Skip to playerSkip to main content
Huqooq ul Ibaad | Naimat e Iftar - Topic: Ustad Ke Huqooq

Watch Shan e Ramzan 2026 ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw

Host: Dr. Sarwar Hussain Naqshbandi

Guest: Peer Irfan Elahi Qadri, Qari Younas Qadri, Haroon-ur-Rasheed Bukhari

Sana Khuwan: Hafiz Muhammad Usman Qadri

#shaneramzan #ramzan2026 #aryqtv

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:27ڈیفرنٹ
00:30جو معاشرے میں پھیلے ہوئی ہماری ذمہ داریاں ہیں اور ان سے ریلیٹڈ جو حقوق ہیں ان کے کانٹیکسٹ میں
00:36بات کر رہے ہیں تو آج بھی انشاءاللہ کل میں نے ذکر کیا تھا کہ خواتین کے یا بیویوں کے
00:41حقوق کے حوالے سے ہم بات کریں گے لیکن وہ ہمارا پروگرام ضرور ہے لیکن وہ سترہ رمضان کو انشاءاللہ
00:47اس پر ڈسکس کریں گے
00:48بہت سارے فونز جو ہیں وہ کل آپ کے اس کے فیڈبیک کے حوالے سے آئے ہم سے آغاز کرتے
00:54ہیں اور پھر آج کے موضوع کی طرف چلتے ہیں کہ جس قدر ہے جیسی ہے بری بھلی قبول ہو
01:02جس قدر ہے جیسی ہے بری بھلی قبول ہو
01:08ٹوٹے پوٹے سجدوں کی بندگی قبول ہو
01:12ٹوٹے پوٹے سجدوں کی بندگی قبول ہو
01:16تجھ کو کیا نہیں پتا تجھ کو کیا نہیں معلوم
01:20چشم نم یہ کہتی ہے ان کہی قبول ہو
01:24चश्म नम ये कहती है अन कहीं कुभूल हो
01:28काविश सुखन मौला शामिल इवादत हो
01:32। । । । । । । । । । । । । । । । । । । ।
01:39। । । । । । । । । । । । । । । । । । । ।
01:41। । । । । । । । । । । । । । । । । । । ।
01:47। । । । । । । । । । । । । ।
02:02Jantai nai nadaan
02:05Teree hikmete mula
02:07Jalda baaz
02:08Quehte hai
02:09Aaj hi kubul ho
02:11Jalda baaz
02:12Quehte hai
02:13Aaj hi kubul ho
02:15Teree shan ke shayyan
02:17Kab hamarhe sajdhe hai
02:19Sersari abadet hai
02:22Daimhi kubul ho
02:23Sersari abadet hai
02:25Daimhi kubul ho
02:27Ajab shukun milta hai
02:29Jib ye baat kehta ho
02:32Paas kuch nahi mula
02:33Aaj zi kubul ho
02:36Paas kuch nahi mula
02:37Aaj zi kubul ho
02:39Hamed ke inni aşaar ke sath
02:41Program me
02:42Aaj ki mvuzo ki taraf chalte hai
02:45Or jaisa mein ne zikr kiya
02:46Keh feedback ke torper
02:48Bhoas sari mulk ke inder se bhi
02:50Bhair se bhi
02:50Bhoas sari calls mozul hoi
02:52E-mails ki surat me
02:53Aap ka feedback
02:53Ya hume batata hai
02:55Quehap kitnhi
02:56Tوجeho se
02:57Hemara program
02:57Jai wo sunti hai
02:58Eus per aapni raya ka
02:59Izhar kar te hai
03:00Aaj ustad ke
03:01Hukuk ke huwalhe se
03:03Aaj
03:04Aaj
03:04Bhat kerhenge
03:04Rites of the teacher
03:05Aaj
03:06Hemara topic
03:07Hai
03:30Bhabhari saad tashriyf farma hai
03:41Jenaab piir arifan ilahi qadri sahab
03:58Aasthana aliyah sahu
04:00Heo khushabu hai
04:00Heo khushabu hai
04:01Voha aapke
04:02Aasthana aliyah sahu
04:03Aaj
04:03Aaj
04:04Aaj
04:04Aaj
04:04Aaj
04:04Aaj
04:04Aaj
04:04Aaj
04:05Aaj
04:05Aaj
04:29Aaj
04:35Madinee waale
04:38Mera dil
04:43Aaj
04:47I will never forget to return to my love
04:50The Medina
04:52I will never forget to return to you
04:58I will never forget to return to my love
05:09The Medina
05:11I am a
05:13a
05:14a
05:17a
05:18a
05:18a
05:19a
05:19a
05:21a
05:24a
05:31a
05:32a
05:33a
05:33a
05:33a
05:36Aakabar de, bar de, bar de
05:46Mere jholi
05:53Mere Aakabar de
05:57Aapna Rakhbe
06:06Saro Samaan
06:09Madine Waale
06:17Tera Dar Chhodke
06:26Jai
06:28Jai
06:30Jai
06:32Jai
06:34Jai
06:36Jai
06:39Jai
06:52Jai
06:54Jai
06:57Jai
06:58Jai
06:59Jai
07:00Jai
07:01Jai
07:01Jai
07:13Jai
07:37Jai
07:39Jai
07:39Jai
07:39Jai
07:39Jai
07:39Jai
07:39Jai
07:39Jai
07:40Jai
07:41Jai
07:44Jai
08:16Thank you very much.
08:46Thank you very much.
09:16Thank you very much.
16:07He has to be in order to get rid of our wrongs, and we have to be able to get
16:15rid of our wrongs, and we have to be able to get rid of our wrongs.
16:18So, this is our story. We are talking about this.
