو
20:34اگر ایسا کچھ ہو بھی گیا ہے
20:36اور حقیقت میں
20:37ندامت اور شرمساری ہے
20:39تو سرکار علیہ السلام کا فرمان
20:41اتتائب من الزمبی کم اللہ دنبلو
20:43گناہ سے توبہ کرنے والے سے
20:44گناہ کیا ہی نہیں ہے
20:46تو جو اللہ سبحانہ وطالعہ کی حقوقیں
20:48وہاں تو معافی ہے
20:49بندوں کے حقوق کے لئے
20:50پہلا اصول تو یہ ہے
20:51کہ بندے سے معاف کروالی جائیں
20:52اور اگر یہ معافی ناممکن ہو
20:54یا اگر ممکنات میں سے نہیں ہے
20:56اللہ سبحانہ وطالعہ کی بارکہ میں
20:58استغفار کرتے رہیں
20:59توبہ کرتے رہیں
21:00اور آئندہ
21:01اس طرح کسی زندہ انسان کی
21:03حق تلفی سے اپنے آپ کو بچائیں
21:04تب تو باتتے لیے گا
21:05کہ واقعیتاً آپ نے توبہ کی ہے
21:07آپ مرہوم کے لئے توبہ کر لی
21:08اور زندوں کا پھر حق مار رہے ہیں
21:10اس کا مطلب بھی آپ کو نصیحت
21:11نہیں ملی ہے
21:12تو اسی وقت توبہ قابل قبول ہے
21:14کہ آئندہ بھی
21:15کسی دوسرے کا حق نہیں دبائیں گے
21:17اور جس جس کا حق دبائیا ہے
21:19زندگی میں کوشش کرنے کے معافی مانگ لیں
21:21وغیرنہ جسے
21:22ابتدا میں بھی حدیث شریف بیان کی گئی ہے
21:25کہ آخرت میں جب بدلہ دینے کی بات آگی
21:26تو وہاں درہم و دنانیت نہیں ہوں گے
21:28وہاں نیکیاں ہوں گی
21:29اور زندگی بھر کی نیکیاں
21:31اگر اس کے نام عامال میں چلی گئیں
21:32اور یہاں کچھ بھی نہیں بچا
21:35اپنے ذمہ پاس
21:36آخرت میں بخشش و مغفرت کے لیے
21:38تو پھر اللہ سبحانہ وتعالی کی بارگاہ میں
21:40سیوائے اس کے کرم کے اور کوئی دوسرا آثرا نہیں ہے
21:43اس لیے آخرت کے خسارے سے بچنے کی لیے
21:46کوشش کرنی چاہیے
21:47اگر زندگی میں کوئی خسارہ ہوتا بھی ہے
21:49تو برداشت کر لیں
21:50اور آخرت کے خسارے سے اپنے آپ کو بچائیں
21:51اچھا علامہ علیہ وسلم صاحب
21:53میں یہ جاننا چاہوں گا آپ سے
21:54کہ کیا فکر آخرت نہ ہونے کے سبب انسان سے
21:57اس قسم کی غلطیاں ہو جاتی ہیں
21:59یعنی حقوق العباد کے حوالے سے
22:01اس سے کتائیاں ہو جاتی ہیں
22:03نہیں دے پاتا ہے
22:04یہ آخرت کا اگر دل میں ڈر ہو
22:06تو شاید یہ تمام غلطیاں نہ ہو
22:08کیا فرمائی گا
22:09بالکل رئیس پہ آپ نے بنیادی بات کہی ہے
22:12قرآن مجید فرخان حمید بھی یہی کہتا ہے
22:14کہ جب انسان کو اس بات کا خوف ہوتا ہے
22:16ڈر ہوتا ہے
22:17کہ مجھے اللہ تعالی کی بارگاہ کے اندر
22:19کھڑے ہونا ہے
22:20اور کھڑے ہو کر