16:22خاص طور پر
16:22تو آپ کی زندگی کی جتنی جہاد ہیں
16:26جتنی اس کے حوالے ہیں
16:28کوئی بھی زندگی کے احساس شعبہ نہیں ہے
16:30جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی
16:32ہمیں رہنمائی کرتی ہوئی نہیں نظر آتی ہے
16:35تو بطور معلم جو آپ کی ذمہ داری ہے
16:39اور جس طرح سے آپ نے اس کو نبھایا
16:40کیا فرماتے ہیں
16:42بسم اللہ الرحمن الرحیم
16:43سرور بھائی جتنے بھی انبیاء
16:46انہیں معلم ہی بنا کر بیجا گیا ہے
16:48حضرت آدم کی جو فضیلت ہے
16:51وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاكُ اللَّهَ سُمَّ عَرَدَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةَ
16:54یہ بھی علم کی وجہ سے ہی ہے
16:56یہ چلتی چلتی جب میرے اور آپ کے آقے جو جہان
16:59صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچتی ہے
17:02تو آپ نے اس کے عداب بھی سکھائے
17:04طریقے بھی سکھائے
17:05اور آپ نے معلم پریکٹیکل طور پر بن کے بھی دکھایا ہے
17:08صحابہ صبح کے چبوترے پہ بیٹھ کے
17:10آپ صحابہ کی مجلس میں
17:12اس جبوترے پہ بیٹھ کے درست دیا کرتے تھے
17:14تو سب سے جو پہلا آپ کا اصول تھا
17:17طریقہ تھا وہ یہ تھا
17:18کہ آپ نرم لہجے میں بات کرتے تھے
17:20یہ نہیں ہے ایک استاد کا
17:22کہ اس کے چہرے پہ غصہ ہو
17:24یا وہ نرازگی کی حالت میں ہو تو وہ استاد ہوتا ہے
17:27بلکہ استاد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
17:31کی صیرت کے مطابق جو ہے
17:32جو پیار سے بات کرے
17:34دوسری جو بڑی چیز ہے جس پہ میں
17:36تھوڑی بات کرنا چاہوں گا
17:37آپ نفس مسئلہ کو سمجھ کے بات کیا کرتے
17:41آنے والے سائل کی تکلیف کو
17:43سمجھ کے جواب دیا کرتے تھے
17:45ایک انسان آیا ہے
17:46اگر علم رکھنے والا ہے
17:48تو اسے اس کے علم کے مطابق جواب دیا
17:51ایک جاہل آیا ہے تو اس کے مطابق جواب دیا
17:53عورت آئی تو اس کے مطابق
17:55بچہ آیا تو اس کے مطابق
17:56غلام آیا تو اس کے مطابق
17:58یہ نہیں ہے کہ انسان کہ
18:00جو میں نے پڑا ہے
18:02جو میں نے سمجھا ہے
18:03میں نے سامنے والے کے اوپر اتار کی رہنا ہے
18:05دیکھیں قرآن مجید نے بھی ہمیں یہ اصول سکھایا
18:08تو یاد کر کے ہیں وہ پڑھا کی چھوڑنا ہے
18:11اب جیسے دیکھیں اللہ پاک نے قرآن پاک کے اندر شراب کو حرام کرنے کا حکم دیا
18:16تو پہلی دفعہ یہ نہیں دے دیا
18:17کہ اب آپ پہ حرام ہوگی
18:19پہلی دفعہ ارشاد فرمایا
18:20اس میں نفع کم نقصان زیادہ ہیں
18:28دوسری دفعہ ارشاد فرمایا
18:32نماز کے قریب نہیں آنا
18:34پھر جب لوگوں کو آہستہ آہستہ اس چیز کی روٹین بھنگی
18:37سمجھا گے پھر ارشاد فرمایا
18:43کوئی انسان بھی فلاں نہیں پاسکتا جو شراب پیتا ہوں
18:46اب یہ بات اس وقت ہوئی جب آہستہ آہستہ سکھایا
18:49اب اسی طرح حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
18:53جب اپنے صحابہ کو سٹوڈنٹ کو سکھایا
18:56تو پہلے آہستہ آہستہ کر کے بتایا
18:58ایسے کریں اچھا اب ایسے کریں
19:00تیسری بڑی چیز جو استاد کے لیے ضروری ہے
19:02وہ یہ ہے
19:03کہ جو وہ کہے وہ خود بھی کریں
19:06پریکٹیکل طور پر اگر بندہ وہ کرتا نہیں
19:08پھر جتنا مرضی پڑھاتا رہے
19:10سٹوڈنٹ اس تیز کو اتنا توجہ کے ساتھ سنتا نہیں ہے
19:13حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
19:16نماز پڑھیں
19:17تو پہلے پڑھ کے دکھائی
19:19کہا نہ روزہ رکھیں
19:20تو روزہ رکھ کے دکھایا
19:22آپ نے فرمایا غزوات میں شامل ہوں
19:24تو غزوہ خندق کے اندر
19:27آپ نے اپنے پیٹ کے اوپر پتھر کو باندھ کے بھی دکھایا
19:30اگر آپ نے فرمایا
19:31کہ فاقہ کریں ایسے کریں فلان چیز کریں
19:33تو آپ نے سب کر کے دکھایا
19:35اور آخری اگر چیز جو اہم ترین میں بیان کرنا چاہوں
19:37تو وہ یہ ہے
19:38کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
19:41جب آپ کے پاس کوئی بھی غلام حاضر ہوتا
19:43تو آپ کے سامنے وہ سوال کرتا تھا نا
19:46تو آپ اسے جواب دیتے تھے
19:47ہمارے سامنے کوئی سوال کرے
19:49تو ہم پرشان ہو جاتے ہیں
19:50یا غصہ کرتے ہیں
19:51یار میں استاد ہوں میرے سے سوال کرتے ہو
19:54میرے سے بہتر کوئی جاننے والا نہیں
19:55تو جو سب سے بہتر جاننے والا ہے
19:57وہ بھی کراس قویسٹن کے جواب دیا کرتے تھے
19:59بلکل ٹھیک
20:00اچھا پیر صاحب ایک بہت امپورٹنٹ ہے
20:03کہ جب ہم استاد کے حقوق کی بات کر رہے ہیں
20:05تو بنیادی طور پر
20:07استاد کا اپنا کریکٹر
20:09اس کا اپنا کردار
20:10اس کی اپنی شخصیت
20:11اس کی اپنی پرسنلیٹی جی ہے
20:13اس کی ڈیولپنٹ
20:14ایک کیسی ہونی چاہیے
20:16کہ جس کو دیکھ کر جو شاگرد ہیں
20:19جو بچے ہیں
20:20وہ خود انسپائریشن بھی حاصل کریں
20:22اور مجبور ہوں اس کا عدب اور اترام کریں
20:24دیکھیں گے
20:25استاد ہونا یہ انبیاء کی
20:28صفات میں سے ایک وصف ہے
20:31جس طرح کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا
20:33کہ میں مولم و مجھے مولم بنا کر بیجا گیا ہے
20:36تو وہاں سرکار دوالوں صلی اللہ علیہ وسلم کی
20:38حیاتِ طیبہ کے پہلو دیکھیں
20:41اگر حضور علیہ السلام شہر ہیں
20:43تو اس میں آپ کا کیا کردار ہے
20:46حضور علیہ السلام بطور نبی ہیں
20:48امتیوں کے ساتھ کیا کردار ہے
20:50دوستوں کے ساتھ کیا کردار ہے
20:52اور تمام چیزوں میں ہوتے ہوئے
20:54حضور علیہ السلام کے جو اصاف جمیلہ ہیں
20:57ہمارے استاد اللہ تبارک وطلہ غریقے رحمت
21:00فرمایا کرتے تھے
21:02کہ بیٹے آدھا سبق آپ کو کتاب دیتی ہے
21:05اور آدھا سبق آپ کو مجھے دیکھنے سے ملے گا
21:09یعنی اسباق پڑھاتے ہیں
21:11انہوں نے فرمانا
21:12کہ یہ کتابوں میں تو آپ کو ہم نے جو الفاظ پڑھا دی ہیں
21:16لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہماری زندگی کو دیکھیں
21:19وہ جو کریکٹر ہے وہ آلہ اصاف جو ہیں
21:22استاد چونکہ زمانے بار کے لیے
21:24وہ ایک پاکیزہ رشتہ ہے
21:26اور ہار کسی کے لیے
21:28لوگ مثال دیتے ہیں
21:29اپنے استاد کی طرف دیکھیں
21:34اور انسان سے کوئی غلطی ہو جائے
21:36تو بیٹا تو کسی کا ہوتا ہے
21:38تو لوگ فوراں سے کہہ دیتے ہیں
21:39آپ کو استاد نے یہ سکھایا ہے
21:42یعنی فوراں بات کہاں جا رہی ہے
21:43استاد پہ جا رہی ہے
21:45وہ استاد کسی سکول کا ہو
21:47کالج کا ہو
21:48یا کسی نے اس سے کوئی ٹیکنیکل کام سکھا ہو
21:51تو یہ تمام چیزیں بطورے استاد
21:54جہاں جہاں بھی کوئی استاد ہے
21:56اس کو اپنی جو زندگی ہے
21:58اس کو بالکل آئینے کی طرح رکھنا چاہیے
22:00کہ میرے شاگیرد مجھے دیکھیں
22:02اور مجھے ان کو سمجھاتے ہوئے
22:04اور کہتے ہوئے
22:05کسی بات پر ججک محسوس نہ ہو
22:07یعنی خود میں عمل نہیں ہے
22:09اور اپنے جو شاگیرد ہیں
22:11ان سے کہا جا رہا ہے
22:12کہ بیٹے تم ایسا کرو
22:14تم ایسا کرو
22:15اگر خود میں وہ عمل نہیں ہے
22:17تو ان کو اگر وہ کہا جاتا ہے
22:19تو ان پر وہ اس بات کا اثر نہیں ہوتا
22:22جتنا اس بات سے ہوتا ہے
22:24کہ جیسے شاہ صاحب نے ابھی کہا
22:26کہ خود نماز پڑھ رہے ہیں
22:28خود بندہ مسلح پہ کھڑا ہے
22:29اولاد کی تربیت ہے
22:31شاگیردوں کی تربیت ہے
22:32اس میں سب سے بڑی چیز
22:34ہمیں تو یہ سکھائی گئی
22:35کہ آپ وہ عمل اپنے آپ میں لے آئیں
22:37آپ کے شاگیردوں میں
22:39آپ کی اولاد میں ایٹومیٹیکل ہی ہو جائے گا
22:41لا حکم
22:41چونکہ اگر خود آپ نہیں کرتے
22:43تو بچوں کو آپ تعلیم دے رہے ہیں
22:46تو یقیناً ان بچوں کا جو سوچ ہے
22:49جو مائنڈ ہے
22:50جو خیال ہے
22:50وہ یہ تو ہوگا
22:52کہ استاد جی ہمیں کہہ رہے ہیں
22:53لیکن خود ایسا نہیں کر رہے ہیں
22:55لہٰذا کسی کو سمجھانے سے قبل
22:57لازم یہ ہے
22:59کہ خود ان میں وہ اصاف پائے جا رہے ہوں
23:01اور استاد چونکہ رول مادل ہے
23:03تو رول مادل کیسا ہونا چاہیے
23:05کہ ہر کوئی اس کو فالو کرنے والا
23:07بلکل ٹھیک
23:07اچھا کاری صاحب ہمارے ہاں
23:09اس وقت جو موجودہ صورتحال ہے
23:11اس میں میٹریلیزم کی بہت زیادہ
23:14جو نگداشت ہمارے بچوں میں
23:16نوجوانوں میں
23:17والدین کا بھی عدب و احترام
23:19جس نویت کا ہونا چاہیے
23:20ویسا نہیں ہے
23:21اور خصوصاً جو اسادزہ ہیں
23:23ان کا وہ احترام
23:24یا وہ عدب
23:25جو ہمارا دین ہمیں سکھاتا ہے
23:27وہ نہیں ہے
23:28تو اس کے کیا نتائج آپ کے خیال میں
23:30ہو سکتے ہیں
23:31یا ہوتے ہیں
23:32اگر استاد کا احترام
23:33اس کے مقام اور مرتبے کے مطابق
23:37بڑا اہم سوال ہے آپ کا
23:38اور استاد کا عدب جو ہے
23:41بہت لازم ہے