22:21مجھے ہر ہر چیز کا حساب دینا ہے
22:23ہر نعمت کا بھی حساب دینا پڑے گا
22:25ہر معاملے کا حساب دینا پڑے گا
22:27زندگی کے ہر لحظے کا
22:29جوانی کا
22:30مال کہاں سے کمائیا
22:31کہاں خرش کیا
22:32یہ کونسیپٹ
22:34یہ تصور
22:34یہ عقیدہ
22:35جتنا زیادہ مضبوط و مستاکم ہوگا
22:38مستاظر ہوگا
22:39اتنا زیادہ انسان گناہوں سے بچے گا
22:41یہ اس کو مسئولیت اور
22:44اکاؤنٹیبلیٹی کا اس کو فکر ہوگی
22:52جو اس بات سے ڈر گیا
22:53کہ اسے اللہ کی بارگاہ کے اندر
22:55کھڑے ہونا ہے
22:56جواب دینا ہے
22:57دیکھیں ہم اولیاء کرام کا ذکر کرتے ہیں
22:59کہ لا خوفون علیہم ولاہم یعظرون
23:01نہ تو ان کو خوف ہے
23:03نہ ہوئے غمگین ہوں گے
23:04خوف سے مراد یہ ہے
23:05کہ ان کو دنیا کا خوف نہیں ہے
23:07آخرت کا تو خوف
23:08ان کا عام مسلمانوں سے زیادہ ہے
23:10ہر لہزے کا خوف ہے
23:12ہر بات کرتے ہوئے خوف ہے
23:14ان کو پتا ہے
23:15کہ مَا يَلْفِذُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ
23:18میں مو سے زبان سے جملہ نکالوں گا
23:20یہاں کرامن کاتبین لکھ رہے ہوں گے
23:22میں کوئی بھی عمل کروں گا
23:23تو یہ واقعہ تر جتنا مضبوط ہوگا
23:26کہ مجھے اللہ کی بارگاہ میں
23:28اور یہ بندہِ مومن کا یہ دیکھیں
23:30پہلا پہلا شروع ہوتا ہے
23:31ذَلِكَ الْكِتَابُ لَعْرَيْبَ فِيْهُتَ لِلْمُتَّقِينِ
23:33اس کے اندر آخری صفت یہ ہے
23:35ان کا آخرت پر یقین ہے
23:39جب آخرت پر یقین ہوگا
23:45انہیں اس بات کا یقین ہے
23:47کہ انہیں لوٹ کر جانا ہے
23:48رب سے ملنا ہے
23:50حساب دینا ہے
23:51جب یہ کونسپٹ مضبوط ہوگا
23:53تو انسان بچے گا
23:55انسان کو پتا ہوگا
23:56کہ یہ تو میری نیکیاں حسد کھاتا جا رہا ہے
23:59یہ غیبت میری سارا
24:01جو میرا سرمایہ ہے
24:02میرے ایسر سے
24:03ان کو برباد کیا جا رہا ہے
24:05اچھے یہ لوگوں کا ایک مزاج ہوتا ہے
24:07کہ جہاں بیٹھتے ہیں
24:08ان کو لگتا ہے
24:09کہ یہ جب تک ہم غیبت نہیں کریں گے
24:11حالانکہ یہ ان کو تباہ و برباد کر رہا ہے
24:14ان کی دنیا و آخرت کو تباہ کر رہا ہے
24:16تو بالکل یہ آپ کا بریادی چیز ہے
24:18کہ جتنا زیادہ آخرت کا فکر ہوگی
24:20انسان اتنا زیادہ گناہوں سے بچے گا
24:22اور اللہ کے قریب ہوگا
24:23قبلہ بفتر صاحب آپ کے کمنٹس آئیے
24:25اس موضوع پر جو آج کلام ہوا
24:27اس کے پر بنچاتا ہوں کچھ پیغام
24:29دیکھیں میں ہمیشہ ارز کرتا ہوں
24:31کہ تین زمانوں پر توجہ کریں