23:41اور حدیث مصطفیٰ کے در
23:43بڑی سخت وعید ہے
23:44کہ جو عدب نہیں کرتا
23:50فرمایا
23:50جس نے استاد کا احترام نہیں کیا
23:53اس نے اللہ کی نا فرمانی کی
23:54یعنی اللہ پاک کے ساتھ جوڑ دیا گیا
23:55اچھا اللہ پاک نے اہل علم کو
23:57اپنے ساتھ جوڑا ہوا ہے
23:58کئی جنگہ پہ
23:59جیسے اللہ پاک نے اپنی گواہی دینا
24:01اپنی توحید کی
24:06فرمایا اللہ بھی گواہ ہے
24:07ملائکہ بھی گواہ ہیں
24:08اور اہل علم بھی گواہ ہیں
24:10تو اللہ پاک نے
24:10ان کو اپنے ساتھ جوڑا ہوا ہے
24:12استاد کو
24:13اب اندازہ کریں
24:14فرمایا کہ جس نے استاد کا احترام نہیں کیا
24:16گویا کہ اس نے
24:17فقدہ صلی اللہ اللہ کی نا فرمانی کی ہے
24:20اب اندازہ کریں
24:21کہ مفسر قرآن
24:22حبر الامہ ہیں
24:23ترجمار القرآن ہیں
24:24بڑے بڑے صحابہ
24:25ان کے سامنے حاضر ہوتے
24:27اتنا بڑا نام ہے
24:28عبداللہ بن عباس
24:29رضی اللہ تعالیٰ نے
24:30اتنا احترام کرتے
24:32اتنا عدب کرتے
24:33اس اساتذہ کا
24:34کہ جب
24:35علم سیکھنے کے لیے جاتے
24:37تو جناب ان کے دروازے پہ چلے جاتے ہیں
24:39اور کڑی دوب ہوتی
24:40اور
24:41سختہ ہوایں چل رہی ہوتی تھی
24:43تو آپ دروازے پہ
24:44دستک دینا بھی پسند نہیں فرماتے تھے
24:46بلکہ دروازے پہ جا کے بیٹھ جاتے
24:48اور
24:49ہوایں چلتی ہیں
24:50اور گرد و باہر اڑتا
24:52تو جب وہ دروازہ کھولتے نا
24:53استاد
24:54آگے خاندانی رسالت کی شہزادے بیٹھے ہوئے ہیں
24:56عبداللہ بن عباس
24:57رضی اللہ تعالیٰ
24:58تو کہا
24:59آپ خاندانی رسالت کے چشموں چراغ ہیں
25:01آپ ہمیں حکم دیتے ہیں
25:02ہم آپ کے پاس آ جاتے ہیں
25:03فرمائے نہیں
25:04جو پیاسہ ہے وہ حکمے کے پاس آتا ہے
25:06تو میں آپ کے انتظار کرتا رہا
25:08کہ آپ کے ارام میں
25:09میں مخل نہ ہو جاؤں
25:10تو استاد کا احترام
25:12اتنا زیادہ ہے
25:13اتنا زیادہ ہے
25:14کہ دیکھیں
25:14رب کائنات نے
25:15علم کا جو درجہ دیا
25:17اسادزہ کو دیا
25:18صحابہ اکرام کے اندر بھی
25:20اہل علم
25:21سبحان اللہ
25:22کیا احترام تھا
25:23امام آدم ابو حنیفہ رحمت اللہ
25:25حیطال کے بابد میں نے پڑھا
25:26کہ ایک شخص
25:27جھاڑو دیتا ہوا
25:28سامنے سے گزر جاتا
25:30تو امام آدم کھڑے ہو جاتے
25:31پھر دوبارہ گزرتا
25:33تو امام آدم پھر کھڑے ہو جاتے
25:34کسی نے پوچھا
25:35جی آپ وقت کے
25:35امام بادشاہ
25:37علم و حکمت کے سرطاج ہے
25:38اور وہ آپ اس کے لیے
25:39فرمایا
25:40اس سے میں نے ایک دفعہ پوچھا
25:41تک کتا بالے کب ہوتا ہے
25:42تو میں اس کا عدب کر رہا ہوں
25:44امام شافی رفع رحمت اللہ
25:45حیطال علیہ
25:46اتنا عدب کرتے
25:47قبلہ ڈاک سب اتنا عدب کرتے
25:49کہ آپ دیکھیں
25:49علم کے سمندن ہے
25:50امام شافی لیکن
25:51امام آدم کے مزار پہ جاتے ہیں
25:53تو اسی طرح نماز پڑھتے ہیں
25:55جس طرح امام آدم پڑھتے ہیں
25:57لوگوں نے کہا
25:58آپ کا موقع تو یہ ہے
25:59فرمایا کہ میں عدب کرنے والا
26:00بلکل ٹھیک
26:01بلکل ٹھیک
26:02اچھا پیر صاحب قبلہ
26:04یہ کس طرح سے
26:05آج کی اس نسل میں
26:07استاد کے عدب و احترام
26:09کے وہ اصول
26:10اور یا وہ ذابطے
26:11یا وہ قرینے
26:12پیدا کیے جا سکتے ہیں
26:13جو ایک طالب علم کے اندر
26:15ایک سٹوڈنٹ کے اندر
26:17جو شریعت یا سنت
26:18یا قرآن ہمیں سکھاتا ہے
26:20اس کے لیے کیا ذابطہ
26:21اختیار کیا جائے
26:22کہ بچوں کے اندر
26:23وہ عدب و احترام
26:24پیدا ہو سکے
26:24سرور بھائی
26:25اس میں دو چیزیں ہیں
26:26اس موضوع کو
26:27اگر ہم وائنڈ اپ کی طرف
26:29لے کے جائیں
26:31کوئی بھی شگر
26:33اس وقت تک
26:34استاد کو اس طرح
26:34عدب نہیں کر سکتا
26:36جس وقت تک
26:36استاد کا وہ مقام
26:38یا وہ اس طرح کی
26:39رول مادل بنے نہ
26:40جس طرح
26:41قادی صاحب کہہ رہے تھے
26:42پیر صاحب کہہ رہے تھے
26:43یا میں نے ارز کیا
26:44جس طرح حضور نبی کریم
26:45صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
26:46نے عداب سکھائے ہیں
26:48کہ یہ یہ کرنا پڑے گا
26:49اب سٹوڈنٹ کو
26:50کیا کرنا چاہیے
26:51جس طرح صحابہ
26:52حضور نبی کریم
26:53صلی اللہ علیہ وسلم
26:54کی بارگاہ میں
26:54حاضر ہوتے تھے
26:55علم لینے کے لیے
26:56تو اپنے ہاتھوں کو
26:57باندھ کے جاتے تھے
26:58عدب کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے
26:59آج بھی جتنے مداری سے ہیں
27:01اگر ان کی طرف
27:02رجحان بندہ کرے
27:03اس میں سب سے پہلے
27:05تربیت پر زور دیا جاتا ہے
27:06اور تربیت
27:07اس لیے ضروری ہے
27:08کہ علم وقت کے ساتھ
27:09ساتھ بندہ سیکھتا رہتا ہے
27:11لیکن جو عداب ہیں
27:13وہ بندہ
27:14اپنی زندگی کے
27:15ابتدائی دنوں میں
27:16ہی سیکھتا ہے
27:16تو اس لیے
27:17اگر انسان
27:19اپنے آپ کو
27:20بہتر کرنا چاہتا ہے
27:21اور اساتذہ بھی چاہتے ہیں
27:22کہ سٹوڈنٹ ہمارا عدب کرے
27:24تو انہیں
27:24حضور نبی کریم
27:25صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
27:27کی سیدت سے سیکھنا پڑے گا
27:28اصل میں
27:29وجہ یہ بنی ہے
27:30ہمارے پاس
27:31علم کی کسرت تو ہوگی
27:33تربیت کا ایک فقدان ہے
27:34اگر ہمارا
27:35فوکس
27:36تربیت کی طرف ساتھ چلے
27:37اخلاق کی طرف چلے
27:39جو حضور نبی کریم
27:40صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
27:41کی سیدت کا
27:42نمائی پہلو ہے
27:43اور آپ نے
27:44اپنے صحابہ کو سکھایا
27:46جیسے
27:47مجد نبوی میں
27:47ایک انسان آیا
27:49اس نے
27:50ادھر آ کے
27:50ایسا معاملہ کیا
27:52جس کی وجہ سے
27:52صحابہ کرام کے دل کو
27:54دل ازاری ہوئی
27:54تو وہ آگے بڑے
27:56اسے ڈانٹنے کے لیے
27:57لیکن حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
27:58نے روکا فرمایا
27:59نہیں
27:59اسے کچھ نہیں کہنا
28:00یہ استاد کے اندر
28:02جب ادائیں ہوتی ہیں
28:03تو پھر
28:03سٹوڈنٹ آٹومیٹک
28:04جو ہیں
28:05اپنے استاد کی طرف
28:05اپنا جگہ
28:06وہ بڑھاتے ہیں
28:07بلکل ٹھیک
28:08جی پیر صاحب کبلہ
28:10کیا فرماتے ہیں
28:10ہمارے
28:11بہت
28:13کنٹرڈکشن ہے
28:13دینی مدارس میں
28:14تو تعلیم دی جاتی ہے
28:16اس کے طلبہ کا
28:17اور جو دنیاوی تعلیم کے
28:19ادارے ہیں
28:20ان میں
28:21اور دینی مدارس کے طلبہ میں
28:23استاد کے احترام میں
28:24ایک بنیادی فرق نظر آتا ہے
28:26تو آپ کیا سمجھتے ہیں
28:28کہ کمی ہے
28:28وہاں پر
28:29ہمیں اس کو
28:30دارس صاحب سے پہلی بات تو یہ ہے
28:31کہ دینی ادارہ ہو
28:32یا دنیاوی ہو
28:33استاد کا مقام تو ایک ہی ہے
28:35استاد تو استاد ہے
28:37استاد کی
28:38عزت و احترام
28:40میں یہ سمجھتا ہوں
28:41قرآن مجید کے حقوق میں سے
28:42ہم یہ بات ایک دیکھتے ہیں
28:43کہ قرآن کی
28:45اس وقت تک معرفت نہیں آتی
28:48کسی کو نصیب نہیں ہوتی
28:50جب تک وہ قرآن کی تعظیم نہیں کرتا
28:53استاد کی تعظیم ضروری ہے
28:56جو شاگرد استاد کی تعظیم نہیں کرتا
28:59اس کو علم نہیں آسکتا
29:01یہ ایک اصول ہے
29:03اس وجہ سے اصول ہے
29:05چونکہ وہ علم تو پڑھ رہا ہے
29:08لیکن جو اس کو پڑھا رہا ہے
29:09اصول یہ ہے
29:10ہمارے استاد یہ فرمایا کرتے تھے
29:12کہ کتاب کی معنوسیت سے قبل
29:16استاد سے ان سے ہونا
29:18یہ علم حاصل کرنے کا سب سے پہلا
29:21اور لازمی تجزب ہے
29:22یعنی یہ اساس ہے
29:24بنیاد ہے
29:25اگر استاد سے محبت نہیں ہے
29:27استاد کی قربت نہیں ہے
29:28استاد کی قربت نصیب ہوگی
29:30استاد کی سنگت رفاقت میت نصیب ہوگی
29:33تو جون جون استاد سے محبت ہوگی
29:35تو تو انسان کے
29:37جو اپنا علم ہے
29:38وہ زیادہ حاصل کرے گا
29:39صحابہ اکرام
29:40رضوان اللہ تعالیٰ علیہ مجمعین کا
29:42حضور نبی پاک علیہ السلام سے
29:45علم حاصل کرنا
29:46قرآن کے اصول سیکھنا
29:48احادیث حاصل کرنا
29:49اس میں سب سے بڑی بات یہ تھی
29:51کہ صحابہ کا حضور کے ساتھ
29:53قلبی تعلق تھا
29:53حضور کے ساتھ قلبی تعلق تھا
29:56حضور سے محبت تھی
29:57حضور سے انس تھا
29:58تو حضور علیہ السلام کی
30:00قربت کی وجہ سے
30:01صحابہ کے اندر
30:03قرآن مجید کا علم
30:04اور احادیث کا علم
30:05فقہ کا علم حاصل ہونا
30:07یہ سب سے ضروری عمر رہا
30:09اور تمام آئمہ محدثین
30:12نے
30:12اپنے اساتذہ کے ساتھ
30:14احترام
30:15عدب اور محبت کا رشتہ رکھا
30:17یہاں تک رہا
30:19کہ صحابہ اکرام حضور کے سامنے بیٹھتے ہیں
30:21تو وہ انچی آواز سے
30:23سانسے بھی نہیں لیتے
30:24تاکہ سمجھ نہ آسکے
30:25بلکل ٹھیک ناظرین اکرام
30:26وقفہ ہے