24:32دیکھئے کہ میں کیا کر چکا تھا
24:35کیا کر چکا ہوں
24:36اس کے پر توجہ کریں
24:37تاکہ تداروک ہو
24:38ایک ابھی میں کیا کر رہا ہوں
24:40بعض لوگ جیسے ابھی بھی کوتاہیاں کر رہے ہوں گے
24:43ایک فیچر پلیننگ کیا کرنا ہے
24:45کیا کرنا ہے
24:46جب یہ تین کو ہم پیش ردہ رکھیں گے
24:48تو پھر پیچھے کا تداروک ہو سکتا ہے
24:49میں ان طوام شہروں سے گزارش کرتا ہوں
24:52جو اپنے بیویوں کو دس دس سال سے چھوڑے بیٹھے ہیں
24:54نہ نفقہ دیتے ہیں
24:55نہ حق کے زوجت ادا کرتے ہیں
24:57اور کہتے ہیں کہ تجھے ایسے ہی رکھوں گا
24:59یہ آپ کی بہادری نہیں ہے
25:01یہ اتنا بڑا وبال آپ جمع کر رہے ہیں
25:03اس کے دل کی آہیں لے رہے ہیں
25:05فریادیں اللہ کی بارگاہ میں پہنچ رہے ہیں
25:07خدا رہا اس کا حق ادا کریں
25:08ایسی جو ازواج اپنے شہروں کو
25:11اپنے پاؤں تلے دبائے ہوئے ہیں
25:12کسی بھی وجہ سے
25:13ایسی جنہوں نے اپنے ماں باپ کے حق میں
25:15کوتاہی کر کے دلازاریاں کی ہیں
25:17اول ہاؤسز میں چھوڑ دیا ہے
25:19ان کو بیاروں مددگار چھوڑ دیا ہے
25:21خدا رہا کیوں وبال جمع کرتے ہیں
25:22اپنی آخرت کا
25:23فوراں سے پیشتا جا کے قدموں میں گرو
25:25معافی مانگو تداروک کرو
25:27ورنہ تباہی تباہی ہے
25:29اور جنہوں نے پلوٹ دبائے ہوئے ہیں
25:31وراثت دبائے ہوئے ہیں
25:32خدا رہا نہ دیکھو کتنی مالیت ہے
25:34دے دو وبال چھوڑ دو
25:36دیتے ہوئے لازم دل کھچے گا
25:38بہت مشکل کام ہے میں اس کو مانتا ہوں
25:39لیکن دے دیں
25:40ورنہ موت آگئی
25:42بس اس کے بعد کچھ نہیں ہو سکتا
25:44بہت شکریہ دا کروں گا
25:45آپ تینے حضرات کا
25:46اور اللہم علیہ اقتصا نظری صاحب
25:48اور مفتی خورم اقبال رمانی صاحب
25:50آپ کی آمد کا شکریہ
25:51اور قبلہ مفتی محمد اقمل مدنی صاحب
25:53کنٹینیو کریں گے ہمارے ساتھ
25:54اگلا جو سیگمنٹ ہے
25:55وہ ہے اظہار عقیدت کا
25:57اور اس کے فوراں بعد جو ہے
25:59آپ کے مسائل کے حل کے ساتھ
26:00ہم حاضر ہوں گے جس میں
26:01قبلہ مفتی محمد اقمل مدنی صاحب
26:03آپ کے لائیو سوالات کی جوابات
26:05انشاءاللہ
26:06ارشاد فرمائیں گے یہاں سے
26:07آپ اپنے اپنے سوالات کو
26:09کمپائل کر لیں
26:10جلدیلت اپنے پاس سے
26:11یقجا کرلیں
26:12اور اگلا جو سیگمنٹ ہے
26:13اظہار عقیدت
26:14اس میں حضرت منور بدعیونی
26:16رحمت اللہ علیکم
26:16ٹریبیوٹ پیش کریں گے
26:18وقفے کے بعد ہمارے ساتھ رہے گا
26:26انسان
Comments