30:27ایک مختصر سا ہمارے ساتھ رہیے
30:29لوٹتے ہیں
30:30ایک چھوٹے سے وقف کے باہر
30:31شانِ رمضان
30:46ہے مومینوں کے دل کا
30:49اجالہ شانِ رمضان
30:52ہے مومینوں کے دل کا
30:55اجالہ شانِ رمضان
30:59جی ناظرین خوش آمدیت کہتے ہیں
31:01وقفے کے بعد آپ کو پرگرام دیکھ رہے ہیں
31:02آپ حقوق العباد اور آج
31:04استعاد کے حقوق کے حوالے سے ہم بات کر رہے ہیں
31:06قاری صاحب کیا آپ پیغام دیتے ہیں
31:08اور آج کی جو گفتگو ہوئی ہے
31:09اس کو کس طرح سے آپ کنکلوڈ کرتے ہیں
31:12انڈکسٹر قبلہ میں پیغام دینا چاہوں گا
31:15کہ علومِ اصری ہو
31:17یا علومِ دینی ہو
31:18استعاد کا مقام بڑا بلند ہے
31:20اب دیکھیں غزوہِ بدر کے اندر
31:22جب قیدیوں ستر قیدی گرفتار ہوئے
31:24تو کریم آقا علیہ السلام نے فرمایا
31:26فدیہ دو اور ازاد ہو جاؤ
31:28اور جن کے پاس پیسے نہیں ہیں فرمایا
31:30وہ ہمارے مسلمانوں کو علم سکھائے
31:32حالانکہ وہ کافر گرفتار ہوئے تھے
31:34ان سے بھی علم کشید کیا گیا
31:36یعنی علم کا مقام اتنا اونچا ہے
31:38کریم آقا علیہ السلام کا فرمانے
31:40عالی شان ہے کہ خالقِ کائنات
31:48چیزوں کے فرمایا وہ بندہ جو
31:50ذکر الہی میں مشغول رہتا ہے فرمایا
31:52وہ بندہ جسے اللہ محبت کرتا ہے
31:53تیسرا فرمایا کہ جو
31:55عالم ہے پڑھانے والا ہے
31:57اور چوتھا فرمایا جو متعالم
32:00ہے علم حاصل کرنے والا ہے
32:01بلکہ میں یہاں اس اسٹیج سے پیغام
32:03یہ دوں گا کہ جہاں لوگ بہت زیادہ
32:06خدمت کرتے ہیں اور جناب
32:08لوگوں کے ساتھ محبت کرتے ہیں خیرات
32:10کرتے ہیں دسترخان لگاتے ہیں
32:12وہاں کریم آقا نے فرمایا
32:13یا عالم بنو یا متعالم بنو
32:15اگر ان دونوں میں کوئی نہیں بن سکتے
32:16تو ان کی خدمت کرنے والے بنو
32:18کیونکہ اصل جو اداریں ہیں
32:19ان کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے
32:21میں یہ پیغام دوں گا
32:22کیونکہ کریم آقا نے فرمایا
32:23خیرکم منتعلم القرآن وآلہ
32:25تم میں بہترین وہ ہے
32:27جو قرآن پڑھتا ہے اور قرآن پڑھاتا ہے
32:29لہذا لوگوں کو چاہیے
32:31ایسے اہل علم کے ساتھ
32:32وہ معاون بن جائے
32:33چھیک
32:34جی شاہ سب کیا فرماتے ہیں جناب
32:36کنکلور بھی کیجئے اور پیغام بھی ساتھ شامل کریں
32:39میں یہ کہنا چاہوں گا
32:40کہ اہل علم اور علم نہ رکھنے والے برابر نہیں
32:43جیسے قرآن مجید نے اشارت فرمایا
32:44حَلْ يَسْتَبِ اللَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَاللَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
32:48علم سیکھنا چاہیے
32:49اور یہی انسان کی شخصیت کو نکھارنے والی چیز ہے
32:53حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
32:56جو انبیاء سے وراست لی
32:58اور آپ نے اس چیز کو آگے جب ڈلیور کیا
33:01تو اس میں بھی جب جناب مرتضی حیدر کرار کو
33:04آپ نے علم کی خیرات عطا فرمائی
33:06اور وہ ساری چیزیں عطا فرمائی
33:07تو اس میں بھی آپ نے علم کا لفظ استعمال کیا
33:10اَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ
33:11اس کا مطلب ہے کہ علم کبھی ختم نہیں ہوتا
33:14علم انسان کو شعور دیتا ہے
33:16علم انسان کو زندگی گزارنے کی طریقے سکھاتا ہے
33:19اس لیے
33:20ہمارے لیے ضروری یہ ہے
33:22کہ جو ہم بولیں اس طرح کریں
33:23اگر قرآن مجید نے کہا کہ مشکلات پر سبر کریں
33:26تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا
33:29تو پھر کر کے بھی دکھایا
33:30اور سب سے اہم بات میں جس پہ اپنے بات کو ختم کروں
33:33تو وہ یہ ہے
33:34کہ قرآن مجید نے کہا کہ اہل علم کو یہ کرنا چاہیے
33:38کہ وہ معاف کرنا
33:39اپنی ادا بنا لیں
33:41تو آج میں یہ چاہوں گا
33:42کہ ہم اس جگہ سے اس پیغام کو بھی لیں
33:45کہ اگر کوئی سامنے والے سے غلطی ہو جائے
33:47یا ہمارے سے بولنے میں کوئی غلطی ہو
33:48یا کوئی بھی چیز ہو جائے
33:49تو اہل علم ہونے کے حصیت سے اس غلطی کو درگزر کر دیا جائے
33:53شاگردوں سے بھی درگزر کر دیا
33:54شاگردوں سے بھی ہو جاتی ہے
33:55استادوں سے بھی ہو جاتی ہے
33:57آنیر بھی ہو جاتی ہے
33:58آباد میں بھی ہو جاتی ہے
33:59یہ غلطی انسان خطا کا پتلا ہے
34:01That is what I should say
34:03Allah Rabbi L.A.
34:04The will offer the wisdom of Islam to offer
34:07Yes, absolutely
34:08Yes, that is why for now
34:10Because that is what I am saying
34:10Aistad to you and your kathab and your kathab
34:14This thing, that has never done
34:17It is a reward to teach
34:18And look at the means that I have said that
34:20I am a fervor of god
34:23Aistad
34:23Which is a word
34:24That is a word
34:29bait کر ہم نے علم حاصل کیا ہے اور غلام کی تعریف اگر ہم حضرت
34:34مالک بن دنار رحمت اللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھیں تو آپ فرماتے ہیں
34:38میں غلام خرید کر لیا تو میں نے اسے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے
34:42اس نے کہا حضور غلام کا بھی کوئی نام ہوتا ہے میں نے اسے پوچھا
34:46تمہاری پسند کیا ہے تاکہ تمہاری پسند کا کھانا بنوا لیا کریں
34:49تو عرض کیا حضور غلام کی بھی کوئی پسند ہوتی ہے تو آپ سے کسی
34:54نے پوچھا کہ آپ کا استاد کون ہے تو آپ نے فرمایا غلام میرا
34:57استاد ہے حضور یہ کیسے ہو سکتا ہے غلام بھی کبھی استاد ہوئے
35:00آپ نے فرمایا ہاں غلام خرید کر لیا تھا تو اس سے وہ سبق
35:05مجھے ملا کہ میں غلام ہوں میرا بھی کوئی نام ہے میں غلام ہوں میری
35:10بھی کو پسند ہے تو اگر استاد کے سامنے شاگرد کا درجہ غلام
35:14جیسا ہے تو پھر غلام کی کوئی پسند نہیں ہوتی اس کو ہمیشہ
35:18اپنے اساتذہ کے ساتھ محبت اساتذہ کی خدمت اور اساتذہ چونکہ
35:23جو خدمت کرتے ہیں آپ زندگی باروں کی خدمت کرتے رہیں
35:26تو اس کا حق ادا نہیں ہو سکتا بندہ یہ سمجھتا ہے ہاں یہ
35:31آج کا دور چونکہ تھوڑا سا تبدیل بھی ہے لوگ یہ سمجھتے ہیں
35:34کہ ہم فیسج دیتے رہے ہیں جو بھی اس کے اخراجات برداشت
35:39کرتے رہے ہیں یہ تمام چیزیں اپنی جگہ ہیں لیکن استاد کی شان
35:43استاد کا مقام استاد کی عزت استاد کا مرتبہ استاد کا منصب
35:47ہر حال میں ہر مقام پر وہ جدا ہے عرفہ ہے آلہ ہے
35:54سب سے بڑی بات یہ ہے کہ قرآن کہتا ہے
35:59جو علم ہے وہ خشیت الہی عطا کرتا ہے اور جسے خشیت الہی مل گئی
36:04اسے کیا ملا وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانُ
36:07اسے ایک جنت نہیں اسے دو جنتیں مل گئیں اور یہ راستہ کہاں سے
36:10نکلا علم سے علم قرب خداوندی عطا کرتا ہے علم جنتی بنا دیتا ہے
36:15علم جو ہے انسان کے اندر وہ نور پیدا کرتا ہے اور علم کا مقام کریم آقا نے فرمایا
36:21اہلِ علم کا مقام عابد پر ایسے ہے
36:24عالم کا مقام عابد پر ایسے ہے جیسے چونوی رات کے چاند کو اس کو فوقی ستاروں پر ہے
36:32اللہ اکبر
36:33قبلہ شاہ صاحب آپ بھی اختتامی طور پر چونکہ آپ کے والدِ گرامی جو ہیں وہ بھی استاد ہیں
36:39اور پچاس سال ماشاءاللہ ان کو دین کی خدمت کرتے ہو گئے ہیں
36:42اس پر آپ کو بھی مبارک بات اور میڈیا کی وساطت سے ہم پوری ایئر وائکو ٹی وی کی ٹیم
36:48کی طرف سے
36:49قبلہ سید زاہد صدیق صاحب کو اللہ ان کو صحت و سلامتی عطا فرمائے
36:53تو کیا فرما
36:54قبلہ ڈاکس صاحب میں ایک جملہ اس میں اضافہ کروں گا کہ پچاس سال گولڈن جبلی ہوئی ہے
36:59حضور قبلہ پیر سید زاہد صدیق صاحب قبلہ
37:02تو انہوں نے ساڑھ کے قریب آدارے بھی بنائے
37:05تمہار یہ ہے میں بہت مبارک بات کرتا ہوں
37:12ادارے میں جب بھی کوئی دنیا کا بڑے سے بڑے عودے دار بھی آ جاتا ہے
37:16تو آپ اتنا خندہ پیشانی کے ساتھ اسے نہیں ملتے
37:19ایک چھوٹے سے سکول کا ایک چھوٹا سا ٹیچر بھی
37:22میں کہنے کے لیے استاد استاد ہی ہوتا ہے
37:24یعنی جس کی حصیت دیکھنے میں کم ہمیں نظر آجتے
37:27وہاں سے بھی آ جاتا تو اب باہی نکل کے اس قدب کرتے
37:29اور اسے ملتے اور اس کے ہاتھوں کا بوسہ دیتے
37:32میں نے اپنے والدے گرامی سے پوچھا یہ وجہ کیا ہے
37:34آپ فرماتے ہیں کہ جب اہل علم آتے ہیں تو میرا دل بڑا خوش ہوتا ہے
37:38سبحان اللہ
37:38تو علم کی قدر کرنا اور علم والوں کی قدر کو سیکھنا
37:42یہ قرآن مجید میں اور انبیان اور بالخصوص آج کے جو صالحین ہیں
37:46انہوں نے ہمیں سکھایا ہے
37:47اور جب تک انسان علم والوں کی قدر نہیں کرے گا
37:50تو وہ خود بھی اپنی شخصیت کو پہچان نہیں پائے گا
37:53کیا بات
37:53بہت شکریہ جناب ہماری طرف سے قبلہ شاہ صاحب کے لیے بہت ساری دعائیں
37:58اور نیک تمنایں
37:59اللہ ان کا سایہ جو ہے وہ صحت و سلامتی کے ساتھ
38:02سلامت رکھے اور بہت شکریہ جناب پیر ارفان الہی قدری صاحب
38:06جناب قاری بحمد یونس قادری صاحب
38:08جناب سید حارون رشید بخاری صاحب
38:11اور جناب حافظ محمد عثمان قادری صاحب
38:13ابھی کلام ہم آپ سے لیتے ہیں
38:15اور چند اشار
38:17ناظرین اکرام آپ کی خدمت میں
38:19عرض کرتے ہوئے آپ سے اجازت چاہنی یہ رمضان المبارک ہے
38:22اور بہت سارے خوش نصیب
38:23جائیں وہرے مین شریفین کی
38:25حاضری کے لیے جا رہے ہیں
38:27اللہ ان کی حاضری کو قبول فرمائے
38:29جانے کی خواہش رکھتے ہیں
38:31اللہ ان کے لیے اسباب پیدا فرمائے
38:33تو چند اشار اس مناسبت سے
38:35کہ قدم قدم کو
38:38اٹھائیں تو احتیاط کے ساتھ
38:41قدم قدم کو
38:42اٹھائیں تو احتیاط کے ساتھ
38:45نبی کے شہر کو جائیں
38:48تو احتیاط کے ساتھ
38:54یہاں پہ حکم ہے
38:55آواز پست رکھنے کا
38:57یہاں پہ حکم ہے
39:00آواز پست رکھنے کا
39:02صدائے شوق لگائیں
39:05تو احتیاط کے ساتھ
39:07صدائے شوق لگائیں
39:08تو احتیاط کے ساتھ
39:10قدم قدم پہ یہاں
39:12قدسیوں کا پہرا ہے
39:13Kدم Kدم پہ یہاں Kudsiوں کا پہرہ ہے
39:18یہاں دیارِ نور میں آئیں
39:21تو احتیاط کے ساتھ
39:23مدینہ آ کے نگاہیں زمین پر ہی رہیں
39:27مدینہ آ کے نگاہیں زمین پر ہی رہیں
39:31یہاں نظر کو اٹھائیں
39:33تو احتیاط کے ساتھ
39:35یہاں سفر کے لیے ہم مزاج کو چنییں
39:39یہاں سفر کے لیے ہم مزاج کو چنییں
39:43کسی کو ساتھ بھی لائیں
39:45تو احتیاط کے ساتھ
39:50یہاں پہ زب میں رکھیے تلاتم جذبات
39:54یہاں پہ زب میں رکھیے تلاتم جذبات
39:58سو اپنے عشق بہائیں
40:00تو احتیاط کے ساتھ
40:02سو اپنے عشق بہائیں
40:05تو احتیاط کے ساتھ
40:07زمین پر یہ عدب کی ہے آخری منزل
40:10زمین پر یہ عدب کی ہے آخری منزل جو حالِ دل بھی سنائیں تو احتیاط کے ساتھ
40:19یہاں پہ تھام کے رکھیے لگامِ حضرتِ عشق سرِ نعاز جھکائیں تو احتیاط کے ساتھ
40:32دیارِ نات ہے سرور غزل سرائی نہیں قلم کو اپنے اٹھائیں تو احتیاط کے ساتھ
40:43نبی کے شہر کو جائیں تو احتیاط کے ساتھ
40:47کل انشاءاللہ ناظرین اکرام آپ سے ملقات ہوگی ایک نئے موضوع کے ساتھ
40:51کلام شامل کرتے ہیں اور جنابِ حافظ محمد عثمان قادر صاحب
40:55نہیں ہے کوئی دنیا میں ہمارا یا رسول اللہ
41:17ہمارا یا رسول اللہ میں تو آپ ہی کا ہے
41:34سہارا یا رسول اللہ
41:41ہمیں تو آپ ہی کا ہے
41:49سہارا یا رسول اللہ
42:00تڑپتا ہے یہ دل میرا
42:10ترستی ہے
42:15بہت آنکھیں
42:18تڑپتا ہے یہ دل میرا
42:29ترستی ہے بہت آنکھیں
42:36بلالو اب مدینے میں
42:43دوبارہ یا رسول اللہ
42:52بلالو اب مدینے میں
42:58دوبارہ یا رسول اللہ
43:08بروز ہے عشر میرے اسے
43:16کہے کی علاج رکھ لینا
43:26بروز ہے عشر میرے اسے
43:32کہے کی علاج رکھ لینا
43:42تمہارا ہوں تمہارا ہوں
43:48تمہارا یا رسول اللہ
43:55تمہارا ہوں تمہارا ہوں
44:02تمہارا یا رسول اللہ
44:14فقط آمال کے بدلے
44:20نہ پائے گا کوئی جنت
44:32فقط آمال کے بدلے
44:39نہ پائے گا کوئی جنت
44:47نہ ہوگا جب تلک تمہارا
44:55اشارہ یا رسول اللہ
45:02ہمیں تو آپ ہی کا ہے
45:10سہارا یا رسول اللہ
45:24شانِ رمضان
45:27شانِ رمضان
45:30شانِ رمضان
45:33شانِ رمضان
45:35ہے مومینوں کے دل کا
45:37اجالا شانِ رمضان
45:40ہے مومینوں کے دل کا
45:43اجالا شانِ رمضان
Comments

Recommended